Baaghi TV

Tag: قائمہ کمیٹی

  • ہزاروں جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس، سائبرقانون سازی کی سخت ضرورت، سینیٹر رحمان ملک

    ہزاروں جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس، سائبرقانون سازی کی سخت ضرورت، سینیٹر رحمان ملک

    سینیٹر رحمان ملک کا سینیٹ قائمہ کمیٹی آئی ٹی میں اظہار خیال سامنے آگیا-

    سینیٹر رحمان ملک نے سینیٹ قائمہ کمیٹی آئی ٹی میں کہا کہ ہزاروں جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس چلائے جا رہے ہیں- جعلی اکاؤنٹس کو مختلف مقاصد کے لئے استعمال کئے جا رہے ہیں- جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے مختلف لوگوں کی کردارکشی سمیت توہین آمیز مواد بھی پھیلائے جارہے ہیں- ہم نے ایک ہارڈ وئیر کا بندوبست کیا تھا تاکہ اسطرح اکاؤنٹس کو فوری بند کیا جا سکے- پی ٹی اے بتائے کہ اس ہارڈ وئیر کا کیا بنا کیا اب تک اس پر کام ہورہا ہے- مختلف ناموں سے پروپیگنڈہ کے لئے جعلی اکاؤنٹس بنائے گئے ہیں-

    اعتزاز احسن کے نام سے ٹویٹر پر جعلی اکاونٹ چلایا جا رہا ہے- اعتزاز احسن نے کئی بار ایف آئی اے کو اسکی شکایت درج کروائی ہے- کئی ماہ گزرے مگر اعتزاز احسن کے نام سے جعلی اکاونٹ بند نہیں کیا جا سکا- اب سوشل میڈیا کا وقت ہے اسطرح چیزوں کو کنٹرول کرنے کیلئے قانون سازی کی ضرورت ہے- سائبر قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کیخلاف سخت قانونی کاروائی ہونی چاہیے-آئی ٹی منسٹری اب تک پنشنز پر فیصلہ نہیں کر سکی- کمیٹی کے ہر اجلاس میں پی ٹی سی ایل ملازمین کے پنشنز کا مسئلہ اٹھایا جارہا ہے- پی ٹی سی ایل کا معاملہ ایف آئی اے کو ریفر کیا جائے تاکہ تحقیق ہوجائے- ہر بار باور کیا جاتا ہے کہ پنشنز ادا کئے جائینگے مگر معلوم ہوتا ہے کہ نہیں ملے ہیں-

    ذیلی کمیٹی نے بھی پی ٹی ای ٹی کے ملازمین کے پنشن میں اضافے کے معاملے پر کئی اجلاس کئے- سب کمیٹی نے اپنی سفارشات پر مبنی ایک جامع رپورٹ سینیٹ قائمہ کمیٹی آئی ٹی کو جمع کیا تھا- سینیٹ قائمہ کمیٹی آئی ٹی نے سب کمیٹی کی سفارشات کو منظور کرکے سینیٹ میں بھیجے تھے- سفارشات کو سینیٹ ہاوس نے منظور کرکے ساٹھ دنوں میں لاگو کرنے کے احکامات دئیے ہیں-عدالت پہلے ملازمین کو پنشن میں اضافے کی ادائگیوں کے احکامات دے چکی ہے-

  • سینیٹ کمیٹی برائے سمندر ی امور کا اجلاس،کمیٹی سینیٹر نزہت صادق کی زیر صدارت

    سینیٹ کمیٹی برائے سمندر ی امور کا اجلاس،کمیٹی سینیٹر نزہت صادق کی زیر صدارت

    ۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں وزارت سمندری امور اور اس سے منسلک محکموں کے مختص کردہ بجٹ اور اس کے استعمال کا جائزہ، وزارت سمندری امور کی تجویز کردہ پی ایس ڈی پی اور اس سے منسلک محکموں کی مالی سال 2021-22،کے علاوہ کمیٹی کے 31 اگست 2020 کے اجلاس میں ہدایت کی روشنی میں گوادر میں ایسٹ بے ایکسپریس وے کی تعمیر کے لئے حاصل کی گئی اراضی کے مالکان کو بقیہ اراضی کی شرح کو حتمی شکل دینے اور بقایاجات کی ادائیگی کے بارے میں رپورٹ پیش کی گئی۔
    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں چیئرپرسن کمیٹی سینیٹر نزہت صادق نے وزارت سمندری امور کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گوادر کی تعمیر وترقی میں وزارت سمندری امور کا ایک اہم کردار ہے۔ چیئرپرسن کمیٹی نے گوادر میں مکمل ہونے والے کرکٹ اسٹیڈیم کی تعریف کی اور کہا کہ گوادر میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا کرکٹ اسٹیڈیم تیار ہوا ہے جس کی پذیرائی نہ صرف ملک بھر میں بلکہ دنیا بھر میں ہوئی ہے۔
    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں وفاقی وزیر برائے سمندری امور علی زیدی نے کہا کہ نئی فشرنگ پالیسی لا رہے ہیں اور اس پالیسی کے تحت ہمارا ہدف2 ارب ڈالر حاصل کرنے کا ہے جبکہ اس وقت 400 سے450 ملین ڈالر ہماری ایکسپورٹ ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم ایک نیا وزل مانیٹرنگ سسٹم کشتیوں پر لگانے جا رہے ہیں اور اس طرح ہم ہر کشتی کو مانیٹر کر سکیں گے اور اس کیلئے ہم نے ایک سمری کابینہ میں لے کر جا رہے ہیں اس کی منظوری کے بعد ہم ہر چھوٹی بڑی کشتی کی مانیٹرنگ با آسانی کر سکتے ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ایک ماہی گیر کو بھی کامیاب نوجوان پروگرام کے ذریعے قرضہ دیا جائے گا اس کیلئے پالیسی تیار ہے اور بہت جلد اس کو کابینہ سے منظور کرا لیا جائے گا۔
    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں وزارت سمندری امور کے حکام نے وزارت اور اس سے منسلک محکموں کا بجٹ 1157.716 ملین مختص کیا گیا تھا اور وزارت سمندری امور سے منسلک تمام محکموں کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا گیا اور وزارت سمندری امور کے منصوبہ جات پر تفصیلی بریفنگ دی۔
    کمیٹی اجلاس میں وزارت سمندری امور کی گوادر پورٹ اتھارٹی کے حوالے سے تجویز کردہ پی ایس ڈی پی کے مالی سال 2021-22 کی تفصیلات سے بھی آگاہ کیا گیا۔ چیئرمین گوادر پورٹ اتھارٹی نے کمیٹی کوبریفنگ دی اور گوادر میں جاری منصوبہ جات کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا۔ 31 اگست 2020 کو منعقدہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کی ہدایت کی روشنی میں گوادر میں ایسٹ بے ایکسپریس وے کی تعمیر کے لئے حاصل کی گئی اراضی کے مالکان کو بقیہ اراضی کی شرح کو حتمی شکل دینے اور بقایاجات کی ادائیگی کے بارے آگاہ کیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ڈپٹی کمشنر گوادر کی جانب سے ایک سروے کیا گیا تھا جس میں مکمل ریکارڈ نہیں لیا گیا تاہم ایک مشترکہ سروے کیا جارہا ہے جو کہ ایک ہفتے میں مکمل ہو جائے گا۔ حکام نے کمیٹی کو یقینی دہانی کرائی کہ جن لوگوں کی زمین اس منصوبے میں آرہی ہے ان کو ادائیگی کیلئے مناسب اقدامات اٹھائے جائیں گے۔
    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹرز رانا محمود الحسن، ستارہ ایاز کے علاوہ وفاقی وزیر برائے سمندری امور علی زیدی کے وزارت کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی

  • ایوان بالاء کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس: ایف-پی-ایس-سی ترمیمی بل کے سمیت مختلف امور کا جائزہ

    ایوان بالاء کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس: ایف-پی-ایس-سی ترمیمی بل کے سمیت مختلف امور کا جائزہ

    ایوان بالاء کی قائمہ کمیٹی برائے کیبنٹ سیکرٹریٹ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد طلحہ محمود کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر فیصل جاوید کی جانب سے 26اکتوبر 2020کوسینیٹ اجلاس میں متعارف کرائے گئے فیڈرل پبلک سروس کمیشن ترمیمی بل 2020، سینیٹر مشتاق احمد کی جانب سے 26اگست 2020کو سینیٹ اجلاس میں پوچھے گئے سوال برائے وفاقی اداروں میں گزشتہ ایک سال سے خالی رہ جانے والی اسامیوں کو ختم کرنے، سینیٹر مشتاق احمد کے 26جنوری 2021کو سینیٹ اجلاس میں پوچھے گئے سوال برائے صوبہ خیبر پختونخواہ کے سدرن اضلاع کے ہائی ویز پر اپریشنل موبائل فون ٹاورز کی تعداد، اسلام آباد کلب کے ملازمین کی بھرتی کے طریقہ کار مختلف مینجمنٹ کمیٹیوں کے کام اور ممبر شپ حاصل کرنے کے طریقہ کار کے علاوہ چیئرمین سینیٹ کی جانب سے یکم ستمبر 2020کو ریفر کی گئی عوامی عرضداشت نمبر 3260 کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔

    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر فیصل جاوید کی جانب سے 26اکتوبر 2020کوسینیٹ اجلاس میں متعارف کرائے گئے فیڈرل پبلک سروس کمیشن ترمیمی بل 2020کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ اس بل کی بدولت مقابلے کے امتحان کے معاملات میں مزید شفافیت آئے گی آئی ٹی کے بہتر استعمال سے معاملات مزید بہتر ہونگے۔ سفارش اور رشوت کا کلچر ختم ہو گا لوگ ڈیجیٹل پر بہت ایکٹو ہیں نتائج چیک کرنے کا موقع ملے گا ایف پی ایس سی کے قانون کے سیکشن 7میں ترمیم تجویز کی ہے۔ ڈیجیٹل ایؤلویشن (ارتقا) سے لوگوں کو فائدہ ہو گا جس پر سیکرٹری ایف پی ایس سی نے کمیٹی کو بتایا کہ مقابلے کے امتحان کے پرچے سب جیکٹیو اور اوبجیکٹیو ہوتے ۔ ڈیجیٹل سسٹم کے ذریعے اوبجیکٹیو چیک ہو سکتا ہے سب جیکٹیو نہیں۔ سب جیکٹیو میں بہت سی چیزوں کو دیکھنا پڑتا ہے۔ سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ یہ بل صرف مقابلے کے امتحانات کے لئے نہیں ہے۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ بہتر یہی ہے کہ ایف پی ایس سی اس بل کا تفصیل سے جائزہ لے کر آئندہ اجلاس میں کمیٹی کو آگاہ کریں۔ سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ سینیٹ اجلاس میں سوال اٹھایا تھا کہ ایک اندازے کے مطابق سرکاری اداروں میں تقریبا 70ہزار کے قریب خالی آسامیوں کو ختم کیا جا رہا ہے کیا ان آسامیوں کی ضرورت نہیں تھی اور وہ ایک سال سے خالی کیوں تھیں یہ بھی بتایا جائے کہ اُن میں سے کتنی ٹیکنیکل آسامیاں ہیں۔ اسپیشل سیکرٹری نے کمیٹی کو بتایا کہ کیبنٹ کی عملدرآمد کمیٹی میں اس حوالے سے ایک تجویز آئی تھی اُس تجویز کی بنیاد پر مشاورت کی جا رہی ہے اور وزارت قانون سے بھی رائے حاصل کی جا رہی ہے ابھی کچھ فائنل نہیں ہو ا اور نہ ہی ایک دم ختم کرنے کا ارادہ ہے۔ وزارت خزانہ کو بھی لکھا ہے کہ ایس او پیز بنا کر محکموں سے تفصیلات حاصل کی جائیں۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ بہتر یہی ہے کہ اس معاملے کے حوالے سے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن مکمل تیاری سے کمیٹی کو آئندہ اجلاس میں آگاہ کریں۔

    سینیٹر مشتاق احمد کے 26جنوری 2021کو سینیٹ اجلاس میں پوچھے گئے سوال برائے صوبہ خیبر پختونخواہ کے سدرن اضلاع کے ہائی ویز پر اپریشنل موبائل فون ٹاورز کی تعدادکے معاملے کا کمیٹی اجلاس میں تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ صوبہ خیبر پختونخواہ کے جنوبی اضلاع میں موبائل سگنل کا بہت بڑا ایشو ہے۔ سدرن بیلٹ میں گیارہ اضلاع ہیں جہاں کی آبادی 84لاکھ کے قریب ہے اور کمیٹی کو فراہم کردہ ریکارڈ کے مطابق ہر ضلع میں 48ٹاور لگائے گئے جبکہ جیز اور یو فون کمپنی کے فی ضلع پانچ ٹاور بنتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان علاقوں میں بے شمار تعلیمی ادارے ہیں اور کسطرح لوگ آن لائن تعلیم حاصل کرتے ہونگے۔ ممبر پی ٹی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ این 55پر ٹاورز کی تعداد 530ہے البتہ ٹاور لگانے کی ذمہ داری یو ایس ایف کی بنتی ہے۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ موبائل سگنل کا مسئلہ بہت زیادہ ہے یہاں پہاڑوں پر بھی سگنل نہیں ہوتے اور خیبر پختونخواہ کے بے شمار علاقوں میں سگنل کے مسائل ہیں۔ ڈی جی لائسنسنگ پی ٹی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ پورے ملک میں 46555موبائل فون ٹاورز لگائے گئے ہیں جن میں سے خیبر پختونخواہ میں 6444ٹاورز ہیں یہاں ٹیلی نار نے زیادہ کام کیا ہے اور پہاڑ ہونے کی وجہ سے مسلسل کوریج میں مسئلہ ہوتا ہے اگلے چار سے چھ سال میں ملک کی 90فیصد آباد ی کو کور کر لیا جائے گا۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ بہتر یہی ہے کہ معاملے کا تفصیلی جائزہ لینے کیلئے آئندہ اجلاس میں یو ایس ایف کے حکام سے بریفنگ حاصل کی جائے۔

    اسلام آباد کلب کے ملازمین کی بھرتی کے طریقہ کار مختلف مینجمنٹ کمیٹیوں کے کام اور ممبر شپ حاصل کرنے کے طریقہ کارکے معاملات کا تفصیل سے قائمہ کمیٹی نے جائزہ لیا۔ سیکرٹری کیبنٹ ڈویژن و ایڈمنسٹریٹر اسلام آباد کلب سردار احمد نواز سکھیرا اور اسپیشل سیکرٹری کیبنٹ نے کمیٹی کو بتایا کہ اسلام آباد کلب کے کل ممبران کی تعداد 9554ہے جن میں سے 52فیصدسروس، 44فیصد نان سروس اور دیگر 4فیصد شامل ہیں۔ کلب کے اخراجات ممبران سے لئے جاتے ہیں، اخراجات کو کم کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے گئے ہیں کل ملازمین کی تعداد 912ہے جن میں سے 492کنٹریکٹ اور 420مستقل ہیں۔ کمیٹی کو ملازمین کی بھرتی کے طریقہ کار بارے آگاہ کیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کلب کی ایک مینجمنٹ کمیٹی ہے جس کے نو ممبران ہوتے ہیں پانچ ممبران حکومت نامزد کرتی ہے تین ممبر، ممبران میں سے لئے جاتے ہیں اور ایک ممبر ڈیپلومیٹک کمیونٹی سے ہو تا ہے۔ کلب کے امور کے حوالے سے دیگر چھ کمیٹیاں بھی بنائی گئی ہیں اور رولز اور آڈٹ کمیٹی بھی بنائی گئی ہے تاکہ کمرشل آڈٹ کے ساتھ فیڈرل آڈٹ بھی ہو سکے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ معاملات کی بہتری کیلئے جو اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں قابل تعریف ہے کمیٹی ان کو مکمل سپورٹ کرتی ہے غیر قانونی چیزوں کو روکنے کیلئے کمیٹی بھر پور تعاون کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ کلب کی حیثیت سیکنڈ ہوم کی ہوتی ہے کلب کے معیار اور سروس کو مزید بہترین ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ایف نائن پارک میں بھی ایک کلب بنایا گیا تھا کروڑوں روپے لگنے کے باوجود ویران پڑا ہے اسکا جائزہ لیا جائے۔ وزیر انچارج کیبنٹ ڈویژن علی محمد نے کہاکہ ہمیں مڈل کلاس طبقے کیلئے بھی کلب قائم کرنے چاہئے جہاں لوگوں کو معیاری سہولت میسر ہو سکے۔

    کمیٹی اجلاس میں عوامی عرضداشت کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ اسپیشل سیکرٹری اسٹبلشمنٹ ڈویژن نے کہا کہ صوبوں کی مشاورت سے کوٹہ طے کیا گیا تھا معاملہ ابھی سپریم کورٹ میں ہے۔ پٹشنر کے وکیل نے بتایا کہ آئین کے کسی ایکٹ میں اجازت نہیں دی گئی کہ وفاقی ادارے صوبوں کی آسامیوں پر وفاق کے بندے بھرتی کرے۔ انہوں نے کہا کہ 1954کے رولز کے بعد 2014میں ایک ایس آر او آیا جس میں 1954کے رولز کو تبدیل کیا گیا۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ بہتر یہی ہے کہ پہلے یہ تعین کیا جائے یہ معاملہ عدالت میں ہونے پر کمیٹی جائزہ لے سکتی ہے یا نہیں وزارت قانون و انصاف، سینیٹ کی قانون سازی کے حکام اور معزز پٹشنر کا وکیل مل کر تعین کریں اور کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں سیکرٹری قانون و انصاف تفصیلات سے آگاہ کریں۔

    کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹرزسیمی ایذدی، روبینہ خالد، مشتاق احمد، فیصل جاویداور انور لال دین کے علاوہ وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان، سیکرٹری کیبنٹ ڈویژن، ا سپیشل سیکرٹری اسٹبلشمنٹ ڈویژن، ایڈیشنل سیکرٹری کیبنٹ ڈویژن،ایڈیشنل سیکرٹری اسٹبلشمنٹ ڈویژن اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی

  • پیٹرولیم مصنوعات کی قلت،  ذخیرہ اندوزی  اور میگا کرپشن کرنے والی ٹاپ 12کمپنیز کو بلیک لسٹ اور نام  ای سی ایل میں ڈالے جانے کی تجویز۔

    پیٹرولیم مصنوعات کی قلت، ذخیرہ اندوزی اور میگا کرپشن کرنے والی ٹاپ 12کمپنیز کو بلیک لسٹ اور نام ای سی ایل میں ڈالے جانے کی تجویز۔

    اسلام آباد (حمزہ رحمن) اسلام آباد سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قلت پیدا کرنے پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قلت اور ذخیرہ اندوزی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے جس سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ حکام نے بتایا کہ کرونا وباء کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کی ڈیمانڈ میں خاطر خواہ کمی ہوئی۔
    اراکین کمیٹی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات ہر دور میں کسی نہ کسی مسئلے سے دو چار رہے ہیں حکومت کو چاہئے کہ جہاں پیٹرول کی کمی ہو وہاں اسے نہ صرف پورا کیا جائے بلکہ جو عناصر مصنوعی قلت پیدا کر رہے ہوں اُن کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔
    جبکہ ٹاپ کی 12کمپنیز جو اس میگا کرپشن میں شامل تھیں ان کو بلیک لسٹ کیا جائے گا اور ان کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے گا اور جن لوگوں نے باہر کے ممالک میں بیٹھ کر پیسہ لگاہا اور مصنوعی قلت پیدا کی تا کہ وہ اپنی جیبیں بھر سکیں ان کے خلاف بھی کاروائی کی جائے گی۔
    کمیٹی کا ان کیمرہ اگلا اجلاس آئندہ ہفتے بلایا جائے گا۔ جس میں سیکرٹری پیٹرولیم، اوگرا، ایف آئی اے، سیکرٹری قانون و دیگر منسلک اداروں کو بریفنگ کیلئے بلایا جائے گا اور کمیٹی کی سفارشات کو وزیراعظم پاکستان کو مدعوو کر کے ان کے سامنے رکھا جائے گا۔ چیئرمین کمیٹی نے سیکرٹری پیٹرولیم اور ایف آئی اے کو سراہا جنہوں نے انتھک محنت سے اس میگا کرپشن کو بے نقاب کیا۔