Baaghi TV

Tag: قائمہ کمیٹی

  • قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی کا بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں کرپشن پر شدید برہمی کا اظہار

    قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی کا بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں کرپشن پر شدید برہمی کا اظہار

    اسلام آباد(محمداویس) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے بینظیرانکم سپورٹ پروگرام میں کرپشن پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وزارت تحفیف غربت سے رپورٹ طلب کرلی،تمام ارکان بی آئی ایس پی میں پیسوں کی تقسیم کے دوران پیسے کاٹنے پر یک زبان نظر آئی، آصفہ بھٹو نے کرپشن پر وزارت سے رپورٹ لینے کی تجویز دی،کمیٹی میں شازیہ مری اور اویس حیدر کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا،شازیہ مری نے کہاکہ پیسے تقسیم کرنے کا نظام تحریک انصاف کے دور میں بنا لاکھوں لوگوں کو سسٹم سے نکالا گیا اویس حیدر نے کہاکہ سندھ میں وڈیرے بھی بی آئی ایس پی سے پیسے نکلتے تھے ۔

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی تخفیف غربت کا اجلاس غلام علی تالپور کی زیرصدارت ہوا۔رکن احمد عتیق نے کہاکہ بینظیر انکم سپورٹ کے لوگوں کو پیسے پورے نہیں ملتے اس میں کرپشن ہوتی ہے اس کے لیے کیا جا رہا ہے ۔چیئرپرسن روبینہ خالد نے کہاکہ اس حوالے سے سٹیٹ بینک سے بات ہورہی ہے ۔رکن انتقہ مہدی نے کہاکہ حافظ آباد میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے دفاتر میں کرپشن ہورہی ہے لوگوں سے آدھے آدھے پیسے لے لیئے جاتے ہیں پہلے اے ٹی ایم سے پیسے دینے کا طریقہ ٹھیک تھا۔ سینیٹر روبینہ خالد نے کہاکہ کرپشن میں ہمارے ملازم نہیں بینک کے لوگ ملوث ہیں، رکن آصفہ بھٹو نے کہاکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں کرپشن کے حوالے سے مکمل رپورٹ بناکر کمیٹی میں لے کرآئیں تاکہ اصل معاملے کا پتہ چل جائے ۔

    رکن شازیہ مری نے کہاکہ یہ سسٹم تحریک انصاف کی حکومت نے بنایا تھا آدھا پاکستان ایک بینک کو اور آدھا پاکستان دوسرے بینک کو دے دیا بینک نے اپنے ایجنٹس کی ذمہ داری نہیں لی میں نے ہزاروں لوگوں پر ایف آئی آر کرائی تھیں ۔ پیسے کی تقسیم کا نیا ماڈل نہیں بنتا ہمیں نگرانی سخت کرنی ہوگی۔ سینیٹر روبینہ خالد نے کہاکہ تحریک انصاف کی حکومت میں یہ ماڈل لایا گیا نئے بینکنگ ماڈل میں یہ اصلاحات کرلیں گے ۔رکن احمد عتیق نے کہاکہ میرے حلقے میں جو لوگوں بینظیر انکم ٹیکس کے لیے اہل(مستحق)ہیں ان کو پیسے نہیں ملتے اور جو اس کے لیے ناہل ہیں مستحق نہیں ہیں وہ پیسے لے رہے ہیں ۔ پنجاب میں رمضان میں ہم نے بی آئی ایس پی کا ڈیٹا استعمال کیا اس میں ایسے لوگ تھے جو مستحق نہیں تھے مگر وہ امداد لے رہے تھے ۔

    حکام نے بتایاکہ 9.3ملین خاندانوں کو کور کررہے ہیں جبکہ مزید 6 ملین خاندان مستحق ہیں مگر ہم ان کو مالی امداد نہیں دے رہے کیوں کہ ہمارے پاس وسائل ہیں۔ اگر کوئی مستحق نہیں ہے تو لوگ شکایت کریں گے تو ہم ان کو نکال دیں گے ۔بی آئی ایس پی کا رمضان میں امداد دینے کے لیے 50فیصد ڈیٹا استعمال کیا جبکہ 50فیصد ان کا اپنا ڈیٹا تھا ،رکن اویس حیدر نے کہاکہ پی آئی ایس پی میں ایجوکیشن اور ہیلتھ کو بھی شامل کرلیا جائے کیوں کہ ہمارے علاقوں کے بچے آدھے میں یونیورسٹی چھوڑ دیتے ہیں ۔الزام نہ لگایا جائے کہ پچھلی حکومت کا ماڈل غلط تھا اس میں کیا غلطی ہے وہ کمیٹی میں لائیں۔ سندھ میں وڈیروں نے بی آئی ایس پی سے پیسے نکالے اور خواتین نے سونے کی چوڑیاں پہن کر پیسے نکالے ہیں۔رکن شازیہ مری نے کہاکہ میں اس پر احتجاج کرتی وڈیروں پر الزام لگانا پرانا طریقہ ہے ۔رکن اویس حیدر نے کہاکہ میں معذرت کرتا ہوں مگر یہ حقیقت ہے. چیئرمین کمیٹی غلام علی تالپور نے کہاکہ کمیٹی میں الزام تراشی سے گریز کریں اس سے کمیٹی میں کام نہیں ہوگا اور افسران بھی ہماری بات نہیں سنیں گے ۔ اگر کوئی کمیٹی چھوڑنا چاہتا ہے تو چھوڑ دے ۔

    بینظیرانکم سپورٹ پروگرام قسط کی متوقع آمد،ڈیوائس کے حصول کیلئے بولیاں،2 تک وصولی کاانکشاف

    بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام رقوم کٹوتی،حبیب بنک ماسٹرمائنڈ نکلا

    بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا دائرہ کار وسیع: مستحقین کی تعداد ایک کروڑ تک پہنچانے کا عزم

    کوٹ مبارک: بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ، پیسے نکوانے گئی بوڑھی خاتون کو نوسرباز عورتوں نے ٹھگ لیا

    بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے پیسے لینے والی غریب عورتوں سے بھتہ وصولی

    میرپور ماتھیلو:باغی ٹی وی کی خبرپرایکشن ، انچارج بینظیر انکم سپورٹ پروگرام جروارپہنچ گئے

    میرپورماتھیلو:بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کےفرنچائز ر، ریٹیلرزاورایجنٹ مافیاء بے لگام

     انصاف ہونا چاہیئے اور ہوتا نظر بھی آنا چاہیئے،

     ون مین شو چلایا جارہا ہے، عوام تسلیم نہیں کریگی 

  • حساس ڈیٹا گوگل پر عام مل جاتا ہے، اسے کیسے روکا جائے،سینیٹر پلوشہ خان

    حساس ڈیٹا گوگل پر عام مل جاتا ہے، اسے کیسے روکا جائے،سینیٹر پلوشہ خان

    سینیٹر پلوشہ خان کی صدارت میں قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی کا اجلاس ہوا،

    قائمہ کمیٹی اجلاس میں پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن بل زیر بحث آیا،بل سینیٹر افنان اللہ کی جانب سے ایوان بالا میں پیش کیا گیا تھا،وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت نے ڈیٹا پروٹیکشن بل پر کمیٹی کو بریفنگ دی اور کہا کہ ڈیٹا پروٹیکشن بل پر کافی عرصہ سے مشاورت کی جارہی تھی،ڈیٹا پروٹیکشن بل پر جون میں مشاورت مکمل کرلی گئی،جلد اسکا ڈرافٹ حتمی شکل اختیار کرلے گا، نیا بل جو 2023 میں بنا اس میں ڈیٹا کی سیکورٹی کی شقیں شامل کی ہیں، ڈیٹا منی ہے ڈیٹا پیسے کمانے کا ہی ذریعہ ہے، قانون سازی کی جارہی ہے، کمپنیوں کو کمیشن کے ساتھ رجسٹریشن کروانے کا پابند بنایا جائے گا، کمپنیاں پاکستان میں ڈیٹا رکھنے سے گھبرا رہی ہیں، 100 مقامی و بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ 2023 کا بل شئیر کیا گیا اور مشاورت کی گئی، اسٹیک ہولڈر کے چند ایشوز ہیں ہم انکی بات نہیں سنیں گے،مجوزہ قانون میں ایک فیصد گراس ریونیو یا 2 لاکھ ڈالر تک جرمانہ رکھا گیا ہے، اس جرمانے پر اسٹیک ہولڈرز کا اعتراض ہے کہ یہ بہت زیادہ ہے،

    کمیٹی نے جرمانے کی شرح ایک فیصد تک ریونیو پر کرنے کی تجویز دیدی،حکام نے کہا کہ مجوزہ قانون میں ڈیٹا کے سرور پاکستان میں رکھنے کی پابندی ہوگی،پلوشہ خان نے کہا کہ انفرادی یا حساس ڈیٹا گوگل پر عام مل جاتا ہے، اسے کیسے روکا جائے، حکام وزارت آئی ٹی نے کہا کہ قانون بن جانے سے گوگل سمیت کمپنیوں کو اس قسم کا ڈیٹا پبلک کرنے سے روکا جاسکے گا، سینیٹر افنان اللہ نےکہا کہ وزارت ایک متفقہ بل کا ڈرافٹ تیار کرلے تاکہ ڈیٹا پبلک اور شئیر ہونے سے روکا جا سکے، انوشہ رحمان نے کہا کہ ڈیٹا پروٹیکشن بل کے ڈرافٹ کو تیار ہوئے 6 سال ہوگئے کیوں یہ ڈرافٹ کابینہ کو نہیں بھجوایا گیا؟اس پراسیس کو مزید تاخیر کا شکار نہ بنایا جائے،یورپی یونین کے قانون میں عمر کی حد 18 سال تک ہی رہا ہے، ہمیں اسٹیک ہولڈرز کی بات ماننے کی ضرورت نہیں ہے، یورپی یونین میں صارفین کا ڈیٹا 2 سال تک ہی رکھا جا سکتا ہے،

    سیکرٹری آئی ٹی عائشہ حمیرا نے کہا کہ اس بل پر کام مکمل کرلیا گیا ہے امید ہے یہ بل جلد کابینہ سے منظور کرایا جائے گا، سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ یہ کابینہ سے منظور شدہ ہے، سیکرٹری آئی ٹی عائشہ حمیرا نے کہا کہ وہ پرانا بل ہے، سینیٹر افنان اللہ نے کہا کہ کوئی بات نہیں یہ بل اسی پر مبنی ہے آپ بل تیار کرکے پارلیمنٹ میں بھیج دیں،ممبر لا وزارت آئی ٹی نے کہا کہ ہمیں دوبارہ کابینہ کو ہی بھجوانا پڑے گا، سیکرٹری آئی ٹی عائشہ حمیرا نے کہا کہ اس بل کو ہم نے اٹارنی جنرل آفس بھجوانا ہے،ارکان قائمہ کمیٹی نے بل ڈرافٹ کابینہ کے بجائے کمیٹی میں پیش کرکے منظور کرانے کی سفارش کردی،پلوشہ خان نے کہا کہ آئندہ اجلاس میں اس بل کو کمیٹی منظور کرلے گی،

    سینیٹ قائمہ کمیٹی کا ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس متاثر ہونے پر سخت نوٹس
    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی آئی ٹی نے ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس سست پرشدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے دو ہفتوں میں مسئلہ حل کرنے کی ہدایت کردی جبکہ سیکرٹری آئی ٹی نے اعتراف کرلیا کہ ملک میں موبائل نیٹ ورکس پر انٹرنیٹ سلوہوا ہے جبکہ وائی فائی پر معمول کے مطابق چل رہاہے ۔جبکہ پی ٹی اے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ انٹرنیٹ سلو ہونے کی ہمارے پاس کوئی شکایت نہیں آئی ہے ۔کمیٹی نے فائر وال کے حوالے سے ان کیمرہ بریفنگ موخر کردی.

    انٹرنیٹ سست ہونے سے کم از کم 500 ملین کا نقصان ،لوگوں کا روزگار تباہ
    اراکین کمیٹی نے انٹرنیٹ سروسز کے متاثر ہونے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ۔سینیٹر افنان اللہ خان نے کہاکہ سوشل میڈیا واٹس ایپ پر میڈیا ڈاون لوڈنگ اپ لوڈنگ نہیں ہورہی ،بہت سے ای کامرس کے فورمز چھوڑ کر جارہے ہیں،سینیٹر ہمایوں نے کہاکہ آپ نے لوگوں کا روزگار تباہ کردیا ہے،پہلے ہی سرمایہ کاری نہیں اس طریقہ سے سارا کاروبار تباہ ہوجائے گا، انٹرنیٹ، سوشل میڈیا ایپس سست ہونے سے بزنس متاثر ہو رہا ہے،سینیٹر افنان اللہ نے کہا کہ سوشل میڈیا، واٹس ایپ پر ڈاؤن لوڈنگ اور اپ لوڈنگ نہیں ہو رہی،انٹرنیٹ سست ہونے سے کم از کم 500 ملین کا نقصان ہوا ہے، سیکرٹری وزارت آئی ٹی نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نیٹ ورکس پر مسئلہ ہے وائی فائی پر نہیں ہے، پی ٹی اے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ہمارے پاس انٹرنیٹ سروس سے متعلق کوئی شکایت ہی نہیں آئی ہے ۔کمیٹی نے انٹرنیٹ، سوشل میڈیا ایپس سلو ہونے سے نقصانات کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے کمیٹی نے دو ہفتوں میں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا مسئلہ حل کرنے کی ہدایت کردی۔کمیٹی نے فائر وال سے متعلق قائمہ کمیٹی کا ایجنڈا ملتوی کردیا گیافائر وال سے متعلق پی ٹی اے نے آج قائمہ کمیٹی میں تفصیلات پیش کرنا تھیں فائر وال سے متعلق پی ٹی اے نے حکام کی عدم دستیابی کی وجہ سے ایجنڈا ملتوی کردیا ۔فائر وال پر قائمہ کمیٹی نے ان کیمرا بریفنگ طلب کر رکھی تھیں۔

    رپورٹ، محمد اویس، اسلام آباد

    واضح رہے کہ پاکستان کے مختلف شہروں میں انٹرنیٹ سروسز کے شدید تعطل نے شہریوں کی روزمرہ زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے، سوشل میڈیا صارفین کو سست رفتار انٹرنیٹ کے باعث مشکلات کا سامنا ہے۔ذرائع کے مطابق، واٹس ایپ سمیت دیگر مقبول سوشل میڈیا ایپلی کیشنز بھی سست روی کا شکار ہیں۔ انٹرنیٹ سروسز کے اس تعطل نے شہریوں کی روزمرہ کی سرگرمیوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔اس کے علاوہ، واٹس ایپ پر پیغامات ڈاؤن لوڈ نہ ہونے کی شکایات بھی سامنے آ رہی ہیں۔ اس صورتحال نے شہریوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔

    پیدائشی سماعت سے محروم بچوں کے کامیاب آپریشن کے بعد”پاکستان زندہ باد” کے نعرے

    معذوری کا شکار طالبات کی ملی دارالاطفال گرلز ہائی سکول راجگڑھ آمد،خصوصی تقریب

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    ریاست مدینہ کی جانب حکومت کا پہلا قدم،غریب عوام کی دعائیں، علی محمد خان نے دی اذان

    وفاقی حکومت کی طرف سے پاکستان بیت المال کو سماعت وگویائی سے محروم بچوں کے لیے فنڈز نہ مل سکے ،

    سماعت سے محروم بچے چلا رہے ہیں ریسٹورینٹ، صدر مملکت بھی وہاں پہنچ گئے، کیا کہا؟

    ویلڈن پاک فوج، سماعت سے محروم افراد سننے اور بولنے لگے

    چلڈرن ہسپتال کا کوکلیئر امپلانٹ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کافیصلہ،ڈاکٹر جاوید اکرم

    حکومتی نااہلی،سماعت سے محروم سینکڑوں بچوں کا مستقل معذور ہونے کا خدشہ

  • اوورسیز پاکستانیوں کیلئے خوشخبری،بیرون ملک بیٹھ کر اپنی پراپرٹی ٹرانسفر کرسکیں گے

    اوورسیز پاکستانیوں کیلئے خوشخبری،بیرون ملک بیٹھ کر اپنی پراپرٹی ٹرانسفر کرسکیں گے

    اسلام آباد(محمداویس) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں حکام نے بتایا کہ اوورسیز پاکستانیوں کے لیے ایک ماہ کے اندر ان لائن لینڈ ٹرانسفر کی سہولت دے دیں گے،اوورسیز بیرون ملک بیٹھ کر اپنی پراپرٹی ٹرانسفر کرسکیں گے،کمیٹی نے اورسیزپاکستانیز پراپرٹی بل کو موخر کرتے ہوئے بل میں اورسیز کی تعریف اور دیگر خامیاں دور کرنے کی ہدایت کردی ۔ جنوبی کوریا پاکستانی ملازمین سے بہت خوش ہے۔ کویت کو 4 ہزار پروفیشنلز اورسیز ایمپلائمنٹ کارپوریشن بھیج چکے ہیں یورپ بھی جنوبی کوریا ماڈل کو اپنا کر پاکستان سے ورکر لے کر جانا چاہتا ہے۔

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی اورسیز پاکستانی کا اجلاس سینیٹر ذیشان خان نزادہ کی زیرصدارت ہوا۔اجلاس میں وزارت نے اورسیزپاکستانیز پراپرٹی بل 2024 پر کمیٹی کو بریفنگ دی۔شہادت اعوان نے کہاکہ اورسیز کی تعریف کو ٹھیک کیا جائے۔ ناصر محمود بٹ نے کہاکہ اورسیز پاکستانیوں کے مسائل ہیں وہ بہت زیادہ ہیں اورسیز کے گھروں پر قبضہ ہورہاہے ۔وفاقی سیکرٹری نے بتایاکہ ان لائن لینڈ ٹرانسفر کا نظام ایک ماہ میں اورسیز کے لیے شروع کررہے ہیں سب سے پہلے یہ کام پنجاب میں ہورہاہے بیرون ملک بیٹھ کر وہ اپنی جائیداد ٹرانسفر کرسکے گا ۔او پی ایف کا بورڈ تبدیل ہوگیاہے ۔ لینڈ ریکارڈ ان لائن کرنے میں دس سال لگیں گے ۔ ناصر بٹ نے کہاکہ اورسیز کے لیے الگ عدالتیں اور پولیس ہونی چاہیے۔کمیٹی نےبل میں اورسیز کی تعریف کو ٹھیک اور خامیاں دور کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے بل کو اگلے اجلاس تک موخر کردیا اورسیز ایمپلائمنٹ کارپوریشن کے حوالے سے کمیٹی کو بریفنگ دی گئی ۔

    ایم ڈی او ای سی نے کمیٹی کو بتایا کہ ہم جی ٹو جی لوگوں کو بیرون ملک بھیجتے ہیں ۔ ہم جن کو بیرون ملک بھیجتے ہیں ان کی ٹریننگ کرتے ہیں ۔ جنوبی کوریا خود پاکستان آکر لوگوں کو بھرتی کرتے ہیں ۔ یورپی یونین بھی چاپان اور جنوبی کوریا کے ماڈل کو اختیار کرنے کی طرف جارہے ہیں تاکہ وہ خود پاکستان میں آکر لوگوں کو بھرتی کریں ۔سالانہ 4ہزار لوگوں کو او ای سی بیرون ملک بھیجتا ہے سیکرٹری نے بتایا کہ کل سالانہ تقریبا 7لاکھ لوگ بیرون ملک جاتے ہیں ۔ 2021سے اب تک 4ہزار پروفیشنلز کو کویت بھیج چکے ہیں ۔ بیوروآف ایمگریشن اینڈ اورسیز ایمپلائمنٹ کی بریفنگ اگلے اجلاس تک موخرکردیا

    چینی سفیر کی جانب سے ارشد ندیم کو مبارکباد

    اللہ کی مدد،ارشد ندیم نے تاریخ رقم کر دی،سارے ریکارڈ توڑ دیئے

    مولانا فضل الرحمان کی ارشد ندیم کو گولڈ میڈل جیتنے پر مبارکباد

    جنرل (ر ) عارف حسن عہدے پر ہوتے تو آج ہم جشن نہ منا رہے ہوتے،مبشر لقمان

    ارشد ندیم نے اپنی محنت سے اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتا۔بلاول

    ارشدندیم کو قومی اسمبلی میں‌خراج تحسین ،سحر کامران نے کی قرارداد پیش

    سینیٹ اجلاس میں ارشد ندیم کو مدعو کرنے کا فیصلہ

    ارشد ندیم نے گولڈ میڈل جیتا وہ بھی میرا بیٹا ہے،بھارتی جیولین تھرور نیرج چوپڑا کی والدہ

    گولڈ میڈل پاکستانی قوم کے نام کرتا ہوں، ارشد ندیم

    بیٹے کو گلے لگانے کیلئے بے چین ہوں،والدہ ارشد ندیم

    افواج پاکستان کے سربراہان کی ارشد ندیم کو گولڈ میڈل جیتنے پر مبارکباد

    پیرس اولمپکس: ارشد ندیم نے پاکستان کو 40 سال بعد اولمپک گولڈ مڈل جتوا دیا

    کرکٹر بننا تھالیکن عدم سہولت کی وجہ سے کرکٹ چھوڑی،ارشد ندیم

    کوشش ہے کہ نیرج چوپڑا سے دوستی طویل عرصے تک چلتی رہے،ارشد ندیم

  • عرفان صدیقی نے سینٹ قائمہ کمیٹی تعلیم سے استعفی دے دیا

    عرفان صدیقی نے سینٹ قائمہ کمیٹی تعلیم سے استعفی دے دیا

    سینیٹ میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر عرفان صدیقی نے سینٹ قائمہ کمیٹی سے استعفی دے دیا ہے۔ وہ اب تعلیم کے بجائے قومی صحت کمیٹی کے رکن ہوں گے جبکہ قومی صحت کمیٹی کی رکن مسلم لیگ (ن) کی سینیٹرراحت جمالی کو قائمہ کمیٹی تعلیم میں شامل کر لیا گیا ہے ۔

    یاد رہے کہ بدھ کو سینٹ قائمہ کمیٹی برائے تعلیم کے اجلاس کے دوران اُس وقت تلخی پیدا ہو گئی تھی جب کمیٹی کی چیئر پرسن سینیٹر بشری نجم بٹ نے اپنی جماعت کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر عرفان صدیقی کو بات کرنے سے رو ک کر کمیٹی کے سیکرٹری کو بولنے کا موقع دے دیا تھا ۔اس پر پی ٹی آئی کی سینیٹر فوزیہ ارشد اور ایم کیو ایم کی سینیٹر خالدہ اطیب نے شدید احتجاج کرتے ہوئے چیئر پرسن کو عرفان صدیقی سے معافی مانگنے کو کہا تھا ۔سینیٹر بشری انجم نے معذرت کر لی جسے سینیٹر عر فان صدیقی نے منظور کر لیا۔ سینیٹر عرفان صدیقی نے آج چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضاگیلانی سے ملاقات کی اور قائمہ کمیٹی تعلیم سے استعفی دے دیا ۔مسلم لیگ (ن) کی سینیٹر راحت جمالی اب تعلیم اور عرفان صدیقی صحت کی رُکن ہوں گے مارچ 2021 سے مارچ 2024 تک سینیٹر عرفان صدیقی سینیٹ قائمہ کمیٹی تعلیم کے چیئرمین رہے تھے جبکہ سینٹ کے نئے انتخابات کے بعد سینٹر بشری انجم سینیٹ کو چیئر پرسن مقرر کیا گیا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم میں ایچ ای سی کی طرف سے پرائیویٹ سیکٹر جامعات پر پابندی کے معاملہ پر چیئرپرسن اور ممبران کمیٹی میں تلخی، چیئرپرسن کمیٹی نجی جامعات پر لگی پابندی ہٹانے کیلئے بضد جبکہ اراکین کمیٹی نے چیئرپرسن کے رویئہ کو ایچ ای سی کی اٹانومی سے کھلواڑ قرار دے دیا۔ چیئرپرسن کمیٹی اپنے رویئہ پر نادم، معزرت کر کے کاروائی آگے بڑھائی

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم میں پرائیوٹ سیکٹر جامعات کے نمائندگان اور مالکان کو مدعو کیا گیا تھا ۔ پرائیویٹ سیکٹر جامعات کے مالکان نے کمیٹی شرکاء کے سامنے اپنے تحفظات رکھے۔ ایچ ای سی کے نمائندہ نے کمیٹی شرکاء کا بتایا کہ ایچ ای سی نے اسناد کی تصدیق کیلئے ایک پالیسی دے رکھی ہے جو جامعہ اپنے فارغ التحصیل طلبہ و طالبات کا ریکارڈ فراہم نہ کر سکے انہیں تصدیق نہیں دی جاتی۔ پمسیٹ اور یونیورسٹی آف سنٹرل ایشیا نے خلاف قانون نئے کیمپسسز کھولے اور بغیر اجازت کے لاکھوں ڈگریاں تقسیم کیں۔ ایچ ای سی کی طرف سے ان سے جب دیگر صوبوں میں کھولے گئے کیمپسسز کا ریکارڈ مانگا گیا تو وہ فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔اگر نجی یونیورسٹی مالکان اپنے فارغ التحصیل طلباء کا ریکارڈ فراہم کرتے ہیں تو ہائیر ایجوکیشن کمیشن اپنے کمیشن کے سامنے معاملہ ٹیک آپ کرے گی۔ غیر قانونی کیمپسز سے فارغ التحصیل طلباء کی ڈگریوں کی تصدیق کی اجازت دینا کمیشن کا اختیار ہے۔

    کمیٹی ممبران دوران اجلاس چیئرپرسن کمیٹی بشری انجم بٹ کے رویئہ سے نالاں بھی ہوئے۔ چیئرپرسن کمیٹی نے معزرت بھی کی۔ کمیٹی اجلاس میں ایف ڈی ایکے ڈیلی ویجز ملازمین کو تنخواہوں کا معاملہ بھی زیر بحث رہا۔

    رپورٹ، محمد اویس، اسلام آباد

    قائمہ کمیٹی کی ایچ ای سی کو جعلی یونیورسٹیوں کو بے نقاب کرنے کی ہدایت

    5000 سے زائد طلباء کی ایچ ای سی کے پہلے لرننگ اسکلز اسسمنٹ ٹیسٹ میں شرکت

    منشیات اور تمباکو کا استعمال ،ایچ ای سی پالیسی 2021 کا نفاذ زیر غور

    ایچ ای سی نے 18تعلیمی اداروں کو نئے داخلے کرنے سے روک دیا

    ایچ ای سی کی جانب سے طالبہ کی ڈگری تصدیق میں تاخیر ،صدر مملکت برہم

    عمران خان اور پی ٹی آئی نے ملک دشمنی میں تمام حدیں پار کر دیں

    14 سال سے خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی سرکار،اربوں بجٹ وصول،کارکردگی زیرو

    عمران پر جیل میں تشدد ہوا،مجھے مرد اہلکار نے…بشریٰ بی بی نے سنگین الزام عائد کر دیا

    عبوری ضمانت "معصوم” فرد کا حق ہے،نومئی مقدمے،عمران کی ضمانت مسترد ہونے کا فیصلہ

    پی ٹی آئی میڈیا کوآرڈینیٹر سے دھماکہ خیزمواد برآمد،کالعدم تنظیموں سے تعلق،جسمانی ریمانڈ مل گیا

    تحریک انصاف کے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کے خلاف کریک ڈاون کا آغاز ہو گیا

    مہنگی بجلی، زیادہ تر آئی پی پیز پی ٹی آئی رہنماؤں کی ملکیت نکلیں

    طبل جنگ بج گیا، لڑائی شروع،پی ٹی آئی پرپابندی

  • پرائیویٹ سیکٹر جامعات پر پابندی کے معاملہ پر چیئرپرسن اور ممبران کمیٹی میں تلخی

    پرائیویٹ سیکٹر جامعات پر پابندی کے معاملہ پر چیئرپرسن اور ممبران کمیٹی میں تلخی

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم میں ایچ ای سی کی طرف سے پرائیویٹ سیکٹر جامعات پر پابندی کے معاملہ پر چیئرپرسن اور ممبران کمیٹی میں تلخی، چیئرپرسن کمیٹی نجی جامعات پر لگی پابندی ہٹانے کیلئے بضد جبکہ اراکین کمیٹی نے چیئرپرسن کے رویئہ کو ایچ ای سی کی اٹانومی سے کھلواڑ قرار دے دیا۔ چیئرپرسن کمیٹی اپنے رویئہ پر نادم، معزرت کر کے کاروائی آگے بڑھائی

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم میں پرائیوٹ سیکٹر جامعات کے نمائندگان اور مالکان کو مدعو کیا گیا تھا ۔ پرائیویٹ سیکٹر جامعات کے مالکان نے کمیٹی شرکاء کے سامنے اپنے تحفظات رکھے۔ ایچ ای سی کے نمائندہ نے کمیٹی شرکاء کا بتایا کہ ایچ ای سی نے اسناد کی تصدیق کیلئے ایک پالیسی دے رکھی ہے جو جامعہ اپنے فارغ التحصیل طلبہ و طالبات کا ریکارڈ فراہم نہ کر سکے انہیں تصدیق نہیں دی جاتی۔ پمسیٹ اور یونیورسٹی آف سنٹرل ایشیا نے خلاف قانون نئے کیمپسسز کھولے اور بغیر اجازت کے لاکھوں ڈگریاں تقسیم کیں۔ ایچ ای سی کی طرف سے ان سے جب دیگر صوبوں میں کھولے گئے کیمپسسز کا ریکارڈ مانگا گیا تو وہ فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔اگر نجی یونیورسٹی مالکان اپنے فارغ التحصیل طلباء کا ریکارڈ فراہم کرتے ہیں تو ہائیر ایجوکیشن کمیشن اپنے کمیشن کے سامنے معاملہ ٹیک آپ کرے گی۔ غیر قانونی کیمپسز سے فارغ التحصیل طلباء کی ڈگریوں کی تصدیق کی اجازت دینا کمیشن کا اختیار ہے۔

    کمیٹی ممبران دوران اجلاس چیئرپرسن کمیٹی بشری انجم بٹ کے رویئہ سے نالاں بھی ہوئے۔ چیئرپرسن کمیٹی نے معزرت بھی کی۔ کمیٹی اجلاس میں ایف ڈی ایکے ڈیلی ویجز ملازمین کو تنخواہوں کا معاملہ بھی زیر بحث رہا۔

    رپورٹ، محمد اویس، اسلام آباد

    قائمہ کمیٹی کی ایچ ای سی کو جعلی یونیورسٹیوں کو بے نقاب کرنے کی ہدایت

    5000 سے زائد طلباء کی ایچ ای سی کے پہلے لرننگ اسکلز اسسمنٹ ٹیسٹ میں شرکت

    منشیات اور تمباکو کا استعمال ،ایچ ای سی پالیسی 2021 کا نفاذ زیر غور

    ایچ ای سی نے 18تعلیمی اداروں کو نئے داخلے کرنے سے روک دیا

    ایچ ای سی کی جانب سے طالبہ کی ڈگری تصدیق میں تاخیر ،صدر مملکت برہم

    عمران خان اور پی ٹی آئی نے ملک دشمنی میں تمام حدیں پار کر دیں

    14 سال سے خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی سرکار،اربوں بجٹ وصول،کارکردگی زیرو

    عمران پر جیل میں تشدد ہوا،مجھے مرد اہلکار نے…بشریٰ بی بی نے سنگین الزام عائد کر دیا

    عبوری ضمانت "معصوم” فرد کا حق ہے،نومئی مقدمے،عمران کی ضمانت مسترد ہونے کا فیصلہ

    پی ٹی آئی میڈیا کوآرڈینیٹر سے دھماکہ خیزمواد برآمد،کالعدم تنظیموں سے تعلق،جسمانی ریمانڈ مل گیا

    تحریک انصاف کے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کے خلاف کریک ڈاون کا آغاز ہو گیا

    مہنگی بجلی، زیادہ تر آئی پی پیز پی ٹی آئی رہنماؤں کی ملکیت نکلیں

    طبل جنگ بج گیا، لڑائی شروع،پی ٹی آئی پرپابندی

  • 1لاکھ90ہزار سرکاری ملازمین کو 15ارب روپے کی سالانہ بجلی مفت ملتی ہے

    1لاکھ90ہزار سرکاری ملازمین کو 15ارب روپے کی سالانہ بجلی مفت ملتی ہے

    اسلام آباد (محمد اویس)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تونائی کو وزیر اویس لغاری نے ان کیمرہ بریفنگ دی،1لاکھ90ہزار سرکاری ملازمین کو 15ارب روپے کی سالانہ بجلی مفت ملتی ہے ۔ 2019میں تحریک انصاف کی حکومت کی طرف سے آئی پی پیز کے ساتھ ثالثی کرنے کی وجہ سے ملک کو نقصان ہوا ہے جس کی وجہ سے اضافی ادائیگیاں واپس نہیں لی جا سکیں اس ثالثی کو ریورس کریں گے ،معاون خصوصی محمد علی کی آئی پی پیز کے حوالے سے رپورٹ حتمی نہیں ہے وہ ابتدائی رپورٹ تھی ۔

    سینیٹر محسن عزیز کی صدارت میں سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پاور کا اجلاس پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا ۔چیئرمین کمیٹی محسن عزیز نے کہاکہ رات کو آٹھ بجے بریفنگ ملی ہے۔ سینیٹر شبلی فراز نے کہاکہ یہ ہمیشہ ہوتا ہے تاکہ ہم بغیر تیاری کے آئیں۔اس کو اگلے اجلاس کے ایجنڈے میں رکھیں ۔یہ معمول بن چکا ہے۔ہم اس کو پڑھ ہی نہیں سکے۔وفاقی وزیر پاور اویس لغاری نے کہاکہ ہم نے خود بریفنگ دینے کا کہا تھا۔ شبلی فراز نے کہاکہ اگر ممبران مزید اس کی تفصیلات میں جانا چاہیں ہم جواب دیں گے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ آئی پی پیز کا مسئلہ اٹھا ہوا ہے ۔اس پر احتجاج بھی ہو رہا ہے چیئرمین پی پی آئی بی نے اس کو موخر کرنے کا کہا ہے۔ہم نے تو صرف آئی پی پیز کی معاہدوں کی تفصیلات مانگی ہیں کیپسٹی چارجز ک ذمہ دار کون ہے۔ ستر اسی فیصد سے کم صلاحیت والے پلانٹس کیوں چل رہے ہیں ۔عوام کو ریلیف دینا ہمارا ایجنڈا ہے۔جب یہ آئی پی پیز لگے اس وقت خطے کے ممالک میں کس ریٹ پر معاہدے ہوئے ۔پلانٹس کی ہیٹ ایفیشنسی کا کب کب آڈٹ ہوا۔

    وزیر پاور اویس لغاری نے کہاکہ آئندہ اجلاس میں تفصیلات کمیٹی کو فراہم کر دیں گے ہم سب اپنے اپنے ادوار میں حکومت میں رہ چکے ہیں ۔سب معلومات لے چکے ہیں اپنی حکومت میں ۔ہمیں معلومات چھپانے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ اجلاس کے آخر میں دس سے پندرہ منٹ ان کیمرہ بریفنگ کےلئے بھی دیں۔ملک میں 39666میگاواٹ انسٹالڈ کیپسٹی رہ گئی ہے۔ کے الیکٹرک کی مہنگی بجلی کی وجہ سے سالانہ 170 ارب روپے کی سبسڈی دینا پڑتی ہے۔

    ڈھائی کروڑ صارفین کو چھ سو دو ارب سبسڈی دے رہے ہیں ،وزیر توانائی
    سیکرٹری پاور نے کہاکہ کے الیکٹرک کی بجلی قومی بجلی مہنگی ہے۔ گیس اگر کیپٹیو پاور پلانٹس کی بجائے کے الیکٹرک کو دیں تو کے الیکٹرک کی بجلی کی قیمت کم ہو جائے گی ۔ چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ حکومت نے نجی شعبے کو ایک پالیسی دی ہے۔ کسی نے سرمایہ کاری کر کے کیپٹیو پاور پلانٹ لگا لیا ہے ۔ اب اگر ان کو بند کردیں گے پلانٹ سکریپ بن جائے گا۔ وفاقی سیکرٹری توانائی نے کہاکہ آئی پی پیز کو ادائیگیاں انسالڈ کیپسٹی پر نہیں ہو تی۔ادائیگیاں ان کی کنڈیشن پر ہو تی ہے ۔پانچ پلانٹس بند کرنے جا رہے ہیں ۔ یہ تاثر غلط ہے کہ ہماری بجلی کی پیداوار ی صلاحیت 45 میگاواٹ ہے۔گرمیوں میں ڈیمانڈ زیادہ ہوتی ہے ۔شبلی فراز نے کہاکہ سردی گرمی تو ہر ملک میں ہوتی ہے ۔ ہم پورے خطے میں سب سے مہنگی بجلی پیدا کرتے ہیں کئی سالوں سے اس کمیٹی کا ممبر ہوں یہی کہانی سن رہا ہوں۔وزارت توانائی نے ملک کو تباہ کر دیا ہے ۔ چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ اگر جون میں تمام پلانٹس چل رہے تھے تو کیا آئی پی پیز کو کیپسٹی چارجز دیے گئے۔اگر جون میں کیپسٹی چارجز دیے گئے تو کیوں دی گئی۔ ہمارا دماغ آج کل آئی پی پیز میں پھنسا ہوا ہے ۔ سیکرٹری پاور نے کہاکہ یہ بات غلط ہے کہ ہم نے اضافی پلانٹس لگا رہے ہیں ۔ اصل سوال یہ ہے کہ یہ کیپسٹی لگی کیسے ہے۔ہم دو سو چھتیس ارب یونٹس بنا رہے ہیں ۔ سردیوں میں لوڈ گیارہ ہزار میگاواٹ رہ جا تا ہے ۔سردیوں میں لوڈ کو بڑھانا ہے۔ہیٹنگ کے لیے گیس کے استعمال کو بجلی پر منتقل کرنا ہے ۔گزشتہ سال 244 ارب روپے صنعت سے لے کر کراس سبسڈی دی ۔کراس سبسڈی کم کردی ہے اب صرف نو فیصد رہ گئی ہے۔ وزیر توانائی نے بتایا کہ ڈھائی کروڑ صارفین کو چھ سو دو ارب سبسڈی دے رہے ہیں ۔سیکرٹری پاور نے بتایا کہ ساڑھے تین سو یونٹ والے صارف کا بل انیس ہزار ہو گا۔ چھیاسی فیصد صارفین دو سو یونٹ سے کم استعمال کرتے ہیں۔

    پنجاب کی پانچ ڈسکوز کی نجکاری،نندی پور اور گڈو پاور کو فروخت کر رہے ہیں،وزیر توانائی
    وزیر اویس لغاری نے کہاکہ پانی سے بجلی پیدا کرنا سستی ترین بجلی نہیں ہے ۔ پانی کے بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس کی قیمت بیس پچیس روپے یونٹ ہے۔2025سے 2027 تک بجلی کی قیمت بڑھ جائے گی۔ آئندہ دس سال سسٹم میں آنے والی بجلی کے منصوبوں کا ازسرنو جائزہ لے رہے ہیں ۔ سینیٹر شبلی فراز نے کہاکہ مہنگی بجلی کیسے کم کر سکتے ہیں ۔ کب تک پی ایس ڈی پی میں کٹوتی کرتے رہیں گے ۔ وزیر اویس لغاری نے کہاکہ پنجاب کی پانچ ڈسکوز کی نجکاری کرنے جا رہے ہیں ۔ ڈسکوز کو وزارت پاور کے اختیار سے نکال رہے ہیں ۔ این ٹی ڈی سی کے اندر بڑی اصلاحات کر رہے ہیں ۔ نندی پور اور گڈو پاور کو فروخت کر رہے ہیں ۔ہمارے پاس مکمل ڈیٹا ہی نہیں ہے۔آئندہ بجلی حکومت نہیں خریدے گی۔صارفین براہ راست بجلی خرید سکیں گے ۔2015 سے 2018 کے درمیان بیرونی سرمائے سے لگے ہیں ۔ فارن انویسٹمنٹ لائیبور ہے۔ساہیوال پاور پلانٹ کا 2016 میں تین روپے فی یونٹ کیپسٹی پیمنٹ تھی آج 11سے 12 روپے ہے ۔پلانٹ کو چوبیس گھنٹے آن رکھنے کی قیمت کیپسٹی چارجز ہیں ۔ تحریک انصاف نے 2019میں آربریٹیشن میں آئی پی پیز کو جو ریلیف دیا گیا اس پر ان کیمرہ بتائیں گے ۔ چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ آئی پی پیز پورا عفریت بن چکا ہے۔ سردیوں میں کوئی نہیں بتاتا کہ بجلی زیادہ استعمال کریں۔نندی پور پاور پراجیکٹ کے پراجیکٹ منیجر ہارٹیکلچرسٹ تھے۔سینیٹر منظور کاکڑ نے کہاکہ پنڈی میں اس وقت دھرنا بیٹھا ہوا ہے۔ بنگلہ دیش کی صورتحال ہم اب کے سامنے ہے ۔اگر بہتر کرنے کی نیت نہیں ہو گی تو یہاں بھی وہی ہو گا جو بنگلہ دیش میں ہوا۔ وزیر اویس لغاری نے کہاکہ ڈسکوز میں گڈ گورننس اور لاء انفورسمنٹ کے بغیر بجلی کی چوری نہیں رک سکتی۔وزیرِ اعلیٰ کے پی کے کے کہنے پر لوڈ شیڈنگ کم کی لیکن ریکوری نہیں بڑھی۔ سردیوں اور رات کے اوقات میں بجلی کے زیادہ استعمال کے لیے خصوصی پیکجز کی تیاری پر کام ہو رہا ہے۔ ڈسکوز کے ملازمین کو دیئے جانے والے مفت یونٹس کو ختم کر دیا ہے۔

    پنڈی میں دھرنا ہے، بنگلہ دیش کی صورتحال سامنے ہے ،بہتر نہ کیا تو یہاں بھی وہی ہو گا جو بنگلہ دیش میں ہوا۔سینیٹر منظور کاکڑ
    بجلی کی قیمت زیادہ ہونے کی وجہ سے لوگ متبادل پر جا رہے ہیں ۔وزیر توانائی
    سیکرٹری توانائی نے کہاکہ کابینہ نے آفیسرز کے مفت یونٹ کم کرکے اسے مو نیٹائز کر دیا تھا۔ عدالت نے اس معاملے پر حکم امتناعی دے رکھا ہے۔ ایک ارب تیس کروڑ روپے کی ماہانہ بجلی مفت یو نٹس دیتے ہیں ۔وزیر توانائی اویس لغاری نے کہاکہ اوسطا اٹھتر ہزار روپے کی ماہانہ بجلی ایک ملازم کو ملتی ہے ۔ وزیر اعظم کی ہدایت پر آئی پی پیز کے معاہدوں کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں ۔ سابق نگران وزیر توانائی نے ابتدائی کام کیا تھا۔انہوں نے مزید تحقیقات کا کہا۔آج ہمارے پاس آئی پی پیز کے مکمل آڈٹ کی اسپیس موجود ہے ۔آئی پی پیز کو سارا سال ادائیگیاں کی جاتی ہیں ۔سیکرٹری توانائی نے کہاکہ ایک پلانٹ اگر سارا سال بند رہا تب بھی اسے کیپسٹی پیمنٹ ملے گی۔اس پلانٹ کو چلانا ہمیں وارے نہیں کھاتا ۔یہ پلانٹس ہمارے میرٹ آرڈر میں پورا نہیں اترتے ۔ وزیر توانائی اویس لغاری نے کہاکہ 1845 میگاواٹ کے آئی پی پیز صرف 85 گھنٹے چلتے ہیں ۔ان پلانٹس کو 49 ارب روپے سالانہ ادا کیے جاتے ہیں ۔چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ آئندہ اجلاس میں آئی پی پیز پر سنگل پوائنٹ ایجنڈہ اجلاس ہوگا۔ اویس لغاری نے کہاکہ بجلی کی قیمت زیادہ ہونے کی وجہ سے لوگ متبادل پر جا رہے ہیں ۔ چھ ہزار میگاواٹ کے سولر پینل اس سال امپورٹ کیے گئے ہیں ۔یہ سب لو گ آف گرڈ ہو گئے ہیں ۔ کمیٹی کو آخر میں ان کیمرہ کردیا گیا ۔(محمداویس)

    لاہور دا پاوا، اختر لاوا طویل لوڈ شیڈنگ اور مہنگے بجلی بلوں پر پھٹ پڑا

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    لاہور میں کئی علاقوں میں بجلی غائب،لیسکو حکام لمبی تان کر سو گئے

    ایک مکان کابجلی بل 10 ہزار،ادائیگی کیلیے بھائی لڑ پڑے،ایک قتل

    مہنگی بجلی، زیادہ تر آئی پی پیز پی ٹی آئی رہنماؤں کی ملکیت نکلیں

    4 آئی پی پیز کو بجلی کی پیداوار کے بغیر ماہانہ 10 ارب روپے دیے جا رہے ، گوہر اعجاز

    بجلی کا بل کوئی بھی ادا نہیں کرسکتا، ہر ایک کے لئے مصیبت بن چکا،نواز شریف

    حکومت ایمرجنسی ڈکلیئر کر کے بجلی کے بحران کو حل کرے۔مصطفیٰ کمال

    سرکاری بجلی گھر بھی کیپسٹی چارجز سے فائدہ اٹھا رہے ہیں،سابق وزیر تجارت کا انکشاف

    عوام پاکستان پارٹی کے جنرل سیکرٹری مفتاح اسماعیل کا وزیرا عظم سے بجلی کے معاملے پر نوٹس لینے کی اپیل

  • پی ڈبلیو ڈی کی بندش کی تفصیلات طلب

    پی ڈبلیو ڈی کی بندش کی تفصیلات طلب

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ہاﺅ سنگ اینڈ ورکس کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر ناصر محمودکی زیر صدارت پارلیمنٹ لاجز میں منعقد ہوا۔

    قائمہ کمیٹی کے 12 جولائی 2024 کو منعقدہ اجلاس میں دی گئی سفارشات پر عمل درآمد کے علاوہ پی ایس ڈی پی کے مکمل ہونے والے اور زیر التواءمنصوبوں کی تفصیلات، G-13 فلیٹس کے منصوبوں پر کام مکمل نہ ہونے کی وجوہات، قصر نازکراچی کے بجٹ/فنڈز کے استعمال اور اس کی تزئین و آرائش کے کام اور سابقہ انتظامیہ کے خلاف اقدام ، قانونی چارہ جوئی کے منصوبوں کی تفصیل با شممول وجوہات اور موجودہ حیثیت، کوئٹہ کے کچلاک منصوبے پر کام کی سست رفتاری اور پراجیکٹ کے ڈیزائنر کے خلاف کارروائی کے متعلق امور کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا ۔

    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل پاک پی ڈبلیو ڈی نے پی ایس ڈی پی کے منصوبوں کے حوالے سے قائمہ کمیٹی کو آگاہ کیا کہ سال 2023-24 کے پی ایس ڈی پی پروجیکٹس کی مجموعی تعداد 202 ہیں جن میں سے 33 مکمل ہوچکے ہیں اور 169 پر کام جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ فنڈنگ کی فراہمی کا مسئلہ نہ ہو تو زیادہ تر منصوبے وقت پر ہی مکمل ہو جاتے ہیں ۔قائمہ کمیٹی نے نا مکمل منصوبا جات کی تفصیلات ان منصوبوں کی اضافی لاگت اور ان کی تکمیل مدت آئندہ اجلاس میں طلب کرلی۔ایڈیشنل سیکرٹری وزارت ہاﺅسنگ اینڈ ورکس عالمگیر خان نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ کسی بھی منصوبے کی تاخیر کی مختلف وجوہات ہوتی ہیں انہوں نے کہا چالیس ارب روپے کا مختص بجٹ تھا اور وزات خزانہ سے صرف 23ارب روپے ریلیز ہوئے ۔، سینیٹر سیف اللہ نیازی نے کہا کہ کنٹیکٹرز کی وجہ سے پروجیکٹس تاخیر کا شکار ہوجاتے ہیں یہ وہی مسائل ہیں جو گزشتہ 4 برسوں سے سن رہے ہیں، سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ پاک پی ڈبلیو ڈی کیوں بند ہورہا ہے، اسے بند نہیں ہونا چاہیے۔آئندہ اجلاس میں ایک نکاتی ایجنڈا پاک پی ڈبلیو ڈی پر بریفنگ دیں۔

    سینیٹر خالدہ اطیب نے کہا کہ قصر ناز کی کوئی دیکھ بھال نہیں، وہاں کوئی انتظام نہیں ہے، قصر ناز تاریخی اہمیت کی عمارت ہے، اس پر توجہ کی ضرورت ہے، وزارت ہاﺅسنگ اینڈ ورکس نے کہا قصر ناز منصوبے کا pc-1 کا تیار کرلیا ہے انہوں نے کہا کہ فنڈنگ کی منظوری اصولی طور پر ہوگی ،پی ڈبلیو ڈی کو اس پر ایکشن لینا ہے انہوں نے کہا کہ فنڈز کا مسئلہ ہوتا ہے ۔جس پر چیئرمین کمیٹی نے نے کہا کہ منصوبوں کی وقت پر تکمیل سے قومی خزانہ پر اضافی بوجھ نہیں پڑتا اور منصوبے بھی وقت پر مکمل ہو جاتے ہیں ۔کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ آئندہ اجلاس میں وزارت خزانہ اور پلاننگ ڈویژن کو طلب کرکے فنڈز کے اجراءکے معاملہ کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ۔سینیٹر بلال احمد خان نے کہا کہ جب پی ڈبلیو ڈی بند ہورہا ہے اس کو نئے منصوبے نہیں دینے چاہئے تاکہ بعد میں مسائل پیدا نہ ہوں ۔جوائنٹ سیکرٹری ہاﺅسنگ اینڈ ورکس نے کمیٹی کو بتا یا کہ پی ڈبلیو ڈی کو بند کرنے کی منظوری کابینہ نے دے دی ہے کمیٹی بنائی گئی ہے جو ان امور کو دیکھے گی اور اس کمیٹی نے کچھ ورکنگ گروپس بنائے ہیں جو جاری منصوبوں کو مکمل کرائے گی ۔قائمہ کمیٹی نے پی ڈبلیو ڈی کی بندش کی تفصیلات طلب کرلیں ۔

    مری منصوبے کے حوالے سے قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ اس منصوبے کی کل زمین 36.8کنال ہے جس میں سے 6.8پی ڈبلیو ڈی کے پاس ہے 18کنال ضلعی انتظامیہ اور 12کنال پر پی ڈبلیو ڈی کے سابق چوکیدارکا قبضہ ہے عدالت نے اس کیس کا فیصلہ ہمارے حق میں دیا ہے لوگ دوبارہ کوئی اور کیس کر دیتے ہیں ۔قائمہ کمیٹی نے چیف سیکرٹری پنجاب کو خط لکھنے کا فیصلہ بھی کیا ۔قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ اس منصوبے کا پلاٹ خالی پڑا ہے ایک چھوٹا سا قبرستان اور برازیل سفارت خا نے کی پرانی عمارت غیر فعال کھڑی ہے ۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اسلام آباد میں جیل بن رہی تھی وہ کہاں بن رہی ہے ڈی جی پی ڈبلیوڈی نے کہا کہ یہ جیل پی ڈبلیوڈی ہی ہی بنارہا ہے چار پانچ سال سے فنڈنگ کے مسائل تھے ۔وزیرداخلہ نے ایک سو دن میں اس کو مکمل کرنے کا حکم دیا تھا۔جون کے آخر میں فنڈز دئیے تھے جس کے بعد دوبارہ سے کام شروع کیا ہے۔

    قائمہ کمیٹی کو ڈائریکٹر جنرل پی ایچ اے نے بتایا کہ G-13میں کشمیر ایوینو اور لائف اسٹائل ریسڈنشیا بنائی جا رہی ہے ۔کشمیر ایونیو اپارٹمنٹس پر کام 2020میں شروع ہوامگر کرونا کی وجہ سے کام رک گیا تھا ۔کشمیر ایوینیو میں 1467فلیٹس بننے ہیں 2021میں 16فیصد کام ہوگیا تھا ہمارے بورڈ نے اس کام کےلئے دوستانہ حل نکالنے کےلئے کہا۔ مئی 2024کو اس منصوبے کا دوبارہ پی سی ون بنایا ہے ۔یہ منصوبہ 15ارب روپے کا تھا اب 33.5ارب کا ہوگیا ہے کل تین بلاکس ہیں زمین کے استعمال کی تبدیلی سے 3ارب روپے کا فائدہ ہوگا بلاکس کی لیز والی جگہ کو کمرشل استعمال میں لایا جائے گا ۔ایک فلیٹ جو 1کروڑ کا تھا اب 2کروڑ کا ہوگا ۔اوپن ٹرینڈنگ کرنے جارہے ہیں ۔جی ٹو جی موڈ پر کام کریں گے ۔ سینیٹر سیف اللہ ابڑونے کہا کہ جی ٹو جی ایکٹ کا بہت زیادہ غلط استعمال کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک نا اہل کمپنی کو یہ ٹھیکہ دیا گیا تھا ۔اگر جی ٹو جی کرنا ہے تو ایکٹ میں ایک چیز ڈالیں کہ یہ ٹھیکہ کسی کو سب لیٹ نہیں کریں گے ۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ لائف سٹائل ریذیڈنشیا کے 8ٹاور بن چکے ہیں۔8ٹاورز کی فنشنگ کرنے کیلئے 19ارب روپے چاہئں ۔کل 2886اپارٹمنٹس ہیں اس منصوبے پر 2016میں کام شروع ہوا یہ منصوبہ 15ایکڑ پر مشتمل ہے ۔14منزلہ کو 16منزلہ کیا گیا ہے اس منصوبے کا کنٹریکٹر فوت ہوگیا تھا نئے کنٹریکٹر کے لئے دو د فعہ اشتہار دیا ہے اس منصوبے کے 32ارب کے اثاثے ہیں لوگوں سے 2.6ارب روپے لینے ہیں صرف 9کروڑ ملے ہیں ۔اس سارے منصوبے کو مکمل کرنے لئے 45ارب روپے درکار ہیں کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ اس منصوبے کا ون ایجنڈا رکھ کر امور کا جائزہ لیا جائے گا ۔قائمہ کمیٹی نے وزارت ہاﺅسنگ نے ڈیپو ٹیشن پر کام کرنے والوں کی تفصیلات بھی طلب کرلی ۔

    قائمہ کمیٹی کو کوئٹہ کچلاک منصوبے بارے تفصیلی آگاہ کیا گیا ایم ڈی پی ایچ اے نے کمیٹی کو بتایا کہ 2019میں یہ ڈیزائن کیا گیا 86ایکڑ پر یہ منصوبہ مشتمل ہے اس میں 714گھر اور 637اپارٹمنٹس بنے گے 1350خاندانوں کو یہ سہولت دی جائے گی ۔اس منصوبے پر کام چل رہا ہے ۔یہ منصوبہ فالٹ لائن پر تھا ۔ 2022کے سیلاب کی وجہ سے بھی کچھ مسائل سامنے آئے ۔ کنٹریکٹر ہمیں انفریسٹکچر کے حوالے سے عدالت لے گیا تھا ۔یہ منصوبہ 645ملین کا اوارڈ ہوا تھا اب یہ 960ملین کا ہے ۔433لوگ آج بھی اس پر کام کر رہے ہیں ۔ڈیم کے نالے اور سڑک کی تعمیر کے حوالے سے کنٹریکٹر نے مسائل پیدا کیئے ہیں ۔ سینیٹر بلال احمد نے کہا کہ نالا اس منصوبے کے درمیان سے گزررہا ہے۔اگر نالہ منصوبے کے درمیان ہے تو یہ ڈیزائن خراب ہے ۔جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ آئندہ اجلاس میں اس منصوبے کی مکمل ویڈیو اور ڈیزائن کو پیش کیا جائے اور کنسلٹنٹ کو بھی طلب کرلیا ۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ اس منصوبے میں سیاست سے وبستہ لوگ شامل ہیں جس کی وجہ سے ذبردستی کیس ہروایا گیا۔

    چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ یہ وزارت انتہائی اہمیت کی حامل ہے لوگوں کی گھروں کی ضرورت پورا کرنے کیلئے اہم منصوبوں پر کام کر رہی ہے ایسی حکمت عملی اختیار کی جائے گی جس سے نا صرف منصوبے وقت پرمکمل ہوں بلکہ قومی خزانہ پر اضافی بوجھ بھی ختم کیا جا سکے گا ۔انہوں نے کہا کہ ہاﺅسنگ کے منصوباجات کی بروقت تکمیل سے ملک و قوم کا فائدہ ہوتا ہے۔

    کمیٹی اجلاس میں چیئرمین کمیٹی سینیٹر ناصر محمو، نا صر محمود سینیٹر بلال احمد خان، سینیٹر محمد اسلم ابڑو ،سینیٹر خالدہ عتیب ،سینیٹر سیف اللہ سرور خان نیازی، سینیٹر حسنہ بانو ،سینیٹر سیف اللہ ابڑو، سینیٹر ہدایت اللہ خان کے علاوہ سیکرٹری ہاﺅسنگ اینڈ ورکس شہزاد خان بنگش ،ایڈیسنل سیکرٹری ہاﺅسنگ عالمگیر احمد خان او ر دیگر ا علیٰ حکام نے شرکت کی۔

    ریاستی اداروں کیخلاف بیرون ملک سے پروپیگنڈہ کرنیوالا ایک اور کارندہ بے نقاب

    سوشل میڈیا پر اداروں کے خلاف منظم مہم،تحقیقات کیلیے جے آئی ٹی تشکیل

    14 سال سے خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی سرکار،اربوں بجٹ وصول،کارکردگی زیرو

    عمران پر جیل میں تشدد ہوا،مجھے مرد اہلکار نے…بشریٰ بی بی نے سنگین الزام عائد کر دیا

    عبوری ضمانت "معصوم” فرد کا حق ہے،نومئی مقدمے،عمران کی ضمانت مسترد ہونے کا فیصلہ

    پی ٹی آئی میڈیا کوآرڈینیٹر سے دھماکہ خیزمواد برآمد،کالعدم تنظیموں سے تعلق،جسمانی ریمانڈ مل گیا

    تحریک انصاف کے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کے خلاف کریک ڈاون کا آغاز ہو گیا

    مہنگی بجلی، زیادہ تر آئی پی پیز پی ٹی آئی رہنماؤں کی ملکیت نکلیں

    طبل جنگ بج گیا، لڑائی شروع،پی ٹی آئی پرپابندی

    ہر نئے ریلیف کے بعد اک نیا کیس،عمران خان کی رہائی ناممکن

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

  • بیرون ملک پاکستانیوں کے شرمناک کام،50 فیصد جرائم میں ملوث

    بیرون ملک پاکستانیوں کے شرمناک کام،50 فیصد جرائم میں ملوث

    اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اوورسیز پاکستانی کا سینیٹر ذیشان خانزادہ کی زیرِ صدارت اجلاس ہوا

    سینیٹر علامہ راجا ناصر عباس نے کہا کہ عراق میں بنگلہ دیش کے لوگ روزگار کے لئے زیادہ جا رہے ہیں، حکام وزارت اوورسیز نے کہا کہ عراقی سفیر کی پاکستانی لوگوں کے مطابق شکایات زیادہ ہوتی ہیں، سعودی عرب میں اس وقت 20 لاکھ پاکستانی 7 ارب ڈالرز زرمبادلہ سالانہ بھیجتے ہیں، سعودی عرب کے ساتھ حالیہ دنوں میں ورکرز کے حوالے سے معاہدہ ہوا ہے، سعودی عرب نے مطالبہ کیا بھکاری، بیمار لوگوں اور سکلز کے بغیر لوگ نہ بھیجیں، قائمہ کمیٹی نے 4 ہزار ایمپلائمنٹ کمپنیوں کی تفصیلات طلب کرلیں

    حکام وزارتِ اوورسیز نے کہا کہ پاکستانی بیرون ملک مجرمانہ سرگرمیوں میں سب سے ذیادہ ملوث ہیں، یو اے ای میں ہونے والے کل جرائم میں سے 50 فیصد جرائم میں پاکستانی ملوث ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے،حکام وزارتِ اوورسیز نے کہا کہ پاکستانی شہریوں کے رویوں کے باعث ممالک دوسرے ممالک کے ورکرز کو ترجیح دیتے ہیں، بیرون ملک جانے والوں میں سے 35 فیصد کا پتہ تب چلتا ہے جب ائیرپورٹ پر آتے ہیں،ڈائریکٹ امیگریشن دنیا بھر میں ہوتی ہے،جاپان نے نسٹ یونیورسٹی کی الیکٹریکل انجینیرنگ کی پوری جماعت بک کر لی، سعودی عرب نے 10 ہزار بائیک ڈیلیوری بوائز مانگے ہیں، کل یورپی یونین کی ایک ٹیم آ رہی ہے جس سے بات ہو گی ،

    دبئی میں خواتین بیٹھی ہوتی ہیں اور پاکستانی ان کے سامنے ویڈیوز بنانا شروع کردیتے ہیں
    وزارت اوورسیز نے بیرون ملک پاکستانیوں کی ٹک ٹاکس بنانے کی شکایات بھی کر دی،سیکریٹری وزارت اوورسیز نے کہا کہ یو اے ای میں پاکستانیوں کی جانب سے عجیب ٹک ٹاکس بھی بنائی جاتی ہیں، پاکستانیوں نے یو اے ای میں ہونے والی بارش پر عجیب توجیہات پیش کیں، لوگوں کے لباس پر پاکستانی وہاں ٹک ٹاکس بناتے ہیں، ممالک ہمارے شہریوں کے ایسے رویوں اور اخلاقیات سے مایوس ہو رہے ہیں،دبئی میں خواتین بیٹھی ہوتی ہیں اور پاکستانی ان کے سامنے ویڈیوز بنانا شروع کردیتے ہیں، دبئی میں پاکستانی وی لاگرز لوگوں سے غزہ سے متعلق سوال شروع کردیتے ہیں، یو اے ای نے دبے الفاظ میں یہ کہا ہے کہ بھیجنے والے لوگوں کے رویے بہتر بنانے کی تربیت نہ کی تو مسائل پیدا ہونگے.

    ہم بارڈر اور انسانی اسمگلنگ کو کنٹرول نہیں کریں گے تو ہم پھنس جائیں گے،وزارت سمندر پار پاکستانی
    وزارت سمندر پار پاکستانی کے حکام نے بتایا کہ ہمارے ماتحت ادارے بزنس میں آسانی کے حوالے سے رکاوٹ ہیں، اس میں آسانی کے لیے 120 ترامیم تجویز کی ہیں، او پی ایف کا چھ سال بعد نیا بورڈ بن گیا ہے،ای او بی آئی ابھی وفاق کے پاس ہے، سندھ کے وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ وہ ای او بی آئی کے معاملے کو کھولنا چاہتے ہیں، ای او بی آئی 60 سے 65 ارب پنشن دے رہی ہے جو آئندہ چند سال میں سو ارب ہو جائے گی، ای او بی آئی میں انشورڈ افراد1 کروڑ سے زیادہ ہیں ،چار لاکھ 27 ہزار افراد کو پنشن دی ہے، ای او بی آئی میں اس سال رکارڈ وصولی 60 ارب ہوئی ہے، ہمارے 96 فیصد افراد جی سی سی ممالک میں جارہے ہیں، چھ سے آٹھ لوگ ملک سے باہر جاتے ہیں، دو تین لاکھ لوگ واپس بھی آجاتے ہیں۔ ہالینڈ، فرانس، امریکا میں اینٹی امیگریشن جذبات ہیں، دبئی کے ساتھ مسائل ہیں، وہ کہہ رہے ہیں آپ سے 16 لاکھ کا زبانی کوٹہ تھا لیکن آپ 18 لاکھ پر آگئے، ملیشیا میں لوگ ایک سال کے معاہدے پر گئے اور وہیں رک گئے، پھر جیل میں جاتے ہیں، عراق میں لوگ غائب ہوئے ان کی درست تعداد معلوم نہیں، ہم چھ سے آٹھ لاکھ لوگ بارڈر کے ذریعے باقاعدہ بھیج رہے ہیں، پھر بھی کشتیوں میں کون لوگ پکڑے جا رہے ہیں، یہ پاکستان کا تشخص خراب کر رہے ہیں، باہر والے ہم سے تنگ ہیں، یورپی یونین کہتا ہے آپ ایف آئی اے کا نظام، بارڈر کنٹرول بہتر کریں ہم آپ کو ملازمت میں چھوٹا کوٹا دیں گے، کل یورپی یونین کی ٹیم آرہی ہے، ہم بارڈر اور انسانی اسمگلنگ کو کنٹرول نہیں کریں گے تو ہم پھنس جائیں گے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل کے حل کے لئے کابینہ کمیٹی بنا دی
    سیکریٹری وزارت اوورسیز نے کہا کہ کابینہ کمیٹی آن امیگریشن، اوورسیز ایمپلائمنٹ کی سربراہی وزیرِ اعظم خود کریں گے، کابینہ کمیٹی میں وفاقی وزراء برائے اوورسیز پاکستانی، تعلیم، خارجہ امور شامل ہیں،داخلہ، صحت، صنعت و پیداوار اور تجارت کے وفاقی وزراء بھی کمیٹی میں شامل ہیں،ایس آئی ایف سی کے نیشنل کوآرڈینیٹر، سٹیٹ بینک کے گورنر، نیوٹیک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور ایچ ای سی کے چیئرمین بھی شامل ہوں گے

    وزارتِ اوورسیز پاکستانی کا نیا امیگریشن پورٹل بنانے کا فیصلہ
    سعودی عرب کی جانب سے 92 نرسیں ڈگریاں نہ ہونے کے باعث واپس بھجوانے کا انکشاف سامنے آیا،سیکریٹری وزارتِ اوورسیز نے کہا کہ تحقیقات میں پتہ چلا نرسوں کی واپسی میں قصور مڈل مین کا ہے، امیگریشن پالیسی میں بہتری کے لئے ڈاکیومنٹ کی منظوری جلد وفاقی کابینہ سے لی جائے گی،وزیراعظم نے بیرون ملک سفارتخانوں کو اکنامک ڈیپلومیسی کا مرکز بنانے کی ہدایت کی ہے،

    وزارتِ اوورسیز پاکستانی کا محسن پاکستان ایوارڈ جاری کرنے کا فیصلہ،
    بیرون ممالک میں خدمات کی بنیاد پر محسن پاکستان ایوارڈ دیا جائے گا . سینیٹر علامہ راجا ناصر عباس نے کہا کہ محسن پاکستان بہت بڑا نام ہے، کوئی اور نام رکھ لیں،

    بیرون ملک 29ہزار سے زائد پاکستانی جیلوں میں قید

    بھارت کی صنم فیس بک پر پاکستانی لڑکےکو دل دے بیٹھی،کر لی شادی

    بلاول کامیانمار میں تین پاکستانی نوجوانوں کے مبینہ اغوا کا نوٹس

    سعودی عرب میں 7 پاکستانیوں سمیت 106 افراد کو موت کی سزا

    کرغستان میں 1200 غیرقانونی پاکستانی ہیں جن کو جلد ڈی پورٹ کیا جائے گا، اسحاق ڈار

    پاکستانی سفارتکار کے باورچی کی شرمناک حرکت،بھارت نے ملک بدر کر دیا

    امریکا کے ساتھ میچ سے قبل پاکستانی کھلاڑی امریکا میں کیا "گلُ ” کھلاتے رہے؟

  • 2015 سے اب تک پی آئی اے نے 500 ارب کا خسارہ کیا،قائمہ کمیٹی میں بریفنگ

    2015 سے اب تک پی آئی اے نے 500 ارب کا خسارہ کیا،قائمہ کمیٹی میں بریفنگ

    اسلام آباد(محمداویس)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد طلال بدر کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔

    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں وزارت نجکاری اور اس کے ماتحت اداروں کی مجموعی کارکردگی اور کام کے طریقہ کار کے علاوہ وزارت نجکاری سے آئندہ ایک سال کے نجکاری پروگرام کی تفصیلات کے امور کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد طلال بدر نے اراکین کمیٹی اور وزارت کے نمائندوں کو خوش آمدید کرتے ہوئے کہا کہ اراکین کمیٹی اور وزارت کے ساتھ مل کر ملک کی معیشت کی بحالی اور نجکاری کے عمل کو شفاف سے شفاف تر بنانے کے لئے لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ وزارت واحد امید ہے جو اگر احسن طریقے سے نجکاری کے عمل پر عملدرآمد کرے تو ملکی معیشت بھنور سے نکل سکتی ہے۔ حکومتیں بزنس نہیں کرتی بلکہ اداروں کو ریگولیٹ کرتی ہیں اور یہ حکومت کا اولین فرض ہوتا ہے کہ وہ ادرے جو قومی نقصان کا سبب بن رہے ہوں ان کو ترقی کی جانب گامزن کر سکے اور اگر ایسا ممکن نہ ہو تو اس کے لئے موثر لائحہ عمل اختیار کرے اور ملک کو نقصان سے بچایا جا سکے تاکہ ملک میں نئے ہسپتال، سکول اور ایسے ادارے قائم کیے جا سکیں جن سے ملک و قوم کو فائدہ ہوا۔ ایسا لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا جس میں شفافیت یقینی بنا کر اہداف کا حصول ممکن بنایا جا سکے۔

    اراکین کمیٹی نے چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد طلال بدر کو چیئرمین کمیٹی منتخب ہونے مبارکباد پیش کرتے ہوئے بھر پور تعاون کا یقین دلایا اور کہا کہ سیاسی وابستگیوں سے بالا تر ہو کر ملکی ترقی و خوشحالی کیلئے مل کر کام کریں گے۔
    نجکاری ڈویژن میں 82 اسامیاں ہیں جن میں سے 17 خالی
    سیکرٹری وزارت نجکاری نے قائمہ کمیٹی کو تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ نجکاری کے امور میں شفافیت کا پہلو نہ صرف حکومت اورملک کے لئے اہم ہوتا ہے بلکہ اس سے عوام کی حالت زار بھی بہتر ہوتی ہے۔ وفاقی حکومت سے منظور شدہ نجکاری پروگرام کو شفافیت کے ساتھ عملی جامہ پہنانا اس ادارے کا کام ہے۔ ادارے کاکام نجکاری کے حوالے سے پالیسیز بنانا ہے جو نجکاری بورڈ میں پیش کی جاتی ہے۔ نجکاری بورڈ سفارشات وفاقی کیبنٹ میں پیش کرتا ہے اور وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد اس پر عمل شروع کر دیا جاتا ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ نجکاری ڈویژن میں 82 اسامیاں ہیں جن میں سے 17 خالی ہیں۔ گریڈ17 اور اس سے اوپر کی کل12 اسامیاں ہیں۔ گریڈ1 سے16تک 70 اسامیاں ہیں۔ نجکاری کمیشن میں 143 پوسٹیں ہیں جن میں سے 20 خالی ہیں۔24 گریڈ 17 اور اس سے اوپر کی اسامیاں ہیں اور 119 گریڈ 1 سے16 کی اسامیاں ہیں۔

    کتنے منصوبوں کی نجکاری کے لئے کتنی بار کوشش کی گئی اور ان پر کتنا خرچ ہوا؟ تفصیلات طلب
    قائمہ کمیٹی کو نجکاری ڈویژن اور نجکاری کمیشن کے بجٹ کی تفصیلات سے بھی آگاہ کیا گیا۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ نجکاری کمیشن کو بجٹ حکومت کی جانب سے دیا جاتاہے۔ نجکاری کمیشن کو فنڈ دو ذرائع سے ملتا ہے۔ وفاقی کی بجٹ کی گرانٹس اور نجکاری فنڈ کے ذریعے رقم آتی ہے۔ قائمہ کمیٹی کو نجکاری کمیشن کے قیام بارے بھی تفصیلی آگاہ کیا گیا اور دیگر پالیسی فریم ورک اور فنگشنز بارے بھی آگاہ کیا گیا۔قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ نجکاری کمیشن کا ایک بورڈ ہے جس کا ایک چیئرمین اور 8 ممبران ہوتے ہیں۔ نجکاری پر ایک کیبنٹ کمیٹی بھی بنائی گئی ہے جس کے چیئرمین وزیر خارجہ امور ہوتے ہیں اور اس کے ممبران میں وزیر خزانہ، وزیر تجارت، وزیر توانائی، وزیر صنعت وپیداوار اور وزیر نجکاری شامل ہوتے ہیں۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ نجکاری کمیشن کے پاس حکومت کی جانب سے اختیار ہوتا ہے کہ وہ رولز بنائیں۔ قائمہ کمیٹی کو بنائے گئے مختلف رولز کی تفصیلات سے بھی آگاہ کیا گیا۔ سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ وزارت نجکاری کا ایک نجکاری کمیشن بھی بنایا گیا ہے۔ کمیشن کا بجٹ 8 ارب کا ہے جبکہ وزارت کا بجٹ کم ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ نجکاری پبلک اوفرننگ کے تحت ہو رہی ہے اور نجکاری کیے جانے والے اداروں میں متعلقہ وزارتوں سے رائے بھی لی جاتی ہے اور بورڈ میں ان منصوبوں کی نمائندگی کے لئے وزارت کے لوگ بھی ہوتے ہیں۔قائمہ کمیٹی کو بتایا گیاکہ فنانشنل ایڈوائز ہائیر کرنے پر بہت خرچ ہوتاہے۔ جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ قائمہ کمیٹی کو گزشتہ پانچ برسوں کا بجٹ، اخراجات سے متعلقہ تفصیلات فراہم کی جائیں۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ گزشتہ 15 برسوں میں کوئی بڑی ٹرانزکشن نہیں کی گئی۔یہ بھی آگاہ کیا گیا کہ پاکستان ا سٹیل ملز کو نجکاری سے نکالا دیا گیا ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ فنانشنل ایڈوائرز پر آج تک جتنا خرچہ ہوا ہے اور وہ کام پورا کیے بغیر چلے گئے ہیں ان کی تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ کتنے منصوبوں کی نجکاری کے لئے کتنی بار کوشش کی گئی اور ان پر کتنا خرچ ہوا کمیٹی کو آگاہ کیا جائے۔گزشتہ 15 سالوں میں کتنے فنانشنل ایڈوائز رکھے گئے اور ان پر کتنا خرچہ آیا ہے آگاہ کیا جائے۔ سینیٹر فیصل سلیم رحمان نے کہا کہ جب فنانشل ایڈوائز نے کام ٹھیک نہیں کیا تو کیا ان سے ریکوری کر سکتے ہیں۔

    نجکاری کیلئے 84 اداروں کی نشاندہی،24 کی نجکاری کا فیصلہ کیا گیا
    قائمہ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ کل 84 اداروں کی مختلف وزارتوں میں نجکاری کے لئے کی نشاندہی کی گئی تھی جن میں 24 اداروں کی نجکاری کا فیصلہ کر لیا گیا ہے اور 41 کیبنٹ کے پاس ہیں۔24 اداروں میں سے 4 ادارے جن میں پی آئی اے کمپنی لمیٹیڈ، روزویل ہوٹل، ہاؤس بلڈنگ فنانس کمپنی لمیٹیڈ، فرسٹ وویمن بینک لمیٹیڈ کی نجکاری امید ہے اسی سال مکمل ہو جائے گی۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ نجکاری کا عمل 1 سے 5 سال کے دوران تین مراحل میں مکمل ہوگا۔ نجکاری کا عمل قانونی تقاضوں کے تحت عمل میں لایا جا رہا ہے۔ قائمہ کمیٹی نے نقصان زدہ سرکاری اداروں کے نقصانات کی تفصیلی رپورٹ بھی طلب کرلی۔اراکین کمیٹی نے کہا کہ کچھ ادارے منافع میں ہیں ان کی نجکاری کیوں کی جارہی ہے۔ جس پر کمیٹی کو بتایا گیا کہ ابھی منافع کم ہورہا ہے نجکاری کے بعد منافع بڑھ جائے گا۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ فرسٹ ویمن بینک، ہاؤس بلڈنگ فنانس، پی آر سی ایل اور سٹیٹ لائف منافع بخش ادارے ہیں۔ 9 بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی پانچ سال میں نجکاری کی جائے گی۔ تین بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کیلئے فنانشل ایڈوائزر کی تعیناتی اسی سال ہو جائے گی۔

    پی آئی اے کارپوریشن لمیٹیڈ، روزویلٹ ہوٹل، ہاؤس بلڈنگ، فرسٹ ویمن بینک کی نجکاری اسی سال ہوگی
    سیکرٹری نجکاری ڈویژن نے کہا کہ پی آئی اے کارپوریشن لمیٹیڈ، روزویلٹ ہوٹل، ہاؤس بلڈنگ، فرسٹ ویمن بینک کی نجکاری اسی سال ہوگی۔پی آئی اے نے 800 ارب روپے کے واجبات ادا کرنے ہیں۔ پی آئی اے کو حکومت ہر سال 100 سے 125 ارب دیتی ہے۔ بینکوں کے 260 ارب روپے پی آئی اے کے ذمہ واجب الادا ہیں جن میں بینک آف پنجاب، سٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک، حبیب بینک،نیشنل بینک سمیت 9 بینکوں کے پیسے ہیں۔پی ایس او کے 20 ارب روپے اور سول ایوی ایشن 120 ارب روپے کے بقایاجات ہیں، سیکرٹری نجکاری کمیشن کمیٹی کو بتایا کہ ہمارا یہ ہدف ہے پی آئی اے کیلئے 6 بڈرز میں سے زیادہ سے زیادہ بڈنگ آئیں۔پی آئی اے کے کل اثاثے 160 ارب روپے کے ہیں۔ پی آئی اے کی نجکاری میں اتنے بڑے واجبات کی وجہ سے کمپنیاں دلچسپی نہیں لے رہی تھیں۔ دنیا بھر میں یہی ہوتا ہے کہ کسی بھی سرکاری کمپنی کے واجبات حکومت اپنے ذمہ لے لیتی ہے تاکہ اس کی نجکاری ہو سکے۔ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ 600 ارب کی ادائیگی پی آئی اے کمپنی لمیٹیڈ سے نکال دی گئی ہے اور اس کو کور اور نان کور میں تقسیم کرکے وید ہولڈنگ کمپنی میں تبدیل کر دیا ہے۔600 ارب وید ہولڈنگ کمپنی میں جائیں گے اور 200 ارب کور کمپنی میں رہ جائیں گے۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ 2015 سے اب تک پی آئی اے نے 500 ارب کا خسارہ کیا۔ پی آئی اے نے 25 فیصد سالانہ شرح سود سے قرض حاصل کیا تھا بینکوں سے بات کر کے اسے 12 فیصد پر لایا گیا ہے۔ روز ویلٹ ہوٹل کے حوالے سے قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ اس کی رپورٹ تیار کر لی گئی ہے۔ بورڈ اس کی تجاویز تیار کر کے وفاقی کیبنٹ کو پیش کرے گا۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ متحدہ عرب امارات نے فرسٹ ویمن بینک میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔وفاقی کابینہ نے فروری 2024 میں گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ ماڈ ٹرانزیکشن کی منظوری دی ہے۔نجکاری کمیشن نے نجکاری کے عمل کو جی ٹو جی بنیاد پر آگے بڑھانے کا آغاز کردیا ہے۔ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کیلئے تکنیکی کنسلٹنٹ ہائرکرلیا گیا ہے اور ٹیکنیکل کنسلٹنٹ ستمبر 2024 تک پلان شیئر کرے گا۔رکن کمیٹی سینیٹر ندیم احمد بھٹو نے کہا کہ نجکاری کے عمل کے لئے وزارت نے کتنا ریسرچ ورک کیا ہے اور کتنے فیصد ٹارگٹ حاصل کیا ہے اس کی تفصیل فراہم کی جائے۔ قائمہ کمیٹی نے وزارت نجکاری سے نجکاری کی لسٹ میں شامل اداروں کی تفصیلات کا ڈیٹا بھی طلب کرلیا۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ملک کی جو معاشی حالت ہو گئی ہے لوگوں کی نظریں حکومت پر ہیں کہ ان نقصان دینے والے اداروں کے حوالے سے موثر فیصلہ کریں تاکہ ملک مزید خسارے سے نکل کر ترقی و خوشحالی اور استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔

    قائمہ کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹر زبلال احمد خان، خالدہ اطیب، فیصل سلیم رحمان، خلیل طاہر، محسن عزیز، محمد قاسم، ندیم احمد بھٹو کے علاوہ سیکرٹری وزارت نجکاری، سیکرٹری نجکاری کمیشن اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

    پاکستان سٹیل ملز کو نجکاری کے لسٹ سے نکال لیا گیا، رانا تنویر

    امید ہے پی آئی اے کی نجکاری سے کوئی بھی بے روزگار نہیں ہوگا،علیم خان

    پی آئی اےکی نجکاری کیلئے 6کمپنیوں نے پری کوالیفائی کرلیا

    پی آئی اے کا خسارہ 830 ارب روپے ہے، نجکاری ہی واحد راستہ ہے، علیم خان

    پیشکشوں میں توسیع کا وقت ختم، نجکاری کمیشن پری کو آلیفیکیشن کریگا:عبدالعلیم خان

    پی آئی اے سمیت24اداروں کی نجکاری، شفافیت کیلئے ٹی وی پر دکھائینگے:وفاقی وزیر عبد العلیم

     پی آئی اے کی نجکاری کے حوالہ سے اہم پیشرف 

    پی آئی اے کسے اور کیوں بیچا جارہا،نجکاری پر بریفنگ دی جائے، خورشید شاہ

    پی آئی اےکی نجکاری کیلئے 6کمپنیوں نے پری کوالیفائی کرلیا

    اسٹیل مل کی نجکاری نہیں، چلائیں گے، شرجیل میمن

  • طالبان کی رہائی کے بعد دہشتگردی بڑھی،آپریشن عزم استحکام شروع نہیں ہوا،وزیر داخلہ

    طالبان کی رہائی کے بعد دہشتگردی بڑھی،آپریشن عزم استحکام شروع نہیں ہوا،وزیر داخلہ

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا چیئرمین فیصل سلیم رحمان کی زیر صدارت اجلاس ہوا

    سیکرٹری داخلہ کی جانب سے وزارت سے متعلق بریفنگ دی گئی، سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ وزارت داخلہ کے ماتحت 18 محکمے ہیں،بشام واقعے پر جے آئی ٹی بنی تھی،11 لوگ گرفتار ہوئے، سینیٹر پلوشہ خان نے کہا کہ حالیہ حملوں میں ملوث کتنے لوگ پکڑے ہیں؟عرفان الحق صدیقی نے کہا کہ چائنیز ہماری معیشت اور بہت سارے معاملات کا حصہ ہیں، صرف چائنیز کو نشانہ بنایاجارہاہے،اس کے پیچھے محرکات ہیں کہ ہمارے اور چین کے تعلقات کو بگاڑا جائے،

    وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی کمیٹی اجلاس میں شرکت کی، چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اس سے پہلے داخلہ کمیٹی میں منسٹر وقت نہیں دیتے تھے،

    ایک ڈیڑھ مہینے پہلے میرے گھر پر حملہ ہوا، آئے روز ہمیں کالز موصول ہوتی ہیں، سینیٹر نسیمہ احسان
    سینیٹر عمر فاروق نے کہا کہ مجھ پر دو بار حملہ ہوا،جس چیک پوسٹ پر جاؤ بغیر بے عزتی کے کچھ نہیں ہے، سینیٹر نسیمہ احسان نے کہا کہ ایک ڈیڑھ مہینے پہلے میرے گھر پر حملہ ہوا، آئے روز ہمیں کالز موصول ہوتی ہیں،ہم اپنے گھر سے نہیں نکل سکتے،ہمیں سیکیورٹی والے بھی کہتے ہیں آپ تین بجے تک گھر پہنچ جائیں،صوبے کی طرف سے بھی ہمیں کوئی جواب نہیں ملا،

    قائمہ کمیٹی داخلہ اجلاس میں نورمقدم کیس کا ذکر،اگر ہم لوگوں کو سزائیں نہیں دیں گے تو ریپ ہوتے رہیں گے۔سینیٹر ثمینہ زہری
    سینیٹر ثمینہ زہری نے کہا کہ بار بار بم دھماکوں پر تمام آئی جیز کو خط لکھا، آئی جی پنجاب نے جواب دیا کہ کتنے گرفتار ہوئے کتنے رہا ہوئے، ان تمام کیسز میں صرف 5 ملزمان کو سزا ہو سکی،آئی جی سندھ نے مئی کے خط کا جواب جولائی میں دیا، آئی جی سندھ کی جانب سے ہمیں سنجیدہ تک نہیں لیا گیا، کل سی ڈی اے کی وجہ سے 500 لوگوں کی دکانیں اتوار بازار میں جل گئیں، ایم 25 کے روڈ کا مسئلہ اٹھایا تو وزیر صاحب جذباتی تقریر کر کے چلے گئے، اگر ہمیں مسائل کا ہی نہیں پتہ ہوگا تو حل کیسے نکالیں گے، نور مقدم کیس کا بھی ابھی تک کچھ نہ ہوسکا، میڈیا والے بار بار لکھتے ہیں اسے ضمانت مل گئی اسے مل گئی، اگر ہم لوگوں کو سزائیں نہیں دیں گے تو ریپ ہوتے رہیں گے۔

    صحافی جان محمد مہر کے قاتل ابھی تک گرفتار نہیں ہوئے، قاتلوں کو گرفتار کریں،سینیٹر سیف اللہ ابڑو
    سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ صحافی جان محمد مہر کے قاتل ابھی تک گرفتار نہیں ہوئے،صحافیوں کے قاتلوں کو گرفتار کریں،سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کہا کہ جب تک کسی کو سزا نہیں دو گے تو جرائم ہوتے رہیں گے، سینیٹر جام سیف اللہ خان نے کہا کہ حیدرآباد میں ایک مہینہ پہلے ایک دھماکہ ہوا ہے اس میں 25 لوگ جاں بحق ہوئے،سینیٹر عرفان الحق صدیقی نے کہا کہ دہشت گردی کی نئی لہر اٹھی ہوئی ہے، عزم استحکام کے بارے میں بتائیں اس کے اہداف کیا ہیں،

    عزم استحکام معیشت کی مضبوطی کا ضامن۔تجزیہ، شہزاد قریشی

    سکیورٹی ذرائع کے مطابق عزم استحکام آپریشن کا غلط تاثر لیا گیا

    معاشی مشکلات کی وجہ سے آپریشن عزم استحکام کا فیصلہ کیا گیا ہے، خواجہ آصف

    وفاقی کابینہ اجلاس میں آپریشن عزم استحکام کی منظوری

    آپریشن عزم استحکام کا مقصد کیا؟ وزیراعظم آفس سے اعلامیہ جاری

    آپریشن عزم استحکام کی مخالفت کر کے کیا پی ٹی آئی ملک دشمن قوتوں کی حمایت کر رہی ہے؟ شیری رحمان

    ماضی کے جتنے آپریشن ہوئےانکے نتائج تو سامنے رکھیں،مولانا فضل الرحمان

    ایپکس کمیٹی میں ایک نام عزم استحکام آیا لیکن آپریشن کا ذکر نہیں تھا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ

    آپریشن عزم استحکام،کامیابی کیلئے اتحاد ضروری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    کچے کے علاقے میں آپریشن کو لیڈ سندھ حکومت کر رہی ،ہائی وے اب بہت زیادہ محفوظ ہو گئی ،وزیر داخلہ
    وزیر داخلہ محسن نقوی نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ لاء اینڈ آرڈر کی ہینڈلنگ صوبوں کے پاس ہے، ایف سیز اور رینجرز دہشت گردوں کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشن کرتی ہیں، بلوچستان کے مسائل ہم سب کے مسائل ہیں،کچے کے علاقے میں آپریشن کو لیڈ سندھ حکومت کر رہی ہے،ہائی وے اب بہت زیادہ محفوظ ہو گئی ہے، یہ فیصلہ ہوا ہےکہ لوکل پولیس والے اس ڈویژن سے نکال دیئے جائیں گے،

    کسی مخصوص علاقے میں آپریشن کی بات نہیں ہوئی، نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کی بات ہوئی، وزیر داخلہ
    دوران بریفنگ وزیر داخلہ محسن نقوی نے سوال کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی آئی کہاں سے ہے؟ یہ وہ ہی لوگ ہیں جن سے حکومت پاکستان کا طالبان کے ساتھ معاہدہ ہوا، ہم نے ان کو اپنی جیلوں سے رہا کیا اُمید تھی ان کا رویہ ٹھیک ہوگا، اس کے بعد دہشت گردی کا سلسلہ شروع ہوا ہمارا اندازہ غلط ثابت ہوا، گروپ 15، 15 اور 20، 20 کے بننا شروع ہوگئے، افغانستان اور پاکستان کی جیلوں سے بھی ان کو رہا کیا گیا، اس کے بعد وہ اکٹھے ہوگئے اور زیادہ تر پاکستانی شہری تھے، ہم تحریک طالبان پاکستان کی بات کررہے ہیں، آپریشن عزم استحکام شروع نہیں ہوا، یہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے لئے فیصلہ ہوا ہے، میڈیا تک بات پہنچنے میں غلطی ہوئی، یہ نیشنل ایکشن پلان کے 6 پوائنٹس ہیں، کسی مخصوص علاقے میں آپریشن کی بات نہیں ہوئی، نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کی بات ہوئی، صحافیوں کے قتل کیسز پر وزارت داخلہ فالو اپ دے گی، پنجاب اور سندھ میں آپریشنز جاری ہیں ہم نے رینجرز کی سپورٹ دی ہے۔

    وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد کے اتوار بازار میں آگ لگنے کے معاملے پر بریفنگ میں کہا کہ ان کو کئی دفعہ وارننگ دی گئی،ابھی کریک ڈاؤن کرتے ہیں تو پورا بازار بند ہو جائے گا،
    رپورٹ، محمد اویس، اسلام آباد

    تحریک انصا ف،یہودی صیہونی لابی کا گٹھ جوڑ،ثبوت سامنے آ گئے

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    جسٹس ملک شہزاد نے چیف جسٹس سے چھٹیاں مانگ لیں

    اگر کارروائی نہیں ہو رہی تو ایک شخص داد رسی کیلئے کیا کرے؟چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    عمران خان کیخلاف درخواست دینے پر جی ٹی وی نے رپورٹر کو معطل کردیا

    سوال کرنا جرم بن گیا، صحافی محسن بلال کو نوکری سے "فارغ” کروا دیا گیا

    صوبائی کابینہ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف شواہد کے تحت کارروائی کی اجازت دی

    توشہ خانہ،نئی پالیسی کے تحت تحائف کون لے سکتا؟قائمہ کمیٹی میں تفصیلات پیش

    باسکن رابنز پاکستان کو اربوں روپے جرمانے اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا سامنا

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک