Baaghi TV

Tag: قائمہ کمیٹی

  • پمز ہسپتال میں مریضوں کیلئے دو ایم آر ائی ،ایک سی ٹی سکین مشین ہونیکا انکشاف

    پمز ہسپتال میں مریضوں کیلئے دو ایم آر ائی ،ایک سی ٹی سکین مشین ہونیکا انکشاف

    سینیٹ قائمہ کمیٹی صحت خدمات امور کا چیئرمین سینیٹر عامر ولی الدین چشتی کی صدارت میں اجلاس ہوا

    صحت سے متعلق وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر مختار احمد برتھ اور سیکرٹری صحت نے اجلاس میں شرکت کی، اسلام آباد کے سرکاری ہسپتالوں کے سربراہان بھی اجلاس میں شریک ہوئے، سیکرٹری صحت نے قائمہ کمیٹی اجلاس میں بتایا کہ رواں مالی سال 2024-25 کے لئے قومی صحت خدمات کے لئے 26 ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ سینیٹر ہمایوں مہمند نے کہا کہ چین اور وسط ایشیائی ریاستوں میں میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے والے پاکستانی ڈاکٹرز کو چین اور وسط ایشیائی ریاستوں میں پریکٹس کی اجازت نہیں۔افسوس کا مقام ہے کہ جو ملک پیسے لے کر ہمارے بچے بچیوں کو ڈاکٹر کی ڈگری دے رہیں ، وہی ممالک ان کو اپنے ملکوں میں ڈاکٹر ماننے کے لئے تیار نہیں ۔ڈاکٹر مختار احمد نے کہا کہ ایران اور جنوبی کوریا نے پاکستان کے این آئی ایچ کی طرز پر ادارے قائم کئے۔یہ دونوں ملک ویکسین تیار کر رہے ہیں۔ہم کوشش کر رہے ہیں کہ این آئی ایچ میں نجی اور سرکاری شعبے کے تعاون سے ویکسین تیاری شروع کر سکیں۔

    اسلام آباد میں قائد اعظم ہیلتھ ٹاور کی تعمیرکا منصوبہ، بجٹ میں پانچ ارب روپے مختض
    صحت سہولت پروگرام کے تحت اسلام آباد ، گلگت بلتستان، آزاد جموں کشمیر، تھرپارکر کے 25 لاکھ سے زائد ابادی کو خدمات فراہم کریں گے۔صحت سہولت پروگرام جاری رکھنے کے لئے تجاویز پر مشتمل سمری منظوری کے لئے بھجوائی ہوئی ہے۔ پروگرام کے تحت غریب مریضوں کے علاج پر ستر فیصد اخراجات حکومت اور تیس فیصد مریض خود برداشت کرے گا۔سیکرٹری صحت نے کہا کہ رواں سال پاکستان میں پولیو کے اٹھ کیسز سامنے آچکے ہیں ۔کوآرڈینیٹر ہیلتھ نے کہا کہ ستمبر میں افغانستان کے ساتھ صحت خصوصا پولیو مہم سے متعلق بات چیت ہو گی۔اسلام آباد میں قائد اعظم ہیلتھ ٹاور کی تعمیر کر رہے ہیں۔ہیلتھ ٹاور کے لئے سی ڈی اے نے ایچ سولہ سیکٹر میں جگہ کی نشاہدہی کی ہے۔ہیلتھ ٹاور کی تعمیر کے لئے رواں مالی سال بجٹ میں پانچ ارب روپے مختض کئے گئے ہیں ۔

    ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز ڈاکٹر عمران سکندر نے کہا کہ بارہ سو بستروں کے پمز ہسپتال میں مریضوں کے لئے دو ایم آر ائی اور ایک سی ٹی سکین مشین ہیں۔ سینیٹر ڈاکٹر ہمایوں مہمند نے کہا کہ بہت ہی افسوس کا مقام ہے کہ جس ہسپتال میں یومیہ سات ہزار سے زائد مریض او پی ڈی میں آتے ہیں وہاں صرف ایک سٹی سکین مشین ہے۔ کوارڈینیٹر ہیلتھ نے کہا کہ پانچ لاکھ روپے مالیت کی ایک کیبل نہ ہونے سے کئی برسوں تک سی ٹی سکین مشین فعال نہیں ہو سکی۔ سینیٹر پلوشہ خان نے کہا کہ اس نااہلی کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔

    کویت، سعودی عرب، بحرین نے پاکستانی نرسز کے معیار پر ہمیں شکایات کی ہیں،کوآرڈینیٹر ہیلتھ ڈاکٹر مختار احمد
    68 ارب روپے کی لاگت سے ہیپاٹائٹس سی کے علاج کے لئے تین سالہ پروگرام شروع ہو گا،اس حوالے سے وزیراعظم کی صدارت میں نیشنل ٹاسک فورس کام کرے گی،ڈین پی ایم ڈی سی نے کہا کہ پاکستان میں مجموعی طور پر تین لاکھ 49 ہزار چار سو اٹھارہ ڈاکٹرز رجسٹرڈ ہیں۔ سیکرٹری صحت نے کہا کہ پاکستان میں مجموعی طور پر ایک لاکھ دس ہزار نرسز ہیں۔سینیٹر ڈاکٹر ہمایوں مہمند نے کہا کہ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان میں نرسنگ کے جعلی کالجز ہیں۔کوارڈینیٹر ہیلتھ ڈاکٹر مختار احمد نے کہا کہ کویت، سعودی عرب، بحرین نے پاکستانی نرسز کے معیار پر ہمیں شکایات کی ہیں،سعودی حکومت نے حالیہ دورے میں وزیراعظم کے سامنے بھی یہ معاملہ اٹھایا۔سیکرٹری صحت نے کہا کہ پمز ہسپتال میں طبی سہولیات کی بہتری اور نئے شعبوں کے قیام کے لئے ساڑھے سات ارب روپے کے فنڈز منظور ہو چکے ہیں۔

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    موجودہ بجٹ معیشت، عوام ،ملک کے لئے تباہ کن ثابت ہوگا،شاہد خاقان عباسی

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    جسٹس ملک شہزاد نے چیف جسٹس سے چھٹیاں مانگ لیں

    اگر کارروائی نہیں ہو رہی تو ایک شخص داد رسی کیلئے کیا کرے؟چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    عمران خان کیخلاف درخواست دینے پر جی ٹی وی نے رپورٹر کو معطل کردیا

    سوال کرنا جرم بن گیا، صحافی محسن بلال کو نوکری سے "فارغ” کروا دیا گیا

    صوبائی کابینہ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف شواہد کے تحت کارروائی کی اجازت دی

    توشہ خانہ،نئی پالیسی کے تحت تحائف کون لے سکتا؟قائمہ کمیٹی میں تفصیلات پیش

    باسکن رابنز پاکستان کو اربوں روپے جرمانے اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا سامنا

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    جعلی ڈگری،جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف ریفرنس دائر

    "بھولے بابا” کا عام آدمی سے خود ساختہ بابا بننے کا سفر ،اربوں کے اثاثے

    اصلی ولن آئی ایم ایف یا حکومت،بے حس اشرافیہ نے عوام پر بجلی گرا دی

  • چاہت فتح علی خان کے گانے بدوبدی کیلئے ایوارڈ؟

    چاہت فتح علی خان کے گانے بدوبدی کیلئے ایوارڈ؟

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کیبنٹ سیکرٹریٹ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر رانا محمود الحسن کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔

    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر سلیم مانڈوی والا، انوشہ رحمان احمد خان، عامر ولی الدین چشتی، سیف اللہ سرور خان نیازی کے علاوہ اسپیشل سیکرٹری کیبنٹ ڈویژن اور دیگر متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی،قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں کیبنٹ ڈویژن اور اس کے ماتحت اداروں کے کام کے طریقہ کار، اور گزشتہ تین سالوں کی کارکردگی سے متعلق امور کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔

    قائمہ کمیٹی کو سول ایوارڈز دینے کی پالیسی بارے بھی تفصیلی آگاہ کیا گیا۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ وزیراعظم پاکستان نے نئی پالیسی کی منظوری دی ہے اب ایوارڈ ان کو دیا جائے گا جو غیر معمولی کام کرتے ہیں۔ گزشتہ برس کرونا وبا میں نمایاں خدمات سرانجام دینے والے 300 افراد کو دیا گیا تھا۔ اب تھیم وائز ذیلی کمیٹیاں بنائی گئی ہیں جن کو متعلقہ وزیر ڈیل کرتے ہیں ان کی تجاویز مین کمیٹی میں بھیجی جاتی ہے جس کی سربراہی وفاقی وزیر احسن اقبال کرتے ہیں۔وہاں سے تجاویز صدر اور وزیراعظم کو حتمی منظوری کے لئے بھیجی جاتی ہیں۔

    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں چاہت فتح علی خان کا گانا "بدوبدی "زیر بحث آ یا، سپیشل سیکرٹری نے قائمہ کمیٹی میں کہا کہ کابینہ ڈویژن نے سول ایوارڈز کے طریقہ کار میں تبدیلی کی ہے، اب سول ایوارڈز کے لیے دیکھا جاتا ہے کہ شخصیت نے اپنے شعبے میں معمول سے بڑھ کر کیا کام کیا ہے، گلوکاروں کو ایوارڈز کے لیے ان کی یوٹیوب پر ویڈیوز کے ویوز کو بھی دیکھا جاتا ہے، سینیٹر عامر چشتی نے سوال کیا کہ کیا "بدو بدی” کو بھی ایوارڈ کے لیے زیر غور لایا جائے گا؟ سپیشل سیکرٹری نے جواب دیا کہ” بدو بدی” جیسے گانے کے ویوز تو پاکستان کی آبادی سے بھی بڑھ گئے ہیں،سینیٹر عامر چشتی نے چیئرمین کمیٹی سے پوچھا کہ آپ نے وہ گانا سنا،جس پر چیئرمین کمیٹی رانا محمود الحسن نے کہا کہ جی بالکل سنا ہے اور سن کر میرے سر میں درد ہو گیا.

    چاہت فتح علی خان سے بڑے بڑے سپر اسٹارز خوفزدہ کیوں ؟

    یوٹیوب نے چاہت فتح علی کو دیا بڑا جھٹکا

    میری نازیبا تصویر کا لنک مل جائے تو مجھے بھی دینا،وجدان راؤ

    پارٹی رجسٹریشن کروانے چاہت فتح علی الیکشن کمیشن پہنچ گئے

    واش روم استعمال کیا،آرڈر کیوں نہیں دیا؟گلوریا جینز مری کے ملازمین کا حاملہ خاتون پر تشدد،ملزمان گرفتار

    خاتون کی لاش کے کئے 56 ٹکڑے، ٕگوشت بھی کھایا ، ملزمان کا تہلکہ خیز انکشاف

    گرل فرینڈ کی لاش کے 35 ٹکڑے کرنیوالے ملزم نے کیا عدالت میں جرم کا اعتراف

    پاکستان میں جتنا پلاسٹک ویسٹ ہے اس سے کے ٹو کا پہاڑ دو دفعہ کھڑا ہو سکتا ہے

    سات بار عشق ہو چکا،28 خواتین نے شادی کی پیشکش کی، چاہت فتح علی کا انکشاف

    چاہت فتح علی خان نے عید الاضحیٰ کے موقع پر "بدوبدی 2” گانا جاری کر دیا 

  • توشہ خانہ،نئی پالیسی کے تحت تحائف کون لے سکتا؟قائمہ کمیٹی میں تفصیلات پیش

    توشہ خانہ،نئی پالیسی کے تحت تحائف کون لے سکتا؟قائمہ کمیٹی میں تفصیلات پیش

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کیبنٹ سیکرٹریٹ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر رانا محمود الحسن کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں کیبنٹ ڈویژن اور اس کے ماتحت اداروں کے کام کے طریقہ کار، اور گزشتہ تین سالوں کی کارکردگی سے متعلق امور کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر رانا محمود الحسن نے اراکین کمیٹی اور کیبنٹ ڈویژن اور اس کے ماتحت اداروں کے نمائندوں کو خوش آمدید کہا اور کہا کہ ملکی معاملات کی بہتری کے لئے اراکین کمیٹی اور کیبنٹ ڈویژن کے ساتھ مل کر موثر حکمت عملی اختیار کی جائے گی تاکہ معاملات احسن طریقے سے سرانجام پائیں۔اراکین کمیٹی نے بھی چیئرمین کمیٹی کے لئے بھرپور تعاون اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

    اسپیشل سیکرٹری کیبنٹ ڈویژن نے قائمہ کمیٹی کو تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ کیبنٹ ڈویژن کے انچارج وزیراعظم پاکستان ہیں۔ اس کے ماتحت ادارے اور ریگولیٹری باڈیز بھی ہیں۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ کیبنٹ ڈویژن میں کابینہ، کیبنٹ کمیٹیوں، نیشنل اکنامک کونسل اور سیکرٹریز کمیٹی سے بھیجے گئے معاملات ڈیل کیے جاتے ہیں۔اس کے علاوہ صدر، وزیراعظم، وفاقی وزراء،مشیروں اور گورنرز کی جانب سے بھیجے گئے معاملات بھی دیکھے جاتے ہیں۔ نئی بننے والی تمام وزارتوں، ڈویژن اور ان سے متعلقہ کام وغیرہ کا عمل بھی یہی سے شروع ہوتا ہے۔ وزراء اور مشیروں کی تقرریاں، تنخواہیں، استعفے، مراعات وغیرہ بھی کیبنٹ ڈویژن دیکھتی ہے۔ اسٹیٹ کی دستاویزات کو محفوظ کرنا، توشہ خانہ، پبلک ہالیڈیز، فلیگ رولز اور انکوائری کمیشنز وغیرہ بھی دیکھی جاتیں ہیں۔ کون ساکام کس وزارت نے کرنا ہے وہ بھی یہاں دیکھا جاتاہے۔

    قائمہ کمیٹی کو ریگولیٹری اتھارٹیز جن میں فریکونسی الوکیشن بورڈ(FAB)، نیپرا، نیا پاکستان ہاؤسنگ ڈویلپمنٹ اتھارٹی، اوگرا، پی ٹی اے، پیپرا، سپیشل ٹیکنالوجی زون اتھارٹی، نیشنل انٹی منی لانڈرنگ اینڈ کورٹر فنانسنگ ٹیرارزم اتھارٹی، نیشنل سیڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور کنیبس کنڑول ریگولیٹری اتھارٹی کے حوالے سے تفصیلی آگاہ کیا گیا۔اسپیشل سیکرٹری قائمہ کمیٹی کو متعلقہ تنظیموں ابنڈنڈ پراپرٹی تنظیم، ایسٹ ریکوری یونٹ، انسٹیولشن ریفامز سیل، اسلام آباد کلب، نیشنل آرکائیو آف پاکستان، پی ٹی ڈی سی، پی سی بی اور پرنٹ کارپوریشن آف پاکستان کے بارے میں بھی تفصیلی آگاہ کیا۔

    کسی ممبر کی دوسری بیوی ہو تو وہ اسلام آباد کلب کی ممبر بن سکتی ہے؟ سینیٹر سلیم مانڈوی والا 
    چیئرمین کمیٹی سینیٹر رانا محمود الحسن نے کہا کہ قائمہ کمیٹی کو آگاہ کیا جائے کہ ابنڈنڈ پراپرٹی کی کل کتنی جائیدادیں ہیں اور کتنی کرائے پر دی گئی ہیں اور کتنا کرایہ آتا ہے مکمل تفصیلات آئندہ اجلاس میں آگاہ کی جائیں۔ چیئرمین کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں اسلام آباد کلب کے ایڈمنسٹریٹو اور سیکرٹری کو آئندہ اجلاس میں طلب کر لیا۔ سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ اسلام آباد کلب کا ممبر بننے کے لئے کیا شرائط ہیں اگر کسی ممبر کی دوسری بیوی ہو تو وہ اسلام آباد کلب کی ممبر بن سکتی ہے۔سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ ملک کے کسی اور کلب میں یہ پابندی نہیں ہے تو اسلام آباد کلب میں کیوں ہے۔ آئندہ اجلاس میں تفصیلی آگاہ کریں۔ جس پر اسپیشل سیکرٹری کیبنٹ ڈویژن نے کہا کہ ممبر بننے کے حوالے سے کیبنٹ ڈویژن کا کوئی کردار نہیں ہے یہ کلب کا اندرونی مسئلہ ہے۔

    متروکہ املاک کو 14 کروڑ روپے ماہانہ کس لئے چاہیں؟ انوشہ رحمان
    سینیٹر انوشہ رحمان نے کہا کہ ادارہ برائے متروکہ املاک کو 14 کروڑ روپے ماہانہ کس لئے چاہیں،20 ملازمین پر مشتمل ادارے کو 14 کروڑ روپے دیئے جاتے ہیں حکومت اپنا پیشہ وصول کرنے کے لئے بنکوں سے قرض لے رہی ہے۔ قائمہ کمیٹی نے ادارہ برائے متروکہ املاک کے بجٹ کی تفصیلات طلب کر لیں۔ سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ کسی بھی کمیٹی میں کوئی ایشو اٹھائیں تو جواب ملتا ہے کہ معاملہ کیبنٹ ڈویژن میں ہے۔117 کیسز کابینہ کے التواء کا شکار ہیں۔ اگر کابینہ کے لئے یہ حال ہے تو باقی محکموں کے ساتھ کیا حال ہوگا۔ جس پر اسپیشل سیکرٹری کیبنٹ ڈویژن نے کہا کہ جو ایشو بھیجا جاتا ہے وہ متعلقہ محکمے کو بھیجا دیا جاتا ہے ہم سات دن سے زیادہ کوئی فائل نہیں رکھ سکتے البتہ وفاقی کابینہ کا کوئی علم نہیں ہے۔

    توشہ خانہ سے 300 ڈالرز کی مالیت کا کوئی بھی تحفہ لے جانے کی اجازت نہیں، قائمہ کمیٹی میں انکشاف
    توشہ خانہ کے حوالے سے کمیٹی کو بتایا گیا کہ گزشتہ برس توشہ خانہ کی پالیسی میں ترمیم کی گئی تھی جس کے مطابق اب کوئی بھی300 سے ڈالرز سے زائد مالیت کا کوئی تحفہ نہیں رکھ سکتا وہ پارلیمنٹ ہاؤس، ایوان صدر یا ایوان وزیراعظم میں نمائش کے لئے پیش کر دیا جاتا ہے۔ یہ پالیسی وفاقی حکومت نے بنائی ہے۔ تحفہ کی قیمت کا تخمینہ ایف بی آر اور باہر کا ماہر بندہ لگاتا ہے۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ ماضی میں توشہ خانہ کی نیلامی سرکاری ملازم حصہ لے سکتے تھے اب نئی پالیسی کے تحت سرکاری ملازم نیلامی میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔ قائمہ کمیٹی نے فروری2023 کے بعد ملنے والے توشہ خانہ کی تفصیلات طلب کر لیں۔

    پبلک ہالیڈیز کے نوٹیفکیشن آخری ٹائم میں جاری کرنے پر اراکین کمیٹی کا تشویش کا اظہار
    وزارت خارجہ امور میں دستاویزات کی تصدیق کے حوالے سے معاملہ زیر بحث لایا گیا۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ لوگوں کو کئی ماہ تک اپوئنٹمنٹ نہیں ملتی لوگ خوار ہو رہے ہیں وہاں ایک مافیا سرگرم ہے اور لوگوں کی پریشانی کو ختم کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں اور لوگوں کو سہولت فراہم کی جائے۔قائمہ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ ان امور کے متعلق وزیر خارجہ سے بھی بات کی جائے گی۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پبلک ہالیڈیز کے نوٹیفکیشن کو آخری ٹائم میں جاری کرنے پر بھی اراکین کمیٹی نے تشویش کا اظہار کیا۔ سینیٹر سلیم مانڈوی نے کہا کہ پبلک ہالیڈیز کا نوٹیفکیشن رات بارہ بجے ملتا ہے اور اگلے دن عید ہوتی ہے۔ وزیراعظم پاکستان کو قائمہ کمیٹی آگاہ کرے کہ نوٹیفکیشن کا اجراء مناسب وقت پر کیا جائے۔

    کیبنٹ ڈویژن کے پاس 18 بلٹ پروف گاڑیاں،6 ہیلی کاپٹر،3 فعال ،دو ڈیڈ
    قائمہ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ کیبنٹ ڈویژن کے پاس 18 بلٹ پروف گاڑیاں ہیں اور2016 کی پالیسی کے بعد کوئی نئی گاڑی نہیں خریدی گئی۔ ادارے کے پاس 6 ہیلی کاپٹر ہیں جن میں سے 3 فعال ہیں،2 ڈیڈ ہو چکے ہیں۔ قائمہ کمیٹی ہیلی کاپٹرز کے کرائے کے متعلق تفصیلات طلب کرلیں۔ قائمہ کمیٹی کو سول ایوارڈز دینے کی پالیسی بارے بھی تفصیلی آگاہ کیا گیا۔ قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ وزیراعظم پاکستان نے نئی پالیسی کی منظوری دی ہے اب ایوارڈ ان کو دیا جائے گا جو غیر معمولی کام کرتے ہیں۔ گزشتہ برس کرونا وبا میں نمایاں خدمات سرانجام دینے والے 300 افراد کو دیا گیا تھا۔ اب تھیم وائز ذیلی کمیٹیاں بنائی گئی ہیں جن کو متعلقہ وزیر ڈیل کرتے ہیں ان کی تجاویز مین کمیٹی میں بھیجی جاتی ہے جس کی سربراہی وفاقی وزیر احسن اقبال کرتے ہیں۔وہاں سے تجاویز صدر اور وزیراعظم کو حتمی منظوری کے لئے بھیجی جاتی ہیں۔

    قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ آئی ٹی سکیورٹی کے حوالے سے کیبنٹ ڈویژن تمام وزارتوں اور ڈویژنز کو ایڈوائزی جاری کرتے ہیں۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پیپرا میں بھی نیا نظام لایا گیا ہے اور ای پیڈ جاری کیا گیا ہے۔قائمہ کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں فریکونسی الوکیشن بورڈ ،پی ٹی اے اور اسلام آباد کلب کو تفصیلی بریفنگ کے لئے طلب کر لیا۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ یہ انتہائی اہمیت کی حامل کمیٹی ہے موثر حکمت عملی کے تحت معاملات میں بہتری لانے کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ ملک و قوم کا فائدہ ہو۔

    قائمہ کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹر سلیم مانڈوی والا، انوشہ رحمان احمد خان، عامر ولی الدین چشتی، سیف اللہ سرور خان نیازی کے علاوہ اسپیشل سیکرٹری کیبنٹ ڈویژن اور دیگر متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی

    باسکن رابنز پاکستان کو اربوں روپے جرمانے اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا سامنا

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    جعلی ڈگری،جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف ریفرنس دائر

    عمران خان کیخلاف درخواست دینے پر جی ٹی وی نے رپورٹر کو معطل کردیا

    سوال کرنا جرم بن گیا، صحافی محسن بلال کو نوکری سے "فارغ” کروا دیا گیا

    صوبائی کابینہ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف شواہد کے تحت کارروائی کی اجازت دی

    پاکستان سٹیل ملز کو نجکاری کے لسٹ سے نکال لیا گیا، رانا تنویر

    امید ہے پی آئی اے کی نجکاری سے کوئی بھی بے روزگار نہیں ہوگا،علیم خان

    پی آئی اےکی نجکاری کیلئے 6کمپنیوں نے پری کوالیفائی کرلیا

    پی آئی اے کا خسارہ 830 ارب روپے ہے، نجکاری ہی واحد راستہ ہے، علیم خان

  • مارکیٹ میں ابھی پاکستان سٹیل ملز کا کوئی خریدار نہیں،سیکرٹری صنعت و پیدا وار

    مارکیٹ میں ابھی پاکستان سٹیل ملز کا کوئی خریدار نہیں،سیکرٹری صنعت و پیدا وار

    ایوان بالاء کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیدا وار کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر عون عباس کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔

    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان سٹیل ملز سے متعلقہ متعدد امور بشمول پاکستان سٹیل ملز کے منقولہ اور غیر منقولہ اثاثہ جات، گزشتہ دس برسوں کے دوران حاصل ہونے والی آمدن اور اخراجات، گزشتہ دس برسوں کے دوران فارغ ہونے والے ملازمین کی تعداد اور ان کی گریڈ وائز تفصیلات، پاکستان سٹیل ملز کے موجودہ ملازمین کی تعداد اور ان پر آنے والے اخراجات بشمول تنخواہ و دیگر مراعات کے علاوہ پاکستان سٹیل ملز کی موجودہ صورتحال اور اس کے مستقبل کے حوالے سے منصوبہ بندی سمیت اس نجکاری کرنے اور منقولہ و غیر منقولہ اثاثہ جات اور ملازمین کے مستقبل سے متعلقہ امور کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔

    پاکستان سٹیل ملز کے منقولہ اور غیر منقولہ اثاثہ جات860.99 ارب روپے
    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان سٹیل ملز کے منقولہ اور غیر منقولہ اثاثہ جات کے حوالے سے سی ایف او پاکستان سٹیل ملز محمد عارف شیخ نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ ادارے منقولہ اور غیر منقولہ اثاثہ جات860.99 ارب روپے کے ہیں جن میں سے 2.12 ارب کے اثاثہ جات منقولہ اور 858 ارب کے غیر منقولہ اثاثہ جات ہیں۔ کمیٹی کو بتایا گیاکہ منقولہ اثاثہ جات میں 1.45 ارب کی مشینری اور گاڑیاں ہیں۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ ادارے کی زمین کا تخمینہ 2021 میں لگایا گیا تھا اور کمپنی نے تمام قانونی تقاضوں کے مطابق یہ تخمینہ لگوایا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ادارے کی 500 گاڑیاں ہیں جن میں بسیں، کاریں اور سیکورٹی وینز وغیرہ شامل ہیں جن میں سے 350 ورکنگ حالت میں ہیں اور باقی ناکارہ ہو چکی ہیں۔ ادارے کی 1500 ایکڑ زمین سی پیک میں استعمال ہو گی اور اس ادارے کی کل زمین 18 ہزار ایکڑ پر مشتمل ہے جس میں سے 8 ہزار ایکڑ پر رہائشی کالونیاں قائم ہیں باقی پر پلانٹ لگے ہیں۔ کمیٹی کو ادارے کے اثاثہ جات بارے تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ادارے کی زمین622 ارب کی ہے جبکہ وہ زمین جو سرمایہ کاری کے لئے رکھی گئی ہے وہ 63 ارب کی ہے فیکٹری بلڈنگ کے اثاثہ جات 43 ارب کے ہیں نان فیکٹری بلڈنگ2 ارب کی ہے،2.2 ارب کی سٹرکیں، ریلوے ٹریک اور پلیں ہیں۔ قائمہ کمیٹی نے ریلوے ٹریک اور ریلوے انجن کی تفصیلات آئندہ اجلا س میں طلب کر لیں۔

    پاکستان سٹیل ملز کی مالی سال 2022-23 میں آمدن 5.65 ارب روپے
    قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ادارے کا پلانٹ اور مشینری 115.7 ارب روپے کے ہیں۔ گیس اور بجلی انسٹالیشن 2.7 ارب کی ہے۔پانی، سیوریج سسٹم 1.99 ارب کا ہے۔قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ادارے کے 200 ملین گیلن فی ماہ پانی استعمال ہوتا ہے۔ سیوریج سسٹم بہت بہتر ہے۔کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ 30 جون2024 کے بعد گیس سپلائی بند کر دی گی ہے۔ادارے کی آمدن کے حوالے سے کمیٹی کو بتایا گیا کہ مالی سال 2022-23 میں ادارے کی آمدن 5.65 ارب روپے تھی جس میں سے2.71ارب روپے سکریپ فروخت کر کے حاصل کی گئی جبکہ اخراجات 33.11 ارب روپے رہے،25ارب کا مالی سال 2022-23 میں خسارہ رہا۔

    پاکستان سٹیل ملز کے موجودہ ملازمین کی تعداد 2286 ، سالانہ تنخواہ 1.67 ارب روپے
    انتظامی اخراجات کے حوالے سے کمیٹی کو بتایا گیا کہ لیبر کاسٹ2.1 ارب روپے کی ہے جو گزشتہ برس 2.9 ارب کی تھی اور اس سے قبل برس 4.9 ارب کی تھی۔ ادارے کو صرف6 ارب کی گرانٹ ملی تھی۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر عون عباس کے سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ حکومت سے 104 ارب اور نیشنل بنک پاکستان سے 38 ارب کا قرض لیا گیا۔ 103 ارب کا مارک اپ ادا کر چکے ہیں۔ کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ 13 جون2024 کو ساڑھے پانچ سو سے زائد ڈیلی ویجز اور کنٹریکٹ ملازمین کی ملازمت میں توسیع نہیں کی گئی۔ قائمہ کمیٹی نے ان کی تفصیلات طلب کر لیں۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ گزشتہ دس برسوں میں 12 ہزار382 ملازمین ادارے سے فارغ ہو چکے ہیں جن میں سے 5701 ریٹائرڈ ہوئے،128 نکالے گئے،359 نے استعفیٰ دیا،39 میڈیکل گراؤنڈ پر گئے،397 سکیم کے تحت رضا کارانہ چھوڑ گئے،577 انتقال کر گئے وغیرہ شامل تھے۔ 12 ہزار382 ملازمین سے 4 ہزار588 افسران جبکہ 7794 ورکرز تھے۔پاکستان سٹیل ملز کے موجودہ ملازمین کی تعداد 2286 ہے جن میں سے 166 افسران اور2120 ورکرز ہیں۔ 2286 ملازمین کی سالانہ تنخواہ 1.67 ارب روپے ہے۔گزشتہ دس برسوں میں ملازمین کو 32 ارب روپے کی تنخواہ ادا کی گئی اور گزشتہ 10 برسوں میں 7 ارب کی گیس ادارے میں استعمال کی گئی۔

    پاکستان سٹیل ملز کے حوالے سے ہونے والی تمام انکوائری رپورٹس طلب
    چیئرمین کمیٹی سینیٹر عون عباس کے سوال کے جواب میں سی ایف او عارف شیخ نے کمیٹی کو بتایا کہ انہوں نے 2011 میں پاکستان سٹیل ملز کو جوائن کیا تب یہ مل تقریبا بند ہو چکی تھی صرف 36 فیصد کپیسٹی پر چل رہی تھی۔2000 سے2008 تک یہ ملز اوسطا 80 فیصد کپیسٹی کے ساتھ منافع دے رہی تھی۔ 2009 میں بین الاقوامی مسئلہ آیا جو دنیا کے بڑے بنکوں کی وجہ سے تھا۔30 جون2009 کو یہ ملز 36 فیصد کپیٹی پر آ گئی اور 26 ارب کا نقصان ہوا جس کی انکوائری نیب اور سپریم کورٹ دونوں نے کرائی۔ قائمہ کمیٹی نے پاکستان سٹیل ملز کے حوالے سے ہونے والی تمام انکوائری رپورٹس طلب کر لیں۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ 2009 میں ادارے نے حکومت سے کمرشل قرض 15 فیصد پر حاصل کیا اور 6.5 ارب کی ایل سی کی ادائیگی کی۔ کم فنڈز کی وجہ سے پیداواری کپیٹی کم سے کم ہوتی گئی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ اس ادارے کے 27 ہزار ملازمین تھے جبکہ 2008 میں ملازمین کی تعداد 20 ہزار تھی اس وقت بھی ادارے کی ضرورت کل 7 ہزار ملازمین کی تھی۔

    چیئرمین کمیٹی کے سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ 2010 میں ساڑھے 4 ہزار ڈیلی ویجز اور کنٹریکٹ ملازمین کو ریگولر کرنے کی حکومت نے ہدایا ت دیں۔ادارے کی جانب سے فنڈز کی کمی کا کہا گیا تو حکومت کی جانب سے فنڈز کی ادائیگی کی یقین دہانی کرائی گئی۔ ان ملازمین کا بوجھ ادارے پر 12 ارب روپے کا پڑا۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر عون عباس نے کہا کہ اتنا منافع دینے والے ادارے کو مناسب حکمت عملی کے تحت چلانا چاہیے تھے ایک حکم نامے کے ذریعے اتنے ملازمین ریگولر کرنا ادارے کا تباہ کرنے کے مترادف تھا۔سینیٹر سید مسرور احسن کے سوال کے جواب میں سیکرٹری صنعت وپیداوار نے بتایا گیا کہ حکومت کے حکم کے تحت کی گئی بھرتی غیر قانونی نہیں ہوتی۔

    سندھ حکومت 7 سو ایکڑ زمین پر نئی سٹیل مل بنائے گی
    سیکرٹری صنعت و پیدا وار نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ نگران حکومت نے اس ادارے کی نجکاری کے حوالے سے کچھ ترامیم کی تھیں۔مارکیٹ میں ابھی پاکستان سٹیل ملز کا کوئی خریدار نہیں ہے حکومت اس کو سکریپ کرنے اور زمین کو دوسرے مقصد میں استعمال میں لانے کا فیصلہ کر چکی ہے اور وفاقی کیبنٹ نے بھی اس کی منظوری دی ہے۔ زمین وفاق کی ہے یا سندھ حکومت کی اس کے لیز کاریکارڈ موجود نہیں ہے۔ اس زمین کو اسٹیٹ لینڈ کے طور پر دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس ادارے کی زمین کے دوسرے استعمال کے لئے صوبائی حکومت سے اجازت لینا ضروری ہے۔ اس کی زمین پر ایکسپورٹ پروموشن زون / صنعتی زون کے استعمال میں لانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ نگران صوبائی حکومت نے نگران وفاقی حکومت کو اس کی زمین استعمال کرنے کی اجازت دی تھی۔ موجودہ حکومت نے نگران حکومت کے فیصلے کو رویو کیا ہے۔ سندھ حکومت ایک نئی سٹیل ملز قائم کرے گی اگر سندھ حکومت نئی سٹیل ملز بناتی ہے تو 7 سو ایکڑ پر قائم کی جائے اور باقی پاکستان سیٹل ملز کے نام زمین رہے گی۔ سندھ کیبنٹ کے فیصلے کا انتظار ہے۔ چیئرمین کمیٹی کے سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ اعلیٰ معیار کے لوہے کو سی کیٹگری کے طور پر فروخت کرنے کی کوشش کی گئی تھی مگر فروخت نہیں ہوا۔

    پاکستان سٹیل مل بحال ہو سکتی ہے یا نہیں ایک جامع رپورٹ دی جائے،یونین
    کمیٹی اجلاس میں سٹیل ملز سے تعلق رکھنے والے یونین کے نمائندے نے کمیٹی سے درخواست کی کہ ہمیں بتایا جائے کہ پاکستان سٹیل ملز کے ملازمین 12 فیصد کے حقدار ہیں یا نہیں اور کیا یہ مل بحال ہو سکتی ہے یا نہیں ایک جامع رپورٹ دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ جو اعداد شمار بتائے گئے ہیں وہ بھی درست نہیں ہیں اور ایکسپورٹ پرومن زون کے لئے اس ادارے کی زمین استعمال نہیں ہو سکتی۔ قائمہ کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں تفصیلات طلب کر لیں۔ سینیٹر سیف اللہ سرور خان نیازی نے کہا کہ اس ادارے کا ابھی تک سی ای او کا تقرر نہیں کیا جاسکا۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اس ادارے کے بورڈ آف گورنر کا کیا اسٹیٹس ہے۔ ممبران بورڈ کی مکمل تفصیلات آئندہ اجلاس میں فراہم کی جائیں۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر عون عباس نے کہا کہ قائمہ کمیٹیاں پارلیمنٹ کا اہم حصہ ہیں۔ وفاقی وزرا پارلیمنٹ کی کمیٹیوں میں اپنی حاضری یقینی بنائیں ہم ہر طرح کی سہولت اور تعاون فراہم کریں گے جس سے ملک وقوم کو فائدہ ہو اور عوام کی حالت میں بہتری آئے۔ وزرا کی موجود گی میں کمیٹی اجلاسوں میں ہونے والے فیصلوں پر عملدرآمد یقینی ہو جاتا ہے۔ سینیٹر دوست علی جیسر نے کہا کہ سٹیل ملز کی گیس بند نہیں کرنی چاہیے ورنہ پلانٹ چلانے کے لئے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔چیئرمین کمیٹی نے یہ بھی ہدایت کی کہ سیکرٹری وزارت صنعت و پیدا وار پاکستان سٹیل ملز یونین کے نمائندوں سے ملیں اور معاملات کو بہتر بنائیں۔

    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹرز سید مسرور احسن، دنیش کمار، حسنہ بانو، سیف اللہ سرور خان نیازی، خلیل طاہر، محمد عبدالقادر اور دوست علی جیسر کے علاوہ سیکرٹری صنعت وپیدا وار، سی ایف او پاکستان سٹیل ملز اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔

    پاکستان سٹیل ملز کو نجکاری کے لسٹ سے نکال لیا گیا، رانا تنویر

    امید ہے پی آئی اے کی نجکاری سے کوئی بھی بے روزگار نہیں ہوگا،علیم خان

    پی آئی اےکی نجکاری کیلئے 6کمپنیوں نے پری کوالیفائی کرلیا

    پی آئی اے کا خسارہ 830 ارب روپے ہے، نجکاری ہی واحد راستہ ہے، علیم خان

    پیشکشوں میں توسیع کا وقت ختم، نجکاری کمیشن پری کو آلیفیکیشن کریگا:عبدالعلیم خان

    پی آئی اے سمیت24اداروں کی نجکاری، شفافیت کیلئے ٹی وی پر دکھائینگے:وفاقی وزیر عبد العلیم

     پی آئی اے کی نجکاری کے حوالہ سے اہم پیشرف 

    پی آئی اے کسے اور کیوں بیچا جارہا،نجکاری پر بریفنگ دی جائے، خورشید شاہ

    پی آئی اےکی نجکاری کیلئے 6کمپنیوں نے پری کوالیفائی کرلیا

    اسٹیل مل کی نجکاری نہیں، چلائیں گے، شرجیل میمن

  • کورم کے بغیر ہی  حکومتی کمپنیوں کی گورننس اور آپریشنز ترمیمی بل 2024 منظور

    کورم کے بغیر ہی حکومتی کمپنیوں کی گورننس اور آپریشنز ترمیمی بل 2024 منظور

    اسلام آباد (محمداویس)قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے کورم کے بغیر ہی اجلاس میں حکومتی کمپنیوں کی گورننس اور آپریشنز ترمیمی بل 2024 منظور کرلیا بل کی منظوری کے وقت چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا اور شیری رحمان ہی کمیٹی میں موجود تھے،

    بدھ کوسینٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت اجلاس ہوا اجلاس میں سینیٹر شیری رحمان اور سینیٹر انوشہ رحمان نے شرکت کی ۔اجلاس میں حکومتی کمپنیوں کی گورننس اور آپریشنز ترمیمی بل 2024 پر غور آیا حکام وزارت خزانہ نے بتایا کہ یہ قانون گزشتہ سال فروری میں جاری کیا گیا، حکومتی کمپنیوں کے بورڈز اور انکی کارکردگی پر نظر رکھنے کیلئے کمیٹی قائم کی جائے گی،کمیٹی بورڈ ممبران کی نامزدگی کرے گی اور بے ضابطگیوں پر انکو ہٹا بھی سکے گی۔ سینیٹر شیری رحمان نے کہاکہ کیا کمیٹی کے پاس صوابدیدی اختیارات ہوں گے کہ وہ بورڈ ممبران کو ہٹا سکے گی،ہر کمپنی کے بورڈ اختیارات مختلف ہوں گے تو کمیٹی کس قانون کے تحت انکو ہٹانے کی،

    حکام نے بتایا کہ بورڈ ممبران کو مدت عہدہ کی ضمانت دی گئی ہے،اب بورڈ ممبران کو بغیر انکوائری نہیں ہٹایا جا سکتا، سینیٹر انوشہ نے کہاکہ کسی بورڈ ممبر کو بےضابطگی اور کرپشن پر ہٹانا بہت مشکل ہو گا،حکومت کے پاس بورڈ ممبران لگانے کی طرح ہٹانے کا اختیار بھی ہونا چاہیے، سلیم مانڈوی والا نے کہاکہ اب حکومت کمپنیوں کے بورڈز کو مکمل خود مختار بنانا چاہتی ہے۔ ایڈیشنل سیکرٹری خزانہ نے کہاکہ وفاقی حکومت کو بورڈ کے آزاد ڈائریکٹرز کی تعیناتی کرنے کا اختیار دیا گیا ہے، وفاقی حکومت بورڈ کے نان پرفارمنگ ممبرز کو ہٹانے کی بھی مجاز ہوگی، انوشہ رحمان نے کہاکہ بورڈ ممبران کو ہٹانے کا اختیار ایگزیکٹیو کا ہوتا ہے اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے، حکام نے کہاکہ بورڈ ممبران کی تعیناتی اور مدت کا قانون ہے جس کی وجہ سے ہٹانا مشکل ہے،پرفارمینس کی بنیاد پر بورڈ ممبران کو ہٹانے کا قانون لایا جارہا ہے، پہلے قانون میں کسی ڈائریکٹر کے خلاف کوئی مس کنڈکٹ، کرپٹ پریکٹس پر تحقیقات کے بعد ہٹایا جاسکتاہے پرفارمینس کی بنیاد پر عہدے سے ہٹانے کا اختیار بورڈ نامینیشن کمیٹی کو دیا جارہا ہے۔

    راولا کوٹ،فرار ہونے والے قیدی تاحال گرفتار نہ ہوسکے، ماسٹر مائنڈ غازی شہزاد

    بھارتی فوجی افسران اور سائنسدان عورتوں کے "رسیا” نکلے

    چڑیل پکی مخبری لے آئی، بابر ناکام ترین کپتان

    محافظ بنے قاتل،سیکورٹی گارڈ سب سے بڑا خطرہ،حکومت اپنی مستی میں

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

    شیر خوار بچوں کے ساتھ جنسی عمل کی ترغیب دینے والی خاتون یوٹیوبر ضمانت پر رہا

    مردانہ طاقت کی دوا بیچنے والے یوٹیوبر کی نوکری کے بہانے لڑکی سے زیادتی

    پاکستان کی جانب سے دوستی کا پیغام اور مودی کی شرانگیزیاں

    پاکستان کرکٹ مزید زبوں حالی کا شکار،بابر ہی کپتان رہے،لابی سرگرم

    بابراعظم کے بھائی کا ذریعہ آمدن بتا دیں میں چپ ہو جاؤں گا، مبشر لقمان

  • مارگلہ ہلز میں آتشزدگی،سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کانوٹس

    مارگلہ ہلز میں آتشزدگی،سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کانوٹس

    مارگلہ ہلز میں آگ لگنے کے واقعات کا معاملہ،سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی نےنوٹس لے لیا

    کمیٹی نے آگ لگنے کے واقعات پر سی ڈی اے اور وزارت موسمیاتی تبدیلی سے بریفنگ لینے کا فیصلہ کر لیا، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی چیئرپرسن شیری رحمان کی صدارت میں اجلاس ہوا،چیئرپرسن کمیٹی سینیٹر شیری رحمان نے مارگلہ ہلز پر آگ لگنے کے واقعات کا معاملہ اٹھایا اور کہا کہ آگ بہت تیز تھی،زیادہ تر موسم کا ہی مسئلہ ہوتا کیونکہ ہوائیں تیز ہوتی ہیں، موسمیاتی تبدیلی ملک کا اہم مسئلہ ہے،

    سینیٹر تاج حیدر نے ہسپتال کے بیڈ سے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی،سینیٹر قراۃ العین مری اور سینیٹر زرقا سہروردی تیمور نے بھی ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی،


    کمیٹی نےمون سون کے حوالے سے تیاریوں پر بریفنگ کے لئے این ڈی ایم اے کو بھی بلانے کا فیصلہ کر لیا، شیری رحمان کا کہنا تھا کہ آئندہ اجلاس میں این ڈی ایم اے کو مدعو کریں گےکہ مون سون کے حوالے سے ان کی کیا تیاری ہے،محکمہ موسمیات کو بھی بلا لیں،ہم پری کاپ میٹنگ بھی کریں گے،میں نے تجویز کیا تھا کہ ایک کلائمیٹ سروس ہونا چاہئے، جیسے فارن سروس ہے، سال میں دو دفعہ پبلک ہیئرنگ کریں گے،

    گدھے کے کان ،اونٹ کے پیرکاٹ رہے ہیں، معاشرہ اتنا بے رحم کیسے ہوگیا؟شیری رحمان
    سینیٹر شیری رحمان کا کہنا تھا کہ گدھے کے کان کاٹ رہے ہیں،اونٹ کے پیرکاٹ رہے ہیں، معاشرہ اتنا بے رحم کیسے ہوگیا؟اسلام آباد میں بھی آلودگی کے بہت مسائل ہیں،آلودگی پر پبلک ہیئرنگ کریں گے، سینیٹر نسیمہ احسان نےکہا کہ دنیا میں پانچ ارب گاڑیاں ہیں،24 گھنٹے میں ہزاروں جہاز اڑ رہے ہیں،تھرمل سے سولر کی جانب ہم پاکستان میں کس حد تک پہنچے ہیں،

    شیری رحمان کا کہنا تھا کہ پلاسٹک کتنا مضر ہے،جو مچھلی کھاتے ہیں اس میں مائیکرو پلاسٹک ہوتا ہے،یہاں ڈمپنگ ہو رہی تھی،پلاسٹک کینسر کی وجہ ہے، جو کہہ رہا ہے ری سائیکل کر رہے ہیں وہ 9 فیصد جھوٹ ہے، ری سائیکلنگ کرنے کے لئے کلیکشن پوائنٹ چاہئے ،کہاں ہے کلیکشن پوائنٹ؟ جب ہم بچے تھے تو کوئی پلاسٹک کی بوتلیں نہیں ہوتی تھیں، پانی کی قلت پر الگ سیشن منعقد کریں گے،

    میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ سے بریفنگ لینگے کہ کہاں کتنی بارش کی توقع ہے اور نقصانات کا خدشہ ہے،شیری رحمان
    اجلاس کے بعد چیئرپرسن سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے ماحولیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج سینیٹ کمیٹی برائے ماحولیاتی تبدیلی کا ابتدائی اجلاس تھا،تمام ارکان کی مشاورت سے سالانہ ایجنڈا تشکیل دیا جائے گا،ماحولیاتی تبدیلی، آفات، توانائی کی منتقلی، رزیلینس اور دیگر موضوعات پر مبنی ایک مربوط ایجنڈا بنانا ہے، اگلے اجلاس میں این ڈی ایم اے کو التجا کریں گے اپنی تیاری اور منصوبہ بندی کے حوالے سے آگاہ کریں، میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ سے بریفنگ لینگے کہ کہاں کتنی بارش کی توقع ہے اور نقصانات کا خدشہ ہے،گرمی سے بھی لوگوں کے فصلوں، مویشی اور پانی کی رسائی پر اثر ہوا ہے،ہمیں نقصانات سے بچنے کے لئے چوکنا رہنا چاہئے،

    عزم استحکام معیشت کی مضبوطی کا ضامن۔تجزیہ، شہزاد قریشی

    سکیورٹی ذرائع کے مطابق عزم استحکام آپریشن کا غلط تاثر لیا گیا

    معاشی مشکلات کی وجہ سے آپریشن عزم استحکام کا فیصلہ کیا گیا ہے، خواجہ آصف

    وفاقی کابینہ اجلاس میں آپریشن عزم استحکام کی منظوری

    آپریشن عزم استحکام کا مقصد کیا؟ وزیراعظم آفس سے اعلامیہ جاری

    آپریشن عزم استحکام کی مخالفت کر کے کیا پی ٹی آئی ملک دشمن قوتوں کی حمایت کر رہی ہے؟ شیری رحمان

    ماضی کے جتنے آپریشن ہوئےانکے نتائج تو سامنے رکھیں،مولانا فضل الرحمان

    ایپکس کمیٹی میں ایک نام عزم استحکام آیا لیکن آپریشن کا ذکر نہیں تھا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ

    آپریشن عزم استحکام،کامیابی کیلئے اتحاد ضروری،تجزیہ: شہزاد قریشی

  • راجہ خرم نواز قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے وزارت داخلہ کے چیئرپرسن منتخب

    راجہ خرم نواز قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے وزارت داخلہ کے چیئرپرسن منتخب

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں کے چیئرمین کی تقرری کا سلسلہ جاری ہے

    سید مصطفی محمود قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی (پٹرولیم ڈویژن) کے چیئرپرسن منتخب ہو گئے،سید مصطفی محمود کا انتخاب قائمہ کمیٹی برائے توانائی(پٹرولیم ڈویژن) کے اجلاس میں کیا گیا،قائمہ کمیٹی برائے توانائی (پٹرولیم ڈویژن) کے چیئرپرسن کے لئے تجویز کنندہ رائے حیدر علی خان اور تائید کنندہ محمد معین عامر پیرذادہ تھے،

    سید حسین طارق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ کے چیئرپرسن منتخب ہو گئے،سید حسین طارق کا انتخاب قائمہ کمیٹی برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ کے اجلاس میں کیا گیا،سید حسین طارق کے چیئرپرسن کے لئے تجویز کنندہ سید جاوید علی شاہ اور تائید کنندہ ذوالفقار علی تھے

    ملک محمد افضل کھوکھر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے رولز آف پروسیجر اینڈ پریولجز کے چیئرپرسن منتخب ہو گئے، ملک محمد افضل کھوکھر کا انتخاب قائمہ کمیٹی برائے رولز آف پروسیجر اینڈ پریولجز کے اجلاس میں کیا گیا،ملک محمد افضل کھوکھر کے چیئرپرسن کے لئے تجویز کنندہ ملک محمد عامر ڈوگر تھے

    راجہ خرم نواز قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے وزارت داخلہ کے چیئرپرسن منتخب ہو گئے،انتخاب قائمہ کمیٹی برائے وزارت داخلہ کے اجلاس میں کیا گیا،راجہ خرم نواز کے چیئرپرسن کے لئے تجویز کنندہ سید رفیع اللہ اور تائید کنندہ میں ڈاکٹر طارق فضل اور جمال احسن خان شامل تھے

    نواب زادہ افتخار احمد خان بابر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے وزارت ایوی ایشن کے چیئرپرسن منتخب ہو گئے، نواب زادہ افتخار احمد خان بابر کا انتخاب قائمہ کمیٹی برائے وزارت ایویشن کے اجلاس میں کیا گیا،چیئرپرسن کے لئے تجویز کنندہ حاجی امتیاز احمد چودھری اور تائید کنندہ جام عبد الکریم تھے

    محترم پولین بلوچ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے چیئرمین منتخب ہوگئے،محترم پولین بلوچ کا انتخاب قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں کیا گیا،کیسو مل کھئیل داس تجویز کنندہ اور شرمیلا فاروقی تائید کنندہ تھے

    میر غلام علی تالپور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ کے چیئرمین منتخب ہو گئے،میر غلام علی تالپور کا انتخاب قائمہ کمیٹی برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ کے اجلاس میں کیا گیا،محترمہ آصفہ بھٹو زرداری تجویز کنندہ اور طاہرہ اورنگزیب تائید کنندہ تھے

    مخدوم سید عبدالقار گیلانی قائمہ کمیٹی برائے پلاننگ ڈیویلپمنٹ اور خصوصی اقدامات کے چیئرمین منتخب ہو گئے،عبدالقادر گیلانی کا انتخاب قائمہ کمیٹی برائے پلاننگ ڈیویلپمنٹ اور خصوصی اقدامات کے اجلاس میں کیا گیا، معظم خان جتوئی نے سید عبدالقار گیلانی کا نام تجویز کیا جبکہ اور محترمہ ناز بلوچ سید عبدالقار گیلانی کے نما کی تائید کی۔

    فتح اللہ خان قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے چیئرمین منتخب ہو گئے،فتح اللہ خان کو ممبران قومی اسمبلی برائے دفاع کے ممبران نے کمیٹی اجلاس میں کیا گیا۔ ملک ابرار نام تجویز کیا جبکہ برگیڈیئر ریٹائر محمد اسلم گھمن نے فتح اللہ کے نام کی تائید کی۔

    ملک شاہ گورگیج چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے نارکوٹکس کنٹرول منتخب ہو گئے،ملک شاہ گورگیج کو ممبران قومی اسمبلی برائے نارکوٹکس کنٹرول کے ممبران نے کمیٹی اجلاس میں منتخب کیا۔ممبر قومی اسمبلی خالد حسین مگسی نے ملک شاہ گورگیج کا نام تجویز کیا جبکہ دیگر ممبران نے ملک شاہ گورگیج کے نام کی تائید کی۔

    رپورٹ، محمد اویس، اسلام آباد

    عدالتی وقت کے بعد ٹرائل کیوں ہوا یہی کافی ہے کیس سزا معطلی کا ہے، وکیل سلمان صفدر

    عدت کیس میں فیصلہ کرنے کیلیے 12 جولائی تک کا وقت ہے،جج

    دوران عدت نکاح کیس،خاور مانیکا 21 جون کو طلب،پیش نہ ہوئے تو فیصلہ ہو گا،عدالت

    دوران عدت نکاح کیس،سزا کیخلاف اپیلوں پر دس دن میں فیصلے کا حکم

    دوران عدت نکاح کیس،بشریٰ بی بی کے بعد عمران خان کی بھی اپیل دائر

    زلفی بخاری میری بیٹیوں کو کالز کرتا ہے، خاور مانیکا عدالت میں پھٹ پڑے

    بشریٰ بی بی کو سزا،خاور مانیکا کا ردعمل،نااہلی کے فیصلے پر حیران

  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی آبی وسائل کا اجلاس،فلڈ کمیشن چیئرمین سے  کارکردگی رپورٹ طلب

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی آبی وسائل کا اجلاس،فلڈ کمیشن چیئرمین سے کارکردگی رپورٹ طلب

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کا اجلاس چیئرمین سینیٹر شہادت اعوان کی زیر صدارت ہوا

    اجلاس میں وزارت کی طرف سے حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دی،چیئرمین کمیٹی شہادت اعوان نے وفاقی وزیر اور وزارت آبی وسائل حکام کی عدم شرکت پر برہمی کا اظہار کیا، سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا کہ وزارت کے حکام کی طرف سے کمیٹی میں شرکت نہ کرنا قابل افسوس ہے ، چیئرمین کمیٹی ملک شہادت اعوان نے کہا کہ وزارت کے حکام کو کمیٹی کو نظر انداز نہیں کرنے دیں گے،وزارت کے حکام کی بریفنگ پر کمیٹی نے عدم اطمینان کا اظہار کر دیا،کمیٹی نے فلڈ کمیشن چیئرمین سے دس سال کی کارکردگی رپورٹ طلب کر لی

    چیئرمین کمیٹی شہادت اعوان نے کہا کہ مون سون شروع ہو چکا ہے اس لیے ایک ہفتہ پہلے میٹنگ رکھی ہے،کمیٹی میٹنگ کا مقصد یہی ہے کہ پیشگی اقدامات کیے جائیں، رکن اسمبلی نے کہا کہ جب بھی سیلاب آتا ہے سندھ اور پنجاب ڈوب جاتا ہے، جہاں سے سیلاب شروع ہوتا ہے بتائیں وہاں کیا اقدامات کر رہے ہیں، حکام نے کہا کہ فلڈ مینجمنٹ کا مطلب ہے دریا میں پانی کی مینجمنٹ ہے، جب بارش ہوتی ہے تو اس کا باقاعدہ ریکارڈ مرتب کیا جاتا ہے، ریکارڈ کی بنیاد پر محکمہ موسمیات فورکاسٹ جاری کرتا ہے، فلڈ مینجمنٹ صوبائی اریگیشن ڈیپارٹمنٹ کے انڈر آتی ہے، سینیٹر مہمند ہمایوں نے کہا کہ کیا آپ کو یہ اندازہ ہوتا ہے کہ کس جگہ کتنا پانی آتا ہے، آپ کا 90 فیصد پانی تربیلا سے نیچے آتا ہے، حکام نے کہا کہ ہم نے ہر سال 20 اگست تک تربیلا کو فل کرنا ہوتا ہے، اگر مزید بارش ہوتو تربیلا سے کچھ پانی ریلیز کرکے ریزروائر میں جمع کر لیتے ہیں، آر بی او ڈی ون اور ٹو کے نقصانات ابھی تک بحال نہیں ہوئے، ہمارے خیال میں اس معاملے میں کچھ بے ضابطگیاں ہوئی ہیں، آبی وسائل کمیٹی نے بے ضابطگیوں کی رپورٹ طلب کر لی

    رکن اسمبلی نے کہا کہ کالام میں جو ہوٹل سیلاب میں بہہ گئے تھے وہ تجاوزات پر تھے، سیلاب سے بچنے کیلئے ایسی تجاوزات کا خاتمہ کب کیا جائے گا،چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ تجاوزات کا خاتمہ وفاقی حکومت کا کام تھا، سیٹلائٹ کے ذریعے سے بھی تجاوزات کی تفصیلات لیں گے،سپریم کورٹ نے بھی تجاوزات کی رپورٹ طلب کی تھی،تجاوزات نہ ہوتی تو پانی سیدھا سیدھا گزر جاتا، 2010 کے بعد کی بیرونی امداد کو مکمل طور پر خرچ کیا گیا، چیئرمین فیڈرل فلڈ کمیشن نے کہا کہ اگر تو صوبے سیلاب کا مسئلہ حل کر سکتے ہیں تو انہیں کرنا چاہئیے، اگر صوبے مسئلہ حل کرسکتے ہیں تو نیشنل لیول کےادارے ختم کر دیں،چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ فیڈرل فلڈ کمیشن کا بھی کچھ کام ہے کرنے کا ، فیڈرل فلڈ کمیشن کو اتنا بڑا مینڈیٹ دیا ہوا ہے،اگر فیڈرل فلڈ کمیشن کو مزید سٹاف چاہئیے ہوگا تو اس کی بھی سفارش کریں گے،

    فلڈ کمیشن کی ساری رپورٹس کاپی پیسٹ ہیں،یہاں تک کہ رپورٹس میں اے بی سی بھی تبدیل نہیں کی گئی،چیئرمین قائمہ کمیٹی
    چیئرمین فیڈرل فلڈ کمیشن احمد کمال نے کمیٹی کو بریفنگ میں کہا کہ این ایف پی پی پلان کو اپڈیٹ کیا گیا ،375 نئے منصوبے سامنے آئے ہیں جس کیلئے 825 ارب درکار ہونگے،ابھی تک ان منصوبوں پر فارن ڈونر کی جانب سے حامی نہیں بھری گئی،فیز ون میں 170 منصوبے رکھے گئے ہیں،پنجاب کے بارہ اضلاع کیلئے منصوبے شامل ہیں،کچھ منصوبوں کے پی سی ون منظور کرکے پلاننگ ڈویژن کو بھیجوائے گئے ہیں،چیئرمین کمیٹی شہادت اعوان نے کہا کہ چیئرمین صاحب آپ نے 2021 کی ایک پریزنٹیشن تیار کی تھی وہی دوبارہ آج پیش کردی،اسکیموں کی تفصیل ہمارے ساتھ شیئر کی جائے ،کام ہمارا ہے لیکن ہمیں ڈونر ڈھونڈنا پڑھ رہے ہیں، میں نے کمیشن کی 2017 سے آج تک کی تمام سالانہ رپورٹس دیکھی ہیں، فلڈ کمیشن کی ساری رپورٹس کاپی پیسٹ ہیں،یہاں تک کہ رپورٹس میں اے بی سی بھی تبدیل نہیں کی گئیں،ہر سال فیڈرل فلڈ کمیشن اربوں روپے کا فنڈ مانگتا ہے، کچھ کام تو فلڈ کمیشن کو بھی کرنا چاہئیے نا،

    کمیٹی کو بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ ربیع اور خریف سیزن میں پانی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے،دونوں سیزن میں ایک سو ملین کیوبک پانی ہوتا ہے،سینیٹر ہمایوں مہمند نے کہا کہ مصر کے پاس ہمارے آدھے سے بھی کم پانی ہے لیکن وہ زیادہ زمین کیسے سیراب کرتے ہیں،منگلا ڈیم ہر پانچ سال میں ایک بار بھرتا ہے،ممبر کمیٹی نے کہا کہ سندھ اور بلوچستان رو رہے ہیں پانی کیلئے،کوٹ مٹھن پر اگر ایک ڈیم بن جائے تو یہ مسائل حل ہوسکتے ہیں،دنیا میں پاکستان کے علاوہ ڈیم کیلئے قدرتی جگہ نہیں ہے،کالا باغ ڈیم میں پانی اسٹوریج کی صلاحیت باقی ڈیموں کی نسبت زیادہ ہوسکتی ہے،

    خدا نہ کرے مون سون سیزن بہت بڑی تباہی لے کر آرہا ہے،فیصل واوڈا
    سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا کہ آئندہ مون سون متعلق کوئی تیاری نظر نہیں آرہی،خدا نہ کرے مون سون سیزن بہت بڑی تباہی لے کر آرہا ہے،مون سون متعلق کوئی تیاری نہیں اس متعلق پریس ریلیز میں بھی ذکر کیا جائے، نالے صفائی کرنے سے تباہی رکے گی نہیں،چیئرمین کمیٹی شہادت اعوان نے کہا کہ فیڈرل فلڈ کمیشن کا کہنا ہے پورا اسٹاف نہیں ہے کم اسٹاف سے کام چلا رہے ہیں،وفاقی وزیر آبی وسائل مصدق ملک نے کہا کہ ذمہ داری میری ہے میں مانتا ہوں،خالی پوسٹوں کو فل کیا جائے گا،اگلے اجلاس میں بھرتیوں متعلق تمام پلان لے کر آوں گا،چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ یکم جولائی سے مون سون شروع ہونا ہے،تیس جون تک کمپلائنس رپورٹ مانگی جائے مون سون سے بچاؤ کیلئے اقدامات کیا ہیں،

    رپورٹ، محمد اویس، اسلام آباد

    عدالتی وقت کے بعد ٹرائل کیوں ہوا یہی کافی ہے کیس سزا معطلی کا ہے، وکیل سلمان صفدر

    عدت کیس میں فیصلہ کرنے کیلیے 12 جولائی تک کا وقت ہے،جج

    دوران عدت نکاح کیس،خاور مانیکا 21 جون کو طلب،پیش نہ ہوئے تو فیصلہ ہو گا،عدالت

    دوران عدت نکاح کیس،سزا کیخلاف اپیلوں پر دس دن میں فیصلے کا حکم

    دوران عدت نکاح کیس،بشریٰ بی بی کے بعد عمران خان کی بھی اپیل دائر

    زلفی بخاری میری بیٹیوں کو کالز کرتا ہے، خاور مانیکا عدالت میں پھٹ پڑے

    بشریٰ بی بی کو سزا،خاور مانیکا کا ردعمل،نااہلی کے فیصلے پر حیران

  • قائمہ کمیٹی منصوبہ بندی کا اجلاس،وزارتوں کے منصوبہ جات کی تفصیلات کا جائزہ

    قائمہ کمیٹی منصوبہ بندی کا اجلاس،وزارتوں کے منصوبہ جات کی تفصیلات کا جائزہ

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات کا اجلاس چیئرپرسن کمیٹی سینیٹرقرۃ العین مری کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔

    قائمہ کمیٹی نے تمام وزارتوں کی ڈویژن وار پی ایس ڈی پی کے منصوبہ جات کی تفصیلات کا مکمل جائزہ لیتے ہوئے سفارشات مرتب کر لیں۔ قائمہ کمیٹی کے آج کے اجلاس میں قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن کی سفارشات سے کمیٹی کا آغاز کیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پی ایس ڈی پی کے کل 10 منصوبہ جات ہیں جن میں سے 7 جاری اور 3 نئی اسکیمیں ہیں۔ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے حوالے سے قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ادارے کے کل 10 منصوبہ جات ہیں جن میں سے ایک نئی اسکیم اور 9 جاری منصوبہ جات ہیں،7 اسی سال مکمل جائیں گے۔ پاور ڈویژن کے حوالے سے کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ کل 65 منصوبہ جات ہیں جن میں سے 16 نئے اور باقی 49 جاری منصوبہ جات ہیں،43 اسی سال مکمل ہو جائیں گے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پنجاب کے ضلع لیہ میں سولرپاور پلانٹ کے لئے 4800 ایکڑ زمین 13 لاکھ فی ایکڑ کے حساب سے خریدی گئی ہے جس پر چیئرپرسن کمیٹی نے ڈپٹی کمشنر لیہ کو تفصیلات فراہم کرنے کے حوالے سے کمیٹی اجلاس میں طلب کر لیا۔ چیئرپرسن کمیٹی نے کہا کہ اس علاقے کی زمین بنجر ہے معاملے کو جاننے کی ضرورت ہے۔ چیئرپرسن کمیٹی سینیٹر قرۃالعین مری نے کہا کہ کوشش کی جائے کہ وہ منصوبہ جات جن کی 100 فیصد فنڈننگ حاصل کی گئی ہے ان کو مقررہ وقت پر پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے اور یہ بھی لائحہ عمل اختیار کیاجائے کہ جاری منصوبے 30 فیصد مکمل ہونے کے بعد ادارے نئی اسکیمیں شروع کروائیں تاکہ جاری منصوبے بھی وقت پر مکمل ہوں اور قومی خزانے پر تاخیر کی وجہ سے اضافی بوجھ نہ پڑے۔

    سالانہ 10 فیصد مقامی گیس کے ذخائر میں کمی کا انکشاف
    پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی کے حوالے سے متعلقہ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ان کی جاری دو اسکیمیں ہیں جو اسی سال مکمل ہو جائیں گی۔وزارت پیٹرولیم ڈویژن کے حکام نے کمیٹی کو بتایاکہ کل 7 پی ایس ڈی پی میں منصوبہ جات ہیں جن میں سے 5 جاری اور 2 نئی اسکیمیں ہیں ان میں سے 4 اسی سال مکمل ہوجائیں گی۔سینیٹر جام سیف اللہ خان نے پیٹرولیم ڈویژن کے حکام سے استفسار کیا کہ ان کے علاقے سے گیس نکل رہی ہے اور مقامی لوگوں کو سہولت نہیں دی جا رہی جس پر انہیں آگاہ کیا گیا کہ 2021 کے بعد کوئی گھریلو کنکشن نہیں دیا گیا۔ سالانہ 10 فیصد مقامی گیس کے ذخائر میں کمی ہو رہی ہے اس لئے نئے کنکشن دینے پرپابندی ہے صرف لائنوں پر کام کیا جا رہاہے البتہ وہ علاقے جہاں سے گیس نکلتی ہے ان کے پانچ کلو میٹر کی حدود میں بسنے والی آبادی کو گیس فراہم کی جا رہی ہے۔

    وزارت پلاننگ ڈویژن ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی کو کنڑول کرنے کے لئے منصوبہ بندی تیار کرے،چیئرپرسن کمیٹی
    وزارت منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات کے سیکرٹری نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ اس ادارے کی کل 27 منصوبہ جات ہیں جن میں 13 جاری اور 14 نئے منصوبے ہیں، اگلے سال کیلئے 14 تعمیرات سے متعلق بڑی اسکیمیں ہیں جن کا پی سی ون تیار کر لیا گیا ہے۔ قائمہ کمیٹی نے ان منصوبہ جات کی تفصیلات طلب کر لیں۔ چیئرپرسن کمیٹی نے کہا کہ 7.1 ارب ڈالر فارن فنڈننگ سے ملنا تھے وہ کیوں نہیں ملے اس کی تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔ انہوں نے کہاکہ وزارت پلاننگ ڈویژن ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی کو کنڑول کرنے کے لئے منصوبہ بندی تیار کرے تاکہ بڑھتی ہوئی آبادی کو کنڑول کرنے میں مدد ملے اور وزارت اس تناظر میں موثر حکمت عملی بھی اختیار کرے۔

    وزارت ریلوے کے 36 کل منصوبہ جات ہیں،8 اگلے سال تک مکمل ہو جائیں گے،حکام
    ریلوے ڈویژن کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ اس ادارے کے کاموں کو چار سیکٹرز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ایم ایل ون کا منصوبہ کچھ تاخیر کا شکار ہے کوشش کی جا رہی ہے کہ کمزور سیکٹر پر زیادہ توجہ دی جائے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ٹریک انفراسٹرکچر پر خصوصی کام کر رہے ہیں۔ سینیٹر جام سیف اللہ خان کے سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ ایم ایل ون کے منصوبے پر 2014 میں منصوبہ بندی کا کام شروع ہوا دو سال میں ڈیزائن مکمل کیا۔ یہ منصوبہ کراچی سے پشاور 1726 کلو میٹر اپ گریڈیشن کا ہے۔ 2017 میں جو ڈائزئنگ ہوئی اس پر کچھ تحفظات تھے پھر 2020 میں اس پر کچھ کام ہوا ان امور کے حوالے سے کام ہو رہا ہے۔ چین اور پاکستان کی فنانسنگ کی کمیٹیاں اس کے قرض اور دیگر امور کے حوالے سے معاملات طے کریں گی۔ اس منصوبے چین کی کمپنی نے کام کرنا ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ وزارت ریلوے کے 36 کل منصوبہ جات ہیں،8 اگلے سال تک مکمل ہو جائیں گے۔ سائنس ٹیکنالوجی ریسرچ ڈویژن کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ کل 31 منصوبہ جات ہیں جن میں سے ایک نیا ہے 11 منصوبے اسی سال مکمل ہوجائیں گے اور بجٹ کا 95 فیصد جاری منصوبوں پر خرچ کریں گے۔ جسے قائمہ کمیٹی نے سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ جب تک جاری منصوبے 30 فیصد مکمل نہ ہو جائیں نئے منصوبے شروع نہ کیے جائیں۔

    قائمہ کمیٹی منصوبہ بندی کا اسٹرٹیٹجک پلانز ڈویژن اور سپارکو کے اداروں کا دورہ کرنے کا فیصلہ
    اسٹرٹیٹجک پلانز ڈویژن کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ایک ہی منصوبہ جو اسی سال مکمل ہو جائے گا۔ قائمہ کمیٹی نے اس ادارے کا دورہ کرنے کا فیصلہ بھی کیا۔ سپارکو کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ کل 5 منصوبے ہیں جن میں سے 4 جاری اور ایک نیا منصوبہ ہے 4 اسی سال مکمل ہو جائیں گے۔ قائمہ کمیٹی نے اس ادارے کا دورہ کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔ وزارت مذہبی امور کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ادارے کی 3 جاری اسکیمیں ہیں جس پر چیئرپرسن کمیٹی سینیٹر قرۃ العین مری نے کہا کہ جو ورکنگ پیپر فراہم کیے گئے ہیں اس بک میں مذہبی امور کی پی ایس ڈی پی کی ایک صرف اسکیم ہے۔ وزارت منصوبہ بندی ان کے ساتھ مل کر اس مسئلے کو حل کرے۔ قائمہ کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹرز شہادت اعوان، جام سیف اللہ خان اور ذیشان خانزادہ کے علاوہ سیکرٹری وزارت منصوبہ بندی کے علاوہ متعلقہ وزارتوں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ

  • پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی سربراہی پی ٹی آئی کے لیے دردسر

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی سربراہی پی ٹی آئی کے لیے دردسر

    اسلام آباد (محمد اویس) پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی سربراہی پاکستان تحریک انصاف کے لیے درد سر بن گئی ہے،تحریک انصاف میں چیئرمین پی اے سی کے لیے تین نام سامنے آئے اور تینوں پر تحریک انصاف کے حمایت یافتہ ارکان پارلیمنٹ میں شدید اختلافات سامنے آئے ہیں سب سے پہلے شیرافضل مروت کانام آیا ان کے بعد حامد رضا اور اب شیخ وقاص اکرم کا نام سامنے آیا ہے،شیخ وقاص اکرم کے نام پر پی ٹی آئی کے کئی اراکین ناخوش ہیں،

    ذرائع تحریک انصاف نے بتایا کہ چیئرمین پی اے سی ہمارے لیے دردسر بنی ہوئی ہے شیخ وقاص اکرم کے نام پر بھی تحریک انصاف کے اندر شدید اختلافات ہیں پہلے شیر افضل مروت کا نام آیا مگر اس کےبعد حامد رضا کا نام سامنے آگیا اب شیخ وقاص کا نام آیا ہے مگر شیخ وقاص اکرم پر بھی پارٹی میں شدید اختلافات ہیں پارٹی کے اندر ایک دباؤ آرہاہے کہ پاکستان تحریک انصاف کیوں اپنی پرانے کارکن جو نیچے سے اوپر آئے ہیں ان کو پی اے سی کا چیئرمین نہیں بنارہی ہے پارٹی کے پرانے لوگوں کادباؤ ہے کہ پی اے سی کا چیئرمین پرانے کارکن کو بنایا جائے اور اس معاملے کو جلدازجلد حل کیا جائے اس کی وجہ سے کارکنان میں بھی غصہ پایا جارہاہے کہ جس کا بھی نام آتا ہے اس کے بعد اس کی بھی مخالفت شروع ہوجاتی ہے چیئرمین پی اے سی کو لگایا جائے تاکہ سب عمران خان کی رہائی کے حوالے سے بھرپور تحریک شروع کرسکیں اس معاملے کی وجہ سے عوام میں بھی اچھا پیغام نہیں جارہاہے ۔

    9 مئی کو ایک سال، زخم ابھی تازہ،عمران کا جوابی وار،معافی نہیں ملے گی؟

    نومئی،ایک برس بیت گیا،ملزمان کی سزائیں نہ مل سکیں،یہ ہے نظام انصاف

    نو مئی واقعات کی چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے سامنے مذمت کی تھی،عمران خان

    9 مئی پاکستان کیخلاف بہت بڑی سازش جس کا ماسٹر مائنڈ بانی پی ٹی آئی،عظمیٰ بخاری

    9 مئی کی آڑ میں چادرو چار دیواری کی عزت کو پامال کرنیوالے معافی مانگیں،یاسمین راشد

    عوام نے نومئی کے بیانیے کو مستر د کر دیا ،مولانا فضل الرحمان

    اسد قیصر نے نومئی کے واقعات پر معافی مانگنے سے انکار کر دیا