Baaghi TV

Tag: قائمہ کمیٹی

  • الیکٹرانک کرائمز ترمیمی بل 2024،آئی ٹی، ایف آئی اے اور سائبر کرائم حکام  طلب

    الیکٹرانک کرائمز ترمیمی بل 2024،آئی ٹی، ایف آئی اے اور سائبر کرائم حکام طلب

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس چئیرمین کمیٹی سینیٹرمحسن عزیز کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا۔

    سینیٹرز ، پلوشہ محمد زئی خان ،ثمینہ ممتاز زہری، فیصل سلیم، کامل علی آغا، فوزیہ ارشد، عمر فاروق، دنیش کمار اور ثانیہ نشتر اجلاس میں شریک ہوئے۔نگران وزیر داخلہ اعجاز گوہر، اسپیشل سیکریٹری وزارت داخلہ، چئیرمین سی ڈی اے، ایف آئی اے، نادرا اور وزارت قانون و انصاف اور دیگر متعلقہ حکام نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔

    کمیٹی میں سینیٹر ثانیہ نشتر کی جانب سے پیش کئے گئے ” دی ریڑھی بان (سٹریٹ وینڈرز) لائیولی ہڈ پروٹیکشن بل 2023″ اور سینیٹر فوزیہ ارشد کی جانب سے پیش کئے گئے” دی نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی بل 2023″ پر گفتگو ہوئی۔بحث کے بعد دونوں بلز اگلی میٹنگ تک موخر کردئے گئے۔موورز متعلقہ حکام کے ساتھ بلز پر گفتگو کر کے کمیٹی کی اگلی میٹنگ میں بلز دوبارہ پیش کریں گے۔

    سینیٹر پلوشہ محمد زئی خان نےاپنا بل” دی کٹنگ آف ٹریز (پروہیبیشن) ترمیمی بل 2023″ واپس لے لیا۔کمیٹی میں سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کی جانب سے پیش کئے گئے بل "دی فیکٹریز ترمیمی بل 2023” پر بھی بحث ہوئی۔کمیٹی نے بل کو کچھ ترامیم کے ساتھ متفقہ طور پر منظور کرلیا۔کارخانوں میں کام کرنے والی خواتین کے بچوں کیلئے جگہ بنانا لازم ہوگا۔پہلی بارخلاف ورزی کرنے پر 1 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا اور 6 ماہ میں عمل درآمد نا کرنے پر دوسری بار جرمانہ 3 لاکھ روپے ہوگا جبکہ تیسری بار خلاف ورزی کرنے پر کارخانے کو سیل کردیا جائے گا۔

    کمیٹی میں "دی گارڈئینز اینڈ وارڈز ترمیمی بل 2024” پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے بل پیش کیا۔تفصیلی بحث کے بعد چند ترامیم کے ساتھ کمیٹی نے متفقہ طور پر بل منظور کرلیا۔کمیٹی اجلاس میں سینیٹر ممتاز زہری کی جانب سے "دی پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ترمیمی بل 2024” مزید بحث کیلئے اگلی میٹنگ تک موخر کردیا گیا۔وزارت داخلہ نے سیکشن 22 پر اعتراض نہیں کیا لیکن سیکشن 42 میں ترمیم پر اعتراض اٹھایا۔حکام نے بتایا کہ اس بل پر بحث کرنے کیلئے وزارت آئی ٹی کو بھی ہونا چاہئے۔کمیٹی نے بل پر بحث کیلئے اگلی میٹنگ میں وزارت آئی ٹی، ایف آئی اے اور سائبر کرائم حکام کو طلب کرلیا۔

    اجلاس میں پبلک پٹیشن نمبر 5316 کا معاملہ اٹھایا گیا۔پٹیشن نادرا کے ملازم کی ترقی کا نوٹیفیکیشن جاری نا کرنے کے حوالے سے تھا۔معاملے پر گفتگو کے بعد چئیرمین کمیٹی نے پٹیشنر کو اگلی میٹنگ میں اپنے خدشات سے متعلق سوال نامہ تیار کر کے کمیٹی کے حوالے کرنے کے احکامات جاری کئے۔

    فیڈرل ریزیڈنٹس کواپریٹیو ہاوسنگ سوسائٹی اسلام آباد کے منتظمین نے بلاک اے، بی ،سی، ڈی کی صورتحال بارے کمیٹی کو بریفنگ دی۔انہوں نے بتایا کہ بلاک بی اینڈ سی کلئیر ہیں جبکہ بلاک اے اینڈ ڈی میں تھوڑے مسائل ہیں۔انکا کہنا تھا کہ بلاک ڈی کے کچھ حصے میں اوورسیز فاونڈیشن والے قبضہ نہیں دے رہے اور اس کے علاوہ وہاں ایک پل کی الائنمنٹ کا بھی مسئلہ ہے۔چئیرمین سی ڈی اے نے کہا کہ اس معاملے میں ہمیں ٹائم دے دیں جلد یہ معاملہ حل ہوجائے گا۔

    عمران خان مایوس کریں گے یا نہیں؟ زرتاج گل نے کیا حیرت انگیز دعویٰ

    رنگ گورا کرنے کیلئے کاسمیٹکس کا استعمال کیسا ہے؟ زرتاج گل نے کیا اہم انکشاف

    اسلام آباد میں پہلی دفعہ یہ "کام” ہو رہا ہے، زرتاج گل نے یہ کیا کہہ دیا؟

    وزیر ماحولیات زرتاج گل اور اسکے شوہر نے دس لاکھ رشوت مانگی، ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کا الزام

    زرتاج گل پر حلقے میں عوام نے برسائے ٹماٹر، لگائے پی ٹی آئی مردہ باد کے نعرے

    ہارنا ہے تو وقار سے ہاریں، زرتاج گل نے کس کو دیا مشورہ؟

    مریم نواز میں یہ کام کرنے کی صلاحیت ہی نہیں، زرتاج گل کا چیلنج

    میرا بھائی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہید ہوا،یہ کس قربانی کی بات کرتے ہیں،زرتاج گل

  • توہین پارلیمنٹ کا بل غائب ،پتہ نہیں وہ کہاں چلا گیا،قائمہ کمیٹی میں بحث

    توہین پارلیمنٹ کا بل غائب ،پتہ نہیں وہ کہاں چلا گیا،قائمہ کمیٹی میں بحث

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کا چیئرمین سینیٹر تاج حیدر کی زیرصدارت اجلاس ہوا،

    پروٹیکشن آف فیملی لائف اینڈ ویڈ لاک بل سے متعلق معاملہ زیر بحث آیا، چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ پروٹیکشن آف فیملی لائف اینڈ ویڈ لاک بل واپس آگیا ہے،یہ بل قومی اسمبلی اور سینیٹ سے پاس ہوا، چار مہینے سے زیادہ مختلف محکمے بل ایک دوسرے کو بھیجتے رہے، صدر صاحب نے بل واپس کردیا ہے،جس طریقے سے وزارتیں اس پر کاروائی نہیں کر رہی تھیں، وہ تشویش ناک ہے، پٹیشنر نے کہا کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں یہ بل پاس کروا دیا جائے، یہ عوامی مسئلہ ہے، ہم کہاں جائیں؟

    کامران مرتضیٰ نے کہا کہ اگر کوئی بل دو ایوان پاس کردیں،تو کیاوزیراعظم اس پر کوئی اعتراض اٹھا سکتے ہیں؟ توہین پارلیمنٹ کا بل اسی طرح سے غائب ہو گیا ہے،پتہ نہیں وہ کہاں چلا گیا ہے؟ سینیٹر عرفان صدیقی کا بل بھی لاپتہ ہے، سینیٹر تاج حیدر نے کہا کہ سینیٹ سے پاس ہو کر بل براہ راست صدر کے پاس جانا چاہئے،

    عمران خان مایوس کریں گے یا نہیں؟ زرتاج گل نے کیا حیرت انگیز دعویٰ

    رنگ گورا کرنے کیلئے کاسمیٹکس کا استعمال کیسا ہے؟ زرتاج گل نے کیا اہم انکشاف

    اسلام آباد میں پہلی دفعہ یہ "کام” ہو رہا ہے، زرتاج گل نے یہ کیا کہہ دیا؟

    وزیر ماحولیات زرتاج گل اور اسکے شوہر نے دس لاکھ رشوت مانگی، ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کا الزام

    زرتاج گل پر حلقے میں عوام نے برسائے ٹماٹر، لگائے پی ٹی آئی مردہ باد کے نعرے

    ہارنا ہے تو وقار سے ہاریں، زرتاج گل نے کس کو دیا مشورہ؟

    مریم نواز میں یہ کام کرنے کی صلاحیت ہی نہیں، زرتاج گل کا چیلنج

    میرا بھائی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہید ہوا،یہ کس قربانی کی بات کرتے ہیں،زرتاج گل

    نگران وزیر پارلیمانی امور مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ صدر مملکت نے اپنا اختیار آئین کے تحت استعمال کر لیا ہے،اگر تاخیر ہوئی ہےتو اس کی تفصیل آپ کے سامنے ہے،سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ صدر نے جو کچھ کرنا تھا، دس دن میں کرنا تھا،مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ پروٹیکشن آف فیملی لائف اینڈ ویڈ لاک بل کہیں غائب نہیں ہوا،کمیٹی نے معاملے پر آئندہ اجلاس میں مزید غور کرنے کا فیصلہ کر لیا.

    رپورٹ، محمد اویس،اسلام آباد

    افشاں لطیف کے خدشات درست ثابت،کاشانہ اسکینڈل کے اہم راز جاننے والی اقرا کائنات کی پراسرار حالات میں موت

    کاشانہ کیس، ن لیگ بھی میدان میں آ گئی، عظمیٰ بخاری نے بڑا مطالبہ کر دیا

    کاشانہ کیس،اخلاقی کرپشن، عدالتی کمیشن بنانے کا مطالبہ سامنے آ گیا

    اس قوم کے بخت سنورگئے جس نے درخت لگا ئے:افشاں لطیف

    کاشانہ کی بیٹیوں کی پرخلوص دعاﺅں نے وزیراعلیٰ پنجاب کوحادثہ سے بچالیا ،افشاں لطیف

    کم عمر بچیوں کی شادی نہ کروانے پر کاشانہ کی سپرنٹنڈنٹ کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا؟

  • الیکشن ملتوی کروانے کی قرارداد سینیٹ میں منظور

    الیکشن ملتوی کروانے کی قرارداد سینیٹ میں منظور

    چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیرصدارت سینیٹ اجلاس ہوا

    سینیٹ میں ملک میں بڑھتی ہوئی دہشگردی کے واقعات کو بنیاد بنا کر انتخابات ملتوی کروانے کی قرارداد سینیٹر دلاور خان نے پیش کی۔جسے سینیٹ نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔قرارداد میں کہا گیا کہ الیکشن ملتوی کئے جائیں،جنوری اور فروری میں بلوچستان کے کئی علاقوں پر موسم سخت ہوتا ہے،مولانا فضل الرحمن اور محسن داوڑ پر حملے ہوئے اور کئی لیڈرزکو دھمکیاں مل رہی ہیں۔سینٹ وفاق کے حقوق کا ضامن ہے۔الیکشن شیڈول کو ملتوی کیا جائے۔قرارداد کثرت رائے منظور کر لی گئی، جس وقت قرارداد پیش کی گئی اسوقت سینیٹ میں چودہ اراکین موجود تھے،ن لیگی سینیٹر افنان اللہ خان نے قرارداد کی مخالفت کردی، قرارداد کی منظوری کے وقت پی پی کے بہرمند تنگی،پی ٹی آئی کےا گردیپ سنگھ، ن لیگ کے افنان اللہ ،مسلم لیگ ق کے کامل علی آغا ودیگر ایوان میں موجود تھے،آزاد گروپ کےدلاور خان،ہدایت،اللہ ہلال الرحمن ،باپ کےمنظور کاکڑ،ثمینہ زہری، احمد خان، ثناء جمالی کہودہ بابر،پرنس احمد عمر،نصیب اللہ بازائی ایوان میں موجود تھے

    سینیٹر دلاور خان نے اس موقع پر کہا کہ میں نے ایک بل سینیٹ سیکریٹریٹ کو ایک بل دیا ہوا ہےمیں ایک قرارداد پیش کرنا چاہتا ہوں,الیکشن کمیشن کی ذمے داری ہے شفاف الیکشن کروائےالیکشن کمیشن کا کام ہے کہ الیکشن میں اچھا ٹرن آؤٹ ہوسیاسی جماعتیں کی لیڈرشپ پر حملے کئے جارہے ہیں,مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے حوالے سے تھریٹ الرٹ جاری ہورہے ہیں,یہ تھریٹ الرٹ مختلف ایجنسیز نے جاری کئے8 فروری کو ہونے والے الیکشن ملتوی کئے جائیں,

    ایوان میں وزیر اطلاعات مرتضی سولنگی نے مخالفت کی تو قراداد دوبارہ پیش کی گئی جس پر سینیٹر افنان اللہ،سینیٹر گردیپ سنگھ نے مخالفت کی باقی سب نے حمایت کی ،پہلی بار صرف افنان اللہ نے مخالفت کی تھی

    سینیٹ اجلاس کے آغاز پر سابق وزیرخزانہ سرتاج عزیز کی مغفرت کیلئے دعا کرائی گئی،جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے مرحوم کے درجات کی بلندی کیلئے دعائے مغفرت کرائی،سینیٹر سعدیہ عباسی نے کہا کہ سرتاج عزیر کی ملک کیلئے وسیع خدمات رہی ہیں، مرحوم تعلیم،معشیت اور زرعی حوالے سے ماہر تھے، سرتاج عزیز نے فاٹا مرجر متعلق قانون سازی میں اہم کردار ادا کیا،مرحوم محب وطن پاکستانی اور آخری دم تک پاکستان کی بہتری کیلئے کوشاں رہے، ایوان بالا کی طرف سے تعزیت کا خط انکے خاندان کو جانا چاہیے،

    چیئرمین پی سی بی کی تقرری، سینیٹ میں بھی گونج،آڈیو لیک کا بھی تذکرہ
    سینیٹ میں بھی چیئرمین پی سی بی کی تقرری کی گونج سننے میں آئی، سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ سیاست میں آڈیو لیکس کا سنا تھا اب کرکٹ میں میں آڈیو لیکس آنے لگی ہیں،میں نے چئیرمین پی سی بی کی تقرری کا طریقہ پوچھا تھا،بتایا گیا وہ شوگر مل کے چئیرمین، قائمہ کمیٹی کے چیئرمین اور صادق پبلک اسکول کے ممبر رہے ہیں؟انہوں نے کرکٹ کو مشغلہ کے طور پر لکھا ہے،ان کا کرکٹ کا تجربہ کچھ نہیں،ا اگر مشغلہ ہو گا تو پھر یہ کرکٹ کا یہی حال ہو گا، کھیلوں کا تجربہ نہیں تو چیئرمین کیوں بنایا گیا،وفاقی وزیر پارلیمانی امور مرتضیٰ سولنگی نے سینیٹ میں وقفہ سوالات کے دوران سینیٹر مشتاق احمد کے سوال پر جواب میں کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کی تقرری نگران حکومت نے نہیں کی، وہ پہلے بھی چیئرمین رہ چکے ہیں انکی کارکردگی چیک کی جا سکتی ہے موجودہ نگران حکومت نے ان کے اختیارات محدود کر دیئے ہیں،وہ کوئی بنیادی فیصلہ نہیں لے سکتے اور جو الیکشن ہیں اس کا حکم بھی دیا ہے،

    آئن لائن کھیلوں میں جوئے کےسائٹس اور کرکٹ میچوں میں جوئے کیلئے پاکستانیوں کا استعمال پر سینیٹ میں تحریری جواب جمع کروایا گیا جس میں کہا گیا کہ ویب سائٹس بعض غیرملکیوں کی جانب سے کنٹرول کیے جاتے ہیں،پلیٹ فارمز پاکستان میں خدمات کی پیشکش تو نہیں کررہے

    سعودی عرب سے رہا قیدیوں کی تفصیلات سینیٹ میں پیش
    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان کے بعد سعودی عرب کی جیلوں سے 4 ہزار 130 پاکستانی قیدی رہا ہوئے،وزارت خارجہ نے تفصیلات سینیٹ میں پیش کردیں، وزارت خارجہ نے تحریری جواب میں کہا کہ اکتوبر 2019 کے بعد سے اب تک 4130 پاکستانی سعودی عرب سے رہا ہوئے ہیں، سال 2019 میں 545, 2020 میں 892, 2021 میں 916 پاکستانی، 2022 میں 1331 اور سال 2023 میں 447 پاکستانی قیدی سعودی عرب سے رہا ہوئے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ بتانا مشکل ہے کہ رہائی پانے والوں میں سے کتنے سعودی حکومت کی اعلان کردہ نرمی کی وجہ سے رہا ہوئے ہیں.

    ادویات کی قیمتوں‌میں اضافہ، سینیٹ میں بحث،ہم نے اضافہ نہیں کیا، نگران وزیر صحت
    سینیٹ اجلاس میں ادویات کی قلت ،قیمتوں میں اضافے کا معاملہ بھی زیر بحث آیا،سینیٹر مشتاق احمد نے ادویات کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق بات کی،سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ ادویات کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے،صرف مرگی کی دوا کی قیمت میں کافی اضافہ ہوا ہے مجھے پتہ ہوتا تو ادویات ساتھ لے آتا، نگران وزیر صحت ندیم جان نے ایوان میں کہا کہ ” ہماری حکومت میں سات پیسے دوا مہنگی نہیں ہوئی یہ اضافہ سی پی آئی پالیسی کے تحت اضافہ ہوا ہے ہم نے خود نہیں کیا، اگر کوئی ثبوت آپکے پاس ہے تو لے آئیں دس سے پندرہ قسم کی دوا متعلق ڈریپ نے بتایا کہ فارما کو نقصان ہورہا ہے ہم نے ڈریپ کو کہا ہے فارما سے بات کریں، آئن لائن سروس اور پورٹل سروس سے مانیٹرنگ ہورہی ہےاب تک 77 شکایات درج ہوئیں جس پر ایکشن ہوا ہم روزانہ کی بنیاد پرذخیرہ اندوزی اور گراں فروشی پر کارروائی کررہے ہیں”

    سینیٹر بہرامند تنگی نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ادویات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، بہت سی اہم ادویات کافی مہنگی ہوگئی ہیں، اس معاملے کو قائمہ کمیٹی کو بھجوایا جائے،سینیٹر کامران مرتضی نے کہا کہ ادویات مہنگی ہونے کے باوجود صحت حکام کو پتہ تک نہیں بتایا جائے اسپتال کی مد میں کتنی ادویات جارہی ہیں اور کتنے کی خریدی جارہی ہیں؟ نگران وزیرصحت ندیم جان نے کہا کہ ادویات کی شارٹیج ہے لیکن اتنا نہیں کہ کنٹرول نہ ہوسکے، ہم ادویات کو دیکھ رہے ہیں آپ بھی ہماری آواز بنیں،سینیٹر فوزیہ ارشد نے کہا کہ کہا گیا عالمی ادارہ صحت اور یونیسف ہمیں فنڈز نہیں دیتے،کیا آپکے کہنے پر وہ فنڈز دیتے ہیں؟ ضروریات کیا آپ بتاتے ہیں؟نگران وزیر صحت ندیم جان نے کہا کہ ہم انہیں اپنی ضروریات بتاتے رہتے ہیں، جسے وہ اپنے اسٹاک سے مہیا کرتے ہیں، ہمارا سسٹم بہت کمزور ہے اس پر سرمایہ کاری ہونی چاہیے،سینیٹر بہرامند تنگی نے کہا کہ غیر معیاری اور جعلی ادویات کی روک تھام متعلق کیا حکمت عملی ہے؟ اگر سب بہترین وسائل موجود ہیں تو ملک میں ایک نمبر دو نمبر نہیں بارہ نمبر ادویات کیوں ہیں؟ نگران وزیر صحت ندیم جان کا کہنا تھاکہ 262 دوائیاں آئیں کہ ان کی قیمت بڑھائیں،لیکن ہمیں عوام کی قوت خرید کا پتہ ہے، ہماری پالیسی کے مطابق دوائی مہنگی نہیں ہوئی، 2018 میں پالیسی بنی کہ فارما کمپنی سات فیصد اور دس فیصد تک قیمتیں بڑھا سکتی ہیں پھر 2021 میں اس کو بڑھایا گیا، سی پی آئی کے تناظر میں قیمتیں بڑھیں ، اسکے علاوہ اگر کوئی اضافہ ہوا تو سامنے لائیں،ہم ایکشن لیں گے،

    سینیٹر مشتاق احمد نے پمز اور پولی کلینک میں ادویات کی قلت کا معاملہ اٹھادیا، سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ حکومت ادویات کی قلت کو کیوں ختم نہیں کر رہی،وزارت صحت نے تحریری جواب میں کہا کہ پمز کو چند ادویات کی کمی کا سامنا ہے، ایک تو بجٹ کم ہونے کے باعث ادائیگی کے مسائل کی بابت ادویات کی قلت ہے، دوسرا مہنگائی کے باعث طلب اور رسد میں غیر مطابقت واقع ہو جاتی ہے، پمز کے ساتھ ساتھ پولی کلینک ہسپتال میں بھی بعض ادویات کی قلت کا انکشاف سامنے آیا ہے،پولی کلینک ہسپتال میں اینٹی ریبیز کی ویکسینیشن بھی دستیاب نہ ہونے کا انکشاف سامنے آیا، سینیٹر ہمایوں مہمند نے کہا کہ پمز کے حالات بہت زیادہ خراب ہوگئے ہیں،سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ مرگی کی دوائی آٹھ دس مہینے سے مارکیٹ میں نہیں ہے،

    کرونا کی نئی قسم، سینیٹ میں سوال،ابھی کوئی کیس پاکستان میں نہیں، جواب
    سینیٹر محسن عزیز نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سننے میں آرہا ہے کہ پاکستان میں کوئی نئی قسم کا کورونا آیا ہے، کیا یہ سچ ہے اور اس کے لئے حکومت کیجانب سے کیا اقدامات کئے جارہے ہیں؟ جس پر نگران وزیر صحت ندیم جان نے کہا کہ ابھی تک کوئی بھی کورونا کا نیا کیس پاکستان میں نہیں آیا، ہم اس معاملے پر ریڈ الرٹ پر ہیں، ہم نے تین مرتبہ ایڈوائزری بھی جاری کی ہے۔ پیمرا سے گزارش ہے کہ ایڈوائزری کو چلائیں، ایڈوائزری میں واضح کہا ہے کہ کوئی نیا کیس نہیں آیا تاہم احتیاط کی جائے.

    یوریا کھاد کے دو کارخانے بند رہے جس کی وجہ یوریا کھاد میں کمی آئی ہے
    سینیٹ میں یوریا کھاد کی قلت اور بڑھتی ہوئی قیمتوں سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے وزیر اطلاعات و نشریات مرتضی سولنگی نے کہا کہ کہ زراعت ہماری معیشت کا ایک چوتھائی ہے ،ہم جتنے منصوبے بنارہے ہیں وہ زراعت کے بغیر نہیں چل سکتے ،دولاکھ بیس ہزار ٹن یوریا کھاد درآمد کی گئی ہے ،یوریا کھاد کے دو کارخانے بند رہے جس کی وجہ یوریا کھاد میں کمی آئی ہے ،باہر سے کھاد منگوانے کا فیصلہ لیٹ کیا گیا جس کی وجہ سے کھاد مہنگی ہوئی ہے ،صوبوں کو یوریا کھاد کی سپلائی بڑھائی ہے،مافیاز کے خلاف ایف آئی آر ز کا اندراج بھی کروائے ہیں ،یوریاد کھاد کی قیمت چار ہزار روپے ہے

    سینیٹ میں قائد ایوان سینیٹر اسحاق ڈار نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ گلوبلی ہمارا سوشل سیکٹر پر بہت کم خرچ ہے، تمام صوبوں کی یہاں نمائندگی ہے، صوبوں کے وسائل ان کے پاس ہیں،کہاجاتا ہے وزیراعظم ہونے سے بہتر ہے صوبے میں چیف منسٹر ہوں،صوبے مل کر وفاقی حکومت کے ساتھ طے کریں کہ صحت اور تعلیم پر خرچ میں کئی گنا اضافہ ہونا چاہئے،

    حماس کے ترجمان خالد قدومی سینیٹ اجلاس کے دوران گیلری میں موجود تھے، سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ ہمیں فلسطینی بھائیوں پر فخر ہے، پاکستان فلسطینی عوام کی مکمل حمایت کرتا ہے،پاکستانی عوام فلسطین کے ساتھ ہیں، سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ اسرائیل کسی بین الاقوامی قانون کو خاطر میں نہیں لاتا،او آئی سی اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کرے، او آئی اسی پبلک ہیئرنگ کرے،امریکہ نے اسرائیل کو سپورٹ دی ہے، عالمی برادری اس کا نوٹس لے

    ڈاکٹر مہر تاج روغانی نے ادویات کی قلت پر توجہ دلاؤ نوٹس دیا،

    فوج مخالف پروپیگنڈہ کےخلاف سینیٹ میں قرارداد متفقہ طور پر منظور

    تمام امیدواران کو الیکشن کا برابر موقع ملنا چاہئے

    عام انتخابات کے دن قریب آئے تو تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ 

     این اے 15سے نوازشریف کے کاغذات نامزدگی منظور

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    انتخابات سے متعلق سروے کرنے پر ٹی وی چینلز کیخلاف کارروائی کا حکم

    تحریک انصاف کے وکیل شعیب شاہین چیف جسٹس پاکستان کے سامنے پیش

    ٹکٹوں کی تقسیم،ن لیگ مشکل میں،امیدوار آزاد لڑیں گے الیکشن

    الیکشن کمیشن کا فواد حسن فواد کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

  • قائمہ کمیٹی انسانی حقوق میں سرِعام پھانسی کیخلاف قراداد منظور

    قائمہ کمیٹی انسانی حقوق میں سرِعام پھانسی کیخلاف قراداد منظور

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں سرعام پھانسی کے معاملے پر غور کیا گیا

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی انسانی حقوق میں سرِعام پھانسی کیخلاف قراداد منظور، سرعام پھانسی کی مخالفت کی گئی ، سیکرٹری انسانی حقوق نے کہا کہ ہمیں سرِعام پھانسی نہیں دینی چاہیے،قومی اور بین الاقوامی اثرات ہیں،دنیا کی توقع ہے کہ ہم سزائے موت ختم کریں،اجلاس میں سرِعام پھانسی کے خلاف زیادہ ووٹ آگئے،اتنی جلدی ووٹنگ کرانے پر مہرتاج روغانی نے اجلاس سے واک آؤٹ کر دیا، مشاہد حسین سید نے کہا کہ یاد رکھیں آخر میں سیاستدانوں کو سرِعام پھانسی ہو جائے گی،سرِعام پھانسی کی مخالفت پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی انسانی حقوق کی قرارداد سینیٹر ولید اقبال نے پڑھی ،قرارداد میں کہا گیا کہ کمیٹی سرِعام پھانسی کی مخالفت کرتی ہے، سینیٹ سے درخواست ہے ایسا کوئی قانون منظور نہ کرے جس میں سرِعام پھانسی ہو،

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے چیئرمین سینیٹر ولید اقبال نے کہا کہ سرعام پھانسی کے معاملے پر ایک بل داخلہ کمیٹی نے منظور کیا تھا مجھے بطور چیئرمین اس کے خلاف بہت کالز آئیں کہ آپ اس کا نوٹس لیں، داخلہ کمیٹی نے اس بل کو انسانی حقوق کے تناظر میں نہیں دیکھا تھا. سیکرٹری انسانی حقوق نے قائمہ کمیٹی میں کہا کہ سرعام پھانسی کے قومی اور بین الاقوامی طور پر اثرات ہیں، سر عام پھانسی یہ حساس مسئلہ ہے، بین الاقوامی ڈونرز کے سزائے موت سے متعلق سخت مؤقف ہیں، پاکستان کے قانون میں سزائے موت اور سرعام پھانسی کی اجازت ہے دہشت گردی، ریپ، ہائی جیکنگ، آرمی میں بد اخلاقی اور توہین رسالت پر سزائے موت کی سزا ہے،امریکی ریاستوں میں بھی سزائے موت کی سزا دی جاتی ہے ، یورپ کے اکثر ممالک میں سزائے موت کی سزا نہیں ، اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین کہتی ہے کہ سزائے موت کو کم کیا جائے، سیکشن 22 انسدادِدہشتگردی کے مطابق حکومت سزائے موت کا طریقہ اور جگہ کا تعین کرسکتی ہے. اس کا مطلب ہے کہیں بھی سزائے موت دی جا سکتی ہے یعنی سرعام پھانسی انسدادِ دہشت گردی قانون میں موجود ہے

    سیکریٹری انسانی حقوق نے قائمہ کمیٹی اجلاس میں مزید کہا کہ لاہور ہائیکورٹ نے سرعام پھانسی سے متعلق زینب ریپ کیس میں فیصلہ دیا، فیصلہ ہے کہ جابرانہ جرم پر سرعام پھانسی کی طرح کی جابرانہ سزا نہیں دی جا سکتی پاکستان نے بین الاقوامی سات انسانی حقوق کنونشن پر دستخط کر رکھے ہیں دنیا کی توقع ہے کہ ہم سزائے موت ختم کریں، یورپی یونین نے جی ایس پی اسٹیٹس نظرثانی پر سزائے موت معطل کرنے کا کہا، وزارتِ انسانی حقوق کا کہنا ہے سرعام پھانسی پاکستان کے بین الاقوامی مفاد میں نہیں، سرعام پھانسی سے ملک کا دنیا میں تشخص خراب ہوگا، ہمیں سرعام پھانسی نہیں دینی چاہیے، سرعام پھانسی گلف ممالک میں ہوتی ہیں، لوگ منشیات پر سعودی عرب میں گرفتار ہوتے ہیں لیکن پھر بھی ڈرگ لے کر جاتے ہیں،

    اجلاس میں سینیٹر مشاہد حسین سید کا کہنا تھا کہ ضیاء دور میں لاہور میں پپو کی سرعام پھانسی ہوئی تھی، پاکستان میں آخری سرِعام پھانسی کب ہوئی،سیکرٹری انسانی حقوق نے کہا کہ جیل رولز سرعام پھانسی کی اجازت نہیں دیتے جیل رولز کہتے ہیں پھانسی دس گیارہ لوگ دیکھیں، ایران میں منشیات پر سرعام پھانسی دی جاتی تھی، ایران نے اب منشیات پر سزائے موت ختم کردی ہے،ہم نے بھی اپنی حکومت کو کہا ہے منشیات سے سزائے موت ختم کریں کوئی شواہد نہیں کہ پھانسی سے منشیات کا جرم رکے،

    کوئٹہ ویڈیو اسکینڈل،ہدایت خلجی کو سرعام پھانسی دینے کا مطالبہ

    پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس،33 بل منظور،زیادتی کے مجرم کو سرعام پھانسی کی ترمیم مسترد

    خواتین اور بچوں کے ساتھ زیادتی،سرعام پھانسی پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہو گا، سینیٹر فیصل جاوید

    بیوی طلاق لینے عدالت پہنچ گئی، کہا شادی کو تین سال ہو گئے، شوہر نہیں کرتا یہ "کام”

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

    خواتین اور بچوں کے ساتھ زیادتی، ملزم کو کیسے نامرد بنایا جائیگا؟ تفصیل سامنے آ گئی

    خاتون پولیس اہلکار کے کپڑے بدلنے کی خفیہ ویڈیو بنانے پر 3 کیمرہ مینوں کے خلاف کاروائی

    غیر ملکی خاتون کے سامنے 21 سالہ نوجوان نے پینٹ اتاری اور……خاتون نے کیا قدم اٹھایا؟

    وزیراعظم نے زیادتی کے مجرم کی سرعام پھانسی کی مخالفت کردی،

    بچوں کے ساتھ جنسی اورجسمانی تشدد کا حل سرعام پھانسی دینا نہیں بلکہ..عدالت نے کیا حل بتایا؟

  • شیر افضل مروت کیخلاف کوئی کرپشن چارجز نہیں،سیکرٹری وزارت ہاوسنگ

    شیر افضل مروت کیخلاف کوئی کرپشن چارجز نہیں،سیکرٹری وزارت ہاوسنگ

    سینیٹ کی ہاوسنگ کمیٹی میں پی ٹی آئی رہنما شیر افضل مروت کی بطور ڈی جی فیڈرل گورنمنٹ ہاوسنگ اتھارٹی مبینہ کرپشن کی گونج .لیگی سنیٹر افنان اللہ نے بولے اگر کرپشن پی ٹی آئی کرے تو اسکی اجازت کیسے ہوسکتی ہے؟

    سینیٹر حاجی ہدایت اللہ کی زیر صدارت قائمہ کمیٹی ہاوسنگ اینڈ ورکس کااجلاس ہوا، اجلاس میں پی ٹی آٔئی رہنما شیر افضل مروت کی بطور ڈی جی فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی تعیناتی اور مبینہ کرپشن شکایات پر غور کیا گیا، حکام نے بتایا کہ شیر افضل خان نیازی 26 ستمبر 2008 کو ڈائریکٹر ایڈمن کی طور پر تعینات ہوئے،جس پر سینٹر افنان اللہ نے پوچھا کہ انہوں نے اپنے عہدے کے دوران پلاٹ اپنے نام کروائے؟اس پر سنیٹر دوست محمد بولے یہ پلاٹس سب کا استحقاق ہیں ،

    معاملے پر سینیٹر دوست محمد خان اور سینیٹر افنان اللہ خان کے درمیان لفظی نوک جھونک ہوگئی ،سنیٹر افنان اللہ نے اعتراض اٹھایا سنیٹر دوست محمد کمیٹی کے رکن نہیں جو کمیٹی کا ممبر نہیں وہ یہاں نہیں بول سکتا ہے ،جس پر چییئرمین کمیٹی نے سینیٹر دوست محمد خان کو کمیٹی سے جانے کا کہہ دیا، سنیٹر دوست محمد نے جاتے یہ بھی کہہ گئے کہ ذاتی ایجنڈے پر لوگوں کو انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے، سیکرٹری وزارت ہاوسنگ نے بتایا کہ ہمارے پاس ایسا ریکارڈ نہیں جس سے شیر افضل مروت کے خلاف کوئی کرپشن چارجز ہوں،شیر افضل مروت کو ضابطہ اور قانون کے مطابق  الاٹ ہوا،

    سنیٹر افنان اللہ بولے شیر افضل مروت کو کرپشن چارجز پر جج کی نوکری سے نکالا گیا تھا اگر کرپشن پی ٹی آئی کرے تو اس کی اجازت ہے، باقی پر قانون لاگو ہوتا ھے تو پی ٹی آئی پر کیوں نہیں اجلاس میں سنیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ پارک روڈ ہاوسنگ اسکیم کیلئے زمین 200کنال ہے،آپ نے 2600,کنال کے حساب سے لوگوں کو الاٹ منٹ لیٹر کیسے بانٹے,چار مئی کے اجلاس میں بتایا گیا ہمارے پاس زمین نہیں ہے اب زمین کہاں سے ملی ؟ قائمہ کمیٹی میں وزارت ہاوسنگ اور فیڈر ل ایمپلائرز ہاوسنگ اتھارٹی کے حکام جواب دینے میں ناکام رہے

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی پر ایک مزید مقدمہ درج کر لیا گیا

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

    بشریٰ بی بی نے شوہر کے لئے چار سہولیات مانگ لیں

    پی ٹی آئی کورکمیٹی میں اختلافات،وکیل بھی پھٹ پڑا

     مروت کی گرفتاری کے بعد الیکشن کمیشن کس منہ سے کہتا ہے لیول پلینگ فیلڈ تحریک انصاف کو دی 

  • ریڈیو پاکستان میں پنشنر کی تعداد ملازمین سے زیادہ،مالی معاملات کی وجہ سے متعدد پروگرام بند

    ریڈیو پاکستان میں پنشنر کی تعداد ملازمین سے زیادہ،مالی معاملات کی وجہ سے متعدد پروگرام بند

    ایوان بالاء کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس سینیٹر فوزیہ ارشد کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاوس میں منعقد ہوا۔کمیٹی اجلاس میں 19 اکتوبر 2023 کو منعقدہ کمیٹی اجلاس میں 53 ڈیلی ویجز ملازمین کی بھرتیوں کے حوالے سے دی گئی سفارشات، پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان میں 9 اگست 2023 سے اب تک کی گئی بھرتیاں،ڈی جی پاکستان براڈ کارپوریشن سے ریڈیو پاکستان میں نئی اصلاحات اور بہتری کے حوالے سے کی گئی گفتگو پر عمل درامد کے علاوہ پاکستان براڈ کاسٹنگ ایسوسییشن کے کردار، کارکردگی اور فنکشنز کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔

    ڈی جی ریڈیو پاکستان نے کمیٹی کو بتایا کہ قائمہ کمیٹی کی ہدایت پر ڈپٹی کنٹرولر کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دے دی گئی تھی او ر اس کی رپورٹ قائمہ کمیٹی کو فراہم کر دی گئی ہے۔ اسٹاف کی ضرورت تھی ضرورت کی بنیاد پر 53 سٹاف کو عارضی طور پر رکھا گیا تھا۔ڈی جی ریڈیو نے بتایا کہ ریٹائرڈ ملازمین کی جگہ نئی بھرتیاں نہیں کی گئیں ہیں سٹاف کی بہت کمی ہے سوشل میڈیا کے لیے ضرورت کے تحت بھرتی کی گئی۔ سینیٹر فوزیہ ارشد نے کہا کہ ہم نے میرٹ اور سٹاف کے حوالے سے معلومات مانگی تھیں وہ فراہم نہیں کی گئیں کمیٹی کو بتایا گیا کہ 53 میں سے 18 لوگ کام پر موجود ہیں باقی تنخواہ نہ ملنے کی وجہ سے جا چکے ہیں جس پر اراکین کمیٹی نے کہا کہ اس طرح ملازمین رکھنا اور ہٹانا نا مناسب ہے اس سے ادارے کی بھی بدنامی ہوتی ہے۔ ڈی جی ریڈیونے کہا کہ ریڈیو پاکستان میں ضرورت پر بکنگ پر کام لیا جاتا ہے اور اس کے مطابق ادائیگی کی جاتی ہے۔چیئر پرسن کمیٹی فوزیہ ارشد نے کہا کہ ریڈیو پاکستان کو ایڈہاک ا زم پر چلانے سے بہتری ممکن نہیں ہے مستقل حل کے لیے حکمت عملی تیار کی جائے۔ سینٹر مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ حیدرآباد ریڈیو اسٹیشن ویران ہو چکا ہے ملک کے نامور فنکار وہاں کام کرتے تھے ڈی جی ریڈیو نے کہا کہ سٹاف کی شدید کمی ہے 2019 میں 1200 سے زائد کنٹریکٹ ملازمین فارغ ہو گئے تھے اور مالی مسائل کی وجہ سے بہت سے پروگرام بھی بند ہو گئے تھے آلات اور ٹرانسمیٹرز بہت پرانے ہیں۔بجٹ کا 76 فیصد تنخواہوں اور پینشن پر خرچ ہو جاتا ہے اور ریڈیو پاکستان سرکاری اداروں میں سب سے زیادہ پرانا ادارہ ہے۔پینشنرزکی تعداد ملازمین سے زائدہے۔وفاقی وزیر اطلاعت و نشریات مرتضی سولنگی نے کہا کہ ان اداروں میں اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔ آئندہ اجلاسوں میں ماتحت اداروں سمیت تمام سٹیک ہولڈرز کو بلا کر جائزہ لیا جائے اور موثر تجاویز تیار کی جائیں۔ اس لیئے قائمہ کمیٹی جو ہدایات دی گی عمل کیا جائے گا۔سیکٹری اطلاعات نے کہا ریڈیو پاکستان کی بہتری کیلئے بجلی بلوں کی طرز پر ٹی وی فیس کے ساتھ 15روپے ریڈیو فیس لینے کی تجویز زیر غور ہے۔ سینیٹر فوزیہ ارشد نے کہا کہ غریب لوگوں سے پہلے بھی ٹی وی فیس وصول کی جا رہی ہے اور اب ریڈیو فیس لینا منا سب نہیں۔

    پی ٹی وی میں ہیڈ آف ڈرامہ اینڈ فلم پروڈکشن کا پیکج 8 لاکھ ،تفصیلات طلب
    ڈی جی ریڈیو پاکستان نے9 اگست سے اب تک کی بھرتیوں کے حوالے سے بتایا کہ 43 لوگ ایک پروجیکٹ کے لیے رکھے گئے تھے ۔ منصوبہ کی مدت ختم ہو گئی ہے اور PC-4 منطوری کے مراحل میں ہے۔ا منصوبے کو جاری رکھنے کے لیے 10 افراد موجود ہیں باقی جا چکے ہیں جن کو 32 سے 40ہزار تنخواہ ماہوار ملتی ہے۔ پی سی فور منظور ہونے کے بعد مستقل بھرتیاں کی جائیں گی۔پی ٹی وی کے حوالے سے بتایا کہ 70 نئے لوگ رکھے گئے تھے جس میں سے 8 اینکرز اور باقی ریسرچرزہیں پروگرامز کے مطابق لوگ بھرتی کیے جاتے ہیں جو عارضی ہوتے ہیں پروگرام ختم ہونے پر وہ فارغ ہو جاتے ہیں۔سینٹر فوزیہ ارشد نے کہا کہ دو لاکھ سے 8 لاکھ تنخواہ ادا کی جا رہی ہے ان کی تقرری اور پیکج کا طریقہ کار مقرر کرنا چاہیے وفاقی وزیر اطلاعت مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ مارکیٹ ویلیو کے حساب سے لوگ رکھے جاتے ہیں اور اسی تناسب سے پیکج مقرر ہوتے ہیں۔ پی ٹی وی میں پیکج سب سے کم ہیں۔سینٹر عرفان الحق صدیقی نے کہا کہ ہیڈ آف ڈرامہ اینڈ فلم پروڈکشن کا پیکج 8 لاکھ ہے ان کی تقرری کے عمل کی تمام تر تفصیلات کمیٹی کو فراہم کی جائیں۔

    ٹی وی چینلز پر کچھ ڈرامے دکھائے جا رہے وہ فیملی کے ساتھ بیٹھ کر دیکھنے کے قابل نہیں،سینیٹر فوزیہ ارشد
    ای ڈی پاکستان براڈکاسٹنگ ایسوسی ایشن نے کمیٹی کو پی بی اے کی کارکردگی اور فنکشنز بارے تفصیلی آگاہ کیا سینیٹر فوزیہ ارشد کے سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ پیمرا میں شکایات کا جائزہ لینے کیلئے کونسل آف کمپلینٹس ہوتی ہے جو 2.5سال سے غیر فعال ہے جس کی وجہ سے شکایات کا ازالہ ممکن نہیں ہے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ کونسل آف کمپلینٹس کے حوالے سے تمام کام مکمل ہو چکا ہے کیبنیٹ سے منظوری حاصل کرنا باقی ہے۔ سینیٹر فوزیہ ارشد نے کہا کہ ٹی وی چینلز پر کچھ ڈرامے دکھائے جا رہے ہیں وہ فیملی کے ساتھ بیٹھ کر دیکھنے کے قابل نہیں ہیں۔ کچھ چیزیں ہماری روایات اور اخلاقیات کے خلاف ہیں۔موثر حکمت عملی اختیا ر کرکے اپنی ثقافت،روایات،رسم و رواج اور اخلاقیات کے مطابق ڈرامے چلانے چاہیے . آج کے اجلاس میں سینیٹرز عرفان الحق صدیقی،مولا بخش چانڈیو،محمد طاہر بزنجو،نسیمہ احسان کے علاوہ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مرتضیٰ سولنگی،سیکرٹری اطلاعات،چیئرمین پیمرہ،ڈی جی ریڈیو،ای ڈی پی بی اے اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی

    پی ٹی وی کے پاس پرانے کیمرے، سپیئر پارٹس نہیں ملتے،قائمہ کمیٹی اجلاس میں انکشاف

    پی ٹی وی سپورٹس پر اینکرز کی دس دس گھنٹے کی تنقید ، قائمہ کمیٹی نے تجزیوں کو غیر معیاری قرار دے دیا

    فلم پالیسی کو بہت جلد عملی جامہ پہنایا جائے گا، قائمہ کمیٹی تعاون کرے گی: سینیٹر فیصل جاوید

    پاکستان کے علاقے کو دشمن ملک کے ساتھ دکھانا بہت بڑا جرم،قائمہ کمیٹی نے پی ٹی وی سے کیا جواب طلب

    ڈائریکٹوریٹ آف الیکٹرانک میڈیا کیا کر رہا ہے؟ قائمہ کمیٹی نے بریفنگ مانگ لی

    موجودہ دور کے ڈرامے صرف خواتین کیلئے بنائے گئے جو بے حیائی پھیلا رہے ہیں،قائمہ کمیٹی

    حکومت کے حق میں آرٹیکلز لکھنے پر اشتہارات ملتے ہیں، قائمہ کمیٹی میں انکشاف

    قائمہ کمیٹی کا اجلاس،تنخواہیں کیوں نہیں دی جا رہیں؟میڈیا ہاﺅسز کے اخراجات اور آمدن کی تفصیلات طلب

    میں نے صدر عارف علوی کا انٹرویو کیا، ان سے میرا جھوٹا افیئر بنا دیا گیا،غریدہ فاروقی

  • اسلام آباد،سٹریٹ کرائم،موبائل،موٹرسائیکل چوری کی وارداتوں میں اضافہ

    اسلام آباد،سٹریٹ کرائم،موبائل،موٹرسائیکل چوری کی وارداتوں میں اضافہ

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کااجلاس چئیرمین کمیٹی سینیٹر محسن عزیز کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا،

    اجلاس میں سینیٹرز کامل علی آغا، سیف اللہ ابڑو، شہادت اعوان، فوزیہ ارشد، دنیش کمار، ثانیہ نشتر، سردار محمد شفیق ترین اور ثمینہ ممتاز زہری نے شرکت کی-نگران وزیرداخلہ سرفراز بگٹی، اسپیشل سیکریٹری داخلہ،اسلام آباد کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر ، آئی جی سندھ، ڈی سی اسلام آباد، چئیرمین سی ڈی اے بھی اجلاس میں شریک ہوئے-

    اجلاس میں سینیٹر ثانیہ نشتر کی جانب سے پیش کئے گئے "The Rehriban livelihood Protection Bill, 2023″ پر تفصیلی بحث ہوئی۔موور ثانیہ نشتر نے بل کے خدوخال اور مقصد بارے کمیٹی کو بریفنگ دی۔ چئیرمین سی ڈی اے نے کہا کہ اس حوالے سے لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2015 پہلے سے ہی موجود ہے۔اگر یہ بل پاس ہوتا ہے تو ایک مساوی سٹرکچر کھڑا ہوجائےگا۔اگر پہلے سے موجود قانون میں ترمیم کرنی ہو اس کیلئے تیار ہیں جہاں بہتری کی گنجائش ہو تو اس کو بہتر ہونا چاہئے۔بل پر تفصیلی بحث کے بعد چئیرمین کمیٹی نے کہا کہ سی ڈی اے اور تمام متعلقہ ادارے دونوں بلز کا ایک تقابلی جائزہ اگلی میٹنگ میں پیش کریں۔اگلی میٹنگ میں دونوں بلز کا تقابلی جائزہ دیکھ کر ثانیہ نشتر کی طرف سے پیش کئے گئے بل کے حوالے سے فیصلہ کریں گے۔
    سینیٹر شہادت اعوان کی جانب سے پیش کیا گیا ” The Pakistan Penal Code (amendment) Bill, 2023 (Amendment in section 377A of PPC) ترمیمی بل، حکومت کی طرف سے جواب نا آنے پر موخر کردیا گیا۔
    اجلاس میں سینیٹر شہادت اعوان کی جانب سے پیش کئے گئے بلز ” The Provincial Motor vehicles ( Amendment)، Bill 2023 (Insertion of new section 101A) اور ” The Islamabad Capital Territory Charities Registration, Regulation and Facilitation (Amendment) Bill, 2023″ متفقہ طور پر منظور کئے کر لئے گئے۔

    صحافی جان محمد مہر کے قاتل کچے کے علاقے میں، چھاپے مارے جا رہے، آئی جی سندھ
    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پارلیمنٹری رپورٹرز ایسوسیشن کے نمائندوں نے مشہور صحافی جان محمد مہر کے قتل کا معاملہ اٹھایا۔ان کا کہنا تھا کہ 108 دن ہوگئے ہیں لیکن قاتل گرفتار نہیں ہوسکے ہیں۔ آئی جی سندھ اور ایس ایس پی سکھر نے معاملے پر کمیٹی کو بریفنگ دی۔آئی جی سندھ نے کہا کہ فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کے وفد کے ہمراہ چیف منسٹر سندھ سے اسی معاملے پر ملاقات ہوئی جنہوں نے 30 دن کا وقت دیا ہے جس میں 12 دن گزر چکے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اطلاعات کے مطابق جان محمد مہر کے قاتل کچے کے علاقے میں داخل ہوئے ہیں۔قاتل کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔گرفتاری کیلئے اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں۔چئیرمین کمیٹی نے آئی جی سندھ کے کام اور دلیری کو سراہا اور کیس کو جلد منتقی انجام تک پہنچانے کیلئے ہدایات جاری کی۔

    چمن دھرنا، شرکاء کے پاس جائیں گے،نگران وزیر داخلہ
    اجلاس میں سینیٹر سردار محمد شفیق ترین نے چمن بارڈر پر گزشتہ کئے روز سے جاری دھرنا اور وہاں کے لوگوں کو درپیش مسائل کمیٹی میں اجاگر کئے۔انہوں نے بتایا کہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ "ون ڈکومنٹ رجیم” کے بعد چمن کے باشندوں کی تقریبا 10 ہزار دکانیں، مساجد بارڈر کے اس پر رہ گئی ہیں۔بارڈر ، ٹرانزٹ ٹریڈ بند ہیں، لوگوں کا کاروبار بند ہے۔اجلاس میں دھرنا شرکاء کے نمائندے بھی پیش ہوئے اور موجودہ حالات بارے کمیٹی کو آگاہ کیا۔نگران وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے معاملے پر تفصیل سے کمیٹی کو آگاہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسئلے کی سنگینی کا علم ہے لیکن اس وطن کی حفاظت کرنا بھی ہماری زمہ داری ہے۔انہوں نے کمیٹی کو یقین دلایا کہ ہفتہ کے اندر کوئی ایسا میکنزم بنا لیں گے کہ ان کیلئے کاروبار میں آسانی ہو اور فریقین کیلئے ون۔ون سیچویشن ہو۔یہ ہمارے لوگ ہیں ہر پلیٹ فارم پر ان کیلئے آواز اٹھاتے رہیں گے۔مسئلے کو حل کریں گے لیکن ریاست کا نقصان نا ہو یہ بھی ملحوظ خاطر رکھنا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم کے ساتھ بیٹھ کر کوئی لائحہ عمل بنا کر دوبارہ دھرنا شرکاکے پاس جائیں ان کو ساتھ لے کر چلیں گے۔

    کمیٹی میں باجوڑ کے رہائشی سلطان محمد، جن کو ایس ایچ او ضلع خیرپور چونکونارا نے گرفتار کیا اور زیر حراست تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کیا گیا تھا، کا معاملہ اٹھایا گیا۔چئیرمین کمیٹی نے آئی جی سندھ کو ہدایت کی کہ زمہ داران کے خلاف شفاف انکوائری کر کے کمیٹی کو رپورٹ پیش کریں۔آئی جی سندھ نے یقین دلایا کہ وہ فیکٹ فائینڈنگ کمیٹی بنا کر اس کی رپورٹ کمیٹی میں پیش کردیں گے۔

    اسلام آباد ،گزشتہ برس منشیات کے 900 پرچے،رواں برس 32 فیصد اضافہ
    اسلام آباد کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر نے اسلام آباد میں چوری، ڈکیتی، سٹریٹ کرائمز کے واقعات میں اضافے اور نشے کے بڑھتے رجحانات بارے کمیٹی کو بریف کیا۔انہوں نے بتایا کہ پچھلے سال کی نسبت گھروں کی چوری، اسنیچنگ میں کمی آئی ہے جبکہ سٹریٹ کرائمز میں اضافہ ہوا ہے۔ڈولفن کو بہتر بنایا ہے، مزید 1000 کیمرے اسلام آباد میں لگا دئے گئے ہیں جس کی وجہ سے بہتری آ رہی ہے۔ائیرپورٹ کی طرف جاتے ہوئے راستوں پر مزید کیمرے لگانے کی ضرورت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پچھلے سال نشے میں ملوث افراد کے خلاف تقریبا 900 پرچے ہوئے تھے جبکہ رواں سال 32 فیصد زیادہ پرچے کئے گئے ہیں۔کالجز اینڈ یونیورسٹیز پر ہماری زیادہ توجہ ہے۔انہوں نے کہا کہ اساتذہ کو بھی طلباءپر توجہ دینی چاہئے۔چئیرمین کمیٹی نے کہا کہ موبائل اور موٹرسائیکل کی چوری میں کافی اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔اس حوالے سے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔چئیرمین کمیٹی نےڈرگ ڈیلرز اور پارٹی ہاوسز کے خلاف کریک ڈاون تیز کرنے کی ہدایت کر دی،

    گاڑی یا موٹر سائیکل چلانے والے شخص پر موبائل فون کے استعمال پر پابندی
    شہادت اعوان کی جانب سے پیش کردہ پروونشل موٹر وہیکلز (ترمیمی) بل کا جائزہ لیا گیا، سینیٹر شہادت اعوان نے کہا کہ گاڑی یاموٹرسائیکل پر بیٹھ کر کوئی آدمی موبائل استعمال نہ کرے، سینیٹرسیف اللہ ابڑو نے کہا کہ یہ بل پہلے پاس ہوچکا ہے تو دوبارہ بحث کی کیا ضرورت ہے، آئی جی اسلام آباد پولیس نے بل کی ایک شق پر اعتراض اٹھا دیا،سیکرٹری کمیٹی نے کہا کہ پہلے بل لیپس ہوچکا تھا اس لیے دوبارہ لایا گیا، کمیٹی نے معمولی ترمیم کے ساتھ پروونشل موٹروہیکلز ترمیمی بل منظور کرلیا،بل کے تحت گاڑی یا موٹر سائیکل چلانے والے شخص پر موبائل فون کے استعمال پر پابندی ہوگی،بل کے تحت صرف ایمرجنسی کی صورت میں ہی موبائل فون استعمال کی اجازت ہوگی.

    آئے روز وزیراعظم کو اتار دیا جائےتو پھر ملک کیسے چلے گا ،نواز شریف

    قصے،کہانیاں سن رہے ہیں،یہ کردار تھا ان لوگوں کا،نواز شریف کا عمران خان پر طنز

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

  • نگران حکومت نے چین اور سعودی عرب سےمدد مانگ لی

    نگران حکومت نے چین اور سعودی عرب سےمدد مانگ لی

    اسلام آباد: ملکی معیشت کی بحالی کے لیے نگران حکومت نے چین اور سعودی عرب سے 11 ارب ڈالر کی مدد مانگ لی ہے۔

    باغی ٹی وی: قائمہ کمیٹی برائے خزانہ اور محصولات کا اجلاس سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی صدارت میں جمعرات کو ہوا حکومت ریٹیل، زراعت اور ریئل اسٹیٹ شعبوں پر ٹیکس نیٹ میں اضافی کی کوشش کر رہی ہے۔ یہی بات حکومت کی جانب سے تیار کیے گئے معاشی آؤٹ لک میں بھی کہی گئی ہے۔

    قائمہ کمیٹی کےاجلاس میں ڈاکٹرشمشاد اختر نے بتایا کہ وفاقی حکومت بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام کا کچھ حصہ صوبوں کومنتقل کرنےپر بھی غورکررہی ہے تاکہ وفاق پر سے بوجھ کم ہو سکے نگران حکومت کا مینڈیٹ محدود ہے لیکن وہ ان اصلاحات پر عمل درامد کرے گی جو آئی ایم ایف سے قرض کی اگلی قسط کے اصول کے لیے ضروری ہیں پاکستان کو ائی ایم ایف سے 70 کروڑ ڈالر ملنے کی امید ہے لیکن اس کی ضروریات کہیں زیادہ ہیں۔

    جشن میلادالنبی کی ملک بھر میں تقریبات

    ڈاکٹر شمشاد اختر نے کامہ کمیٹی کو بتایا کہ سعودی عرب اور چین سے 11 ارب ڈالر کی درخواست کی گئی ہے اس کے علاوہ سعودی عرب سے تیل کی سہولت بھی مانگی گئی ہے ایکسٹرنل فائنانسنگ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے پاکستان نے ورلڈ بینک جیسے اداروں سے بھی 6.3 ارب ڈالر کے اصول کے لیے کوششیں شروع کر رکھی ہیں ائی ایم ایف سے موجودہ معاہدے کےتحت پاکستان کو اپنے زر مبادلہ کے ذخائر جلد ہی نو ارب ڈالر پر پہنچانے ہیں جبکہ جون 2024 تک یہ ذخائر 12 ارب ڈالر ہونے چاہیے۔

    چترال:واٹرسپلائی پائپ لائن منتقلی،کام کا آغاز

  • قائمہ کمیٹی اجلاس، رضا ربانی پی آئی اے ملازمین کی آواز بن گئے

    قائمہ کمیٹی اجلاس، رضا ربانی پی آئی اے ملازمین کی آواز بن گئے

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ہوا بازی کا اجلاس یہاں پارلیمنٹ ہاؤس میں سینیٹر ہدایت اللہ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔

    سینیٹ کمیٹی میں پی آئی اے کی نجکاری اور ملازمین کی تنخواہوں میں عدم اضافہ کے خلاف جاری احتجاج پر غور کیا گیا۔ پیپلز پارٹی کے سینیٹر میاں رضا ربانی نے کمیٹی اجلاس میں زور دے کر کہا کہ ملازمین کو اپنے بنیادی حقوق کے لیے کسی بھی قسم کا احتجاج کرنے کا حق ہے، رضا ربانی نے مطالبہ کیا کہ پی آئی اے ملازمین کے خلاف ایف آئی آر واپس لی جائے۔ قائمہ کمیٹی اجلاس میں پی آئی اے کے سی ای او عامر حیات کا کہنا تھا کہ پی آئی اے ملازمین سے بات چیت کے لیے تیار ہیں تاہم قانون کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی۔ کمیٹی نے پی آئی اے کو ملازمین کی شکایات مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی ہدایت کی۔

    قائمہ کمیٹی نے سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ایک ریٹائرڈ ملازم حسیب کی جانب سے عوامی درخواست پر بھی غور کیا جس میں شکایت کی گئی تھی کہ سی اے اے نے 2014 سے پنشن میں اضافہ نہیں کیا ،درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ سی اے اے ملازمین کی تنخواہ اور پنشن رولز کے مطابق 2014 میں یا اس سے قبل ریٹائر ہونے والے ملازمین کی پنشن پر ہر تین سال بعد نظر ثانی کی جائے گی ،قائمہ کمیٹی نے معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک ذیلی کمیٹی بنانے کا فیصلہ کرتے ہوئے سینیٹر سلیم مانڈوی والا کو اس کا کنوینر نامزد کیا ،

    کمیٹی اجلاس میں سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے اسلام آباد ایئرپورٹ پر سامان کی ہینڈلنگ میں تاخیر کا معاملہ اجاگر کیا۔ سی اے اے حکام نے آگاہ کیا کہ بین الاقوامی معیار کے مطابق سامان کی کلیئرنس میں 40 سے 45 منٹ کا وقت درکار ہے، تاہم، تاخیر بنیادی طور پر پری کسٹم اسکیننگ، سامان کا بھاری بوجھ اور ہوائی اڈے پررش کی وجہ سے ہوئی، سول ایوی ایشن اتھارٹی گراؤنڈ ہینڈلنگ ایجنٹس کی کڑی نگرانی کر رہی ہے اور تاخیر سے بچنے کے لیے جی ایچ اے کے خلاف تعزیری کارروائی بھی کر رہی ہے۔ کمیٹی نے سی اے اے کو ہدایت کی کہ وہ جی ایچ اے کے عملے کی تفصیلات کے ساتھ اگلی میٹنگ میں سامان کی ہینڈلنگ میں درپیش مسائل کے ساتھ تفصیلات فراہم کرے۔

    پائلٹس کے لائسنس سے متعلق وفاق کے بیان کے مقاصد کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے، رضا ربانی

    کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

    ایئر انڈیا: کرو ممبرزکیلیے نئی گائیڈ لائن ’لپ اسٹک‘ ’ناخن پالش‘ خواتین کے لیے اہم ہدایات

    پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے کو مجموعی طور پر 383 بلین کا خسارہ ہے 

    سپریم کورٹ نے پی آئی اے کو نئی 205 پروفیشنل بھرتیوں کی اجازت دیدی

    اگرکوئی پائلٹ جعلی ڈگری پر بھرتی ہوا ہے تو سی اے اے اس کی ذمے دارہے،پلوشہ خان

    پائلٹس کی ابتدائی 8 سے 10 ماہ کی تربیت پر 15000 سے 20000 ڈالر کا خرچ

  • گندھارا تہذیب کے تحفظ کے حوالہ سے بل،کمیٹی میں بحث

    گندھارا تہذیب کے تحفظ کے حوالہ سے بل،کمیٹی میں بحث

    ایوان بالاء کی قائمہ کمیٹی برائے قومی ورثہ و ثقافت کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر افنان اللہ کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔

    قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں گندھارا تہذیب کے تحفظ اور پروموشن کے حوالے سے 7 اگست2023 کو منعقدہ سینیٹ اجلاس میں پیش کیے گئے گندھارا ثقافت کے فروغ اور تحفظ کے اتھارٹی بل 2023 جو سینیٹر رانا محمود الحسن، سرفراز احمد بگٹی اور محمد اکرم کی جانب سے پیش کیا گیا تھا کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔

    ڈاکٹر رمیش کمار نے کہا کہ گندھارا تہذیب پاکستان میں 70 فیصد اور باقی ممالک میں 30 فیصد پائی جاتی ہے جس کی تاریخ صدیوں پرانی ہے۔گندھارا تہذیب کی پروموشن اور تحفظ کے لئے بہت کام کیا ہے۔ گندھارا تہذیب کے فروغ اور تحفظ کے لئے صوبائی حکومتوں خیبرپختونخواہ اور سندھ نے اچھا کام کیا ہے۔ پنجاب میں وہ کام نہیں ہوا جو ہونا چاہیے تھا۔ یہ بل اس لئے متعارف کرایا گیا ہے دنیا بھر کے سیاحوں کو ایک ویب سائٹ کے ذریعے سہولت فراہم کی جا سکے۔ اس بل کا تعلق صرف وفاقی دار لحکومت تک ہوگا صوبوں کے ساتھ نہیں ہوگا تمام معلومات ویب سائٹ پر موجود ہوں گی۔گندھارا کے حوالے سے دنیا کی 2100 جامعات میں پڑھایا جارہا ہے اور لوگ اس پر تھیسس لکھ رہے ہیں۔سہولت سینٹر کھولیں گے ویزے اور اس سے متعلقہ امور کے حوالے سے سیاح مستفید ہونگے۔

    سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ قدیمی مذہبی مقامات پر متعلقہ مذہبی عبادت گاہیں بنائی جائیں۔انہوں نے کہا کہ اس بل میں اختیارات کے حوالے سے کلاز اے اور ڈی کے علاوہ باقیوں پر اتفاق کرتا ہوں۔سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ 18 ویں ترمیم کے بعد سیاحت کا شعبہ صوبوں کو منتقل ہوگیا ہے اس اتھارٹی کے قیام سے یہ صوبائی خود مختاری کے خلاف ہوگا۔ اس بل میں دیئے جانے والے اختیارات سے کافی مسائل پیدا ہونگے۔ سینیٹر فوزیہ ارشد نے کہا کہ اس اتھارٹی کے قیام سے صوبوں کی صوبائی خود مختاری سلب ہو گی۔ سینیٹر فلک ناز نے اتھارٹی بل کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صوبے کے ساتھ نا انصافی ہوگی۔ ہمارے صوبے کے 20 ہزار تاریخی مقامات ہم سے چھن جائیں گے۔

    ڈپٹی سیکرٹری قومی ورثہ ڈویژن نے کمیٹی کو بتایا کہ اس بل کو وزارت قانون سے رائے کے لئے بھیجا تو انہوں نے صوبوں کے ساتھ معاملہ اٹھانے کی بات کی کیونکہ یہ صوبائی معاملہ ہے۔ اس اتھارٹی بل کو کیبنٹ میں منظوری کے لئے سمری بھیجی اس کا بھی ابھی تک جواب نہیں آیا۔ جس پر چیئرمین کمیٹی سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ تمام صوبوں کی اس بل کے حوالے سے رائے نہیں آئی ان کو سننا ضروری ہے بہتر یہی ہے کہ اس بل کو آئندہ اجلاس تک موخر کیا جائے تب تک کیبنٹ کا فیصلہ بھی آ جائے اور بل کو بھی مزید بہتر بنایا جائے تاکہ اراکین کمیٹی کے تحفظات دور ہو سکیں۔ قائمہ کمیٹی نے بل کا جائزہ آئندہ اجلاس تک موخر کر دیا۔

    امریکا کا صحافی ارشد شریف کی موت پر اظہار افسوس،شفاف تحقیقات کا مطالبہ
    شادی سے انکار پر لڑکے نے 22 سالہ کزن کو زندہ جلا دیا،پسند کی شادی نہ ہونے پرلڑکے نے کزن کو قتل کر کے خودکشی کرلی
    اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہم کیا کہتے لیکن فٹ بال پر توجہ دینی چاہئے. زیدان
    پاکستانی ہائی کمشنر کی کینیڈین وزیر سے ملاقات؛ کثیر الجہتی باہمی شراکت داری کو مضبوط بنانے پر زور
    ایف بی آر نے چھوٹے تاجروں کیلیے سادہ انکم ٹیکس ریٹرن فارم متعارف کروا دیا
    ارشد شریف کا قتل دو الگ ممالک کا معاملہ ہے، ابھی جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کی ضرورت نہیں،چیف جسٹس