Baaghi TV

Tag: قاتل

  • قاتل نے مقتول کی بیوی کو عدالت میں شادی کی پیشکش کر دی

    قاتل نے مقتول کی بیوی کو عدالت میں شادی کی پیشکش کر دی

    لندن: قاتل نے عدالت میں مقدمے کی سماعت کے دوران مقتول کی بیوی کو شادی کی پیشکش کر دی۔

    باغی ٹی وی: مارک میڈوز کو 2022 میں کیتھ گرین کے قتل کے جرم میں 23 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی مجرم نے عدالت میں مقتول کی بیوی لوئیس گریو کو شادی کی پیشکش کی، ڈیٹیکٹیو سپرنٹنڈنٹ جون کیپس نے ٹی وی شو “سپیشل آپس: ٹو کیچ آ کرمنل” میں انکشا ف کیا “میں نے کبھی کراؤن کورٹ میں کسی کو شادی کی پیشکش کرتے نہیں دیکھا یہ واقعی حیران کن ہے۔”

    ڈیلی سٹار کے مطابق 24 سالہ میڈوز کا لوئیس گریو کے ساتھ افیئر 2021 میں شروع ہوا۔ لوئیس اپنے شوہر کیتھ اور دو بچوں کے ساتھ رہ رہی تھی لوئیس جو 13 سال بڑی تھی، نے میڈوز کو “جیزس” کا نام دیا کیونکہ اس کے بال لمبے تھے لوئیس نے کیتھ کو گھر سے نکال دیا لیکن اسے واپس آنے کے لیے بھی کہا، جس سے میڈوز کے اندر حسد بڑھتا گیا فروری 2022 کو میڈوز نے کیتھ پر حملہ کر کے اسے آٹھ مرتبہ چاقو مارا، جس سے اس کی موت واقع ہوئی۔

    حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور 2 جنوری کو ہوگا ،نوٹیفکیشن جاری

    میڈوز اور اس کے بھائی گورٹن کو قتل کے جرم میں سزا دی گئی، جبکہ لوئیس گریو کو 8 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ پولیس نے لوئیس گریو کے بیانات پر شکوک کا اظہار کیا، کیوں کہ وہ بظاہر اپنے جذبات کو کنٹرول کرتی دکھائی دیں۔وہ کبھی رو رہی تھیں اور کبھی ہنس رہی تھیں، جس نے ان کے کردار پر سوال اٹھایا۔

    اگرضرورت پڑی تو پارا چنارجانے کیلئے تیار ہیں،علامہ طاہر اشرفی

  • آزاد امیدوار ریحان زیب کے قاتل گرفتار نہ ہو سکے

    آزاد امیدوار ریحان زیب کے قاتل گرفتار نہ ہو سکے

    باجوڑ این اے 108 میں آزاد امیدوار ریحان زیب کے قاتل گرفتار نہ ہو سکے

    ریحان زیب کو دو روز قبل گولیاں مار کر قتل کیاگیا تھا،ریحان زیب تحریک انصاف کے امیدوار کے مقابلے میں آزاد الیکشن لڑ رہے تھے،ا نہوں نے تحریک انصاف کے ٹکٹ کے لئے درخؤاست دی تھی تا ہم پی ٹی آئی نے انہیں ٹکٹ نہیں دیا تھا,ریحان زیب کی موت کے بعد تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ وہ تحریک انصاف کا حمایت یافتہ امیدوار تھا تا ہم حقیقت اسکے برعکس ہے، ریحان زیب کو ٹکٹ نہیں ملا تھا بلکہ وہ آزاد امیدوار اور پی ٹی آئی امیدوار کے مقابلے میں الیکشن لڑ رہے تھے.

    دوسری جانب باجوڑ اسکاؤٹس بلڈنگ سول لائن پر پتھراؤ کے واقعے پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے،پولیس کے مطابق پتھراؤ کرنے والے 25 سے زائد افرادکے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ،ایف آئی آر کے مطابق امیدوار ریحان زیب کے قتل پر شرپسندوں نے باجوڑ اسکاؤٹس بلڈنگ سول لائن پر پتھراؤ کیا تھا،مخصوص سیاسی جماعت کے شرپسندوں نے قتل کو سیاسی مقاصدکے لیے استعمال کیا، مخصوصی سیاسی جماعت کے شرپسندوں نے مقامی افراد کو جمع کرکے مشتعل کیا، مشتعل افراد نے دروازہ توڑنےکی کوشش کی اور ریاست مخالف نعرے بھی لگائے،مظاہرین کے خلاف تھانہ خار ضلع باجوڑ میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے

    این اے 8 باجوڑ میں امیدوار کا قتل ،الیکشن کمیشن نے انتخابی امیدوار کے قتل کا نوٹس لے لیا
    الیکشن کمیشن نے آئی جی اور چیف سیکرٹری خیبر پختون خواہ سے فوری رپورٹ طلب کر لی ، الیکشن کمیشن نے حکم دیا کہ قتل میں ملوث افراد کے خلاف سخت کاروائی کی جائے۔باجوڑ میں عام انتخابات ملتوی کردیے گئے، باجوڑ میں آزاد امیدوار کے قتل کے بعد مذکورہ حلقے میں الیکشن ملتوی کئے گئے،ریحان زیب پر قاتلانہ حملے کے بعد حلقہ این اے 8 اور پی کے 22 پر الیکشن ملتوی ہوگیا۔ الیکشن کمیشن باجوڑ نے نوٹیفکیشن جاری کردیا

  • مقتول بچے کا قاتل گرفتار،علاقے میں کہرام

    مقتول بچے کا قاتل گرفتار،علاقے میں کہرام

    قصور
    کوٹرادھاکشن پولیس نے 9سالہ معصوم بچے کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم کو گرفتار کر لیا،مقتول آہوں اور سسکیوں کیساتھ دفن،علاقے میں کہرام

    تفصیلات کے مطابق
    گزشتہ جمعرات کے روز قصور کی تحصیل کوٹرادھاکشن میں محلہ ہنڈال اڈا نئی ابادی کے رہائشی جاوید بھلر کا 9 سالہ بیٹا وقار لاپتہ ہو گیا تھا جس کی کل لاش مل گئی
    مقامی پولیس نے لاش کو اپنی تحویل میں لے کر ڈی ایچ کیو روانہ کیا جہاں بچے کا پوسٹ مارٹم کرکے لاش ورثاء کے حوالے کی گئی
    مقتول بچے کی نماز جنازہ کل چار بجے آہوں اور سسکیوں کیساتھ مقامی قبرستان میں ادا کی گئی
    کوٹرادھاکشن پولیس نے مقتول کے والدجاوید بھلر کی مدعیت میں پہلے سے ہی مقدمہ درج کیا ہوا تھا جس پہ کاروائی جاری تھی
    پولیس نے مقتول کی لاش ملنے کے چند گھنٹوں بعد مقتول کے والد کے ملازم 28 سالہ اللہ دتہ عرف ببلو کو شک کی بناء پر گرفتار کرکے تفتیش کا آغاز کیا تو ملزم نے اقرار جرم کیا اور بچے کو تاوان کیلئے اغواء کا اعتراف کیا
    ملزم نے اقرار کیا کہ اس نے پیسوں کے لئے بچے کو اغواء کیا اور اسے ایک گھر میں رکھا جہاں وہ زندگی کی بازی ہار گیا
    ملزم مقتول کے والد کے ساتھ مل کر بچے کو ڈھونڈتا رہا تاکہ اس پہ کسی کو شک نا ہو

  • 9 افراد کو قتل کرنے والا سفاک ملزم 2 سال بعد گرفتار

    9 افراد کو قتل کرنے والا سفاک ملزم 2 سال بعد گرفتار

    راولپنڈی:پولیس نے 2 سال بعد 9 افراد کے قاتل کو بالآخر گرفتار کرلیا۔راولپنڈی کے تھانہ چونترہ میں 9 افراد کے قتل کے کیس میں دو سال سے مفرور ملزم بالا آخر پولیس کی حراست میں آگیا

    پولیس حکام کے مطابق ملزم رب نواز نے 2020 میں دیرینہ دشمنی پر گھر میں گھس کر 9 افراد کو قتل کردیا تھا، واقعے میں زیادہ تر خواتین قتل ہوئی تھیں۔پولیس نے بتایا کہ ملزم رب نواز تین سال سے اشتہاری تھا، جسےتھانہ صدر بیرونی نے گرفتار کیا۔

    میں آخری دن تک ارشد شریف سے رابطے میں تھا:فیصل واوڈ

    دوسری جانب تھانہ مندرہ میں درج 2016 کے قتل کے مقدمے میں مطلوب اشتہاری وحید کو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے۔پولیس حکام نے بتایا کہ 2016 میں وحید نے ساتھیوں کے ساتھ مل کر شفقت حسین کو قتل کیا تھا، اشتہاری کے ایک ساتھی کو پہلے ہی گرفتار کرلیا گیا تھا جسے عدالت نے سزائے موت سنائی۔

    پولیس کے مطابق اشتہاری وحید کو شک تھا کہ مقتو ل کے اس کی اہلیہ کے ساتھ مراسم تھے، واردات کے بعد ملزم روپوش ہوگیا تھا تاہم پولیس نے ہیومن انٹیلی جنس کی بنیاد پر گرفتار کرلیا۔

    ملک کونوجوان ہی مشکلات سےنکال سکتےہیں:سراج الحق

     

    ادھر آجضلع چمن میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے انسداد پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور لیویز اہلکار شہید ہوگیا۔

    پولیس کے مطابق بلوچستان کے ضلع چمن کے علاقے سرکی تلری کی یونین کونسل میں نامعلوم افراد نے انسداد پولیو ٹیم پر فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور لیویز اہلکار حبیب الرحمان شہید ہوگیا۔

    واقعے کے بعد شہید اہلکار کی میت کو ڈی ایچ کیو اسپتال چمن منتقل کردیا گیا، جب کہ صوبائی مشیر داخلہ میرضیالانگو نے واقعے کا نوٹس لیے ہوئے ڈپٹی کمشنر چمن سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔

    پولیس حکام کے مطابق دہشتگردوں نے لیویز اہلکار کو سر میں گولیاں مار کرقتل کیا ہے، واقعے کا مقدمہ درج کرکے حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی ہے ۔

    صوبائی مشیر داخلہ میرضیا لانگو نے کہا کہ ملک اور قوم کے لیے زندگیوں کا نذرانہ پیش کرنے والے اہلکار سیکیورٹی اداروں کے ماتھے کا جھومر ہیں، شہدا کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی۔

    واضح رہے دو روز قبل بھی مسلح افراد نے ضلع پشین کے علاقے کلی تراٹہ میں انسداد پولیو مہم کی حفاظت پر تعینات پولیس اہلکار محمد ہاشم کو فائرنگ کرکے شہید کردیا تھا۔

  • سابق ایس ایس پی راؤ انوار کو پروگرام میں بلانے پر سلیم صافی تنقید کی زد میں

    سابق ایس ایس پی راؤ انوار کو پروگرام میں بلانے پر سلیم صافی تنقید کی زد میں

    گزشتہ 18 جون کی شب معروف اینکرپرسن سلیم صافی نے سابق ایس ایس پی ملیر راؤانوار کو جیونیوز کے پروگرام جرگہ میں بلایا جس میں ان سے نقیب اللہ محسود کےقتل سمیت متعددپولیس مقابلوں پرسوالات کئے جس پر سابق ایس ایس پی نے اینکر کو جواب دیا کہ : ” میں پورے پاکستان کو چیلنج کرتاہوں کہ اگر کوکوئی نقیب اللہ ولد محمدخان کا شناختی کارڈ یا فارم (ب) لے آئے تو میں سزا کیلئے تیار ہوں۔

    ایک اور سوال کے جواب میں راؤانوار نے بتایا: “پولیس والے کاویسے بھی ففٹی فٹفی ہوتا ہے، ایک چور آتاہے اور ایک شریف آدمی اب پولیس والا چور کاساتھ دے تو شریف آدمی ناراض اور شریف آدمی کا ساتھ دو تو چور ناراض ہوجاتا ہے۔”

    قبائلی نوجوان نوید الحق اورکزئی نے باغی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے سوال کیا کہ: آخر سلیم صافی کو کیاضرورت ہے کہ ہزاروں لوگوں کے قاتلوں کو ہی اپنے پروگرام میں بلاتا ہے ؟ سلیم صافی نے سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کو اپنے ٹی وی پروگرام میں بلاکر کوئی پہلی بار کسی قاتل کا انٹرویو نہیں کیا بلکہ اس سے پہلے بھی وہ ہزاروں لوگوں اور آرمی پبلک سکول کے معصوم بچوں پر حملے کی ذمہ داری قبول کرنے والے قاتل اور ٹی ٹی پی کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کا انٹرویو کرچکے ہیں۔

    نوید نے مزید کہا کہ : بطور ایک قبائلی پختون مجھے دکھ ہوا کہ ایک پختون صحافی ہونے کی حثیت سے سلیم صافی نے صرف نقیب اللہ محسود کے قاتل کا ہی نہیں بلکہ چار سو زائد بےگناہوں کے قاتل کا انٹرویو کیا۔ لہذا انہیں یہ ضرور بتانا چاہیے کہ وہ ہمیشہ قاتلوں کا انٹرویو ہی کیوں کرتے ہیں۔
    اس کے علاوہ یہ ذمہ دار ی میڈیا کے اداروں پر بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ اس طرح کے متنازعہ اور مجرموں کی انٹرویو ز نشر نہ کرے ۔

    لیکن سلیم صافی نے اپنا موقف پیش کرتےہوئے کہاکہ:” کسی کا انٹرویو کرنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوتا کہ آپ اس انسان کے ہمنوا بن گئے ہیں ۔ انہوں نے مثال دیتےہوئے بتایاکہ میں اپنے پروگرام میں شبلی فراز کو نہیں بلاتا تھا لیکن جب وہ حکومتی ترجمان بن گئے تو پھر ان کا موقف لینا میری مجبوری بن گیا اسی طرح اسامہ بن لادن نائن الیون کا ذمہ دار تھا مگر انکے انٹرویوز سی این این اور الجزیرہ پر نشر کئے جاتے تھے۔

    صحافی فیض اللہ لکھتے ہیں کہ: “راؤ انوار کا انٹرویو ہوسکتا ہے مگر اسکے خلاف پانچ برس سے احتجاج کرتے مظاہرین کو دس سیکنڈ کے لئیے دکھایا جاسکتا ہے نا ہی انکا ایک منٹ کا انٹرویو چل سکتا ہے اسے کہتے ہیں اظہار رائے کی آزادی کا شاندار نمونہ۔”


    ایک صارف شبانہ شوکت لکھتی ہے کہ: “کیا یہ ہمارا سب سے بڑا المیہ نہیں کہ راؤ انوار جیسے سرکاری قاتل ٹی وی چینلز پر بیٹھ کر بھاشن دے رہے ہیں؟”


    اینکرپرسن سلیم صافی نے ناقدین کو جواب دیتے ہوئے اپنے ایک پیغام میں لکھا کہ: میرے ساتھ انٹرویو میں سابق ایس ایس پی راو انوار نے جو دعوے کئے تھے، اسکےجواب میں ایم کیوایم پاکستان کے فاروق دادا مرحوم کی اہلیہ کا موقف ۔۔۔۔انٹرویو میں جن لوگوں کا ذکر ہوا ہے ان میں سے کوئی بھی اپنا موقف دینا چاہے تو میرے سوشل میڈیا پلیٹ فورم حاضر ہیں۔


    ایک ٹوئٹرصارف ذیشان ممتاز نے ناقدین کے جواب پرسلیم صافی کو کہا کہ:
    جس پلیٹ فارم میں قاتل کا انٹرویو کیا انصاف کا تقاضہ ہے اسی پلیٹ فارم پر ان کی دیگر جس پر قاتل نے الزام لگایا موقع دیں ورنہ یہ ڈھونگ نہ کریں اور مظلوموں پر نمک پاشی نہ کریں

  • شوہر کی قاتل بیوی دو سال بعد آشنا سمیت گرفتار

    شوہر کی قاتل بیوی دو سال بعد آشنا سمیت گرفتار

    شوہر کی قاتل بیوی دو سال بعد آشنا سمیت گرفتارکر لی گئی،مقتول اپنی بیوی کو اس کے آشنا کے ساتھ ملنے سے روکتا تھا۔ملزمہ نے ساتھیوں کی مدد سے شوہر کو فائرنگ کر کے قتل کروادیا

    سی آئی اے صدر ڈویژن نے کارروائی کرتے ہوئے 2سال قبل شہری کے اندھے قتل کی واردات میں ملوث مقتول کی بیوی سمیت 3ملزمان کو گرفتار کر کے آلہ قتل 2پسٹل اور گولیاں برآمد کر لی ہیں۔

    تفصیل کے مطابق ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کامران عادل کی ہدایات پر انویسٹی گیشن پولیس کی سپیشل ٹیمیں جرائم پیشہ افراد کی گرفتاری اور انہیں کیفرکردار تک پہنچانے کے لیے دن رات سر گرم عمل ہیں۔ایس پی سی آئی اے عاصم افتخار کمبوہ کی سربراہی میں ڈی ایس پی سی آئی اے صدررضوان منظور نے اپنی ٹیم کے ہمراہ 2سال قبل شہری یاسر صدیقی کے اندھے قتل کی واردات میں ملوث اس کی بیوی کو ساتھیوں سمیت گرفتار کر لیا ہے۔

    ملزمہ عالیہ بی بی نے اپنے آشنا طاہر خان اور فیضان کے ذریعے شوہر کو فائرنگ کر کے قتل کروا دیا تھا۔ مقتول اپنی بیوی کو اس کے آشنا طاہر خان کے ساتھ ملنے سے روکتا تھا جس کا اسے رنج تھا۔ملزمہ نے ساتھیوں کے ساتھ مل کر اپنے شوہر کے قتل کا بھیانک منصوبہ بنایا۔

    قتل کی سنگین واردات کے بعد نامعلوم ملزمان کے خلاف تھانہ ہربنس پورہ میں قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج ہوا تھا۔ ایس پی سی آئی اے عاصم افتخار کا کہنا ہے کہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ پولیس کی اولین ترجیح ہے اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔ڈی آئی جی انویسٹی گیشن نے سفاک ملزمان کی گرفتاری پر سی آئی اے پولیس ٹیم کے لیے تعریفی اسناد کا اعلان کیا ہے۔

  • سابق بھارتی وزیراعظم راجیو گاندھی قاتل 30 سال بعد رہا

    سابق بھارتی وزیراعظم راجیو گاندھی قاتل 30 سال بعد رہا

    نئی دہلی :سابق بھارتی وزیراعظم راجیو گاندھی قاتل 30 سال بعد رہا،اطلاعات کے مطابق آج بھارت میں ایک عدالتی فیصلے نے سب کو حیران کرکے رکھ دیا ہے ، جس کے نتیجے میں بھارتی میڈیا اس وقت اس موضوع پرکھل کربات کررہا ہے، اطلاعات ہیں کہ بھارتی سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم راجیو گاندھی کو قتل کرنے میں ملوث مجرم کو قید کے 30 سال بعد رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق سن1991 میں راجیو گاندھی کے قتل کے بعد اے جی پیراری ویلن کو گرفتار کیا گیا تھا ۔یہ بھی بتایا جارہاہے کہ اے جی پیراری ویلن پہلے ہی مارچ 2022 سے پیرول پر جیل سے باہر ہے اور بھارتی سپریم کورٹ کے 3رکنی بینچ نے اب اس کی رہائی کا حکم دیا ہے۔یہ حکم بڑے لمبے عرصے سے جاری سماعتوں کے بعد دیا گیاہے

    خیال رہے کہ راجیو گاندھی کو تامل ناڈو میں ایک انتخابی جلسے کے دوران خاتون خودکش بمبارنے خود کو دھماکے سے اڑا کر قتل کیا تھا اور اے جی پیراری ویلن کو بم میں استعمال ہونے والی بیٹریاں فراہم کرنے پر سزا سنائی گئی تھی۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق یہ حملہ 1987 میں وزیراعظم راجیو گاندھی کی جانب سے سری لنکا میں قیام امن کی مبینہ کوششوں پر لبریشن ٹائیگر آف تامل ایلام نے کرایا تھا۔اے جی پیراری ویلن کو 1991 میں جب گرفتار کیا گیا تھا اس کی عمر 19 سال تھی اور پہلے اسے 1998 میں سزائے موت سنائی گئی مگر بعد ازاں اس سزا کو عمر قید سے بدل دیا گیا۔2015 میں اس کی جانب سے مرکز اور ریاستی حکومت کے پاس رحم کی درخواست جمع کرائی گئی تھی جس کے بعد سے یہ مقدمہ چل رہا تھا۔

    تامل ناڈو کے گورنر کی جانب سے رحم کی درخواست پر فیصلہ بھارتی صدر پر چھوڑ دیا گیا تھا مگر سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اس کی کوئی آئینی حیثیت نہیں اور اے جی پیراری کی رہائی کے احکامات جاری کیے۔راجیو گاندھی قتل کیس کے 6 مجرم اب بھی جیل میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں اور گزشتہ برسوں کے دوران ریاست تامل ناڈو کی حکومتوں سے ان سب کی رہائی کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔

    ادھر بھارتی میڈیا کے مطابق راجیوگاندھی کے مبینہ قاتل اے جی پیراری ویلن سے قبل ریاستی گورنر نے کیس میں سزا پانے والی ایک خاتون نالنی کی سزائے موت کو ختم کردیا تھا جبکہ 2014 میں سپریم کورٹ نے تمام قیدیوں کی سزائے موت کو ختم کردیا تھا

  • صحافی اطہر متین کا قاتل سخت سیکورٹی میں عدالت پیش

    صحافی اطہر متین کا قاتل سخت سیکورٹی میں عدالت پیش

    صحافی اطہر متین کا قاتل سخت سیکورٹی میں عدالت پیش

    انسداد دہشتگردی عدالت میں صحافی اطہر متین قتل کیس کی سماعت ہوئی

    پولیس نے گرفتار ملزم کو عدالت پیش کردیا ملزم کو بکتر بند گاڑی میں سخت سیکیورٹی میں پیش کیا گیا پولیس نے ملزم کے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تفتیشی افسر نے کہا کہ ملزم کے دیگر مفرور ساتھیوں سے متعلق تفتیش کرنی ہے، عدالت نے ملزم کو 11 مارچ تک جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا ،عدالت نے عدالت کا پولیس کو ملزم کو 12 مارچ کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دے دیا،عدالت نے آئندہ سماعت پر تفتیش میں پیش رفت کی رپورٹ بھی طلب کر لی

    اطہر متین کے قاتل کو ہفتے کے روز گرفتارکیا گیا تھا کراچی پولیس چیف غلام نبی میمن کا کہنا ہے کہ صحافی اطہر متین کو قتل کرنے والے مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔کراچی پولیس چیف غلام بنی میمن نے نجی ٹی وی سے منسلک صحافی اطہر متین کے قتل میں ملوث مرکزی اشرف بروہی کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ملزم کو سندھ بلوچستان سرحد سے حراست میں لیا گیا

    واضح رہے کہ شہر قائد کراچی میں نجی ٹی وی سے وابستہ صحافی کو دن دہاڑے قتل کر دیا گیا تھا ،واقعہ کراچی کے علاقے ناظم آباد میں پیش آیا تھا جہاں نجی ٹی وی سما ٹی وی سے تعلق رکھنے والے پروڈیوسر اطہر متین کو گولیاں مار دی گئی ہیں، گولیان لگنے سے اطہر متین کی موت ہو گئی ہے،پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ ناظم آباد کی مین شاہراہ پر پوا، موٹر سائیکل سوار مسلح ملزمان لوٹ مار کر رہے تھے تو اطہر متین نے شہری کو بچانے کے لئے موٹر سائیکل کو ٹکر ماری، جس سے وہ گر گئے اسی دوران ایک ملزم نے فائر کھول دیا ،گولیان لگنے سے کار میں سوار اطہر متین موقع پر ہی چل بسے ملزمان موقع سے فرار ہو گئے

    سادہ کپڑوں میں چھاپہ مارا گیا،سمجھا ڈاکو گھس آئے،محسن بیگ کا عدالت میں بیان

    محسن بیگ کی گرفتاری کیخلاف پی ایف یو جےکا ملک گیر احتجاج کا اعلان

    محسن بیگ کےگھر پرچھاپہ غیر قانونی ہے:عدالت کافیصلہ

    مریم نوازمحسن بیگ کے بیانیے کے ساتھ کھڑی ہوگئیں

    محسن بیگ کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ ختم کرنے کی درخواست سماعت کے لئے مقرر

    مزید کئی صحافی بھی حکومتی نشانے پر ہیں،عارف حمید بھٹی کا انکشاف

    محسن بیگ کی گرفتاری، اقرار الحسن پر تشددکیخلاف کئی شہروں میں صحافی سراپا احتجاج

    کسی جج کو دھمکی نہیں دی جا سکتی،عدالت،محسن بیگ پر تشدد کی رپورٹ طلب

    صحافی اطہر متین کا ابتدائی پوسٹ مارٹم مکمل ،واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی آ گئی

    بھائی کے قاتل کو گرفتار نہ ہوئے توخود کو تھانے کے سامنے آگ لگا دوں گا، اینکر پرسن طارق متین

    سب سےاچھے دوست کو سپرد خاک کرنے جا رہا ہوں دل رو رہا ہے،طارق متین

    اطہر متین کے قتل میں ملوث ایک اورملزم گرفتار

  • سیکورٹی اداروں کی زبردست کارروائی :صحافی اطہر متین کا مبینہ قاتل بلوچستان سے گرفتار

    سیکورٹی اداروں کی زبردست کارروائی :صحافی اطہر متین کا مبینہ قاتل بلوچستان سے گرفتار

    کراچی :سیکورٹی اداروں کی زبردست کارروائی :صحافی اطہر متین کا مبینہ قاتل بلوچستان سے گرفتار،اطلاعات کے مطابق بلوچستان کے ضلع خضدار میں پولیس و حساس اداروں نے کارروائی کرتے ہوئے کراچی میں قتل ہونے والے صحافی اطہرمتین کے مبینہ قاتل کو گرفتار کر لیا۔

    ذرائع کے مطابق کراچی پولیس اور حساس اداروں نے خضدار کے علاقے کھنڈ اور کھٹان میں چھاپےمارے اور خاتون کے لباس میں فرار ہونے کی کوشش کرنے والے مبینہ قاتل عابدامین کو پکڑ لیا۔

    کراچی پولیس اور حساس اداروں نےعابدامین سمیت 4 افراد کو حراست میں لیا ہے جب کہ قاتل گینگ کا سرغنہ کھنڈ کے علاقے میں پولیس کو چکمہ دے کر فرار ہو گیا۔

    اس سے قبل صحافی اطہر متین کے قاتلوں کا سراغ لگانے کے لیے پولیس نے جیو فینسنگ کے عمل کا آغاز کیا تھا، پولیس نے واقعے کے قریب لگے سی سی ٹی وی کی فوٹیجز حاصل کرکے ملزمان کے فرار کا روٹ میپ تیارکیا۔

    ذرائع کے مطابق کراچی پولیس ٹیم ایک ایس پی کی سربراہی میں آج چھاپہ مار کارروائی کیلیے خضدار پہنچی تھی، ملزم عابد خاتون کے روپ میں فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔

    کراچی پولیس ٹیم نے بلوچستان کی مقامی پولیس کے تعاون سے چار مختلف علاقوں میں چھاپے مارے جن میں کنڈھ، کٹھان اور سول کالونی کے علاقے شامل ہیں۔

    دوسرے مبینہ ملزم کی گرفتاری کیلیے جب پولیس کٹھان پہنچی تو وہ فرار ہوگیا جبکہ عابد ولد امین کے بارے میں پولیس کا کہنا ہے کہ یہ مقتول سینئر صحافی کے قتل میں براہ راست ملوث ہے۔

    خضدار کے مختلف علاقوں سے تین مزید ملزمان کو بھی حراست میں لیا گیا ہے جن کے نام صیغہ راز میں رکھے جارہے ہیں۔تینوں گرفتار ملزمان اور ملزم عابد کو کراچی پولیس اپنی تحویل میں لے چکی ہے۔

    خیال رہے کہ صحافی اطہر متین کو نامعلوم مسلح موٹر سائیکل سوار ملزمان نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا، اطہر متین اپنے بچوں کو اسکول چھوڑ کر گھر لوٹ رہے تھے۔

    بعد ازاں ایڈیشنل آئی جی کراچی نے صحافی اطہر متین کے قتل کی تحقیقات کے لیے ڈی آئی جی ویسٹ کی سربراہی میں ٹیم تشکیل دی تھی۔

  • قندیل بلوچ کے قاتل کو رہا کرنے کا حکم

    قندیل بلوچ کے قاتل کو رہا کرنے کا حکم

    قندیل بلوچ کے قاتل کو رہا کرنے کا حکم
    قندیل بلوچ قتل کیس کے مرکزی ملزم بھائی وسیم کو بری کردیا گیا

    لاہور ہائیکورٹ ملتان بنچ میں ماڈل قندیل بلوچ قتل کیس میں مرکزی ملزم کی والدہ نے عدالت میں راضی نامہ جمع کرایا، جس کے بعد عدالت نے مرکزی ملزم بھائی وسیم کو بری کردیا ملزم وسیم کو 27 ستمبر 2019 کو ملتان کی ماڈل کورٹ نے عمر قید کی سزا سنائی تھی جبکہ مفتی عبدالقوی سمیت چارملزمان کوعدم ثبوت کی بناپربری کر دیا تھا

    وکیل درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ سیشن عدالت نے راضی نامہ کو نظر انداز کر دیا تھا مدعی مقدمہ ملزم اور مقتولہ کا والد وفات پا چکا ہے مقدمہ کے گواہان بھی ٹرائل کورٹ میں اپنے بیانات سے منحرف ہو گئے تھے ملزم کے خلاف اپنی بہن ماڈل قندیل بلوچ کا گلہ دبا کر غیرت کے نام پر قتل کرنے کا الزام ہے۔ ملزم وسیم نے عدالت میں سزا منسوخی کی اپیل دائر کر رکھی ہے مقتولہ کے دو بھائی سمیت 5 ملزمان بری ہوچکے ہیں۔ بری ہونیوالوں میں معروف مذہبی سکالر مفتی عبدالقوی بھی شامل تھے

    ماڈل قندیل بلوچ کے والد محمد عظیم بلوچ نے اس وقت قندیل بلوچ کے قتل کا مقدمہ اپنے بیٹے محمد وسیم اوراس کے ساتھیوں حق نواز، محمد ظفر اور ان کے ڈرائیور عبدالباسط کے خلاف درج کروایا تھا معروف ماڈل اور ممتاز شوبز شخصیت قندیل بلوچ کو اُن کے گھر  واقع ملتان میں مبینہ طور پر غیرت کے نام پر قتل کردیا گیا تھا قندیل بلوچ اپنے والدین سے ملنے گھر آئی ہوئیں تھیں کہ رات سوتے ہوئے اُن کے بھائی نے وسیم نے گلا دبا کر قندیل بلوچ کو ہلاک کرکے گاؤں فرار ہو گیا، جہاں پولیس نے چھاپہ مار کارروائی میں ملزم کو گرفتار کرلیا تھا

    قندیل بلوچ کے مقدمۂ قتل میں بھائی محمد وسیم کو عمرقید ، مفتی عبدالقوی بچ گئے

    مفتی عبدالقوی کا کہنا تھا کہ کسی کو بھی قتل کرنے والے پر اللہ کی لعنت ہے