Baaghi TV

Tag: قاتلانہ حملہ

  • نیپال کے نائب وزیراعظم پر قاتلانہ حملہ،بھارتی شہری گرفتار

    نیپال کے نائب وزیراعظم پر قاتلانہ حملہ،بھارتی شہری گرفتار

    نیپال میں ایک تقریب کے دوران غبارہ دھماکے سے ڈپٹی وزیراعظم بال بال بچ گئے تھے تاہم انھیں شدید چوٹیں آئی تھیں۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ واقعہ 15 فروری کو پیش آیا تھا جب نائب وزیرِ اعظم بشنو پاڈیل "وزٹ پوکھارا ایئر 2025” کے افتتاحی تقریب میں شریک تھے۔نائب وزیراعظم بشنو پاڈیل نے جیسے ہی افتتاح کے لیے بینر کھولا تو غبارے اُڑنے کے بجائے دھماکے سے پھٹنے لگے۔سیکیورٹی اہلکاروں نے نائب وزیراعظم اور میئر کو حفاظتی حصار میں لے لیا۔ دھماکے مبینہ طور پر موم بتی جلانے کے باعث ہوئے تھے۔

    پولیس نے بتایا کہ اس واقعے میں نائب وزیراعظم اور میئر محفوظ رہے تاہم دونوں کو کافی چوٹیں آئی تھیں اور اب بھی اسپتال میں داخل ہیں۔ تفتیش کے دوران انکشاف ہوا کہ ان غباروں میں جان بوجھ کر ہائیڈروجن گیس بھری گئی تھی۔ جس پر کمیش کمار نامی ملزم کو گرفتار کیا گیا ہے۔کمیش کمار کا تعلق بھارت ہے۔ جس پر بھارتی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر نیپال کی حکومت کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

    بہاولپور: سعید کٹانہ گینگ کے سرغنہ سمیت 6 ملزمان گرفتار، 2 کروڑ سے زائد مالیت کا سامان برآمد

    جے یو آئی کی اپوزیشن اتحاد میں شمولیت کی خبروں سے کچھ حلقوں کو تکلیف ہے،ترجمان

    جنوبی افریقا کا افغانستان کو جیت کیلئے 316رنز کا ہدف

  • ڈاکٹر پر قاتلانہ حملہ ،ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی تنبیہہ

    ڈاکٹر پر قاتلانہ حملہ ،ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی تنبیہہ

    قصور
    گزشتہ دن ڈاکٹر پر قاتلانہ حملہ پر ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن قصور کی تشویش،وقوعہ پر ایف آئی آر درج کرکے جلد ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ،بصورت دیگر احتجاج کیا جائے گا

    تفصیلات کے مطابق کل بروز بدھ مورخہ 21 اگست صبح کے وقت بلھے شاہ ہسپتال کے ڈاکٹر عدیل پر دو موٹر سائیکل سواروں نے اس وقت فائرنگ کردی جب وہ ڈیوٹی کے لئے ہسپتال آ رہے تھے وقوعہ تھانہ صدر قصور کے علاقے میں پیش آیا جو کہ مین شاہراہ اور پر رونق علاقہ ہے
    گاڑی پر پے درپے کئی فائر کئے گئے جو گاڑی کو متعدد جگہ پر لگیں تاہم ڈاکٹر معجزانہ طور پر قاتلانہ حملے میں بچ گیا
    ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن قصور نے او وقوعہ کی سخت مذمت کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ قصور شہر میں لاقانونیت، اور غنڈہ گردی کا جو عالم ہے وہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کسطرح دن دیہاڑے شہر کی شاہراہوں پر اسلحہ لئے کرائے کے قاتل گھوم رہے ہیں جن کو کوئی پوچھنے والا نہیں یہ قصور پولیس، ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے
    ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن قصور نے واقعہ پر سخت تشویش کا اظہار کیا اور ڈی پی او قصور سے ایف آئی آر درج کرکے ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا اور خبردار کیا ہے کہ بصورت دیگر انتہائی سخت ردعمل دینے اور احتجاج پر مجبور ہونا پڑے گا

  • حماس سربراہ اسماعیل ہنیہ ایران میں قاتلانہ حملے میں شہید

    حماس سربراہ اسماعیل ہنیہ ایران میں قاتلانہ حملے میں شہید

    حماس کے سیاسی ونگ کے سربراہ اسماعیل ہنیہ تہران میں قاتلانہ حملے میں شہید ہوگئے ہیں

    پاسداران انقلاب نے اسماعیل ہنیہ کے تہران میں شہید ہونے کی تصدیق کی ہے جب کہ حملے میں ان کا ایک محافظ بھی شہید ہوا ہے،ایرانی ٹی وی کا کہنا ہےکہ اسماعیل ہنیہ ایرانی صدر کی تقریب حلف برداری میں شرکت کیلئے تہران میں موجود تھے ان کی قیام گاہ پر حملہ کرکے انہیں شہید کیا گیا،ایران کا کہنا ہےکہ قاتلانہ حملے کی تحقیقات کے نتائج جلد سامنے لائے جائیں گے

    فوری طور پر اسماعیل ہنیہ پر حملے کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی، لیکن سب کا گمان اسرائیل پر ہے کیونکہ اسرائیل نے 7 اکتوبر کو حماس کے حملے کے بعد اسماعیل ہنیہ اور حماس کے دیگر رہنماؤں کو قتل کرنے کی دھمکی دی تھی، ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن پر تجزیہ کاروں نے فوری طور پر اس حملے کا الزام اسرائیل پر لگایا تاہم خود اسرائیل نے ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں کیا ، وائٹ ہاؤس کی جانب سے بھی فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا .

    اسماعیل ہنیہ کی شہادت پر حماس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہےکہ حماس کے سربراہ پر حملے کے ذمہ داران کو سزا دی جائے گی، اسماعیل ہنیہ کی شہادت پر فلسطینی عوام، عرب عوام، امت مسلمہ اور دنیا بھر کے انصاف پسند عوام سے اظہار تعزیت کرتے ہیں۔خبر ایجنسی کے مطابق حماس رہنما اسماعیل ہنیہ فلسطینی گروپ کی بین الاقوامی سفارت کاری کا چہرہ تھے، وہ غزہ جنگ بندی مذاکرات میں بطور مذاکرات کار شریک تھے، غزہ میں سفری پابندیوں سے بچنے کیلئے اسماعیل ہنیہ ترکیے اور قطر میں رہتے تھے۔

    اسماعیل ہنیہ کو تہرا ن کے گیسٹ ہاؤس میں میزائل سے نشانہ بنایا گیا،اسرائیلی میڈیا کا دعویٰ
    میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وقت کے مطابق رات تقریباً 2 بجے تہران کے قلب میں ایک میزائل فائرکیا گیا جہاں اسماعیل ہنیہ اپنے محافظ سمیت موجود تھے،غزہ جنگ کے دوران اسرائیلی حملے میں اسماعیل ہنیہ کے تین بیٹے اور4 پوتے شہید ہوئے،اسماعیل ہنیہ کے خاندان کے کم از کم ساٹھ افراد شہید ہو چکے ہیں، ایرانی میڈیا کے مطابق اسماعیل ہنیہ کو یہودی ایجنٹوں نے نشانہ بنایا، ان پر حملے کی تفتیش کا آغاز کر دیا ہے، قاتلانہ حملے کی تحقیقات جلد سامنے لائی جائیں گی،اسرائیلی میڈیا نے حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کی شہادت سے متعلق کہا ہے کہ اسرائیلی وقت کے مطابق رات تقریباً 2 بجےتہران کے قلب میں ایک میزائل فائرکیا گیا اور اس مقام کو نشانہ بنایا گیا جہاں ہنیہ اپنے محافظ سمیت موجود تھے، اسماعیل ہنیہ ایران کے شمال میں ایک عمارت میں مقیم تھے اور وہ جس عمارت میں مقیم تھے وہ ایرانی پاسداران انقلاب کے گیسٹ ہاؤس کے طور پراستعمال ہوتی تھی،اسرائیلی فوج نے حماس کے سیاسی رہنما اسماعیل ہنیہ کی شہادت پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے،امریکی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے کا کہنا ہے وہ غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کا جواب نہیں دیتے

    اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے بعد فلسطینی مزاحمتی گروپوں نے رام اللّٰہ اور نابلس میں عام ہڑتال اور بڑے پیمانے پر مظاہروں کا اعلان کیا ہے، اسماعیل ہنیہ کی شہادت پر النجاہ یونیورسٹی نے سوگ میں کلاسز اور کام معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے،

    اسرائیلی حکومت اسماعیل ہنیہ کے قتل اور ایرانی خود مختاری پر حملے کے گناہ پر پچھتائے گی،مہر الطاف
    پاپولر فرنٹ فار لبریشن آف فلسطین کے ترجمان مہر الطاہر نے کہا ہے کہ شہید اسماعیل ہنیہ نے فلسطین کاز کے لیے اپنا سب سے قیمتی مال دیا، فلسطینی اپنے مقصد کیلئے ہر عزیز اور قیمتی چیز پیش کرنے کو تیار ہیں،دشمن اسرائیل تمام سرخ لکیروں کو عبور کر گیا ہے، اسرائیل نے معاملات کو ایک جامع جنگ کی طرف دھکیل دیا ہے، مزاحمتی تنظیمیں جنگ کے لیے پوری طرح تیار ہیں،اسرائیلی حکومت اسماعیل ہنیہ کے قتل اور ایرانی خود مختاری پر حملے کے گناہ پر پچھتائے گی، شہید اسماعیل ہنیہ کا قتل امریکی مدد کے بغیر نہیں ہوسکتا تھا،

    اسماعیل ہنیہ کا خون رائیگاں نہیں جائے گا،ایرانی وزارت خارجہ
    ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ اسماعیل ہنیہ کی شہادت، ایران اور فلسطین کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے، اسماعیل ہنیہ کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، روس اور ترکیے نے حماس سربراہ اسماعیل ہنیہ پر قاتلانہ حملے کی مذمت کی ہے،روس نے حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ھنیہ کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے اسے ‘ناقابل قبول سیاسی قتل’ قرار دیا ہے ، ترکی سمیت مختلف بین الاقوامی اداروں کی طرف سے مذمت کی بازگشت سنائی دے رہی ہے، فلسطینی صدر محمود عباس نے بھی اس قتل کی مذمت کرتے ہوئے اسے ‘بزدلانہ کارروائی’ اور ‘خطرناک پیش رفت’ قرار دیا۔

    ایران اپنی علاقائی سالمیت اور وقار کا دفاع کرے گا، ایرانی صدر
    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اسماعیل ہنیہ کی شہادت پر کہا کہ ایران اپنی علاقائی سالمیت اور وقار کا دفاع کرے گا، ایران دہشتگرد قابضین کو اسماعیل ہنیہ کے قتل کے بزدلانہ عمل پر پچھتانے پر مجبور کردے گا۔ایرانی سپریم لیڈر نے کہا ہے کہ اسماعیل ہنیہ کے قتل کا بدلہ تہران کا فرض ہے،ہنیہ کو قتل کر کے اسرائیل نے خود کو سخت سزا دینے کی راہ ہموار کی۔ہنیہ کے خون کا بدلہ لینا ایران پر فرض ہے کیونکہ وہ ہماری سرزمین پر شہید ہوئے۔

    اسماعیل ہنیہ کی تدفین دوحہ قطرمیں ہو گی
    ایرانی میڈیا کے مطابق حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کی تدفین دوحہ قطر میں کی جائے گی، نماز جنازہ جمعہ کو ادا کیا جائے گا، قطر نے بھی اسماعیل ہنیہ پر حملے کی مذمت کی ہے

    گھس کر اسرائیل کا حملہ ،ایران کی بدترین انٹیلی جنس اور عسکری سیاسی سفارتی ناکامی
    ایران کے دارالحکومت میں گھس کر اسرائیل کا حملہ ،ایران کی بدترین انٹیلی جنس اور عسکری سیاسی سفارتی ناکامی ہے ،اسرائیلی دہشت گرد ایجنسی موساد اس قدر ایران کی مداخلت رکھتی ہے یہ واضح دلیل ہے ،اسرائیل نے ایرانی کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کو قتل کیا ، پھر اسرائیلی انٹیلی ایجنسی موساد نے ایران کے ایٹمی بم کے معمار محسن فخری زادہ سمیت 5 اہم جوہری سائنسدانوں کو ایران کے اندر قتل کردیا،شام میں ایرانی سفارت خانے پر بمباری کرکے اہم کمانڈر قتل کردیے ، مگر ایران باتوں کی حد تک اسرائیل کا بہت نقصان کرچکا ہے یوں آج ایک بار پھر ایران کے سرکاری مہمان اسماعیل ہنیہ کو تہران میں شہید کر دیا گیا مگر ہمیشہ کی طرح ایران نے اس بار پھر باتوں اور جذباتی بیان کا سہارا لیا۔ اب دنیا کے سربراہان ایران جانے سے واقعی ڈریں گے کہ وہ محفوظ نہیں ہے ،بحرحال آج اسماعیل ھنیہ پر حملے کے بعد مشرق وسطی میں ایک ناختم ہونے والی آگ بھڑک اٹھی ہے ،اب یہ آگ بڑی مشکل سے بجھے تو بجھے ورنہ یہ جنگ اور زیادہ پھیلے گی

    صاف نظر آرہا ہے کہ جنگ اب غزہ تک محدود نہیں رہے گی۔حافظ نعیم الرحمان
    امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے اسماعیل ہنیہ کی شہادت پر ردعمل میں کہا ہے کہ قیام ، ہجرت اور شہادت ،دنیا کی ظالم ترین طاقتوں کا بے جگری سے مقابلہ کرنے والا اللہ کا شیر اسماعیل ہنیہ سرخرو ہوگیا، پہلے اپنے خاندان کو راہ خدا میں قربان کیا پھر خود بھی جنت کا مسافر بن گیا، شہادت ایک مسلمان کی زندگی کا اختتام نہیں بلکہ راحتوں بھری نئی زندگی کا آغاز ہے، اسرائیل اور اس کے سرپرستوں کو اس ظلم کی قیمت چکانا ہوگی۔ اسرائیلی اقدام نے اس پورے خطے کو نئی آزمائش میں ڈال دیا ہے ، صاف نظر آرہا ہے کہ جنگ اب غزہ تک محدود نہیں رہے گی۔ نئی صف بندی ہوگی، کیا عالم اسلام کے حکمران اب بھی آنکھیں بند کیے اسرائیل کی خاموش حمایت کرتے رہیں گے ؟ کیا وقت نہیں آگیا کہ ظالم کے ہاتھ کو کاٹ ڈالا جائے؟

    اسماعیل ہنیہ کی شہادت،مولانا فضل الرحمان کی جمعہ کو ملک گیر احتجاج کی کال
    جمعیۃ علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نےحماس کے سیاسی ونگ کے سربراہ اسماعیل ھنیہ کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے،مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ جمعیۃ علماء اسلام اسماعیل ھنیہ کے خاندان اور فلسطینیوں کے غم میں برابر کی شریک ہے۔ اسماعیل ھنیہ کی شہادت سے فلسطین کی آزادی کی تحریک ختم نہیں ہو گی۔اسماعیل ھنیہ سے ملاقات ہوئی تو وہ شہادت کے جذبہ سے سرشار تھے۔ اسماعیل ھنیہ اور انکے خاندان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔شہید رہنما اسماعیل ھنیہ کی خدمات کے اعتراف میں آج قومی اسمبلی، سینیٹ خیبرپختونخوا اور بلوچستان اسمبلی کے اجلاسوں میں قرادادیں پیش کریں گے۔ مولانا فضل الرحمان نے شیخ اسماعیل ھنیہ کی بلندی درجات کیلئے پاکستان کی پوری قوم بالخصوص مدارس مساجد اور گھروں میں قرآن خوانی کی اپیل کر دی،مولانا فضل الرحمان نے جمعہ کے روز ملک بھر میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف اور اسماعیل ھنیہ کی شھادت پر احتجاج کی کال دے دی اور کہا کہ ملک بھر میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف اور شیخ اسماعیل ھنیہ کی شھادت پر بھرپور مظاہرے کئے جائیں گے ۔

    حماس کے سیاسی رہنما اسماعیل ہنیہ کے قتل سے مشرق وسطیٰ میں ایک مکمل جنگ کے خدشات کو گہرا کر دیا گیا ہے۔اسماعیل ہنیہ ایران کے حمایت یافتہ عسکریت پسند گروپ کے دوسرے رہنما ہیں جن کی حالیہ دنوں میں موت ہوئی ہے۔ہنیہ کی موت حماس کے لیے ایک اہم دھچکا ہے، ایک بیان میں، حماس نے اسرائیل پر الزام عائد کیا کہ اسرائیل نے منگل کو ایران کے نئے صدر کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے بعد، تہران میں ان کی رہائش گاہ پر اسماعیل ہنیہ اور محافظ کو نشانہ بنایا

    دوسری جانب اسرائیل نے تصدیق کی کہ اس نے منگل کے روز لبنان کے شہر بیروت میں ایک حملہ کیا جس میں حزب اللہ کا سب سے سینئر فوجی کمانڈر ہلاک ہوا، جسے اس نے اسرائیل کے زیر قبضہ گولان کی پہاڑیوں میں ایک مہلک حملے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ 8 اکتوبر کو حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان محاذ آرائی شروع ہونے کے بعد سے فواد شکر کا قتل اسرائیل کی سب سے سنگین کشیدگی تھی۔

    اسماعیل ہنیہ کا قتل مشرق وسطیٰ کے لیے خاص طور پر پریشان کن وقت پر ہوا ہے، جس میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بڑھتے ہوئے تصادم نے ایک وسیع علاقائی جنگ میں پھیلنے کی دھمکی دی ہے ،حماس نے غزہ میں اسرائیلی فوج کے خلاف جنگ جاری رکھی ہوئی ہے ،حماس کے پولیٹیکل بیورو کے رکن موسیٰ ابو مرزوق نے کہا کہ ہنیہ کی موت "بیکار نہیں جائے گی.

    اگر اسرائیل پر حملہ ہوا تو امریکا اس کے دفاع میں مدد کرے گا۔امریکی وزیر دفاع
    وائٹ ہاؤس نے کہا کہ اس نے ہنیہ کی موت کی خبریں دیکھی ہیں لیکن ترجمان کے مطابق اس نے فوری طور پر مزید تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔ فلپائن کے دورے کے دوران امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ ناگزیر ہے لیکن اگر اسرائیل پر حملہ ہوا تو امریکا اس کے دفاع میں مدد کرے گا۔

    ہنیہ غزہ میں اسرائیل کی جنگ کے آغاز کے بعد سے مارے جانے والے حماس کے دوسرے سینئر رہنما ہیں۔ جنوری میں حماس کے سیاسی بیورو کے نائب سربراہ صالح العروری لبنان کے دارالحکومت بیروت میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے تھے۔ عروری کو حماس کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈز کے بانی ارکان میں سے ایک سمجھا جاتا تھا۔سی این این کے سیاسی اور خارجہ پالیسی کے تجزیہ کار بارک راوید نے کہا کہ اسرائیلی حکومت ہنیہ کو حماس کے 7 اکتوبر کے حملوں کے ذمہ داروں میں سے ایک کے طور پر دیکھتی ہے اور اگرچہ وہ عسکری طور پر اہم نہیں ہے، لیکن اس کی موت کا یرغمالیوں اور جنگ بندی کے جاری مذاکرات پر "کافی اثر پڑے گا”۔

    اسماعیل ہنیہ کو قتل کر کے اسرائیل نے پیغام دیاہے کہ ہمیں کوئی روک نہیں سکتا،شیری رحمان
    نائب صدر پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان نے حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کے قتل کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اسماعیل ہنیہ کو قتل کر کے اسرائیل نے پیغام دیاہے کہ ہمیں کوئی روک نہیں سکتا، اسرائیل جنگ کو روکنے کے بجائے اسے پھیلا رہا ہے،تہران کی سرزمین پر اس سنگین حملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل مذاکرات اور جنگ بندی میں سنجیدہ نہیں ہے،یہ ناصرف حماس بلکہ ایران کی خودمختیاری پر بھی حملہ ہے، اس عمل کی وجہ سے مشرق وسطی کے حالات مزید بگڑ سکتے ہیں،اگر مشرق وسطی کے حالات کشیدہ ہونگے تو اس کے اثرات پوری دنیا پر پڑے گے،

    پاکستان خطے میں بڑھتی ہوئی اسرائیلی مہم جوئی پر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے, ترجمان دفتر خارجہ
    ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلو چ نے لہا ہے کہ پاکستان آج تہران میں حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ھنیہ کے قتل کی مذمت کرتا ہے,ہم ان کے اہل خانہ اور فلسطینی عوام کے ساتھ تعزیت کا اظہار کرتے ہیں, پاکستان دہشت گردی کی اس کی تمام شکلوں اور مظاہر میں مذمت کرتا ہے, ان کا قتل ماورائے عدالت قتل ہے، ایران کے صدر کی حلف برداری تقریب میں پاکستان کے نائب وزیر اعظم سمیت متعدد غیر ملکی شخصیات شریک تھیں, پاکستان خطے میں بڑھتی ہوئی اسرائیلی مہم جوئی پر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے, اس کی تازہ ترین کارروائیاں پہلے سے ہی عدم استحکام کا شکار خطے میں ایک خطرناک اضافہ ہے, اس سے امن کی کوششوں کو نقصان پہنچا ہے,

    حماس کے اسرائیل پر سات اکتوبر کو حملے اور پھر اسرائیل کے غزہ پر حملے کے دوران اسماعیل ہنیہ کے خاندان کے درجنوں افراد کی موت ہو چکی ہے، اب تک ہنیہ خاندان کے 60 سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں، غزہ میں مقیم اسماعیل ہنیہ کے خاندان کے کئی افراد کو اسرائیل نشانہ بنا چکا ہے، جون میں میں اسرائیلی فضائی حملے میں اسماعیل ہنیہ کے خاندان کے 10 افراد شہید ہوئے تھے، اپریل میں اسماعیل ہنیہ کے 3 بیٹے، حازم، عامر اور محمد بمباری سے شہید ہوئے تھے جبکہ اس حملے میں اسماعیل ہنیہ کی 3 پوتیاں اور ایک پوتا بھی شہید ہوئے تھے، اسرائیل اسماعیل ہنیہ سے قبل بھی حماس کے کئی رہنماؤں کو شہید کرچکا ہے۔

    اسماعیل ہنیہ کے قتل سے غزہ جنگ بندی کے مذاکرات کو خطرہ پہنچ سکتا ہے،قطری وزیراعظم
    قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن الثانی کا کہنا ہے کہ اسماعیل ہنیہ کے قتل سے غزہ جنگ بندی کے مذاکرات کو خطرہ پہنچ سکتا ہے، بات چیت کے دوران سیاسی قتل اور غزہ میں شہریوں کو مسلسل نشانہ بنایا جارہا ہے، ایک فریق دوسری طرف کے مذاکرات کار کو قتل کردے تو ثالثی کیسے کامیاب ہوسکتی ہے، امن کیلئے سنجیدہ شراکت داروں کی ضرورت ہے، انسانی زندگی کو نظر انداز کرنے کے خلاف بھی عالمی مؤقف کی ضرورت ہے

    سراج الحق کی قطر میں حماس کے رہنماؤں اسماعیل ہنیہ اور خالد مشعل سے ملاقات

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

    مولانا فضل الرحمان سے حماس رہنماء کی ملاقات

    مفتی تقی کی دوحہ میں حماس کے رہنماؤں سے ملاقات

    اسماعیل ہنیہ کے قتل کا مقصدفلسطینیوں کے حوصلے پست کرنا اور انہیں ڈرانا ہے،ترک صدر
    ترک صدر طیب اردوان نے اسماعیل ھنیہ کی شہادت پر تعزیتی پیغام میں کہا ہے کہ میں تہران میں حماس کے پولیٹیکل بیورو کے چیئرمین اسماعیل ھنیہ کے قتل کی شدید مذمت کرتا ہوں،یہ قتل دراصل ایک قابل نفرت عمل ہے جس کا مقصد فلسطینی کاز، غزہ کی شاندار مزاحمت اور ہمارے فلسطینی بھائیوں کی منصفانہ جدوجہد کو متاثر کرنا اور فلسطینیوں کے حوصلے پست کرنا اور انہیں ڈرانا ہے۔میرے بھائی اسماعیل ہنیہ کے خلاف قتل کا مقصد وہی ہے جو شیخ احمد یاسین، عبدالعزیز الرنتیسی اور غزہ کی دیگر کئی سیاسی شخصیات پر گھناؤنے حملوں کا مقصد تھا۔ تاہم صہیونی بربریت اپنے اہداف حاصل نہیں کر سکے گی جیسا کہ وہ اب تک نہیں کر چکی ہے۔امید ہے کہ عالم اسلام کے مضبوط موقف اور اتحاد انسانیت کے ساتھ اسرائیل کی طرف سے ہمارے جغرافیہ پر مسلط کی گئی دہشت گردی بالخصوص غزہ میں ظلم اور نسل کشی کا خاتمہ ضرور ہو گا اور ہمارا خطہ اور ہماری دنیا میں امن قائم ہو گا۔ بطور ترکی کے صدر ہونے کے ہم ہر طرح کی کوششیں جاری رکھیں گے، تمام تدبیریں آگے بڑھاتے رہیں گے اور اپنے تمام وسائل اور اپنی پوری طاقت سے اپنے فلسطینی بھائیوں کی حمایت کرتے رہیں گے،ہم 1967 کی سرحدوں پر مبنی ایک آزاد، خودمختار اور خودمختار ریاست فلسطین کے قیام کے لیے کام جاری رکھیں گے، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔ خدا میرے بھائی اسماعیل ھنیہ پر رحم کرے جو اس گھناؤنے حملے کے نتیجے میں شہید ہوئے ہیں اور اللہ ان کی شہادت قبول فرمائے میں ان کے اہل خانہ کے لیے صبر جمیل اور اپنے غزہ اور فلسطینی بھائیوں اور عالم اسلام سے تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔ خدا آپ کو اپنی جنت اور خوبصورت انعامات سے نوازے۔

    turk hania

    ترک اپوزیشن رہنما پروفیسر احمد داؤد اولونے کہا ہے کہ ایران کے صدر کو مبارکباد دینے آئے مہمان کی حفاظت نہ کرنا بہت بڑی نااہلی ہے۔ تہران میں سید علی خامنائی محفوظ ہے اور اسماعیل ھنیہ کو قتل کر دیا گیا ہے، یہ کردار تو کوفیوں نے بھی ادا کیا تھا۔

    حماس کے سیاسی رہنما اسماعیل ہانیہ جہاد فلسطین کے روح رواں اور امت مسلمہ کے ہیرو تھے۔ڈاکٹر حمیرا طارق
    فلسطین کی تحریک مزاحمت حماس کے سیاسی رہنما اور فلسطین کے سابق وزیراعظم اسماعیل ہانیہ کی تہران میں اسرائیلی حملے میں شہادت پر سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر حمیرا طارق صدر وسطی پنجاب نازیہ توحیداور صدر لاہور عظمی عمران نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا کہ ڈاکٹر اسماعیل ہانیہ کی شہادت صرف حماس فلسطین اور عرب کا نہیں بلکہ اس نقصان نے پوری امت مسلمہ کو غمزدہ کردیا ہے، ڈاکٹر اسماعیل ہانیہ ایمان و یقین کی مجسم صورت عظیم مثال تھے، یہ وہ شخصیت تھے جنہیں دیکھ کر صحابہ کی یاد تازہ ہوجاتی تھی، 7 مہینوں کی قلیل مدت میں یہود و ہنود اور ان کے پیروکاروں نے اسماعیل ہانیہ کے حوصلے پست کرنے کےلئے ان کی والدہ تین بیٹے، ایک بیٹی دو بھائی 2 بہنیں بھانجوں اور بھتیجوں سمیت ہانیہ خاندان کے 39 افراد کو بے دردی سے شہید کر دیا ۔ مگر ان کے عزم و استقلال میں کمی نہ آئی -ڈاکٹر حمیرا طارق نے کہا کہ اللہ کی راہ میں جان دینے والے کبھی نہیں مرتے وہ شہید ہیں۔یہ اسرائیلی اقدام فلسطینی عوام کے جدوجہد آزادی کی تحریک اور جذبہ شہادت کو مہمیز دے گا۔نازیہ توحید نےکہاکہ ہم پوری فلسطینی قوم اور ملت اسلامیہ سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے دعا کرتے ہیں اللہ تعالٰی حماس کے سیاسی ونگ کے سربراہ اسماعیل ہانیہ کے سربراہ کو اپنے پاس بہت اعلی مقام عطا فرمائے فلسطینی قوم اور امت کے سب شہیدوں کی شہادتوں کو قبول فرمائے,عظمی عمران نے کہا کہ غزہ کی آزادی سے امت کی آنکھیں ٹھنڈی فرمائے اور امت کے تمام قائدین کی جانوں کی حفاظت فرمائے اور ان سے امت کی سربلندی کا کام لے لے-اس سانحہ ارتحال پر ڈپٹی سیکرٹری ثمینہ سعید ،ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی ،عطیہ نثار ، عفت سجاد اور ڈاکٹر زبیدہ جبیں،طیبہ عاطف نے بھی دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اور اہل خانہ کے لیے صبر و استقامت کی دعا کی ہے .

    امریکا نے اسماعیل ہنیہ پر حملے اور قتل میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے،امریکا کے وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن نے غیرملکی میڈیا کو انٹرویو میں کہا کہ حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کی موت میں امریکا ملوث نہیں،غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی اہم ہے، کشیدگی کو کم کرنے کا بہترین طریقہ جنگ بندی ہے۔

    اسماعیل ہنیہ کی شہادت،اسلام آباد ہائیکورٹ بار کا تین روزہ سوگ کااعلان
    اسماعیل ہنیہ کی شہادت پر اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے 3 روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے،اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے اعلامیے میں کہا ہے کہ بار ایسوسی ایشن اسرائیل کے اس بزدلانہ فعل کی شدید مذمت اور حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کی شہادت پر سلام پیش کرتی ہے، اقوام متحدہ حملے میں ملوث ملک کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرے، اسرائیل پر عالمی پابندیاں لگائی جائیں اور غزہ میں نسل کشی فوراً بند کی جائے۔

    اسماعیل ہنیہ کی خدمات اور شہادت کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا،خیبرپختونخوا اسمبلی میں قرارداد
    جے یو آئی کی رکن صوبائی اسمبلی ریحانہ اسماعیل نے خیبر پختونخواہ اسمبلی میں اسماعیل ہنیہ کی خدمات پر قرارداد پیش کی۔ریحانہ اسماعیل کی پیش کردہ قرارداد میں فلسطینی رہنما اسماعیل ہنیہ کی شہادت پر افسوس کا اظہار کیا گیا،خیبر پختونخواہ اسمبلی میں ریحانہ اسماعیل کی جانب سے فلسطینی عوام سے اظہارِ یکجہتی کی قرارداد جمع کروائی گئی،ریحانہ اسماعیل نے خیبر پختونخواہ اسمبلی میں اسماعیل ہنیہ کی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کیا۔قراردار میں کہا گیا کہ اسماعیل ہنیہ کی خدمات اور شہادت کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ریحانہ اسماعیل کی قرارداد کے ذریعے خیبر پختونخواہ اسمبلی نے فلسطینی حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔

    اسماعیل ہنیہ کی شہادت پر ایران کا تین روزہ سوگ کا اعلان
    اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے بعد ایران کی حکومت نے تین روز کے عام سوگ کا اعلان کیا ہے، ایرانی حکومت نے ایران کے سرکاری سفارتی مہمان اسماعیل ہنیہ کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے اسے نا قابل علاج صیہونی حکومت کے دہشت گرد ہونے کا ایک اور ثبوت قرار دیا کہ جس کے شر سے دنیا کا کوئی بھی علاقہ محفوظ نہیں ہے ،ایرانی حکومت کے مطابق عظیم سانحہ پر تعزیت پیش کرنے اور فلسطین کی مظلوم قوم اور شہید ہنیہ کے لواحقین سے ہمدردی ظاہر کرتے ہوئے بدھ، جمعرات اور جمعہ کو قومی سوگ کا اعلان کیا گیاہے

  • حملہ آور نے ٹرمپ پر حملہ سے قبل ڈرون اڑا کر جائزہ لیا تھا

    حملہ آور نے ٹرمپ پر حملہ سے قبل ڈرون اڑا کر جائزہ لیا تھا

    سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر حملے کے بارے میں امریکی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ حملہ آور نے پیلے ڈرون اڑا کر ہدف کا جائزہ لیا تھا

    امریکی میڈیا کے مطابق مقامی ٹیکٹیکل ٹیم کا اہلکارٹرمپ پرحملہ آورکونشانہ بنانے میں ناکام رہا تھا جس کے بعد سیکریٹ سروس کے اہلکار نے ہدف واضح نہ ہونے کے باوجود حملہ آور کو ایک ہی گولی سے ہلاک کر دیا تھا۔14 جولائی کو امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر انتخابی ریلی کے دوران فائرنگ ہوئی تھی جس سے وہ زخمی ہوگئے تھے اور فائرنگ سے ریلی میں شریک ایک شخص بھی ہلاک ہوا تھا،ڈونلڈ ٹرمپ پر فائرنگ کرنے والا 20 سال کا مقامی نوجوان تھا جس کی شناخت تھامس میتھیو کروکس کے نام سے ہوئی جو ریاست پینسلوینیا کا ہی رہائشی تھا۔

    ٹرمپ کے تحفظ میں ناکامی پرسیکرٹ سروس کی ڈائریکٹر ایوان نمائندگا ن میں طلب کر لی گئیں ،کمبرلی چیٹل سوموارکوہاؤس اوورسائٹ کمیٹی میں پیش ہوکربیان ریکارڈکرائیں گی،چیئرمین کمیٹی جیمز کومر کا کہنا ہے کہ ڈونلڈٹرمپ پرحملہ سیکرٹ سروس کی تاریخی ناکامی ہے،ٹرمپ پرحملے کے بعدکمبرلی چیٹل کے استعفے یا ہٹانے کامطالبہ زورپکڑگیا ہے

    ٹرمپ پر حملہ،ایران پر الزام لگ گیا،ایران کی تردید

    اوہائیو،ریپبلکن نیشنل کنونشن کے باہر فائرنگ سےچاقو بردار شخص ہلاک

    گولی لگنے سے میرا کان کا حصہ کٹ گیا ،ٹرمپ

    ڈونلڈ ٹرمپ پر قائم مقدمہ عدالت نے کیا خارج

    ٹرمپ سے قبل کن اہم شخصیات پر ہوئے حملے؟

    ہمیشہ سے کہیں زیادہ اب متحد ہونے کی ضرورت ہے،ٹرمپ

    صدر مملکت اور وزیر اعظم کاسابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر انتخابی ریلی کے دوران حملے کی شدید مذمت

    انتخابات نہیں جیت سکتے، جوبائیڈن کو پیغام مل گیا

    امریکی میگزین نے ٹرمپ،جوبائیڈن کی نیم برہنہ تصویر سرورق پر شائع کر دی

  • گولی لگنے سے میرا کان کا حصہ کٹ گیا ،ٹرمپ

    گولی لگنے سے میرا کان کا حصہ کٹ گیا ،ٹرمپ

    سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ گولی لگنے سے انکا کان کا حصہ کٹ گیا ہے

    ٹرمپ پر دو روز قبل قاتلانہ حملہ ایک ریلی کے دوران ہوا تھا جس میں ٹرمپ کی تصویر سامنے آئی تھی، ٹرمپ کے کان پر خون لگاہوا تھا، اب ٹرمپ نے دوبارہ ریلیوں سے خطاب کرنا شروع کر دیا ہے، ٹرمپ کی نئی تصویر سامنے آئی ہے جس میں انکے کان پر پٹی لگی ہوئی ہے

    امریکی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ "ریلی کے دوران فائرنگ سے ان کا کان کا حصہ کٹ گیا ہے، امریکی سکیورٹی اہلکار جب تحفظ کے لیے آئے تو ٹکر سے میرے جوتے اترگئے، زمین پر گرنے سے بازو میں شدید چوٹیں آئی ہیں، فائرنگ کے بعد ریلی کے مجمع سے بات جاری رکھنا چاہتا تھا لیکن مجبوراً جانا پڑا، سکیورٹی اہلکاروں نے حملہ آورکو ایک گولی مار کر اسےختم کردیا،ریلی کے شرکا پرسکون رہےاس پر ان کو سراہتا ہوں، بہت اچھے لوگ ہیں، فائرنگ میں ہلاک ریپبلکن حامی شخص کی آخری رسومات میں شرکت کروں گا۔

    دوسری جانب ٹرمپ پر حملے کے احوال کی تفصیلات سامنے آئی ہیں، امریکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق سابق امرکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ خطاب کے دوران گولیاں چلیں تو ٹرمپ نے اپنے کان کو چھوا اور نیچے بیٹھ گئے،سیکریٹ سروس اہلکار ٹرمپ کی طرف لپکے اور انہیں حصار میں لے لیا اور ساتھ ہی بندوقیں تان لیں جس کے بعد ٹرمپ کافی دیر اسٹیج پر جھکے رہے،اس دوران چاروں طرف محافظ ڈھال بنے رہے، ٹرمپ اہلکاروں کی مدد سے اٹھے تو کان سے خون بہہ رہا تھا، جرات مندی کا مظاہرہ کرنے والے ٹرمپ پورے ہوش و حواس میں رہے،ڈونلڈ ٹرمپ نے اہلکاروں سے کہا ٹھہرو مجھے جوتے پہننے دو، جس کے بعد سابق صدر کھڑے ہوئے تو پرجوش انداز میں ہوا میں مکے لہرائے، نعرے لگائے فائٹ فائٹ فائٹ،بعدازاں حفاظتی حصار میں جلسہ گاہ سے روانہ ہوگئے،گاڑی میں سوار ہونے سے پہلے ایک بار پھر مکے لہراکر فائٹ جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا،

    ڈونلڈ ٹرمپ پر قائم مقدمہ عدالت نے کیا خارج

    ہائے غربت،بھارتی خواتین عرب ممالک میں فروخت،مجرا کروایا جانے لگا

    ٹرمپ سے قبل کن اہم شخصیات پر ہوئے حملے؟

    تحریک انصاف پر جلد پابندی لگنے والی ہے؟

    فیصلے سے ثابت ہوا کہ لاڈلہ ازم آج تک برقرار ہے ، شرجیل انعام میمن

    سپریم کورٹ فیصلے کے بعد پی ٹی آئی کا چیف الیکشن کمشنر کیخلاف کاروائی کا مطالبہ

    مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ،ملک ایک اور آئینی بحران سے دوچار

    حکومت کو کوئی خطرہ نہیں،معاملہ تشریح سے آگے نکل گیا،وفاقی وزیر قانون

    سپریم کورٹ کا فیصلہ، سیاسی جماعتوں کا ردعمل،پی ٹی آئی خوش،حکومتی اتحاد پریشان

  • ہمیشہ سے کہیں زیادہ اب متحد ہونے کی ضرورت ہے،ٹرمپ

    ہمیشہ سے کہیں زیادہ اب متحد ہونے کی ضرورت ہے،ٹرمپ

    سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ قاتلانہ حملے کے بعد کنونشن میں شرکت کے لئے پہنچ گئے،

    ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارتی انتخابات کے لئے مہم جاری ہے، ٹرمپ کنونشن میں پہنچے اور کہا کہ "ہمیں ہمیشہ سے کہیں زیادہ اب متحد ہونے کی ضرورت ہے”۔بعد ازاں ایک انٹرویو میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہیں خدا اور قسمت نے نہ بچایا ہوتا تو وہ مرچکے ہوتے، زبردست کام یہ ہوا کہ انہوں نے سر کو ٹھیک وقت پر بالکل ٹھیک حرکت دی، اگر انہوں نے اپنے سر کو بروقت حرکت نہ دی ہوتی تو وہ مر چکے ہوتے،

    دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ پر فائرنگ کرنیوالے حملہ آور سے متعلق نئی ​​تفصیلات سامنے آئی ہیں، ٹرمپ پر ریلی کے دوران فائرنگ کی گئی تھی جس کے بعد حملہ آور کو موقع پر ہی ہلاک کر دیا گیا تھا،،بٹلر میں منعقد ریلی کے شرکا سے خطاب کے لیے اسٹیج پر موجود تھے جب فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، گولی بظاہر ٹرمپ کے کان کو چھوتی ہوئی نکل گئی، میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ پر فائرنگ کرنے والا 20 سال کا مقامی نوجوان تھا جس کی شناخت تھامس میتھیو کروکس کے نام سے ہوئی ہے جو یاست پینسلوینیا کا ہی رہائشی ہے، تاہم ابھی حملہ کرنے کی وجوہات کے بارے میں معلوم نہیں ہو سکا ہے، ایف بی آئی کے مطابق ٹرمپ کی ریلی میں مشتبہ حملہ آورنے اکیلے سب کچھ کیا ، حملہ آور کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے کوئی دھمکی آمیز موادنہیں ملا،بم اسپیشلسٹ نے حملہ آور کی گاڑی سے مشکوک ڈیوائس قبضے میں لے لی، حملہ آور نے جو بندوق استعمال کی اسے اس کے والد نے قانونی طور پر خریدی تھی، حملہ آور کے گھر سے بھی بم بنانےوالا سامان برآمد ہوا ہے،

    امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کا کہنا ہے کہ حملہ آور تھامس کروکس کا کوئی فوجی بیک گراؤنڈ نہیں، حملہ آور کی گاڑی میں دھماکا خیز اشیا بھی تھیں، گاڑی ٹرمپ کی ریلی کے مقام سے نزدیک پارک تھی

    ٹرمپ سے گزشتہ رات بات چیت ہوئی ،خوشی ہے وہ خیریت سے ہیں، جوبائیڈن
    دوسری جانب امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا ہے کہ خوشی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ خیریت سے ہیں ،ٹرمپ پر حملے کی مکمل اور واضح تحقیقات کا حکم دیا ہے ،ٹرمپ سے گزشتہ رات مختصر اور اچھی بات چیت ہوئی ، حملے میں ہلاک افراد کیلئے تعزیت کا اظہار کرتاہوں ، قاتلانہ حملہ امریکی اقدار کے خلاف ہے ، حملہ آور کے اقدام قتل کے محرکات سے متعلق ابھی کوئی معلومات نہیں ، حملہ آور کا مقصد اور اس سے متعلق کوئی قیاس آرائیاں نہ کی جائیں ، واقعے کا جائزہ لینے کا کہا ہے نتائج سب کو بتائے جائیں گے،ریپبلکن کنونشن کے سیکیورٹی اقدامات کیلئے سیکرٹ سروس کو ہدایت دیدی ہیں ، حملہ آورکے مقاصدکونہیں جانتے،صدارتی انتخابات میں خطرات بہت زیادہ ہیں، سیاست میں کسی کی جان کو خطرہ نہیں ہونا چاہیے، اختلاف کا مطلب دشمنی نہیں ہونا چاہیے، اختلافات بیلٹ باکس کے ذریعے حل کرتے ہیں، گولی سے نہیں، جمہوریت اور قانون کی بالادستی کے لیے آواز اٹھاتا رہوں گا۔

  • اداکارہ زینب جمیل پر قاتلانہ حملہ کیس میں 5 ملزمان گرفتار

    اداکارہ زینب جمیل پر قاتلانہ حملہ کیس میں 5 ملزمان گرفتار

    پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں سابق اداکارہ زینب جمیل پر قاتلانہ حملےکے حوالہ سے اہم پیشرفت ہوئی ہے

    پولیس نے زینب جمیل پر فائرنگ کرنے والے ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے، ایس پی کینٹ اویس شفیق کا کہنا ہے کہ سابق اداکارہ و ماڈل زینب جمیل پر فائرنگ کرنے والے 5 ملزمان کو حراست میں لیا گیا ہے،تحقیقات کے دوران پولیس نے سینکڑوں سی سی ٹی وی فوٹیجز کا معائنہ کیا، اب تک گرفتار ملزمان کی اس کیس میں تعداد پانچ ہے، ضیا نامی ملزم نے شوٹرز کو موٹرسائیکل اور اسلحہ فراہم کیا،ضیا ہی فائرنگ کرنے والوں کو موقع پر لایاتھا اور فائرنگ کے واقعہ کے بعد وہی واپس بھی لے کر گیا تھا،شوٹرز کراچی سے ہوئی جہاز پر لاہور آئے تھے اور واپسی پر انہوں نے سڑک کا راستہ اختیار کیا.

    ایس پی کینٹ اویس شفیق کے مطابق سردار جمیل تیس جون تک ضمانت پر ہے۔ خاتون پر براہ راست فائرنگ کرنے والے شوٹرز کا تعلق کراچی سے ہے، دونوں شوٹرز کی گرفتاری کے لیے ٹیم کراچی روانہ ہوگئی،ضیاء کا سردار جمیل کے ساتھ 55 لاکھ لین دین کا معاملہ ہے

    یاد رہے کہ 2017 میں سردارجمیل نے زینب کے ساتھ دوسری شادی کی تھی، شوہر کو زینب کے شوبز میں کام کرنے پر اعتراض تھا۔سابقہ اداکارہ و ماڈل زینب جمیل پر قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا ،زینب کو 6 گولیاں لگی تھیں،وہ ہسپتال میں زیر علاج تھیں تا ہم اب وہ گھر منتقل ہو گئی ہیں.اداکارہ زینب نے قاتلانہ حملے کا الزام اپنے شوہر پر لگایا تھااور کہا تھا کہ شوہر نے مجھے قتل کروانے کی کوشش کی ہے،وہ گزشتہ دو ماہ سے مجھے دھمکیاں دے رہا تھا لیکن میں دھمکیوں کو خاطر میں نہیں لائی کیونکہ مجھے لگا کہ میرے بچوں کا باپ میرے ساتھ ایسا نہیں کرسکتا۔

    قاتلانہ حملے میں زخمی سابق اداکارہ زینب جمیل گھر منتقل

    سابق ماڈل و اداکارہ زینب جمیل نے قاتلانہ حملے کا الزام اپنے شوہر پر عائد کردیا

  • قاتلانہ حملے میں زخمی سابق اداکارہ زینب جمیل گھر منتقل

    قاتلانہ حملے میں زخمی سابق اداکارہ زینب جمیل گھر منتقل

    لاہور میں قاتلانہ حملے میں زخمی ہونے والے سابق اداکارہ زنیب جمیل ہسپتال سے گھر منتقل ہو گئی ہیں

    اداکارہ زینب نے گزشتہ روز عید کے پہلے دن اپنے دو بچوں کے ہمراہ تصویر شیئر کی ہے، زینب نے اپنی اس تصویر کے کیپشن میں بلند حوصلوں اور اللّٰہ پر یقین کا اظہار کیا ہے، سابق اداکارہ زینب جمیل نے کیپشن میں قرآنی آیت لکھی ہے جس کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ” اللّٰہ کسی جان کو اس کی برداشت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا”۔

    واضح رہے کہ گزشتہ ماہ سابقہ اداکارہ و ماڈل زینب جمیل پر قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا ،زینب کو 6 گولیاں لگی تھیں،وہ ہسپتال میں زیر علاج تھیں تا ہم اب وہ گھر منتقل ہو گئی ہیں.اداکارہ زینب نے قاتلانہ حملے کا الزام اپنے شوہر پر لگایا تھااور کہا تھا کہ شوہر نے مجھے قتل کروانے کی کوشش کی ہے،وہ گزشتہ دو ماہ سے مجھے دھمکیاں دے رہا تھا لیکن میں دھمکیوں کو خاطر میں نہیں لائی کیونکہ مجھے لگا کہ میرے بچوں کا باپ میرے ساتھ ایسا نہیں کرسکتا۔

    بیوٹی پارلر کی مالکہ زینب جمیل پر بدھ کی دوپہر ڈیفنس میں موٹر سائیکل سوار دو افراد نے فائرنگ کی تھی،زینب جمیل نے وزیراعلیٰ پنجاب سے حملہ آوروں کی گرفتاری کا مطالبہ بھی کیا ہے

    بلوچستان انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن ،میجر بابر خان شہید ، 3 دہشت گرد جہنم واصل

    خیبرپختونخوا، سیکورٹی فورسز کی کاروائی، 11 دہشتگرد جہنم واصل

    کراچی ،غیر ملکیوں کی گاڑی پر خود کش حملہ،دو جاں بحق،حملہ آور ساتھی سمیت جہنم واصل

    بونیر،سیکورٹی فورسز کا آپریشن،دہشتگردوں کا سرغنہ جہنم واصل،دو جوان شہید

    ڈی آئی خان، سیکورٹی فورسز کا آپریشن، 8 دہشتگرد جہنم واصل

    ڈی آئی خان ،دھماکے میں دو جوان شہید،پنجگور،ایک دہشتگرد جہنم واصل

    شمالی وزیرستان، دہشتگردوں کیخلاف آپریشن،کمانڈر سمیت 8 جہنم واصل

    شمالی وزیرستان ، چوکی پر حملہ، لیفٹیننٹ کرنل اور کیپٹن سمیت 7 جوان شہید

  • ژوب میں ن لیگ کے امیدوار حاجی میر حسن شیرانی پر قاتلانہ حملہ

    ژوب میں ن لیگ کے امیدوار حاجی میر حسن شیرانی پر قاتلانہ حملہ

    بلوچستان کے علاقے ژوب میں مسلم لیگ ن کے امیدوار میر حسن شیرانی پر قاتلانہ حملہ ہوا ہے

    پولیس کے مطابق مسلم لیگ ن کے امیدوار میر حسن شیرانی پر حملہ ہوا تا ہم وہ محفوظ رہے،واقعہ کے بعد پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی، پولیس حکام کے مطابق نامعلوم افراد نے فائرنگ کی اور فرار ہو گئے، پولیس جلد ملزمان کو گرفتار کر لے گی، میر حسن شیرانی صوبائی اسمبلی کے حلقہ ایک سے الیکشن لڑ رہے ہیں، اور مسلم لیگ ن کے امیدوار ہیں،

    قبل ازیں 1 1جنوری کو جمیعت نظریاتی ضلع کوئٹہ کے امیر قاری مہراللہ پر قاتلانہ حملہ ہوا ،حملے میں قاری مہراللہ محفوظ رہے, قاری مہر اللہ بلوچستان اسمبلی کے حلقہ پی بی 45 اور حلقہ حلقہ این,اے 264 سے انتخاب لڑ رہے ہیں،قاری مہراللہ کو نماز فجر کے بعد مسجد سے گھر آتے ہوئے نشانہ بنایا گیا،تاہم وہ محفوظ رہے،مولانا قاری مہراللہ کو دو جنوری کو جے یو آئی نظریاتی نے ٹکٹ جاری کیا تھا،

    قبل ازیں شمالی وزیرستان میں ایک انتخابی امیدوار کی فائرنگ سے موت ہو گئی تھی، بلوچستان کے علاقے تربت میں ن لیگی امیدوار فائرنگ سے زخمی ہو گیا تھا،شمالی وزیرستان کے علاقے میران شاہ میں فائرنگ سے آزاد امیدوار ملک کلیم اللہ سمیت تین افراد کی موت ہوئی ہے، حملہ آور جائے وقوعہ سے فرار ہو گئے،ملک کلیم اللّٰہ صوبائی اسمبلی کے حلقے پی کے 104 سے آزاد امیدوار تھے،چنددن قبل اسی علاقےمیں سابقہ رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ پر بھی قاتلانہ حملہ ہوا تھا،

     پشاور ہائیکورٹ نے تاریخی فیصلہ دیا

    مجھے بلے کی آفر ہوئی میں نے انکار کر دیا

    بلے کے نشان کے بعد پی ٹی آئی کا نام و نشان بھی ختم ہوجائےگا ۔

     پی ٹی آئی کے ساتھ آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ اسکا اپنا کیا دھرا ہے ،

    عمران خان نے تبدیلی کے نام پر عوام کو دھوکہ دیا

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

  • عمران خان پر قاتلانہ حملے کی تفتیش کی فائل سابق سی سی پی اوغلام محمود ڈوگر اپنے ساتھ لے گئے

    عمران خان پر قاتلانہ حملے کی تفتیش کی فائل سابق سی سی پی اوغلام محمود ڈوگر اپنے ساتھ لے گئے

    لاہور: چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان پر قاتلانہ حملے کی تفتیش کی فائل سابق سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر اپنے ساتھ لے گئے۔

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق غلام محمود ڈوگر نے نئی جے آئی ٹی کو اپنے بیان کے ذریعے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ تفتیش کی فائل نہیں دے سکتا، کیوںکہ یاسمین راشد نے عدالت عالیہ میں رٹ کی ہوئی ہے، جب ہائی کورٹ فیصلہ کرے گا تو فائل دوں گا۔

    اینڈرائیڈ فون جن میں واٹس ایپ استعمال کرنا ممکن نہیں ہوگا

    ذرائع کا کہنا ہے کہ نئی جے آئی ٹی آر پی او راولپنڈی خرم علی شاہ کی سربراہی میں بنائی گئی تھی، جس نے انسداد دہشت گردی عدالت سے بھی کیس فائل نہ ملنے پر رجوع کرلیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق نئی جے آئی ٹی کا مؤقف ہے کہ تحریک انصاف کے دور میں بننے والی جے آئی ٹی کے ارکان بھی غلام محمود ڈوگر کی تفتیش سے اختلاف کر چکے ہیں، جب کہ خود غلام محمود ڈوگر تین روز قبل ریٹائر ہوچکے ہیں لیکن انہوں ںے کیس فائل جے آئی ٹی کو نہ دی سرکاری ملازم ریٹائرمنٹ کے بعد سرکاری فائل یا اہم دستاویز پاس نہیں رکھ سکتا، اہم دستاویز واپس نہ کرنے پر ریاست کی جانب سے مقدمہ درج کرایا جاسکتا ہے۔

    وہ غذائی عوامل جو عالمی سطح پرٹائپ 2 ذیا بیطس کا سبب بنتے ہیں

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان پر وزیرآباد میں ہونے والے حملے کی تحقیقات سابق سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کی سربراہی میں بننے والی جے آئی ٹی کررہی تھی، تاہم پی ٹی آئی کی پنجاب میں حکومت ختم ہونے کے بعد نگراں حکومت پنجاب نے واقعے کی تحقیقات کے لئے نئی جے آئی ٹی بنائی تھی، جسے تاحال کیس فائل نہیں مل سکی۔

    جے آئی ٹی نے کئی بار غلام محمود ڈوگر سے فائل مانگی جے آئی ٹی ذرائع کے مطابق فائل فراہم نہ ہونے کی وجہ سے تفتیش شروع نہیں ہو سکی موجودہ جے آئی ٹی میں ڈی آئی جی کامران عادل، احسان اللہ چوہان اور ایس پی نصیب اللہ شامل ہیں،تحریک انصاف کے دور میں بننے والی جے آئی ٹی کے ارکان نے غلام محمود ڈوگر کی تحقیقات سے اختلاف کیا ہے۔

    بھارت میں شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے دفاع کا اجلاس،پاکستان کا آن لائن شرکت کا …