Baaghi TV

Tag: قاسم خان سوری

  • مرحوم ماں کو گالی دینے والوں کیخلاف قانونی طور پر ہرحد تک جاؤں گا. سلیم صافی

    مرحوم ماں کو گالی دینے والوں کیخلاف قانونی طور پر ہرحد تک جاؤں گا. سلیم صافی

    معروف صحافی سلیم صافی نے کہا ہے کہ میری شکایت پرایف آئی اے نےعمرانی دور کی طرح اسی روز سابق دپٹی اسپیکر قومی اسمبلی اور رہنماء پی ٹی آئی قاسم خان سوری کےگھر پرحملہ آورہونے کے بجائے جواب کے لئے دس دن کا وقت دے دیا ہے. انہوں نے دعوٰی کیا کہ قاسم سوری اورایف آئی اے حکام یادرکھیں کہ میں اپنی زات کے بارے میں بہت کچھ معاف کرسکتا ہوں لیکن مرحوم ماں کو گالیاں دینے والے سے حساب لینے کے لئے (قانونی راستے سے) ہرحد تک جاؤں گا.

    واضح رہے کہ سلیم صافی نے ایک دستاویز بھی اپنے ٹوئیٹر اکاؤنٹ پر شیئر کیا جس میں ایف آئی اے حکام نے محمد قاسم خان سوری کو 2 جنوری 2023 کومطلع کیا تھا جس میں انہیں دس دن کیلئے 11 جنوری تک کا وقت دیا گیا ہے.

    خیال رہے کہ گزشتہ سال 29 دسمبر 2022 کو سلیم صافی نے دعویٰ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ "سابق ڈپٹی اسپیکراور تحریک انصاف کے رہنماء قاسم خان سوری نے ٹویٹرپرمیرے ان مرحوم والدین کوگالی دی جنہوں نے مجھے گالی دینا نہیں سکھایا لہذا اسلئے قانونی راستہ اپنایا ہے. انہوں نے مزید کہا "عمرانی دورمیں ایک ایم این اے کی شکایت پر(حالانکہ صفحہ 73پرانکا ذکرنہیں تھا) ایف آئی اے عمران خان کی ایما پرمحسن بیگ کے گھرپرحملہ آورہوئے لہذا اب دیکھنا یہ ہےکہ میری شکایت پرکیا کاروائی ہوتی ہے؟”


    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    مغلظات پر قاسم سوری کیخلاف سلیم صافی کی قانونی کاروائی
    سیاسی استحکام کے لیے تمام جماعتوں کو ساتھ بیٹھ کر بات چیت کر نا ہوگی. خواجہ سعد رفیق
    کائنات کی ابتدا میں موجود ہماری کہکشاں سے مشابہ کہکشائیں دریافت
    سندھ حکومت کا ہیریٹیج اور آثار قدیمہ کی حفاظت کیلئے فنڈ قائم کرنے کا فیصلہ

    واضح رہے کہ سابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کے خلاف وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو درخواست میں جیو نیوز کے سینئر اینکر پرسن سلیم صافی نے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کو بتایا تھا کہ قاسم سوری نے ٹوئٹر پر نازیبا اور غیراخلاقی کمنٹس کیئے لہذا قاسم سوری کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

  • پاکستان تحریک انصاف نے کوئٹہ میں بڑے جلسےکا اعلان کردیا

    پاکستان تحریک انصاف نے کوئٹہ میں بڑے جلسےکا اعلان کردیا

    کوئٹہ:سابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما قاسم خان سوری کا کہنا ہے کہ عمران خان 4 ستمبر کو کوئٹہ میں جلسہ سے خطاب کریں گے۔

    کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے صوبائی صدر قاسم خان سوری کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے عوام کے مطالبے پر چیئرمین پی ٹی آئی کو کوئٹہ آئیں گے اور عوامی طاقت کا مظاہرہ کریں گے۔قاسم خان سوری کا کہنا تھا کہ جلسے کی تیاریاں شروع کردی گئی ہیں، کوئٹہ میں ہونے والا جلسہ تاریخی ہوگا جس میں ہزاروں افراد شرکت کریں گے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل رہنما تحریک انصاف فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ رہنما تحریک انصاف فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ 19 اگست کو کراچی جبکہ 20 اگست کو حیدرآباد میں جلسہ ہوگا۔ عمران خان 10 ستمبر تک جلسے کریں گے۔

    پی ٹی آئی ذرائع کا کہنا تھا کہ کراچی اور حیدرآباد کے بعد راولپنڈی، سرگودھا، جہلم، ننکانہ میں جلسے ہوں گے۔ فیصل آباد، شیخوپورہ، کوئٹہ اور دیگر شہروں میں بھی جلسے کئے جائیں گے۔

    این اے 118 کے بعد این اے 108 میں عمران خان کے لیے مشکلات کھڑی ہوگئیں،اطلاعات کے مطابق پہلے این اے 118 میں عمران خان کے کاغذات نامزدگی چیلنج کرکے ان کے لیے الیکشن لڑنے میں رکاوٹ کھڑی کردی گئی اور اب اطلاعات ہیں کہ این اے 108 میں بھی عمران خان کےلیے ایک اور مشکل آپہنچی ہے،

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے این اے 108 کے ضمنی انتخابات میں کاغذات نامزدگی کی تصدیق کیلئے پاکستان تحریک انصاف عمران خان کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا، ریٹرننگ آفیسر کی جانب سے عمران خان کو مراسلہ بھجوادیا گیا۔

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ہدایت کی ہے کہ این اے 108 پر ضمنی انتخاب میں حصہ لینے کیلئے پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان ذاتی حیثیت میں پیش ہوکر کاغذات نامزادگی کی تصدیق کروائیں۔

  • سوال کیوں پوچھا؟ قاسم سوری کے گارڈ کا صحافی پر تشدد،صحافتی تنظیموں کا کاروائی کا مطالبہ

    سوال کیوں پوچھا؟ قاسم سوری کے گارڈ کا صحافی پر تشدد،صحافتی تنظیموں کا کاروائی کا مطالبہ

    سوال کیوں پوچھا؟ قاسم سوری کے گارڈ کا صحافی پر تشدد،صحافتی تنظیموں کا کاروائی کا مطالبہ
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کے مسلح گارڈر نے راولپنڈی میں صحافیوں کو زدوکوب کیا ہے، تشدد کا نشانہ بنایا ہے اور گاڑی کو بھی نقصان پہنچایا ہے

    واقعہ گزشتہ شب مویشی منڈی میں پیش آیا، قاسم سوری کے گارڈ نے نجی ٹی وی جی این این کے رپورٹر کو سوال پوچھنے کی کوشش پر تشدد کا نشانہ بنایا، صحافی کو تھپڑ مارے گئے، قاسم سوری کے واقعہ کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست دی جا رہی ہے،صحافتی تنظیموں نے بھی واقعہ پر احتجاج کیا ہے،

    نیشنل پریس کلب نے راولپنڈی مویشی منڈی کے باہر جی این این کے رپورٹر پر پی ٹی آئی رہنما قاسم سوری کے مسلح گارڈز کے تشدد کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ قاسم سوری کے مسلح گارڈز کا قاسم سوری پر تشدد قابل مذمت فعل ہے، ایسے واقعات کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا حکومت صحافیوں کو تحفظ دینے میں ناکام ہو چکی ہے، نقصان کا ازالہ کیا جائے اور ایسے واقعات کو روکا جائے،

    آر آئی یو جے نے بھی راولپنڈی مویشی منڈی کے باہر جی این این کے رپورٹر پر پی ٹی آئی رہنما قاسم سوری کے مسلح گارڈز کے تشدد کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ حکومت نوٹس لے اور واقعہ کا مقدمہ درج کیا جائے،

    صحافی مطیع اللہ جان نے اس حملہ کی مزمت کرتے ہوئے کہا کہ: "انتہائی قابل مذمت واقعہ ہے لہذا ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کو سوری بولناُچاہئیے اس میڈیا ورکر سے”

    قاسم خان سوری سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی رہ چکے ہیں، قاسم خان سوری کی نااہلی کا کیس بھی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے، قاسم خان سوری این اے 265 سے رکن اسمبلی منتخب ہوئے تھے، الیکشن ٹربیونل کی سربراہی جسٹس عبداللہ بلوچ نے کی تھی اور الیکشن ٹربیونل نے این اے 265 میں دوبارہ الیکشن کروانے کا حکم دیا تھا جس کے بعد قاسم سوری نے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا، سپریم کورٹ نے سٹے آرڈر دے دیا ،اسکے بعد ابھی تک سماعت نہیں ہوئی،

    قاسم سوری سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ملکی سلامتی کے اداروں پر بھی تنقید کرتے نظر آئے ہیں، ٹویٹر پر عمران خان کی حکومت جانے کے بعد قاسم سوری نے ملکی سلامتی کے اداروں پر تنقید کی، تحریک انصاف کے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ بھی اداروں پر تنقید کر رہے ہیں قاسم سوری ایک ٹویٹ میں کہتے ہیں کہ انڈیا کا پاکستانی حدود میں سوپر سانک کروز میزائل ’براہموس‘ پاکستانی ریڈار سے کیسے بچ نکلا؟
    اس سوال کا موثر جواب ابھی تک نہیں مل سکا ہے، #وہ_کون_تھا کہ جس نے براہموس نہ گرا سکنے کا غصہ حکومت پاکستان گرا کر لے لیا؟

    https://twitter.com/QasimKhanSuri/status/1537631670169378822

    قاسم خان سوری کے گارڈز کی جانب سے صحافی پر تشدد کے خلاف عوامی حلقوں نے بھی ردعمل ظاہر کیا ہے اور کہا ہے کہ آزادی اظہار رائے کے دعویدار اب اپنی کرپشن، فرح گوگی کے کارناموں، توشہ خانہ کی گھڑیوں کے بارے میں سوالات کا جواب کیوں نہیں دیتے، قاسم سوری خود ایک سٹے پر رکن اسمبلی رہے، حلقے کے عوام بھی ان سے ناخوش ہیں کیونکہ قاسم سوری نے رکن اسمبلی منتخب ہونے کے بعد حلقے میں کوئی ترقیاتی کام نہیں کروائے

    شادی اس بات کا لائسنس نہیں کہ شوہر درندہ بن کر بیوی پر ٹوٹ پڑے،عدالت

    خواجہ سراؤں کا چار رکنی گروہ گھناؤنا کام کرتے ہوئے گرفتار

    چار ملزمان کی 12 سالہ لڑکے کے ساتھ ایک ہفتے تک بدفعلی،ویڈیو بنا کر دی دھمکی

    ماموں کی بیٹی کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا گرفتار

    پانی پینے کے بہانے گھر میں گھس کر لڑکی سے گھناؤنا کام کرنیوالا ملزم گرفتار

    زبانی نکاح،پھر حق زوجیت ادا،پھر شادی سے انکار،خاتون پولیس اہلکار بھی ہوئی زیادتی کا شکار

  • ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری کی ٹکٹوں کی تقسیم کی  خبر کی حقیقت!!

    ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری کی ٹکٹوں کی تقسیم کی خبر کی حقیقت!!

    ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری کا سینٹ الیکشن میں امیدواروں کے چناؤ سے متعلق چلنے والی خبروں کا معاملہ۔
    ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری سینٹ انتخابات میں امیدواروں کے چناؤ کیلئے قائم پارلیمانی بورڈ کا حصہ تھے نہ ہی ٹکٹوں کی تقسیم کے حوالے سے فیصلہ سازی میں شریک تھے۔اس حوالے سے زیر گردش خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے، ایسی خبریں من گھڑت، بے بنیاد اور حقائق سے یکسر متصادم ہیں۔