Baaghi TV

Tag: قاضی فائزعیسیٰ

  • معمول کے کیس سننا شروع،نئے چیف جسٹس نے  3 کیسز نمٹا دیئے

    معمول کے کیس سننا شروع،نئے چیف جسٹس نے 3 کیسز نمٹا دیئے

    اسلام آباد: چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے 3 کیسز نمٹا دیئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے آج سے معمول کے کیس سننا شروع کردئیے ہیں، اور ان کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے5میں سے3 کیسز نمٹا دئیے ہیں،سپریم کورٹ نے سروس میٹر میں پاکستان پوسٹ کی درخواست خارج کردی ہےقتل کے کیس میں ضمانت منسوخی کی درخواست واپس لینے کی بنیاد پر نمٹا دی، اور سی ڈی اے لینڈ ڈیپارٹمنٹ کے کیس میں ملزم کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور کرلی، جب کہ ملازمت بحالی کیلئے دائراپیل میں وکیل کی استدعا پر 2 ہفتوں کا وقت دے دیا۔

    کراچی سمیت ملک بھر میں کل تک مزید بارشوں کا امکان

    واضح رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اتوار کو چیف جسٹس کا حلف لیا تھا اورگزشتہ روز ان کی سربراہی میں سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف درخواستوں پر فُل کورٹ نے سماعت کی تھی چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے گارڈ آف آنر لینے اور بلٹ پروف گاڑی بھی لینے سے انکار کردیا تھا چیف جسٹس نے اسلام آباد پولیس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا تھا کہ آپ لوگوں کا بہت سا تعاون چاہیے، آج میری میٹنگز اور فل کورٹ ہے، آپ لوگوں سے تفصیل سے ملوں گا لوگ سپریم کورٹ خوشی سے نہیں آتے، اپنے مسائل ختم کرنے کے لئے آتے ہیں، لہٰذا آنے والے لوگوں سے مہمان جیسا سلوک کریں یقیناً کچھ لوگوں کو پریشانی ہوتی ہے، انصاف کے دروازے کھلے اور ہموار رکھیں اور آنے والے لوگوں کی مدد کریں-

    حکومت کا ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا فیصلہ

  • وکلا حکومت کے سامنے ہاتھ پھیلائیں گے تو آزاد نہیں رہیں گے:جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    وکلا حکومت کے سامنے ہاتھ پھیلائیں گے تو آزاد نہیں رہیں گے:جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    کراچی: سپریم کورٹ آف پاکستان کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ وکلا کو حکومت کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلانا چاہیے، حکومت سے پیسے لیں گے تو آپ آزاد نہیں ہوں گے اور حکومت جو آپ کو پیسہ دے رہی ہے وہ عوام کے ٹیکس کا ہے۔

     

     

    تقریب سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ اداروں پر تنقید نہ کریں شخصیات پر تنقید کریں، جب ہم نے آئین کا دامن چھوڑا تو ملک دو لخت ہوا۔

     

    علاوہ ازیں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ 950 پیراگراف پر مشتمل ایک فیصلہ تھا جس پر شرمندگی ہوتی ہے، اس فیصلے میں وزیر اعظم کو سزا موت سنائی گئی، ججز کو کسی کے دباؤ میں آکر سزائے موت نہیں دینا چاہیے۔

     

    انہوں نے کہا کہ ملک کا ہر شہری عدلیہ کی آزادی چاہتا ہے، عدلیہ کا کام شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے، وکلا کا لہو پاکستان کا تحفظ کرتا ہے، ہمیں سوال کرنے کا حق دیں ہھر آپ ہمارے فیصلے پر بھرپور تنقید کریں۔

     

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کا کہ میں نے سوائے ایک کے توہین عدالت کا کوئی کیس نہیں سنا، آپ کو حق ہے آپ مجھ سے سوال جواب کرسکتے ہیں، میرے کیس کے بعد وومن ایکشن فورم کہا کہ ججز اثاثے ظاہر کریں، میں نے اور اہلیہ نے اپنے اثاثے ظاہر کردیے۔

     

    انہوں نے کہا کہ ججز ترقی پر وزیر قانون اور اٹارنی جنرل کا پہلےاور بعد کا موقف مختلف تھا، اس کے متعلق دلائل نہیں دیے گئے، شاید کچھ پریشر ہو؟، افسران سے گاڑیاں واپس لی جائیں تو پبلک ٹرانسپورٹ اچھی ہوجائے گی۔

     

    اس موقع پر جسٹس (ر) مقبول باقر نے کہا کہ آئین و قانون کی حکمرانی پر مبارکباد دینے کی خواہش ہے، ہم 75 برس سے ایسا نہیں کرسکے، یہ سب غیر سیاسی قوتوں کی نظام میں مداخلت ہے، اس کی ذمے داری سیاسی لوگوں پر بھی عائد ہوتی ہے۔

     

    انہوں نےکہا کہ ہم خوشحال معاشرہ قائم کرنے میں ناکام رہے ہیں،ملک میں جمہوری عمل کو کبھی پنپنےنہیں دیا گیا،بینظیر بھٹو کی حکومت کے خاتمے کے خلاف اپیلوں پر فیصلہ بروقت نہیں ہوا اور وہ غیر موثر ہوگئیں۔

    پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا