Baaghi TV

Tag: قاضی فائز عیسٰی

  • لندن،قاضی فائز عیسیٰ کی گاڑی پر حملے کی تحقیقات بند

    لندن،قاضی فائز عیسیٰ کی گاڑی پر حملے کی تحقیقات بند

    لندن: لندن پولیس نے پاکستان کے سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی گاڑی پر مبینہ حملے کے کیس کی تحقیقات بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس حملے کا واقعہ اس وقت پیش آیا جب قاضی فائز عیسیٰ مڈل ٹیمپل میں ہونے والی ایک تقریب میں شرکت کے لیے پہنچے تھے، جس دوران پی ٹی آئی کارکنوں نے احتجاج کیا تھا۔

    پاکستانی ہائی کمیشن نے اس حملے کے حوالے سے پولیس کو شکایت درج کرائی تھی اور دفتر خارجہ نے ہائی کمیشن کو ہدایت کی تھی کہ وہ واقعے کی فوٹیج کا جائزہ لے کر ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کرے۔ پاکستان ہائی کمیشن نے تمام دستیاب شواہد پولیس کے حوالے کیے تھے، لیکن پولیس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ چونکہ حملے میں کوئی شخص زخمی نہیں ہوا اور کوئی اور نقصان بھی نہیں پہنچا، اس لیے وہ کسی پر فرد جرم عائد نہیں کر سکتی۔پولیس نے اس بات کی تصدیق کی کہ اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف مزید تحقیقات یا قانونی کارروائی کی ضرورت نہیں ہے۔ پاکستانی حکومت نے 23 مبینہ ملزمان کے پاسپورٹ منسوخ کر دیے اور ان کے نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کر دیے تاکہ ان افراد کو ملک سے باہر جانے سے روکا جا سکے۔

    یہ واقعہ مڈل ٹیمپل میں ایک بینچر تقریب کے دوران پیش آیا، جس میں پی ٹی آئی کے اہم رہنما اور کارکنوں نے سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف نعرے بازی کی اور ان کی گاڑی پر حملہ کیا۔ پی ٹی آئی کے رہنماؤں، جن میں ملیکہ بخاری، ذلفی بخاری، اور اظہر مشوانی شامل تھے، نے اس احتجاجی مظاہرے میں خطاب کیا تھا۔

    لندن،قاضی فائز عیسیٰ پر حملہ کرنیوالوں کے نام پی سی ایل میں ڈال دیئے گئے

  • لندن،قاضی فائز عیسیٰ پر حملہ کرنیوالوں کے نام پی سی ایل میں ڈال دیئے گئے

    لندن،قاضی فائز عیسیٰ پر حملہ کرنیوالوں کے نام پی سی ایل میں ڈال دیئے گئے

    سابق چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ پر لندن میں حملہ کرنے والے 23 پاکستانیوں کے نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ (پی سی ایل) میں ڈال دیے گئے ہیں۔

    نجی میڈیا رپورٹس کے مطابق ،اعلیٰ ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق، جن 23 پاکستانیوں پر حملے کا الزام ہے، ان کے نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کر لیے گئے ہیں۔ ان افراد میں تحریک انصاف کی سابق رکن قومی اسمبلی ملائیکہ بخاری اور لندن میں نواز شریف کی رہائش گاہ کے باہر ہونے والے مظاہروں میں مشہور ہونے والے شایان علی کا نام بھی شامل ہے۔پاکستانی حکام نے برطانوی حکومت کو ان افراد کی حوالگی کے لیے خط لکھا ہے۔ اگر یہ افراد پاکستان واپس آتے ہیں تو ان پر پاکستان میں درج مقدمات کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ فہرست کے مطابق، ان افراد میں سعدیہ فہیم، فہیم گلزار، ماہین فیصل، سدرہ طارق اور حبا عبدالمجید کے نام بھی شامل ہیں۔وقاص چوہان ،محسن حیدر ضمیر اکرم ، سردار تیمور،محمد پرویز علی اور رخسانہ کوثر کے نام شامل ہیں،لسٹ میں شیخ محمد جمیل ،مہران حبیب ذہیر احمد ،رحمان انور، اور محمد صادق خان کے نام بھی شامل ہیں،خدیجہ کاشف ،محمد نوید افضل ،شہزاد قریشی ،سلیمان علی شاہ اور بلال انور کے نام شامل ہیں،پی سی ایل میں ان تمام افراد کے شام شامل کیے گئے ہیں جو مقدمے میں درج ہیں 23 افراد کے علاوہ 153 مزید افراد کے نام بھی پی سی ایل میں شامل کیے گئے ہیں ،23 افراد کے پاسپورٹ معطل بھی کر دئے گئے ہیں،تمام شامل افراد کی حوالگی کے لیے برطانوی حکام کو خط بھی لکھ دیا گیا ہے،پاکستان لائے جانے کی صورت میں ان افراد کو گرفتار کر کے شامل تفتیش کیا جائے گ

    لندن پولیس کی جانب سے سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر حملہ کرنے والے ملزمان جن کا تعلق پی ٹی آئی سے ہے کےخلاف کارروائی شروع کر دی گئی ہے، اور انہیں بہت جلد پاکستان ڈی پورٹ کرنے کا عمل شروع کیا جائے گا۔ لندن پولیس نے اس معاملے میں تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور حملہ آوروں کی شناخت کے لئے اہم شواہد جمع کر لئے ہیں،قاضی فائز عیسیٰ پر حملہ گزشتہ ماہ لندن میں ہوا تھا، جس کے بعد پاکستانی حکام نے فوری طور پر برطانوی حکام سے رابطہ کیا تھا۔ لندن پولیس نے واقعے کی مکمل تحقیقات شروع کی ہیں اور جلد ہی ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ملزمان کو قانونی طریقے سے پاکستان واپس بھیجا جائے گا تاکہ ان کے خلاف ملکی قانون کے تحت کارروائی کی جا سکے۔

    واضح رہے کہ پاکستانی وزارت خارجہ نے لندن میں سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور ان کی اہلیہ کو ہراساں کرنے کے معاملے میں سخت احکامات جاری کیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، وزارت خارجہ نے برطانوی ہائی کمیشن کو اس معاملے میں قانونی کارروائی کے حوالے سے ہدایات فراہم کی ہیں، جس کا مقصد ہراسانی میں ملوث افراد کے خلاف سخت اقدامات اٹھانا ہے۔وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کی وزارت نے واضح کیا ہے کہ سابق چیف جسٹس اور ان کی اہلیہ کو ہراساں کرنے والے تمام عناصر کے خلاف بھرپور قانونی کارروائی کی جائے گی۔ وزارت خارجہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمان کو قرار واقعی سزا دلوانے کے لیے قانونی راستہ اختیار کیا جائے گا۔

    ٹرمپ کے دوبارہ صدر منتخب ہونے پر روس،ایران کا ردعمل

    ٹرمپ کو برطانوی،بھارتی وزیراعظم،فرانسیسی،یوکرینی صدر و دیگر کی مبارکباد

    امریکی انتخابات،سیاسی منظر نامے میں اہم تبدیلیاں

    وزیراعظم کی ٹرمپ کو مبارکباد،پاک امریکا تعلقات مزید مضبوط کرنے کا عزم

    اپریل 2022 میں عمران خان سے ملاقات کرنیوالی الہان عمر چوتھی بار کامیاب

    ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی امریکہ کے لیے ایک نیا آغاز،اسرائیلی وزیراعظم

  • لندن،قاضی فائز عیسیٰ پر حملہ کرنیوالے 26 ملزمان کو کیا جائے گا برطانیہ بدر

    لندن،قاضی فائز عیسیٰ پر حملہ کرنیوالے 26 ملزمان کو کیا جائے گا برطانیہ بدر

    لندن میں سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کو گالم گلوچ اور ان کی ڈپلومیٹک کار پر حملہ کرنے والے ملزمان کی شناخت ہو گئی ہے، 26 ملزمان کو جلد پاکستان ڈی پورٹ کر دیا جائے گا،

    یہ انکشاف سینئر صحافی و تجزیہ کار مظہر عباس نے نجی ٹی وی کے پروگرام کے دوران کیا،مظہر عباس کا کہنا تھا کہ ‏قاضی فائز عیسی پر حملہ کرنے والے بہت جلد پاکستان ڈی پورٹ ہونگے۔ لندن پولیس نے کارروائی کا آغاز کردیا ہے ۔

    لندن پولیس کی جانب سے سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر حملہ کرنے والے ملزمان جن کا تعلق پی ٹی آئی سے ہے کےخلاف کارروائی شروع کر دی گئی ہے، اور انہیں بہت جلد پاکستان ڈی پورٹ کرنے کا عمل شروع کیا جائے گا۔ لندن پولیس نے اس معاملے میں تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور حملہ آوروں کی شناخت کے لئے اہم شواہد جمع کر لئے ہیں،قاضی فائز عیسیٰ پر حملہ گزشتہ ماہ لندن میں ہوا تھا، جس کے بعد پاکستانی حکام نے فوری طور پر برطانوی حکام سے رابطہ کیا تھا۔ لندن پولیس نے واقعے کی مکمل تحقیقات شروع کی ہیں اور جلد ہی ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ملزمان کو قانونی طریقے سے پاکستان واپس بھیجا جائے گا تاکہ ان کے خلاف ملکی قانون کے تحت کارروائی کی جا سکے۔

    واضح رہے کہ پاکستانی وزارت خارجہ نے لندن میں سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور ان کی اہلیہ کو ہراساں کرنے کے معاملے میں سخت احکامات جاری کیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، وزارت خارجہ نے برطانوی ہائی کمیشن کو اس معاملے میں قانونی کارروائی کے حوالے سے ہدایات فراہم کی ہیں، جس کا مقصد ہراسانی میں ملوث افراد کے خلاف سخت اقدامات اٹھانا ہے۔وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کی وزارت نے واضح کیا ہے کہ سابق چیف جسٹس اور ان کی اہلیہ کو ہراساں کرنے والے تمام عناصر کے خلاف بھرپور قانونی کارروائی کی جائے گی۔ وزارت خارجہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمان کو قرار واقعی سزا دلوانے کے لیے قانونی راستہ اختیار کیا جائے گا۔

    پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی نے واقعے پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے حملہ آوروں کے خلاف قانونی کارروائی کے احکامات جاری کیے تھے۔ انہوں نے نادرا کو فوری طور پر حملہ آوروں کی شناخت کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ فوٹیجز کے ذریعے ان کی شناخت کی جائے اور ان کے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کو فوری طور پر منسوخ کرنے کے اقدامات کیے جائیں۔ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ حملے میں ملوث افراد کی پاکستانی شہریت بھی منسوخ کرنے کی کاروائی شروع کی جائے گی اور اس حوالے سے معاملہ وفاقی کابینہ کو بھیجا جائے گا۔

    ٹرمپ کے دوبارہ صدر منتخب ہونے پر روس،ایران کا ردعمل

    ٹرمپ کو برطانوی،بھارتی وزیراعظم،فرانسیسی،یوکرینی صدر و دیگر کی مبارکباد

    امریکی انتخابات،سیاسی منظر نامے میں اہم تبدیلیاں

    وزیراعظم کی ٹرمپ کو مبارکباد،پاک امریکا تعلقات مزید مضبوط کرنے کا عزم

    اپریل 2022 میں عمران خان سے ملاقات کرنیوالی الہان عمر چوتھی بار کامیاب

    ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی امریکہ کے لیے ایک نیا آغاز،اسرائیلی وزیراعظم

  • پاکستانی ہائی کمیشن کی گاڑی کو نشانہ بنانے پر قانونی کاروائی کرینگے،ترجمان دفترخارجہ

    پاکستانی ہائی کمیشن کی گاڑی کو نشانہ بنانے پر قانونی کاروائی کرینگے،ترجمان دفترخارجہ

    ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے کہا ہے کہ لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن کی گاڑی کو نشانہ بنانے پر قانونی کارروائی کریں گے

    ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم محمد شہبازشریف قطرکادورہ کررہے ہیں۔ وزیراعظم قطرکی قیادت سے اعلیٰ سطح ملاقات کریں گے۔ وزیراعظم نے دورہ سعودی عرب میں ولی عہدمحمدبن سلمان سے اہم ملاقات کی ۔ محمدبن سلمان سے ملاقات میں وزیراعظم نے اہم امورپرتبادلہ خیال کیا۔ پاکستان جدیدتعلیم کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔کسی دو ممالک کے درمیان تبادلوں پر تبصرہ نہیں کرتے، سال 2019ء میں پاکستان نے بھارت کے ساتھ تجارت معطل کی تھی جو برقرار ہے، امریکا کے انتخابات میں پاکستان کی کوئی پوزیشن نہیں، ہم دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرتے اور نہ ہی ہم اپنے اندرونی معاملات میں مداخلت کا خیرمقدم کرتے ہیں

    ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ کا مزید کہنا تھا کہ کوئی بھی احتجاج مہذب انداز میں ہونا چاہیے، پاکستان کے ہائی کمیشن کے گاڑی پر حملے کی تحقیقات کررہے ہیں۔ ہائی کمیشن کی گاڑی میں وہاں کا سٹاف موجود تھا، پاکستانی ہائی کمیشن بعض شخصیات کو اخلاقی بنیاد پر سہولت دیتا ہے،

    ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ کا مزید کہنا تھاکہ پاکستان میں چینی شہریوں کے ساتھ چند بدقسمت واقعات رونما ہوئے، ہمیں چینی حکومت اور سفارت خانے کی تشویش سے آگاہی ہے، ہم نے چین کو ان واقعات کی تحقیقات کے بارے میں آگاہ کیا، پاکستان میں قیادت کی سطح پر یہاں چینی باشندوں، منصوبوں اور کمپنیوں کے تحفظ کے عزم کی تجدید کی گئی، ایس سی او کانفرنس کے دوران وزیراعظم نے چینی ہم منصبوں کو بھی چینی شہریوں کے تحفظ کی یقین دہانی کرائی، چینی سفیر کا بیان حیران کن ہے ، ان کابیان پاک چین سفارتی روایات کی عکاسی نہیں کرتا،ڈیرہ اسماعیل خان میں روسی باشندےکے اغوا پر سوشل میڈیا رپورٹس دیکھی ہیں، ابھی تفصیلات کے مکمل حصول تک اس کی تصدیق نہیں کر سکتے۔

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے متعلق سوال پر ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا عافیہ صدیقی کا خاص کیس ہے جو دلوں کو لگتا ہے، جن حالات میں انہیں گرفتار کیا گیا اور ان کو سزا ملی تو اس پر ملک میں بڑی بحث ہوئی، امریکا میں ایک سزا یافتہ فرد صرف رحم کی اپیل کر سکتا ہے، ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی جانب سے رحم کی اپیل پر تفصیلات کا انتظار ہے،ہم ایران کے علاقے خاشک میں دہشت گردی کی مذمت کرتے ہیں، پاکستان اور ایران دہشت گردی کے خلاف کوشیشں جاری رکھے ہوئے ہیں

    گن پوائنٹ پر خواجہ سرا ڈولفن ایان سے برہنہ رقص کروا کر ویڈیو کر دی گئی وائرل

    لاہور بیورو کیخلاف بغاوت کی خبر کیسےباہر آئی؟ اکرم چوہدری سیخ پا،ذاتی کیفے میں اجلاس میں تلخی

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    اکرم چوہدری نجی ٹی وی کا عثمان بزدار ثابت،دیہاڑیاں،ہراسانی کے بھی واقعات

    اکرم چوہدری کا نجی ٹی وی کے نام پر دورہ یوکے،ذاتی فائدے،ادارے کو نقصان

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

  • مڈل ٹیمپل سے روانگی کے وقت پی ٹی آئی کارکنوں کا  قاضی فائز عیسیٰ اور ہائی کمیشن کی گاڑی پر حملہ

    مڈل ٹیمپل سے روانگی کے وقت پی ٹی آئی کارکنوں کا قاضی فائز عیسیٰ اور ہائی کمیشن کی گاڑی پر حملہ

    سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی برطانیہ کی قانونی درسگاہ مڈل ٹیمپل سے روانگی کے وقت پی ٹی آئی کارکنوں نے قاضی فائز اور پاکستانی ہائی کمشن کی گاڑی پر حملہ کردیا۔

    باغی ٹی وی : لندن میں تقریب کے بعد قاضی فائزعیسی اپنی اہلیہ کے ہمراہ نکلے تو ادارے کے باہر احتجاج کے لئے آئے، پی ٹی آئی کارکنوں نے ان کی گاڑی روکنے اور اس کے شیشے توڑنے کی کوشش کی گئی، پی ٹی آئی کارکنوں نے پاکستانی ہائی کمیشن کی گاڑی پرحملہ کیا،جس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہیں،مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اپنی اہلیہ کے ساتھ مڈل ٹیمپل سے ایک سیاہ گاڑی میں روانہ ہو رہے تھے کہ پی ٹی آئی کے کارکنان نے ہنگامہ شروع کر دیا۔ انہوں نے سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی گاڑی پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں قاضی فائز عیسیٰ اور ان کی اہلیہ کو بچاؤ کرنا پڑا۔ ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کارکنان سابق چیف جسٹس کی گاڑی کو گھیرے میں لے کر نعرے بازی اور احتجاج کر رہے ہیں،اس موقع پر پی ٹی آئی رہنماؤں ملیکہ بخاری، ذلفی بخاری، اظہر مشوانی اور دیگر نے مظاہرین سے خطاب بھی کیا۔

    قاضی فائز عیسیٰ مڈل ٹیمپل میں” بینچر”منتخب،پی ٹی آئی کا ادارے کے باہر احتجاج

    لندن میں سابق چیف جسٹس پر حملہ کرنے والوں کے خلاف وزیر داخلہ کا کاروائی کاحکم
    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے لندن میں سابق چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ پر حملے کو افسوسناک واقعہ قرار دیا اور شدید الفاظ میں مذمت کی، ساتھ ہی انہوں نے نادراکوحملہ آوروں کی شناخت کے لئے فوری اقدامات کا حکم دے دیا وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ فوٹیجزکےذریعے حملہ آوروں کی نشاندہی کی جائے، حملہ آوروں کیخلاف قانونی کارروائی کی جائے گی، پاکستان میں ایف آئی آردرج کرکے مزید کارروائی کی جائے گی۔حملہ آوروں کے شناختی کارڈ بلاک اورپاسپورٹ منسوخ کئے جائیں گے، حملہ آوروں کی شہریت منسوخ کرنے کیلئے فوری کارروائی کی جائے گی، شہریت منسوخی کا کیس منظوری کے لئے کابینہ بھیجا جائے گا،کسی کوبھی اس طرح کے حملے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

    سپریم کورٹ میں زیرالتواء مقدمات کی تفصیلات جاری

  • قاضی فائز عیسیٰ مڈل ٹیمپل میں” بینچر”منتخب،پی ٹی آئی کا ادارے کے باہر احتجاج

    قاضی فائز عیسیٰ مڈل ٹیمپل میں” بینچر”منتخب،پی ٹی آئی کا ادارے کے باہر احتجاج

    برطانیہ کی قانونی درسگاہ مڈل ٹیمپل میں سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو بطور بینچرمنتخب کیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ حکام کے مطابق سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو اس سال مئی میں تقریب میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی، قاضی فائز عیسیٰ نے مڈل ٹیمپل کی انتظامیہ کو آگاہ کیا تھا کہ وہ 25 اکتوبر کو اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد ہی شرکت کر سکتے ہیں جس پر ان کے اعزاز میں تقریب کی تاریخ 29 اکتوبر مقرر کی گئی، اس موقع پر مڈل ٹیمپل انتظامیہ نے بینچرز کے اعزاز میں عشائیے کا اہتمام بھی کر رکھا ہے۔

    قاضی فائز عیسیٰ کو مڈل ٹیمپل میں بطور بینچر شامل کیا گیا تو تحریک انصاف نے ادارے کے باہر سابق چیف جسٹس کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا ہے اس سلسلے میں نہ صرف پارٹی کی برطانیہ میں مقامی قیادت متحرک ہو چکی ہے بلکہ مرکزی قیادت نے بھی کارکنان کو اس احتجاج میں شامل ہونے کی کال دے دی ہے-

    سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری نے بھی برطانیہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی سے اس احتجاج میں شامل ہونے کی اپیل کی ہے،پی ٹی آئی کے کارکن شام سے لندن کے مڈل ٹیمپل کے باہر احتجاج کر رہے تھےاس موقع پر ملیکہ بخاری، ذلفی بخاری، اظہر مشوانی اور دیگر نے مظاہرین سے خطاب بھی کیا تھا۔

    مڈل ٹیمپل لندن کی چار تاریخی اور معتبر قانونی اداروں میں سے ایک ہے، ان اداروں میں قانون کے طلبہ کو تربیت دی جاتی ہے اور وکالت میں داخلہ کے لیے لائسنس دیا جاتا ہے،اس کے ممبران میں نہ صرف برطانوی بلکہ عالمی سطح پر کئی اہم قانونی شخصیات شامل رہی ہیں، مڈل ٹیمپل کے گریجویٹس میں سر تھامس مور، ایڈمنڈ برک اور مہاتما گاندھی جیسی اہم شخصیات شامل ہیں۔

    قاضی فائز عیسیٰ نے اسی عظیم قانونی درسگاہ سے قانون کی تعلیم حاصل کی تھی اور ان کے والد قاضی عیسیٰ بھی مڈل ٹیمپل کے گریجویٹ تھے جبکہ قاضی فائز عیسیٰ نے بھی 42 سال قبل یہیں سے قانون کی تعلیم مکمل کی جبکہ ان کی صاحبزادی سحر قاضی نے بھی اسی ادارے سے قانون کی ڈگری مکمل کر رکھی ہے۔

  • قاضی فائز عیسیٰ کے اعزاز میں مڈل ٹیمپل میں  تقریب منعقد

    قاضی فائز عیسیٰ کے اعزاز میں مڈل ٹیمپل میں تقریب منعقد

    اسلام آباد: سابق چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ برطانیہ کی قدیم ترین قانونی درسگاہ مڈل ٹیمپل میں ان کے اعزاز منعقدہ تقریب میں شرکت کیلئے بیرون ملک روانہ ہو گئے۔

    باغی ٹی وی : قاضی فائز عیسیٰ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ پاکستان کی پہلی شخصیت ہیں جنہیں مڈل ٹیمپل میں بطور بینچر منتخب کیا گیا، سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو اس سال مئی میں تقریب میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی ، قاضی فائز عیسیٰ نے اسی عظیم قانونی درس گاہ سے قانون کی تعلیم حاصل کی تھی اور ان کے والد قاضی عیسیٰ بھی مڈل ٹیمپل کے گریجویٹ تھے۔

    قاضی فائز عیسیٰ نے مڈل ٹیمپل کی انتظامیہ کو لکھا تھا کہ وہ 25 اکتوبر کو اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد ہی شرکت کر سکتے ہیں جس پر ان کے اعزاز میں تقریب کی تاریخ 29 اکتوبر مقرر کی گئی۔

    زین قریشی نے بطورڈپٹی پارلیمانی لیڈر پی ٹی آئی استعفیٰ دےدیا

    مڈل ٹیمپل (Middle Temple) لندن کی چار تاریخی اور معتبر قانونی اداروں میں سے ایک ہے جنہیں Inns of Court کہا جاتا ہے ان اداروں میں قانون کے طلبہ کو تربیت دی جاتی ہے اور وکالت میں داخلہ کیلئے لائسنس دیا جاتا ہے، مڈل ٹیمپل کی بنیاد 14ویں صدی میں رکھی گئی تھی، اور یہ صدیوں سےبرطانوی قانونی نظام کے مرکز میں ایک اہم مقام رکھتی ہے۔

    رانا ثناء اللہ نے ممکنہ 27 ویں آئینی ترمیم کی تفصیلات بتادیں

    یہ ادارہ وکلا کو بار میں شمولیت کیلئے تربیت اور لائسنس فراہم کرتا ہے،اس کے ممبران میں نہ صرف برطانوی بلکہ عالمی سطح پر کئی اہم قانونی شخصیات شامل رہی ہیں، مڈل ٹیمپل کےگریجویٹس میں سر تھامس مور،ایڈمنڈ برک اور مہاتما گاندھی جیسی اہم شخصیات شامل ہیں، مڈل ٹیمپل میں تعلیمی نظام انتہائی سخت اور معیار میں اعلیٰ ہوتا ہے، یہ اپنے طلبہ کو قانونی مہارتوں کے علاوہ عدالتی معاملات کی عملی تربیت بھی فراہم کرتا ہے جس سے وہ پیشہ وارانہ دنیا میں کامیابی سے قدم رکھ سکیں۔

    عمران خان کی رہائی کیلئے لوگ میرے ساتھ نکلے تو کسی عدالت کی کوئی ضرورت …

  • بس ایک دن کیلئے برداشت کر لیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    بس ایک دن کیلئے برداشت کر لیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    سپریم کورٹ ،خیبرپختونخوامیں شیشم کے درخت کاٹنے کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی،دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے 26 ویں آئینی ترمیم کا حوالہ دیا اور کہا کہ اخبار میں تھا نئی ترمیم میں ماحولیات کے تحفظ سے متعلق کوئی شق شامل کی گئی ، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم میں کہا گیا ہر شہری صحت مندانہ ماحول کا حقدار ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئینی ترمیم میں ماحولیات کے تحفظ کی شق شامل کرنا قابل تعریف ہے،پاکستان کے آئین میں بھی ماحولیات کے تحفظ کا ذکر اب موجود ہے، سائنسی طور پر بھی ثابت ہے قوموں کی اچھی صحت اچھے ماحول پر منحصر ہے، اسلام نے بھی صاف ستھرے ماحول کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے،ماحولیاتی آلودگی کے سبب کئی شہروں میں رہنا مشکل ہوتا جا رہا ہے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کوئی اور لا افسر کیوں نہیں آتا؟ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے پی کے نے جواب دیا کہ اب آگے باقی لا افسران بھی آیا کریں گے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مسکراتے ہوئے استفسار کیا کہ آپکے اس جملے میں کہیں کوئی مطلب تو نہیں چھپا ہوا؟ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے پی کے نے چیف جسٹس کو جواب دیا کہ ایسا نہیں ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ معزز جیسے الفاظ آئینی اداروں کیلئے استعمال نہ کیا کریں، آئینی اداروں کیلئے وہی الفاظ استعمال ہونے چاہیئں جو آئین میں لکھے ہوئے ہیں،بس ایک دن کیلئے برداشت کر لیں، ایسا نہیں ہے ہمیں آپ سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا،عدالت نے خیبرپختوامیں جنگلات کے تحفظ سے متعلق کیس نمٹا دیا

    سپریم کورٹ میں 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف ایک اور درخواست

    جسٹس منصور علی شاہ کا چیف جسٹس کو خط،مخصوص بنچ میں بیٹھنے سے معذرت

    رجسٹرار آفس کو آئینی بنچ کے حوالے سے پالیسی دے دی ہے،نامزد چیف جسٹس

    پی ٹی آئی کو جسٹس یحییٰ آفریدی کی تقرری پر نہیں، آئینی ترامیم پر تحفظات ہے: شعیب شاہین

    سپریم کورٹ،برطرف ملازمین بحالی کی درخواست آئینی بینچز کو بھیج دی گئی

    40 فیصد مقدمات آئینی بنچوں کو منتقل کئے جائیں گے

  • نئے چیف جسٹس پاکستان کیلئے تین نام پارلیمانی کمیٹی کو بھجوادئیے گئے

    نئے چیف جسٹس پاکستان کیلئے تین نام پارلیمانی کمیٹی کو بھجوادئیے گئے

    اسلام آباد: نئے چیف جسٹس پاکستان کےلیے تین نام پارلیمانی کمیٹی کو بھجوادئیے گئے۔

    باغی ٹی وی: ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ کے رجسٹرار نے چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے تین نام خصوصی پارلیمانی کمیٹی کو بھجوادیئے ہیں، وزارت قانون کی جانب سے رجسٹرار سپریم کورٹ کو خط لکھا گیا تھا جس میں تین سینئر ترین ججوں کے نام نئے چیف جسٹس کے لیے مانگے گئے تھے ۔

    26 ویں آئینی ترمیم کے نفاذ کے بعد نئے چیف جسٹس کے تقرر کیلئے پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس آج ہوگا اور نئے چیف جسٹس کی تقرری موجودہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی ریٹائرمنٹ سے تین روز قبل کی جائے گی۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ریٹائرمنٹ سے قبل چیمبر ورک پر چلے گئے ہیں جہاں وہ ان دنوں فیصلے لکھیں گے، سپریم کورٹ کے تین سینئر ترین ججوں میں پہلے نمبر پر جسٹس منصور علی شاہ، دوسرے نمبر پر جسٹس منیب اختر اور تیسرے نمبر پر جسٹس یحییٰ آفریدی ہیں۔

  • چیف جسٹس کی وائرل فیک ویڈیو،ایف آئی اے کا کاروائی کا فیصلہ

    چیف جسٹس کی وائرل فیک ویڈیو،ایف آئی اے کا کاروائی کا فیصلہ

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے فیک ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کا معاملہ،ایف آئی اے نےویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کرنیوالے افراد کےخلاف تحقیقات شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جو فیک ہے، آئی اے سے بنائی گئی ہے، ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ بیکری میں ایک شخص چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے ساتھ بدتمیزی کر رہا ہے، اس فیک ویڈیو کو پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ سوشل میڈیا پر پھیلا رہے ہیں، اب ایف آئی اے نے کاروائی کا فیصلہ کیا ہے

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک صارف نے پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ بتایا جا رہا ہے کہ چیف جسٹس قا ضی فائزعیسی اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ بدتمیزی کی ویڈیو آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے تیار کی گئی ،اس کو وائرل کرنے والے اور ،شیئر کرنے والے سب کے سب اخلاقی طور پر پسماندہ اور ذہنی مریض ہیں ۔

    صحافی مطیع اللہ جان کہتے ہیں کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسی اور انکے اہل خانہ کیساتھ عوامی جگہ پر ایک شھری کی کسی بھی وجہ سے بدزبانی اور بدتمیزی انتہائی قابلِ مذمت ہے، اور اِس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شئیر کرنے والے بھی اِس بدزبانی اور بدتمیزی کو پروان چڑھانے میں برابر کے مجرم ہیں، ایسے ملزمان کیخلاف آئین اور قانون کیمطابق ٹھوس کاروائی ہونی چاہئیے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر صحافی نوید شیخ کہتے ہیں کہ جس نے یہ ویڈیو بنائی ، جو اس میں … رہا ہے ، جس نے اسکو جاری کیا اور جو جو اس کی حمایت کر رہے ہیں دنیا کا کوئی بھی اور ملک ہوتا ان سب پر قانون کا اطلاق لازمی ہوتا۔ بلکہ ان سب کو نشان عبرت بنا دیا جاتا ۔ حالیہ ہم نے برطانیہ میں دیکھا ہے بس ہمارے ادارے دھنیا پی کر سو رہے ہیں۔