Baaghi TV

Tag: قاضی فائز عیسٰی

  • جج اور صحافی ہمیشہ سچ کی تلاش میں رہتے ہیں، نامزد چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ

    جج اور صحافی ہمیشہ سچ کی تلاش میں رہتے ہیں، نامزد چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ

    سپریم کورٹ: پریس ایسوسی ایشن کے عہدیداران کی تقریب حلف برداری ہوئی

    نامزد چیف جسٹس قاضی فائز عیسی پریس ایسوسی ایشن کے عہدیداران سے حلف لے لیا ،اس موقع پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آزادی اظہار رائے ہر شہری کا بنیادی حق ہے، معلومات تک رسائی ہر شہری کا حق ہے، صحافی ہر وہ چیز معلوم کرسکتے ہیں جس میں پبلک انٹرسٹ ہو، میڈیا کا بنیادی مقصد عوام تک درست معلومات پہنچانا ہوتا ہے، جج اور صحافی ہمیشہ سچ کی تلاش میں رہتے ہیں،آئین پاکستان میں آزادی اظہار رائے کا حق دیا گیا ہے، یہ حق نہ صرف صحافیوں بلکہ ہر شہری کو حاصل ہے،دوسرا حق کہ مفاد عامہ میں عوام سے متعلق چیزوں کے بارے میں آپ معلومات لے سکتے ہیں، ایک بات جس کا آئین میں براہ راست ذکر نہیں لیکن معنوی اعتبار سے ذکر ہے وہ ہے سچ،

    نامزد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے سچ کی تلاش کے حوالے سے قرآنی آیات اور مختلف احادیث کے حوالے دیئے گئے، انکا کہنا تھا کہ جج آئین و قانون کے دائرے میں کام کرتا ہے سچ اور انصاف کا گہرا تعلق ہے،میں آپ کے سچ سے انکار نہیں کر سکتا لیکن رائے سے اختلاف کر سکتا ہوں، میڈیا میں سچ اور رائے میں تفریق نہیں کی جاتی جس سے مجھے اختلاف ہے، دنیا میں رائے دینے والوں کو صحافی نہیں کہا جاتا، صحافیوں کو معلومات پہنچانی چاہیئے لیکن اگر وہ اپنی رائے دے رہے ہیں تو بتائیں کہ یہ میری رائے ہے،

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جڑانوالہ آمد

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بطور چیف جسٹس آف پاکستان تعیناتی

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

    سپریم جوڈیشل کونسل کے ہوتے ہوئے کوئی کمیشن قائم ہونا ممکن نہیں، چیف جسٹس نے واضح کر دیا 

    زیر تحقیق 9 آڈیوز کے ٹرانسکرپٹ جاری

  • جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کے ہمراہ جڑانوالہ آمد،متاثرین سے ملاقات

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کے ہمراہ جڑانوالہ آمد،متاثرین سے ملاقات

    جڑانوالہ میں قرآن پاک کی مبینہ بے حرمتی کے بعد جلاو گھیراو کے واقعات کے بعد مسیحی خاندانوں کی گھروں میں واپسی شروع ہو گئی ہے، سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اہلیہ کے ہمراہ متاثرہ علاقے کا دورہ کیا ہے، آئی جی پنجاب نے بھی علاقے کا دورہ کیا، تین دن بعد شہر کے حالات معمول پر آ چکے ہیں،

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جڑانوالہ آمد ہوئی ہے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کرسچیئن کالونی کا دورہ کیا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ سرینا عیسیٰ بھی ہمراہ تھیں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جلائے جانے والےگھر اور چرچز دیکھے ،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے متاثرہ میسحی برداری سے گفتگو بھی کی ، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے متاثرہ خواتین کو دلاسے دیئے اور انکے ساتھ اظہار یکجہتی کیا،

    اس موقع پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے متاثرین سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگوں کو ڈرنے کی ضرورت نہیں،دکھ میں شریک ہونے آپ کے پاس خود آیا ہوں،انتظامیہ کو ہدایت کروں گا بحالی کا کام ہنگامی بنیادوں پر کریں آپ کو ہر قسم کا تحفظ کرنے میں مدد کروں گا، بہت دکھ تھا اسی لیے ذاتی طور پر ملنے آیا ہوں،

    مذہبی جذبات مجروح کرنے پر دس سال قید اور جرمانے کی سزا ہے،جسٹس قاضی فائز عیسی
    جسٹس قاضی فائز عیسی نے اپنا لکھا ہوا بیان میڈیا نمائندگان کے حوالے کیا، تحریری بیان میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ گمراہوں کے بے ہنگم ہجوم نے متعدد گرجا گھروں مسیحی آبادی مکانات کو جلایا، جڑانوالہ واقعے پر ایک مسلمان، پاکستانی اور انسان کی حیثیت سے نہایت گہرا صدمہ پہنچا، جسٹس قاضی فائز عیسی نے بیان میں اقلیتوں کے حقوق پر قرآنی آیات اور احادیث کے متعدد حوالے دیئے، اور کہا کہ گرجا گھروں پر حملہ کرنے والے نے قرآن اور نبی پاک ﷺ کی واضح ہدایات کی سنگین خلاف ورزی کی، قائد اعظم محمد علی جناح کی جانب سے غیر مسلم شہریوں کو دی گئی ضمانتوں کی بھی خلاف ورزی کی گئی، پاکستان کے آئین اور قانون کو پامال کیا گیا ہے پاکستانی پرچم میں سفید رنگ غیر مسلم شہریوں کی عکاسی اور ان کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بناتا ہے،

    جسٹس قاضی فائز عیسی نے اپنا لکھے ہوئے بیان میں اقلیتوں کے حوالے سے آئین میں موجود آرٹیکلز کا حوالہ بھی بیان میں دیا اورکہا کہ دفعات 295 اور 295 اے کے تحت مذہبی مقامات اور علامات کو نقصان پہنچانا جرم ہے، کسی کے مذہبی جذبات مجروح کرنے پر دس سال قید اور جرمانے کی سزا ہے، سلامتی کے مذہب کو ماننے والوں نے اپنی مذہبی تعلیمات پامال کرتے ہوئے وحشت اور ظلم کا مظاہرہ کیا، ہر مسلمان کا دینی فریضہ ہے وہ دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کی جان مال اور عبادت گاہ کی حفاظت کرے،اسلامی شریعت کی اس خلاف ورزی کو کسی بدلے یا انتقام سے جواز نہیں دیا جا سکتا،

    جڑانوالہ دورے کے دوران جسٹس قاضی فائزعیسی نے سی پی او کی سرزنش کی، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سوال کیا کہ کیا تحصیل کے سب سے بڑے پولیس آفیسر کا بیان ریکارڈ کیا ہے، ایس پی کو شامل تفتیش کیوں نہیں کیا گیا، آپ کےخیال میں درست تفتیش ہو رہی ہے؟، کیا پولیس والے خود سے کہیں گے کہ ہم غفلت میں تھے، سی پی او نے جواب دیا کہ سر میرٹ پر تفتیش ہو گی ، جسٹس قاضی فائز عیسی نے سوال کیا کہ میرٹ کا کیا مطلب ہے ؟ایک دم جتھا آ جائے تو الگ بات ہے مگر اعلانات کر کے کہا جائے گھروں سے نکلو، آپ کو ان باتوں کا خیال نہیں آیا؟ جسٹس قاضی فائز عیسی نے سوال کیا کہ کتنے بجے کا واقعہ ہے، سی پی او نے جواب دیا کہ سوا چھ بجے کا واقعہ ہے، قاضی فائز عیسی نے کہا کہ لوگ کہہ رہے ہیں چار بجے کے بعد کا واقعہ ہے، میں آپ سے الگ بات کر رہا ہوں آپ جواب کچھ اور دے رہے ہیں، آپ کو گھبراہٹ ہو رہی ہے، یہاں کا ایس پی کہاں ہے وہ یہاں کیوں نہیں موجود، قاضی فائز عیسی نے سی پی او کو ہدایت کی کہ جو بیان ریکارڈ کروانا چاہتے ہیں ان کے بیان ریکارڈ کریں، آپ قانون کے مطابق چلیں، تفتیش کریں، جسٹس قاضی فائز عیسی نے سوال کیا کہ یہاں کا اسسٹنٹ کمشنر کہاں پر ہے، سی پی او نے جواب دیا کہ ان کو معطل کر دیا گیا ہے،

    جڑانوالہ ، تین دن بعد حالات معمول پر، کاروباری مراکز کھل گئے
    جڑانوالہ میں تین دن بعد شہر میں حالات معمول پر آگئے، تین روز بعد کاروباری مراکز کھل گئے کرسچین کالونی میں نئے میٹرز لگا کر بجلی اور گیس بحال کر دی گئی ،کرسچین کالونی اور عیسی نگری کے اجڑے گھروں کے مکینوں کی واپسی جاری ہے،جلے گھروں اور تباہی کے مناظر دیکھ کر متاثرین رنجیدہ ہیں، دانش اسکول میں متاثرہ فیملیز کے قیام و طعام کے انتظامات کئے گئے ہیں، دانش سکول میں مقیم اور کرسچین کالونی میں لوٹنے والوں کیلئے پولیس کی جانب سے ناشتے کا انتظام کیا گیا ہے، مسیحی آبادیوں کے باہر پولیس اور رینجرز تعینات ہے، آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کی ہدایت پر دانش سکول جڑانوالہ اور بستی شیروں میں پنجاب پولیس کی طرف سے قائم کئے گئے ریلیف کیمپس میں مسیحی برادری کے افراد کو کھانے کی فراہمی جاری ہے، سی پی او فیصل آباد عثمان اکرم گوندل اور دیگر سینئر افسران خود کھانا فراہم کرنے کے کام کی نگرانی کر رہے ہیں

    اس وقت عیسائی، ہندو، مسلمان اور سکھ بن کر نہیں بلکہ پاکستانی بن کر سوچیں،آئی جی پنجاب
    آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے جڑانوالہ کا دورہ کیا اور متاثرہ کرسچین کالونی اور دیگر مقامات کا جائزہ لیا، اس موقع پر آئی جی پنجاب عثمان انور کا کہنا تھا کہ اتوارکو جڑانوالہ میں سروسز ہوں گی اور گرجا گھروں کو مکمل تحفظ دیا جائے گا واپسی کا سفر شروع ہوچکا ہے، متاثرہ افراد پہلے سے بہتر گھروں میں واپس جائیں گے جلاؤ گھیراؤ کرنے والوں کی ویڈیوز اور تصاویر ہیں جس پر ہرپہلو سے تفتیش ہوگی کسی بے گناہ کو سزا نہیں ملے گی اور نہ ہی کسی کو بغیر وجہ سلاخوں کے پیچھے رکھا جائے گا ،اس وقت عیسائی، ہندو، مسلمان اور سکھ بن کر نہیں بلکہ پاکستانی بن کر سوچیں

    جڑانوالہ ،تباہی کے مناظر دیکھ کر ہر آنکھ اشکبار
    جڑانوالہ میں مسیحی برادری گھر واپس آنا شروع ہو گئی ہے، تباہی کے مناظر دیکھ کر ہر آنکھ اشکبار ہے، گھر، گرجا گھر، دکانیں سب کچھ جلا دیا گیا، مال و متاع لوٹ لیا گیا، گاڑیوں کو بھی آگ لگا دی گئی تھی، متاثرین کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں میں مقامی افراد کی بجائے باہر کے لوگ زیادہ تھے جن میں کم عمر لڑکے بھی شامل تھے، مقامی مسلمانوں نے انکو روکا لیکن شرپسند نہ رکے، جس کی وجہ سے انہیں جانیں بچا کر، سب کچھ چھوڑ کر بھاگنا پڑا،جڑانوالہ میں ہر گھر کی ایک الگ کہانی، مظاہرین نے لوگوں کے گھروں میں سامان کو بھی لوٹ لیا سندس جس کی شادی نومبر میں ہونا تھی اس کے جہیز کا سارا سامان لوٹ لیا گیا ،کرسچن کالونی اور عیسی نگری کے متاثرین کا کہنا تھا کہ ان کی جمع پونجی کو جلا دیا گیا یا لوٹ لیا گیا، سندس کا کہنا تھا کہ اسکا ساراجہیز بنا ہوا تھا، اوون، فریج، بسترے،مکمل جہیز تھا غلطی کسی کی اور سزا ہمیں ملی کیوں؟

    جڑانوالہ میں بدھ کے روز جلاؤ گھیراؤہوا تو اسکے مسیحی خاندانوں کو جانیں بچا کر بھاگنا پڑا، کئی خاندانوں نے رات کھیتوں میں گزاری، خواتین اور بچے بھی کھلے آسمان تلے رات گزارنے پر مجبور تھے، کئی مسیحی خاندانوں کو گھر چھوڑ کر اپنے عزیز و اقارب کے پاس دیگر علاقوں میں منتقل ہونا پڑا۔

    نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے جڑانوالہ واقعہ کا نوٹس لیا ہے

    توہین رسالت کی مجرمہ خاتون کو سزائے موت سنا دی گئی

    توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم و توہین مذہب کا مقدمہ،دفاعی شہادت پیش کرنے کے لئے مزید مہلت کی استدعا مسترد

    پابندی کے بعد مذہبی جماعت کیخلاف سپریم کورٹ میں کب ہو گا ریفرنس دائر؟

    ن لیگ نے گرفتار مذہبی جماعت کے سربراہ کو اہم پیغام بھجوا دیا

    کالعدم جماعت کے ساتھ مذاکرات کا پہلا دور کامیاب، کس نے کیا اہم کردار ادا،شیخ رشید نے بتا دیا

    پولیس افسر و اہلکاروں کو حبس بے جا میں رکھنے کے واقعے کا مقدمہ درج

    جڑانوالہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے

     مسیحی قائدین کے پاس معافی مانگنے آئے ہیں،

    جڑانوالہ ہنگامہ آرائی کیس،گرفتار ملزمان کو عدالت میں پیش کر دیا گیا

    توہین کے واقعہ میں ملوث ملزم کو قرار واقعہ سزا دی جائے،تنظیم اسلامی

  • جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی  بطور چیف جسٹس آف پاکستان تعیناتی کی منظوری

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بطور چیف جسٹس آف پاکستان تعیناتی کی منظوری

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بطور چیف جسٹس آف پاکستان تعیناتی کر دی،

    تعیناتی کا اطلاق 17 ستمبر سے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی ریٹائرمنٹ سے ہو گا.صدر مملکت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے 17 ستمبر 2023 ء کو عہدے کا حلف لیں گے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے چیف جسٹس کی تعیناتی آئین کے آرٹیکل 175 اے 3 کے تحت کی ہے صدرمملکت عارف علوی نے دو ماہ پہلے ہی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے چیف جسٹس بننےکی منظوری دے دی،قاضی فائز عیسیٰ ایک سال 38 دن تک چیف جسٹس پاکستان رہیں گے،

    قاضی فائز عیسیٰ کے بطور چیف جسٹس منظوری پر رضوان رضی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ راشہ راشہ
    قاضی راشہ
    قاضی فائز عیسی چیف جسٹس پاکستان نامزد
    سترہ ستمبر کو حلف لیں گے
    صدر نے اجازت دے دی

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

    سپریم جوڈیشل کونسل کے ہوتے ہوئے کوئی کمیشن قائم ہونا ممکن نہیں، چیف جسٹس نے واضح کر دیا 

    زیر تحقیق 9 آڈیوز کے ٹرانسکرپٹ جاری

  • سپریم کورٹ، آئندہ ہفتے کی کاز لسٹ اور ججز روسٹر جاری

    سپریم کورٹ، آئندہ ہفتے کی کاز لسٹ اور ججز روسٹر جاری

    سپریم کورٹ پرنسپل سیٹ اسلام آباد کیلئے آئندہ ہفتے کی کاز لسٹ اور ججز روسٹر جاری کر دیا گیا،

    آئندہ ہفتے پرنسپل سیٹ پر چھ بنچ مقدمات کی سماعت کریں گے ،سپریم کورٹ کے سینیئر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسی آئندہ ہفتے بھی چیمبر ورک کریں گے ،بنچ نمبر ایک چیف جسٹس عمر عطاء بندیال،جسٹس امین الدین اور جسٹس حسن اظہر رضوی پر مشتمل ہوگا ،بنچ نمبر دو میں جسٹس سردار طارق،جسٹس جمال خان اور جسٹس محمد علی مظہر شامل ہونگے ،بنچ تین جسٹس اعجازالاحسن،جسٹس منیب اختر اور جسٹس شاہد وحید پر مشتمل ہوگا ،بنچ چار میں جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس عائشہ ملک شامل ہونگے بنچ پانچ جسٹس منیب اختر اور جسٹس جمال خان مندوخیل پر مشتمل ہوگا ،بنچ چھ میں جسٹس یحیی آفریدی، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی اور جسٹس اطہر من اللہ شامل ہونگے ،ملک بھر میں جنگلات کی کٹائی کیخلاف درخواست پر سماعت پیر کو ہوگی

    موبائل سم ایکٹیویٹ کرنے پر عائد ٹیکس سے متعلق کیس کی سماعت پیر کو ہوگی اومنی گروپ کے خواجہ انور مجید کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست پر سماعت پیر کو ہوگی ،کرک مندر اور اقلیتوں کے حقوق سے متعلق کیس کی سماعت پیر کو ہوگی پنجاب انتخابات اور سپریم کورٹ ریویو آف ججمنٹ اینڈ آرڈر ایکٹ سے متعلق کیس کی سماعت منگل کو ہوگی،آئی پی پیز کو کیپسٹی پیمنٹ کی مد میں اربوں روپے ادائیگی سے متعلق کیس کی سماعت منگل کو ہوگی مار گلہ ہلز پر قائم موبائل ریسٹورنٹ سیل کرنے کیخلاف اپیل پر سماعت منگل کو ہوگی ملک بھر میں جعلی پولیس مقابلوں کیخلاف درخواست پر سماعت جمعرات کو ہوگی نئی گج ڈیم کی تعمیر سے متعلق کیس کی سماعت جمعہ کو ہوگی

    زیر تحقیق 9 آڈیوز کے ٹرانسکرپٹ جاری

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    حکومت نے چیف جسٹس سمیت بینچ کے 3 ممبران پر اعتراض کردیا

  • صدر سپریم کورٹ بارعابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    صدر سپریم کورٹ بارعابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    آڈیو لیک کمیشن کا معاملہ ،صدر سپریم کورٹ بار عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن عابد زبیری نے آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن کو کام سے روکنے کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا ،عابد زبیری نے طلبی کے نوٹس کے خلاف آئینی درخواست دائر کردی،درخواست میں وفاق، آڈیو لیک کمیشن، پیمرا اور پی ٹی اے کو فریق بنایا گیا ہے، درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ مبینہ آڈیو لیک کمیشن تشکیل کا نوٹی فیکیشن غیر آئینی قرار دیا جائے،آڈیو لیک کمیشن کا نوٹی فیکیشن آرٹیکل 9، 14،18، 19، 25 کی خلاف ورزی ہے،مبینہ آڈیو لیک کمیشن کی کارروائی اور احکامات کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیا جائے قرار دیا جائے کسی بھی شہری کی جاسوسی یا فون ٹیپنگ نہیں کی جا سکتی، مبینہ آڈیوز کو غیر قانونی قرار دیا جائے،حکم دیا جائے کہ مبینہ غیر آئینی آڈیوز کی بنیاد پر کسی شہری کیخلاف کوئی کاروائی نہ کی جائے،غیر قانونی آڈیوز کو میڈیا پر نشر کرنے اور آگے پھیلانے سے روکنے کا حکم دیا جائے،جوڈیشل کمیشن کے نوٹی فیکیشن اور کاروائی کا کالعدم قرار دیا جائے،متعلقہ فریقین کو گمنام سوشل میڈیا اکاونٹس چلانے والوں کی شناخت کا حکم دیا جائے

    واضح رہے کہ آڈیو لیکس انکوائری کمیشن نے تحقیقات کیلئے طلبی کے نوٹس جاری کرنا شروع کردیے 4 شخصیات کو 27 مئی کو طلب کرلیا گیا ہے جن میں صدر سپریم کورٹ بارعابد زبیری اور خواجہ طارق رحیم ایڈوکیٹ بھی شامل ہیں انکوائری کمیشن کا اجلاس 27 مئی کی صبح 10 سپریم کورٹ میں ہو گا۔

    واضح رہے کہ آڈیو لیکس کے معاملے پر وفاقی حکومت نے 3 رکنی جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا ہے، سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں قائم کمیشن میں بلوچستان ہائیکورٹ اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس شامل ہیں۔

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

    عمران خان کا مظفر آباد جلسہ،وزیراعظم آزاد کشمیر کی کرسی خطرے میں

    ،وزیر اعظم آزاد کشمیر کو اگر بلایا نہیں گیا تو انہیں جانا نہیں چاہیے تھا،

    تنویر الیاس کے بیٹے کا آزاد کشمیر پولیس و مسلح ملزمان کے ہمراہ سینٹورس پر دھاوا، مقدمہ درج

    تنویر الیاس نے سپریم کورٹ میں دائر اپیل میں خود کو” وزیراعظم” لکھ دیا،اپیل خارج

  • آڈیو لیکس ،جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    آڈیو لیکس ،جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    آڈیو لیکس کی تحقیقات کے لئے بنائے گئے جوڈیشل کمیشن کے سربراہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی زیر صدارت اجلاس ہوا،

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق اور چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس نعیم اختر افغان اجلاس میں شریک تھے، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان کمیشن کے پہلے اجلاس میں پیش ہوئے،آڈیو لیکس کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن کی کارروائی جاری ہے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کمیشن کس قانون کے تحت تشکیل دیا گیا؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ کمیشن انکوائری کمیشن ایکٹ 2016 کے تحت تشکیل دیا گیا،آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا ،انکوائری کمیشن کا کہنا ہے کہ کوئی حساس معاملہ سامنے آیا تو ان کیمرہ کارروائی کی درخواست کا جائزہ لیں گے،کمیشن کی کارروائی سپریم کورٹ اسلام آباد بلڈنگ میں ہوگی، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جن سے متعلقہ انکوائری کرنی ہے ان میں 2 بڑی عمر کی خواتین بھی شامل ہیں،اگر درخواست آئی تو کمیشن کارروائی کیلئے لاہور بھی جا سکتا ہے،کمیش نے اٹارنی جنرل کو کمیشن کیلئے آج ہی موبائل فون اور سم فراہم کرنے کی ہدایت کر دی،کمیشن نے وفاقی حکومت کو ای میل ایڈریس بھی فراہم کرنے کی ہدایت کر دی، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کمیشن بذریعہ اشتہار عوام سے بھی معلومات فراہم کرنے کا کہے گا،معلومات فراہم کرنے والے کو شناخت ظاہر کرنا لازمی ہوگی،نامعلوم ذرائع سے آنے والی معلومات قابل قبول نہیں،انکوائری کمیشن نے حکومت سے تمام آڈیو ریکارڈنگز طلب کر لیں تمام آڈیوز کے ٹرانسکرپٹ بھی ذمہ دار افسر کے دستخط کے ساتھ فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

    عمران خان کا مظفر آباد جلسہ،وزیراعظم آزاد کشمیر کی کرسی خطرے میں

    ،وزیر اعظم آزاد کشمیر کو اگر بلایا نہیں گیا تو انہیں جانا نہیں چاہیے تھا،

    تنویر الیاس کے بیٹے کا آزاد کشمیر پولیس و مسلح ملزمان کے ہمراہ سینٹورس پر دھاوا، مقدمہ درج

    تنویر الیاس نے سپریم کورٹ میں دائر اپیل میں خود کو” وزیراعظم” لکھ دیا،اپیل خارج

    انکوائری کمیشن نے کہا کہ ٹرانسکرپٹ میں غلطی ہوئی تو متعلقہ افسر کے خلاف کارروائی ہوگی،وفاقی حکومت کو تمام مواد بدھ تک فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی، انکوائری کمیشن نے کہا کہ جن کی آڈیوز ہیں ان کے نام،عہدے اور رابطہ نمبر بھی فراہم کئے جائیں،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے انکوائری کمیشن کا دائرہ اختیار بھی واضح کر دیا، کہا کہ انکوائری کمیشن سپریم جوڈیشل کونسل نہیں ہے،اجلاس کے دوران اٹارنی جنرل نے کمشین کا نوٹیفیکیشن، ٹی او آرز اور اختیارات پڑھ کر سنائے ، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج ہونے کی وجہ سے میرے کچھ آئینی فرائض بھی ہیں،میں سپریم جوڈیشل کونسل کا بھی ممبر ہوں،جوڈیشل کمیشن میں پیش ہونے والا کوئی بھی ملزم نہیں،ہم پر بھاری بوجھ ہے، تمام پیش ہونے والوں کو احترام دیا جائے گا، چاہتے ہیں کمیشن جلد اپنی کاروائی مکمل کرے،

    پہلے اجلاس کے حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ نوٹس وفاقی حکومت مقرر کردہ افسر یا کوریئر کے ذریعے بھیجے جائیں۔ اورجس شخص کو نوٹس بھیجا جائے اس کے نوٹس وصولی کی تصویراتاری جائے ،نوٹس ایک سے زائد بار جاری کیا جائے، بار بار نوٹس بھیجنے کے باوجود وصول کرنے والے فرد کے گھر کے باہر نوٹس چسپاں کرکے اس کی تصویر بنائی جائے.

  • سینئیرججز کی سپریم کورٹ میں تقرری: قاضی فائز عیسیٰ نےجوڈیشل کمیشن کے ممبران کو خط لکھ دیا

    سینئیرججز کی سپریم کورٹ میں تقرری: قاضی فائز عیسیٰ نےجوڈیشل کمیشن کے ممبران کو خط لکھ دیا

    اسلام آباد: قاضی فائز عیسیٰ نے جسٹس احمد علی شیخ اور جسٹس مسرت کی سپریم کورٹ میں تقرری کی سفارش کردی۔

    باغی ٹی وی: : سپریم کورٹ میں دو ججز کی تقرری کے معاملے میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جوڈیشل کمیشن کے ممبران کو خط لکھ دیا ذرائع کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پشاور  اور سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس صاحبان کو نامزدکیا ہے۔

    سابق گورنر پنجاب کیخلاف اغوا کا مقدمہ درج

    ذرائع کا کہنا ہےکہ جسٹس فائز عیسیٰ نے خط میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ میں تعیناتی کے لیے جسٹس مسرت اور جسٹس احمد علی شیخ کے ناموں پر غور کیا جائے سینیارٹی اصول پر دونوں چیف جسٹس صاحبان کو سپریم کورٹ لانے پر غور کیا جائے، جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس جلد بلانے پر بھی زور دیا ہے۔

    خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں اس وقت 17 ججز کی جگہ 15 ججز کام کر رہے ہیں-

    پولیس مقابلے میں مطلوب ریکارڈ یافتہ 2 ڈاکو ہلاک

    دوسری جانب پارلیمانی کمیٹی برائے ججز تقرری کا اجلاس 4 مئی کو طلب کر لیا گیا ہے ذرائع کے مطابق پارلیمانی کمیٹی برائے ججز تقرری کا اجلاس 2 بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں ہو گا اجلاس میں پشاور ہائیکورٹ کے ججز معاملات کا جائزہ لیا جائے گا تاہم اجلاس کا ایجنڈا ممبران کو نہیں دیا گیا، اجلاس بلانے کے حوالے سے ممبران کو اطلاع دی گئی۔

    واضح رہے کہ جسٹس قاضی فائزعیسیٰ جوڈیشل کمیشن کے سینیئر ممبر ہیں جبکہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال جوڈیشل کمیشن کے سربراہ ہیں۔

    کراچی سے لاہور جانے والی شالیمار ایکسپریس 8 ماہ بعد بحال

  • دسمبر 1971 میں پاکستان اچانک نہیں ٹوٹا بیج بوئے گئے،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    دسمبر 1971 میں پاکستان اچانک نہیں ٹوٹا بیج بوئے گئے،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    آئین پاکستان، قومی وحدت کی علامت، جسسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم آئین پاکستان کی 50ویں سالگرہ منارہے ہیں،آزادی حاصل کرنے کے بعد سب سے زیادہ ضرورت آئین کی تھی،

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ یہ میرے لیے کتاب نہیں ،اس میں لوگوں کے حقوق ہیں،آئین پاکستان کے لوگوں کے لیے ہے،1947میں دنیا میں پہلی اسلامی ریاست وجود میں آئیہم اس آئین کی تشریح کرسکتے ہیں،قائداعظم ہرکونے کونے میں گئے اوربھرپور جدوجہد کے بعدپاکستان قائم ہوتاہے،آئین کو اس طرح پیش نہیں کیا گیا جس کا وہ مستحق تھا دسمبر 1971 میں پاکستان ٹوٹ گیا، اچانک نہیں ٹوٹا بیج بوئے گئے، جسٹس منیر نے پاکستان توڑنے کا بیج بویا تھا.فیڈرل کورٹ میں جسٹس منیر نے پاکستان ٹوٹنے کا بیج بویا اور جو بیج بویا گیا اس نے ملک کے 2 ٹکڑے کردیئے ،تمام قوتوں کے باوجود ناانصافیاں زیادہ دیر تک نہیں ٹھہرتی

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا میں نوجوانوں سے مخاطب ہوں، 1977 میں الیکشن ہوتے ہیں اور پھر کہا جاتا ہے کہ یہ صاف شفاف نہیں تھے، اسکے بعد ایک الائنس بنا تھا،ایک طرف الزامات لگائے جا رہے تھے کہ الیکشن منصفانہ نہیں تھے، اسکے باوجود دونوں مخالفین ٹیبل پر بیٹھے، تاریخ اس بات کی گواہ ہے، کہ ان کا معاہدہ ہو چکا تھا دستخط کی دیر تھی کہ ایک اور شخص نے پھر وار کیا جمہوریت پر، آئین پر، یہ چار جولائی 1977 کا دن تھا، ایک شخص پوری قوم پر مسلط ہو گیا،اور 11 سال حکومت کی اگست 1988 تک اور پھر وہ ایک جہاز کے حادثے میں وفات پا گیا، اس سے پہلے عدالتوں میں کیسز آئے، چیلنج ہوئے ، بھٹو کو سزائے موت دی گئی، ریفرنڈم میں جب بھی کسی ڈکٹیٹر نے کروایا تو اسکا ریزلٹ 98 فیصد ہوتا ہے، پولنگ بوتھ خالی ہوتے ہیں لیکن پھر بھی نتائج 98 فیصد، لیکن جب الیکشن ہوتے ہیں جلسے، لمبی لائنیں، انتخابی مہم لیکن نتائج 60 فیصد سے اوپر نہیں جاتے، غور کریں یہ نتیجہ کیسے نکل آتا ہے،

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ غلط اقدامات کو سراہتی چلی گئی جس پر مجھے شرمندگی ہوتی ہے، 99 میں ایک اورسرکاری ملازم نے ٹیک اوور کر لیا، پھر کیا ہوا وہ سب کے سامنے ہے، زیادہ پرانی باتیں نہیں، انہوں نے دو بار وار کیا، ایک 99 میں اور دوسرا 2007 میں، جب ایمرجنسی نافذ کی ، جس کو تکلیف ہوتی ہے وہ عدالت پر دستک دیتا ہے لیکن ایک کیس رونما ہوا، عجیب سا کیس تھا، اگر کوئی فیصلہ غلط ہے تو وہ غلط ہی رہے گا چاہے سب جج فیصلہ کرلیں، بھاری دل اور تکلیف کے ساتھ مجھے یہ بات ماننی پڑ رہی ہے اور کسی انکار کی گنجائش بھی نہیں کہ میرے ادارے کا ماضی پہلے دن سے آج تک داغدار ہے میری پاس اپنے ادارے کی ایک بھی درخشاں روایت نہیں جسے فخر سے بیان کر سکوں ہم نے ہر آمر کا ساتھ دیا اور جمہوریت کے خلاف استعمال ہوئے۔ ازخود نوٹس کا اختیار صرف سپریم کورٹ کو ہے، 184 تین کے تحت سپریم کورٹ ٹرائل کورٹ بن جاتی ہے۔ جب سے سپریم کورٹ کا جج بنا کبھی اپنی پسند اور ناپسند کا اظہار نہیں کیا۔ ازخود نوٹس کے استعمال سے متعلق قدم پھونک پھونک کر رکھنا چاہئے، شق 184 تین صرف مظلوموں کیلئے ہے، کسی کو فائدہ دینے کیلئے نہیں۔ اس شق کے تحت چیف جسٹس سمیت تمام ججز کو مشترکہ فیصلہ کرنا چاہئے۔ نمبر گیم سے سچ جھوٹ اور جھوٹ سچ میں تبدیل نہیں ہو سکتا۔ ہر عدالت سے مختلف آراء سامنے آتی ہیں، سب کی رائے کا احترام کرنا چاہئے

    آئین ہماری اور پاکستان کی پہچان ، آئین کے محافظ ہیں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    جسٹس قاضی فائز عیسی کیخلاف کیورواٹیو ریویو،اٹارنی جنرل چیف جسٹس کے چمبر میں پیش 

    حکومت صدارتی حکمنامہ کے ذریعے چیف جسٹس کو جبری رخصت پر بھیجے،امان اللہ کنرانی

    9 رکنی بینچ کے3 رکنی رہ جانا اندرونی اختلاف اورکیس پرعدم اتفاق کا نتیجہ ہے،رانا تنویر

    چیف جسٹس کے بغیر کوئی جج از خود نوٹس نہیں لے سکتا،

     انصاف ہونا چاہیئے اور ہوتا نظر بھی آنا چاہیئے،

     عدالتوں میں کیسسز کا پیشگی ٹھیکہ رجسٹرار کو دے دیا جائے

  • چیف جسٹس اور جسٹس فائز عیسیٰ کی ملاقات؛ سپریم کورٹ کے اہم امور زیربحث

    چیف جسٹس اور جسٹس فائز عیسیٰ کی ملاقات؛ سپریم کورٹ کے اہم امور زیربحث

    چیف جسٹس اور جسٹس فائز عیسیٰ ملاقات؛ سپریم کورٹ کے امور زیربحث
    چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطابندیال اور سینیئر جج قاضی فائز عیسیٰ کے درمیان ملاقات ہوئی ہے۔ نجی ٹی وی ذرائع کے مطابق جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی ہے ۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات میں سپریم کورٹ کے امور سے متعلق بات چیت کی گئی، ملاقات میں سپریم کورٹ کے فیصلوں پر دستخط کی تاریخ لکھنے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ جبکہ ذرائع نے بتایا کہ جسٹس فائز عیسیٰ نے آئین پاکستان کی گولڈن جوبلی کنونشن میں شرکت پر بھی بات کی۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل گزشتہ روز آئین کی گولڈن جوبلی تقریب میں شرکت پر وضاحت جاری کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے سینئر جج کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ میں ہونے والی تقریب میں تمام ججز کو مدعو کیا گیا تھا، دعوت قبول کرنے سے پہلے پوچھا تھا سیاسی تقاریر تو نہیں ہوں گی؟ یقین دہانی کرائی گئی تھی صرف آئین اور اس کی تیاری پربات ہو گی۔

    جبکہ انہوں نے مزید کہا کہ سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف سے ذاتی طور پر تصدیق کے بعد ہی دعوت قبول کی تھی، خطاب کرنے کا پوچھا گیا تو میں نےمعذرت کر لی تھی، تقریب میں شرکت کا مقصد صرف آئین کیساتھ اظہار یکجہتی تھا، سیاسی تقاریر ہونے پر اپنی پوزیشن واضح کرنے کیلئے خطاب کیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    26 سال کے بعد بھی شاہ رخ خان کا کرشمہ قائم ہے شامک داور
    کرشنا ابھیشیک نے اپنے ماموں گووندا اور ممانی کے ساتھ جھگڑے کی خبروں پر رد عمل دیدیا
    سورو گنگولی نغمہ کے ساتھ اپنی دوستی چھپا کر رکھنا چاہتے تھے لیکن کیا ہوا؟‌
    سعودی عرب: حسن قرات کا دنیا کا سب سے بڑا مقابلہ ایرانی قاری نے جیت لیا
    کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن ،آئی جی پنجاب اور ڈی پی او پر فائرنگ
    انہوں نے مزید کہا کہ میرے ایوان میں بیٹھنے کی جگہ پر اعتراض کیا گیا، اپنی مرضی سے اُس جگہ پر نہیں بیٹھا تھا، مہمانوں کی گیلری میں بیٹھنا چاہتا تھا لیکن عدلیہ کارکن ہونے پرعزت دی گئی، عوام کے منتخب نمائندے عزت کے مستحق ہیں،آل انڈیامسلم لیگ کےسیاسی رہنمانہ ہوتےتوہمیں آزادی نصیب نہ ہوتی، آئین کاجشن کسی سیاسی جماعت یا ادارے نہیں بلکہ پوری قوم کا تھا۔

  • جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف ریفرنس واپسی کی حکومتی درخواست، فیصلہ محفوظ۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف ریفرنس واپسی کی حکومتی درخواست، فیصلہ محفوظ۔

    سپریم کورٹ، جسٹس قاضی فائز عیسی کیخلاف کیورواٹیو ریویو،اٹارنی جنرل چیف جسٹس کے چمبر میں پیش ہو گئے.

    بعد ازاں اٹارنی جنرل نے میڈیا سے مختصر بات چیت کی ہے، صحافیوں نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ کیا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس واپس ہوجائے گا ؟ اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے کہا کہ ابھی آپ کو تھوڑی دیر میں بتا دیتے ہیں، امید تو ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس واپس ہو جائے گا، آج چیف جسٹس کے چیمبر میں کیوریٹو ریویو اپیلوں پر سماعت ہوئی حکومت نے رجسٹرار کے اعتراضات کے خلاف بھی اپیلیں فائل کی تھیں۔ ہم نے اپنے دلائل دیئے بعد میں فیصلہ محفوظ ہوا۔ ہم نے عدالت کو کہا کہ ملکی آئین میں دوسری بار نظرثانی داخل کرنے کی اجازت نہیں ۔ انڈیا میں ایک بار دوسری بار نظرثانی کی اپیل داخل کرنے کے لئے انڈین سپریم کورٹ کے رولز میں ترمیم کی گئی۔ انڈیا میں کیوریٹور ریویو کی ایک پرویزن موجود ہے۔ وہاں ایک فیصلہ جوڈیشل ججمنٹ میں آیا تھا۔ ہمارے پاس انتظامی سطح پر رجسٹرار کے فیصلے پر اعتراض تھا اس پر ایک remedy ہے جو اپیل کی ہے جس کا ہم نے فائدہ اٹھایا۔

    اٹارنی جنرل سے صحافیوں نے پوچھا کہ کیا ان چیمبر سماعت کے دوران کوئی گلے شکوے ہوئے ؟اٹارنی جنرل سوالات پر مسکراتے رہے، صحافیوں نے سوال کیا کہ چیف جسٹس کیخلاف جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر ہو سکتا ہے؟اٹارنی جنرل عثمان منصور اعوان نے جواب دیا کہ نو کمنٹس

    واضح رہےکہ وفاقی حکومت نےجسٹس قاضی فائزعیسیٰ کےخلاف کیوریٹو ریویو واپس لینےکےلیےسپریم کورٹ سےرجوع کیاتھا،حکومت کا مؤقف تھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیوریٹیو ریویو ریفرنس کمزور اور بے بنیاد وجوہات پر دائر کیا گیا تھا لہٰذا حکومت نے اس کی پیروی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، وزیراعظم کی زیر صدارت کابینہ پہلے ہی اس فیصلے کی منظوری دے چکی ہے۔

    اس حوالے سے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ ریفرنس کے نام پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور ان کے اہل خانہ کو ہراساں اور بدنام کیاگیا، یہ ریفرنس نہیں تھا، آئین اور قانون کی راہ پر چلنے والے ایک منصف مزاج جج کے خلاف ایک منتقم مزاج شخص عمران خان کی انتقامی کارروائی تھی۔

     انصاف ہونا چاہیئے اور ہوتا نظر بھی آنا چاہیئے،

     عدالتوں میں کیسسز کا پیشگی ٹھیکہ رجسٹرار کو دے دیا جائے

     آئندہ ہفتے مقدمات کی سماعت کے لئے بنچز تشکیل

    حکومت صدارتی حکمنامہ کے ذریعے چیف جسٹس کو جبری رخصت پر بھیجے،امان اللہ کنرانی

    9 رکنی بینچ کے3 رکنی رہ جانا اندرونی اختلاف اورکیس پرعدم اتفاق کا نتیجہ ہے،رانا تنویر

    چیف جسٹس کے بغیر کوئی جج از خود نوٹس نہیں لے سکتا،