Baaghi TV

Tag: قاضی فائز

  • آئینی بینچ کا سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کو بڑا ریلیف

    آئینی بینچ کا سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کو بڑا ریلیف

    سپریم کورٹ، آئینی بینچ نے مقدمات کی سماعت کا آغاز کر دیا ہے

    جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 6 رکنی آئینی بینچ کیسز نے سماعت کی،جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی آئینی بینچ میں شامل ہیں،جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس نعیم اختر بھی 6 رکنی آئینی بینچ کا حصہ ہیں۔

    آئینی بنچ نےسابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کو بڑا ریلیف دے دیا، قاضی فائز عیسی کی بطور چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ تعیناتی کیخلاف نظرثانی درخواست خارج کر دی، وکیل ریاض حنیف راہی نے کہا کہ کوئی بھی شخص براہ راست چیف جسٹس تعینات نہیں ہوسکتا، پہلے بطور جج تعیناتی ہوتی ہے پھر چیف جسٹس بنایا جاتا ہے، وزیراعلی بلوچستان نے قاضی فائز عیسی کی تعیناتی کی سمری بھی نہیں بھیجی تھی، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ نظرثانی میں دوبارہ اصل کیس نہیں کھول سکتے،عدالتی فیصلوں کیخلاف یہ کوئی اپیلیٹ بنچ نہیں ہے،

    آئینی بینچ نے ماحولیاتی آلودگی سے متعلق اقدامات پر تمام صوبوں سے رپورٹ طلب کر لی
    علاوہ ازیں ایک دوسرے کیس میں جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ماحولیات سے متعلق تمام معاملات کو دیکھیں گے، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ ملک میں ہر جگہ ہاؤسنگ سوسائٹیز بنائی جا رہی ہیں،جسٹس نسیم حسن شاہ کو خط آیا تھا کہ اسلام آباد کو صنعتی زون بنایا جا رہا ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ماحولیاتی آلودگی صرف اسلام آباد نہیں پورے ملک کا مسئلہ ہے، گاڑیوں کا دھواں ماحولیاتی آلودگی کی بڑی وجہ ہے، کیا دھویں کو روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے،آئینی بینچ نے ماحولیاتی آلودگی سے متعلق اقدامات پر تمام صوبوں سے رپورٹ طلب کر لی۔

    مانسہرہ میں جگہ جگہ پولٹری فارم، ماربل فیکٹری کام کر رہی ، سوات کےخوبصورت مقامات آلودگی کا شکار ہو چکے ہیں،جسٹس مسرت ہلالی
    جسٹس نعیم افغان نے کہا کہ لاہور شہر ایک سائڈ سے واہگہ بارڈر دوسری جانب سے شیخوپورہ تک پھیل گیا ہے،زرعی زمینوں پر ڈی ایچ اے اور دیگر سوسائیٹیز بنائی جا رہی ہیں،جو علاقہ زلزلے کی زد میں نہیں آتے وہاں ہائی رائز عمارتیں بنائی جائیں، آنے والی نسلوں کےساتھ ہم کیا سلوک کر رہے ہیں، جسٹس نعیم اختر نے کہا کہ ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے باعث کھیت کھلیان ختم ہو رہے، کاشت کاروں کو تحفظ فراہم کیا جائے، قدرت نے زرخیز زمین دی ہے لیکن سب اسے ختم کرنے پر تلے ہوئے، آپ اپنی نسلوں کے لیے کیا کر کے جا رہے ہیں، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ پنجاب کی حالت دیکھیں سب کے سامنے ہے، اسلام آباد میں بھی چند روز قبل ایسے ہی حالات تھے،جسٹس محمدعلی مظہر نے کہا کہ انوائرمنٹ پروٹیکشن اٹھارٹی اپنا کردار ادا کیوں نہیں کر رہی؟ 1993ء سے معاملہ چل رہا ہے، اب ختم کرنا ہو گا،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ پورے ملک کو ماحولیات کے سنجیدہ مسئلے کا سامنا ہے، پیٹرول میں کچھ ایسا ملایا جاتا ہے جو آلودگی کا سبب بناتا ہے،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ مانسہرہ میں جگہ جگہ پولٹری فارم اور ماربل فیکٹری کام کر رہی ہیں، سوات میں چند ایسے خوبصورت مقامات ہیں جو آلودگی کا شکار ہو چکے ہیں،آئینی بینچ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی استدعا پر سماعت 3 ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔

    بے بنیاد مقدمہ بازی،آئینی بینچ نے درخواست گزاروں کو کیا جرمانہ
    آئینی بینچ نے بےبنیاد مقدمہ بازی پر درخواست گزاروں کو آج مجموعی طور پر 60 ہزار روپے کے جرمانے عائد کردیے،غیر ملکی خواتین ، مردوں سے پاکستانیوں کی شادیوں پر پابندی کی درخواست خارج کرتے ہوئے 20 ہزار روپے جرمانہ عائد ہوا،درخواست گزار محمود اختر نقوی ویڈیو لنک پر عدالت میں پیش ہوئے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ یہ پارلیمنٹ کا اختیار ہے، عدالت کیسے کسی کو منع کرے؟جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ جو درخواست گزار کی استدعا ہے کیا ایسا ممکن ہے ؟کیا کسی سرکاری ملازم کو غیر ملکی سے شادی سے روکا جاسکتا ہے؟ اگر روکنے کا قانون موجود ہے تو وہ بتادیں ؟ عدالت نے درخواست 20 ہزارروپے جرمانے کے ساتھ خارج کردی،
    جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر ایسی درخواستوں کو اجازت دی تو یہ درخواست بھی آجائے گی شادیوں سے روکا جائے،

    پی ڈی ایم دور حکومت میں قانون سازی کیخلاف درخواست بھی 20 ہزار روپے جرمانے کیساتھ خارج ہوئی،آئینی بنچ نے غیر ملکی جائیدادوں کیخلاف کیس میں درخواست گزار کو 20 ہزار روپے جرمانہ عائد کردیا،جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 60 ہزار مقدمات ایسے ہی مقدمات کے سبب زیر التوا ہیں،

    سپریم کورٹ نے غیر ملکی اثاثوں ،بینک اکاؤنٹس کیخلاف درخواست جرمانہ کیساتھ خارج کردی،جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ معاملہ پر قانون سازی کیلئے درخواست گزار اپنے حلقہ کے منتخب نمائندہ سے رجوع کرے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ قانون سازی کرنا پارلیمنٹ کا کام ہے،الیکشن کمیشن غیر ملکی اکاؤنٹس اور اثاثوں پر قانون سازی کیسے کر سکتا ہے؟جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ درخواست میں کوئی قانونی بات نہیں کی گئی،درخواست گزار نے کہا کہ غیرملکی اثاثوں بینک اکاؤنٹس پر الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ معاملے پر قانون سازی کرنا پارلیمنٹ کا کام ہے،کن لوگوں کے غیر ملکی اثاثے یا بینک اکاؤنٹس ہیں کسی کا نام نہیں لکھا؟جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ پارلیمنٹ کو قانون سازی کرنے کا نہیں کہہ سکتے،جسٹس امین الدین نے کہا کہ قانون سازی کیلئے درخواست گزار حلقہ کے نمائندےسے رجوع کریں

    سپریم کورٹ کے آئینی بینچ سے غیرموثر درخواستیں خارج کرنے کا سلسلہ جاری ہے،آئینی بینچ نے 2024 کے عام انتخابات ملتوی کرنے کی درخواست خارج کر دی، درخواست گزار وسیم سجاد نے موسم کی صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے الیکشن ملتوی کرنے کی درخواست دی تھی،عدالت نے الیکشن شیڈول کیخلاف درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات برقرار رکھے.جسٹس حسن رضوی نے کہا کہ درخواست گزار وسیم سجاد سپریم کورٹ وکیل نہیں ہے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ اس درخواست پر ڈبل جرمانہ ہونا چاہیے۔جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ درخواست گزار کا موقف تھا کہ الیکشن فروری کی بجائے مئی میں کروائے جائیں،

  • قاضی فائز عیسیٰ گاڑی پر حملہ کیس،پولیس کا پاکستانی ہائی کمیشن کا دورہ

    قاضی فائز عیسیٰ گاڑی پر حملہ کیس،پولیس کا پاکستانی ہائی کمیشن کا دورہ

    سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی گاڑی پر لندن دورے کے دوران مبینہ حملے کے معاملے پر برطانوی ڈپلومیٹک پولیس نے پاکستانی ہائی کمیشن کا دورہ کیا ہے

    برطانوی ڈپلومیٹک پولیس کے دورے کے دوران پاکستانی عملے نے سابق چیف جسٹس کی گاڑی پر مبینہ حملے سے متعلق بریفنگ دی، جس میں بتایا گیا کہ سابق چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ ہائی کمیشن کی گاڑی میں موجود تھے۔ برطانوی ڈپلومیٹک پولیس نے پاکستانی ہائی کمیشن کو اس واقعے کی مکمل تحقیقات کرانے کی یقین دہانی کرائی۔اس موقع پر بتایا گیا کہ جمعہ کے روز ڈپلومیٹک پولیس کے وفد نے پاکستانی ہائی کمیشن کے افسران سے ملاقات کی تھی۔

    یاد رہے کہ لندن میں پاکستان ہائی کمیشن نے کسی کو نامزد کیے بغیر سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر حملے کے واقعے کے بارے میں باضابطہ شکایت درج کرائی تھی،پاکستانی ہائی کمیشن کی شکایت کی تصدیق کرتے ہوئے اسکاٹ لینڈ یارڈ نے کہا کہ سابق چیف جسٹس پاکستان پر حملے سے آگاہ ہیں، اور یہ واقعہ سٹی آف لندن میں پیش آیا ہے، جہاں کی پولیسنگ سٹی آف لندن پولیس کے ذمے ہے

    لندن،قاضی فائز عیسیٰ پر حملہ کرنیوالوں کے نام پی سی ایل میں ڈال دیئے گئے

    لندن پولیس کی جانب سے سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر حملہ کرنے والے ملزمان جن کا تعلق پی ٹی آئی سے ہے کےخلاف کارروائی شروع کر دی گئی ہے، اور انہیں بہت جلد پاکستان ڈی پورٹ کرنے کا عمل شروع کیا جائے گا۔ لندن پولیس نے اس معاملے میں تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور حملہ آوروں کی شناخت کے لئے اہم شواہد جمع کر لئے ہیں،قاضی فائز عیسیٰ پر حملہ گزشتہ ماہ لندن میں ہوا تھا، جس کے بعد پاکستانی حکام نے فوری طور پر برطانوی حکام سے رابطہ کیا تھا۔ لندن پولیس نے واقعے کی مکمل تحقیقات شروع کی ہیں اور جلد ہی ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ملزمان کو قانونی طریقے سے پاکستان واپس بھیجا جائے گا تاکہ ان کے خلاف ملکی قانون کے تحت کارروائی کی جا سکے۔

    واضح رہے کہ پاکستانی وزارت خارجہ نے لندن میں سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور ان کی اہلیہ کو ہراساں کرنے کے معاملے میں سخت احکامات جاری کیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، وزارت خارجہ نے برطانوی ہائی کمیشن کو اس معاملے میں قانونی کارروائی کے حوالے سے ہدایات فراہم کی ہیں، جس کا مقصد ہراسانی میں ملوث افراد کے خلاف سخت اقدامات اٹھانا ہے۔وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کی وزارت نے واضح کیا ہے کہ سابق چیف جسٹس اور ان کی اہلیہ کو ہراساں کرنے والے تمام عناصر کے خلاف بھرپور قانونی کارروائی کی جائے گی۔ وزارت خارجہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمان کو قرار واقعی سزا دلوانے کے لیے قانونی راستہ اختیار کیا جائے گا۔

  • چیف جسٹس سے ملاقات ختم،وزیراعظم سپریم کورٹ سے روانہ

    چیف جسٹس سے ملاقات ختم،وزیراعظم سپریم کورٹ سے روانہ

    وزیر اعظم شہبا زشریف سپریم کورٹ پہنچ گئے

    وزیراعظم اور چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی ملاقات ہوئی، ملاقات میں وزیر قانون اعظم نزیر تارڑ اور اٹارنی جنرل آف پاکستان بیرسٹر منصور اعوان بھی شامل ہیں،جسٹس منصور شاہ بھی ملاقات میں موجودتھے، وزیراعظم شہباز شریف ججز گیٹ سے داخل ہوئے۔ملاقات میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججز کی جانب سے سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھے گئے خط کے حوالہ سے غور و خوض کیا گیا، وزیراعظم شہباز شریف اور چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے درمیان ملاقات ختم ہو گئی،وزیراعظم سپریم کورٹ سے روانہ ہو گئے

    شہباز شریف کیساتھ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی ملاقات غیر آئینی اور دھوکہ ہے،اعتزاز احسن
    دوسری جانب پیپلز پارٹی کے رہنما ممتاز قانوندان اعتراز احسن کا کہنا ہے کہ شہباز شریف کیساتھ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی ملاقات غیر آئینی اور دھوکہ ہے اس موڑ پہ ملنا جب 6 ججز نے انکی اور خفیہ ایجنسیوں کی مداخلت کے بارے میں انکو خط لکھا ہے،چھ ججز کے خط پر چیف جسٹس کو سوموٹو لینا چاہیے یہ معاملہ بہت سنگین ہے چیف جسٹس کی ذمہ داری ہے ججز کو تحفظ دیں- اگر اس معاملے کو ایسے ہی چھوڑ دیا تو پھر جو فیصلہ آئے گا دنیا بولے گی انکی عدالتیں اداروں کے کہنے پر فیصلہ کرتی ہیں-

    اسلام آباد ہائیکورٹ ججز کی جانب سے لکھے گئے خط پر سپریم کورٹ کا فل کورٹ اجلاس گزشتہ روز چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی زیر صدارت دو گھنٹے سے زائد جاری رہنے کے بعد ختم ہو ا،یہ بیٹھک آج دوبارہ ہوگی،جس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے خط اور اس کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال کی آئینی و قانونی حیثیت پر غور کیا جائے گا-

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6 ججز نے سپریم جوڈیشل کونسل کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ ہم جسٹس ریٹائرڈ شوکت عزیز صدیقی کے تحقیقات کرانے کے مؤقف کی مکمل حمایت کرتے ہیں، اگر عدلیہ کی آزادی میں مداخلت ہو رہی تھی تو عدلیہ کی آزادی کو انڈر ما ئن کرنے والے کون تھے؟ ان کی معاونت کس نے کی؟ سب کو جوابدہ کیا جائے تاکہ یہ عمل دہرایا نہ جا سکے، ججز کے کوڈ آف کنڈکٹ میں کوئی رہنمائی نہیں کہ ایسی صورتحال کو کیسے رپورٹ کریں۔خط میں ججز نے سپریم جوڈیشل کونسل سے رہ نمائی مانگی ہے، پوچھا ہے کہ ایگزیکٹو بشمول انٹیلی جنس ایجنسیز ارکان کی کارروائیوں پر رپورٹ اور ردعمل سے متعلق جج کی کیا ڈیوٹی ہے؟ یہ کارروائیاں ایک جج کے سرکاری کام میں مداخلت کے برابر ہیں۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ ججز کے خط پر چیف جسٹس کی زیر صدارت اجلاس ختم

    ایسا لگتا تحریک انصاف کے اشارے پر ججز نے خط لکھا،سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    ججزکا خط،اسلام آباد ،لاہور ہائیکورٹ بار،اسلام آبا بار،بلوچستان بار کا ردعمل

    عدالتی معاملات میں مداخلت، اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کا سپریم جوڈیشل کونسل کو خط

    ججز کا خط،انکوائری ہو،سپریم کورٹ میں اوپن سماعت کی جائے، بیرسٹر گوہر

    ججز کا خط ،پاکستان بار کونسل کا انکوائری کا مطالبہ

  • آئین ہماری اور پاکستان کی پہچان ، آئین کے محافظ ہیں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    آئین ہماری اور پاکستان کی پہچان ، آئین کے محافظ ہیں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    آئین ہماری اور پاکستان کی پہچان ، آئین کے محافظ ہیں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    1973 کے آئین کی گولڈن جوبلی تقریب، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو سیاسی باتیں کی گئیں ان سے اتفاق نہیں کرتا ،قانون میرا میدان ہے، ہم نے تنقید بھی سنی ہے، ہم بھی آئین کے محافظ ہیں، ہم سب نے آئیں کے تحفظ کا حلف لیا ہوا ہے،یہ آئین ہماری اور پاکستان کی پہچان ہے،اپنی اور سپریم کورٹ کے طرف سے کہنا چاہتا ہوں کہ ہم سپریم کورٹ کے ساتھ کھڑے ہیں، آئین آزادی صحافت اور معلومات تک رسائی کا حق دیتا ہے،پارلیمان اور عدلیہ کا کام لوگوں کی خدمت ہے،جب لوگ یہ بات سمجھ جائیں گے تو سمجھیں گے کہ ہمارا آج محفوظ ہے، لوگ اپنی اچھائی سوچتے ہیں برائی اپنی نہیں سوچتے،ہم اپنی غلطیوں، ناکامیوں سے سیکھ کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں،آئین میں سے سب سے اہم بات لوگوں کے حقوق کی ہے،پارلیمان ، بیوروکریسی سب کے وجود کا مقصد ایک ہونا چاہیئے، عوام کی خدمت، ہمارا کام ہے کہ آئین اور قانون کے مطابق جلد ازجلد فیصلے کریں، اللہ کے سائے کے بعد اس کتاب کا سایہ ہمارے سر پر ہے،

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ 2014 سے آپ کاہمسایہ ہوں، پارلیمان اور عدلیہ کا بنیادی کام لوگوں کی خدمت ہے، ہمیں آئین پاکستان کی اہمیت پہچان کر اس پرعمل کرناچاہیے آئین کی گولڈن جوبلی کاجشن منانے آیا ہوں،ہم دشمنوں سے اتنی نفرت نہیں کرتے جتنی ایک دوسرے سے کرتے ہیں،تقسیم ہند نہ ہوتی تومسلمان بطور اقلیت ہندوستان میں رہتے،کل آپ کہیں کہ آپ کوبلایا بھی اورپھر بھی آپ نے ہمارے خلاف فیصلہ کیا،

    کسی کو مذاکرات کرنے ہیں تو پہلے شرطیں نہ رکھیں.آصف زرداری

    قومی آئینی کنونشن میں وزیراعظم کی قرارداد متفقہ طور پر منظور

    الیکشن اخراجات بل قومی اسمبلی میں پیش

  • سپريم کورٹ ، ازخود نوٹس اختیار سے متعلق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا فیصلہ مسترد

    سپریم کورٹ نے آرٹیکل 184/3 کے مقدمات پر سرکولر جاری کر دیا

    جاری سرکلر میں کہا گیا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسی کے فیصلے میں ازخود نوٹس کا اختیار استعمال کیا گیا، اس انداز میں بنچ کا سوموٹو لینا پانچ رکنی عدالتی حکم کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے ،سوموٹو صرف چیف جسٹس آف پاکستان ہی لے سکتے ہیں،فیصلے میں دی گئی آبزرویشن کو مسترد کیا جاتا ہے،

    سپريم کورٹ نے ازخود نوٹس اختیار سے متعلق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا فیصلہ مسترد کردیا ،ازخود نوٹس اختیار سے متعلق دی گئی ابزرویشن کا بنچ کے سامنے موجود کیس پر اطلاق نہیں ہوتا، قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے انفرادی طور پر کئی گئی تشریح 5 رکنی لارجر بنچ کے احکامات کی خلاف ورزی ہے۔ اس سلسلے میں میڈیا کی آزادی اوربنیادی انسانی حقوق کے کیس میں واضح فیصلہ دے چکی ہے اس طرح کی تشریح کرنے کا اختیار صرف چیف جسٹس کو ہے جس کے قواعد 184(3) میں دیے گئے ہیں جسٹس قاضی فائز کے فیصلے کا اطلاق نہیں ہوتا کیونکہ لارجر بنچ اکثریتی فیصلہ دے چکا ہے جس معاملے پر 5 رکنی بنچ کا فیصلہ موجود ہو ،اس پر 2 ججز کے فیصلے کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی

    غیرت کے نام پر استعفے دینے والے آج عدالت چلے گئے، ثانیہ عاشق

    بریکنگ،پی ٹی آئی کا استعفوں پر یوٹرن،عدالت میں کہا اب پارٹی استعفے نہیں دینا چاہتی

     رولز بنائے جانے تک ازخود نوٹس کے تمام کیسز ملتوی کرنے کا حکم 

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیوریٹیو ریویو ریفرنس واپس لینے کا حکم

  • کیا ہرمقدمے میں سپریم کورٹ آنا لازمی ہے؟ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے ریمارکس

    کیا ہرمقدمے میں سپریم کورٹ آنا لازمی ہے؟ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے ریمارکس

    سپریم کورٹ نے ٹیکس سے متعلق تنازعہ میں ایف بی آر کی اپیل مسترد کر دی

    سپریم کورٹ نے ایف بی آر کی اپیل کو فضول مقدمہ بازی کا شاہکار قرار دیدیا سپریم کورٹ نے ایف بی آر کو فضول مقدمہ بازی سے گریز کرنے کی ہدایت کر دی ،دوران سماعت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فضول مقدمے سے وقت اور وسائل ضائع ہوتے ہیں،سپریم کورٹ نے آرڈر چیئرمین ایف بی آر اور ممبر لیگل کو بھیجنے کی ہدایت کر دی

    عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تین فورمز نے ایک ہی نتیجہ اخذ کیا اس کے باوجود ایف بی آر سپریم کورٹ میں آیا،دوران سماعت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا ہر مقدمے میں سپریم کورٹ آنا لازمی ہے؟ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 3رکنی بینچ نے اپیل خارج کر دی

    دوسری جانب سپریم کورٹ ،ڈيرہ اسماعيل خان کی رہائشی خاتون کو 46 سال بعد وراثتی حق مل گيا سپريم کورٹ نے ڈيرہ اسماعيل خان کی رہائشی خاتون کا والد کی جائیداد ميں حصہ تسليم کر ليا سپريم کورٹ نے ہائی کورٹ فيصلے کے خلاف بھائيوں کی اپيل خارج کر دی، وکیل درخؤاست گزار نے عدالت میں کہا کہ بہنوں نے اپنا حصہ بھائی کو تحفے میں دے دیا تھا،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب تحفہ دیا گیا اس وقت بہنیں کم سن تھیں،کم عمر بہن کیسے بھائیوں کو جائیداد تحفے میں دے سکتی ہے؟ریکارڈ کے مطابق بہن کی جانب سے وکیل نے بیان دیا،کم سن لڑکی کی جانب سے کوئی وکیل کیسے بیان دے سکتا ہے؟ بھائیوں نے کبھی بہن کو جائیداد گفٹ دی ہے ہر بار بہن ہی کیوں دے؟گفٹ میں کہیں آفر قبوليت کا ذکر نہيں تو اس کی قانونی حيثيت نہيں رہتی،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب بہن نابالغ تھی تو بھائیوں نے کیسے بہن سے ساری جائیداد لے لی،نابالغ بہن کوئی بھی کنٹریکٹ نہیں کر سکتی،

    وکیل خریدار نے کہا کہ اراضی خریدنے سے پہلے تسلی کی گئی کہ اس میں بہنوں کا حصہ شامل نہیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خریدار نے تسلی کیسے کی؟ کوئی دستاویز دکھائیں، کیس ریکارڈ سے ثابت نہیں ہوتا کہ خریدار نے ٹھوس تسلی کی ہو،سپريم کورٹ نے ہائی کورٹ فيصلے کے خلاف بھائيوں کی اپيل خارج کر دی
    جتنی ناانصافی اسلام آباد میں ہے اتنی شاید ہی کسی اور جگہ ہو،عدالت

    راول ڈیم کے کنارے کمرشل تعمیرات سے متعلق کیس ،اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا حکم

    سیاسی لیڈر شپ کو سیاسی استحکام کیلئے مذاکرات کرنے ہونگے،

    تعمیراتی پراجیکٹس کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا حکم،وزیراعظم کے معاون خصوصی کو طلب کر لیا

    سرکاری زمین پر ذاتی سڑکیں، کلب اور سوئمنگ پول بن رہا ہے،ملک کو امراء لوٹ کر کھا گئے،عدالت برہم

  • دنیا کی طرف دیکھنے کے بجائے خود عملی اقدامات کرنے ہوں گے،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    دنیا کی طرف دیکھنے کے بجائے خود عملی اقدامات کرنے ہوں گے،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جوڈیشل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں نے 1 ہزار بچیوں کے سکول تباہ کیے ہم ان سے کیا مذاکرات کر رہے ہیں؟ سوات میں بچیوں کے جس اسکول پر حملہ ہوا وہ 5 سال تک بند رہا قرآن میں اللہ نے خواتین کے احترام کا حکم دیا ہے

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی،صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ ججوں،بیورو کریٹس کو کاریں دینا بند کریں،سرکاری خزانے میں غریب تو اپنا حصہ ڈال رہا ہے لیکن وہ پیدل چلتا ہے، سائیکل پر سفر کرتا ہے، وہ پیسہ سائیکل کے راستوں، پیدل چلنے کے راستوں اور پبلک ٹرانسپورٹ پر خرچ کیا جائے سیلاب کی وجہ سے ملک کا ایک بڑا حصہ زیر آب آیا، عالمی موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے ہمیں دنیا کی طرف دیکھنے کے بجائے خود عملی اقدامات کرنے ہوں گے

    جسٹس اعجاز الاحسن نے نویں انٹرنیشنل جوڈیشل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت معاشی معاملات میں سہولت دے سکتی ہے رکاوٹ نہیں بن سکتی تنازعات کے حل کے متبادل نظام کیلئے قانون سازی ضروری ہے،قانون میں خلا ہو تو عدالتوں کیلئے کام کرنا ممکن نہیں ہوتا، سی پیک اور توانائی سمیت متعدد شعبوں میں غیرملکی سرمایہ کار کے مواقع موجود ہیں،تنازعات کے حل کا متبادل نظام سرمایہ کاروں کیلئے سہولت کا باعث ہوگا، متبادل نظام سے کاروباری تنازعات عدالت کی نسبت جلد حل ہوسکتے ہیں،بلوچستان کے علاوہ دیگر صوبوں میں ثالثی کے ذریعے تنازعات حل کرنے کے قانون بن چکے ہیں،خیبرپختونخوامیں معمولی نوعیت کے فوجداری مقدمات بھی ثالثی نظام کے ذریعے حل ہو رہے ہیں، عوام کو عدالتوں میں آنے کے بجائے ثالثی کے نظام سے رجوع کرنے کی آگاہی دی جانی چاہیے، وکلا سائلین کو غیر سنجیدہ مقدمات عدالت لانے کے بجائے ثالثی کے متبادل نظام کا مشورہ دیں، عدالتوں میں غیر ضروری مقدمات ہونے کی وجہ سے کیسز کا بوجھ بڑھ رہا ہے،

    تعمیراتی پراجیکٹس کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا حکم،وزیراعظم کے معاون خصوصی کو طلب کر لیا

    سرکاری زمین پر ذاتی سڑکیں، کلب اور سوئمنگ پول بن رہا ہے،ملک کو امراء لوٹ کر کھا گئے،عدالت برہم

    جتنی ناانصافی اسلام آباد میں ہے اتنی شاید ہی کسی اور جگہ ہو،عدالت

    راول ڈیم کے کنارے کمرشل تعمیرات سے متعلق کیس ،اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا حکم

    سیاسی لیڈر شپ کو سیاسی استحکام کیلئے مذاکرات کرنے ہونگے،

  • ججز تقرری کے معاملے پرجسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس کو خط

    ججز تقرری کے معاملے پرجسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس کو خط

    سپریم کورٹ میں ججز تقرری کے معاملے پرجسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس کو خط لکھ دیا

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے لکھے گئے خط میں کہا کہ بار کونسلز سمیت جوڈیشل کمیشن ممبران نے کئی بار رولز میں ترمیم کا مطالبہ کیا،ججز تقرری میں سنیارٹی،میرٹ اور قابلیت کو دیکھنا ہوتا ہے،سپریم کورٹ میں چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کی جگہ جونیئر جج کو تعینات کیا گیا، ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اور سینئر ججز نے سابق چیف جسٹس سابق نثار کی باتوں کی تردید کی سینئر ججز کے خود نہ آنے کی بات کر کے ثاقب نثار نے مکاری کی سابق چیف جسٹس گلزار احمد نے بھی چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ اور سینئر ججز کو نظر انداز کیا خط کی کاپی سابق چیف جسٹس ثاقب نثار اور گلزار احمد کو بھی بھیج رہا ہوں بطور ممبر جوڈیشل کمیشن سابق جج جسٹس مقبول باقر کی رائے کو بھی نظرانداز کیا گیا، جوڈیشل کمیشن رولز میں ترمیم کیلئے قائم کمیٹی کی آج تک کوئی رائے نہیں آئی، جوڈیشل کمیشن اجلاس ان کیمرہ نہیں ہونا چاہیے،ججز تقرری کیلئے اجلاس سے متعلق عوام کو علم ہونا چاہیے،

    ملک اسلامی جمہوریہ مگریہاں اسلام کے مطابق کچھ نہیں ہورہا،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف ریفرنس غلطی تھی، عمران خان نے تسلیم کر لیا

    صدارتی ریفرنس کی سماعت کیلیے لارجر بینچ کی تشکیل ،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس کو خط

    سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اسلام آباد میں گورنر بلوچستان کے سکواڈ کی گاڑی کا چالان کروا دیا ۔

    صحافیوں کو ہراساں کرنے کیخلاف ازخود نوٹس کیس،سپریم کورٹ کا بڑا حکم

    پولیس ملزمان کی ویڈیو کیوں نہیں بناتی؟ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا اظہار برہمی

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے رجسٹرار سپریم کورٹ کے سیکریٹری جوڈیشل کمیشن ہونے پر اعتراض کیا اور کہا کہ رجسٹرار سپریم کورٹ سرکاری ملازم ہے جس کا وزیر اعظم ہاوس سے تقرر ہوا،آرٹیکل 175/3 عدلیہ اور ایگزیکٹو کو الگ رکھنے سے متعلق ہے، رجسٹرار سپریم کورٹ جواد پال کو سیکرٹری جوڈیشل کمیشن کے عہدے سے ہٹایا جائے رجسٹرار سپریم کورٹ جواد پال کے مطابق وہ کسی کو جوابدہ نہیں ہیں رجسٹرار سپریم کورٹ کا رویہ متکبرانہ اور بددیانتی والا ہے عوام کے پیسے لینے والا سرکاری ملازم جوڈیشل کمیشن کی غیر جانبداری پر سوالیہ نشان ہے سابق وزیراعظم عمران خان کے مقدمات رجسٹرار سپریم کورٹ فوری سماعت کیلئے مقرر کر دیتا تھا وام کا یہ تاثر کہ عدلیہ آزاد نہیں عوام اعتماد کے بغیر عدالتی فیصلے اپنی ساکھ کھو دیتے ہیں

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”499452″ /]

  • خواتین کو نظراندازکریںگےتو معاشرے میں بہتری لانا ناممکن ہے،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    خواتین کو نظراندازکریںگےتو معاشرے میں بہتری لانا ناممکن ہے،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    خواتین کو نظراندازکریںگےتو معاشرے میں بہتری لانا ناممکن ہے،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے نیشنل جوڈیشل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1979میں ایک جابر نے فیصلہ کیا مسلمانوں کو بہتر مسلمان بنانے کی ضرورت ہے

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ ہمارے تمام قوانین انگریزی میں ہوتے ہیں،میرا اس سے اختلاف ہے آئین میں واضح ہے کہ استعمال کی جانے زبان عام آدمی کے سمجھ میں آنی چاہیے، دیت کے قانون انگریزی میں لکھا گیا لیکن اس کی سزا عربی میں لکھی گئی،ریپ کو زنا بالجبر بنا دیا گیا،جابروں نے ہمارے قانون اور آئین کا مذاق بنا دیا،عورت کے بے آبرو ہونے کو اسلام نے سنگین جرم قرار دیا تھا،دفعات 375 اور 374 کی غلطی کو درست کرنے میں 27 سال لگے،اس دوران خواتین نے کتنا ظلم اور زیادتیاں برداشت کیں،دین اسلام کو غلط طریقے سے پیش کرنے پر افسوس ہوتاہے،یوں لگتا ہے جیسے دین اسلام میں خواتین کے ساتھ منصفانہ قانون نہیں،قرآن کریم میں 35 بار حضرت مریم کا ذکر کیا گیا ہے،جب تک ہم خواتین کو نظر انداز کریں گے خواتین پر خود کو سبقت دیتے رہیں گے معاشرے میں بہتری لانا ناممکن ہے ہمارے ہاں جابر کو سزائیں نہیں دی جاتیں،

    ملک اسلامی جمہوریہ مگریہاں اسلام کے مطابق کچھ نہیں ہورہا،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف ریفرنس غلطی تھی، عمران خان نے تسلیم کر لیا

    صدارتی ریفرنس کی سماعت کیلیے لارجر بینچ کی تشکیل ،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا چیف جسٹس کو خط

    سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اسلام آباد میں گورنر بلوچستان کے سکواڈ کی گاڑی کا چالان کروا دیا ۔

    صحافیوں کو ہراساں کرنے کیخلاف ازخود نوٹس کیس،سپریم کورٹ کا بڑا حکم

    پولیس ملزمان کی ویڈیو کیوں نہیں بناتی؟ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا اظہار برہمی

  • ملک اسلامی جمہوریہ مگریہاں اسلام کے مطابق کچھ نہیں ہورہا،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    ملک اسلامی جمہوریہ مگریہاں اسلام کے مطابق کچھ نہیں ہورہا،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    ملک اسلامی جمہوریہ مگریہاں اسلام کے مطابق کچھ نہیں ہورہا،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

    سپریم کورٹ میں فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاوسنگ فاونڈیشن میں پلاٹ الاٹمنٹ کیس کی سماعت ہوئی
    دوران سماعت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملک اسلامی جمہوریہ ہے مگر یہاں اسلام کے مطابق کچھ نہیں ہورہا ،ہم راتوں رات انقلاب لاتے ہیں وزیر اعظم اپنی صوابدید پر 2،2 پلاٹ الاٹ کر دیتا ہے،وزیر اعظم کون ہوتے ہیں ایسے پلاٹ دینے والے ؟ ملک میں پلاٹ دینے کا کوئی اصول نہیں، اخبارات میں پڑھتے ہیں کہ سیکریٹری کو 2پلاٹ دیئے گئے،ملک میں صرف بڑے لوگوں کو پلاٹ ملتے ہیں غریب کو کوئی نہیں دیتا،کچی آبادی میں لوگوں نے اوپر نیچے چھوٹے چھوٹے کمرے بنائے ہوئے،

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ہاوسنگ فاونڈیشن کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا بڑے افسران کو دو دو پلاٹ نہیں دیتے؟ وکیل نے کہا کہ پہلے دو دو پلاٹ دے دیئے جاتے تھے 2006 کے بعد کسی کو دو پلاٹ نہیں ملے، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ میں نے پلاٹ پر گھر تعمیر کر لیا اب مجھ سے واپس لیا جارہا ہے،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کا پہلے ایک اور پلاٹ تھا اس لیے آپ سے واپس لیا جارہا ہے سپریم کورٹ نے درخواست گزار کی پلاٹ واپس کرنے کی درخواست مسترد کردی

    آغا سراج درانی کے خلاف پیشرفت رپورٹ جمع کروانے کا حکم

    سراج درانی کے خلاف کیس کی سماعت،کتنے ملزمان کے شناختی کارڈ ہوئے بلاک

    مریم دیکھتی رہ گئی،شہباز شریف نے بھی پاکستان سے جانے کا ارادہ کر لیا

    جج صاحب،میں آج عدالت میں یہ چیز لے کر آیا ہوں،عدالت نے شہباز شریف کو دیا کھرا جواب

    شہباز شریف عدالت پہنچ گئے،نیب کی شہباز شریف کی ضمانت کی درخواست مسترد کرنے کی استدعا

    کسی سیٹھ کی مالی معاملات میں ہونے والی گرفتاری کو میڈیا کی‌ آزادی کے ساتھ جوڑنا صحافتی اقدار کی نفی ہے،فردوس عاشق اعوان

    مریم نواز کے وکلاء نے ہی مریم نواز کی الیکشن کمیشن میں مخالفت کر دی، اہم خبر

    صرف اللہ کوجوابدہ ،کوئی کچھ بھی رائے رکھےانصاف کے مطابق فیصلہ دیں گے، عدالت کےحمزہ کیس میں ریمارکس

    حمزہ شہباز کو جیل میں کیوں رکھا ہوا ہے؟ مریم اورنگزیب نے کیا بڑا انکشاف