Baaghi TV

Tag: قانون

  • فرانس میں بھی کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا قانون منظور

    فرانس میں بھی کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا قانون منظور

    فرانس کی پارلیمنٹ نے 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی سے متعلق ایک اہم قانون منظور کر لیا ہے۔

    اس قانون کو قومی اسمبلی اور سینیٹ، دونوں ایوانوں سے منظوری مل چکی ہے، تاہم اس پر عمل درآمد سے قبل فرانس کی آئینی کونسل اس کا جائزہ لے گی تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ قانون آئین سے مطابقت رکھتا ہے،جبکہ اس قانون کی منظوری کے بعد فرانس یورپی یونین کا پہلا بڑا ملک بن گیا ہے جس نے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کو محدود کرنے کے لیے اس نوعیت کا جامع اقدام کیا ہے۔

    قانون کے مطابق یکم ستمبر سے 15 سال سے کم عمر بچے سوشل میڈیا پر نئے اکاؤنٹس نہیں بنا سکیں گے اس کے بعد جنوری 2027 سے ایسے بچوں کے پہلے سے موجود اکاؤنٹس بھی بند کر دیے جائیں گے۔ فرانسیسی حکومت کے مطابق اگر کسی صارف کی عمر 15 سال سے کم ثابت ہوئی تو اس کا اکاؤنٹ بند کر دیا جائے گا، جبکہ صارفین کے ذاتی ڈیٹا کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔

    یہ قانون انسٹاگرام، فیس بک، واٹس ایپ، ایکس، اسنیپ چیٹ، یوٹیوب اور ٹک ٹاک جیسے بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر لاگو ہوگا تاہم حکومت نے واضح کیا ہے کہ پابندی صرف سوشل میڈیا کے مواد شیئر کرنے والے حصے پر ہوگی، جبکہ میسجنگ سروسز اس قانون کے دائرہ کار میں شامل نہیں ہوں گی اسی طرح آن لائن انسائیکلوپیڈیا، تعلیمی اور سائنسی ویب سائٹس پر اس پابندی کا اطلاق نہیں ہوگا۔

    (فرانس کی قومی اسمبلی میں 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کے بل پر ووٹنگ کے نتائج اسکرین پر دکھائے گئے )
    فرانسیسی صدر ایمینوئل میکرون اس اقدام کے سب سے بڑے حامی رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا بچوں میں تنہائی، ہراسانی اور ذہنی نشوونما پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہےانہوں نے ماضی میں یہ بھی کہا تھا کہ امریکی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور چین کے الگورتھمز نوجوانوں کے جذبات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، جبکہ ہمارے بچوں کا دماغ فروخت کے لیے نہیں ہے۔

    فرانس کی صحت عامہ سے متعلق اداروں نے بھی گزشتہ برس خبردار کیا تھا کہ ٹک ٹاک، اسنیپ چیٹ اور انسٹاگرام جیسے پلیٹ فارمز نوجوانوں، خصوصاً لڑکیو ں، کی ذہنی صحت پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔ اسی دوران فرانس میں کئی خاندانوں نے ٹک ٹاک کے خلاف مقدمات بھی دائر کیے، جن میں دعویٰ کیا گیا کہ پلیٹ فارم پر موجود بعض نقصان دہ مواد کا تعلق نوعمر بچوں کی خودکشیوں سے تھا۔

    دوسری جانب فرانس کا یہ اقدام یورپ سمیت دنیا کے دیگر ممالک میں بھی توجہ حاصل کر رہا ہے۔ جرمنی، یونان، پرتگال، ڈنمارک، پولینڈ، آسٹریا، آئرلینڈ، نیدرلینڈز، برطانیہ اور کینیڈا سمیت کئی ممالک ایسے قوانین پر غور کر رہے ہیں یورپی یونین بھی موسم گرما کی تعطیلات کے بعد بچوں کی سوشل میڈیا تک رسائی محدود کرنے کے لیے اپنا قانون پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جبکہ صارفین کی عمر کی تصدیق کے لیے ایک مشترکہ نظام پر بھی کام جاری ہے۔

    اگرچہ اس قانون کو بچوں کے تحفظ کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اس پر تنقید بھی سامنے آئی ہے۔ تاہم بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور متعدد والدین نے اس قانون کا خیرمقدم کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے مقابلے میں بچوں کی حفاظت کے لیے ایسے اقدامات ضروری ہیں، بالکل اسی طرح جیسے کم عمر بچوں کو شراب یا دیگر نقصان دہ اشیا سے محفوظ رکھنے کے لیے قوانین موجود ہیں۔

  • اسرائیل میں فلسطینیوں کیلئے خصوصی سزائے موت کا قانون نافذ

    اسرائیل میں فلسطینیوں کیلئے خصوصی سزائے موت کا قانون نافذ

    اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات میں سزائے موت سے متعلق متنازع اور امتیازی قانون نافذ کر دیا ہے-

    اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج کی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایوی بلوتھ نے اس قانون کے نفاذ کے لیے ضروری فوجی حکم نامے پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے بعد یہ قانون باقاعدہ طور پر نافذ العمل ہو گیا ہے،قانون کے تحت مقبوضہ مغربی کنارے کے وہ فلسطینی جنہیں اسرائیلی شہریوں کے قتل کے الزام میں سزا سنائی جائے گی، انہیں لازمی طور پر سزائے موت دی جا سکے گی اور عدالت کے پاس متبادل سزا دینے کے اختیارات محدود ہوں گے صرف غیر معمولی حالات میں ہی عدالت عمر قید کی سزا سنا سکے گی۔

    اس قانون کی منظوری رواں سال مارچ کے آخر میں اسرائیلی پارلیمنٹ نے دی تھی، جس کے بعد اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے فوجی قیادت سے اس کے نفاذ کے لیے باضابطہ حکم نامہ جاری کرنے کی درخواست کی تھی اس قانون کی سب سے زیادہ متنازع شق یہ ہے کہ یہ صرف فلسطینیوں پر لاگو ہوگا جبکہ اسرائیلی شہری یا اسرائیل میں رہائش پذیر افراد اس کے دائرہ کار میں نہیں آئیں گے فلسطینیوں کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلائے جاتے ہیں جبکہ اسرائیلی شہریوں کے مقدمات سویلین عدالتوں میں سنے جاتے ہیں۔

    دوسری جانب فلسطینی حلقوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس اقدام کو نسلی امتیاز اور دوہرا قانونی نظام قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ قانون مقبوضہ علاقوں میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

  • وفاقی وزارتوں نے معلومات تک رسائی کے قانون  پر عملدرآمد نہیں کیا، فافن رپورٹ

    وفاقی وزارتوں نے معلومات تک رسائی کے قانون پر عملدرآمد نہیں کیا، فافن رپورٹ

    اسلام آباد:فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک ( فافن ) نے کہا ہے کہ وفاق کی اکثر وزارتوں نےلازمی معلومات اجرا کے قانون پر مکمل عملدرآمد نہیں کیا۔

    باغی ٹی وی: فافن کے مطابق قانونی تقاضے پورے نہ ہونے سے غلط معلومات پھیلنے کا باعث بن رہے ہیں رپورٹ میں 33 وزار توں کی 44 ڈویژنز کا جائزہ لیا گیا، جس میں کسی بھی ڈویژن نے قانون کی دفعہ 5 پر عملدرآمد نہیں کیا،غربت کے خاتمے اور سماجی تحفظ ڈویژن: سب سے کم 8 فیصد، شق 19 پر 15 فیصد، اطلاعات اور صحت سمیت 19 فیصد عمل درآمد کیا۔

    قانون پر31 سے 40 فیصد عمل کرنے والے 15 ڈویژنز میں سے 6 ڈویژنز جو اسٹیبلشمنٹ ، پٹرولیم ، قومی ورثہ و ثقافت ، ریونیو ، داخلہ اور پلاننگ ڈویلپمنٹ اور خصوصی اقدامات ہیں ، نے 38 فیصد عمل کیادیگر 7 ڈویژنز تجارت، مواصلات ، وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ، خارجہ امور،نجکاری، مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی اور بی وسائل نے 35 فیصد عمل کیا۔

    دسمبر 2024 کیلئے پلیئر آف دی منتھ کی نامزدگیوں کا اعلان

    رپورٹ کے مطابق لازمی معلومات اجرا کے قانون پر ماحولیاتی تبدیلی اور آئی ٹی و ٹیلی مواصلات کی ڈویژنز نے 31 فیصد عمل کیا فافن کی جائزہ رپورٹ کے مطابق 13وفاقی ڈویژنز کی کارکردگی 21 سے 30 فیصد کے درمیان رہی،یہ رپورٹ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ وفاقی وزارتوں میں معلومات تک رسائی کے قانون پر عملدرآمد کی صورتحال انتہائی ناقص ہے، جس کے نتیجے میں عوام میں بے بنیاد معلومات کا پھیلاؤ ہو رہا ہے۔

    گووندا اور اہلیہ سنیتاعلیحدہ گھروں میں کیوں رہتے ہیں؟دلچسپ انکشاف

  • کراچی: موبائل چوری کے الزام میں بدترین تشدد، متاثرہ نوجوان چل بسا

    کراچی: موبائل چوری کے الزام میں بدترین تشدد، متاثرہ نوجوان چل بسا

    کراچی میں موبائل چوری کے الزام میں بدترین تشدد کا نشانہ بننے والا نوجوان چل بسا۔

    باغی ٹی وی کو موصول اطلاعات کے مطابق پولیس ذرائع نے بتایا کہ ملزمان نے شہری پر 22 ستمبر کو مارٹن کوارٹر کے علاقے میں تشدد کیا تھا اور ویڈیو بھی بنائی تھی۔پولیس حکام کے مطابق تشدد کے دوران مقتول زبیر کے جسم کے مختلف حصوں پر جلانے کے نشان ہیں، بدترین تشدد کے بعد چاروں ملزمان شہری کو چھوڑ کر فرار ہوگئے، مقتول کی لاش کو سول اسپتال پوسٹ مارٹم کیلیے منتقل کردیا گیا۔ایس ایس پی ایسٹ فرخ رضا کے مطابق مقتول چند روز اسپتال میں زیر علاج رہا پھر دم توڑ گیا، واقعہ کا مقدمہ پوسٹ مارٹم کے بعد درج کیا جائے گا، ملزمان کی گرفتاری کیلیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

    کے الیکٹرک کا لائسنس منسوخ کر دیا تو ملک میں انارکی ہوگی، نیپرا

    یونیورسٹی روڈ اکھاڑ دیا ، 15منٹ کا سفر گھنٹوں میں طے ہوتا ہے، علی خورشیدی

    کراچی میں رواں سال ڈکیتوں نے100 افراد کی جان لے لی

  • لاہور ہائیکورٹ،ہتک عزت قانون کیخلاف سماعت 29 جولائی تک ملتوی

    لاہور ہائیکورٹ،ہتک عزت قانون کیخلاف سماعت 29 جولائی تک ملتوی

    لاہور ہائیکورٹ میں ہتک عزت قانون کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    ایڈووکیٹ جنرل پنجاب خالد اسحاق پیش ہوئے،اور کہا کہ درخواست گزار صرف اندازوں پر بات کر رہے ہیں کہ کچھ ہونے لگا ہے،ابھی تو اس قانون کے تحت درخواست گزاروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی ،وکیل اظہر صدیق نے کہا کہ باقی تینوں صوبوں میں ایسا کوئی قانون نہیں ، عدالت نے کہا کہ اگر کوئی شخص سندھ یا دوسرے صوبوں میں بیٹھ کر کرے تو کیا ہو گا ، ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ عدالت کے سوالات اہم ہیں ،ان سوالات کا جواب سپریم کورٹ میں زیر بحث ہے ، اگر کوئی متاثرہ شخص درخواست دائر کرے کہ کارروائی روکی جائے تو الگ بات ہے ، ابھی تک کسی ایک متاثرہ شخص نے درخواست دائر نہیں کی ,عدالت نے کہا کہ آپ متاثرہ شخص کے درخواست دائر کرنے کا کیوں کہہ رہے ہیں ، وکیل اظہر صدیق نے کہا کہ جس طرح پیمرا پابندیاں لگا رہا ہے اس سے ملک کی جگ ہنسائی ہو گی ،ہم چاہتے ہیں کہ ملک کی بین الاقوامی طور پر بدنامی نہ ہو ،ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ عدالت کے سامنے کوئی متاثرہ شخص نہیں جو عدالت کے سامنے ہو کہ اس کا بنیادی حقوق متاثرہو رہے ہیں ،

    وکیل اظہر صدیق نے بعد ازاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت میں کہا کہ قانون کا اطلاق ابھی شروع نہیں ہوا، ابھی کوئی درخواست نہیں ، تو میں نے عدالت میں کہا کہ یہ صحافیوں کا کیس ہے ،ڈر اور خؤف ہے، پیمرا کا جو قانون ہے کہ عدالتی کاروائی کور نہیں کر سکتے، یہ قانون انسانی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے، ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ اگر کسی کے خلاف کوئی کاروائی ہو تو وہ عدالت آ سکتا ہے،اظہر صدیق کا کہنا تھا کہ اس قانون کا آنے والی تاریخ تک اطلاق نظر نہیں آ رہا، اس قانون کے تحت کوئی کاروائی شروع ہوئی تو ہم دوبارہ عدالت سے رابطہ کریںگے.

    لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری کا کہنا تھا کہ 29 جولائی تاریخ ملی ہے اب، ایڈوکیٹ جنرل کہہ رہے تھے کہ ابھی کوئی متاثرہ نہیں، ہم نے چیزیں بنانی ہیں، جس پر عدالت نے کہا کہ میں تاریخ ڈال دیتا ہوں، یہ بڑا خوفناک کام ہے، 29 جولائی کو تمام درخواستیں اکٹھی کر کے سماعت ہوگی، عدالت نے کہا کہ تحریری جواب دیں،

    سینیٹ قائمہ کمیٹی میں عمران خان اور مراد سعید کا تذکرہ

    ہتک عزت ایکٹ،فریقین کو نوٹس جاری،سماعت 4 جولائی تک ملتوی

    لاہور ہائیکورٹ،ہتک عزت قانون کے خلاف دائر درخواست قابل سماعت قرار

    پاکستان تحریک انصاف کا ہتک عزت بل کے خلاف عدالت جانے کا اعلان

    قائم مقام گورنر کا ہتک عزت بل پر دستخط کرنا آزادی اظہار رائے پر پابندی کے مترادف ہے، امیر جماعت اسلامی

    ہتک عزت بل پر نظر ثانی کی ضرورت ہے ، یہ بل حرف آخر نہیں ہے، گورنر پنجاب

    ہتک عزت قانون،کوئٹہ پریس کلب کی تالہ بندی،صحافیوں کا ملک گیر احتجاج

    ہتک عزت بل 2024ء پنجاب اسمبلی میں منظور،اپوزیشن نے بل کی کاپیاں پھاڑ دیں

    ایمنڈ کا پنجاب ہتک عزت بل 2024 کے قیام پر شدید تحفظات کا اظہار

    لاہور پریس کلب نے پنجاب حکومت کا مجوزہ ہتک عزت قانون 2024 مسترد کر دیا

    گورنر پنجاب کو چاہیے پہلے ہتک عزت قانون پڑھیں پھر تبصرہ کریں: عظمیٰ بخاری

  • ملزم کو کسی کیس میں گرفتار نہ کیا جائے یہ کس قانون میں لکھا ؟ سپریم کورٹ

    ملزم کو کسی کیس میں گرفتار نہ کیا جائے یہ کس قانون میں لکھا ؟ سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ: سابق وزیراعلی پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کی غیر قانونی حراست کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    جسٹس طارق مسعود کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، وکیل لطیف کھوسہ نے عدالت میں کہا کہ
    میں نے چوہدری پرویز الٰہی کے خلاف مقدمات سے متعلق آگاہی کے لیے درخواست دائر کی تھی،پرویز الہی کو ایک کیس میں ضمانت ہوتی ہے دوسرے میں پکڑ لیتے ہیں۔

    دوران سماعت جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ پرویز الٰہی کیخلاف لاہور ہائیکورٹ نے ایم پی او کیس میں حکم دیا گرفتار نہ کیا جائے،اب جب اسلام آباد پولیس نے گرفتار کرلیا ہے تو لاہور ہائیکورٹ کیا کرے؟ لاہور ہائیکورٹ کیا حکم کر سکتا تھا،یہ نہ سمجھیں جو ہو رہا ہے اس سے ہمیں خوشی ہو رہی ہے،قانونی سوالات اٹھتے ہیں جن پر جواب دیں، لاہور ہائیکورٹ کیسے اسلام آباد میں درج ایف آئی آر ختم کر سکتی ہے؟

    جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملزم کو کسی کیس میں گرفتار نہ کیا جائے یہ کس قانون میں لکھا ہے۔اسلام آباد میں عدالت نے اس قسم کا آرڈر جاری کیا۔کیا عدالتیں ملزم کو جرم کرنے کا لائسنس دے رہی ہے۔ہم نے اور ان ججز نے بھی قانون کے تحفظ اٹھایا ہے۔فیصلہ دیا جاتا اب ملزم کی گرفتاری عدالت کی اجازت سے ہوگی۔وہ ملزم ضمانت پر رہا کرکے دو بندے قتل کردے پولیس کچھ نہ کرے۔پولیس کیا ملزم کے سامنے ہاتھ جوڑ کر پہلے عدالتی اجازت لے پھر گرفتار کرے۔

    وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ یہ بھی مذاق ہے ضمانت کے بعددوسرے کیس میں پھر گرفتار کر لیتے ہیں۔جسٹس سردار طارق مسعود نےکہا کہ یہ مذاق تو ستر سال سے ہو رہا ہے۔آپ قانون کا بتائیں قانون کیا کہتا ہے۔ وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہمارےساتھ وہ ہورہاہےجیسے کشمیرمیں ہوتاہے ،جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کشمیرکی بات نہ کریں، کشمیرمیں بھارتی فوج قابض ہے،وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ تو ہمارےساتھ ویساسلوک نہ کریں ناں،کپڑوں کےبغیر آکراغواکرلیاجاتا ہے،جسٹس سردار طارق مسعود نے کہا کہ دن کو بغیر کپڑوں کے بغیر؟ وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ میرا کہنے کا مطلب ہے یونیفارم کے بغیر،

    جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ پرویز الٰہی قانونی طور پرحراست میں لئے گئے ہیں،لطیف کھوسہ نے کہاکہ ہائیکورٹ وہ آرڈر کر سکتی ہے جو سپریم کورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کیس میں کیا، جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ آپ گھڑی کو بہت پیچھے نہ لے جائیں، اسی کیس پر رہیں،لطیف کھوسہ نے کہاکہ اگر آپ کو اس کیس کو غیرموثر ہی کرنا ہے تو پاکستان کے مقدر کا خداحافظ ہے،جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ پاکستان کا مقدر چند لوگوں کے ہاتھ میں نہیں ہو سکتا،وکیل لطیف کھوسہ نے کہاکہ کیس کی سماعت کل یا پیر کورکھ لیں، جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ پیر کو تو پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف کیس ہوگا،جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ سادہ سا کیس ہے آپ ہمیں غیرمتعلقہ معاملات میں الجھانا چاہتے ہیں،عدالت قانون کے مطابق چلے گی،لطیف کھوسہ نے کہاکہ حقوق پامالی کی اجازت نہیں،25کروڑ عوام کے حقوق کا سوال ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ خود کیس کی تیاری کرکے نہیں آئے اور بات ہم پر ڈال رہے ہیں،معاون وکیل سردار عبدالرازق نے کہاکہ شیخ رشید کو بھی بوگس کیس میں پکڑ لیا گیا ہے،جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ زبانی باتیں نہ کریں شیخ رشید کا کیس ہمارے سامنے نہیں ہے،

    جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بھٹو صاحب کے دور میں ایف آئی آر دکھا کر گرفتاری کا قانون آیا،بھٹو صاحب کے دور میں یہ قانون ظہور الٰہی کیلئے آیا تھا،یہ تو لائسنس ٹو کرائم والی بات ہے، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ یہ ضمانتیں بنیادی حقوق کی خلاف ورزی پر ہو رہی ہیں،جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ پھر یہ قانون عام بندے کیلئے بھی رکھیں نا، سب کو یہ حق دیں،آج کل ہائیکورٹ میں بندہ پیش نہیں ہوتا اور ضمانتیں دے دی جاتی ہیں،قانون کے مطابق ملزم کو ضمانت کیلئے خود پیش ہونا پڑتا ہے،جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ ہائیکورٹ کس طرح ایک آرڈر سے تمام کیسز میں ضمانت دے رہی ہے؟یہ بتائیں کیا ہائیکورٹ ایسا حکم دے سکتی ہے کہ ایک شخص کو کسی کیس میں گرفتار نہ کرو؟جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ کیس غیرموثر ہو گیا تو کیسے آگے چلائیں،صرف دو سوالوں کے جواب دے دیں،

    عدالت عظمٰی نے وکیل لطیف کھوسہ سے دو سوالوں کے جواب طلب کرلئے، عدالت نے سوال کیا کہ کیا ہائیکورٹ کسی ملزم کو نامعلوم ایف آئی آر پر وسیع ریلیف دے سکتی ہے،حبس بے جا کی درخواست پر لاہور ہائیکورٹ مذید کیا کرسکتی ہے،وکیل پرویز الہیٰ نے کہا کہ مجھے تیاری کیلئے وقت دیں ،

    سابق وزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کی غیر قانونی گرفتاری سے متعلق کیس کی سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی کر دی گئی

  • فخر کی بات ہے ورکنگ جرنلسٹس کو قانونی تحفظ مل چکا ہے،مریم اورنگزیب

    فخر کی بات ہے ورکنگ جرنلسٹس کو قانونی تحفظ مل چکا ہے،مریم اورنگزیب

    سابق وفاقی وزیر مریم اورنگزیب نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بل میں ترمیم کی گنجائش نہیں تھی، پیمرا ترمیمی بل میں مزید بہتری کی گنجائش ہوئی تو لائی جا سکتی ہے،

    مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ تمام صحافتی تنظیموں کی وزیراعظم سے ملاقات ہوئی، وزیراعظم نے مجھے کہا کہ کسی میڈیا ورکر اور صحافی کو احتجاج کی نوبت نہ آئے، آپ اس بل کو دوبارہ پیش کریں،مریم نواز نے مجھے ٹیلیفون کر کے کہا کہ اس مسئلے کو حل کریں، میڈیا ورکرز نے اتحاد کا مظاہرہ کیا، ان کی ساری زندگی کی جدوجہد ایک طرف، تین دن کی جدوجہد ایک طرف ہے، پی آر اے سمیت تمام صحافی سیسہ پلائی دیوار کی طرح متحد ہو کر کھڑے ہوئے،پی آر اے، آر آئی یو جے، سی پی این ای، میڈیا ورکرز، کیمرہ مین ایسوسی ایشنز سب ورکنگ جرنلسٹس ہیں، ان سب کا شکریہ ادا کرتی ہوں انہوں میرا ساتھ دیا، اپنی انڈسٹری اور اپنے ورکرز کا ساتھ دیا، سب نے پیمرا بل کو اپنا بل سمجھ کر آواز بلند کی، آج پیمرا (ترمیمی) بل 2023ءحقیقت بن چکا ہے، آج ہم سب کے لئے ایک فخر کی بات ہے کہ ورکنگ جرنلسٹس کو قانونی تحفظ مل چکا ہے،

    مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ اس قانون کے بننے کی جس طرح آپ نے حفاظت کی، اسی طرح اس پر عمل درآمد کیلئے بھی متحد رہنا ہے، ہر دباﺅ کو برداشت کرتے ہوئے آئی ٹی این ای کا چیئرمین لگایا، وزیراعظم نے ہمیشہ کہا کہ میڈیا ورکرز کے مسائل کے حل میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں ہونی چاہئے،ہم نے پی آئی ڈی کے ڈائریکٹ چیک آئی ٹی این ای کو دیئے، وہاں سے ریکوریاں ہو کر ورکرز کو تنخواہوں کی ادائیگی ہوئی،اللہ تعالیٰ درگذر کرنے کا حکم دیتا ہے، ورکرز اپنے حقوق کو محفوظ بنانے کے لئے اتحاد کا مظاہرہ کریں،

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

  • پارلیمنٹ اجلاس،منشیات کے کاروبار پر سزائے موت ختم

    پارلیمنٹ اجلاس،منشیات کے کاروبار پر سزائے موت ختم

    ایک طرف یونیورسٹیوں میں منشیات کا کھلے عام استعمال، دوسری طرف حکومت کی جانب سے سزاؤں میں نرمی ،منشیات کے کاروبار پر سزائے موت کو عمر قید میں بدل دیا گیا

    پارلیمنٹ نے دو روز قبل مشترکہ اجلاس میں انسداد نشہ آور اشیاء ترمیمی بل 2022 منظور کر لیا ،بل کے ذریعے انسداد نشہ آور اشیاء ایکٹ 1997 میں ترامیم منظورکی گئیں،بل کے ذریعے سزائے موت کو عمر قید سے بدل دیا گیا ،انسداد نشہ آور اشیاء ایکٹ 1997 کے سیکشن 9 میں ترامیم منظورکی گئیں،انسداد نشہ آور اشیاء ایکٹ 1997 کے سیکشن کے سب سیکشن 3 اور سچ سیکشن 2 میں ترامیم کی گئیں،جماعت اسلامی کی جانب سے بل کی مخالفت کی گئی،سینیٹر مشتاق کا کہنا تھا کہ جامعات میں آئے روز منشیات کے آذادانہ استعمال کے واقعات رونما ہو رہے ہیں، وفاقی وزیر قانون کا کہنا تھا کہ سزاؤں کی سختی سے جرائم میں کمی نہیں لائی جا سکتی،

    جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ 6کلوگرام تک ہیروئن رکھنے، اس کی ترسیل کرنے والوں کے لیے پی ڈٰی ایم حکومت نے سزائے موت ختم کر دی۔ یہ سمگلروں کو ریلیف ہےاور یہ ملک دشمن قانون سازی ہے۔

    بادلوں کی وجہ سے طیارے راڈار میں نہیں آتے، بھارتی آرمی چیف کی مودی کے بیان کی تصد

    بھارتی ائیر فورس نے مقبوضہ کشمیر کے سرینگر ائیر بیس کے سینئر ترین ائر آفیسر کمانڈر کا تبادلہ کر دیا

    اپنا ہیلی کاپٹر گرانے والے بھارتی آفیسر کے ساتھ بھارت نے کیا سلوک کیا؟

    پاکستان کو دھمکیاں دینے والے بھارت کا ہیلی کاپٹر کیسے تباہ ہوا؟ جان کر ہوں حیران

    بریکنگ.بھارتی فضائیہ کا جنگی طیارہ تباہ، کیپٹن ہلاک

    بھارتی فضائیہ کا جنگی طیارہ تباہ،پائلٹ ہلاک، رواں برس کتنے طیارے تباہ ہو چکے؟

  • ترک صدرکی تصویر پر ہٹلر جیسی مونچھ کیوں بنائی؟ نوجوان گرفتار

    ترک صدرکی تصویر پر ہٹلر جیسی مونچھ کیوں بنائی؟ نوجوان گرفتار

    ترک صدر کی تصویر پر ہٹلر جیسی مونچھیں بنانے والے لڑکے کو گرفتار کر لیا گیا ہے،

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ترکی میں ابھی صدارتی الیکشن ہوئے ہیں اور رجب طیب اردگان صدر منتخب ہوئے ہیں، صدارتی مہم کے دوران ایک لڑکے نے ترک صدر کی ایک تصویر بنائی اور اس تصویر میں رجب طیب اردگان کی تصویر پر مونچھ ہٹلر کے مشابہہ بنائی ، جس پر اس نوجوان کو گرفتار کیا گیا اور اسے جیل میں ڈال دیا گیا،جس کے بعد ترکی کے کئی اخبارات نے لکھا کہ نوجوان نے رجب طیب کی مونچھ ہٹلر کے مشابہہ بنانے کے ساتھ توہین آمیز جملے بھی لکھ دیئے تھے،نوجوان کو سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے گرفتار کیا گیا ہے، دوران تحقیقات نوجوان نے اردگان کی مونچھ بنانے کا اعتراف بھی کر لیا ہے، تا ہم اس نے توہین آمیز جملے لکھنے سے انکار کیا ہے

    ترکی میں صدر کی توہین جرم ہے اور جو بھی توہین کرے گا، اس کم از کم چار برس کی سزا ملے گی، اگر جرم کرنے والا کم عمر ہے تو اسکی سزا نصف ہو سکتی ہے، 2021 کی ایک رپورٹ کے مطابق ترکی کی وزارت انصاف نے کہا تھا کہ ترکی میں ہر برس تقریبا پانچ لاکھ بچے اس قانون کی پکڑ میں آ جاتے ہیں، صدر کی توہین کی وجہ سے سولہ ہزار سے زائد افراد کو سزا سنائی جا چکی ہے اور کئی کیسزعدالتوں میں زیر سماعت ہیں

    2014 میں رجب طیب کے پہلی مرتبہ ترکی کے صدر منتخب ہونے کے بعد سے ان کی توہین کے الزام میں ایک لاکھ 60 ہزار سے زائد افراد سے تحقیقات کی جا چکی ہے، ان میں سے 45000 کے خلاف فرد جرم عائد کی گئی اور 13000 افراد کو قصوروار قرار دیا گیا

    لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات جاری
    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی