Baaghi TV

Tag: قبر

  • کیا قبرپر بھی ٹیکس لگایا جا رہا ؟ سینیٹر انوشہ رحمان کا ایف بی آر حکام سے سوال

    کیا قبرپر بھی ٹیکس لگایا جا رہا ؟ سینیٹر انوشہ رحمان کا ایف بی آر حکام سے سوال

    سینٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کاسینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت اجلاس ہوا

    اجلاس میں بچوں کے دودھ پر ٹیکس کا معاملہ زیر غور آیا، کاپی پینسل اور سٹیشنری آئٹمز پر بھی ٹیکسز پر غور کیا گیا،سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ سول اور کریمینل کیسز کیلئے الگ قانون بنایا جائے ،ایف بی آر حکام نے کہا کہ جرمانہ کی رقم کی ادائیگی میں تاخیر پر کائیبور پلس 3 شرح سود عائد ہو گی،کمیٹی نے تجویز کی منظوری دیدی ، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ پاکستان میں ہر آدمی کا بینک اکاؤنٹ نہیں ہے،جب تک سب لوگوں کے بینک اکاؤنٹ نہیں ہوں گے اس وقت تک معیشت کو دستاویزی شکل دینا مشکل ہے ،ایف بی آر حکام نے کہا کہ
    بچوں کے فارمولا دودھ پر 18 فیصد جی ایس ٹی لگایا جا رہا ہے،اسٹیشنری آئٹمز پر 10 فیصد جی ایس ٹی لگایا جا رہا ہے،مختلف اشیاء پر چھوٹ ختم کرنے سے 107 ارب روپے آمدن ہوگی،آئی ایم ایف کے ساتھ پروگرام کے لیے ٹیکس چھوٹ ختم کی جا رہی ہے،آئی ایم ایف نے 749 اشیاء پر ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا،دودھ اور بچوں کے دودھ پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے،ضرورت مندوں کو نقد امداد فراہم کی جائے گی،دودھ پر ٹیکس بڑھانے سے 40 ارب کا ریونیو آئے گا،پینسل کاپیوں سٹیشنری پر ٹیکس بڑھانے سے 7 ارب روپے ریونیو آئے گا

    بچوں کے دودھ پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کی تجویز مسترد
    پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحما ن نے کہا کہ ملک میں 40 فیصد سٹنٹنگ ریٹ ہے دودھ پر سیلز ٹیکس بڑھانے زیادتی ہے ،اس پر کوئی مشاورت نہیں کی کئی،انوشہ رحمان نے کہا کہ یہ تجویز ظالمانہ ہے،کمیٹی نے بچوں کے دودھ پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کی تجویز مسترد کردی

    کھلے دودھ کا نرخ ایف بی آر حکام قائمہ کمیٹی میں نہ بتا سکے
    سینیٹر انوشے رحمان نے ایف بی آر حکام سے سوال کیا کہ کھلے دودھ کا ریٹ کیا ہے؟ کمیٹی اجلاس میں ایف بی آر حکام کھلے دودھ کا نرخ نہ بتا سکے، ایف بی آر حکام کا کہنا تھا کہ "ہم نے کبھی کھلا دودھ نہیں خریدا”سینیٹر انوشے رحمان نے کہا کہ اس وقت مرغی کا ریٹ کیا ہے؟بازار جایا کریں دودھ اور مرغی خریدا کریں،آپ یہ چیزیں خریدیں گے تو آپ میں ہمدردی پیدا ہوگی،جب آپ بھی یہ چیزیں نہیں خرید سکیں گے تب آپ کو احساس ہوگا.

    اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر انوشہ رحمٰن نے ایف بی آر حکام سے پوچھا کہ کیا قبر پر بھی ٹیکس لگایا جا رہا ہے؟ اس دوران فاروق ایچ نائیک بھی بولے اور کہا کہ ابھی آئی ایم ایف کو اس کا پتہ نہیں، کراچی میں قبر کھودنے والے گورکن پر بھی ٹیکس لگنا چاہیے، آئی ایم ایف کے دباؤ پر ہر چیز پر ہی ٹیکس لگایا جا رہا ہے۔

    سینیٹر اخونزادہ چٹان نے سینیٹ کی خزانہ کمیٹی میں تجاویز دیتے ہوئے کہا کہ فاٹا و پاٹا میں ٹیکس چھوٹ کا غلط استعمال ہوتا ہے، ایف بی آر فاٹا و پاٹا کے لیے ٹیکس چھوٹ کی مخالفت کرتا ہے، ان علاقوں کو انڈسٹری دیں تاکہ سرمایہ دار ترقی کریں، فاٹا و پاٹا کے لیے چار سے 5 سالہ پلان ہونا چاہیے،چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ ٹیکس چھوٹ کا فائدہ فاٹا کو نہیں ہوتا، فاٹا کو ٹیکس چھوٹ کا فائدہ صرف چند لوگوں کا ہوتا ہے،سینیٹر اخونزادہ چٹان نے کہا کہ وہاں اسٹیل میں ٹیکس چھوٹ کا غلط استعمال ہوتا ہے، فاٹا میں ان پٹ پر 6 فیصد کے بجائے 3 فیصد ٹیکس کر دیا جائے۔

    بھارتی فوجی افسران اور سائنسدان عورتوں کے "رسیا” نکلے

    چڑیل پکی مخبری لے آئی، بابر ناکام ترین کپتان

    محافظ بنے قاتل،سیکورٹی گارڈ سب سے بڑا خطرہ،حکومت اپنی مستی میں

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

    شیر خوار بچوں کے ساتھ جنسی عمل کی ترغیب دینے والی خاتون یوٹیوبر ضمانت پر رہا

    مردانہ طاقت کی دوا بیچنے والے یوٹیوبر کی نوکری کے بہانے لڑکی سے زیادتی

    پاکستان کی جانب سے دوستی کا پیغام اور مودی کی شرانگیزیاں

    پاکستان کرکٹ مزید زبوں حالی کا شکار،بابر ہی کپتان رہے،لابی سرگرم

  • 5 روز قبل دفن کئے گئے چھ ماہ کے بچے کی لاش قبر سے غائب

    5 روز قبل دفن کئے گئے چھ ماہ کے بچے کی لاش قبر سے غائب

    پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں قبر سے چھ ماہ کے بچے کی لاش غائب ہو گئی

    واقعہ لاہو ر کے علاقہ باغبانپورہ کا ہے، مومن پورہ قبرستان میں چھ ماہ کے بچے کی 17 جون کو تدفین کی گئی تھی، بعد میں اہلخانہ قبرستان گئے تو قبر کھلی تھی اور بچے کی لاش نکال لی گئی تھی،اہلخانہ نے پولیس کو اطلاع دی، پولیس حکام کے مطابق تحقیقات کر رہے ہیں،بچے کے والد ناصر نے قانونی کارروائی کے لیے تھانا باغبانپورہ میں درخواست دے دی ہے۔والدین کا کہنا ہے کہ بچے کی لاش کسی نے نکالی ہے کاروائی کی جائے، قبرستان کا گورکن اس ضمن میں بے خبر ہے تا ہم پولیس کا کہنا ہے کہ گورکن سے بھی تحقیقات کی جائے گی.

  • پاکستان کیخلاف بھارتی میڈیا کا من گھڑت پروپیگنڈا بے نقاب

    پاکستان کیخلاف بھارتی میڈیا کا من گھڑت پروپیگنڈا بے نقاب

    لاہور: بھارتی میڈیا نے پاکستان مخالفت جعلی خبروں اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی آشیرباد کے لیے مسلمان مخالف پروپیگنڈے میں سب کو پیچھے چھوڑ دیا تاہم بھارتی میڈیا کا من گھڑت پروپیگنڈا خود بھارتی صحافی محمد زبیر نے بے نقاب کردیا۔

    باغی ٹی وی : حال ہی میں ایک تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک قبر کے اوپر لوہے کی جالی ہے اور اس پر تالا لگا ہوا ہے۔ اس تصویر کو لے کر الزام لگایا گیا کہ یہ قبر پاکستان میں ہے جہاں والدین اپنی بیٹیوں کی قبروں کو تالے لگاتے ہیں تاکہ ان کی لاشوں کو زیادتی سے بچایا جا سکے۔


    اس تصویر کو کئی بڑے بھارتی اشاعتی اداروں اے این آئی، دی ٹائمز، نیوز 18، ٹائمز آف انڈیا ،دی پرنٹ، ٹائمزناؤ اور این ڈی ٹی وی سمیت دیگر چینلز نے بھی خوب اچھالا ہے۔


    https://twitter.com/jihadwatchRS/status/1652357266337587206?s=20
    تاہم بھارت کے مسلمان صحافی اور آلٹ نیوز کے شریک بانی محمد زبیر نے پاکستان کے خلاف من گھڑت پروپیگنڈے کو بے نقاب کردیا۔

    پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کے طور پر استعمال کی جانیوالی اس تصویر کے مشکوک دعوے کی سچائی تلاش کرنے کے لیے جب گوگل میپس/اسٹریٹ ویو سروسز کا استعمال کرتے ہوئے تصویر کو کراس چیک کیا گیا تو معلوم ہوا ہے کہ پاکستان کو نشانہ بنانے کے لیے جو تصویر استعمال کی جا رہی ہے وہ دراصل بھارت کے شہر حیدرآباد میں واقع قبرستان کی ہے۔
    https://twitter.com/ashoswai/status/1652691199134670849?s=20
    آلٹ نیوز کے مطابق یہ قبر بھارتی شہر حیدرآباد کے علاقے دراب جنگ کالونی مدنا پیٹ، حیدرآباد، انڈیا میں واقع مسجد سالار ملک کے سامنے مقامی قبرستان میں موجود ہے۔


    آلٹ نیوز نے مقامی سماجی کارکن عبدالجلیل کو قبرستان بھیج کرقبر کی تصدیق کی، ویڈیو میں مقامی مسجد کے ذمہ دار نے بتایا کہ یہ قبر ڈیڑھ دو سال پرانی ہے اور یہ قبر کمیٹی کے ذمہ داروں کی اجازت کے بغیر راستے میں بنائی گئی جس سے آنے جانے کا رستہ بھی تنگ ہوگیا پرانی قبروں میں مردے دفنانے کے باعث لواحقین نے قبر پر جالی ڈالی ہے تاکہ کوئی قبر میں دوسرا مردہ دفن نہ کرسکے۔

  • "سکون صرف قبر میں ہے”   — اعجازالحق عثمانی

    "سکون صرف قبر میں ہے” — اعجازالحق عثمانی

    ڈربہ نما گھروں پر مشتمل یہ ہمارے ملک کا ایک بہت بڑا شہر ہے۔ گلی کے نکڑ پر لگا فلٹریشن پلانٹ یہاں کے باسیوں کو صاف پانی مہیا کرنے کےلیے لگایا گیا ہے۔ پلانٹ کے گرد مکڑی کے جالے فلٹریشن پلانٹ کو سیکورٹی مہیا کررہے ہیں۔ فلٹریشن پلانٹ کے عین سامنے ابلتا گٹر اور ایک کیچڑ زدہ نالی ہے ۔جہاں رہائش پذیر مچھر پڑوس میں قائم ایک ہاسپٹل کےلیے مریض مہیا کرنے میں رات دن مصروف ہیں۔اس شہر میں کچرے کے انبار اور ملک کے اخبار تعداد میں مساوی ہیں۔ یہاں کچرا اُٹھانے اور ہٹانے سے زیادہ تجاوزات ہٹانے کا عمل جاری رہتا ہے۔

    شہر کے وسط میں رکشوں کی پھٹ پھٹ۔۔۔۔۔۔کان کے پردے پھاڑتے ٹھیلے والوں کے سپیکرز، اور مسلسل ہارن کی آوازوں سے الجھا دماغ۔۔۔۔۔۔ دھواں چھوڑتی گاڑیاں، بغیر سائلنسر کے بائیکس سڑکوں پر نکلتے ہی آپ کا منہ سر ایک کر دیتے ہیں۔ شہروں کے گھٹن بھرے ماحول اور آلوگی سے لبریز آب و ہوا میں سکون کا حصول تو ممکن نہیں ہے۔شاید”سکون صرف قبر میں ہے”

    گھبرائیے بغیر، آئیے اسی شہر کے کسی دوسرے حصے کی طرف چلتے ہیں۔ یہاں چنگچی رکشے، پرانی کاریں ناپید ہیں۔ موٹر سائیکل بھی خال خال نظر آتے ہیں۔ سڑکیں برف کی طرح صاف ستھری ہیں۔ یہاں ہر طرف بنگلہ نما بڑے بڑے گھر ہیں۔ نئے طرز اور ماڈلز کی گاڑیاں بغیر دھول اڑائے یہاں سڑکوں پر اڑتی نظر آتی ہیں۔ بڑے مالز، چمکتے فروٹ (شاید ان دکانوں پر فروٹ خراب ہی نہیں ہوتے؟) ۔۔۔۔شیشے کے پار مکھیوں سے کوسوں دور گوشت۔۔۔۔۔۔۔ اور ان سب جگہوں پر منظم طریقے سے خریداری کرتے لوگ۔ انہی مالز کے بلکل قریب دو چار بڑے بڑے ہسپتال بھی ہیں۔ معیاری خوراک کی دستیابی کے باوجود یہاں کے ہسپتالوں میں دل، گردے اور پھیپھڑوں کے مریضوں کا بہت رش رہتا ہے۔ سکون یہاں بھی نا پید ہے۔

    آئیے اب اس شہر سے دور چلتے ہیں۔ یہاں کچے مکانوں میں لوگ بیٹھے گپ شپ میں مشغول ہیں۔ شدید گرمی ہے۔ بجلی پچھلے چھ گھنٹوں سے بند ہے۔ایک معروف فلمی گیت ہے،

    گوری تیرا گاؤں بڑا پیارا میں تو گیا مارا، آ کے یہاں رے
    اس پر روپ تیرا سادا چندرما جیوں آدھا، آدھا جواں رے

    جی کرتا ہے مور کے پاؤں میں پائلیا پہنا دوں
    کوہو کوہو گاتی کوئلیا کو پھولوں کا گہنا دوں

    یہیں گھر اپنا بنانے کو پنچھی کرے دیکھو
    تنکے جمع رے، تنکے جمع رے

    اس پر روپ تیرا سادا چندرما جیوں آدھا، آدھا جواں رے
    گوری تیرا گاؤں بڑا پیارا میں تو گیا مارا، آ کے یہاں

    "۔۔۔۔میں تو گیا مارا ، آکے یہاں” یہ بات اس فلمی گیت میں شاید اب کے گاؤں کے لیے کہی گئی ہے۔یہاں شہروں کے طرح ٹھیلے والوں کے سپیکرز کی آوازیں تو دماغ کو بے سکون نہیں کرتیں۔مگر کبھی کبھار سائیکل سوار آوازیں لگاتا گاؤں میں پھرتا پایا جاتا ہے۔

    یہاں ضروریات زندگی کی بیشتر اشیاء ناپید ہیں ۔مگر ایک نکڑ پر مکیھوں کی نگرانی میں سموسے تیار ہورہے ہیں۔یہاں چوہدریوں، وڈیروں اور جاگیر داروں کا راج ہوتا ہے جو ادھر کے لوگوں کو اپنی رعایا سمجھ کر ان کی جان، مال اور عزت کا خوب استحصال کیا جاتا ہے۔

    یہاں نہ تو پکی سڑکیں ہیں۔ اول تو تعلیمی ادارے ہیں ہی نہیں اور جہاں ہیں وہاں صرف ادارے ہیں تعلیم نہیں ۔ڈسپنسریز و ہیلتھ مراکز بھی عملے کے بغیر ہی ہوتے ہیں۔ مگر نیم حکیم اور عطائی ڈاکٹروں کی ادھر بھرمار ہوتی ہے ۔غرض یہ کہ مصیبتیں بال کھولے چوبیس گھنٹے یہاں تعینات رہتی ہیں۔ خستہ حال سڑکیں، بند نالیاں اور ان میں بیٹھے مچھر ہر آتے جاتے کو لازماً یوں کاٹ رہے ہیں کہ جیسے حکومت نے اس دیہات کے لوگوں کو کورونا ویکسین لگانے کی ذمہ انکو دے رکھی ہو۔ مچھروں کے باعث بیماریاں یہاں بھی پھوٹ پھوٹ پڑتی ہیں۔ادھر بھی ایسا لگتا ہے کہ "سکون صرف قبر میں ہے”.

    مگر!

    اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
    مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے

  • قبر کی کھدائی کرنے والے گرفتار

    قبر کی کھدائی کرنے والے گرفتار

    قصور
    نواحی گاؤں میں سونے کے لالچ میں ملزمان نے دربار بابا غریب شاہ کی قبر کھود ڈالی ،ملزمان گرفتار
    تفصیلات کے مطابق قصبہ دولے والا کے نواحی گاٶں کوٹلی پٹھاناں والی میں چار افراد نےمزار بابا غریب شاہ کی قبر کھود دی اور دوران کھدائی دیہاتیوں کے ہتھے چڑھ گئے جنہیں تھانہ صدر پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے
    دوران تفتیش ملزمان نے بتایا کہ انہوں نے جعلی پیر کے کہنے پرسونا نکالنے کے لالچ میں قبر کھودی اور دوران
    کھودائی مقامی دیہاتیوں کے ہتھے چڑھ گٸے
    ملزمان میں وقاص،ندیم ،ساجد اور اللہ دتہ شامل ہے جو کہ قصور شہر کے رہائشی ہیں
    دیہاتیوں نے چاروں ملزمان کو تھانہ صدرپولیس کے حوالے کر دیا جن سے مذید تفتیش جاری ہے

  • قبرستان میں قبریں،مکانوں کی چھتیں گر گئیں

    قبرستان میں قبریں،مکانوں کی چھتیں گر گئیں

    قصور
    شدید برسات کا سلسلہ جاری ،سڑکیں دریا بن گئیں،ندی نالوں میں طغیانی کمزور اور کچی چھتیں گر گئیں
    تفصیلات کے مطابق کل دوپہر سے قصور اور گردونواح میں برسات کا سلسلہ جاری ہے تیز بارش کے ساتھ تیز ہوا بھی چل رہی ہے جس سے کئی درخت کر گئے ہیں جبکہ مسلسل بارش کی بدولت کچی اور کمزور چھتیں گر گئی ہیں تاہم ابھی تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں بغیر وقفے سے برسات کی بدولت سڑکیں دریا کا منظر پیش کر رہی ہیں
    چند ایک قبرستانوں میں پانی کھڑا رہنے سے قبریں بیٹھ گئیں ہیں
    شدید بارش سے مزدور طبقے کا مالی نقصان ہو رہا ہے جبکہ کسانوں کے لئے بارش بہت بڑی نعمت ہے جس کی وجہ دھان کی جاری بوائی ہے