Baaghi TV

Tag: قتل عام

  • تربت میں کمرے میں سوئے چھ مزدور قتل

    تربت میں کمرے میں سوئے چھ مزدور قتل

    تربت میں افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے، نامعلوم افراد کی فائرنگ سے چھ مزدوروں کی موت ہو گئی ہے جبکہ دو افراد زخمی ہو گئے ہیں، مرنے والوں کا تعلق پنجاب سے بتایا جا رہا ہے،

    تعمیراتی کمپنی میں کام کرنے والے مزدور اپنے کمرے میں سو رہے تھے، اسی دوران نامعلوم موٹرسائیکل سواروں نے ان پر فائرنگ کی اور فرار ہو گئے، فائرنگ کے نیتجے میں چھ افراد کی موت ہو گئی ہے، اطلاع پر پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی، لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے،

    پولیس کاکہنا ہے کہ جاں بحق ہونیوالے مزدوروں کاتعلق پنجاب سے ہے،جاں بحق افراد کے نام رضوان، شہباز، وسیم، شفیق احمد، محمد نعیم اور سکندر ہیں جبکہ غلام مصطفیٰ اور توحید زخمی ہیں، مقتولین 6 میں سے 4 افراد ایک ہی خاندان کے تھے، مقتولین میں 2 سگے بھائی، ایک کزن اور ماموں شامل ہیں.

    کسی بلوچ نے پنجابی نہیں بلکہ دہشت گردوں نے پاکستانی شہید کئے ،نگران وزیر داخلہ
    نگران وزیر داخلہ سرفراز احمد بگٹی نے تربت میں چھ مزدوروں کے اندوہناک قتل کی شدید مذمت کی اور کہا کہ کسی بلوچ نے پنجابی نہیں بلکہ دہشت گردوں نے پاکستانی شہید کئے ہیں، لواحقین سے اظہار تعزیت و ہمدردی، شہدا کی بلندی درجات کیلئے دعا کرتا ہوں،

    نگران وزیر اعلی بلوچستان نے تربت میں بے گناہ مزردوں کے قتل کانوٹس لے لیتے ہوئے انتطامیہ سے رپورٹ طلب کرلی نگران وزیر اعلی کاکہنا تھا کہ یہ واقعہ قابل مذمت ہے، بے گناہ مزردوں کے قتل پر دلی دکھ ہوا، واقعہ کی تمام پہلوں سے تحقیقات کرکے فوری رپورٹ پیش کی جائے انہوں نے ہدایت کی کہ واقعہ میں ملوث عناصر کی گرفتاری کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں

    نگران وزیر اطلاعات بلوچستان جان اچکزئی کا کہنا تھا کہ تربت میں بے گناہ پاکستانیوں کے ساتھ افسوسناک واقعہ کی پرزور مذمت کرتے ہیں .ریاست کے اقدامات سے پریشان ہوکر دشمن قوتیں انتشار بد امنی کے مذموم عزائم پر اتر آئی ہیں .پاکستان دشمن قوتیں بلوچستان میں نفرت کی آگ پھیلانے میں ہمیشہ ناکام رہی ہیں .بلوچستان میں بسنے والے بلوچ پشتون یا پنجابی سمیت تمام شہری پاکستانی ہیں اور ان کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے.دہشتگرد قاتلوں کو پیچھا کیا جائے گا خواہ وہ پہاڑوں یا زیر زمین کہیں بھی چھپے ہونگے اور انہیں نشان عبرت بنایا جائے گا .ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ہمیشہ دشمن کی سرکوبی کی ہے.ہم شہدا کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور انہیں یقین دلاتے ہیں کہ خون ناحق کا بدلہ لیا جائے گا،

    اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے تربت میں مزدوروں پر فائرنگ کی مذمت کی ہے اسپیکر نے فائرنگ سے جان بحق ہونے والے افراد کے درجات کی بلندی اور سوگوار خاندانوں کو اس ناقابل تلافی نقصان کو برداشت کرنے کے لیے صبر جمیل عطاء فرمانے کی دعا کی ہے،

    نیشنل پارٹی نے تربت میں مزدوروں کے قتل کی شدید الفاظ میں مزمت کرتے ہوئے اسے انسانیت دشمن اقدام قرار دیا۔ بیان میں عام اور بے قصور نہتے مزدوروں کو بے دردی سے قتل کرنے کے عمل کوافسوسناک اقدام قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ریاست ایسےگھناؤنے جرائم کے درپردہ حقائق کو بے نقاب کرکےمجرموں کو فوری گرفتار کرکے قرار واقع سزا دینے کے لیئے اقدامات کرے۔ مزدور اور نہتے افراد کے قتل کی جس قدر مزمت کی جائے کم ہے انسانی حقوق اور دیگر انصاف پسند تنظیموں کو انسانیت دشمن اقدامات کے خلاف اپنی آواز بلند کرنا چاہیے تاکہ عام لوگوں کو انصاف مل سکے۔ حکومت زخمی افراد کے علاج کو یقینی بنائے اور متاثرہ خاندانوں کی مدد کریں.

    ایک ہزار سے زائد خواتین، ایک سال میں چار چار بار حاملہ، خبر نے تہلکہ مچا دیا

    ایک برس میں 10 ہزار سے زائد کسانوں نے کس ملک میں خودکشی کی؟

    فرار ہونیوالے ملزمان میں سے کتنے ابھی تک گرفتار نہ ہو سکے؟

    طالب علم سے زیادتی کر کے ویڈیو بنانیوالے ملزم گرفتار

    ملازمت کے نام پر لڑکیوں کی بنائی گئیں نازیبا ویڈیوز،ایک اور شرمناک سیکنڈل سامنے آ گیا

    200 سے زائد نازیبا ویڈیو کیس میں اہم پیشرفت

    شادی کے جھانسے میں آ کر تعلق قائم کر لیا، اب بلیک میل کیا جا رہا،سٹیج اداکارہ

    کراچی دھماکہ،باغی ٹی وی بیورو آفس کے شیشے ٹوٹ گئے

    تربت واقعہ، ایس پی معطل، لاشوں کوخصوصی ہیلی کاپٹرکے ذریعے کوئٹہ منتقل کیا جا رہا
    حکومت بلوچستان نے تربت واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ علاقے کے ایس پی کو معطل کر دیا ہے جبکہ واقعہ میں شہید ہونے والے مزدوروں کی لاشوں اور علاقے میں موجود ان کے لواحقین کو وزیر اعلیٰ بلوچستان کے خصوصی ہیلی کاپٹر اور طیارے کے ذریعے کوئٹہ منتقل کیا جاررہا ہے ، سرکاری اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ نگران وزیر اعلیٰ بلوچستان میر علی مردان خان ڈومکی نے اس واقعہ کا سختی سے نوٹس لیا ہے اور ہفتہ کی علی الصبح سے ہی نگران وزیر اعلیٰ بلوچستان تربت کی ڈویژنل اور ضلعی انتظامیہ سے رابطے میں ہیں نگران وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر حکومت بلوچستان کا ہیلی کاپٹر اور طیارہ میتوں ان کے لواحقین اور زخمیوں کو کوئٹہ منتقل کرنے کے لئے تربت پہنچ چکے ہیں جہاں سے انہیں آج صوبائی دارالحکومت کوئٹہ منتقل کیا جائے گا اور کل علی الصبح انہیں ملتان بھیجوایا جائے گا اس ضمن میں حکومت بلوچستان حکومت پنجاب ، کمشنر ملتان ڈویژن عامر خٹک ،ضلعی انتظامیہ ملتان سے رابطے میں ہے زخمی مزدوروں کو بہتر سے بہتر علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی جائیں گی اور جاں بحق مزدوروں کی میتوں کو سرکاری سطح پر وزیر اعلیٰ بلوچستان کے خصوصی ہیلی کاپٹر میں منتقل کیا جائے گا جس کے لئے تمام تر انتظامات مکمل کرلئے گئے ہیں حکومت بلوچستان کی جانب سے اس افسوسناک واقعہ کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم جاری کر دیا گیا ہے ہنگامی اقدامات کے تحت تمام تر منتقلی کے امور کو سنجیدگی سے دیکھا جاررہا ہے اور انتظامی سطح پر پوری توجہ سے معاملات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جاررہا ہے ، حکومت بلوچستان دکھ کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہے اور انتظامی سطح پر میتوں کی منتقلی کے بنیادی امور سمیت زخمی مزدوروں کے علاجِ معالجے کے اقدامات میں تمام تر دستیاب وسائل بروئے کار لائے جاررہے ہیں حکومت بلوچستان کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اس واقعہ کے زریعے پاکستان میں بسنے والی برادر اقوام کے مابین نفرتیں پیدا کرنے کی سازش کی گئی ہے جو کسی طور پر کامیاب نہیں ہوگی ، واقعہ میں ملوث عناصر سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا اور واقعہ کے محرکات تک پہنچ کر ملوث عناصر کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا

  • بھارتی حکومت مسلمانوں کی نسل کشی میں  مصروف عمل ہے— عبدالحفیظ چنیوٹی

    بھارتی حکومت مسلمانوں کی نسل کشی میں مصروف عمل ہے— عبدالحفیظ چنیوٹی

    بدقسمتی سے اس وقت بھارت میں جہاں ایک طرف ہندتوا نظریات کا پرچار زد عام ہے وہیں دوسری طرف اسلاموفوبیا کی بڑھتی ہوئی لہر بھی تشویش ناک ہے- بھارت میں مقدس گائے،حجاب، لو جہاد اور گھر واپسی کے نام پر ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت مسلمانوں کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے-

    موجودہ بھارت میں عوامی سطح پر مسلمانوں کے خلاف نفرت اور اشتعال انگیزی پر مبنی گفتگو کو فروغ دیا جا رہا ہے- مسلمانوں کے خلاف منفی پروپیگنڈا، غلط معلومات اور فیک نیوز کی بنیاد پر ہتھیاروں سے لیس جتھوں کو مسلمانوں پر تشدد اور قتل عام کیلئے اکسایا جاتا ہے- عام سیاسی اور مذہبی اجتماعات کے علاوہ مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز جیسا کہ وٹس ایپ، فیس بک، ٹوئٹر وغیرہ پر ویڈیوز اور میسیجز کی صورت میں نفرت انگیز مواد کی بھر مار ہے-

    نفرت انگیز تقاریر اور گفتگو کی سب سے بڑی حالیہ مثال 17 تا 19 دسمبر 2021ء کو ہونے والے ہری دوار شہر میں ہندو انتہا پسندوں کے ایک اجتماع دھرم سنسد میں ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے مسلمانوں کے قتل عام پر ابھارنے کی ہے-

    بلکہ ایک انتہا پسند ہندو خاتون رہنما نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مسلم دشمنی اور مذہبی منافرت و تعصب کا ثبوت دیتے ہوئے یہاں تک کہا کہ:

    ’’چندسو ہندو اگر مذہب کے سپاہی بن کر 20 کروڑ مسلمانوں کو ہلاک کر دیں تو وہ فاتح بن کر ابھریں گے- اس خاتون رہنما نے اپنی تقریر میں واضح کیا کہ ایسا کرنے سے ہندو مت کی اصل شکل ’’سناتن دھرم‘‘ کو تحفظ حاصل ہو گا‘‘-

    مزید تقاریر میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر 20لاکھ مسلمانوں کا قتل عام کردیا جائے تو بقیہ مسلمان بے چوں و چرا ’ہندو راشٹر‘ تسلیم کر لیں گے- مسلسل 3 دن اس اجتماع میں کھلے عام مسلمانوں کے قتل عام کیلئے تقاریر کی جاتی رہیں لیکن کسی نے کوئی ایکشن نہیں لیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ ہندتوا سرکار کی مرضی سے ہورہا تھا-

    ان اعلانات کے بعد مسلمانوں کے خلاف تشدد اور انتہا پسندی نے مزید شدت اختیار کی جس کی سب سے خوفناک مثال جہانگیرپوری میں ہنومان جینتی کے دن پرتشدد ہجوم کو ان جگہوں سے گزرنے دیا گیا جہاں زیادہ تر مسلمان رہتے ہیں- ہاتھوں میں تلوار، دیگر تیز دھار دار ہتھیاروں، پستول لہراتے ہوئے اور مسلمانوں کو گالی دیتے ہوئے اس پرتشدد ہجوم نے نماز کے وقت مسجد کے سامنے ہنگامہ برپا کیا-

    یہ بات دنیا سے ڈھکی چھپی نہیں کہ 2014 ءکے بعد جب سے بی جے پی برسرِ اقتدار آئی ہے تب سے مسلم مخالف جذبات میں بھی شدت دیکھنے کو ملی ہے-

    2014ء کے بعد 2019ء میں دوبارہ نریندر مودی کا وزیر اعظم منتخب ہونا اور اسی طرح 2017ء کے بعد 2022ء میں بھارت کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں ہندو انتہا پسند اور کٹر مسلم مخالف یوگی آدتیہ ناتھ

    (جس کو مرکز میں مودی کے متبادل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے)

    کے دوبارہ وزیر اعلیٰ بننے سے واضح ہوتا ہے بھارت مکمل طور ہندو راشٹر بننے کی جانب گامزن ہے- حالیہ 5 میں سے 4 ریاستوں اترپردیش، اتراکھنڈ، منی پور اور گوا میں بھارتیہ جنتا پارٹی اقتدار میں واپس آگئی ہے- عام طور پر یہی تاثر اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس فتح سے مسلمانوں کے حالات مزید بدتر ہونگے-

    بھارت میں ریاستی انتخابات سے قبل یہ تاثر زد عام تھا کہ اگر مخصوص قسم کا زعفرانی رنگ کا لباس پہننے والے یوگی آدتیہ ناتھ خصوصاً اتر پردیش میں دوبارہ اقتدار میں آتے ہیں تو مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں کے خلاف مبینہ ظلم و تشدد کا سلسلہ تیز ہو جائے گا- اگر ان کے پچھلے پانچ سالہ مسلم مخالف اقدامات کا ذکر کریں تو ان میں گائے کے ذبیحہ پر پابندی، لو جہاد، گھر واپسی اور بین المذاہب شادیوں پر پابندی نمایاں ہے- ان کے 5 سالہ دورِ اقتدار میں مسلمانوں پر مشتعل ہجوم کے ہاتھوں تشدد اور ان کے خلاف نفرت بھری تقاریر سر عام ہوتی رہی ہیں- مغل دور کا تعمیر شدہ تاج محل اور بابری مسجد سے نفرت یوگی آدتیہ ناتھ کی مسلم مخالف جذبات کی ایک چھوٹی سی مثال ہے-

    نریندرا مودی کی مرکزی حکومت کے مسلم مخالف سینکڑوں واقعات میڈیا میں رپورٹ ہو چکے ہیں- جن میں نمایاں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد غیر قانونی اور غیر انسانی کرفیو کا نفاذ اور شہریت ترمیمی قانون کے تحت 30 لاکھ مسلمانوں کی بے دخلی کی راہیں ہموار کرنا شامل ہیں-

    یہ حقیقت ہے کہ آج نفرت اور انتہا پسندانہ سوچ کی وجہ سے بھارتی معاشرہ تقسیم ہوچکا ہے- سخت گیر ہندو آئے روز عوامی جلسوں میں مسلمانوں کا سیاسی، سماجی، معاشرتی اور معاشی سطح پر بائیکاٹ کا اعلان کر رہے ہیں-سوشل میڈیا پر موجود ویڈیوز میں واضح طور پر سنا جا سکتا ہے کہ ایک مجمع عام سے عہد لیا جا رہا ہے کہ :

    ’’ہم آج سے عہد کرتے ہیں کہ ہم مسلمانوں کی دکانوں سے کسی قسم کا کپڑا، جوتا اور دیگر سامان نہیں خریدیں گے اور نہ ہی انہیں کسی قسم کا سامان فروخت کریں گے‘‘-

    بھارت میں سوچی سمجھی سازش کے تحت ایک بیانیہ ’’ہندو خطرے میں ہیں‘‘ کو فروغ دے کر مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں کے گرد گھیرا تنگ ہو چکا ہے- اس بیانیے پر کئی سوالات اٹھتے ہیں جن میں ایک سوال یہ قابل غور ہے کہ 15 فیصد والی اقلیت سے اکثریت کو کیا خطرات لاحق ہو سکتے ہیں؟ اسی بیانیہ کو فروغ دے کر بھارت میں اسلاموفوبیا کے واقعات تیزی سے بڑھ رہے ہیں- حالیہ دنوں میں بھارت کی 9 ریاستوں میں مسلم مخالف تشدد کے واقعات میں تیزی آئی ہے-یہ ریاستیں مدھیہ پردیش، گجرات، نئی دہلی، گوا، راجستھان، جھارکھنڈ، کرناٹک، مغربی بنگال، مہاراشٹر اور بہار ہیں- حال ہی میں ریاست کرناٹک کے سکولوں میں حجاب پہننے کو ایک سنگین مسئلے کے طور پر سامنے لایا گیا ہے-سکولوں میں حجاب کے مد مقابل ہندو طلبہ نے گلے میں کیسرانی رومال ڈالے ہوئے تھے-

    ان واقعات کا مقصد مذہبی منافرت کو فروغ دینا تھا جو اسلاموفوبیا کا منہ بولتا ثبوت ہے-اس کے علاوہ بی بی سی کی ایک ویڈیو رپورٹ میں واضح دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس مسلمانوں کی حفاظت کی بجائے انتہا پسندوں کا ساتھ دیتے ہوئے حملے کر رہی ہے-

    بھارت میں مسلمانوں کے مذہبی مقامات اور شعائر کی سرِ عام بے حرمتی کی جاتی ہے-اس کے علاوہ بھارت میں مسلمانوں کو کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا ذمہ دار ٹھہرانا بھی اسلاموفوبیا کے مکروہ رجحان کی عکاسی کرتا ہے-بھارت میں بڑھتا ہوا اسلاموفوبیا اور نفرت انگیزی مسلمانوں کی نسل کشی کی مترادف ہے- پاکستان نے ہمیشہ اس بڑھتی ہوئی مذہبی منافرت اور اشتعال انگیزی کے خلاف اپنی آواز بلند کی ہے- حالیہ اسلام آباد اعلامیہ میں او آئی سی نے بھی بھارت کے ان اسلامو فوبک اقدامات کی بھر پور مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ:

    ’’ہم بھارت میں مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک اور عدم برداشت کی منظم اور وسیع پالیسی کی مذمت کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ سیاسی، معاشی اور سماجی پسماندگی کا شکار ہوئے ہیں- ہم حجاب کو نشانہ بنانے والے امتیازی قوانین اور پالیسیوں سے ظاہر ہونے والے ہندوستان میں مسلم تشخص پر سب سے زیادہ نقصان دہ حملوں سے بہت پریشان ہیں-ہم ہندوستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ایسے امتیازی قوانین کو فوری طور پر منسوخ کرے، ہندوستانی مسلمانوں کے حقوق کو یقینی بنائے اور ان کی مذہبی آزادیوں کا تحفظ کرے‘‘-

    حالیہ کچھ دنوں میں سیکولر بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کی ایک نئی لہر دیکھنے کو ملی ہے- مسلمانوں کے مذہبی مقامات اور آثارِ قدیمہ کو گرانے کے بعد ان کے کاروباروں کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ تجاوزات کے نام پر بلڈوزر سیاست کے ذریعے گھروں کو مسمار کیا جا رہا ہے-

    یہ بات عیاں ہے کہ متنازع شہریت کے ان قوانین سے نہ صرف مسلمانوں میں خوف بڑھا ہے بلکہ اس کے عملی اقدامات بھی سامنے آئے ہیں- مثلاً سرکاری حکام کا شہریت ثابت کرنے کے لئے مسلمانوں کو تنگ کرنا، غیر قانونی گرفتاریاں، پر تشدد واقعات میں اضافہ اور گھروں کو مسمار کرنا شامل ہے-

    5 اگست 2019ء کو ظالم بھارتی سرکار نے عالمی قوانین، دو طرفہ معاہدوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے برعکس غیر قانونی اقدامات کرتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے ساتھ کشمیریوں پر غیر انسانی سلوک کرتے ہوئے شدید لاک ڈاؤن لگا کر انہیں کھلی جیل میں بند کر دیا-اس کے علاوہ بھارت کی طرف سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے لئے 30 سے 40 لاکھ غیر کشمیریوں کو وادی کا ڈومیسائل جاری کردیا گیا – اس دوران کرونا وائرس کی عالمی وبا کی مشکلات میں بھی بھارت نے کشمیریوں کو جیلوں میں بند کرنے، انٹرنیٹ بند کرنا، جعلی اِنکاونٹر، عورتوں اور بچوں پر ظلم و تشدد ختم نہ ہونے والا سلسلہ شروع کر رکھا ہوا ہے- 10 لاکھ بھارتی فوج کی موجودگی میں کشمیریوں پریہ غیر انسانی محاصرہ 1000 دنوں سے تجاوز کر چکا ہے-

    کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق سال 2021ء میں قابض بھارتی فوج نے 210 کشمیریوں کو شہید کیا جن میں 65 افراد کو جعلی ان کاؤنٹر میں شہید کیا گیا- اس دوران 44 معصوم بچے یتیم اور 16 خواتین بیوہ ہوئیں اور بھارتی فوج نے 67 عمارتوں کو مسمار بھی کیا- اس عرصے میں بھارتی فوج نے 2716 کشمیریوں کو گرفتار اور 487 افراد کو زخمی کیا- رپورٹ کے مطابق بھارتی فوج نے صرف دسمبر 2021ء میں 31 افراد کو شہید کیا-

    کچھ عرصہ قبل کشمیری حریت لیڈر سید علی گیلانی کی وفات پر بھارت نے غیر انسانی رویہ اختیار کیا جس کی وجہ سے ان کی تدفین سخت سیکورٹی حصار میں کی گئی اور اہل خانہ کو جنازے میں بھی شامل نہیں ہونے دیا گیا- ماہِ رمضان المبارک میں بھی بھارتی فوج کے کشمیریوں پر مظالم جاری رہے حتیٰ کہ عید الفطر کے موقع پر مسلمانوں کے اجتماعات پر پابندی عائد کردی گئی-

    بی جے پی اور آر ایس ایس کے اقتدار میں آئے روز مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں پر بڑھتے ہوئے مظالم کو لکھنے کیلئے الفاظ کم پڑ جائیں، اس تحریر میں اس بات کا جائزہ پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ کس طرح بھارت میں مختلف غیر انسانی اقدامات سے 220 ملین مسلم آبادی کا نسلی صفایا اور قتلِ عام کیا جارہا ہے-یہ عمل صرف مسلمانوں تک محدود نہیں ہے بلکہ ہندو راشٹر کے قیام کےلئے دیگر اقلیتیں بھی ہندتوا سوچ اور مذموم عزائم کے نشانے پر ہیں جس سے یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ بھارت تاریخ میں انسانیت کے سب سے بڑے دشمن کے طور پر یادرکھا جائے گا-

    پوری دنیا خاص کر بھارت میں اسلاموفوبیا خوفناک شکل اختیار کرچکا ہے جس کی ہر قیمت پر روک تھام کیلئے عالمی برادری کو اپنا غیر جانبدارانہ کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے- ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ خصوصاً اقوام متحدہ اور انصاف کے عالمی اداروں نے اگر بھارت میں مسلمانوں پر ظلم و تشدد کے تیزی سے بڑھتے ہوئے واقعات سے مزید غفلت برتی اور بھارت کے ظالمانہ اقدامات کا ایکشن نہ لیا تو اس ظلم کے نتائج پوری انسانیت کو بھگتنا پڑیں گے-

  • اتحادی حکومت کا بھی مطالبہ ہے کہ فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ فوری سنایا جائے:رانا ثنااللہ

    اتحادی حکومت کا بھی مطالبہ ہے کہ فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ فوری سنایا جائے:رانا ثنااللہ

    اسلام آباد:اتحادی حکومت کا بھی مطالبہ ہے کہ فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ فوری سنایا جائے ،اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئر مین عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرالیکشن کرانے ہیں تو پہلے اپنی دو صوبائی حکومتیں ختم کرو، یہ الیکشن کا صرف ڈرامہ ہے۔

    رانا ثنااللہ نے کہا کہ ماڈل ٹاؤن کیس کا فیصلہ ہوچکا ہے، سانحہ ماڈل ٹاؤن،ٹرائل کورٹ سے لیکرسپریم کورٹ میں ہمارے خلاف کوئی الزام ثابت نہیں ہوا۔

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نیوزکانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ فارن فنڈنگ کیس میں تحریک انصاف کے وکلا نے 50مرتبہ کیس ملتوی کرایا، 8سال ہوگئے اب فیصلہ محفوظ ہے کونسی رکاوٹ ہے۔ کیا مسئلہ ہے محفوظ فیصلے کا اعلان نہیں کیا جارہا، ہمارا مطالبہ ہے فارن فنڈنگ فیصلے فوری سنایا جائے،پی ٹی آئی کے چار ملازمین کے اکاؤنٹ میں پیسے آئے،اتحادی جماعتوں کا مطالبہ ہے ممنوعہ فنڈنگ کا فیصلہ جلد سنایا جائے۔

    عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ شخص عقل سے بالکل پیدل ہے، تحریک انصاف نے تقریبا ڈیڑھ کروڑکے قریب ووٹ لیے، اتحادی جماعتوں نے اڑھائی کروڑکے قریب ووٹ لیے، کیا تم اکثریت کو باہرپھینک دوگے؟ تمہارے ارد گرد چور اور ڈاکو بیٹھے ہیں۔50 ارب کی ڈکیتی تم نے خود کی ہے، ڈکیتی کے بدلے 5 ارب کی پراپرٹی لی اس کا آج تک جواب نہیں دیا، ہروقت تم اپنے مخالفین کو گالیاں دیتے ہو، مخالفین کو کہتے ہو ان کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتا، تاریخ میں اس پاگل، احمق کی مثال ہٹلر سے ملتی ہے۔

    رانا ثناء اللہ نے کہا کہ پہلے کہتا تھا الیکشن کروائیں، مسلم لیگ(ن) شروع دن سے الیکشن کے حوالے سے رائے رکھتی تھی، ہم کوئی پیشمان نہیں اتحاد میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ہم نے مشکل فیصلے کر کے معیشت کو بچایا، عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کا معاہدہ تو عمران خان کر کے گیا ہے، مہنگائی تو اس کے معاہدے کی وجہ سے ہے، ہم نے ملک کو ڈیفالٹ کی سٹیج سے باہر نکالا کیا ہمیں کریڈٹ ملے گا۔

    وفاقی وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ نواز شریف کل اور آج بھی الیکشن کی طرف جانے کا کہہ رہا ہے، اب کہہ رہا ہے چیف الیکشن کمشنر کو تبدیل کیا جائے، چیف الیکشن کمشنر کا نام عمران خان نے دیا تھا، جوڈیشل کونسل میں چیف الیکشن کمشنر کو ہٹانے کا طریقہ کار موجود ہے، دھونس،دھمکی سے چیف الیکشن کمشنرتبدیل نہیں ہوگا۔ اگرالیکشن کرانے ہیں تو پہلے اپنی دو حکومتیں ختم کرو، یہ الیکشن کا صرف ڈرامہ ہے، الیکشن کمیشن آف پاکستان سے فنڈنگ کیس کا فوری فیصلہ سنائے، لاڈلے کیخلاف کیس کو 8 سال ہو گئے ہیں۔

  • میانمار:مسلمانوں کے سیکڑوں گھر نذر آتش: فوج لوگوں کوقتل کرنے لگی

    میانمار:مسلمانوں کے سیکڑوں گھر نذر آتش: فوج لوگوں کوقتل کرنے لگی

    رنگون:مسلمانوں پر ایک بار پھر عرصہ حیات تنگ کردیاگیا ہے اور یہ اطلاعات ہیں کہ میانمار کی فوج نے ایک گاؤں پر چھاپے کے دوران کم از کم 10 افراد کو ہلاک اور سینکڑوں مکانات کو نذر آتش کردیا۔

    عالمی میڈیا ذرائع کے مطابق میانمار کے ایک گاوں کے ایک مسلمان رہائشی نے بتایا کہ گاؤں ’’کی سو“ کے مسلم کوارٹرز میں تقریباً 400 مکانات جل کر خاکستر ہوگئے اور ایک مسجد کو آگ سے جزوی نقصان پہنچا۔

    مقامی میڈیا نے بتایا کہ کم از کم 10 جلی ہوئی لاشیں ملی ہیں جن کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں اور کی سو میں سینکڑوں گھروں کو نذر آتش کر دیا گیا ہے، اے ایف پی دور دراز کے علاقے سے موصول ہونے والی اطلاعات کی تصدیق نہیں کرسکی۔

    مقامی لوگوں اور میڈیا رپورٹس کے مطابق شمال مغربی ساگانگ کے علاقے میں گزشتہ سال بغاوت کے بعد سے شدید لڑائی اور خونریز جھڑپیں جاری ہیں، جنتا فوج کے دستے مقامی “پیپلز ڈیفنس فورس” کی مزاحمت کو کچلنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

    ایک مقامی رہائشی نے اے ایف پی کو بتایا کہ 18 جولائی کو کیسو گاؤں کے قریب فوجیوں کو دو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے اتارا گیا اور تقریباً 100 لوگوں کو فوج نے قید کرلیا، بوڑھے مردوں کو اگلے دن رہا کر دیا گیا تھا جبکہ کم عمر افراد کو وہاں رکھا گیا تھا۔

    ایک اور رہائشی نے بتایا کہ فوجیوں کے جانے کے بعد 20 جولائی کو واپس آنے پر گاؤں والوں کو 10 افراد کی لاشیں ملیں جن کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے، ایک اور مقامی نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کرتے ہوئے بتایا کہ 10 لاشیں ملی ہیں اور ان میں سے نو کی شناخت خاندان کے افراد نے کی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ گاؤں کے کم از کم 30 لوگ لاپتہ ہیں۔

    مقامی لوگوں اور میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ساگانگ میں فوجیوں کے ذریعہ قتل و غارت گری کا سلسلہ جاری ہے کیونکہ وہ پچھلے سال آنگ سان سوچی کی حکومت کا تختہ الٹنے والی بغاوت کی مخالفت کو کچلنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔

     

  • بوسنیا کے مسلمانوں پر اسانیت سوز مظالم اور قتل عام کو 27 برس بیت گئے۔

    بوسنیا کے مسلمانوں پر اسانیت سوز مظالم اور قتل عام کو 27 برس بیت گئے۔

    سربرینیکا: بوسنیا کے مسلمانوں پر اسانیت سوز مظالم اور قتل عام کو 27 برس بیت گئے۔تفصیلات کے مطابق11 جولائی سن 1995 میں سربین فوجیوں نے بوسنیا کے سربرینیکا کے قصبے پر قبضہ کرلیا، جس کے بعد دو ہفتوں کے دوران فورسز نے منظم انداز میں 8 ہزار سے زائد بوسنیائی مسلمانوں کو قتل کیا۔

    بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق یہ دوسری عالمی جنگ کے بعد سے یورپ کی سرزمین پر بدترین اجتماعی قتل و غارت تھی، یہ سلسلہ 10 دنوں تک جاری رہا۔ خود کار اسلحے سے لیس اقوام متحدہ کے امن فوجیوں نے پناہ گاہ قرار دیئے گئے اس علاقے میں جاری تشدد کو روکنے کیلئے کچھ نہ کیا۔

    بوسنیائی مسلمانوں کی نسل کشی کی خون آلود تاریخ 90 کی دہائی سے شروع ہوتی ہے، 1990 کی دہائی میں جب یوگوسلاویہ کے ٹکڑے ہوئے تو کئی مسلح تنازعات نے جنم لیا، بوسنیائی جنگ بھی ان تنازعات میں سے ایک تھی۔

    بوسنیا ہرزیگووینا نے 1992 میں ایک ریفرنڈم کے ذریعے اپنی آزادی کا اعلان کیا کچھ ہی عرصے بعد اسے امریکی اور یورپی حکومتوں نے تسلیم کر لیا، بوسنیائی سرب آبادی نے ریفرنڈم کا بائیکاٹ کیا تھا ، جلد ہی سربیا کی حکومت کی حمایت یافتہ بوسنیائی سرب فورسز نے اس نئے ملک پر حملہ کردیا۔

    یہ حملہ گریٹر سربیا منصوبے کا حصہ تھا جس کی تکمیل کیلئے بوسنیائی مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا۔ ابتدائی طور پر بوسنیائی سرب فورسز نے 1992 میں سربرینیکا پر قبضہ کیا، جسے بوسنیائی فوج نے جلد ہی چھڑا لیا تھا۔ چھ جولائی 1995 کو بوسنیا کی سرب فورسز نے سربرینیکا پر بھرپور حملہ کیا، اقوام متحدہ کی افواج نے ہتھیار ڈال دیے اور جب نیٹو فورسز کو فضائی حملے کے لیے بلایا گیا تو انہوں نے بھی کوئی مدد نہ کی یوں سربرینیکا نامی یہ علاقہ پانچ دنوں میں ہی سرب فورسز کے قبضے میں آ گیا۔ مسلمان پناہ گزین جب علاقے کو چھوڑنے کیلئے بسوں پر سوار ہوئے تو مردوں اور لڑکوں کو ہجوم سے الگ کیا اور انھیں دور لے جا کر گولیاں مار دی گئیں، ہزاروں افراد کو پھانسی دے دی گئی اور پھر بلڈوزروں کے ذریعہ ان کی لاشوں کو اجتماعی قبروں میں دھکیل دیا گیا۔

  • بھارت میں مسلمانوں کا قتل عام تاریخ کے آئینے میں

    بھارت میں مسلمانوں کا قتل عام تاریخ کے آئینے میں

    بھارت میں مسلمانوں کا قتل عام تاریخ کے آئینے میں

    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    بھارتی شہر جودھ پور میں ہندو مسلم فسادات، متعدد علاقوں میں کرفیو نافذ،بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق چاند رات کو مسلمانوں کی جانب سے عید کی مناسبت سے اپنا جھنڈا لگانا تھا جب کہ اسی جگہ ہندو تہوار پرشورام جینتی کے سلسلے میں ہندئووں نے بھی اپنا جھنڈا لگانے کی ضدکی، جس پر دونوں گروپوں میں جھگڑا شروع ہوگیااورعید کی نماز کے بعد مختلف علاقوں میں ہندو مسلم فسادات شروع ہوگئے۔گذشتہ ہفتے بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں ہنومان جینتی تہوار کے موقع پر انتہا پسند ہندوئوں نے مسلمانوں پر حملے کردیئے جس کے بعد پرتشدد فسادات پھوٹ پڑے۔بھارتی میڈیا کے مطابق نئی دہلی کے علاقے جہانگیر پوری میں ہنومان جینتی تہوار کا جلوس نکالا جا رہا تھا۔ جلوس کے شرکا نے معمولی تلخ کلامی کے بعد مسلمانوں کی املاک پر حملہ کردیا۔

    مقامی مسلمان رہنمائوں کا کہنا ہےکہ پولیس نے داد رسی کے بجائے الٹا مسلمانوں کو ہی گرفتار کرنا شروع کردیا اورپولیس انتہا پسندہندوئوں کو تحفظ فراہم کررہی ہے۔دہلی میونسپل کارپوریشن نے نوٹس کے بغیر جہانگیر پوری کی جامع مسجد کے دروازوں سمیت بہت سی املاک کو مسمار کر دیا۔ سپریم کورٹ نے اس کارروائی کو روکنے کے احکامات جاری کیے تھے، تاہم اس کے باوجود توڑ پھوڑ کی کارروائی جاری رہی۔کچھ روز قبل اسی علاقے میں مسلم مخالف فسادات ہوئے تھے، جس میں جھڑپوں کے دوران متعدد افراد زخمی ہوئے تھے اس واقعے کے بعد ہی حکمران جماعت بی جے پی کے رہنما نے اس علاقے میں کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے ایم سی ڈی سے کہا تھا کہ وہ فسادات میں ملوث افراد کی املاک کو تباہ کر دے۔جہانگیر پوری میں ہندوئوں کی بھی آبادی ہے، تاہم توڑ پھوڑ جامع مسجد کے علاقے میں کی گئی اور اس کی زد میں بیشتر مسلمانوں کی املاک آئیں۔

    اسی طرح ریاست کرناٹک میں سوشل میڈیا پر توہین اسلام پر مبنی پوسٹ کرنے پر مسلمان شہریوں نے شدید احتجاج کیا جس کے دبائو میں پولیس نے پوسٹ کرنے والے شخص کو گرفتار کرلیا تاہم اسے وی آئی پی پروٹوکول دیا گیا۔جس پر علاقہ مکین مشتعل ہوگئے اور تھانے کے سامنے احتجاج کیا، پولیس کی لاٹھی چارج پر احتجاج پرتشدد ہوگیا اور مظاہرین نے پولیس پر دھاوا بول دیا۔بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق بھارتی ریاستوں مدھیہ پردیش، گجرات،جھاڑکھنڈ اورمغربی بنگال میں ہندوانتہاپسندوں نے مذہبی ریلی کے دوران مسلمانوں کے گھروں اوردکانوں پرحملے کئے اورلوٹ مارکے بعد آگ لگا دی۔ اطلاعات کے مطابق بھارت کی 4ریاستوں میں مسلم کش فسادات میںکئی ہلاکتیں اوردرجنوں زخمی ہوگئے۔

    ہندوانتہاپسندوں نے پولیس اہلکاروں کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے گھروں میں گھس کرخواتین سے بدتمیزی بھی کی اورمردوں کوتشدد کا نشانہ بنایا۔مدھیہ پردیش کے مختلف شہروں میں کرفیو نافذ کردیا گیا۔گجرات میں مسلمانوں کی املاک اورگھروں پرحملے جاری ہیں۔ہندوانتہاپسندوں کی حمایتی پولیس نے ہندوئوں کے حملے روکنے کے بجائے متعدد مسلمانوں کوگرفتارکرلیا۔ ادھر دہلی کی جواہرلعل نہرو یونیورسٹی میں مسلمان طلبا کے گوشت سے بنی ڈشز کھانے پرپابندی عائد کردی گئی۔ پابندی کے خلاف احتجاج کرنے والے 16مسلمان طلبا پولیس کے تشدد سے زخمی ہوگئے۔ متعدد مسلمان طلباء کوگرفتاربھی کرلیا گیا۔

    بھارت میں مسلمانوں پر تشدد یا برا سلوک کوئی نئی بات نہیں۔ ہر دور میں ایسے واقعات ہوتے رہے ہیں لیکن نریندرمودی کی حکومت میں مسلمانوں کے مسائل میں اضافہ ہوا ہے اورزندگی گذارنامشکل ہوگئی ،ان کی نقل و حرکت بھی محدود ہو چکی ہے۔ کیونکہ بھارت میں ایک ہندوتواکی متعصب حکومت ہے ایک ایسی حکومت جو سرکاری سطح پر ہندوئوں کے علاوہ کسی دوسرے مذہب سے تعلق رکھنے والوں کو اہمیت نہیں دیتی۔ آئے دن ہندوئوں کے علاوہ تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والوں کے ساتھ نامناسب سلوک کے واقعات پیش آتے رہتے ہیںاورمسلمان خاص نشانہ ہیں۔ جنونی ہندوئوں کی مسلمانوں کے ساتھ برے سلوک اور تشدد کی کئی ویڈیوزسوشل میڈیاکی وجہ سے دنیا کے سامنے آچکی ہیں۔

    بھارت میں مسلمانوں کے خلاف فرقہ وارانہ فسادات کی تاریخ بہت پرانی ہے ،17ویں صدی سے لے کر آج تک لاکھوں فسادات ہوچکے ہیں 18مئی 2001کو شائع شدہ مضمون کے مطابق اگر کرائم ریکارڈ کے اعدادو شما ر کو سچ مانا جائے تو 1947سے لیکر اب تک بھارت میں 20لاکھ سے زائد فسادات تھانوں میں درج ہوئے ،ان میں اتر پردیش میں 4لاکھ 25ہزار،بہار میں 3لاکھ75ہزار، ہریانہ میں 1لاکھ 50ہزار ،پنجاب میں 2لاکھ،مہاراشٹر میں 3لاکھ50ہزار ،راجستھان میں 1لاکھ25 ہزار مقدمات درج ہیں ۔ 1947میں بٹوارے کے فوراََ بعد نوا کھالی سے شروع ہونے والے فسادات ،خانپور،علی گڑھ،مرادآباد،حیدرآباد،بہارشریف،بھاگلپور، جمشیدپور وغیرہ سے ہوتے ہوئے گجرات پہنچ کر اپنی انتہا کو پہنچ گئے ،جس میں مسلمانوں کی نسل کشی کی گئی اور مسلمانوں کے خلاف ظلم کی تمام حدیں پارکر دی گئیں۔

    عزیزبرنی کی لکھی کتاب بھارت میں مسلمانوں کا قتل عام کے مطابق بھارت میں فسادات کی شروعات 1713 میں شروع ہو چکی تھی،1713میں گائے ذبح کرنے پر ہندو دہشت گردوں نے پہلا فساد برپا کیا ،20-1719میں کشمیر میں ایک مسلمان اور ہندو کی آپسی لڑائی فسادات کا باعث بنی،اسی طرح کئی چھوٹے بڑے نسلی فسادات ہوئے ۔1782میں سلہٹ ،آسام میں محرم کے موقع پرہندوؤں کو مسلمانوں کے اکثریتی علاقوں میں مذہبی جلسے کرنے سے روکنے پر فسادات بھڑکائے گئے جس میں مسلمانوں کا قتل ِعام کیا گیا-

    1809 میں بنارس میں اورنگزیب کے ہاتھوں بنائی گئی مسجد پر ہندوؤں کے قبضہ کرنے کی کوشش پر فسادات بھڑک اٹھے، 1840 میں مرادآباد میں فسادات ہوئے ،1851میں ممبئی میں پیغمبر اسلام حضرت محمدۖ کے خلاف ایک گجراتی اخبار میں شائع مضمون فسادات کی وجہ بنا، 1857میں بجنو ر اور مرادآبادمیں فسادات ہوئے ۔1871میں بریلی میں محرم اور رام نومی کے ایک دن ہونے سے فسادات ہوئے-

    1874میںممبئی میںآر۔ایچ جلمئے کی ایک کتاب”گریٹ پروفیٹ آف دی ورلڈ”کے خلاف فساد بھڑکا یہ کتاب انگریزی میں تھی اس میں حضرت محمد ۖ کی شان میں گستاخی کی گئی تھی ۔1890میں علی گڑھ میں ایک مسجد میں سور کا گوشت اور ہندو ؤں کے ایک کنویں میں گائے کا گوشت ڈالنے پر فساد بھڑکایا گیا ۔1892میں بھاش پٹم ،اگست 1893میںممبئی۔ستمبر 1893میں قلابہ اور 1893میں گئو رکشا کے نام پر اتر پردیش کے بلیا میں فسادات ہوئے ۔1894میں مدراس،ناسک کے یلالہ، 1895میں پوربندراورچھلیا میں بھی فسادات ہوئے ،1907میں مورگھٹ میں بنگال کی تقسیم پر، 1912میں ایودھیہ میں بقر عید پر گائے کی قربانی کرنے سے روکنے پر، 1913میں نیلور میں ایک مسجد شہیدکرنے پر، 1916میں پٹنہ میں بقر عید پرہندوؤں کا قربانی روکنے پر، 1921میں گیا اور شاہ آباد میںبھی مسلمانوں کو انتہا پسند ہندوؤں کی طرف سے قربانی سےروکنے پرفسادات بھڑکے،1921میں مالےگاؤں میںانڈین کونسل ایکٹ1919کےسوال پرفسادات ہوئےاسی طرح بنگلور میں تحریک عدم تعاون کے دوران فسادات ہوئے ،24-1923 میں امرتسر،لاہور،سہارنپور، الٰہ آباد،کلکتہ اور دوسرے شہروں میں راجہ رام موہن رائے کی شدھی تحریک فسادات کاسبب بنی ۔

    1923میں ممبئی، 1932میںالور،1933 میں کلکتہ ،1935میں ہزاری باغ میں محرم کا جلوس اور رام نوی ایک ساتھ ہونے کے باعث فسادات پھوٹ پڑے اور ساتھ میں چمپارن اور سکندرآباد میں بھی مسلمانوں کو بے دردی سے تہ و تیغ کیا گیا ،1937میں گئو کشی کے مسئلے پر فسادات بھڑکائے گئے ،1939میں اترپردیش اور کلکتہ میں ہولی کے موقع پر مسجد کے سامنے میوزک بجانے سے روکنے پر مسلمانوں کو تختہ مشق بنا یا گیا ،اسی طرح اسی سال خانپور میں ایک جلوس پر حملے کے سبب جھگڑا ہوا جس سے فسادات بھڑکا دیے گئے ۔1941میں کلکتہ میں محرم کے موقع پر مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی گئی ۔1950میں کالی کٹ ،دہلی ،پیلی بھیت،علی گڑھ اور ممبئی میں آر ۔ایس۔ایس کے دہشت گردوں کے ذریعے مسلمانوں کو بھارت چھوڑنے پر مجبور کرنے پر فسادات ہوئے ۔1953میں ہندومہاسبھا کے ایک جلوس پر پتھر پھینکنے کا بہا نہ بنا کر مسلمانوں پر مظالم ڈھانے کیلئے فسادات برپا کئے گئے،اسی سال احمدآباد،ناسک اور پونے میں گن پتی اور محرم ایک ساتھ ہونے پر فساد بھڑکا یا گیا-

    1956 میں اتر پردیش کے کئی شہروں میں بھارتیہ بدیہ بھون کے ذریعے حضرت محمدۖ کے متعلق توہین آمیز مواد شائع کرنے پر فسادات ہوئے ، اسی طرح کوئی سال ایسا نہیں گیا جس میں مسلمانوں کے خلاف چھوٹے چھوٹے بہانوں سے فسادات نہ بھڑکائے گئے ہوں۔1962میں مالدہ میںحضرت محمد ۖ کی شبیہ مبارک شائع کرنے پر فساد برپا ہوا ،1963میں ندیا،کلکتہ میں حضرت بل سے موئے مبارک چوری ہونے پر فسادات ہوئے ،1966میں رانچی میں اردو کے خلاف نکالا گیا جلوس فسادات کا سبب بنا ۔1974میں شیوسینا کے ذریعے ہندوؤں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کی مہم جوگیشوری میں فسادات ہوئے 1975میں جوگیشوری میں شیوسینا کے دہشتگردوں کے مسلمانوں پر حملے فسادات کا باعث بنے ۔

    1987میں میرٹھ،ہاشم پور ملیانہ،پھرشیلاپوجن اور رام جنم بھومی تنازع نے زور پکڑنے کے بعد بھارت میں نہ ختم ہونے والے فسادات کا سلسلہ شروع ہوا جو آج تک تھم نہ سکا۔1990میں لال کرشن اڈوانی کی رتھ یاترا نے پورے بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت اور ظلم و تشددکو نقطہ عروج پر پہنچا دیا جو 6دسمبر 1992کو بابری مسجد کی شہادت کے بعد بھارت بھر میں مسلمانوں کی املاک تباہ کی گئیں ان کی دکانیں اور جائیدادیں زبردستی چھین لی گئیں اور مسلمانوں کا سنگینوں اور تلواروں کے ذریعے قتل عام کیا گیا ، جس میں شیو سینا، آر ایس ایس اور بجرنگ دل و دیگر ہندو دہشتگرد تنظیموں کو سرکاری آشیرباد اور پولیس کا تحفظ حاصل تھا۔

    مودی کی دہشت گردغنڈہ تنظیم آر ایس ایس بھارت میں ہندو شدت پسندی کو منظم اور انتہائی خطرناک انداز میں مسلمانوں کیخلاف نفرت اورتشدد کوابھار رہی ہے ۔بھارت میں مسلمانوں کیخلاف ایک سازش کے تحت ہندوانتہاپسندوں کے مفروضوں پرمبنی محبت جہاد(love jehad)،، کرونا جہاد اور سول سروسز جہاد ، ریڑھی جہاد، لینڈ جہادتوکبھی گئورکشاکے نام پرمسلمانوں پرمظالم کے پہاڑ ڈھائے جارہے ہیں،تاریخ گواہ ہے کہ بھارت میں پولیس نے کبھی بھی مسلمانوں کوتحفظ نہیں دیا،ہمیشہ ہی آر ایس ایس اور دیگر ہندوانتہاپسند دہشت گردتنظیموں کی آلہ کاربن کر مسلمانوں پر ظلم وجبر کے علاوہ سیدھی گولیاں مار کر انہیں قتل کرتی رہی ہے ،جنہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔

    بھارت میں محض شک کی بنیاد پرمسلمانوں کو ہراساں کیا جاتا ہے ،بھارت میں ہندو انتہاپسندوں اور آر ایس ایس کے غنڈوں نے اسلام اورمسلمانوں کے خلاف زہر افشانی توکب سے شروع کی ہوئی ہے لیکن اب یہ نفرت اپنی آخری حدوں کو چھو رہی ہے،حکومت کی جانب سے اس نفرت کو عام کیا جارہا ہے،انفرادی کے بجائے اجتماعی طور پر مسلمانوں کی مخالفت میں قوانین بنوائے جارہے ہیں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت اب ا دارہ جاتی حیثیت اختیار کرچکی ہے اور نازی مودی نے مسلمانوں کیخلاف ایسی فضا پیدا کردی ہے کہ جہاں ان کی زندگیاں دائوپرلگ چکی ہیں ۔

  • بھارتی فوجی بیگناہ کشمیریو ں کا خون مسلسل بہا رہے ہیں:رپورٹ

    بھارتی فوجی بیگناہ کشمیریو ں کا خون مسلسل بہا رہے ہیں:رپورٹ

    اسلام آباد :بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموںوکشمیر میں قابض بھارتی فورسز اہلکار بے گناہ لوگوں کا خون بہانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں کیونکہ مودی کی فسطائی بھارتی حکومت نے انہیں علاقے میں قتل عام کے مکمل اختیارات دے رکھے ہیں۔

    کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے آج جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ شاید ہی کوئی دن ایسا گزرتا ہو جب وحشیانہ بھارتی فوجی کشمیریوں کو نشانہ نہ بناتے ہوں جبکہ اپنے تازہ ترین قتل عام میں انہوں نے ایک ہفتے کے دوران 11 نوجوانوں کو شہید کیا ۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کل جماعتی حریت کانفرنس نے بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں بیگناہ نوجوانوں کے قتل میں حالیہ تیزی کے خلاف آج مقبوضہ علاقے میں مکمل ہڑتال کی کال دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی فوجی کشمیریوں کی منظم نسل کشی میں مصروف ہیں۔

    رپورٹ میں افسوس کا اظہار کیا گیا کہ مقبوضہ جموںوکشمیر سے روزانہ قتل، تشدد اور اغوا کی دل دہلا دینے والی خبریں آ رہی ہیں اور یہ علاقہ ایک ایسی جگہ بن گیا ہے جہاں کے باشندے تمام بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت بیگناہ کشمیریوں کا خون سات دہائیوں سے مسلسل بہارہا ہے اور جنوری 1989 سے اب تک بھارتی فوجیوں نے 95ہزار 9سو80 سے زائد کشمیریوںکو شہید کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ مقبوضہ جموںوکشمیر میں جبر و استبداد کی بھارتی پالیسی انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کے لیے ایک چیلنج ہے جبکہ اقوام متحدہ مسئلہ کشمیر کے حل اور کشمیریوں کا قتل عام بند کرانے کا پابند ہے۔

  • کشمیری نوجوانوں کا قتل عام :دنیا بھرکی طرح مظفرآباد میں بھی احتجاج

    کشمیری نوجوانوں کا قتل عام :دنیا بھرکی طرح مظفرآباد میں بھی احتجاج

    مظفرآباد :کشمیری نوجوانوں کا قتل عام :دنیا بھرکی طرح مظفرآباد میں بھی احتجاج ،اطلاعات کے مطابق بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیرمیں نہتے کشمیریوں پر ظلم و بربریت اور کشمیری نوجوانوں کے قتل عام کیخلاف آج مظفر آباد میں ایک بڑی بھارت مخالف احتجاجی ریلی نکالی گئی۔

    بڑی تعداد میں مظاہرین نے گریڈ سٹیشن چوک سے سنٹرل پریس کلب بنک روڈ تک مارچ کیا ۔ انہوں نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر جموں وکشمیر کی بھارت کے غیر قانونی تسلط سے آزادی کے حق میں نعرے درج تھے ۔

    ریلی کی قیادت پاسبان حریت جموں وکشمیر کے چیئرمین عزیراحمد غزالی اور چوہدری مشتاق، شوکت جاوید میر اوردیگر نے کی ۔اس موقع پر فلک شگاف بھارت مخالف نعرے بھی بلند کئے گئے ۔ مقررین نے ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی حکومت جعلی مقابلوں میں نہتے کشمیری نوجوانوں کو قتل کر کے کشمیری مسلمانوں کی منظم نسل کشی کر رہی ہے۔

    انہوں نے مقبوضہ علاقے میں بھارتی فوجیوں کی طرف سے نہتے کشمیریوں کے قتل عام ،انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں، اور دیگر مظالم پر انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کی خاموشی پر افسوس کا اظہار کیا۔مقررین نے کہاکہ بھارت مقبوضہ علاقے میں کھلے عام جنگی جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے۔

    انہوں نے بھارتی تسلط سے آزادی تک جدوجہد آزادی کشمیر جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ، او آئی سی اور عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ کشمیری عوام کو انکا ناقابل تنسیخ حق خودارادیت دلانے اور بھارتی ظلم و تشدد بند کرانے کیلئے اپنا کردار ادا کرے۔

  • بھارت:انتہاپسند ہندووں‌ نےمسلمان شخص کومارمارکرقتل کردیا:بہارمیں‌ نماز کی ادائیگی پر پابندی عائد کردی

    بھارت:انتہاپسند ہندووں‌ نےمسلمان شخص کومارمارکرقتل کردیا:بہارمیں‌ نماز کی ادائیگی پر پابندی عائد کردی

    پٹنہ :بھارت:آج پھرانتہاپسند ہندووں‌ نےمسلمان شخص کومارمار کر قتل کر دیا:بہارمیں‌ نماز کی ادائیگی پر پابندی عائد کردی ،اطلاعات کے مطابق بھارتی ریاست بہار کے ضلع ارریہ میں ہندو تو ہجوم نے ایک مسلمان شخص کو مویشی چوری کرنے کا الزام لگا کر پیٹ پیٹ کر مار ڈالا۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق 52سالہ محمد صدیقی کو بدھ کے روز ضلع کے گاوں بھوانی پور میں ایک ہجوم نے مویشی چوری کرنے کے الزام میں قتل کر دیا۔ اس بہیمانہ حملے کی ویڈیو جمعہ کوسوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعدواقعے کے بارے میں پتہ چلا۔

    پھولکاہ تھانے کی انسپکٹر نگینہ کمار نے بتایا کہ محمدصدیقی کو لاٹھیاں اور مکے مارے گئے اور وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔انہوں نے کہا کہ نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے تاہم تاحال کوئی گرفتار عمل میں نہیں آئی ہے۔

    ادھر اطلاعات کے مطابق بھارتی ریاست ہریانہ کے وزیر اعلیٰ منوہر لال کتھر نے کھلی ج ہوںپر نماز ادا کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق وزیر اعلیٰ کے حوالے سے ایک بیان میں کہا گیا کہ کھلی جگہوں پر نماز کے لیے دیے گئے تمام سابقہ احکامات کو کالعدم قرار دے دیا گیا ہے ۔ بیان میں کہا گیا کہ اب عوامی مقامات پر نماز ادا نہیں کی جائے گی۔

    انہوں نے کہاکہ امن و امان کے حوالے سے کوئی تناﺅ نہیں ہونا چاہئے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہم وقف بورڈ کی اسکی جگہوں کو تجاوزات سے پاک کرانے میں مدد کریں گے اور اس وقت تک لوگوں کو اپنے گھروں وغیرہ میں نماز ادا کرنی چاہیے۔

    دریں اثنا ریاست ہریانہ کے گڑگاوں میں انتہا پسند ہندو تنظیموں کے ارکان نے مسلمانوں کو جمعہ کو ایک مرتبہ پھر کھلی جگہوں پر نماز کی اجازت نہیں دی۔گڑگاﺅں کے سیکٹر 37 میں نماز کی ادائیگی کو روکنے کے لیے آٹھ دسمبر کو ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہونے والے بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف بپن راوت، ان کی اہلیہ اور دیگر فوجی جوانوں کے لیے تعزیتی اجلاس منعقد کیے گئے ۔ ہندو انتہا پسند تنظیموں کے ارکان نے سیکٹر 44 میں واقع ایک پارک میں بھی نماز جمعہ میں خلل ڈالا۔

  • ظالم بھارتی فوج اپنے ہی شہریوں کا قتل عام کرنے لگی ،پہلے واقعہ میں‌13 افراد گولیوں سے بھون دیئے

    ظالم بھارتی فوج اپنے ہی شہریوں کا قتل عام کرنے لگی ،پہلے واقعہ میں‌13 افراد گولیوں سے بھون دیئے

    نئی دہلی: ظالم بھارتی فوج اپنے ہی شہریوں کا قتل عام کرنے لگی ،پہلے واقعہ میں‌13 افراد گولیوں سے بھون دیئے,اطلاعات کے مطابق بھارتی فوج نے مسافر بردار ٹرک پر اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 13 افراد ہلاک ہوگئے۔

     

     

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارت کی شمال مشرقی ریاست ناگالینڈ میں بھارتی فوج نے ایک ٹرک پر اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 13 افراد ہلاک ہوگئے۔ یہ واقعہ میانمار کی سرحد کے قریب پیش آیا۔

    دوسری جانب بھارتی اخبار دی ہندو کے مطابق ہلاک ہونے والے تمام افراد کان کن تھے اور ایک ٹرک میں سوار ہوکر اپنے مطالبات کے حق میں مظاہرہ کرنے جا رہے تھے تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ یہ لوگ دیہاتی تھے اور اپنے گاؤں جا رہے تھے۔

     

    ادھر بھارتی فوج کے ترجمان نے بتایا کہ علاقے میں علیحدگی پسند مسلح جنگجوؤں کے خلاف آپریشن جاری تھا اسی دوران مسلح تنظیم کے پرچم اور نشان مخصوص نشان والے ٹرک سامنے آیا۔

     

     

    ترجمان کے مطابق بھارتی فوج کے اہلکاروں نے ٹرک کو روکنے کا اشارہ کیا تاہم ٹرک میں موجود افراد نے تعاون نہیں اور ٹرک بھگانے کی کوشش کی جس پر اپنے دفاع میں اہلکاروں نے فائرنگ کردی۔

     

     

    بھارتی فوج کی فائرنگ سے دیہاتیوں کی ہلاکتوں پر مقامی افراد میں اشتعال پھیل گیا اور لوگ احتجاج کے لیے نکل آئے. مظاہرین نے مودی کی ظالمانہ حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔

     

     

    جارحیت پسند بھارتی فوج نے ظلم کی انتہا کرتے ہوئے انصاف کے متلاشی مظاہرین پر بھی فائرنگ کردی جس سے درجنوں مظاہرین زخمی ہوگئے جب کہ جوابی فائرنگ میں ایک فوجی اہلکار بھی ہلاک ہوگیا۔

     

     

    مظاہرین کے بھارتی فوج کی فائرنگ سے زخمی ہونے پر ناگالینڈ کے ضلع مون میں حالات مزید کشیدہ ہوگئے اور جگہ جگہ نفری تعینات کردی گئی اور علاقے میں تاحال کرفیو کا سما ہے۔