Baaghi TV

Tag: قتل

  • ٹک ٹاکر بسمہ بی بی پر شوہر کے قتل کا الزام ثابت، عدالت نے سزا سنا دی

    ٹک ٹاکر بسمہ بی بی پر شوہر کے قتل کا الزام ثابت، عدالت نے سزا سنا دی

    پشاور: پشاور کی معروف ٹک ٹاکر اور ڈانسر بسمہ بی بی پر اپنے شوہر سمیع اللہ کو قتل کرنے کا الزام ثابت ہو گیا ہے، جس پر مردان کی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے بسمہ کو عمر قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔

    بسمہ بی بی نے اپنے شوہر سمیع اللہ کو شادی کے صرف 19 دن بعد فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا۔ یہ افسوسناک واقعہ 2023 کے آخر میں پیش آیا تھا، جس کے بعد ملزمہ کی گرفتاری عمل میں آئی۔ تفتیشی اداروں کے مطابق بسمہ بی بی نے نامعلوم وجوہات کی بنا پر شوہر کے ساتھ اختلافات کے بعد اسے قتل کیا۔عدالتی کارروائی کے دوران، ملزمہ بسمہ بی بی نے اپنے جرم کا اعتراف کیا، تاہم ان کے وکیل کی جانب سے انہیں کم سزا دینے کی استدعا کی گئی تھی۔ لیکن ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے تمام شواہد کا جائزہ لیتے ہوئے بسمہ بی بی کو عمر قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنائی۔سزا سننے کے بعد بسمہ بی بی عدالت کے باہر رو پڑی اور عدالت کے فیصلے کو اپنی تقدیر کا حصہ قرار دیا۔

    مقتول سمیع اللہ کے بھائی حبیب الرحمٰن نے عدالتی فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے حق اور سچ کی فتح قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ انصاف کی فراہمی سے انہیں کچھ سکون ملا ہے، اور وہ امید کرتے ہیں کہ اس فیصلے سے دیگر افراد کو سبق ملے گا تاکہ وہ ایسے سنگین جرائم سے بچ سکیں۔

    اس مقدمے کی سماعت میں متعدد گواہان نے ملزمہ کے خلاف گواہی دی تھی اور فائرنگ کے بعد مقتول کے جسم پر گہرے زخموں کی تصدیق کی تھی۔ مقدمہ کے دوران بسمہ بی بی کے شوہر کی موت کے حوالے سے پیش آنے والی تفصیلات نے نہ صرف عدالت بلکہ عوام کو بھی ہلا کر رکھ دیا تھا۔

    بالی ووڈ کو چھوڑنے والی بھارتی اداکارہ ثناء خان کے ہاں دوسرے بیٹے کی پیدائش

    آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے ابتدائی اسکواڈز کے اعلان کی آخری تاریخ

  • سال2024، پاکستان میں صنفی بنیاد پر تشدد کے 4558 کیسز رپورٹ

    سال2024، پاکستان میں صنفی بنیاد پر تشدد کے 4558 کیسز رپورٹ

    پاکستان میں 2024 میں صنفی بنیاد پر تشدد کے 4558 کیسز رپورٹ ہوئے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق پاکستان میں بڑھتے ہوئے صنفی بنیاد پر تشدد کی ایک پریشان کن عکاسی کے طور پر ساحل تنظیم نے ایک رپورٹ مرتب کی ہے جو خواتین اور بچوں کی حفاظت اور سلامتی کے لیے کام کر رہی ہے۔اس رپورٹ میں 2024 جنوری سے نومبر تک پاکستان بھر میں 4,112 کیسز رپورٹ ہونے کا انکشاف کیا گیا ہے، ان کیسز میں قتل، ریپ، خودکشی، اغوا، غیرت کے نام پر قتل اور تشدد جیسے واقعات شامل ہیں، تشویش کی بات یہ ہے کہ تشدد خواتین کے لیے ہر عمر میں معمول بنتا جا رہا ہے۔یہ رپورٹ 81 اخباروں سے جمع کیے گئے ڈیٹا کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے جو ملک کے تمام چار صوبوں، اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری، آزاد جموں و کشمیر، اور گلگت بلتستان شامل ہیں۔اس رپورٹ میں پاکستان کی صنفی بنیاد پر تشدد کے خلاف جاری جدوجہد کی ایک سیاہ تصویر پیش کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان کیسز میں سے 1,273 قتل کے واقعات، 799 اغوا، 579 تشدد کے کیسز، 533 ریپ کے واقعات اور 380 خودکشی کی وارداتیں شامل ہیں۔مزید یہ کہ متاثرہ افراد کی ایک بڑی تعداد نوجوان خواتین کی ہے۔ اگرچہ صرف 5 فی صد متاثرہ افراد 18 سال سے کم عمر تھیں، تاہم یہ ڈیٹا نوجوان خواتین اور لڑکیوں کو مختلف قسم کے استحصال کے لیے کمزور ثابت کرتا ہے۔ سب سے زیادہ متاثرہ عمر کا گروپ 21 سے 30 سال کی خواتین کا تھا، جن کے 459 کیس رپورٹ ہوئے۔ اس کے بعد 11 سے 20 سال کی عمر کی خواتین کے 444 کیسز ہیں، اور 31 سے 40 سال کی خواتین کے 167 کیسز ہیں۔رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ زیادتی کرنے والے (33فی صد)افراد جاننے والے تھے، جبکہ 14 فی صد شوہر اور 10 فی صد اجنبی تھے۔ متعدد کیسز میں، ملزم کی شناخت معلوم نہیں ہو سکی یا رپورٹ نہیں کی گئی، جس کی شرح 22 فی صد ہے۔صوبوں کی بنیاد پر رپورٹ شدہ کیسز کی تقسیم میں صنفی بنیاد پر تشدد کی غیر متوازن تقسیم سامنے آئی ہے۔ سب سے زیادہ کیسز 73 فی صد پنجاب میں رپورٹ ہوئے جو ملک کا سب سے زیادہ آبادی والا صوبہ ہے۔ اس کے بعد سندھ 15 فی صد، خیبر پختونخوا 8 فی صد اور اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری، بلوچستان، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں 2 فی صد کیسز رپورٹ ہوئے۔

    سندھ ،قانون کے باوجود چائلڈ لیبر میں اضافہ کا انکشاف

    ملک میں انٹرنیٹ ایک بار پھر سست روی کا شکار

    تیونس میں تارکین وطن کی کشتی الٹنے سے 27 افراد ہلاک

    ایف آئی نے انسانی اسمگلنگ میں ملوث منظم گینگ بے نقاب کر دیا

  • 2017 سے کیس زیر التوا،ریاست حکومت گرانے،لانے میں مصروف،جسٹس اطہرمن اللہ

    2017 سے کیس زیر التوا،ریاست حکومت گرانے،لانے میں مصروف،جسٹس اطہرمن اللہ

    سپریم کورٹ میں قتل کے ملزم اسحاق کی ضمانت قبل از گرفتاری درخواست پر سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے ملزم کو گرفتار کر کے جیل حکام کے حوالے کرنے کا حکم دیا ہے، دوران سماعت جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 2017 سے یہ کیس سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے جبکہ ریاست حکومت گرانے اور لانے میں مصروف ہے، تمام ادارے سیاسی مخالفین کے پیچھے پڑے ہیں، جسٹس جمال خان مندو خیل نے کہا کہ ریاست کی کیا بات کریں؟، 3 وزرائے اعظم مارے گئے، تینوں وزرائے اعظم کے کیسز کا کیا بنا، بلوچستان میں ایک سینئر ترین جج بھی مارے گئے، کچھ معلوم نہیں ہوا، اصل بات کچھ کرنے کی خواہش نہ ہونا ہے، دیگر 2 صوبوں کی نسبت سندھ اور پنجاب میں پولیس کی تفتیش انتہائی ناقص ہے، جب تک ریاستی ادارے سیاسی انجینئرنگ میں مصروف ہوں گے تو ایسا ہی حال رہے گا،

    وزیراعظم کے قتل سے بڑا جرم کیا ہو سکتا ہے؟، کسی کو ذمے دار قرار دے کر سزا دی جانا چاہئے تھی،جسٹس اطہرمن اللہ
    جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ آئین پر عمل ہوتا تو ایسے حالات نہ ہوتے، جسٹس جمال خان مندو خیل نے کہا کہ لوگوں کو اداروں پر یقین نہیں، لوگ چاہتے ہیں تمام کام سپریم کورٹ کرے، جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ یہ ادارہ بھی اتنا ہی سچ بولتا ہے جتنا ہمارا معاشرہ، 40 سال بعد منتخب وزیر اعظم کے قتل کا اعتراف کیا گیا، وزیراعظم کے قتل سے بڑا جرم کیا ہو سکتا ہے؟، کسی کو ذمے دار قرار دے کر سزا دی جانا چاہئے تھی،

    وزیراعظم ایک دن وزیر اعظم ہائوس تو دوسرے دن جیل میں،جسٹس شہزاد ملک
    جسٹس شہزاد ملک نے کہا کہ جس ملک میں وزیراعظم کا ایسا حال ہو تو عام آدمی کا کیا حال ہوگا، وزیراعظم ایک دن وزیر اعظم ہائوس تو دوسرے دن جیل میں ہوتا ہے، کسی کو معلوم نہیں کس نے کتنے دن وزیراعظم رہنا ہے۔

    اٹک: مویشی پال حضرات کے لیے لائیو اسٹاک کارڈز کی تقسیم

    پشاور: اپیکس کمیٹی اجلاس، ضلع کرم میں بنکرز ختم کرنے کا فیصلہ

  • دوسری شادی کی اجازت کیوں نہ دی، شوہر نے بیوی کو کروایا قتل

    دوسری شادی کی اجازت کیوں نہ دی، شوہر نے بیوی کو کروایا قتل

    پنجاب کے شہر ملتان میں دوسری شادی کی اجازت نہ دینے پر سفاک شوہر نے بیوی کی جان لے لی

    واقعہ بلال کالونی میں پیش آیا،اطلاع پر پولیس موقع پر پہنچ گئی، پولیس کے مطابق پروفیسر فیروزہ جمیل کو ان کے شوہر نے قتل کروایا ،پولیس نے ملزم شوہر اور کرائے کے قاتل سمیت 4 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے،پولیس حکام کے مطابق مقتولہ کا شوہر حسیب احمد دوسری شادی کرنا چاہتا تھا،پہلی بیوی نے اجازت نہیں دی جس پر شوہر سیخ پا ہو گیا اور اسے شوٹر کے ذریعے قتل کروا دیا.

    ملزم نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہے، ملزم حسیب احمد نے ابتدائی بیان میں کہا کہ بیوی کو قتل کروانے کے لیے شوٹر سے 15 لاکھ روپے میں معاملات طے پائے تھے، 2 لاکھ ایڈوانس دیے باقی 13 لاکھ کام ہونے کے بعد دیے جانے تھے۔

    پولیس حکام کے مطابق سات روز قبل میاں بیوی اکلوتے بچے کے ساتھ کار میں گھر سے نکلے، گھر سے نکلتے ہی شوٹر نے گاڑی روک کر پروفیسر فیروزہ جمیل کو قتل کر دیا،ملزم مقتولہ کے شوہر نے واردات کو ڈکیتی کا رنگ دیا تھا تا ہم پولیس نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا تو شوہر ہی بیوی کا قاتل نکلا،

    گوادر میں پی ایس ایل 10 کے پلیئر ڈرافٹ کی میزبانی کا اعلان

    پاکستانی میزائل پروگرام سے امریکہ بھی محفوظ نہیں، نائب مشیر قومی سلامتی امریکہ

  • شوہر نے دوسری بیوی کے ساتھ مل کر پہلی کو قتل کردیا

    شوہر نے دوسری بیوی کے ساتھ مل کر پہلی کو قتل کردیا

    بہاولپور میں شوہر نےمبینہ طورپر گھریلو ناچاقی پر دوسری بیوی کے ساتھ مل کر اپنی پہلی بیوی کو قتل کردیا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق بہاولپور کی بستی دس بی سی میں شوہر اور پہلی بیوی کے درمیان کسی بات پر تلخ کلامی ہوئی جس کے بعد شوہر نے اپنی دوسری بیوی کے ساتھ ملکر پہلی بیوی کو قتل کردیا۔ریسکیو حکام کے مطابق قتل کی اطلاع علاقہ مکینوں کی جانب سے دی گئی جس پر پولیس اور ریسکیو ادارے جائے وقوعہ پر پہنچے تاہم میاں بیوی پہلے ہی فرار ہوچکے تھے۔ریسکیو اہلکاروں نے خاتون کی لاش کو بہاول وکٹوریہ ہسپتال منتقل کردیا جب کہ پولیس نے واقعے کی تفتیش اور ملزمان کی تلاش شروع کردی۔

    دمشق میں مشتعل ہجوم کا ایرانی سفارتخانے پر حملہ

    گورنر سندھ سے اٹلی کی سفیراور وزارت دفاع کے مشیرکی ملاقات

    ڈیرہ غازی خان: تیزہوا سےسردی کی شدت میں اضافہ، غریب عوام کی مشکلات بڑھ گئیں

  • صوابی میں گولیاں چل گئیں، میاں بیوی سمیت 3 قتل

    صوابی میں گولیاں چل گئیں، میاں بیوی سمیت 3 قتل

    صوابی کی تحصیل ٹوپی کے علاقے ڈھیرو لار گدون میں فائرنگ کے ایک دردناک واقعے میں تین افراد جاں بحق جبکہ ایک بچی زخمی ہوگئی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ حملہ پرانی دشمنی کے سبب کیا گیا۔ پولیس کے مطابق فائرنگ کا یہ واقعہ 7 دسمبر 2024 کو صبح کے وقت پیش آیا۔

    پولیس حکام کے مطابق ملزمان نے ایک گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کی جس میں گاڑی کے اندر سوار افراد شدید زخمی ہوگئے۔ گاڑی کا رخ ڈھیرو لار گدون کے علاقے کی طرف تھا، جہاں ملزمان نے فائرنگ کی۔ فائرنگ کے نتیجے میں گاڑی میں سوار تین افراد موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے۔ہلاک ہونے والوں میں ایک مرد اور ایک خاتون شامل ہیں جو میاں بیوی تھے، جبکہ ان کے ساتھ موجود ایک قریبی رشتہ دار بھی اس فائرنگ کی زد میں آ کر جاں بحق ہوگیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کی زد میں آنے والی بچی، جو تقریباً 8 سے 9 سال کی عمر کی ہے، شدید زخمی ہوگئی، تاہم وہ زندہ بچ گئی ہے اور اس کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ زخمی بچی کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اس کی طبی امداد کی جا رہی ہے۔

    پولیس نے فوراً موقع پر پہنچ کر تحقیقات کا آغاز کردیا۔ پولیس حکام کے مطابق ابتدائی طور پر یہ واقعہ پرانی دشمنی کا شاخسانہ لگتا ہے، کیونکہ علاقے میں ماضی میں دونوں فریقوں کے درمیان دشمنی رہی ہے۔ اس سلسلے میں پولیس نے مختلف زاویوں سے تفتیش شروع کر دی ہے اور علاقے کی ناکہ بندی کر کے ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارنے شروع کر دیے ہیں۔صوابی پولیس کے ڈی ایس پی نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ زخمی بچی اور جاں بحق ہونے والے افراد کی لاشوں کو ٹوپی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھا کیے جا رہے ہیں تاکہ اس دہشت گردانہ حملے کے ملزمان تک پہنچا جا سکے۔

    ذرائع کے مطابق اس واقعے کا تعلق ممکنہ طور پر دونوں فریقوں کے مابین ایک طویل عرصے سے چلتی آرہی دشمنی سے ہے، جو مختلف چھوٹے بڑے تنازعات کی شکل میں کئی مرتبہ سامنے آ چکی تھی۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ یہ حملہ کسی انتقامی کارروائی کا نتیجہ ہو سکتا ہے، جس میں ملزمان نے اپنی پرانی دشمنی کے بدلے فائرنگ کی۔صوابی کے اس علاقے میں اس طرح کے واقعات ایک سنجیدہ مسئلہ بنتے جا رہے ہیں، خاص طور پر جب یہ دشمنیاں مسلسل بگڑتی جارہی ہیں۔ پولیس حکام نے بتایا ہے کہ اس واقعے کے بعد سیکیورٹی کے مزید اقدامات کیے جائیں گے اور علاقے میں گشت کو بڑھایا جائے گا تاکہ ایسے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔

    صوابی کے ضلعی انتظامیہ نے اس واقعے پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ تعزیت کی ہے۔ ضلعی پولیس افسران نے ایک پریس کانفرنس میں عوام کو یقین دلایا کہ اس واقعے کی تحقیقات کو تیز کیا جائے گا اور ملزمان کو گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔صوابی کے عوام نے اس واقعے پر گہرے دکھ اور غصے کا اظہار کیا ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس علاقے میں پرانی دشمنیاں اور تنازعات پہلے بھی دیکھنے کو ملے ہیں، لیکن اس نوعیت کی فائرنگ نے عوام میں خوف اور بے چینی کو بڑھا دیا ہے۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت اور پولیس اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے مزید سخت اقدامات کریں تاکہ ایسے المیے کی دوبارہ تکرار نہ ہو۔

  • کالے جادو سے سونا ڈبل کرنے کا دعویٰ ، خاتون دوسرے شوہر سمیت گرفتار

    کالے جادو سے سونا ڈبل کرنے کا دعویٰ ، خاتون دوسرے شوہر سمیت گرفتار

    بھارتی ریاست کیرالہ میں ایک کاروباری شخص، غفور کا قتل ہوا، ایک سال کے بعد حالیہ تحقیقات میں ایک حقیقت سامنے آئی ہے کہ اس قتل کے پیچھے ایک جادوگری کے گروہ کا ہاتھ تھا، جس کا سربراہ ایک عورت شمیما تھی۔ اس گروہ نے غفور کو کالے جادوسے سونا دوگنا کرنے کا جھانسہ دے کر قتل کیا۔ یہ واردات اپریل 2023 میں کیرالہ کے قصارگوڑ علاقے میں ہوئی تھی۔

    پولیس کے مطابق، شمیما جو خود کو جِن کہتی تھی، نے اپنے گروہ کے ساتھ مل کر غفور کو اس کے خاندان کے سونے کی 4.768 کلو مقدار چرانے کے لیے قتل کیا۔ اس گروہ کا مقصد صرف سونا چرانا تھا، اور یہ لوگ لوگوں کو کالے جادو کے نام پر دھوکہ دیتے تھے۔ تحقیقات کے بعد پولیس نے اس قتل کی سازش کو 20 ماہ کے بعد بے نقاب کیا اور شمیما سمیت اس کے چار ساتھیوں کو گرفتار کر لیا۔پولیس نے شمیما کے علاوہ اس کے دوسرے شوہر ابیسے ٹی ایم، آسنفہ پی ایم اور عائشہ اے کو بھی گرفتار کیا ہے، جو سب کے سب ویڈیناگر کے رہائشی ہیں۔

    غفور اپنے خاندان کے ساتھ کیرالہ کے پچاکاڑ علاقے کا رہائشی تھا، 13 اپریل 2023 کو رمضان کے مہینے میں صبح 5:30 بجے اس کی موت واقع ہوئی۔ ان کی لاش اگلے دن گھر کے اندر ملی۔ ان کے اہل خانہ نے اسے قدرتی موت سمجھا اور دفن کر دیا۔غفور دبئی میں 4 سپر مارکیٹوں کا مالک تھا اور اس کے مالی معاملات میں کوئی مشکل نہیں تھی۔لیکن غفور کے اہل خانہ نے اس کے سونے کے بارے میں کچھ عجیب محسوس کیا کیونکہ غفور نے اپنی تمام تر فیملی سے سونا لیا تھا، اور پھر وہ سونا غائب تھا۔ جب اہل خانہ نے اس بارے میں تفتیش شروع کی تو ان کا شک شمیما پر گیا، جو ان کے گاؤں میں رہتی تھی اور غفور کی بیوی کی بیماری کے دوران علاج کے لیے آئی تھی۔

    پولیس تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ شمیما نے غفور کو سونے کو دوگنا کرنے کا وعدہ کیا تھا، اور جادو کے ذریعے یہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ شمیما نےغفور کو اپنے خاندان کا سونا جمع کرنے کے لیے کہا اور پھر اس سونے کو واپس کرنے کا وعدہ کیا۔ غفور نے اپنا سونا شمیما کے حوالے کر دیا تھا، لیکن جب اس نے اپنا سونا واپس مانگا تو شمیما اور اس کے گروہ نے اسے قتل کر دیا۔13 اپریل کی رات شمیما اور اس کے گروہ نے غفور کے گھر آ کر کالے جادوکا عمل شروع کیا، مگر اسی دوران شمیما کے شوہر ابیسے نے غفور کا قتل کر دیا اور اس کی لاش کو گھر میں چھوڑ کر وہ لوگ وہاں سے فرار ہو گئے۔

    پولیس کو تحقیقات کے دوران واٹس ایپ چیٹس ملی تھیں جن میں غفور نے شمیما کو 10 لاکھ روپے اور سونا دیا تھا۔ پولیس نے اس کی تفتیش مزید آگے بڑھائی اور دریافت کیا کہ شمیما اور اس کے گروہ نے غفور کا قتل کیا اور بعد میں سونا مختلف علاقوں میں بیچ دیا۔پولیس نے مزید تحقیقات کے دوران یہ بھی معلوم کیا کہ شمیما نے ایک کاغذی تعویذ بیچنے کا کاروبار بھی شروع کر رکھا تھا، جس کی قیمت 55,000 روپے تھی، اور لوگ اس سے ڈرتے تھے کیونکہ وہ خود کو جادوگرنی سمجھتی تھی۔پولیس نے اس کے علاوہ ایک اور الزام بھی سامنے لایا کہ شمیما نے چٹانچل کے ایک شخص کے ساتھ کار خریدنے کے لیے فراڈ کیا تھا۔ اس شخص نے گاڑی کے قرض کی اقساط نہیں بھریں، مگر غفور کی موت کے بعد وہ تمام بقایا رقم ادا کر دی گئی۔

    گاؤں کے لوگ شمیما سے خوف زدہ تھے کیونکہ وہ خود کو جِن کی طاقت رکھنے والی بتاتی تھی، اور اس کا گروہ سیاہ جادو کے ذریعے لوگوں کو خوف میں مبتلا کرتا تھا۔ پولیس نے اس کے خلاف قتل اور دیگر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔کیرالہ پولیس نے اس سنگین واردات کو حل کرنے کے بعد ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے اور ان کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی تیاری کر لی ہے۔

  • زرعی زمین کا 3 سالہ تنازعہ،12 ہلاکتوں کے بعد جرگہ،5 کروڑ جرمانہ

    زرعی زمین کا 3 سالہ تنازعہ،12 ہلاکتوں کے بعد جرگہ،5 کروڑ جرمانہ

    دادو میں زرعی زمین کے 3 سال پرانے تنازع کے حل کے لیے جرگہ منعقد کیا گیا، جس میں فریقین پر 5 کروڑ 44 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا۔ اس تنازعے میں اب تک پولیس اہلکار سمیت 12 افراد کی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ جرگہ کے فیصلے کے مطابق دونوں فریقین کو جرمانہ ادا کرنا ہوگا،

    ذرائع کے مطابق، دادو میں زرعی زمین کے تنازع نے گزشتہ تین سالوں سے علاقے میں شدید کشیدگی پیدا کر رکھی تھی، جس کے نتیجے میں کئی بار خونریز تصادم بھی ہوئے۔ ان تصادمات میں پولیس اہلکار سمیت 12 افراد کی جانیں ضائع ہو چکی ہیں، جس نے علاقے کی امن و سکون کی صورتحال کو متاثر کیا تھا۔جرگہ کی کارروائی میں شریک عمائدین نے دونوں فریقین کو اس تنازع کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں اور جانی نقصان کے حوالے سے ایک مالی جرمانے کا سامنا کروایا۔ فریقین پر 5 کروڑ 44 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا، جس کا مقصد متاثرین کو مالی معاوضہ فراہم کرنا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ جاں بحق پولیس اہلکار کو دونوں فریقین کی جانب سے 15، 15 لاکھ روپے ادا کیے جائیں گے۔ اس رقم کی پہلا قسط 5 جنوری 2025 کو ادا کی جائے گی۔ یہ فیصلہ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے کہ دونوں فریقین کی جانب سے کسی قسم کی مزید خونریزی یا تنازعہ کی پیشکش نہ ہو اور علاقے میں امن قائم ہو۔

    برہنہ ویڈیو لیک کا سلسلہ نہ تھم سکا، ایک اور ٹک ٹاکر کی ویڈیو لیک

    17 ملین سے زائد لائکس والی ٹک ٹاکر سومل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

  • مشہور سنار سڑک کنارے سرعام قتل،علاقے میں خوف و ہراس

    مشہور سنار سڑک کنارے سرعام قتل،علاقے میں خوف و ہراس

    قصور
    سنار سرعام روڈ پر قتل،نامعلوم افراد نے سر میں گولی مار کر قتل کر دیا،پولیس نے لاش تحویل میں لے کر کاروائی شروع کر دی

    تفصیلات کے مطابق قصور کے مشہور سنار ثاقب سنار کو تھانہ سٹی اے ڈویژن کی حدود نامعلوم افراد نے سر میں گولی مار کر قتل کر دیا
    ثاقب سنار اپنی موٹر سائیکل پر سوار ہو کر کہیں جا رہا تھا کہ پیچھے سے آنے والے موٹر سائیکل سواروں نے اس کے سر میں گولی ماری جس کے باعث اس کی موقع پر وفات ہو گئی
    وقوعہ کی اطلاع پا پر ایس ایچ او سٹی اے ڈویژن موقع پر پہنچا اور لاش کو اپنی تحویل میں ڈی ایچ کیو ہسپتال منتقل کیا
    نامعلوم افراد کی جانب سے سڑک کنارے سرعام قتل کرنے پر علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے
    پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرکے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے
    سنار کا قتل ذاتی دشمنی لگتی ہے

  • چھری سے قتل کی دھمکی دی گئی،خواجہ آصف نے پولیس کو رپورٹ کر دیا

    چھری سے قتل کی دھمکی دی گئی،خواجہ آصف نے پولیس کو رپورٹ کر دیا

    وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کو لندن ٹرین میں قتل کی دھمکی دینے، ہراساں کرنے اور ان کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کرنے کا معاملہ ،وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کی پاکستان ہائی کمیشن لندن آمد ہوئی ہے

    خواجہ محمد آصف نے پاکستان ہائی کمیشن میں مقامی پولیس کو ٹرین واقع کی رپورٹ درج کرادی،خواجہ محمد آصف نے پولیس کو ٹرین میں چھری سے قتل کی دھمکی اور ہراسگی واقع کی تفصیلات سے آگاہ کیا ،واقع کی تحقیقات لندن ٹرانسپورٹ پولیس کر رہی ہے۔وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے بتایا کہ افسوسناک واقع 11 نومبر 2024 سہ پہر قریباً ساڑھے تین بجے الزبتھ لائن میں پیش آیا۔لندن میں نجی دورہ پر ہوں، اپنے ایک عزیز کے ہمراہ الزبتھ لائن کے ذریعے ریڈنگ جا رہا تھا۔ تین سے چار افراد پر مشتمل ایک خاندان کے افراد نے ٹرین میں ہراساں کیا، بلا اجازت ویڈیو بنائی، نازیبا الفاظ کا استعمال کیا اور چھری سے قتل کرنے کی دھمکی دی۔ واقع میں ملوث کسی فرد کو نہیں پہچانتا۔ لندن ٹرانسپورٹ پولیس سی سی ٹی وی ویڈیوز کی مدد سے متعلقہ ملزمان کا سراغ لگائے ،قتل کی دھمکیاں اور ہراساں کرنے کے ایسے مذموم واقعات برطانیہ میں مقیم 17لاکھ پاکستانی نثراد برطانوی شہریوں کے لیے بھی باعث شرم اور قابل افسوس ہیں۔

    واضح رہے کہ لندن میں وزیر دفاع خواجہ آصف کو گالیوں اور چاقو حملے کی دھمکیوں کی ویڈیو منظر عام پرآئی تھی،لندن گراؤنڈاسٹیشن پر نامعلوم شخص نے خواجہ آصف کا تعاقب کرتے ہوئے انہیں چاقو حملے کی دھمکی دی تھی،خواجہ آصف کے قریبی ذرائع نے واقعےکی تصدیق کی ہے،

    ویڈیو وائرل ہونے کے بعد وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا بیان بھی سامنے آیا ہے، خواجہ آصف کا کہنا ہےکہ وہاں کیمرا بھی لگا ہوا تھا، میں دھمکی دینےوالے کو نہیں پہچانتا، دھمکی دینے والے واقعےکو رپورٹ کرانے کا پراسیس چل رہا ہے

    علاوہ ازیں لندن میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے ن لیگی قائد نواز شریف کا کہنا تھا کہ خواجہ آصف مرد مجاہد ہیں جہاں کھڑے ہو جاتے ہیں پھر بیٹھتے نہیں، خواجہ آصٖف نے ہمیشہ ہرصورتحال کا جوانمردی سے مقابلہ کیا ہے، خواجہ آصٖف کو کالج کے زمانے سے جانتا ہوں، جن لوگوں نے خواجہ صاحب کے ساتھ یہ حرکت کی، ان کے نصیب میں یہی ہے، لوگوں کے پیچھے بھاگنا ، یہی ان کی ٹریننگ اور گرومنگ کی گئی ہے۔

    لندن میں موجود جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بھی خواجہ آصف کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ کی مذمت کی ہے.

    لاہور بیورو کیخلاف بغاوت کی خبر کیسےباہر آئی؟ اکرم چوہدری سیخ پا،ذاتی کیفے میں اجلاس میں تلخی

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    اکرم چوہدری نجی ٹی وی کا عثمان بزدار ثابت،دیہاڑیاں،ہراسانی کے بھی واقعات

    اکرم چوہدری کا نجی ٹی وی کے نام پر دورہ یوکے،ذاتی فائدے،ادارے کو نقصان

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی