Baaghi TV

Tag: قتل

  • خواجہ سراؤں کو تحفظ نہ مل سکا، ایک اور خواجہ سرا قتل

    خواجہ سراؤں کو تحفظ نہ مل سکا، ایک اور خواجہ سرا قتل

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق خواجہ سراؤں کے حقوق کے تحفظ کے لئے آنیوالے بل کے حوالہ سے ملک بھر میں بحث جاری ہے تو دوسری جانب خواجہ سراؤں کا قتل بھی جاری ہے

    ایک ماہ میں دوسرے خواجہ سرا کو قتل کر دیا گیا ہے، خواجہ سرا کے قتل کا واقعہ خیبر پختونخواہ کے علاقہ صوابی میں پیش آیا، صوابی انبار انٹرچینج کے قریب خواجہ سرا اپنے دیگر دوستوں کے ہمراہ پشاور جا رہا تھا کہ ملزمان کی جانب سے فائرنگ کی گئی، فائرنگ سے خواجہ سرا وفا کی موقع پر ہی موت ہو گئی اطلاع پر پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی، پولیس کے مطابق خواجہ سرا پر فائرنگ کس نے کی، اس پر تحقیقات کر رہے ہیں لاش کو پوسٹ مارٹم کے لئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے

    قبل ازیں 11 ستمبر کو کبوتر چوک کے قریب محفل موسیقی سے واپسی پر چار خواجہ سراؤں کو ڈرائیور سمیت تشدد کا نشانہ بنایا تھا اور انہیں فائر کر کے زخمی کیا تھا،واقعے میں زخمی ہونے والے خواجہ سرا ماہین عرف ڈولفن آیان کی مدعیت میں 11 ستمبر کو تھانہ پہاڑی پورا میں مقدمہ درج ہوا جس کے مطابق خواجہ سرا ڈولفن آیان کو ان کی 3 ساتھیوں امجد علی عرف نینا،ظہور عرف شینا، شایان عرف حسینا اور ڈرائیور فیضان کو 3 ملزمان اعجاز، نعمان اور موجی نے فائرنگ کرکے زخمی کیا ملزمان خواجہ سراؤں پر اپنا رعب قائم رکھنے کیلئے انہیں پہلے بھی دھمکاتے ڈراتے رہے

    واضح رہے کہ خیبرپختونخوا میں خواجہ سرا عدم تحفظ کا شکار ہوگئے ہیں صوبے بھر میں خواجہ سراؤں پر تشدد کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، صرف رواں برس خیبر پختونخواہ میں خواجہ سراؤں پر تشدد کے 38 کیسز سامنے آ چکے ہیں گزشتہ سات ماہ میں 7 خواجہ سراؤں کو قتل کیا گیا، دھمکیوں کے 19 کیسز سامنے آئے

    ہم جنس پرستی کے مکروہ ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی کوشش شرمناک ہے، تنظیم اسلامی

    خواجہ سرا کے ساتھ بازار میں گھناؤنا کام کرنیوالے ملزمان گرفتار

    خواجہ سرا بھی اب سکول جائیں گے، مراد راس

    خواجہ سرا کے ساتھ ڈکیتی، مزاحمت پر بال کاٹ دیئے گئے

    پشاور پولیس کا رویہ… خواجہ سرا پشاور چھوڑنے لگے

    شہر قائد خواجہ سراؤں کے لئے غیر محفوظ

    خواجہ سراؤں پر تشدد کی رپورٹنگ کیلئے موبائل ایپ تیار

    ہ ٹرانسجینڈر قانون سے معاشرے میں خواجہ سرا افراد کو بنیادی حقوق ملے۔

  • کوئٹہ: تین بھائیوں کو قاتل کرنے والا ملزم گرفتار

    کوئٹہ: تین بھائیوں کو قاتل کرنے والا ملزم گرفتار

    کوئٹہ :بلوچستان کے دارالخلافہ کوئٹہ کے علاقے جوائنٹ روڈ پر معروف آرتھو پیڈک سرجن ڈاکٹر ناصراچکزئی کے تین بیٹوں کو قتل کرنے والے ملزم کو پولیس نے گرفتارکرلیا۔

    پولیس کے مطابق چمن سے تعلق رکھنے والے آرتھو پیڈک سرجن ڈاکٹر ناصر اچکزئی کی فیملی شادی کی تقریب میں شرکت کے بعد جوائنٹ روڈ پر واقع ریلوے ہاؤسنگ سوسائٹی وآپس آرہی تھی کہ گزشتہ رات 26 ستمبر کو گھات لگائے حملہ آوروں نے گھر کے قریب ان کی گاڑی پر فائرنگ کردی۔

    فائرنگ کے نتیجے میں ڈاکٹر ناصر کے تین بیٹے 20 سالہ موسیٰ زریان، 18 سالہ صدران اور 8 سالہ بیٹا زرنگ موقع پر جاں بحق ہوگئے تھے۔ واقعے کے بعد میتوں کو سول اسپتال کوئٹہ منتقل کیا گیا۔

    جاں بحق افراد کے لواحقین کا کہنا ہے کہ بے رحم قاتل کسی رعایت کے مستحق نہیں، ملزمان کو فوری سخت سزا دلائی جائے۔ ایس ایس پی آپریشن عبدالحق عمرانی کے مطابق پولیس نے تین بھائیوں کے قاتل کو گرفتارکرکے اسلحہ بھی برآمد کرلیا ہے، جس سے مزید تفتیش جاری ہے۔

    پوری دنیا کو پاکستان کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا،وزیر اعظم

    وزیرخارجہ بلاول  کی میٹا کے عالمی امور کے صدر نک کلیگ سے ملاقات

    سیلابی پانی کے بعد لوگ مشکلات کا شکار ہیں کھلے آسمان تلے مکین رہ رہے ہیں

    ہ حالیہ بارشوں اور سیلاب سے انسانی المیہ برپا ہوا ہے ۔

  • طاقت اوروڈیرہ شاہی کےرنگ:ناظم جوکھیو قتل کیس: مقتول کی والدہ کوبھی مقدمےسےدستبردارہونا پڑگیا

    طاقت اوروڈیرہ شاہی کےرنگ:ناظم جوکھیو قتل کیس: مقتول کی والدہ کوبھی مقدمےسےدستبردارہونا پڑگیا

    کراچی:ناظم جوکھیو قتل کیس میں مقتول کی والدہ بھی مقدمے سے دستبردار ہوگئیں،والدہ،بیوہ اور بچوں کی جانب سے عدالت میں حلف نامہ بھی جمع کرادیا گیاہے۔یاد رہے کہ اس سے پہلے ناظم جوکھيو کی بيوہ نے پوليس کے تاخيری حربوں اور بااثر افراد کی دھمکيوں سے خوف زدہ ہوکر ملزمان سے سمجھوتا کرليا تھا۔

    ایڈیشنل سیشن جج ملیر کی عدالت میں ناظم جوکھیو قتل کیس میں مقتول کی والدہ بھی مقدمے سے دستبردار ہوگئیں۔ناظم جوکھیو کے ورثا نے عدالت کو بتایا کہ قاتلوں سے صلح ہوگئی ہے اور کیس ختم کرنے پر اعتراض نہیں ہے۔

    ورثا نے ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت میں حلف نامہ جمع کرادیا ہے۔ عدالت نے قانونی ورثاء سے متعلق اخبار میں اشتہار شائع کرنےکا حکم دے دیا اور نادرا سے بھی آئندہ سماعت تک رپورٹ طلب کرلی۔اس کیس میں پاکستان پیپلزپارٹی کے رکن سندھ اسمبلی جام اویس سمیت6 ملزمان گرفتار ہیں۔

    ملزمان پر آج(24 ستمبر) کو فردِ جرم عائد ہونا تھی۔ عدالت نے سماعت15 اکتوبر تک ملتوی کردی ہے۔

    اس سے پہلے گیارہ ستمبر کو ہونے والی سماعت میں ناظم جوکھیو کی والدہ نے عدالت میں کہا تھا کہ ان بیٹے کے خون کا انصاف کیا جائے۔ مقتول کی والدہ نےعدالت کو بتايا تھا کہ مجھ سے زبردستی صلح نامہ پراورکمپرومائیز پیپر پرانگھوٹے لگوائے۔

     

     

    عدالت نے ملزم جام اويس کو 24 ستمبر کو طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔عدالت نے ملزم جام اويس کو 24 ستمبر کو طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی تھی۔

     

     

    اس سے پہلے ناظم جوکھيو کی بيوہ نے پوليس کے تاخيری حربوں اور بااثر افراد کی دھمکيوں سے خوف زدہ ہوکر ملزمان سے سمجھوتا کرليا تھا۔ملزمان سے صلح نامے کے بعد پولیس نے کیس سے دہشت گردی کے دفعات ختم کردی تھيں، اور جام کریم سمیت 13ملزمان کے نام خارج کرنے کی سفارش کی تھی۔پولیس کی سفارش کے بعد انسداد دہشتگردی عدالت نے بھی ملزمان کی درخواست منظور کرتے ہوئے کیس سیشن عدالت منتقل کرديا تھا۔

    مقامی صحافی ناظم جوکھيو کو گزشتہ سال نومبر ميں ملیر میں غیرملکیوں کو شکار سے روکنے کی ويڈيو وائرل ہونے کے بعد قتل کردیا گیا تھا۔مقدمے میں نامزد پيپلزپارٹی کے رکن قومی اسمبلی عبدالکریم جوکھیو ملک سے فرار ہوگئے تھے اور اب ضمانت پر ہيں۔ جب کہ رکن سندھ اسمبلی اویس جوکھیو کیس میں گرفتار ہيں۔

    سرکاری زمین پر ذاتی سڑکیں، کلب اور سوئمنگ پول بن رہا ہے،ملک کو امراء لوٹ کر کھا گئے،عدالت برہم

    جتنی ناانصافی اسلام آباد میں ہے اتنی شاید ہی کسی اور جگہ ہو،عدالت

    اسلام آباد میں ریاست کا کہیں وجود ہی نہیں،ایلیٹ پر قانون نافذ نہیں ہوتا ،عدالت کے ریمارکس

  • ایاز امیر کی بہو کا پوسٹمارٹم مکمل، قتل کی وجہ کا تعین نہ ہوسکا

    ایاز امیر کی بہو کا پوسٹمارٹم مکمل، قتل کی وجہ کا تعین نہ ہوسکا

    ایاز امیر کی بہو کا پوسٹمارٹم مکمل،سارہ کے قتل کی وجہ کا تعین نہ ہوسکا

    مقتولہ سارہ کا پولی کلینک اسپتال میں پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا،مقتولہ سارہ کے جسم کے مختلف حصوں پر زخموں کے نشانات تھے،پوسٹ مارٹم میں سارہ کے سر پر زخم کی تصدیق ہوئی،پوسٹ مارٹم میں سارہ کے قتل کی وجہ کا تعین نہ ہو سکا،ڈاکٹرز نے سائرہ کے موت کے تعین کیلئے فرانزک ٹیسٹ کرانے کا فیصلہ کیا ہے، سارہ کے جگر، دل، پھیھپڑے، تلی، معدے سے سیمپلز لئے گئے ہیں،فرانزک کیلئے سیمپلز پنجاب سائنس ایجنسی لاہور بھجوائے جائیں گے،مقتولہ کی لاش پولی کلینک کے سرد خانے میں رکھ دی گئی ہے

    اسلام آباد پولیس کے ڈی آئی جی آپریشنز سہیل ظفر چھٹہ کے مطابق جمعہ کی صبح ساڑھے نو بجے مقامی لوگوں نے اسلام آباد پولیس کو اطلاع دی کہ شاہنواز کے فارم ہاؤس سے شور کی آوازیں آ رہی ہیں جس پر پولیس کی ٹیم موقع پر پہنچی تو ملزم شاہنواز جائے وقوعہ پر فرش دھو رہا تھا ملزم نے بظاہر اپنی بیوی سارہ انعام کو جم میں استمال ہونے والے ڈمبل سے مسلسل وار کرکے قتل کیا اور پھر لاش کو بیڈروم سے غسل خانے میں منتقل کر دیا

    ابتدائی تفتیش میں ملزم نے اعتراف جرم کر لیا ہے . واضح رہے کہ ایاز امیر کے بیٹے نے اپنی اہلیہ سارا کو قتل کر دیا ہے، قتل کا واقعہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پیش آیا ہے، واقعہ کے بعد پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا تھا

    پہلے مارا، گھسیٹ کر واش روم لے گیا،ایاز امیر کے بیٹے نے سفاکیت کی انتہا کر دی

    آج ہمیں انصاف مل گیا،نور مقدم کے والد کی فیصلے کے بعد گفتگو

    انسانیت کے ضمیرپرلگے زخم شاید کبھی مندمل نہ ہوں،مریم نواز

    مبارک ہو، نور مقدم کی روح کو سکون مل گیا، مبشر لقمان جذباتی ہو گئے

    نور مقدم کیس میں سیشن کورٹ کا فیصلہ خوش آئند ہے ،اسلامی نظریاتی کونسل

    بیٹے کی جانب سے اہلیہ کے قتل کے بعد ایاز امیر کا موقف بھی آ گیا

  • ضمانت خارج ہونے کے باوجود خاوند کے قتل میں ملوث ملزمہ گرفتار نہ ہوسکی

    ضمانت خارج ہونے کے باوجود خاوند کے قتل میں ملوث ملزمہ گرفتار نہ ہوسکی

    ضمانت خارج ہونے کے باوجود خاوند کے قتل میں ملوث ملزمہ گرفتار نہ ہوسکی

    اسلام آباد(شبیرسہام سے)سوشل میڈیا کے ذریعے ہونے والی دوستی نے ایم اے پاس27 سالہ شادی شدہ خاتون کو مڈل پاس 20 سالہ لڑکے کی محبت میں اس قدر اندھا کر دیاکہ خاتون نے اپنی شادی کے صرف ایک ماہ بعد آشناء کے ساتھ مل کر اپنے مجازی خدا کو قتل کروا دیا۔تھانہ کوہسار میں واقعہ کا مقدمہ درج ہوا۔تفتیش شروع ہوئی اور پھر ملزم جوڑا قانون کی گرفت میں آگئے۔ملزمان نے اعتراف جرم بھی کرلیا۔تاہم ملزمہ کی گرفتاری کے ٹھیک تین ماہ بعد مقامی عدالت نے اس کی ضمانت منظور کرلی اور وہ رہا ہوگئی۔مقتول نوجوان کے لواحقین نے ملزمہ کی ضمانت منسوخی کے لئے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے ملزمہ کی ضمانت منسوخی کے آڈر جاری کر دیئے۔لیکن ہائی کورٹ کے اس آڈر کو چار ماہ گزرنے کے باوجود پولیس ٹس سے مس نہ ہوئی اور ملزمہ کی گرفتاری تاحال نہ ہوسکی۔

    اس دلخراش واقعہ کے حوالے سے موصولہ معلومات کے مطابق بہارہ کہو اسلام آباد کے رہائشی اور عراق ایمبیسی میں تعینات نوجوان آفیسر محمد شکیل کی شادی 15 اکتوبر 2021ء کو اپنی کزن عائشہ بی بی کے ساتھ ہوئی۔شادی کے ٹھیک ایک ماہ بعد 14 نومبر 2021ء کو عائشہ اپنے خاوند شکیل کو سیر و تفریح کے بہانے دھوکے سے دامن کوہ پتھر پوائنٹ پر لے گئی۔جہاں اس کا آشناء عبدالمنان نامی نوجوان پہلے سے موجود تھا۔ملزم عبدالمنان نے شکیل کے سر پر پہلے ڈنڈے سے حملہ کیا۔پھر سر پر گولی چلاکر اس کی جان لے لی۔واقعہ کو ڈکیتی کا رنگ دینے کے لئے عائشہ نے اپنی طلائی انگوٹھیاں اور مقتول شکیل کا پرس نکال کر عبدالمنان کے حوالے کیا۔جو موقع سے بائیک پر فرار ہوگیا۔جس کے بعد ملزمہ نے پولیس کو کال کرکے اطلاع دی کہ نامعلوم ڈکیت لوٹ مار کے دوران میرے خاوند کو مار کر فرار ہوگیا ہے۔تاہم تھانہ کوہسار پولیس نے واقعہ کا مقدمہ درج کیا۔تفتیش شروع ہوئی تو اصل حقیقت کھل کر سامنے آگئی۔پولیس نے ملزم عبدالمنان اور ملزمہ عائشہ کو گرفتار کرکے تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کیا تو ملزم جوڑے نے اعتراف جرم کرتے ہوئے سب کچھ سچ سچ اگل دیا۔

    پولیس ریکارڈ کے مطابق مانسہرہ سے تعلق رکھنے والی27 سالہ ملزمہ عائشہ بی بی دختر شیر محمد نے یونیورسٹی آف ہزارہ سے ایم اے اسلامیات کی ڈگری حاصل کی اور مقامی سکول میں ایک سال تک پڑھاتی بھی رہی۔وقوعہ سے ایک سال قبل اسے ایک وٹس ایپ گروپ ”فرینڈز فار ایور“ میں ایڈ کیا گیا۔اس وٹس ایپ گروپ میں 20 سالہ عبدالمنان نامی نوجوان بھی ایڈ تھا۔ جس سے اس کی دوستی ہوگئی۔ملزم عبدالمنان صرف مڈل تک ہی تعلیم حاصل کرسکا تھا اور فوڈ پانڈہ میں نوکری کرتا تھا۔دونوں نے شادی کا منصوبہ بنایا۔لیکن چونکہ عائشہ کی شادی اس کے خالہ زاد شکیل کے ساتھ طے ہوچکی تھی۔اور یوں نا چاہتے ہوئے ایک سال بعد عائشہ کی شادی شکیل کے ساتھ ہوگئی۔ملزم جوڑے نے شادی کے ٹھیک ایک ماہ بعد 14 نومبر 2021ء کو شکیل کو راستے سے ہٹا دیا اور یوں دونوں قانون کے شکنجے میں آگئے۔

    پولیس ریکارڈ کے مطابق ملزم عبدالمنان نے پولیس کو قتل کا پلان بنانے کے حوالے سے بتایاکہ وقوعہ سے ایک ہفتہ قبل مجھے عائشہ نے بہارہ کہو بلوایا اور مجھے اٹھال چوک بہارہ کہو میں بنے فلائی اوور کے اوپر 250 امریکی ڈالر دیئے۔اس وقت عائشہ کے ساتھ ایک بوڑھی خاتون اور ایک جوان لڑکی بھی ساتھ تھیں۔اس نے چلتے چلتے مجھے ہاتھ میں ڈالر دیئے۔یہ ڈالر میں نے سیکٹر ایف ٹین اور بلیوایریا کے منی ایکسچینج میں فروخت کئے۔جس سے مجھے 43 ہزار روپے ملے۔اس رقم میں سے 15ہزار روپے کا پسٹل تیس بور خریدا۔جب میں نے پسٹل خریدا تو عائشہ کو بتایا۔اس کے بعد ہم دونوں نے شکیل کو قتل کرنے کے لئے مختلف جگہوں کا انتخاب کیا۔جن میں مانسہرہ، لیک ویو پارک، مری اور دامن کوہ شامل تھیں۔ جس پر ہم دونوں نے دامن کوہ کی جگہ کو انتخاب کیا۔13 نومبر2021ء کو میں اپنے دوستوں کو بہانے سے لے کر دامن کوہ گیا اور مختلف جگہوں کو چیک کیا تو پتھر والا پوائنٹ مجھے سب سے محفوظ جگہ لگی۔جس کے بارے میں عائشہ کو سنیپ چیٹ کے ذریعے بتایا۔جس پر اس نے کہاکہ میں شکیل کو کل لے کر دامن کوہ آؤں گی۔تم بھی وہاں آجانا۔گھر کے واحد کفیل کی اچانک موت، تھانے کچہری اور عدالتوں کے چکر میں ایک سال کے دوران مقتول خاندان پندرہ لاکھ روپے سے زائد رقم وکلاء ،پولیس اور بھاگ دوڑ پر لگا بیٹھے ہیں۔لیکن انہیں انصاف ملتا نظر نہیں آرہا۔

    مقتول کی بوڑھی بیوہ والدہ گلشن بی بی کا کہنا ہے کہ شکیل کے قتل کو ایک سال بیت گیا۔اس ایک سال کے دوران کیس کے پانچ تفتیشی آفیسر تبدیل ہوئے۔ہمیں وکیل بھی بدلنے پڑے۔تمام جمع پونجی کیس پر لگا بیٹھے ہیں۔لیکن ابھی بھی ہمیں انصاف ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا۔پولیس ملزمہ عائشہ کو گرفتار کرنے کو تیار نہیں۔وہی میرے بچے کی قاتلہ ہے۔جس نے ہمارے ہنستے بستے گھر کو اجاڑ دیا ہے۔میرے مقتول بیٹے شکیل کی ڈیڑھ سے دو لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ تھی۔ہم ایک خوشحال زندگی گزار رہے تھے۔میرے باقی بیٹے چھوٹے ہیں۔جن میں ایک بیٹا بول نہیں سکتا۔ہماری حکام بالا سے مطالبہ ہے کہ میرے بیٹے کی قاتلہ اس کی بیوی کو گرفتار کیا جائے اور اسے کیفرکردار تک پہنچایا جائے۔

    نور مقدم کیس اور مبشر لقمان کو دھمکیاں، امریکہ کا پاکستان سے بڑا مطالبہ، ایک اور مشیر فارغ ہونے والا ہے

    جب تک مظلوم کوانصاف نہیں مل جاتا:میں پیچھے نہیں ہٹوں‌ گا:مبشرلقمان بھی نورمقدم کے وکیل بن گئے

    آج ہمیں انصاف مل گیا،نور مقدم کے والد کی فیصلے کے بعد گفتگو

    انسانیت کے ضمیرپرلگے زخم شاید کبھی مندمل نہ ہوں،مریم نواز

    مبارک ہو، نور مقدم کی روح کو سکون مل گیا، مبشر لقمان جذباتی ہو گئے

    نور مقدم کیس میں سیشن کورٹ کا فیصلہ خوش آئند ہے ،اسلامی نظریاتی کونسل

  • کراچی:سفاک باپ نےہوم ورک نہ کرنےپراپنےبیٹےکوزندہ جلادیا:لاہورمیں ایک اہم شخص اغوا

    کراچی:سفاک باپ نےہوم ورک نہ کرنےپراپنےبیٹےکوزندہ جلادیا:لاہورمیں ایک اہم شخص اغوا

    کراچی میں سفاک باپ نے ہوم وک نہ کرنے پر اپنے 12 سالہ سگے بیٹے کو زندہ جلاکر مارڈالا۔افسوسناک واقعہ کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن میں 14 ستمبر کو پیش آیا، بچہ دو روز اسپتال میں زیر علاج رہنے کے بعد دم توڑ گیا۔

    پولیس نے ملزم نذیر خان کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا ہے۔

    مقتول بچے کی والدہ نے بیان دیا ہے کہ شہیر ہوم ورک نہیں کررہا تھا جس پر اسکے باپ نے غصے میں آکرتھنر پھینک دیا۔خاتون کا کہنا ہے کہ وہ واقعے کے بعد اپنے شوہر سے ڈر گئی تھی اس لیے رپورٹ نہیں کروائی۔پولیس کے مطابق ملزم نذیربیروزگار تھا اس لیے بات بات پرغصہ کرتا تھا اور وہ گھر میں رنگ کیلئے تھنرلایا تھا۔

    ادھر لاہور میں پٹرول پمپ کے مالک کو نامعلوم ملزمان نے اغوا کرلیا۔مغوی کے اہلخانہ غم سے نڈھال ہیں جبکہ پولیس کاغذی کارروائی سے آگے نہ بڑھ سکی، اغوا سے کچھ دیر قبل پٹرول پمپ سے جانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آگئی۔کاہنہ کا بابر ارشاد سیل کی گیارہ لاکھ رقم لیکر پٹرول پمپ سے گاڑی میں نکلا تھا مگر گھر نہیں پہنچ سکا۔

    بابر ارشاد کی گاڑی رنگ روڈ کے قریب فیروز پور روڈ سے مل گئی ہے، مغوی کی اہلیہ نے فیاض بشیر نامی شخص پر اغوا کا الزام لگایا ہے۔فیروز پورہ روڈ پر جس مقام سے مغوی کی گاڑی ملی وہاں سیف سٹی کے کیمرے موجود نہیں تھے۔

    پولیس نے پٹرول پمپ کے اطراف اور دیگر مقامات پر لگے سیف سٹی کیمروں کی فوٹیجز سے مختلف پہلوؤں پر تحقیقات شروع کردی۔

    پاک فوج کی ٹیمیں ریلیف آپریشن میں انتظامیہ کی بھرپورمدد کر رہی ہیں،وزیراعلیٰ

    وزیراعظم فلڈ ریلیف اکاؤنٹ 2022 میں عطیات جمع کرانے کی تفصیلات

    باغی ٹی وی بلوچستان کے سیلاب متاثرین کی آواز بن گیا ہے.

  • کراچی:دوران ڈکیتی مزاحمت پر5افراد قتل:لاہورمیں ڈاکو گھرسے20 تولہ سونا اور7لاکھ روپےلوٹ کرفرار

    کراچی:دوران ڈکیتی مزاحمت پر5افراد قتل:لاہورمیں ڈاکو گھرسے20 تولہ سونا اور7لاکھ روپےلوٹ کرفرار

    کراچی: شہر قائد کے ضلع کورنگی میں مسلح افراد نے ڈکیتی مزاحمت پر دو نوجوانوں کو گولیاں مار کر قتل جبکہ تین کو زخمی کردیا، گزشتہ 36 گھنٹوں میں شہر بھر میں بے لگام ڈاکوؤں نے مزاحمت پر پانچ شہریوں کو موت کی نیند سلادیا۔

    ذرائع کے مطابق ڈسٹرکٹ کورنگی کے دو تھانوں ماڈل کالونی اور لانڈھی کے علاقوں میں ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب ڈاکوؤں مزاحمت پر مزید دو نوجوانوں کو گولیاں مار کر قتل کر دیا ، گزشتہ 36 گھنٹوں کے دوران بے لگام ڈاکوؤں نے 5 افراد کو قتل اور نصف درجن سے زائد افراد کو زخمی کر دیا۔

    پولیس روایتی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تاحال کسی ملزم کو گرفتار نہ کرسکی جس کی وجہ سے شہریوں کا محکمے پر سے اعتبار ختم ہورہا ہے۔ماڈل کالونی کے علاقے میں ڈاکوؤں کی فائرنگ سے قتل کیے جانے والے عثمان کے ورثا نے پوسٹ مارٹم اور پولیس کارروائی کو بے وجہ قرار دیا اور لاش اپنے ہمراہ لے گئے ۔

    تھانہ ماڈل کالونی کی حدود ملیر کاظم آباد ہیرا مسجد کے قریب ڈاکوؤں نے ملک و بیکری شاپ میں فائرنگ کر کے دکاندار کو زخمی کر دیا اور موقع سے فرار ہوگئے ، زخمی ہونے والے شخص کو ایدھی ایمبولینس کے ذریعے اسپتال منتقل کیا جا رہا تھا کہ دوران سفر وہ خون زیادہ بہہ جانے کے باعث زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگیا۔

    مقتول کی لاش جناح اسپتال منتقل کی گئی جہاں ڈاکٹروں نے اس کی موت کی تصدیق کر دی ، مقتول کے سینے اور بازو میں دو گولیاں ماری گئی تھیں۔

    ترجمان کراچی پولیس کے مطابق مقتول کی شناخت 25 سالہ عثمان ولد مشتاق کے نام سے کی گئی ، مقتول عثمان ملیر ماڈل کالونی جعفر باغ علی چوک کے قریب کا رہائشی اور ملک و بیکری شاپ کا مالک تھا ، مقتول 3 بھائیوں میں دوسرے نمبر اور غیر شادی شدہ تھا، جس کا آبائی تعلق پنجاب کے علاقے لیہ سے تھا۔

    مقتول نے تقریباً ڈیڑھ سال قبل مذکورہ دکان کھولی تھی ، واردات کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں واضح طور پر دیکھا گیا کہ موٹرسائیکل سوار دو مسلحہ ملزمان نے دکان میں داخل ہونے کی کوشش کی جس پر دکان کے مالک نے ملزمان کے ہاتھ میں اسلحہ دیکھ کر انہیں روکنے کے لیے کی کوشش کی جس پر ملزمان نے مشتعل ہو کر فائرنگ کر دی اور لوٹ مار کیے بغیر فرار ہوگئے۔

    واقعے کے بعد علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد موقع پر اکھٹی ہوگئی ، اطلاع ملنے پر ماڈل کالونی تھانے کی پولیس بھی موقع پر پہنچ گئی اور فارنزک ڈپارٹمنٹ کو موقع پر طلب کر لیا۔ تفتیشی پولیس اور فارنزک ڈپارٹمنٹ کے افسران نے جائے وقوعہ سے دو خول اور فنگر پرنٹ اور دیگر شواہد اکھٹے کیے دوسری طوف مقتول کے ورثا نے پوسٹ مارٹم اور پولیس کارروائی کرانے سے انکار کر دیا اور کہا کہ اس سے قبل بھی ان کے خاندان کے 3 افراد ڈاکوؤں کی گولیاں کا شکار بن چکے ہیں جن کے لیے پولیس نے کچھ بھی نہیں کیا۔

    خاندان کے ایک شخص کے قتل میں ملوث ڈاکوؤں کو پنجاب سے گرفتار بھی کیا گیا تاہم وہ بھی چھوڑ دیے گئے ، ماڈل کالونی تھانے کے ڈیوٹی افسر نے مقتول کے رشتے داروں کو پوسٹ مارٹم کرانے کے لیے بہت سمجھانے کی کوشش کی تاہم انہوں نے پولیس کی ایک نہ سنی اور لاش ایدھی ایمبولینس میں رکھ کر اپنے ہمراہ گھر لے گئے۔

    ڈسٹرکٹ کورنگی کے تھانہ لانڈھی کی حدود سیکٹر 36/B پیالہ ہوٹل پر ڈاکوؤں نے لوٹ مار کی واردات کے دوران مزاحمت کرنے پر 28 سالہ نوجوان کو تیز دھار آلے کے پے در پے وار کر ہلاک کر دیا اور موقع سے فرار ہوگئے ، مقتول کی لاش ایدھی ایمبولینس کے ذریعے جناح اسپتال منتقل کی گئی۔

    ترجمان کراچی پولیس کے مطابق فوری طور پر مقتول کی شناخت نہیں کی جا سکی ، پولیس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے ، لانڈھی 89 صادق میڈیکل اسٹور پر ڈاکوؤں نے لوٹ مار کی واردات کے دوران مزاحمت کرنے پر فائرنگ کر کے ایک شخص کو زخمی کر دیا اور لوٹ مار کر کے فرار ہوگئے، زخمی ہونے والے شخص کو چھیپا ایمبولینس کے ذریعے جناح اسپتال منتقل کیا گیا ، ترجمان کراچی پولیس کے مطابق زخمی ہونے والے شخص کی شناخت 45 سالہ ذولفقار علی ولد محمد صادق کے نام سے کی گئی۔

    پولیس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے ، منگھو پیر کے علاقے ناردرن بائی پاس کٹی پہاڑی دعا ہوٹل کے قریب ڈاکوؤں نے لوٹ مار کی واردات کے دوران مزاحمت کرنے پر فائرنگ کر کے 2 افراد کو زخمی کر دیا ، زخمی ہونے والے افراد کو چھیپا ایمبولینس کے ذریعے عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا ، ترجمان کراچی پولیس کے مطابق زخمی ہونے والے افراد کی شناخت 25 سالہ محمد ساجد ولد محمد لطیف اور 40 سالہ محمد ندیم ولد جن وڈا کے نام سے کی گئی ، پولیس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔

    ادھرلاہور کے علاقے محافظ ٹاؤن کے ایک گھر میں ڈاکو 20 تولہ سونا اور سات لاکھ روپے کیش لوٹ کر فرار ہوگئے۔

    تفصیلات کے مطابق مسلح ڈاکوؤں نے اہل خانہ کو یرغمال بنا کر لوٹ مار کی، ڈاکووں کے گھر میں داخل اور فرار ہونے کی فوٹیج منظر عام پر آگئی۔

    سی سی ٹی وی میں دیکھا گیا ہے کہ دونوں ڈاکو سفید رنگ کی کار میں سوار تھے جبکہ ڈاکوؤں نے ڈکیتی کا مال رکھنے کے لیے کار دروازے کے باہر پارک کی۔فوٹیج میں چہرے واضح ہونے کے باوجود ڈاکو گرفتار نا ہوسکے۔

  • لاہور: منگیتر کی فائرنگ سے 20 سالہ لڑکی جاں بحق:10 سالہ بچی زیادتی کے بعد قتل

    لاہور: منگیتر کی فائرنگ سے 20 سالہ لڑکی جاں بحق:10 سالہ بچی زیادتی کے بعد قتل

    لاہور:منگیتر کی فائرنگ سے 20 سالہ لڑکی جاں بحق:10 سالہ بچی زیادتی کے بعد قتل ،اطلاعات کے مطابق پہلے واقعہ میں لاہور میں منگیتر کی فائرنگ سے بیس سالہ لڑکی جاں بحق ہوگئی، پولیس نے ملزم کو گرفتار کرکے تفتیش شروع کردی۔

    پولیس کے مطابق واقعہ وحدت کالونی کی حدود میں پیش آیا، بیس سالہ رباب فاطمہ کا منگیتر دو دن پہلے ملتان سے آیا تھا۔ملزم نے مقتولہ کے بھائی کے پستول سے فائرنگ کی جس سے دو گولیاں رباب کے بازو اور سینے پر لگیں۔

    پاک فوج نے فلڈ ریلیف ہیلپ لائن قائم کر دی،

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    پولیس نے ملزم علی گردیزی کو آلہ قتل سمیت گرفتار کرلیا ہے، ملزم نے ابتدائی بیان میں بتایا ہے کہ گولی حادثاتی طور پر چلی۔پولیس نے حتمی وجوہات اور حقائق جاننے کے لیے دونوں کے موبائل فون اور دیگر شواہد اکھٹے کرکے تفتیش شروع کردی ہے۔

    لاہور میں ایک دردناک واقعہ میں لاہور میں 10 سالہ بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔پولیس کے مطابق لاہور کے علاقے مناواں میں سوئمنگ پول سے مردہ حالت میں ملنے والی باجوڑ ایجنسی کی بچی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ نے تفتیش کو نیا رخ دے دیا۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    متحدہ عرب امارات کے حکام کا آرمی چیف سے رابطہ،سیلاب زدگان کیلیے امداد بھجوانے کا اعلان

    مناواں پولیس نے سوئمنگ پول کے مالک کو گرفتارکررکھا ہے لیکن شریک ملزم اسلم تاحال مفرور ہے جس کی عدم گرفتاری پر متاثرہ فیملی سراپا احتجاج ہے۔

    بچی کی لاش چند روز قبل سوئمنگ پول سے ملی تھی، پوسٹ مارٹم رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ بچی سے دو بار زیادتی کی گئی جس کے بعد اسے قتل کیا گیا۔مقتول بچی کے ورثاء نے الزام عائد کیا ہے کہ ملزمان بااثر ہیں جن کے ساتھ پولیس ملی ہوئی ہے۔

  • کراچی میں نامعلوم افراد نے خواجہ سرا کو قتل کر دیا

    کراچی میں نامعلوم افراد نے خواجہ سرا کو قتل کر دیا

    کراچی: نامعلوم افراد نے خواجہ سرا کو تیز دھار آلے کے وار سے قتل کر دیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق خواجہ سراء کے قتل کی واردات کراچی کے علاقے شیرشاہ میں رونما ہوئی، جہاں نامعلوم افراد نے جناح روڈ پر ایک شخص کو تیز دھار آلے سے قتل کیا اور موقع سے فرار ہوگئے۔

    دبئی سے آنیوالا طیارہ سیالکوٹ ایئرپورٹ پرخوفناک حادثے سے بال بال بچ گیا

    واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی اور مقتول کی لاش کو چھیپا ایمبولینس کے ذریعے سول اسپتال منتقل کیا گیا
    پولیس کے مطابق مقتول کی شناخت 45 سالہ ماجد ولد سعید کے نام سے کی گئی ہے جو شیرشاہ جناح روڈ کا رہائشی تھا۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ سے مقتول کی لاش نیم برہنہ حالت میں ملی تھی، واقعے مختلف پہلوؤں سے مزید تحقیقات جاری ہیں۔

    دوسری جانب کراچی کے علاقے کورنگی نمبر ایک میں نامعلوم موٹرسائیکل سوار ملزمان نے ڈکیتی کی واردات کے دوران مزاحمت کرنے پر شہری کو فائرنگ کرکے قتل کردیا ہے پولیس نے جائے واردات پر پہنچ کر لاش کو تحویل میں لےکر ہسپتال منتقل کر دیا –

    پولیس کا چھاپہ،ڈیرے سے 3 لڑکیوں سمیت 13 ملزمان گھناؤنا کام کرتے ہوئے گرفتار

    علاوہ ازیں سیلاب کے باعث سندھ میں مزید 15 افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ نوابشاہ میں نالے کا کٹ بند کرنے پر مقامی افراد کے حملے سے اسسٹنٹ کمشنر کی سیکیورٹی پر مامور اہلکار کلہاڑی کے وار سے جاں بحق ہو گیا۔

    نواب شاہ میں علی رضا موری سیم نالےکا کٹ بند کرنے پر مقامی افراد کا ریونیو اہلکاروں پر حملہ ہوا جس سے اسسٹنٹ کمشنر قاضی احمد کی سکیورٹی پر مامور اہلکار کلہاڑی کے وار سے جاں بحق ہوگیا پولیس نے واقعے میں ملوث 4 ملزمان کو گرفتار کر کے تفتیش شروع کر دی ہے مقامی افراد نےعلی رضا موری سیم نالےمیں غیر قانونی کٹ لگایا تھا۔

    دوران پرواز کاک پٹ میں پائلٹ اورمعاون کے درمیان ہاتھا پائی,دونوں معطل

  • مردان میں باچا خان میڈیکل کالج کے ہاسٹل میں طالبہ کی لاش برآمد

    مردان میں باچا خان میڈیکل کالج کے ہاسٹل میں طالبہ کی لاش برآمد

    پشاور:باچاخان میڈیکل کالج مردان کے ھاسٹل میں میڈیکل طالبہ کی پراسرار ہلاکت،سیدوشریف سوات سے تعلق رکھنے والی میڈیکل طالبہ کی لاش ھاسٹل کے کمرےکادروازہ توڑ کرنکالی گئی ، ابتداٸی پوسٹ مارٹم کے مطابق اکتیس سالہ طالبہ کی موت زہرخوانی سے ہوئی،

    مردان سے ذرائع کے مطابق جانبحق ہونے والی طالبہ کے بازو پر نشہ آور انجکشن کے نشانات بھی دیکھے گئے ہین ، ادھراس سلسلے میں تحقیقاتی اداروں نے دو موباٸل سیٹس سمیت اھم ثبوت قبضے میں لے لیےہیں ،یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ طالبہ کی ہلاکت کی تھانہ شیخ ملتون میں رپورٹ درج کروا دی گئی ہے ۔

    مقامی ذرائع کے مطابق گزشتہ روز باچاخان میڈیکل کالج مردان کےھاسٹل کےکمرے کادروازہ توڑکرفورتھ سمسٹر کی میڈیکل کی طالبہ باچاصحت ولدمحمدیعقوب سکنہ سیدوشریف سوات کی لاش برآمد کردی گٸی،

    تھانہ شیخ ملتون پولیس نے لاش ضروری پوسٹ مارٹم کیلٸے ایم ایم سی ھسپتال منتقل کردیاگیا جہاں پرپوسٹ مارٹم کے بعدلاش لواحقین کے حوالہ کردی گٸی،ابتداٸی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق طالبہ کے بازوں پر نشہ آور انجکشن کے نشانات ہیں اورموت کی وجہ بظاہرنشہ آورانجکشن کی اوور ڈوز ھونے کی وجہ بھی ہوسکتی ہے،تاہم لاش کے مختلف اعضاء لیبارٹری بھیج دیٸے گٸے،

    ادھر باچاخان میڈیکل کالج مردان کے ڈین پروفیسر ڈاکٹرمحمدعباس نے موقف ظاہر کیا کہ فورتھ سمسٹر کی میڈیکل کی طالبہ باچاصحت کی دو رومیٹ طالبات ھاسٹل سے گھر گٸی تھی جبکہ زیربحث میڈیکل طالبہ ھاسٹل کے کمرے میں اکیلی تھی جس کے کمرے کادروازہ صبح نہ کھولنے پر تھوڑ کر اس کی لاش برآمد کردی گٸی،انہوں نے واضح کیا کہ تحقیقات کے بعد اصل صورتحال سامنے آجاٸےگی۔