ضلع اوکاڑہ (علی حسین مرزا) چند روز قبل کم عمر بچے کے اغواء اور قتل کا معمہ حل ہوگیا ہے۔ قاتل بچے کا سوتیلا ماموں نکلا جس نے بدفعلی کے بعد بچے کو قتل کردیا۔ اوکاڑہ پولیس بڑی مستعدی سے ملزم کا سراغ لگا کر گرفتار کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ تفصیلات لے مطابق دیپالپور کا رہائشی کم عمر سعید انور گھر سے لاپتہ ہوگیا تھا۔ اسکے والدین نے چورستہ میاں خان تھانہ میں گمشدگی کی رپورٹ درج کروائی لیکن دو روز قبل بچے کی مسخ شدہ لاش قریبی جوہڑ سے برآمد ہوئی ہے۔ پولیس کی تشکیل کردہ ٹیموں نے انتہائی پیشہ وارانہ اور جدید طریقوں کے ذریعے ناقابل تردید ٹھوس شواہد کی بنیاد پر ملزم عرفان کو گرفتار کرلیا جو کہ بچے کا سوتیلا ماموں ہے۔ پولیس نے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔
Tag: قتل

ماں کے بعد مدعیہ بہن بھی قتل
قصور
پتوکی چونیاں روڈ پر افسوس ناک واقعہ
گزشتہ روز ماں کے قتل اور بہن پر فاٸرنگ کے مقدمہ کی مدعیہ زینب بی بی کو بھی قتل کر دیا گیا
تفصیلات کے مطابو پرانی منڈی پتوکی مزمل بازار میں جاٸیداد کی لالچ میں بیٹے نے اپنے بہنوٸی کےساتھ مل کر پہلے ماں کو قتل کیا تھا مقتولہ زینب بی بی اپنی ماں کے قتل اور اپنی بہن کے مقدمہ میں مدعیہ تھی چند روز قبل سگے بیٹے عظیم نے اپنے بہنوٸی اور اسکے بھاٸی کے ساتھ مل کر اپنی ماں اور بہن پر فاٸرنگ کی تھی ماں موقع پر جانبحق جبکہ بہن شدید زخمی ہوئی تھی تینوں ملزمان ندیم مبین اور عظیم 21.2.2020 سے فرار ہیں
ملزمان نے مقدمہ کی مدعیہ زینب بی بی کو بھی فاٸرنگ کر کے قتل کر دیا
پولیس مصروف کاروائی ہے
رشتہ کے تنازع پر قتل
قصو
پتوکی میں رشتہ کے تنازع پر قتل فائرنگ کرکے تنویر نے اپنے کزن آصف کو قتل کردیا
تصیلات کے مطابق پتوکی میں محمد آصف اپنے کزن تنویر کے گھر ناروکی ماہجہ پتوکی ملنے آ یا تھا مقتول محمد آصف پتوکی کے نواحی گاؤں ساکن شیخم کا رھائشی ہے مقتول کی عمر 25 سال ہے مقتول محمد آصف کو رشتہ کے تنازع پر قتل کیا گیا ہے مقتول کے سینے پر تین فائر لگے لاش کو پوسٹ مارٹم کیلئے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال پتوکی منتقل کر دیا گیا ہے مقتول کے بھائی محمد رحمان کی تحریری درخواست پر پولیس نے کاروائی شروع کردی
پانی کے تنازع پر قتل
قصور
چونیاں کے نواح موضع نوشہرہ میں کھیتوں میں پانی لگانے کے تنازع پر ایک شحض قتل
تفصیلات کے مطابق چونیاں کے نواحی گاؤں موضع نوشہرہ میں کھیتوں میں پانی لگانے گئے ہوئے شحض انور کو کلہاڑی کے پے در پے وار کے د قتل کر دیا
برکت علی کا انور کے ساتھ کھیتوں میں پانی لگانے کا تنازعہ چلا رہا تھا وقوعہ کے روز دونوں آپس میں جھگڑ پڑے اور برکت نے طیش میں آکر انور کو کلہاڑیوں کے پے درپے وار کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا پولیس مصروف تفتیش ہے
اغوء شد نوجوان کی لاش برآمد
قصور
کنگن پور کے نوجوان کی لاش منڈی احمد آباد سے برآمد
تفصیلات کے مطابق کنگن پور کے نواحی گاؤں کل سے چند دن پہلے اغواء ہونے والے نوجوان کی لاش مل گئی تھانہ کنگن پور کی راویتی بے حسی نوجوان کی جان لے گئی
9.1. 2020 کو کنگن پور پولیس نے موضع کل کے اغواء کا پرچہ درج کیا تھا اور نامزد ملزم عدیل کو شامل تفتیش کرنے کے بعد چھوڑ دیا تھا جبکہ ورثاء نے قتل کا شبہ ظاہر عدیل پر کیا تھا
اج مغوی محمد فاروق کی لاش موضع ہڑیل پتن تھانہ منڈی احمد آباد سے برآمد ہوئی ہے ورثاء نے کہا ہے کہ اگر پولیس اپنی بھر پور کوشش کرتی تو نوجوان کی جان بچائی جا سکتی تھی لہذہ وزیر اعلی پنجاب اور آئی جی پنجاب نوٹس لے کر ہمیں انصاف مہیا کریں3 افراد قتل 1 زخمی علاقے میں سوگ
قصور
گاءوں کھارا میں 3 افراد قتل 1 شدید زخمی
تفصیلات کے مطابق قصور کے نواحی گاؤں کھارا میں 3 افراد قتل کر دیئے گئے جبکہ ایک شدید زخمی ہے بتایا جا رہا ہے کہ مقتولین حال ہی میں جیل سے رہا ہو کر آئے تھے اور کھارا گاؤں میں اپنے عزیزوں سے ملنے آئے تھے جن کا پیچھا کرتے ہوئے مخالفین نے انہیں کھارا بھلو روڈ پر ان کی گاڑی پر شدید فائرنگ کرتے ہوئے قتل کیا بتایا جا رہا ہے کہ ملزمان 1 موٹرسائیکل 125 اور 1 عدد گاڑی پر آئے اور مقتولین کی کار ایکس ایل آئی پر شدید فائرنگ شروع کر دی جس کے نتیجے میں 3 افراد موقع پر ہلاک جبکہ 1 شدید زخمی ہے
پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی ہے
بہن اورکزن ماں کے کہنے پرقتل،غیرت یا مخاصمت ،قاتل نےخود ہی بتادیا
بابلیانہ :بہن اورکزن کو ماں کے کہنے پرقتل،غیرت یا مخاصمت ،قاتل نےخود ہی بتادیااطلاعات کے مطابق رائیونڈ میں غیرت کے نام پر بھائی نے ماں کے ساتھ ملکر بہن اور کزن کو پھندا دیکر قتل کر دیا، ملزمان نے واردات کے بعد تھانے جا کر گرفتاری دے دی۔
کھجوروں کی سرزمین :3 کروڑ 43 لاکھ درخت ، زیتون کے کتنے درخت ، خبر نے حیران کردیا
پولیس کے مطابق جہاں 20 سالہ مرتضیٰ اپنی کزن راشدہ سے ملنے کیلئے آیا تو راشدہ کے بھائی اور ماں نے مل کر انہیں قتل کر دیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان نے مقتولین کو پھندا ڈال کر قتل کیا اور پھر واردات کے بعد گرفتاری دینے خود ہی تھانے پہنچ گئے۔
خود کشی ایک خوفناک المیہ—-از– جویریہ چوہدری
پولیس کے مطابق مرتضیٰ اورراشدہ شادی کرنا چاہتے تھے مگر ان کے والدین ان کی شادی پر رضا مند نہ تھے جبکہ مرتضیٰ کے ورثا کا کہنا ہے کہ ملزمان نے مرتضیٰ کو دھوکے کے ساتھ گھر بلایا اور پھر اسے قتل کر دیا۔
اتنی ناراضگی اچھی نہیں ہوتی ، بیوی کے بال کیوں کاٹے ؟
پولیس اور فرانزک ٹیموں نے موقع سے شواہد اکٹھے کرکے لاشیں پوسٹ مارٹم کیلئے مردہ خانے منتقل کر دیں جبکہ واردات کا مقدمہ درج کرکے گرفتار ملزمان سے تفتیش بھی شروع کر دی گئی ہے۔

"صلاح الدین کا مبینہ قتل ریاست کے سر پر ہے” محمد عبداللہ
عمران خان صاحب آپ نے سانحہ ساہیوال پر کہا کہ میں بیرون ملک سے واپس آکر اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچاؤں گا اگر آپ واپس آچکے تو آپ کو خبر ہو کہ اب اک اور بے گناہ اور معصوم نوجوان صلاح الدین ان پولیس والوں کی درندگی کی بھینٹ چڑھ گیا. ہنسنے مسکرانے والا صلاح الدین جو خود تو چلا گیا لیکن اس نظام پولیس پر ایک ایسا زناٹے دار تھپڑ رسید کرگیا جو شاید اس کی موت کی ہی وجہ بن گیا. چہرے پر بچوں کی سی معصومیت لیے بھولے لہجے میں اپنے تفتیشی افسران سے کہنے لگا کہ جان کی امان پاؤں تو اک بات عرض کروں. اذن سوال ملنے پر جو بولا تو اس نظام پولیس اور درندگی کو عیاں کرگیا کہنے لگا کہ آپ نے انسانوں کو مارنا کہاں سے سیکھ لیا. اور پھر مبینہ طور پر جان کی امان نہ مل سکی اور سفید ریش بوڑھے باپ کو صلاح الدین کی میت ہی ملی جس پر مبینہ طور پر غیر انسانی تشدد کے آثار واضح ہیں. پولیس کی زیر حراست یہ موت پورے نظام پولیس اور ریاست کے سر پر ہے. اس مبینہ قتل کی ذمہ دار ریاست پاکستان ہے، یہ نظام تفتیش اور نظام پولیس ہے جو نہ جانے کتنی ماؤں کے لعل کھاگیا، کتنی بیویوں کے سہاگ اجڑ گئے، کتنی بہنیں اپنے بھائیوں کی راہ تکتی رہ گئیں اور کتنے ہی باپ اپنے بڑھاپے کے سہارے کی تلاش میں در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوئے.
عمران خان صاحب، جناب قمر جاوید باجوہ صاحب، چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ صاحب، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی صاحب، اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر صاحب ، عثمان بزدار صاحب، آئی جی پنجاب پولیس، مکمل پارلمینٹ، تمام قومی اداروں کے سربراہان صلاح الدین کا مبینہ قتل یہ ریاست پاکستان پر ہے آپ سب کے سر ہے اور پوری قوم کے سر پر ہے. آخر کب تک اس قوم کے بیٹے تفتیش کی اس درندگی کی بھینٹ چڑھتے رہیں گے. پولیس کے سپاہی اور افسران کب تک ترقیوں کے چکر میں بے گناہوں کو بہیمانہ طریقے سے قتل کرتے رہیں گے؟ ذہنی معذور صلاح الدین کا خون رائیگاں نہیں جانا چاہیے..
اپنے دوستوں سے جو معصوم صلاح الدین کو ملک چوروں اور ڈکیتوں سے ملا رہے ہیں یا موازنہ کر رہے ہیں چھوٹا اور بڑا چور کہہ کر میں ان سے گزارش کرتا ہوں صلاح الدین چور نہیں تھا. وہ تو اس کیفیت میں تھا جس میں شریعت اسلامی بھی فرائض تک میں درگزر کرجاتی ہے. خدارا صلاح الدین کو چور کہہ کر اس کے والدین اور ورثاء کے دلوں پر چھریاں نہ چلائیں جو صلاح الدین سے پہلے ہی دو جواں سال بیٹے اس دھرتی کے لیے قربان کرچکے ہیں.
Muhammad Abdullah 
سابق مصری صدر کو قتل کیا گیا .طیب اردوان کا دعویٰ
ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے سابق مصری صدر محمد مرسی کی طبعی موت کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰکیا ہے کہ محمد مرسی کو قتل کیا گیا ہے.طیب ایردوان کا کہنا ہے کہ وہ مصر کے خلاف عالمی عدالتوں میں کاروائی کرانے کے لیے لازمی اقدامات اٹھائیں گے۔
ایردوان نے استنبول کے سانجاق تپے میں منعقدہ اجتماعی افتتاحی تقریب سے خطاب میں مصر کے جمہوری طریقے سے منتخب شدہ پہلے اور واحد صدر محمد مرسی کی وفات کے حوالے سے بتایا کہ "مرسی کی موت قضائے الہی سے واقع نہیں ہوئی بلکہ ان کا قتل کیا گیا ہے۔ بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ مرحوم کمرہ عدالت میں 20 منٹ تک زندگی و موت کی جنگ لڑتے رہے۔ وہاں پر موجود حکام اس صورتحال کے سامنے ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے رہے۔ ہم اس چیز کا تعاقب جاری رکھی گے اور عالمی عدالت میں مصری حکومت کے خلاف کاروائی کے لیے لازمی اقدامات اٹھائیں گے۔ طیب اردوان نے کہا کہ ہم اسلامی تعاون تنظیم سے اس چیز کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اس تنظیم کو اس حوالے سے لازمی قدم اٹھانا ہو گا۔

بیوی کا لرزہ خیز قتل ، ایس ایچ او نے رحمدلی کی تاریخ رقم کردی
قصور:-
منڈی عثمانوالہ کے نواحی گاؤں میں غیرت کے نام پر سفاک شوہر نے دو بچوں کی ماں ،اپنی بیوی کو کسی کے وار کرکے انتہائی بے دردی سے قتل کردیا کردیا اور خود فرار ہوگیا۔باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق واقعہ کی اطلاع ملتے ہی تھانہ منڈی عثمانوالہ پولیس موقع پر پہنچ گئی لاش کو قبضہ میں لے کر شواہد اکٹھے کرنے کے بعد لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے ڈی ایچ کیو ہسپتال قصور منتقل کر دیا گیا ہے۔ ایس ایچ او منڈی عثمانوالہ ملک عبد الجبار نے اپنی سربراہی میں سپیشل ٹیم تشکیل دے کر ڈی پی او قصور عبدالغفار قیصرانی کی ہدایت کے مطابق ملزم کی تلاش شروع کردی اور چند ہی گھنٹوں میں ملزم کو گرفتار کر کے ایف آئی آر درج کر دی گئی ہے۔
ملزم کے 2 معصوم بچے جن کو ورثاء کی عدم موجودگی کی وجہ سے پولیس اپنے ساتھ تھانے لےآئی تھی۔
ایس ایچ او تھانہ منڈی عثمانوالہ ملک عبدالجبار نے اپنے ہاتھوں سے دونوں بچوں کو کھانا کھلایا اور حقیقی بیٹوں کی طرح پیار کیا۔ کچھ دیر بعد ورثاء میں سے بچوں کے نانا بچوں کو گھر لے جانے کے لیے تھانہ آئے تو بچوں نے ان کے ساتھ جانے سے صاف انکار کردیا اور ایس ایچ او کے گلے لگ کر روتے رہے۔ ایس ایچ او ملک عبدالجبار نے بچوں کو خود منہ بولے بیٹے بنا کر پرورش کرنے کی خواہش کا اظہار کرکے رحم دلی کی نئی مثال قائم کر دی اس وقت موقعہ پر موجود ہر شخص کی آنکھ اشکبار ھو گئی۔









