Baaghi TV

Tag: قحط

  • پاکستان میں غذائی اجناس کی کمی نہیں ، بحران کی وجہ مہنگائی اور شاہرات کا بند ہونا ہے

    پاکستان میں غذائی اجناس کی کمی نہیں ، بحران کی وجہ مہنگائی اور شاہرات کا بند ہونا ہے

    لاہور:پاکستان میں غذائی اجناس کی کمی نہیں ، بحران کی وجہ شاہرات کا بند ہونا ہے ،اطلاعات کے مطابق مرکزی صدر پاکستان ٹرانسپورٹ کونسل تنویر احمد جٹ کا کہنا ہےکہ اس وقت غذائی اجناس سے بھری 25 ہزار مال بردارگاڑیاں 5 دن سے سڑکیں بند ہونے سے پھنسی ہوئی ہیں۔

    پاکستان میں غذائی اجناس کے بحران کے حوالے سے پھیلائی جانے والی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے ایک بیان میں تنویر احمد جٹ کا کہنا تھا کہ 25 ہزار مال بردار گاڑیوں میں کھانے پینےکی چیزیں بھری ہیں، مال بردارگاڑیاں پھنسنے سے غذائی اجناس کی قلت ہو رہی ہے اور قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ورنہ کوئی کمی نہیں ہے

    تنویر احمد جٹ کا کہنا تھا کہ سکرنڈ، نوشہروفیروز، کنڈیارو، بھریا اور خیرپور میں مال بردار گاڑیوں کو لوٹا بھی گیا ہے، ڈرائیورزپر تشدد اور فائرنگ کے واقعات بھی سامنے آرہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ متعلقہ انتظامیہ، پٹرولنگ پولیس اور موٹروے پولیس تحفظ دینے میں ناکام ہے، ان حالات میں کاروبار بنداور گاڑیاں کھڑی کرنے پر مجبور نہ کیا جائے، قانون نافذ کرنے والے اداروں سے اپیل ہےکہ ڈرائیورز اور گاڑیوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔

    ادھر یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ حکومت بھی اس معاملے پرلچک دکھانے کے موڈ میں نہیں ہے ، جس کی وجہ سے قحط کی صورت بھی بن سکتی ہے اور قیمتوں کے بڑھ جانے سے مہنگائی میں بھی بہت زیادہ اضافہ ہوسکتا ہے ،

    پاک فوج نے فلڈ ریلیف ہیلپ لائن قائم کر دی،

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    متحدہ عرب امارات کے حکام کا آرمی چیف سے رابطہ،سیلاب زدگان کیلیے امداد بھجوانے کا اعلان

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر کی ملاقات

  • افغانستان قحط کے دہانے پر پہنچ گیا، بدترین حالات پیدا ہونے کا خدشہ ہے،اقوام متحدہ کا انتباہ

    افغانستان قحط کے دہانے پر پہنچ گیا، بدترین حالات پیدا ہونے کا خدشہ ہے،اقوام متحدہ کا انتباہ

    اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان قحط کے دہانے پر پہنچ گیا ہے-

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس( اے پی) اقوام متحدہ کے شعبہ انسانی امداد کے سربراہ مارٹن گریفتھ کا کہنا ہے کہ ملک کی 60 لاکھ آبادی انتہائی مفلسی کی حالت میں ہے، موسم سرما کے دوران بدترین حالات پیدا ہو سکتے ہیں۔

    یورپ میں توانائی بحران:سردیوں میں ٹھٹھرکر مرجائیں گے:یورپی عوام دہائی دینے لگی

    مارٹن کے مطابق موسم سرما شروع ہونے والا ہےاوراس سےقبل گھروں کی مرمت وغیرہ بہت ضروری ہےاورگرم کپڑوں اورکمبلوں سمیت دوسرے سامان کی فراہمی بھی ضروری ہےاسی طرح ان علاقوں میں ابھی سے خوراک کا سامان پہنچانےکی ضرورت ہے جو موسم سرما کے دوران برفباری کی وجہ سے ملک سے کٹ جاتے ہیں۔

    مارٹن گریفتھ کے مطابق موسم سرما گزارنے کے لیے افغانستان کے عوام کو 77کروڑ ڈالر کی ضرورت ہےانہوں نے ڈونرز پر زور دیتے ہوئے کہا افغانستان کی فنڈنگ بحال کی جائے۔

    مارٹن گریفتھ نےسلامتی کونسل کو بتایا کہ اس وقت افغانستان کوکئی بحرانوں کاسامنا ہےجن میں انسانی، معاشی، موسماتی، بھوک اور غربت جیسے مسائل شامل ہیں تنازعات، غربت کے علاوہ موسمیاتی تبدیلیوں نے طویل عرصہ سے افغانستان کو مشکلات میں ڈالا ہوا ہے تاہم اس وقت سب سے معاملہ اس امداد کا ہے جو ایک سال طالبان کی حکومت آنے کے بعد ممالک نے روک دی تھی۔

    امریکا میں منجمد اثاثے افغان عوام کی امانت ہیں اس پر نائن الیون کے متاثرین کا کوئی…

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ افغانستان کی آدھی سے زیادہ آبادی جو دو کروڑ 40 لاکھ سے زیادہ بنتی ہے جو مدد کی شدید ضرورت ہے جبکہ ایک کروڑ90 لاکھ خوراک کی کمی کا شکار ہیں طالبان کے پاس ملک کےمستقبل کےلیے کوئی بجٹ نہیں ہے اور یہ بات واضح ہے کہ وہاں امدادی اور ترقیاتی کام شروع کرنا ضروری ہے۔

    انہوں نے متنبہ کیا کہ سات کروڑ سے زائد افغان دور دراز علاقوں میں رہتے ہیں اور اگر زراعت اور مویشیوں کو تحفظ نہ دیا گیا تو لاکھوں کی تعداد میں زندگیاں داؤ پر لگ جائیں گی کیونکہ خوراک پیدا کرنے کی صلاحیت کم ہو جائے گی۔

    خیال رہے پچھلے سال 15 اگست کو طالبان نے امریکہ اور اتحادی افواج کے ملک سے نکلنے کے بعد اقتدار سنبھالا تھا جس کے بعد کئی ممالک نے وہاں کے لیے امدادی فنڈز روک دیے تھے۔

    ایشیا کپ، افغانستان نے بنگلہ دیش کو بھی شکست دے دی

  • صومالیہ بنتاپاکستان

    صومالیہ بنتاپاکستان

    تحریر :ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    2011ء میں صومالیہ کو بد ترین خشک سالی کاسامناکرنا پڑا جسے اقوامِ متحدہ نے قحط قرار دیا۔ شدید قحط کے باعث روزانہ سینکڑوں افراد ہلاک ہوتے رہے اوراس طرح 2011ء میں قحط سے ڈھائی لاکھ سے زائد لوگ ہلاک ہوگئے۔پھر2020ء میں صومالی حکومت نے بڑھتی ہوئی خشک سالی کی وجہ سے 23 نومبر کو ملک بھر میں ہنگامی حالات کا اعلان کر دیا تھا۔صومالیہ میں بھوک کے بحران کی وجہ محض خراب فصلیں، سیلاب اور خشک سالی نہیں بلکہ کرپشن ، بد انتظامی اور ناقص حکومتی نظام کا بھی کا عمل دخل تھا۔ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ گزشتہ دس سالوں میں پاکستان میں کرپشن میں اضافہ ہوا جبکہ اس کے پڑوسی ملک بھارت میں کمی ہوئی ہے۔موجودہ حالات میں پاکستان تیزی سے صومالیہ بننے کی طرف گامزن ہے ،اس کی کئی وجوہات ہیں ان میں سے چند وجوہات کاجائزہ لیتے ہیں۔ شہبازشریف کی حکومت نے مسلسل چوتھی مرتبہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے پروزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا تھا کہ عمران خان کی سابقہ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کاIMF سے معاہدہ کیاتھا اس لئے ہمیں مجبوراََ قیمتیں بڑھانی پڑیں،جس پر عوام اور اپوزیشن جماعت PTIنے مزمت کی اور کہاکہ اگرہم نے کوئی معاہدہ کیا ہے وہ قوم کے سامنے لایاجائے ،جس پر مفتاح اسماعیل نے پینترابدلاکہ آئی ایم ایف کی کوئی شرط نہیں بلکہ ڈالرکی بڑھتی قیمت اور عالمی منڈی میںتیل کی زیادہ ہوتی قیمتوں کوقراردیا،ان دوماہ میں ان سیاسی ارسطوئوں نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھاکرعوام کومہنگائی کے سونامی کی خطرناک لہروں میں بیدردی سے پھینک دیا۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشرباء اضافہ سے گڈزٹرانسپورٹ کومجبوراََ کرایوںمیں اضافہ کرنا پڑا، کرایوں کے اضافے سے ہرچیزکی قیمت بڑھ جاتی ہے اور حکومتی پنڈت یہ کہتے ہوئے نہیں تھکتے کہ ہم نے عام شہری پرکوئی اضافی بوجھ نہیں ڈالا۔
    حکومت کی جانب سے 13 بڑے صنعتی شعبوں سیمنٹ ، ٹیکسٹائل، شوگر ملز، آئل اینڈ گیس، فرٹیلائزر ، ایل این جی ٹرمینلز، بینکنگ، آٹو موبائل، بیوریجزور یسٹورنٹس، کیمیکلز، سگریٹ، سٹیل اور ایئر لائنز پر 10 فیصد پر ٹیکس کے نفاذ سے ان شعبوں میں کام کرنے والی کمپنیوں کے منافع میں کمی واقع ہو گی جس کے نتیجے میں ملک میں مقامی و غیر ملکی سرمایہ کاری کے عمل میں کمی اور روز گار کے نئے مواقع نہ پیدا ہونے کے امکانات پیداہوگئے ہیں۔ واضح رہے کہ اس وقت کارپوریٹ ٹیکس کی شرح 29 فیصد ہے جبکہ ان 13 شعبوں کے علاوہ دیگر شعبہ جات پر 4 فیصد پر ٹیکس عائد ہے جبکہ وفاقی حکومت کے نئے اعلان کے مطابق مذکورہ 13 شعبوں پر 10 فیصد کی شرح سے ایک سال کیلئے سپر ٹیکس عائد کیا گیا ہے، اس وقت ملک میں کارپوریٹ اور دیگر مد میں ٹیکسوں کی شرح لگ بھگ 50 فیصد کے قریب پہنچ گئی ہے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حکومت نے ٹیکس نیٹ میں اضانے کی بجائے پہلے سے ٹیکس دینے والوں پر مزید بوجھ ڈال دیا جس کے نتیجے میں ملک میں معاشی و اقتصادی سرگرمیاں متاثر ہورہی ہیں۔ نئے حکومتی اقدامات میں بڑے سیکٹرز پر سپر ٹیکس عائد کرنے کے ساتھ تنخواہ دار طبقے کو بجٹ میں دیا جانے والا ریلیف بھی واپس لے لیا گیا۔سپرٹیکس کے ثمرات عوام تک فوراََ پہنچ گئے،عوام سے ضروریات زندگی بھی چھین لی گئیں۔ملک میں بجلی نام کوبھی نہیں ہے اوپرسے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ عوام پرایٹم بم گرانے کے مترادف ہے۔
    پاکستان ایک زرعی ملک ہے،جس کی 70فیصد آبادی دیہاتوں میں رہتی اور زراعت سے وابستہ ہے اورزراعت کوپاکستان کی ریڑھ کی ہڈی قراردیاجاتا ہے موجودہ حکومت نے زراعت سے وابستہ کسان کو زندہ درگورکردیا۔اپنی مخلوط حکومت بچانے کیلئے جنوبی پنجاب کی نہروں کاپانی بند کرکے سندھ کودیاجارہاہے ،ہم یہ نہیں کہیں گے کہ سندھ کوپانی کیوں دیاجارہاہے سندھ بھی پاکستان ہے وہاں کے کسان بھی ہمارے اپنے ہیں لیکن ہم صرف اتنا گذارش کریں گے منصفانہ تقسیم کے فارمولاپرعملدرآمدکرتے ہوئے سندھ کواس کے حصے کاپانی دیاجائے اورجنوبی پنجاب کے کسان سے سوتیلی ماں کاسلوک روانہ رکھاجائے ،جس طرح سندھ،اپرپنجاب یادوسرے صوبوں کے کسانوں کوان کے حصے کاپانی دیاجارہا اِدھرکاکسان بھی اتناہی حقدار ہے ، ان کی زمینوں کوسیراب کرنے والی نہریں بند کیوں ہیں۔حکومت کی بے ترتیبی اورناکام حکمت عملی کی وجہ سے ہماراکسان زبوں حالی کاشکارہے۔بجلی مہنگی،پٹرول ،ڈیزل مہنگااورکھادنایاب ہوچکی ہے ،پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جانے والے کسان کی کمرتوڑدی گئی ہے ،پانی نہ ہونے کی وجہ سے اس باردھان ،کپاس،جوارودیگرفصلیں کاشت نہ ہوسکیں کیونکہ ہمارے 90فیصد کسان پیٹرانجن کے ذریعے ٹیوب ویل چلاکر اپنے کھیت سیراب کرتے ہیں،کھیتوں میں ہل چلانے کیلئے ٹریکٹراستعمال ہوتے ہیں کھیت سے منڈی تک سبزیوں اوراناج کی ترسیل بھی ٹریکٹرٹرالی کے ذریعے ہوتی ہے ،پیٹرانجن اورٹریکٹرڈیزل پرچلتے ہیں موجودہ حالات میں ہماراکسان مہنگے داموں ڈیزل خریدنے سے قاصر ہے،بجلی مہنگی ہے لیکن ہے ہی نہیں کئی کئی گھنٹوں کی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ نے رہی سہی کسربھی پوری کردی ہے ،حکومتی سرپرستی میں پلنے والے کھاد مافیاء نے کھاد اپنے گوداموں میں چھپارکھی ہے جوکسانوں کو من مانی قیمت پر بلیک میں فروخت کررہے یاپھرحکومتی اداروں کی سرپرستی میں سٹاک شدہ کھادافغانستان سمگل کی جارہی ہے۔اندھے حکمرانوں کوہمارے کسان کے مسائل نہیں دکھائی دے رہے،جب کسان کے پاس فصلیں کاشت کرنے کیلئے وسائل نہیں ہوں گے تووہ کس طرح فصلیں کاشت کریں گے ۔جب فصلیں کاشت نہیں ہوں گی تولازمی طورپرمارکیٹ میں اجناس کی قلت ہوگی اورقیمتیں بڑھ جائیں گی پہلے بھی غریب اور مزدور،دیہاڑی دار طبقہ اس ہوشرباء مہنگائی کے ہاتھوں پس چکا ہے وہ کس طرح بلیک مارکیٹ سے مہنگی اشیاء خرید پائیں گے ۔ اتحادی حکومت کوہوش کے ناخن لینے چاہئیں کسان اور دیہاڑی دارمزدورطبقے کااحساس کرتے ہوئے اس بے لگام مہنگائی کے آگے بند باندھنا بہت ضروری ہے ۔فصلیں کاشت کرنے کیلئے ہمارے کسان کیلئے علیحدہ سے بجلی ،ڈیزل اور کھادکیلئے سپیشل بجٹ مختص کیا جائے ورنہ فصلات کاشت نہ ہونے کی وجہ سے ملک میں اناج کی قلت پیداہونے کا خطرہ ایک اژدھاکی طرح پھن پھیلائے کھڑاہے ،اگر بروقت اقدامات نہ کئے گئے توپاکستان کوقحط کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔صومالیہ کو کئی سالوں کی خشک سالی اور بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے قحط کاسامنا کرناپڑا، اس وقت پاکستان صومالیہ بننے کے بالکل قریب پہنچ چکا ہے۔ اگرپاکستان میں قحط آتاہے تویہ قحط قدرتی نہیں بلکہ حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کاشاخسانہ ہو گا۔

  • غذائی قلت کے نتیجے میں قحط پھیلنےکا شدید خطرہ ہے،صدر عالمی بینک

    غذائی قلت کے نتیجے میں قحط پھیلنےکا شدید خطرہ ہے،صدر عالمی بینک

    عالمی بینک نے اپنی شرح نمو میں ایک فیصد سے زائد کی کمی کر دی-

    باغی ٹی وی : عالمی بینک نے جنوری میں شرح نمو میں4.1 فیصد اضافے کی پیش گوئی کی تھی تاہم اب عالمی بینک نے اب شرح نمو میں 2.9 فیصد اضافے کی پیش گوئی کی ہے-

    عالمی بینک کی طرف سے پاکستان کو 258ملین ڈالر دینے کی منظوری

    صدر عالمی بینک کا کہنا ہے کہ بہت سےممالک کے لیے کساد بازاری سے بچنا مشکل ہو گا، رواں سال تیل کی قیمتوں میں 42 فیصد اضافہ ہوگا، دیگر اشیاء کی قیمتوں میں 18 فیصد اضافے کا امکان ہے جبکہ غذائی قلت کے نتیجے میں قحط پھیلنےکا شدید خطرہ ہے۔

    قبل ازیں عالمی بینک نے پاکستان کو 258 ملین ڈالرز امداد کی منظوری دے دی ہے عالمی بینک کی جانب سے اعلامیہ میں کہا گیا کہ پاکستان کے لیے رقم کی منظوری عالمی بینک کے بورڈ آف ایگزیکٹو ڈائریکٹرز نے دی۔

    پارلیمنٹ کےمشترکہ اجلاس کا ایجنڈا جاری

    اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ یہ رقم پاکستان میں بنیادی صحت کے نظام میں بہتری کے لیے خرچ ہو گی کنٹری ڈائریکٹر ورلڈ بینک کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں صحت کی سہولیات تک بہتر رسائی کیلئے اصلاحات کی جائیں گی صوبائی ہیلتھ سسٹم کومضبوط بنانے میں بھی مدد دی جائے گی، جب کہ ہیلتھ کیئر کوریج، اسٹاف اور دواں کی سپلائی بہتربنائی جائے گی۔

  • پاکستان آبی بحران کا شکار:مسائل میں اضافہ ہونے لگا

    پاکستان آبی بحران کا شکار:مسائل میں اضافہ ہونے لگا

    لاہور: پاکستان پرجہاں معاشی بحران نے دباو ڈال رکھا ہے وہاںپانی کا شدید بحران ہے۔ یہ بحران نہ صرف پاکستان کے زرعی شعبے کو متاثر کرے گا، جو پاکستان کی جی ڈی پی میں 23 فیصد حصہ ڈالتا ہے اور اس کی 42 فیصد افرادی قوت کو ملازمت دیتا ہے، بلکہ یہ توانائی اور غذائی تحفظ اور اس لیے قومی سلامتی کے لیے ایک وجودی خطرے کی شکل اختیار کر لے گا۔

    پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (PIDE) کی طرف سے شائع ہونے والی ایک حالیہ رپورٹ، "پاکستان میں پانی کا بحران: ظاہر، اسباب اور آگے کا راستہ” آنکھ کھولنے والے اعدادوشمار کو شامل کرکے مسئلے کی سنگینی پر کچھ روشنی ڈالتی ہے۔ پاکستان دنیا کے 17 "انتہائی زیادہ پانی کے خطرے والے” ممالک میں سے 14 ویں نمبر پر ہے، کیونکہ یہ ملک دستیاب پانی کا ایک تہائی ضائع کرتا ہے۔ ملک کی 80 فیصد سے زیادہ آبادی کو "پانی کی شدید کمی” کا سامنا ہے۔ پاکستان میں پانی کی دستیابی 1962 میں 5,229 مکعب میٹر فی مکین سے گھٹ کر 2017 میں صرف 1,187 رہ گئی ہے۔

    پاکستان 160 ویں نمبر پر ہے جو پانی کے وسائل کے تناسب کے لحاظ سے صرف 18 ممالک سے بہتر ہے۔ جو دنیا میں سب سے کم شرحوں میں سے ایک ہے۔ پاکستان میں تقریباً 40 فیصد پانی اسپلیج، سیجج، سائیڈ لیکیج، اور بینک کٹنگز کے ساتھ ساتھ بینکوں کی صف بندی کی بے ترتیب پروفائلنگ کی وجہ سے ضائع ہو جاتا ہے۔

    زراعت پانی کا سب سے بڑا صارف ہے۔ پاکستان کا 97 فیصد میٹھا پانی اس شعبے میں استعمال ہوتا ہے۔ پانی کا بحران ملکی معیشت کے سب سے بڑے شعبے کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔ پانی کی کمی اور خشک سالی کے علاوہ پاکستان کی فصلوں کو متاثر کرنے والے پانی کی کمی اور نمکیات جیسے دیگر مسائل بھی ہیں جو کہ جی ڈی پی میں زرعی شعبے کے 60 فیصد حصہ کے لیے ذمہ دار ہیں۔ 2025 تک تقریباً 70 ملین ٹن خوراک کی کمی متوقع ہے۔

    مہنگائی کے بعد بجلی کا بحران،عوام پریشان

    مزید برآں، پاکستان کی 30 فیصد زمین آبی جب کہ 13 فیصد نمکین ہونے کا خدشہ ہے۔ جب پانی کی بڑھتی ہوئی کمی کے بڑے مسئلے کے ساتھ مل کر، کوئی بھی ملک کے لیے ایک وجودی خطرہ دیکھ سکتا ہے۔ پانی کی دستیابی سے فصل کی پیداوار متاثر ہوتی ہے۔ اس کا اثر روئی پر پڑے گا، جو ملک کی صنعت، ٹیکسٹائل کی ریڑھ کی ہڈی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ چینی ایک اور فصل ہے جس کے لیے کافی مقدار میں پانی کی ضرورت ہوتی ہے اور اسی طرح گندم بھی۔

    ملک میں پانی کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ

     

    ایک سینئر دفاعی تجزیہ کار اور پاکستان میں پانی کے انتظام کے ماہر کرنل عابد کا کہنا ہے کہ "موسمیاتی تبدیلی، ہر سطح پر پانی کی بڑھتی ہوئی قلت کے تئیں یکے بعد دیگرے حکومتوں کی بے حسی، اور منصوبہ بندی کی کمی کے نتیجے میں پانی کا شدید بحران پیدا ہوا ہے۔” پاکستان "ملک ایک ایسے مرحلے پر پہنچ گیا ہے جہاں اس کا پانی کے انتظام کا نظام غلط سمت میں آگے بڑھتا دکھائی دے رہا ہے،” انہوں نے دلیل دی کہ "بہتر ہونے کے بجائے بحران بدتر ہوتا جا رہا ہے۔”

    پاک بھارت آبی تنازعہ:بھارت پاکستان کونیچا دکھانے کےلیے سرگرم

    اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کی آبادی 2050 تک 380 ملین سے تجاوز کرنے کا امکان ہے۔ مزید یہ کہ 2025 تک پاکستان میں پانی کی طلب 274 ملین ایکڑ فٹ تک پہنچنے کی توقع ہے جبکہ پانی کی فراہمی 191 ملین ایکڑفٹ ہے۔

  • اقوام متحدہ نے صومالیہ میں قحط کے خطرے سے خبردار کر دیا

    اقوام متحدہ نے صومالیہ میں قحط کے خطرے سے خبردار کر دیا

    اقوام متحدہ نے صومالیہ میں قحط کے خطرے سے خبردار کر دیا۔

    باغی ٹی وی : اقوام متحدہ نے صومالیہ میں قحط کے باعث لاکھوں بچوں کے بھوک کی وجہ سے لقمہ اجل بننے کا خدشہ ظاہر کر دیا۔اقوام متحدہ کے مطابق مشرقی افریقی ملک صومالیہ کو اس دہائی کی بدترین خشک سالی کا سامنا ہے۔

    اسٹیٹ بینک کی ہدایات پر بینکوں کےاوقات کار میں تبدیلی،ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ کیوں؟

    صومالیہ یوں تو اکثر خشک سالی کا شکار رہتا ہے تاہم اس وقت یہ رواں دہائی کی بدترین خشک سالی سے گزر رہا ہے۔اس کے پڑوسی ممالک ایتھوپیا اور کینیا بھی متاثر ہوئے ہیں۔

    اقوام متحدہ کی ایجنسیوں ورلڈ فوڈ پروگرام، فوڈ اینڈ ایگری لچر ایجنسی (ایف اے او) انسانی امدادی سرگرمیوں میں شامل ایجنسی او سی ایچ اے اور یونیسیف کے عہدیداروں نے منگل کے روز ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ بڑھتی ہوئی ضروریات کی وجہ سے دستیاب امداد ختم ہوتی جارہی ہیں اور بہت سے متاثرہ صومالیوں میں اس صورت حال کا مقابلہ کرنے کی سکت باقی نہیں رہ گئی ہے۔

    ورلڈ فوڈ پروگرام کے صومالیہ کے نمائندے الخضر دالوم نے کہا کہ حقیقت میں صورت حال ایسی ہوگئی ہے کہ ہم کسی بھوکے سے کھانا لے کر بھوک مری کی دہلیز پر پہنچ جانے والے لوگوں کوکھلانے کے بارے میں سوچ رہے ہیں لاکھو ں لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔

    انٹر بینک میں ڈالر کی قیمت میں مسلسل کمی کا سلسلہ جاری

    اقوام متحدہ کے حکام کا کہنا ہے کہ اس سال اپریل سے جون کے دوران مشرقی افریقہ میں بارش نہیں ہونے کی پیشن گوئی کی گئی ہے اس کے علاوہ اناج کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نیز یوکرین میں تصادم کی وجہ سے اناج کی سپلائی متاثر ہوجانے کے سبب اناج کی قلت میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے جس کے باعث صومالیہ کے 6 خطوں کو قحط زدہ علاقوں کے طورپر دیکھا جارہا ہے۔

    ایک نئی ایک نئی رپورٹ کے مطابق ملک کی مجموعی آبادی کا تقریباً 40 فیصد حصہ یعنی تقریباً 60 لاکھ افراد خوراک کی انتہائی شدید قلت سے دوچار ہیں قحط کی وجہ سے بچے اس کا سب سے زیادہ شکار ہوں گے۔ اس سال ہی تقریباً 14 لاکھ بچوں کو انتہائی قلت تغذیہ کا سامنا کرنا پڑ رہاہے ان میں سے ایک چوتھائی کی بھوک کی وجہ سے ہلاکت ہوسکتی ہے۔

    اقوام متحدہ کے بیان کے مطابق صومالیہ میں قحط کے بحران پر قابو پانے کے لیے 1.5 ارب ڈالر کی رقم درکار ہے جس میں سے اب تک صرف 4.4 فیصد ہی حاصل ہو سکا ہے-

    یاد رہے کہ اس سے پہلے صومالیہ میں سن 2011ء میں قحط اور تصادم کی وجہ سے ڈھائی لاکھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

    وزیر اعظم آزاد کشمیر نے اپنے ہی وزراء برطرف کر دیئے

  • پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر قائد حزب اختلاف شہباز شریف کا ملک کے مختلف حصوں پر ٹڈی دل کے حملے پر اظہار تشویش

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر قائد حزب اختلاف شہباز شریف کا ملک کے مختلف حصوں پر ٹڈی دل کے حملے پر اظہار تشویش

    ٹڈی دل کے خطرے سے نمٹنے کے لئے حکومت سنجیدگی دکھائے.وفاق اور صوبے مشترکہ جامع حکمت عملی پر عمل کریں . علاقائی سطح پر مشترکہ اقدامات کرنے کے لئے حکومت اقدامات کرے . ٹڈی دل پر قابو پانے کے لیے موثر اقدامات نہ ہوئے تو قحط کا خطرہ ہے. کورونا وبا اور معاشی دباؤ کے بعد ٹڈی دل کے حملے سے ہماری مزید مشکلات مزید بڑھ جائیں گی . متاثرہ علاقوں کے عوام بالخصوص کسان کب سے دہائیاں دے رہے ہیں لیکن حکومت کی آنکھ ابھی تک نہیں کھلی. زرعی معیشت سنگین خطرات کی زد میں ہے، حکومت سوئی رہی تو زرعی شعبہ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے. ٹڈی دل کے نتیجے میں ملکی معیشت اور کسان تباہ ہوجائیں گے. ٹڈی دل کے حملے سے ملکی فوڈ سکیورٹی کا خطرہ لاحق ہے.