Baaghi TV

Tag: قدرتی گیس

  • قدرتی گیس کے استعمال اور پیداوار سے متعلق اعدادوشمار

    قدرتی گیس کے استعمال اور پیداوار سے متعلق اعدادوشمار

    اسلام آباد:ملک میں قدرتی گیس کے استعمال اور پیداوار سے متعلق اعدادوشمار سینیٹ کی قائمہ کمیٹی اجلاس میں پیش کر دیئے گئے۔

    اعدادوشمار کے مطابق جون 2024 تک پنجاب سے قدرتی گیس کی پیداوار 163 ایم ایم ایف سی ڈی رہی اور استعمال 976 ایم ایم ایف سی ڈی گیس رہی جبکہ استعمال میں سے 668 ایم ایم سی ایف ڈی گیس درآمدی آر ایل این جی سے رہی جون 2024 تک خیبر پختونخوا سے گیس کی پیداوار 346 ایم ایم سی ایف ڈی رہی اور اسی عرصہ میں قدرتی گیس کا استعمال 208 ایم ایم ایف سی ڈی رہا جبکہ 3 ایم ایم ایف سی ڈی گیس کا استعمال آر ایل این جی سے رہا۔

    سندھ میں گیس کی پیداوار 1609 ایم ایم سی ایف ڈی رہی اور استعمال 1115 ایم ایم ایف سی ڈی رہی، سندھ میں آر ایل این جی گیس کا استعمال 112 ایم ایم سی ایف ڈی رہا بلوچستان میں گیس پیداوار کا مجموعی حصہ 492 ایم ایم ایف سی ڈی رہا جبکہ استعمال 334 ایم ایم ایف سی ڈی رہا۔ بلوچستان میں آر ایل این جی گیس کا استعمال 3 ایم ایم ایف سی ڈی رہا۔

  • ملک بھر میں 2 ماہ کے لیے سی این جی اسٹیشنز بند کر نے کا فیصلہ

    ملک بھر میں 2 ماہ کے لیے سی این جی اسٹیشنز بند کر نے کا فیصلہ

    اسلام آباد: موسم سرما میں سخت سردی کے باعث ملک بھر میں 2 ماہ کے لیے سی این جی اسٹیشنز بند کر نے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی: ذرائع کے مطابق دسمبر اور جنوری کے سخت سردی والے 2 مہینوں میں ملک بھر میں سی این جی اسٹیشن بند کر دیے جائیں گے، ان 2 ماہ میں جو ملکی صنعت گیس سے بجلی پیدا کرکے کام کرتی ہے اس کو بھی گیس کی فراہمی بند رہے گی، یہ فیصلہ قدرتی گیس کے گھریلو صارفین کو موسم سرما میں مسلسل فراہمی یقینی بنانے کے لیے کیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق چاروں صوبوں میں گیس سے بجلی پیدا کرنے یا کیپٹو پاور اسٹیشنوں کے لیے دسمبر 2024 تا جنوری 2025 تک گیس کی فراہمی روک دی جائے گی، انڈسٹری بجلی کمپنیوں کی بجلی استعمال کرے گی، سوئی ناردرن گیس کمپنی لمیٹڈ نے ہدایت کی ہے کہ یکم دسمبر 2024 سے 31جنوری 2025 تک سی این جی اسٹیشنز بند رکھنے کے احکامات جاری کرے۔

    سرحدوں نے تقسیم کیا ،کرکٹ نے اکٹھا کردیا،پاک بھارت کرکٹرز کی تصاویر وائرل

    پاکستان میں انٹرنیٹ مکمل بحال،پی ٹی اے کا دعویٰ

    پاکستانی ہائی کمیشن کی گاڑی کو نشانہ بنانے پر قانونی کاروائی کرینگے،ترجمان دفترخارجہ

  • سندھ  میں  قدرتی گیس کے نئے ذخائر دریافت

    سندھ میں قدرتی گیس کے نئے ذخائر دریافت

    خیر پور:پاکستان کی سب سے بڑی ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن (ای اینڈ پی) آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) نے سندھ کے ضلع خیرپور میں واقع شاہو-1 کنویں میں قدرتی گیس کے نئے ذخائر دریافت کیے ہیں۔

    باغی ٹی وی : رپورٹس کے مطابق لسٹڈ کمپنی نے بدھ کے روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو اپنے نوٹس میں اس پیش رفت سے آگاہ کیا بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم سندھ کے ضلع خیرپور میں واقع شاہو ون کنویں کے ساون ساؤتھ بلاک لوئر گورو بی ریزروائر ریت سے گیس کی دریافت کا اعلان کرتے ہوئے خوشی محسوس کر رہے ہیں۔

    او جی ڈی سی ایل نے کہا کہ کنویں کو 18 اگست 2024 کو کھودا گیا تھا اور اسے کامیابی کے ساتھ 12،675 فٹ ایم ڈی کی گہرائی تک کھود دیا گیا ہے اس کنویں سے 4100 پاؤنڈ فی مربع انچ (پی ایس آئی جی) کے ویل ہیڈ فلونگ پریشر (ڈبلیو ایچ ایف پی) پر تقریبا 10 ملین معیاری مکعب فٹ یومیہ (ایم ایم ایس سی ایف ڈی) گیس پیدا ہونے کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔

    کمپنی نے بتایا کہ تازہ ترین دریافت نے ساون ساؤتھ بلاک میں مزید کھوج کے کام کو کم کردیا ہےمذکورہ دریافت سے مقامی وسائل سے ملک میں توانائی کے تحفظ کو بہتر بنانے اور ہائیڈرو کاربن کے ذخائر کی بنیاد میں اضافہ کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

    چین 2050 میں رہ رہا ہے،خریداری پر پام پیمنٹ ٹیکنالوجی کا ا ستعمال

    جوائنٹ وینچر میں او جی ڈی سی ایل (20 فیصد ورکنگ انٹرسٹ)، یونائیٹڈ انرجی پاکستان لمیٹڈ (یو ای پی ایل)، آپریٹر (75 فیصد)، گورنمنٹ ہولڈنگ پرائیویٹ لمیٹڈ (جی ایچ پی ایل) (2.5 فیصد) اور سندھ انرجی ہولڈنگ لمیٹڈ (ایس ای ایچ ایل) (2.5 فیصد) شامل ہیں۔

    قبل ازیں گزشتہ ماہ آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) نے سندھ کے ضلع خیرپور میں واقع اکھیرو-1 کے کنویں میں ہائیڈرو کاربن کے ذخائر دریافت کیے تھے،او جی ڈی سی ایل نے بتایا تھا کہ کنویں کو 15 جون 2024 کو کھودا گیا تھا اور اسے کامیابی کے ساتھ 12،442 فٹ کی گہرائی تک کھود دیا گیا ہےاس کنویں کا کامیاب تجربہ 4000 پاؤنڈ فی مربع انچ (پی ایس آئی جی) کے ویل ہیڈ فلونگ پریشر (ڈبلیو ایچ ایف پی) پر تقریبا 10 ملین معیاری مکعب فٹ یومیہ (ایم ایم ایس سی ایف ڈی) گیس کی رفتار سے کیا گیا۔

    اسرائیل کا حالیہ ایرانی میزائل حملوں کے جواب میں فیصلہ کن منصوبہ تیار

    دریں اثنا او جی ڈی سی ایل اور سی این پی سی چوانگنگ ڈرلنگ انجینئرنگ کمپنی لمیٹڈ کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے جو عوامی جمہوریہ چین میں ڈرلنگ اور اپ سٹریم آئل فیلڈ سروسز میں اہم کردار ادا کرتی ہے تاکہ پاکستان میں شیل اور گیس کے امکانات تلاش کیے جاسکیں۔

  • حکومت ایل این جی خریدنے میں ناکام

    حکومت ایل این جی خریدنے میں ناکام

    حکومت کی جانب سے ایل این جی خریدنے میں ناکامی کے بعد سردیوں میں گیس بحران کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

    باغی ٹی وی: پاکستان قریباً ایک سال میں اسپاٹ مارکیٹ سے مائع قدرتی گیس خریدنے کی اپنی پہلی کوشش میں ناکام رہا ہے اورپاور اسٹیشن ایندھن کا کوئی سپلائر کارگو پیش کرنے کو تیار نہیں۔

    پاکستان ایک سال کے طویل وقفے کے بعد اپنی پہلی کوشش میں اسپاٹ مارکیٹ سے مائع قدرتی گیس (LNG) حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے،پاکستان ایل این جی لمیٹڈ نے اکتوبر تا دسمبر ترسیل کے لیے چھے شپمنٹ خرید کرنے کا ٹینڈر جاری کیا تھا پاکستان کو موسم سرما کے مہینوں میں چھ ترسیلوں کے لیے کوئی بولی نہیں ملی۔

    امریکا میں بھارتی وزیراعظم کو شرمندگی کا سامنا

    سرکاری طور پر چلنے والی پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل)، جس نے گزشتہ ہفتے اکتوبر اور دسمبر میں تین کارگوز کے لیے مختصر مدت کے ٹینڈر جاری کیے تھے، اس نے منگل کو اعلان کیا کہ اسے رات 12:30 بجے بولی بند ہونے تک کسی بھی ڈلیوری ونڈو کے لیے کوئی بولی نہیں ملی،اس معاملے سے آگاہ تاجروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وہ میڈیا سے بات کرنے کے مجاز نہیں ہیں۔

    پی ایل ایل موسمی تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے اسپاٹ ٹینڈرنگ کے ذریعے مہینے میں تین کارگو درآمد کرتا تھا، لیکن اسے پچھلے سال جون سے ایک بھی کارگو حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے، اس کے بار بار جاری کئے گئے ٹینڈرز کسی بھی بولی دہندہ کو راغب کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

    کلر کہار بس حادثے کے بعد موٹر وے پولیس نےنئی حکمت عملی وضع کر دی

    بلومبرگ نے گذشتہ ہفتے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ کئی غیر ملکی بینک پاکستانی بینکوں سے ایل این جی شپمنٹ خریدکرنے کے لیے لیٹر آف کریڈٹ قبول نہیں کر رہے تھے جس کی وجہ سے سپلائرز کارگو کی پیش کش کرنے سے ہچکچا رہے تھےپاکستان اس وقت کمزور ہوتی کرنسی، سیاسی افراتفری اور دیوالا نکلنے کے بڑھتے ہوئے خطرے سے نبرد آزما ہے۔

    بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے حال ہی میں حکومت کے پیش کردہ بجٹ کو اپنے بیل آؤٹ پروگرام کے اہداف کو پورا کرنے کے لیے ناکافی قرار دیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا تھا، جو اس بات کی علامت ہے کہ امداد کے حصول کے لیے رواں ماہ دی گئی ڈیڈ لائن پوری نہیں ہوگی۔

    پاکستان کی جانب سےگیس خریدنے میں ناکامی سے ملک میں توانائی کی قلت بڑھے گی،بلیک آؤٹ کے دورانیے میں اضافہ ہوگا اور صنعتی صارفین کو ایندھن کی ترسیل رک جائے گی۔

    عمران خان، شاہ محمود اور اسد عمر کے کیسز کی سماعت کرنے والے ججز تبدیل