Baaghi TV

Tag: قرضہ

  • بڑھتا ہوا عوامی قرضہ حکومت کے لیے ایک سنگین معاشی چیلنج

    بڑھتا ہوا عوامی قرضہ حکومت کے لیے ایک سنگین معاشی چیلنج

    گزشتہ مالی سال کے دوران ہر پاکستانی شہری پر قرضے کا بوجھ 13 فیصد اضافے کے بعد 3 لاکھ 33 ہزار روپے تک پہنچ گیا-

    رپورٹ کے مطابق مالی سال 2023-24 میں فی کس قرضہ 2 لاکھ 94 ہزار 98 روپے تھا، جو مالی سال 2024-25 میں بڑھ کر 3 لاکھ 33 ہزار 41 روپے ہو گیا،یوں ایک ہی سال میں ہر شہری پر قرضے میں تقریباً 39 ہزار روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کا تخمینہ ملک کی 24 کروڑ 15 لاکھ آبادی کی بنیاد پر لگایا گیا ہے۔

    وزارتِ خزانہ کے مطابق جون 2024 سے جون 2025 کے دوران مجموعی عوامی قرضہ 71.2 کھرب روپے سے بڑھ کر 80.5 کھرب روپے تک پہنچ گیا قرضے میں اضافے کی بڑی وجوہات بلند شرحِ سود اور زرِ مبادلہ کی قدر میں تبدیلی تھیں، گزشتہ مالی سال کے دوران عوامی قرضہ حکومت کے لیے ایک بڑا مسئلہ رہا فِسکل ریسپانسبلٹی اینڈ ڈیٹ لمیٹیشن ایکٹ (FRDL) کے تحت وفاقی حکومت پابند ہے کہ مالی سال کے اختتام پر پارلیمنٹ میں مالی پالیسی بیان پیش کرے۔

    ملائیشین مذہبی امور کے وزیر کے ہم جنس پرستی کے بیان نے شدید تنازع کھڑا کر دیا

    رپورٹ کے مطابق وفاقی مالی خسارہ جی ڈی پی کے 6.2 فیصد تک پہنچ گیا، حالانکہ قانون کے تحت اس کی زیادہ سے زیادہ حد 3.5 فیصد مقرر ہے۔ اس طرح حکومت نے قانونی حد سے تقریباً 3 کھرب روپے زائد خسارہ کیامجموعی عوامی قرضہ جی ڈی پی کے 67.6 فیصد سے بڑھ کر 70.7 فیصد ہو گیا۔ اسی عرصے میں حکومت نے نئے محکمے قائم کیے، وفاقی کابینہ میں توسیع کی، اور نئی گاڑیاں و فرنیچر خریدے، حالانکہ سرکاری سطح پر کفایت شعاری کے دعوے کیے جاتے رہے۔

    وزارتِ خزانہ کے مطابق مالی سال 2024-25 میں وفاقی اخراجات کا بجٹ 18.9 کھرب روپے رکھا گیا تھا، جن میں سے 17.2 کھرب روپے موجودہ اخراجات پر مشتمل تھےوفاقی حکومت نے جی ڈی پی کے 2.7 فیصد کے برابر اضافی اخراجات کیےٹیکس وصولیاں 11.7 کھرب روپے رہیں، جو 13 کھرب روپے کے مقررہ ہدف کا 90.5 فیصد بنتی ہیں، تاہم نان ٹیکس آمدن توقعات سے بہتر رہی اور 5.1 کھرب روپے تک پہنچ گئی۔

    عالمی سطح پر سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ

    دوسری جانب ترقیاتی اخراجات 1.7 کھرب روپے کے مقابلے میں کم ہو کر 1.4 کھرب روپے رہے، جبکہ دفاعی اخراجات بجٹ سے تجاوز کرتے ہوئے 2.2 کھرب روپے تک پہنچ گئے سود کی ادائیگیوں پر 8.8 کھرب روپے خرچ کیے گئے۔

  • حکومت نے پہلی ششماہی میں بینکوں سے کتنا قرضہ لیا؟رپورٹ جاری

    حکومت نے پہلی ششماہی میں بینکوں سے کتنا قرضہ لیا؟رپورٹ جاری

    کراچی: حکومت نے مالی سال 26-2025 کی پہلی ششماہی میں بینکوں سے 1.19 کھرب روپے کا خالص قرضہ حاصل کیا۔

    رپورٹ کے مطابق حکومت نے مالی سال 26-2025 کی پہلی ششماہی (جولائی تا دسمبر) کے دوران شیڈول بینکوں سے 1.192 ٹریلین روپے یعنی تقریباً 1.19 کھرب روپے کا خالص قرضہ حاصل کیا،یہ رقم گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہےجب حکومت نے بینکوں کو 1.255 ٹریلین روپے کا خالص قرضہ واپس کیا تھا۔

    ماہرین کے مطابق یہ رجحان حکومت پر بڑھتے ہوئے مالی دباؤ کی واضح عکاسی کرتا ہے اگرچہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے گزشتہ مالی سال میں ریکارڈ 2.5 ٹریلین روپے کا منافع وفاقی حکومت کو منتقل کیا،اس کے باوجود حکومت کو اخراجات پورے کرنے کے لیے بھاری قرض لینا پڑا۔

    اعداد و شمار کے مطابق وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے اس عرصے میں 6.159 ٹریلین روپے ٹیکس وصول کیا جو مقررہ ہدف 6.490 ٹریلین روپے سے تقریباً 331 ارب روپے کم ہے تاہم گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں ٹیکس ریونیو میں تقریباً 10 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ جب وصولیاں 5.618 ٹریلین روپے تھیں۔

    جادو ٹونا کرنے اور اس کی تشہیر پر 6 ماہ سے 7 سال قید ، 10 لاکھ تک جرمانہ ہو گا

    بینکنگ ماہرین کے مطابق بینکوں کی جانب سے حکومت کو قرض دینے کا رجحان بدستور جاری ہے کیونکہ حکومتی سیکیورٹیز کو کم خطرہ اور بہتر منافع حاصل ہوتا ہےحالیہ ہفتے ٹریژری بلز کی نیلامی کے دوران بینکوں نے تقریباً 2.5 ٹریلین روپے تک کی بولیاں لگائیں،حکومت کے اخراجات میں مسلسل اضافے کے باعث، ریونیو میں بہتری کے باوجود بینکوں سے قرض لینے کی ضرورت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    میئر کراچی کا شہید فائر فائٹر فرقان کے ورثا کو ایک کروڑ روپے دینے کا اعلان

  • عظمیٰ بخاری نے صوبے کے قرضوں سے متعلق خبروں کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیا

    عظمیٰ بخاری نے صوبے کے قرضوں سے متعلق خبروں کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیا

    وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے صوبے کے قرضوں سے متعلق خبروں کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دے دیا۔

    اپنے بیان میں صوبائی وزیر عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ یہ خبر جھوٹ اور غلط فہمی پر مبنی ہے اور مالیاتی معاملات کی بنیادی سمجھ بوجھ نہ رکھنے والے افراد ایسی اطلاعات پھیلا رہے ہیں،انہوں نے واضح کیا کہ پنجاب نے سٹیٹ بینک آف پاکستان سے ایک روپیہ بھی قرض نہیں لیا، رپورٹ میں جس رقم کا ذکر ہے وہ دراصل پنجاب حکومت کی فیڈرل گورنمنٹ کے ٹی بلز میں سرمایہ کاری ہے، جس کا مقصد منافع حاصل کرنا ہے، قرض لینا نہیں، پنجاب اس وقت ایک سرپلس صوبہ ہے اور صوبائی حکومت کے اکاؤنٹس میں ایک ٹریلین روپے سے زائد رقم موجود ہے، اس لئے پنجاب کو کسی سے قرض لینے کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی۔ٕ

    پنجاب کے قرضوں میں ریکارڈ اضافہ، 38 دن میں 405 ارب روپے کا بوجھ

    عظمیٰ بخاری نے کہا کہ رپورٹ میں جن اداروں کا ذکر ہے وہ ممکنہ طور پر وفاقی حکومت کے ہیں، پنجاب کے زیر انتظام کسی ادارے نے کوئی قرض نہیں لیا، حیرت کی بات یہ ہے کہ خبر لکھنے والے کو یہ بنیادی بات بھی معلوم نہیں تھی کہ 2019 کے بعد سٹیٹ بینک ایکٹ کے تحت کسی بھی حکومت، چاہے وفاقی ہو یا صوبائی، کو براہ راست سٹیٹ بینک سے قرض لینے کی اجازت نہیں،جھوٹی اور بے سروپا خبریں پھیلانے والے صحافی کو اپنی خبر پر شرمندگی کا اظہار کرنا چاہیے، بصورت دیگر حکومت قانونی چارہ جوئی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

    توشہ خانہ ٹو کیس:عمران خان کے وکلا اور اہلخانہ کو سماعت میں شامل ہونے کی اجازت

  • پنجاب کے قرضوں میں ریکارڈ اضافہ، 38 دن میں 405 ارب روپے کا بوجھ

    پنجاب کے قرضوں میں ریکارڈ اضافہ، 38 دن میں 405 ارب روپے کا بوجھ

    لاہور: صوبہ پنجاب رواں مالی سال کے آغاز میں ملک کا سب سے بڑا قرض لینے والا صوبہ بن گیا ہے، جہاں صرف 38 دنوں (یکم جولائی سے 8 اگست 2025) کے دوران اسٹیٹ بینک سے 405 ارب روپے کا بھاری قرض لیا گیا۔

    بلوم،پاکستان،کےمطابق،یہ قرضہ دیگر صوبوں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے، جو مالیاتی ماہرین کے مطابق صوبے کے معاشی ڈھانچے پر گہرے اثرات مرتب کرسکتا ہےاعداد و شمار کے مطابق سندھ نے اسی مدت میں 16 ارب، خیبرپختونخوا نے 21 ارب جبکہ بلوچستان نے صرف 13 ارب روپے کا قرضہ حاصل کیا جس کے مقابلے میں پنجاب کا قرضہ تقریباً 25 گنا زیادہ ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت آئی ایم ایف کی شرائط کے باعث اسٹیٹ بینک سے براہِ راست قرض نہیں لے سکتی تاہم صوبائی حکومتیں بدستور مرکزی بینک پر انحصار کررہی ہیں۔

    دہلی ہائی کورٹ نے مودی کی تعلیمی اسناد عوامی طور پر ظاہر کرنے کا حکمنامہ منسوخ کر دیا

    دوسری جانب پنجاب حکومت نے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ 30 سال سے زائد پرانے 675 ارب روپے کے بینکی قرضوں کی ادائیگی مکمل کرلی گئی ہے جو زیادہ تر گندم کی خریداری اور سبسڈی پروگرامز سے وابستہ تھےاس اقدام کو تاریخی فیصلہ قرار دیا گیا ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں روزانہ 25 کروڑ روپے سود کی ادائیگی کا بوجھ ختم ہوگیا ہے اور وسائل عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے لیے دستیاب ہوسکیں گے، بشمول اپنا گھر اپنی چھٹ پروگرام جس کا مقصد سستی رہائش ہے۔

    حکام کے مطابق قومی بینک کو 13.8 ارب روپے کی آخری قسط بھی ادا کردی گئی ہے اور بینکوں کی طرف سے قرض کو رول اوور کرنے کی تمام درخواستیں مسترد کردی گئی ہیں اگر یہ ادائیگی نہ کی جاتی تو پنجاب کو ماہانہ 50 کروڑ روپے کے سود کا سامنا کرنا پڑتا۔

    آسٹریلیا کا ایران پر یہودی مخالف حملوں میں ملوث ہونے کا الزام، ایرانی سفیر کی ملک بدری کا حکم

    دوسری جانب سرکاری ادارے بدستور خسارے میں چل رہے ہیں اور صرف اپنے وجود کو قائم رکھنے کے لیے مزید 65 ارب روپے کے کمرشل بینکوں سے قرض لینے پر مجبور ہوگئے ہیں ان اداروں کا مجموعی واجب الادا قرض اب 2166 ارب روپے سے تجاوز کرچکا ہے۔

    وفاقی حکومت نے بھی اپنے محدود دائرہ کار میں رہتے ہوئے 55 ارب روپے کی ادائیگی اسٹیٹ بینک کو کی ہے، جس سے 30 جون 2025 تک اس کے واجب الادا قرضے کم ہوکر 5269 ارب روپے رہ گئے ہیں۔

    ڈیرہ غازی خان: ممکنہ سیلاب، ضلعی انتظامیہ نے این جی اوز سے تعاون طلب کر لیا

  • آئندہ دو ہفتوں کے دوران 2 ارب ڈالر کا بیرونی قرضہ ری شیڈول ہونے کی توقع

    آئندہ دو ہفتوں کے دوران 2 ارب ڈالر کا بیرونی قرضہ ری شیڈول ہونے کی توقع

    کراچی: گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے معاشی تجزیہ کاروں کو مانیٹری پالیسی پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ دو ہفتوں کے دوران 2 ارب ڈالر کا بیرونی قرضہ ری شیڈول ہونے کی توقع ہے۔

    باغی ٹی وی : گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ حکومت نے مزید 4 ارب ڈالر کے قرضے رول اوور کرانے کی منصوبہ بندی کرلی ہے جمیل احمد نے معاشی تجزیہ کاروں سے ملاقات میں پاکستان پر رواں مالی سال قرضوں کی ادائیگی کے بوجھ اور فنانسنگ کے بندوبست کی صورتحال سے آگاہ کیا۔تاز

    گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ مالی سال 24 کے دوران پاکستان کو مجموعی قرضوں اور مالی ذمہ داریوں کی مد میں 24.3 ارب ڈالر ادا کرنے ہیں جس میں 20.4 ارب ڈالر کے اصل قرضے اور 3.9 ارب روپے کی سودی ادائیگیاں شامل ہیں، اب تک 13.5 ارب ڈالر کی بیرونی ادائیگیاں کی جاچکی ہیں جس میں 10.9 ارب ڈالر اصل قرض اور اس پر 2.6 ارب ڈالر کا سود ادا کیا گیا ہےحکومت کو مالی سال کے بقیہ تین ماہ میں 4.8 ارب ڈالر کی ادائیگیوں کا انتظام کرنا ہے جس میں 3.5 ارب ڈالر کے اصل قرضے اور 1.3 ارب ڈالر سود کی مد میں ادا کیے جائیں گے۔

    سانحہ 9 مئی: علی امین گنڈاپور سمیت 29 اراکین و رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری …

    اوورسیز پاکستانیوں نے 42 مہینوں میں روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس میں کتنے ارب ڈالر جمع کرائے؟

    پاکستان اور آئی ایم ایف جائزہ مشن کے درمیان اقتصادی جائزہ مذاکرات مکمل

  • قرض واپس نہ کرنے پربھارتی بینک کاسنی دیول کا گھر نیلام کرنے کا فیصلہ

    قرض واپس نہ کرنے پربھارتی بینک کاسنی دیول کا گھر نیلام کرنے کا فیصلہ

    بھارتی بینک نے قرض واپس ادا نہ کرنے پر بالی وڈ اداکار سنی دیول کا گھر نیلام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: بھارتی میڈیا کے مطابق سنی دیول، جو اس وقت اپنی نئی ریلیز غدر 2 کی کامیابی میں مصروف ہیں شاید مالی پریشانی کا شکار ہو گئے ہوں گے کیونکہ ان کے ممبئی کے علاقے جوہو بنگلے کو ایک بینک نے ای نیلامی کے لیے ڈال دیا ہےکیونکہ وہ مبینہ طور پر ایک سے زیادہ ادائیگی کرنے میں ناکام رہے تھے بڑے پیمانے پر 50 کروڑ بینک نے ای نیلامی کا اعلان ایک اخبار میں شائع کرکے کیا۔


    بینک آف بروڈا نے اتوار کو ایک نوٹس میں کہا کہ سنی دیول کی جانب سے 56 کروڑ روپے کا قرض واپس نہ کرنے پر جوہو میں واقع اداکار کے بنگلے کی نیلامی اگلے ماہ کی جائے گی،اخبار میں جاری کردہ نوٹس کے مطابق بنگلے کی نیلامی 25 ستمبر کو ہوگی اور بولی 22 ستمبر تک جمع کرائی جاسکتی ہے نوٹس میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اگر سنی دیول اپنی جائیداد کو نیلام ہونے سے بچانا چاہتے ہیں تو وہ واجبات فوری طور پر ادا کر دیں۔

    آج کتاب بینی میرا مشغلہ ہے ریما خان

    پبلک نوٹس کے مطابق، اجے سنگھ دیول عرف سنی دیول نے ایک بھاری رقم ادھار لی تھی نوٹس میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ اداکار اس کیس میں ضامن بھی تھا بینک اب رقم کی وصولی کے لیے تیار ہے۔سنی ولا مبینہ طور پر سنی دیول کے دفتر کے طور پر استعمال ہوتا ہے اور اس میں سنی سپر ساؤنڈ ہے جو ایک پیش نظارہ تھیٹر اور دو دیگر پوسٹ پروڈکشن سویٹس کے طور پر کام کرتا ہے۔ اگر رپورٹس پر یقین کیا جائے تو یہ دفتر 80 کی دہائی میں قائم ہوا تھا،بھارتی میڈیا کے مطابق جب سنی دیول سے اس حوالے سے بات کرنے کے لیے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔

    سنی دیول کی غدر 2 نے مجموعی طور پر 336 کروڑ روپے کمائے ہیں اور جلد ہی400 کروڑ روپے کے کلب کو چھونے کی امید ہے۔ توقع ہے کہ غدر 2 آنے والے دنوں میں بھارت باکس آفس کلیکشن سے 30-40 کروڑ کمائے گی۔

    حکومت پنجابی سینما کو سپورٹ کرے حیدر سلطان

  • چین نے پاکستان کو ڈیفالٹ ہونے سے بچایا،سری لنکن صدر نے بھی "مدد”کی وزیر اعظم

    چین نے پاکستان کو ڈیفالٹ ہونے سے بچایا،سری لنکن صدر نے بھی "مدد”کی وزیر اعظم

    وزیر اعظم شہباز شریف نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار،وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کے ہمراہ پریس کانفرنس کی ہے اور کہا ہے کہ آئی ایم ایف سے کئی ماہ سے بات چیت جاری تھی، دعا ھے کہ پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ھو۔پی ٹی آئی دور میں آئی ایم ایف سے معاہدے کی دھجیاں اڑائی گئیں،عوام پر معاشی بوجھ کی وجہ جاننا ضروری ہے،ہم نے 20 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا، بدترین دھاندلی کر کے چیئرمین پی ٹی آئی کو اقتدار دیا گیا،نواز شریف کی قیادت میں سی پیک پر تیزی سے کام ہوا،

    وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پچھلی حکومت میں کیا ہوا، دیکھیں، جب کاٹن کی ایکسپورٹ کی گئی، شوگر، گندم امپورٹ ایکسپورٹ کی گئی، چند لوگوں کی تجوریاں بھر گئیں لیکن عام آدمی کی حالت بری رہی، ہماری زمہ داری تھی، مخلوط حکومت نے حتیٰ الوسع کوشش کی، غلطی ہو سکتی ہے لیکن قومی خزانے میں خیانت کا ایک معاملہ سامنے رکھیں، میں انکوائری کروں گا، گندم خریدی، جو بھی کام کئے،اربوں کے ڈسکاؤنٹ لیا، یہ ریکارڈ کا حصہ ہے،سیلاب نے معیشت کو تباہ کیا تو وہیں فتنہ سازی کی گئی پاکستان کو عدم استحکام سے دو چار کرنے کے لئے بیانئے بنائے گئے، ہم ترقی کی کوشش کرتے اسکو ختم اور پاکستان کو بدنام کرنے کے لئے کوئی طریقہ نہیں چھوڑا گیا، باہر ممالک اور اداروں کو متنبہ کیا اور کہا گیا کہ اگر مدد کی تو یہ امپورٹڈ حکومت کی، یہاں تک کہا گیا کہ پاکستان سری لنکا بننے جا رہا، حالیہ مہینوں میں سری لنکا معاشی بحران سے نکل رہا ہے، وہ ڈیفالٹ کر گیا تھا، پیرس میں آئی ایم ایف کی ایم ڈی موجود تھی، سری لنکا کے صدر میرے پاس آئے اور کہا کہ آپکی آئی ایم ایف کی ایم ڈی کے ساتھ میٹنگ ہو چکیں میں نے ایک اور میٹنگ ارینج کروائی ہے،میں نے کہا بہت شکریہ، سری لنکا کے صدر دوست بن کر سامنے آئے،

    وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پیرس میں ایم ڈی آئی ایم ایف سے بھر پور ملاقات رہی جس میں مریم بھی موجود تھی، ڈاکٹر عائشہ پاشا بھی موجود تھی، انہوں نے یہ مجھے کہا کہ وقت بہت گزر گیا، میں نے کہا کہ کونسی شرط آپ کی نہیں مانی ، مخلوط حکومت نے اپنی سیاست داؤ پر لگا دی ہے ،سرمایہ گنوا دیاتا کہ پاکستان کو ڈیفالٹ نہ ہونے دیں ،انہوں نے مجھے دو تین چیزیں بتائیں تو میں نے کہا کہ ہم یہ بھی کر لیں گے، چھ ارب ڈالر کا انہوں نے گنوایا تھا، دو ارب ڈالر کا ابھی گیپ ہے تو اسکا کیا ہو گا، میٹنگ ختم ہوئی تو میں نے اسحاق ڈار کو کہا تھا کہ اس پر آخری کوشش کریں، اسحاق ڈار اور انکی ٹیم نے رات لگائی، اسلامک ڈیولپمنٹ کے چیئرمین وہاں تھے، محمد سلمان الجسر،میں نے پیغام بھجوایا کہ ملنا چاہتا ہوں، اللہ تعالیٰ نے غیبی مدد کی، دو بار کانفرنس میں سائیڈ لائن پر مزید ملاقاتیں ہوئیں، انہوں نے کہا ہم نہیں چاہتے کہ پاکستان ڈیفالٹ کرے، آپ بھی آگے بڑھے، ہم بھی آگے بڑھتے ہیں،وہاں پیرس میں جو میٹنگ ہوئیں، وہاں چیزیں آگے بڑھیں، آج میں یہ کہہ سکتا ہوںکہ سٹاف لیول معاہدہ ہو چکا، 12 جولائی کو بورڈ کی میٹنگ ہو گی،اس میں تین ارب ڈالر کا معاہدہ ہو جائے گا،بورڈ کی میٹنگ کے بعد قسطیں ملنا شروع ہو جائیں گی،پاکستان میں اسحاق ڈار اور انکی ٹیم کا مشکور ہوں، صبح چھ بجے مجھ سے بات کرتے، رات تک کام کرتے، آئی ایم ایف کی ایم ڈی کا بھی مشکور ہوں

    وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ یہ لمحہ فخریہ نہیں، لمحہ فکریہ ہے، قرضہ ہمیں مجبوری میں لینا پڑا، پاکستانیوں کو کہتا ہوں کہ وہ دعا کریں کہ یہ آخری قرضہ ہو ، آئی ایم ایف کا آخری پروگرام ہو،خدا کرے کہ ہمیں دوبارہ آئی ایم ایف کے پاس نہ جانا پڑے،ترکی نے 2007 میں آخری ڈیل کی ، اسکے بعد نہیں گیا، اب قربانی اشرافیہ کو دینی پڑے گی، عام آدمی کو نہیں، عام آدمی 75 سالوں سے قربانی دے رہا ہے،چین نے پاکستان کو ڈیفالٹ ہونے سے بچایا، تقریبا پانچ ارب ڈالرچائنہ نے پاکستان کو دیئے،چین نے کلیدی کردار ادا کیا، مشکل صورتحال سے دوچار ہونے سے بچایا ، سعودی عرب نے کمال مہربانی کر کے دو ارب ڈالر کا معایدہ کر لیا، یو اے ای نے ایک ارب ڈالر دیا، میں اور ساتھی ان تمام برادر دوست ممالک کا شکریہ ادا کرتے ہیں، زندگی گزارنے کا یہ طریقہ نہیں، میں جب انکو ملتا ہوں تو انکے چہرے پڑھتا ہوں وہ یہ سمجھتے ہیں کہ شہباز شریف صاحب آ گئے چائے پی کر اب اگلی بات یہ کیا کرے گا

    آئی ایم ایف کے ساتھ پاکستان کا سٹاف لیول معاہدہ،وزیراعظم کی ٹویٹ

    سوشل میڈیا پر جعلی آئی ڈیز کے ذریعے لڑکی بن کر لوگوں کو پھنسانے والا گرفتار

    قصور کے بعد تلہ گنگ میں جنسی سیکنڈل. امام مسجد کی مدرسہ پڑھنے والی بچیوں کی ساتھ زیادتی

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

    وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ایثار اور قربانی کا جذبہ ہے جو قوموں کو مشکات سے نکالتا ہے ،قومی یکجہتی اور یکسوئی قوموں کو مشکلات سے نکال کر کامیابی کی طرف لیکر جاتے ہیں ،اللہ کے فضل سے پاکستان کی مشکلات کا خاتمہ ہوا ، اللہ کے فضل و کرم سے پاکستان ترقی وخوشحالی کے راستے پر گامزن ہو،گزشتہ حکومت نے آئی ایم ایف سے گفتگو میں ہچکچاہٹ دکھائی، پھر جب آئی ایم ایف سے معاہدہ کیا گیا تو اسے سنگ دلی سے دھجیاں اڑائی گئیں، پاکستا ن کے وقار کو خاک میں ملانے کی ناپاک کوشش کی گئی ، عالمی اداروں کا ہم سے بھروسہ اٹھنا شروع ہو گیا کورونا پوری دنیا میں آیا ، ترقی کی رفتار میں کمی آئی ، کورونا کے زمانے میں ایل این جی 3 ڈالر پر آگئی تھی لیکن پھر بھی معاہدہ نہ کیا گیا بہت محنت کے ساتھ ایل این جی کا آذربائیجان کے ساتھ معاہدہ کیا ہے ، معاہدے کی شرائط ہیں کہ آذربائیجان ایل این جی سستے داموں فراہم کرے گا ، پاکستان کی مرضی ہوگی کہ خریدے یا نہ خریدے،نہ خریدنے کی صورت میں کوئی جرمانہ نہیں لگے گا

    وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اٹھ بابندھ کمر کیا ڈرتا ہے پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے یہ کرنا پڑے گا 9 مئی کا واقعہ پاکستان کو تباہ برباد کرنے کی سازش تھی ، 9 مئی کی سازش میں اندر اور باہر کے دشمن شامل تھے

    وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ میرا ایمان ہے پاکستان ڈیفالٹ ہونے والا ملک نہیں ،ہماری جو تباہی ہوئی ہے اسے ریکور کرنا ہے ، آرمی چیف بہت زیادہ اپنا حصہ ڈال رہے ہیں ،پاکستان کا 9 واں ریویو 30 ستمبر 2022 والا تھا ،پہلے 3 ماہ تاخیر ہوئی وہ وزٹ نہیں کرسکے 9 فروری کو ٹیکنیکل ریویو مکمل ہوگیا تھا،آئی ایم ایف نے کہا 6 بلین ڈالر کا ٹارگٹ پورا کریں ،وزیر اعظم نے آئی ایم یاف سے 1 یا 2 ماہ بڑھانے کا کہا تو منع کردیا گیا ہم چاہتے تھے کہ یہ پروگرام 9 ماہ سے زائد کا نہ ہو، گزشتہ 48 گھنٹے میں یہ پروگرام 9 ماہ کا ہوگیا ،بجٹ تقریر میں کافی پریشان تھا کہ مزید 215 بلین کا ٹیکس لگا دوں ، پریشان تھا کہ ٹیکس لگادوں اور پروگرام بھی نہیں ہوا تو کیا ہوگا ،وزیر اعظم نے کہا پروگرام نہ ہوا تو ہم واپس لے لیں گے

  • اندرونی معاملات میں مداخلت آئی ایم ایف کا مینڈیٹ نہیں ،عائشہ غوث پاشا

    اندرونی معاملات میں مداخلت آئی ایم ایف کا مینڈیٹ نہیں ،عائشہ غوث پاشا

    وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا نے آئی ایم ایف کے مشن چیف ناتھن پورٹر کے بیان کو پاکستان کے داخلی معاملات میں مداخلت قرار دیا ہے

    میڈیا سے بات کرتے ہوئے عائشہ غوث بخش پاشا کا کہنا تھا کہ پاکستان قانون کے مطابق ہی چل رہا ہے، آئی ایم ایف مشن چیف کا بیان غیر معمولی نوعیت کا ہے، پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت آئی ایم ایف کا مینڈیٹ نہیں. قرض پروگرام میں تاخیر پاکستان اور آئی ایم ایف دونوں کے مفاد میں نہیں وزیراعظم نےایم ڈی آئی ایم ایف کو شرائط پرعملدرآمد اور پروگرام مکمل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے امید ہے نئے بجٹ سے پہلے اسٹاف لیول معاہدہ ہو جائے گا 30 جون کو آئی ایم ایف پروگرام ختم ہو جائے گا آئی ایم ایف سے ڈیل نہ ہوئی تووزارت خزانہ آنکھیں بند کرکے نہیں بیٹھی ہر وقت پلان بی بھی موجود ہوتا ہے ہماری ترجیح آئی ایم ایف پروگرام ہے

    عائشہ غوث بخش پاشا کا کہنا تھا کہ نئے مالی سال کا بجٹ الیکشن ایئربجٹ ہوگا، نیا بجٹ 9 جون کے حساب سے تیار کیا جا رہا ہے نئے بجٹ میں عوام کو ریلیف دیا جائے گا کوشش ہوگی عام آدمی پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائےآئی ایم ایف پاکستان کو ٹارگٹڈ سبسڈی کی اجازت دیتا ہے

    واضح رہے کہ آئی ایم ایف کے مشن چیف ناتھن پورٹر نے کہا تھا کہ آئی ایم ایف سیاسی پیشرفت کا نوٹس لیتا ہے مگر ملکی سیاست پرتبصرہ نہیں کرتا امید ہے آئین و قانون کے مطابق آگے بڑھنے کا پُرامن راستہ تلاش کیا جائے گا

    دوسری جانب میڈیا رپورٹس کے مطابق آئی ایم ایف قرض پروگرام مکمل ہوئے بغیر ختم ہونے کا امکان ہے، نویں اقتصادی جائزہ کے بعد آئی ایم ایف سے معاہدہ ختم ہو جائے گا، بجٹ کیلئے آئی ایم ایف سے نواں اقتصادی جائزہ ہر صورتحال میں مکمل کرنے کی تیاریاں کرنے کی ہدایت کی گئی ہے،نواں اقتصادی جائزہ مکمل ہونے سے حکومت کو معاشی سطح پر درپیش چیلنجز میں کمی ہو گی وزارت خزانہ حکام بجٹ تجاویز پر آئی ایم ایف کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں آئی ایم ایف سے دسویں اور گیارہویں اقتصادی جائزہ کیلئے وقت نہیں ہو گا،دسویں اور گیارہویں جائزے سے قبل قرض پروگرام کا وقت ختم ہو جائے گا، پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان موجودہ قرض معاہدہ کی معیاد 30 جون ہے، موجودہ قرض پروگرام کی معیاد بڑھانے پر آئی ایم ایف سے تاحال کوئی بات نہیں ہوئی

    پاکستان میں ہونے والی حالیہ پیش رفت کا جائزہ لے رہے ہیں

    وفاقی بجٹ کی تجاویز آئی ایم ایف کے ساتھ شئیر 

     پرویز الہیٰ کے بیٹے مونس الہیٰ کی آڈیو لیک

    عمران خان کی محبت بھری شاموں کا احوال، سب پھڑے جان گے، گالی بریگیڈ پریشان

  • پاکستان میں دنیا کی خراب ترین طرز کی حکمرانی ہے،مفتاح اسماعیل

    پاکستان میں دنیا کی خراب ترین طرز کی حکمرانی ہے،مفتاح اسماعیل

    سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نےنجی یونیورسٹی کے پری بجٹ ڈسکشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہماری مشکلات ہماری اپنی پیدہ کردہ ہیں بنگلہ دیش ،بھارت میں اتنی مہنگائی نہیں ہوئی ہے کویڈ کے بعد پوری دنیا میں مہنگائی بڑھی ہے یوکرین جنگ نے مزید حالات خراب کیے ہیں

    مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ پورا پاکستان جمع ہو کر 30 بلین ڈالر ایکسپورٹ کرتا ہے، 1992 میں ہماری اور ویت نام کی ایکسپورٹ برابر تھی، اب ہماری ایکسپورٹ 30 جبکہ ویت نام کی 300 ارب ڈالر ہوگئی ہے، پاکستان میں دنیا کی خراب ترین طرز کی حکمرانی ہے، اس طرز حکمرانی میں ہم کچھ بھی حاصل نہیں کرسکتے، سرکلر ڈیٹ بڑھنے کا مسئلہ سسٹم کی خرابی کا نتیجہ ہے،آئی ایم ایف پروگرام میں نہ گئے تو باقی دنیا بھی قرض نہیں دے گی، پاکستان میں اوسطا مہنگائی کی شرح 35 فیصد تک پہنچ گئی ہے، چین نے پاکستان کو تین سے چار مرتبہ بیل آؤٹ پیکیج کی سہولت دی،پاکستان پر قرضوں کا حجم 100ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے ،

    مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ ملک میں قرضے لیکر روپیہ کو سستا کیا گیا جس سے آنے والی نسل پر قرض کا بوجھ بڑھ رہا ہے، پیشہ ورانہ ودیگر شعبوں میں تعلیم کا فقدان پاکستان کا اہم معاشی مسئلہ ہے، امن وامان کی خراب صورتحال کی وجہ سے کوئی غیرملکی پاکستان نہیں آتا،ڈھاکہ ائرپورٹ پر جتنی ائرلائنز آپریٹ ہورہی ہیں اتنی ائیرلائنز پاکستان کے تمام ائیرپورٹس پر نہیں ہوتیں ،

    بنوں آپریشن کے بعد سپہ سالار جنرل عاصم منیر کا وزیرستان،ایس ایس جی ہیڈکوارٹر کا دورہ بھی اہمیت کا حامل 

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

     ریاست مخالف پروپیگنڈے کوبرداشت کریں گے نہ جھکیں گے۔

    چیف جسٹس عامر فاروق نے معاملے کا نوٹس لے لیا

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

  • سعودی عرب پاکستان کو 2 ارب ڈالرز دے گا،آئی ایم ایف نے تصدیق کر دی

    سعودی عرب پاکستان کو 2 ارب ڈالرز دے گا،آئی ایم ایف نے تصدیق کر دی

    سعودی عرب پاکستان کو 2 ارب ڈالرز دے گا جس کی تصدیق آئی ایم ایف نے بھی کردی ہے-

    باغی ٹی وی:”دی نیوز” کے مطابق سعودی عرب سے ڈپازٹس کی صورت میں اضافی دو ارب ڈالرز ملنے کے امکانات کے بعد پاکستان کو اب متحدہ عرب امارات سے مزید ایک ارب ڈالرز ملنے کے حوالے سے جواب کا انتظار ہے تاکہ آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدہ ہو سکے۔

    قاضی فائز عیسی کے فیصلے کوایک سرکلرکے ذریعے ختم کیاگیا. وزیراعظم

    سینئر سرکاری عہدیداروں کے مطابق آئی ایم ایف نے پاکستانی حکام کو بتایا ہے کہ انہیں سعودی عرب سے دو ارب ڈالرز کے حوالےسے یقین دہانی موصول ہوگئی ہے اور آئی ایم ایف اس یقین دہانی سے مطمئن ہے توقع ہے کہ سعودی حکام اس ضمن میں وزیراعظم شہباز شریف کے دورۂ سعودی عرب کے موقع پر باضابطہ اعلان کریں گے۔

    سعودی عرب میں پاکستانی سفیر نے اشارتاً کہا تھا کہ مشکل حالات میں سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کی مدد کی ہے اور انشاء اللہ جلد اچھی خبر سامنے آئے گی۔

    دوسری جانب وزیر مملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا نے کہا کہ بیرونی فنڈنگ کے حوالے سے شرائط پوری ہونے پر آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدہ طے پا جائے گا۔

    ایمرجنسی لگے گی یا مارشل لاء؟ عدالتی فیصلہ نامنظور، کھلی بغاوت

    ورلڈ بینک نے پاکستان کی ڈیولپمنٹ، حالیہ معاشی ترقی اور اس سے متعلق خدشات پر اپنی رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو خرچہ کم کرنا ہے تو بجلی اور پٹرول پر سبسڈی ختم کرے، پاکستان ’پائیدار نمو‘ معاشی ریفارمز کے ذریعے ہی حاصل کرسکتا ہے،دہری وزارتوں اور محکموں کو برقرار رکھنے کے علاو ا صوبائی نوعیت کے منصوبوں کو وفاق کے تحت وسائل سے مکمل کرنے سے سالانہ 800؍ ارب روپے کا نقصان ہورہاہے ۔

    قبل ازیں وزارت خزانہ کے ذرائع نے پیر کو دعویٰ کیا کہ سعودی عرب نے 2 ارب ڈالر کی فنڈنگ ​​کی منظوری دی ہے جس سے پاکستان کی معاشی مشکلات کو کم کرنے میں مدد ملے گی دوسرے دوست ممالک سے 3 بلین ڈالر کی فنڈنگ ​​کی مثبت خبر ملی ہے 10 اپریل کو آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے امریکا روانہ ہونے سے قبل وزیر خارجہ اسحاق ڈار متحدہ عرب امارات بھی جائیں گے۔

    وفاقی کابینہ اجلاس، سپریم کورٹ کے فیصلے کو مسترد کر دیا

    تاہم، پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان معاملات ٹھیک نہیں ہوئے کیونکہ فنڈ کو اب بھی 900 ارب روپے کی سبسڈیز کے بارے میں تحفظات ہیں جنہیں حکومت جاری رکھنا چاہتی ہے۔

    آئی ایم ایف نے پیٹرولیم لیوی کی مد میں 850 ارب روپے جمع کرنے پر بھی اصرار کیا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ حکومت ٹیکس کی کمی کو پورا کرنے کے لیے اقدامات کرےآئی ایم ایف یہ بھی چاہتا ہے کہ حکومت اپنے درآمدی بل کو کم کرنے کے لیے تیل کی درآمدات میں کمی کرے۔

    یہ بات پہلے ہی منظر عام پر آچکی ہے کہ آئی ایم ایف کی ٹیم نے پاکستانی حکام کو بتایا کہ اسے پاکستان کے بیل آؤٹ کے ساتھ آگے بڑھنے سے پہلے دوست ممالک سے فنڈنگ ​​کی یقین دہانی کی ضرورت ہوگی۔

    وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا قومی اسمبلی سے خطاب