Baaghi TV

Tag: قرض

  • پاکستان پر کتنا قرض؟ تفصیلات جاری

    پاکستان پر کتنا قرض؟ تفصیلات جاری

    کراچی: اسٹیٹ بینک نے پاکستان پر قرض کی تفصیلات جاری کر دیں۔

    اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق پاکستان پر ٹوٹل قرض 57 ہزار 122 ارب 50 کروڑ روپے تک پہنچ گیا، مارچ میں پاکستان کے قرض میں فروری کے مقابلے میں 2 ہزار 685 ارب روپے کا اضافہ ہوا جبکہ فروری میں پاکستان کا قرض 54 ہزار 400 ارب روپے تھا۔

    پاکستان میں احتجاج اور گرفتاریوں پرامریکا کا بیان جاری

    اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق دسمبر 2022 میں پاکستان کا قرضہ 51 ہزار 58 ارب 20 کروڑ روپے تھا جبکہ اس سے 6 ماہ قبل جون 2022 میں ملکی قرضہ 47 ہزار 832 ارب 40 کروڑ روپے تھا۔

    اسٹیٹ بینک کے مطابق سال 2022 مارچ میں پاکستان کا قرض 43 ہزار 12 ارب 70 کروڑ روپے تھا جو سال 2023 میں 32.8 فیصد اضافے کے بعد 57 ہزار 122 ارب روپے پر آ گیا۔

    کراچی میں پی ٹی آئی رہنما کا ریسٹورنٹ سیل کر دیا

    جاری کردہ تفصیلات کے مطابق گزشتہ سال مارچ سے رواں سال مارچ کے دوران قرض میں 14 ہزار 109 ارب 80 کروڑ روپے کا اضافہ ہوا۔

  • چین سے مزید 50 کروڑ ڈالر کے حصول کیلئے دستاویزی کارروائی مکمل ہو گئی ہے،اسحاق ڈار

    چین سے مزید 50 کروڑ ڈالر کے حصول کیلئے دستاویزی کارروائی مکمل ہو گئی ہے،اسحاق ڈار

    اسلام آباد: پاکستان کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ چین سے مزید 50 کروڑ ڈالر کے حصول کیلئے دستاویزی کارروائی مکمل ہو گئی ہے۔

    باغی ٹی وی: اپنے ٹوئٹر بیان میں ان کا کہنا تھا کہ فنڈز جلد اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو جاری ہو جائیں گے چینی بینک نے 1.3 ارب ڈالر کے رول اوور کی منظوری دی تھی،یہ رقم حال ہی میں پاکستان نے چائنہ کو واپس ادا کی تھی پاکستان نے حال ہی میں یہ رقم چینی بینک کو واپس ادا کی تھی۔

    وزیراعظم سے ملاقات، وزیراعلیٰ سندھ کا مردم شماری پرشدید تحفظات کا اظہار


    علاوہ ازیں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ چند دوست ممالک نے پاکستان کو سپورٹ کرنے کے وعدے کیے تھے، اب آئی ایم ایف کہہ رہا ہے کہ وہ ان وعدوں کو مکمل کریں اور صرف یہی تاخیر کی وجہ ہے۔

    اسحاق ڈار نے سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام میں تاخیر حکومت کی طرف سے نہیں ہے، اس بار بات چیت بہت غیرمعمولی رہی ، بہت زیادہ مطالبات سامنے رکھے گئے، ہم نے ہر چیز مکمل کر لی ہے۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ ہمیں قومی مفاد کا تحفظ کرنا ہے، کوئی بھی نیوکلیئر یا میزائل پروگرام پر سمجھوتا نہیں کرے گا، کسی کو حق نہیں کہ پاکستان کو بتائے کہ وہ کس رینج کے میزائل یا ایٹمی ہتھیار رکھے۔

    پانی کی عام بوتلوں میں کسی ٹوائلٹ سے بھی 40 ہزار گنا زیادہ جراثیم موجود …

    اُنہوں نے کہا کہ میں نے ماضی میں سب سے پہلے آئی ایم ایف معاہدہ ویب سائٹ پر ڈالا تھا، اب بھی جیسے ہی آئی ایم ایف سے اسٹاف لیول معاہدہ ہوگا ویب سائٹ پر ڈال دیا جائے گا۔

    اُنہوں نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام میں تاخیر پر بات کرتا ہوں، یہ کوئی نیا پروگرام نہیں جو اس حکومت نے کیا ہو، یہ آئی ایم ایف پروگرام 2019 میں شروع ہواجو 2020 میں مکمل ہوجانا چاییےتھا۔

    وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ 2013ء سے 2016ء تک آئی ایم ایف کا پروگرام مکمل کیا گیا تھا، لگتا ہے 2019ء میں آئی ایم ایف کے ساتھ معاملاتِ پروگرام نئی طرز کے تھے اسٹیٹ بینک اور دیگر قانون پارلیمنٹ نے منظور کیے جس کے بعد میری خیال میں مانیٹری پالیسی بہت زیادہ آزاد ہوگئی۔

    فائرنگ کے بڑھتے واقعات، امریکا کے اسکولوں میں بُلٹ پروف کمرے تعمیر

  • 7 بلین ڈالر کے قرض؛  پاکستان ڈیفالٹ ہونے کے خطرے سے دوچار

    7 بلین ڈالر کے قرض؛ پاکستان ڈیفالٹ ہونے کے خطرے سے دوچار

    7 بلین ڈالر کے قرضے کی وجہ سے پاکستان ڈیفالٹ کے خطرے سے دوچار ہیں

    بلوم برگ کے مطابق بانڈ ہولڈرز پاکستان کی طرف سے ممکنہ ڈیفالٹ ہونے کے خطرے سے خوف زدہ ہیں کیونکہ بحران زدہ ملک کو کئی ارب ڈالر کے قرضوں کی ادائیگی کا سامنا ہے، جسے وہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ یا دو طرفہ قرض دہندگان کے رول اوور کے بغیر پورا کرنے کے لیے جدوجہد کرے رہا ہے.

    بلوم برگ نے مزید لکھا کہ ملک کے ڈالر بانڈز جمعرات کو نومبر کے بعد اپنی کم ترین سطح پر آگئے ہیں جبکہ فِچ ریٹنگز کے مطابق سرمایہ کاروں نے آنے والے مہینوں میں 7 بلین ڈالر کی واپسی کی اپنی صلاحیت کا وزن کیا، بشمول مارچ میں واجب الادا 2 بلین ڈالر، چینی قرضے بھی شامل ہیں.

    عالمی ادارے نے مزید کہا کہ موڈی کی انوسٹرز سروسز کی جانب سے اس ہفتے پاکستان کو مزید گھٹا کر ردی میں ڈال دیا گیا ہے کیونکہ ملک کو بدترین معاشی بحران کا سامنا ہے جیسے کہ پاکستان میں زرمبادلہ کے ذخائر گر رہے ہیں اور افراط زر ریکارڈ بلندیوں کو چھو رہا ہے۔ پاکستان میں حکام ڈیفالٹ کو روکنے کے لیے آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ قرضے پر اعتماد کر رہے جو کہ ابھی تک مبہم ہے۔

    سنگاپور میں ولیم بلیئر انویسٹمنٹ کے فنڈ مینیجر جونی چین جنہوں نے حال ہی میں پاکستانی قرضوں میں کمی کے بارے کہا: "ہم پہلے سے ہی خطرات کا انتظام کر رہے ہیں کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو ہم زیادہ متاثر نہیں ہوتے۔

    جبکہ بلوم برگ نے کہا کہ پاکستان کے اگلے سال اپریل میں واجب الادا 8.25 فیصد بانڈ مسلسل تیسرے دن ڈالر پر 0.8 سینٹ کم ہوکر 51.1 سینٹ پر بتائے گئے۔ موڈیز نے بدھ کے روز ایک نوٹ میں کہا کہ جون کو ختم ہونے والے مالی سال کے لیے ملک کی بیرونی مالیاتی ضروریات کا تخمینہ تقریباً 11 بلین ڈالر ہے جس میں 7 بلین ڈالر کے بیرونی قرضوں کی ادائیگی بھی شامل ہے۔

    دریں اثناء وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان کو فروری میں چائنہ ڈویلپمنٹ بینک سے 700 ملین ڈالر کا قرضہ ملا ہے۔ جبکہ وزیر اعظم لی کیچیانگ نے آئی ایم ایف کے سربراہ کو بتایا کہ چین "تعمیری طریقے سے” بہت زیادہ مقروض ممالک کی مدد کے لیے کثیر الجہتی کوششوں میں حصہ لینے کے لیے تیار ہے.

  • جوں جوں دوا کی پاکستان کا قرض بڑھتا گیا:50 ہزار503ارب روپے کی تاریخی بلند سطح پر پہنچ گیا

    جوں جوں دوا کی پاکستان کا قرض بڑھتا گیا:50 ہزار503ارب روپے کی تاریخی بلند سطح پر پہنچ گیا

    اسلام آباد:وفاقی حکومت کے قرضے 50 ہزار 503 ارب روپے پر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح سے تجاوز کر گیا۔اسٹیٹ بینک کے مطابق اتحادی حکومت کے پہلے چار ماہ کے دوران مرکزی حکومت کے قرضوں میں 7 ہزار 490 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے۔

    دستاویزات کے مطابق جولائی 2022 تک وفاقی حکومت کا مجموعی قرضہ بڑھ کر ریکارڈ 50 ہزار 503 ارب روپے سے تجاوز کر گیا تھا-

    جولائی 2022 تک وفاقی حکومت کا مقامی قرض 31 ہزار12 ارب اور غیر ملکی قرض 19ہزار 375 ارب روپے پر پہنچ گیا تھا، گزشتہ مالی سال کے ابتدائی 9 مہینوں جولائی تا مارچ کے دوران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت کے دور میں مرکزی حکومت کے قرضے 4 ہزار307 ارب جبکہ نئی حکومت کے چار ماہ میں7 ہزار 490 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔

    اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت نے گزشتہ مالی سال کے ابتدائی 9 مہینوں میں ماہانہ اوسط 500 ارب روپے سے کم قرضہ لیا جبکہ موجودہ حکومت نے ابتدائی چار ماہ میں قرضوں میں ماہانہ اوسط تقریبا 1871 ارب روپے کا اضافہ کیا-

    اسٹیٹ بینک کی دستاویز کے مطابق جون 2022 تک ملک پر قرضے اور واجبات ریکارڈ 59 ہزار697 ارب روپے پر پہنچ گئے تھے۔قبل ازیں اسٹیٹ بینک کی دستاویز میں بتایا گیا تھا کہ مارچ 2022 تک ملک پر قرضے اور واجبات ریکارڈ 535 کھرب 44 ارب روپے سے تجاوز کرگئے تھے۔

    ملکی قرض اور واجبات میں تحریک انصاف حکومت کے دور میں ریکارڈ 236 کھرب 65 ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔دستاویز کے مطابق جون 2018 تک ملک پر 298 کھرب 79 ارب روپے کے قرضے اور واجبات تھے۔

    اس سے قبل سال 2013 میں ملک پر قرضوں کا مجموعی بوجھ 143کھرب 18ارب روپے تھا، یوں مسلم لیگ (ن) کی گزشتہ 2013 تا 2018 حکومت کے دوران ملکی قرضوں کے بوجھ میں 155 کھرب 61 ارب روپے کا اضافہ ہوا تھا۔

    جبکہ سابق صدر پرویز مشرف کے 9 سالہ دور 1999 سے 2008 کے دوران قرضوں میں 32 کھرب روپے اور پاکستان پیپلز پارٹی کے 5 سالہ دور 2008 تا 2013 کے دوران ملکی قرض 82 کھرب روپے بڑھا تھا۔

    پاک فوج کی ٹیمیں ریلیف آپریشن میں انتظامیہ کی بھرپورمدد کر رہی ہیں،وزیراعلیٰ

    وزیراعظم فلڈ ریلیف اکاؤنٹ 2022 میں عطیات جمع کرانے کی تفصیلات

    باغی ٹی وی بلوچستان کے سیلاب متاثرین کی آواز بن گیا ہے.

  • عالمی بینک کی پاکستان کو 20 کروڑ ڈالر قرض فراہم کرنے کی منظوری

    عالمی بینک کی پاکستان کو 20 کروڑ ڈالر قرض فراہم کرنے کی منظوری

    عالمی بینک نے پاکستان کو 20 کروڑ ڈالر قرض فراہم کرنے کی منظوری دے دی۔

    باغی ٹی وی : عالمی بینک کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ رقم صوبہ پنجاب کے لیے فراہم جائے گی، پاکستان کو فراہم کی جانے والی رقم زرعی شعبے کی بہتری اور چھوٹے کسانوں کے منصوبوں کے لیے خرچ ہو گی رقم کی فراہمی کے بعد پاکستان کو پانی کے استعمال میں بہتری اور چھوٹے کسانوں کی آمدنی بڑھانا ہو گی۔

    یاد رہے کہ چند روز قبل آئی ایم ایف نے بھی پاکستان کے لیے ایک ارب 17 کروڑ ڈالر قرض کی منظوری دی تھی پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری مذاکرات کامیاب ہونے کے بعد فریقین کے درمیان معاہدہ طے پا یا تھا تاہم پاکستان کو بجٹ میں دی گئی پالیسیوں اور کرپشن کی روک تھام کے لیے سختی سے عمل درآمد کرنا ہو گا۔

    یاسر شاہ ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے پاکستانی اسپنر بن گئے

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے معاہدے کے نتیجے میں پاکستان کو معاشی مشکلات سے نکالنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے وزیراعظم شہباز شریف نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کی بحالی پر وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی کوششوں کو سراہا تھا

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ معاہدے کی بحالی کے لیے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں وزارت خارجہ کی کوششوں کو بھی سراہتا ہوں آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کی بحالی بہترین ٹیم ورک کی عمدہ مثال ہے آئی ایم ایف سے معاہدے کے نتیجے میں پاکستان کو معاشی مشکلات سے نکالنے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔

    پاکستان ریلوے اور پی آئی اے کے کرایوں میں کمی کا اعلان

  • چین نے پاکستان کو دو ارب 30 کروڑ ڈالر قرضہ دے دیا

    چین نے پاکستان کو دو ارب 30 کروڑ ڈالر قرضہ دے دیا

    چین نے پاکستان کو دو ارب 30 کروڑ ڈالر قرضہ دے دیا، وزیر خزانہ نے رقم اسٹیٹ بینک کے اکاؤنٹ میں منتقل ہونے کی تصدیق کردی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے اپنے ٹویٹ میں اس حوالے سے اعلان کیا ہے کہ چینی کنسورشیم کی جانب سے پاکستان کو قرض کی مد میں دو ارب 30 کروڑ ڈالر موصول ہوگئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ یہ رقم اسٹیٹ بینک کے اکاؤنٹ میں منتقل ہوگئی ہے جس کے بعد ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوگیا ہے۔

    واضح رہے کہ چینی بینکوں کے کنسورشیئم کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے تحت پاکستان کو یہ رقم ملی ہے۔ توقع ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری سے روپے کی قدر بھی مستحکم ہوجائے گی.علاوہ ازیں اگلے چند روز میں آئی ایم ایف کے ساتھ اگر اسٹاف سطح کا معاہدہ طے پاجاتا ہے تو اس کے بعد عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور اسلامک ترقیاتی بینک کی جانب سے پاکستان کو فنانسنگ ملنا شروع ہوجائے گی۔

    اس طرح آئی ایم ایف پروگرام ٹریک پر آنے کے بعد پاکستان کو ڈونر اداروں اور ممالک سے دس سے بارہ ارب ڈالر کی فنانسنگ پاکستان کو ملنے کی توقع ہے جس سے اقتصادی صورتحال میں بہتری کے امکانات ہیں علاوہ ازیں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا بھی رجحان اگر برقرار رہتا ہے تو اس سے بھی صورتحال بہتر ہوگی۔

    چین کا افغانستان میں زلزلہ متاثرین کے لیے اضافی امداد کا اعلان

    قبل ازیں وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ پاکستان اب ڈیفالٹ نہیں بہتری کی جانب جائے گا، ملک کو ڈیفالٹ سے بچا لیا۔

    سپیکرراجہ پرویزاشرف کی زیر صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر مفتاح اسماعیل نے بجٹ بحث سمیٹتے ہوئے کہا ہے کہ تمام بجٹ کی کاروائی بہت خوش اسلوبی سے ہوئی ہمیں ارکان نے بہت اچھے مشورے دیئے گئے ہیں، بیشتر سفارشات کو شامل کر رہے ہیں، اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض کی طرف سے گندم و کپاس اور نوجوانوں کی طرف توجہ دلائی گئی، ہم نے کھل بنولہ پر ٹیکس ہٹا دیا ہے، زرعی آلات ٹریکٹر وغیرہ پر سبسڈی دے کر کسانوں کی مدد کی۔

    انہوں نے کہا کہ 10 لاکھ لوگوں کو 2،2 ہزارروپے دینے کیلئے رجسٹر کر لیا، 80 لاکھ لوگوں کو 2،2 ہزار روپے دیئے ہیں، رواں مالی سال 5300 ارب روپے کا خسارہ ہوا، پونے 4 سال میں 71 سال کے برابر قرض لیا گیا، رواں مالی سال کرنٹ اکاونٹ خسارہ 17 ارب ڈالر تک ہوگا۔

    مفتاح اسماعیل نے کہا کہ خسارہ پورا کرنے کیلئے ہمیں پوری دنیا سے پیسے مانگنا پڑتے ہیں، وزیراعظم کے بیٹوں کی کمپنیوں پر بھی زیادہ ٹیکس عائد کیا، میری اپنی کمپنی آئندہ مالی سال 20 کروڑ روپے زیادہ ٹیکس دے گی۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ بجٹ خسارے کا ہدف 3990 مگر 5310 ارب کا خسارہ ہوا ہے، جی ڈی پی کا خسارہ 9.5 فیصد رہا، عمران خان تو ملک کو دیوالیہ کی طرف لے گئے تھے، ہم نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچا لیا ہے، اب ایٹمی ملک دیوالیہ نہیں ترقی کی طرف جائے گا، چالیس ارب روپے میں پوری حکومت چلتی ہے، عمران خان پیٹرولیم پر 120 ارب روپے کی سبسڈی دے دی۔

  • چھوٹے کاشتکاروں کوآسان اور بلاسود قرضے دیں گے،حمزہ شہباز

    چھوٹے کاشتکاروں کوآسان اور بلاسود قرضے دیں گے،حمزہ شہباز

    وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں کاشت کار کو سہولت اور عوام کو اشیاء ضروریہ مقرر کردہ نرخوں پر فراہمی کے لئے بڑے فیصلے کئے گئے.وزیر اعلی حمزہ شہباز نے چھوٹے کاشتکاروں کو اخوت کی طرز پر آسان اور بلاسود قرضے دینے کی لئے جامع پلان طلب کر لیا.

    کاشتکاروں کا استحصال روکنے کے لئے پنجاب بھر کی مارکیٹ کمیٹیوں کی تشکیل نو کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے جبکہ آکشن سپروائزری عملے کے فی الفور رد و بدل کا فیصلہ کی اگیا ہے ،اس موقع پر حمزہ شہباز کا کہنا ہے کہ چھوٹے کاشتکاروں آسان اور بلاسود قرضے دینے کی لئے بینک آف پنجاب سے بھی مشاورت کی جائے۔ مارکیٹ کمیٹیوں میں بہترین ہیومن ریسورس کو انڈکٹ کیا جائے.

    وزیراعلٰی نے سیکرٹری زراعت سے سوال کیا کہ ایگری ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی کیا کارکردگی ہے؟ وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز نےزرعی ریسرچ اداروں کی کارکردگی رپورٹ بھی طلب کر لی،حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ زرعی شعبے میں ریسرچ کے بغیر پیداوار میں اضافہ محض خواب ہے۔زرعی ریسرچ اداروں نے گزشتہ برسوں جو کام کیا ہے، اس کے بارے میں جامع رپورٹ پیش کی جائے۔

    حمزہ شہباز نے کہا کہ ان اداروں میں نجی شعبے کے ماہرین کی خدمات بھی لی جائیں،فصلوں کی انشورنس کا پلان بھی تیار کیا جائے۔آنے والے دنوں میں ٹماٹر اور پیاز کی قلت پر قابو پانے کیلئے امپورٹ کے لئے بر وقت اقدامات کئے جائیں۔ وزیراعٌی نے ہدایت کی کہ ٹماٹر، پیاز اور دیگر اشیاء ضروریہ کی ارزاں نرخوں پر عوام تک فراہمی کے لئے ہنگامی بنیادوں پر کام کیا جائے.

    وزیر اعلی حمزہ شہباز نے لاہور سمیت پنجاب کی منڈیوں میں صفائی کے انتظامات اور دیگر سہولتوں کے بارے رپورٹ طلب کر لی اور ہدایت کی کہ تاریخ کے ساتھ وڈیو اور تصاویر آج رات تک وزیر اعلی آفس بھجوائیں.انہوں نے کہا کہ منڈیوں میں کاروبار کرنے والوں کے لیے سہولتیں بہتر بنائیں گے۔

    وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز کی زیر صدارت اجلاس میں سبزیوں کی پیداوار اور طلب کا جائزہ لیا گیا ،اجلاس میں آڑھتی کے رول کو کم کرنے پر بھی غور کیا گیا.صوبائی وزیر سردار اویس لغاری، ایم پی اے بلال یاسین، پولیٹیکل اسسٹنٹس، متعلقہ محکموں کے سیکرٹریز، کمشنر لاہورڈویژن اور اعلی حکام نے اجلاس میں شرکت کی.

    مزید برآں وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز شریف سے وزیر مملکت برائے امور خارجہ حنا ربانی کھر نے ملاقات کی. ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، فیٹف کی گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے ہونے والی پیشرفت پر تبادلہ خیال کیا گیا.وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز نے فیٹف کی گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے پاکستان کی مثبت پیش رفت پر حنا ربانی کھر اور پوری ٹیم کی کاوشوں کو سراہا .

    حمزہ شہباز نے کہا کہ فیٹف کی گرے لسٹ سے وائٹ لسٹ میں جانے کے لیے مثبت پیش رفت پاکستان کی جیت ہے۔امید ہے کہ فیٹف ٹیم کے دورے کے بعد پاکستان وائٹ لسٹ میں واپس آجائے گا۔ رکن قومی اسمبلی رضا ربانی کھر، صوبائی وزیر سید علی حیدر گیلانی،سرداراویس لغاری، رکن پنجاب اسمبلی مخدوم سید عثمان محمود بھی اس موقع پر موجود تھے

  • چین کی پاکستان کودو ارب ڈالرز قرض کی پیشکش

    چین کی پاکستان کودو ارب ڈالرز قرض کی پیشکش

    چین نے پاکستان کی بھرپور مدد کرنے کے عزم کا اظہار کر دیا اور پاکستان کویقین دہانی کرائی ہے کہ وہ مشکل وقت میں پہلے سے زیادہ عزم اور سرگرمی کے ساتھ پاکستان کا ساتھ دے گا۔ چین نے پاکستان کوکم شرح پردو ارب ڈالرز کے قرضے کی پیشکش بھی کی ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چین میں پاکستانی سفیر کے توسط سے موصول ہونے والی سفارتی رابطے میں پاکستان کوبتایا گیا ہے کہ چینی حکومت پاکستان کے ساتھ اپنے معاشی اور اسٹریٹجک تعلقات کو وسیع اور مضبوط کرنا چاہتی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق سفارتی رابظے میں مزیدیہ بھی کہا گیا ہے کہ چین ، پاکستان کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے بلکہ پہلے سے زیادہ عزم کے ساتھ موجودہ وزیراعظم شہبازشریف کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں۔

    زرائع کے مطابق سفارتی رابطےمیں چین کی حکومت نے اس اعتماد کا اظہار بھی کیا کہ شہباز شریف ’’اپنے گورننس کے فلسفے‘‘ کی بنیاد پر اُن چیلنجز پر قابو پانے میں کامیاب ہوں جائیں گے جو اس وقت پاکستان کو درپیش ہیں۔

    چین نے پاکستان کو معاشی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے دو ارب ڈالرز کا قرضہ دینے کی تصدیق کی ہے جو کم شرح پر دیا جائے گا اور یہ شرح اس شرح سے بھی کم ہوگی جس پر چین نے اپنے دیگر قریبی دوست ممالک کو قرضہ جات دیئے ہیں۔

    چینی قیادت ،شہباز شریف کے ساتھ کام کرنے میں زیادہ مطمئن ہے کیونکہ انہیں شہباز شریف کے ساتھ اس وقت بھی کام کرنے میں اطمینان حاصل تھا جب وہ وزیراعلیٰ تھے۔ تو اس وقت ان کی گڈ گورننس کو دیکھ کر ہی چین کی حکومت نے ان کو’’شہباز اسپیڈ‘‘ کا نام دیا۔

    رپورٹ کے مطابق اس وقت حکومت پاکستان آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کو پورا کرنے کیلئے کام کر رہی ہے، جیسے ہی آئی ایم ایف کی ڈیل مکمل ہو جائے گی تو چین پاکستان کی توقعات سے زیادہ مدد کر گا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات بھی پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہیں تاہم زیادہ تر معاملات آئی ایم ایف کی ڈیل سے جڑے ہیں۔

    دوست ممالک سے ملنے والی مدد اور یقین دہانیوں کی وجہ سے حکومت پاکستان کو حوصلہ ملا ہے کیونکہ پہلے ہی اسے آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ توقع ہے کہ حکومت جلد ہی عمران خان کی دی ہوئی سبسڈی ختم کرنے کیلئے تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ کرے گی۔ یہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ مکمل کرنے کی جانب ایک بڑا قدم ہوگا اور یہ قدم پاکستان کو 30 جون سے قبل اٹھانا ہے۔

  • وفاقی کابینہ کی چین سے 2 ارب 40 کروڑ ڈالر قرض کے حصول کی منظوری

    وفاقی کابینہ کی چین سے 2 ارب 40 کروڑ ڈالر قرض کے حصول کی منظوری

    اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے چین سے 2 ارب 40 کروڑ ڈالر قرض کے حصول کی منظوری دے دی۔

    باغی ٹی وی :چین سے 2 ارب 40 کروڑ ڈالر قرض کے حصول کی منظوری سرکولیشن سمری کے ذریعے دی گئی جس کے مطابق چین سے ملنے والا قرضہ تین سال کیلئے ہوگا۔ سمری کے مطابق 2 ارب 40 کروڑ ڈالر کا قرضہ ایک فیصد مارجن پر 2019 کے معاہدے کے تحت ملے گا۔

    معاشی مشکلات: حکومت کا کورونا لاک ڈاؤن جیسے اقدامات کرنے پر غور

    وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ چین کے ساتھ قرض واپسی مؤخر کرنے کی شرائط طے پا گئی ہیں، جس سے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوگا۔ وفاقی کابینہ نے وزارت خزانہ کی سمری کی منظوری دی۔

    دوسری جانب پیٹرول کا درآمدی بل کم کرنےکیلئے حکومت کورونا لاک ڈاؤن جیسے اقدامات کرنے پر غور کر رہی ہے رواں مالی سال کے 10 ماہ میں پیٹرولیم مصنوعات کا درآمدی بل 17 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہےملک بھر میں اس غیرمعمولی صورت حال پر حکومت نے فوری طور پر غیر معمولی اقدامات کرنے پرغور کیا ہے جیسا کہ زرمبادلہ کےذخائرکی بچت کیسےکی جائے؟ اور ملک و قوم کو معاشی مشکلات سے کیسے نکالا جائے؟-

    اس حوالے سے کئی تجاویز زیر غور ہیں، جن میں کورونا کے دنوں میں لاک ڈاؤن جیسے اقدامات، ہفتے کو سرکاری دفاتر میں چھٹی، 3 دن ورک فرام ہوم اور اتوار کو شہروں میں کاروں کے داخلے پرپابندی کی تجاویز شامل ہیں ان تجاویز پر عمل سے یومیہ 20 فیصد تک توانائی کی بچت کا امکان ہے،کورونا کے دنوں میں یومیہ چار سے ساڑھے چار ہزار میگاواٹ تک بجلی کی بچت ہوتی رہی ہے ۔

    سولہ سو ایک سواسی ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ

  • چین نے دوستی کا حق ادا کر دیا، پاکستان کا 2 ارب 30 کروڑ ڈالر قرض ری فنانس

    چین نے دوستی کا حق ادا کر دیا، پاکستان کا 2 ارب 30 کروڑ ڈالر قرض ری فنانس

    ملکی معیشت کے لیے بڑی خبر سامنے آگئی،ملک پر چھائی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے باعث بڑھتے ہوئے معاشی بحران میں چین نے ایک مرتبہ پھر دوستی کا حق ادا کر دیا ، پاکستان کو 2.3 ارب ڈالر دوبارہ دینے پر رضا مند ہو گیا۔ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ چین نے پاکستان کا 2 ارب 30 کروڑ ڈالر قرض ری فنانس کرنے پر اتفاق کرلیا۔

    سماگی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹرپر اپنے بیان میں مفتاح اسماعیل نے کہا کہ چین کے ساتھ قرض واپسی مؤخر کرنے کی شرائط طے پا گئیں۔

    مفتاح اسماعیل نے کہا کہ چین سے بہت جلد 2 ارب 30 کروڑ ڈالر ملنے کا امکان ہے، اس سے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوگا۔

    قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا تھا ہے کہ پاکستان کو چینی سرمایہ کاروں سے مختلف شعبوں میں ماہرانہ خدمات اور سرمایہ کاری میں تعاون درکار ہے۔اسلام آباد میں ممتاز چینی سرمایہ کار کمپنیوں کے نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان چینی سرمایہ کاروں کو تمام ممکنہ سہولیات فراہم کرے گا، زراعت، توانائی اور صنعتی شعبوں میں چینی تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ پاک چین دوستی ہمالیہ سے بلند، سمندروں سے گہری ، شہد سے میٹھی اور سٹیل سے مضبوط ہے۔

    شہباز شریف نے پاک چین اکنامک کوریڈور جیسا گیم چینجر منصوبہ شروع کرنے پر صدر ژی جن پنگ سمیت چینی قیادت کا شکریہ ادا کیا تھا.