قصور: پولیس کی بروقت کارروائی، محنت کش کا چوری شدہ لوڈر رکشہ برآمد
تھانہ صدر پھولنگر پولیس نے محنت کش کا چوری ہونے والا لوڈر رکشہ برآمد کر کے اصل مالک کے حوالے کر دیا۔ پولیس کے مطابق 25 December کو بلوکی کے رہائشی محنت کش مشتاق کا لوڈر رکشہ اولکھ بونگا کے علاقے سے چوری ہوا تھا۔
ایس ایچ او حافظ عاطف نذیر کی سربراہی میں ASI عمران ہاشمی پر مشتمل خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی، جس نے پیشہ ورانہ مہارت اور جدید تفتیشی طریقوں کو بروئے کار لاتے ہوئے قلیل وقت میں رکشہ برآمد کر لیا۔
چوری شدہ رکشہ واپس ملنے پر محنت کش مشتاق نے قصور پولیس کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے شکریہ ادا کیا۔
Tag: قصوریات
-

چوری شدہ لوڈر رکشہ برآمد کرکے مالک کو واپس کر دیا
-

پولیس کی کاروائیوں سے منشیات فروشی نیٹ ورک بند،نشئیوں کا برا حال
قصور
ضلع بھر میں منشیات کے خلاف مؤثر کارروائیاں، ایک نیا موقع، ایک بڑی ذمہ داریتفصیلات کے مطابق قصور ضلع بھر میں پولیس کی جانب سے منشیات فروشی کے خلاف جاری سخت اور مسلسل کارروائیاں لائقِ تحسین ہیں جس کی بدولت منشیات فروشی نیٹ ورک کو شدید دھچکا پہنچا ہے
اس باعث عام شہریوں، بالخصوص نوجوان نسل کو اس مہلک لعنت سے وقتی تحفظ بھی حاصل ہوا ہے جو ایک مثبت پیش رفت ہے جس کے دور رس سماجی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں
تاہم اس تصویر کا ایک دوسرا اور زیادہ حساس رخ بھی ہے
وہ افراد جو طویل عرصے سے نشے کے عادی تھے اب منشیات کی عدم دستیابی کے باعث شدید جسمانی اور ذہنی اذیت کا شکار ہیں
نشہ چھوٹنے کی یہ کیفیت اگر نظر انداز کی گئی تو یہ لوگ یا تو دوبارہ غیر قانونی راستوں کی طرف جائیں گے یا کسی اور تباہ کن عمل کا شکار ہو سکتے ہیں
یہی وہ نکتہ ہے جہاں حکومت اور محکمہ صحت کو پولیس کی اس کامیاب کارروائی کو ایک سنہری موقع میں بدلنا چاہیے
ضرورت اس امر کی ہے کہ نشے کے عادی افراد کو مجرم نہیں بلکہ مریض سمجھا جائے اور انہیں طبی و نفسیاتی امداد فراہم کی جائے تاکہ وہ مستقل طور پر معمول کی زندگی کی طرف لوٹ سکیں
حکومت کو چاہیے کہ ڈی ایچ کیو، ٹی ایچ کیو، آر ایچ سی اور بیسک ہیلتھ یونٹس میں خصوصی سیلز قائم کرے جہاں نشے کے عادی افراد کے لیے مکمل طبی سہولیات میسر ہوں
جہاں ان سیلز میں نہ صرف ضروری ادویات فراہم کی جائیں بلکہ ماہر ڈاکٹروں اور نفسیاتی معالجین کی خدمات بھی دستیاب ہوں جو ان افراد کی ذہنی بحالی اور نشے سے مستقل نجات میں مدد دے سکیں
اگر ریاست واقعی منشیات سے پاک معاشرہ چاہتی ہے تو محض سپلائی لائن توڑنا کافی نہیں بلکہ نشے کے شکار انسانوں کی بحالی بھی اسی جنگ کا لازمی حصہ ہے
۔قصور میں جاری کارروائیاں ایک مضبوط بنیاد فراہم کر چکی ہیں، اب ضرورت اس بنیاد پر ایک جامع اور انسانی فلاح پر مبنی پالیسی کھڑی کرنے کی ہے -

موٹر سائیکلوں سے فائرنگ سے شہریوں کا جینا حرام،کب ہو گا آرام؟ شہری پریشان
قصور
موٹر سائیکل کے سائلنسر سے فائرنگ کرنے والے کب قابو ہونگے؟ عوام کا سوالتفصیلات کے مطابق ضلع قصور میں قانون کا نفاذ یکطرفہ نظر آتا ہے
ٹریفک پولیس کی جانب سے بغیر ہیلمٹ موٹر سائیکل چلانے پر تو سرعام چالان ہو رہے ہیں مگر عوام کو ذلیل و خوار کرنے والے ون ٹو فائیو سواروں اور سائلنسر سے فائرنگ جیسی آوازیں نکالنے والی موٹر سائیکلوں کے خلاف مؤثر کارروائی دکھائی نہیں دیتی عوام کا کہنا ہے کہ شاید ہو گی بھی نہیں
شہر کی سڑکوں پر بغیر سائلنسر موٹر سائیکلیں تیز اور اذیت ناک آوازوں کے ساتھ دندناتی پھرتی ہیں جن سے نہ صرف شہریوں کا سکون برباد ہو رہا ہے بلکہ مساجد، تعلیمی اداروں اور حتیٰ کہ گھروں تک میں مردوں،عورتوں،بوڑھوں اور بچوں کو شدید تکلیف کا سامنا ہے
یہ شور نہ صرف قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ معاشرتی اقدار اور انسانی وقار کی بھی توہین ہے
اس سے پتہ نہیں چلتا کہ فائرنگ ہو رہی ہے کہ کوئی موٹر سائیکل کے سائلنسر سے ہوائی فائرنگ کا شوق پورا کرکے کمزور دل لوگوں کو مارنے کی کوشش کر رہا ہے
سوال یہ ہے کہ جب قوانین موجود ہیں تو ان پر عملدرآمد کب ہو گا؟
کیا ٹریفک قوانین صرف عام شہری کیلئے ہیں اور خوف و ہراس پھیلانے والوں کیلئے کوئی ضابطہ نہیں؟
قصور کے عوام مطالبہ کر رہی ہے کہ بغیر سائلنسر، خطرناک آوازیں نکالنے والی موٹر
سائیکلوں اور ون ٹو فائیو کلچر کے خلاف بلا امتیاز سخت کارروائی کی جائے تاکہ شہر میں امن، سکون اور قانون کی بالادستی بحال ہو سکے -

قاتل ڈور کا شکار معصوم بچی کی زندگی خظرے میں،سرجری کر دی گئی
قصور
خونی ڈور نے معصوم زینب فاطمہ کی زندگی خطرے میں ڈال دی،الحمدللہ لاہور میں کامیاب سرجری ہو گئیتفصیلات کے مطابق قصور کے نواحی گاؤں مان اڈا، حدود تھانہ صدر قصور میں چند دن قبل خونی ڈور پھرنے 6 سالہ معصوم بچی زینب فاطمہ شدید زخمی ہو گئی تھی
معصوم بچی کو فوری طور پر بلھے شاہ ہسپتال قصور منتقل کیا گیا جہاں ابتدائی طبی امداد کے بعد تشویشناک حالت کے پیش نظر اسے لاہور کے جناح ہسپتال ریفر کر دیا گیا تھا
الحمد للہ جناح ہسپتال لاہور میں زینب فاطمہ کی سرجری کامیابی سے مکمل ہو چکی ہے تاہم یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ اس سب کا ذمہ دار کون ہے؟
یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں کہ خونی اور کیمیکل لگی ڈور، غیر قانونی پتنگ بازی اور حکومتی غفلت کے باعث ہر سال معصوم جانیں زخمی اور ضائع ہو رہی ہیں۔
کبھی کوئی بچہ، کبھی موٹر سائیکل سوار، اور کبھی کوئی راہگیر اس خونی کھیل کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے
کچھ لوگ اسے ثقافت،تفریح یا ریونیو کا ذریعہ قرار دے کر اس گھٹیا کھیل کا دفاع کرتے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا چند لوگوں کا کاروبار اور تفریح انسانی جان سے زیادہ قیمتی ہے؟
ایسے کاروبار پر لعنت ہے
جس میں معصوم بچوں کا خون شامل ہو اور جس میں انسانی جانیں غیر محفوظ ہوں
حکومت کی جانب سے بسنت یا کسی بھی صورت میں پتنگ بازی کی اجازت دینا، درحقیقت انسانی جانوں کی توہین ہے قوانین موجود ہیں مگر عملدرآمد نا ہونے کے برابر، پابندیاں کاغذوں تک محدود ہیں اور خونی ڈور آج بھی فروخت ہو رہی ہے
عوام اور متاثرہ خاندانوں کی جانب سے حکومت سے پُرزور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ
خونی ڈور اور پتنگ بازی پر مکمل اور مستقل پابندی لگائی جائے اور ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے
تاکہ انسانی جانوں کے تحفظ کو ریونیو اور نام نہاد ثقافت پر ترجیح دی جائے
ورنہ کل پھر کوئی اور زینب، کسی اور ہسپتال میں زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہی ہوگی -

تاریخی شہر کا تاریخی ریلوے اسٹیشن کھنڈرات کا منظر پیش کرنے لگا،نوٹس کی اپیل
قصور
تاریخی شہر قصور کا تاریخی ریلوے اسٹیشن گندگی کا ڈھیر بن گیا، مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا
تفصیلات کے مطابق تاریخی قصور کا تاریخی ریلوے اسٹیشن جو کبھی لیڈر انڈسٹری اور بھارت تک سفری رابطے کے باعث خاص پہچان رکھتا تھا آج بدانتظامی اور غفلت کی بدترین مثال بن چکا ہے
ناقص صفائی کے باعث اسٹیشن کے مختلف حصوں میں کوڑے کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں جبکہ بدبو نے ماحول کو ناقابلِ برداشت بنا دیا ہے
گندگی کی اس صورتحال نے مسافروں خصوصاً خواتین، بچوں اور بزرگوں کے لیے سفر کو شدید اذیت ناک بنا دیا ہے انتظار گاہیں، پلیٹ فارمز اور داخلی راستے صفائی کے بنیادی معیار سے بھی محروم نظر آتے ہیں مگر ریلوے انتظامیہ کی جانب سے کوئی عملی اقدام دکھائی نہیں دیتا
واضح رہے کہ یہ وہی ریلوے اسٹیشن ہے جہاں سے ماضی میں دن بھر ریل و مال گاڑیوں کی آمدورفت رہتی تھی مگر آج صورتحال یہ ہے کہ پورے دن میں محض دو ٹرینیں گزرتی ہیں جبکہ باقی سروسز بند پڑی ہیں
نیز صفائی کا ناقص انتظام عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے
شہریوں اور مسافروں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری نوٹس لیا جائے اور تاریخی ورثہ کے حامل اس ریلوے اسٹیشن کو مذید تباہی سے بچایا جائے ورنہ قصور کا یہ اہم عوامی مقام مکمل طور پر کھنڈر بن جائے گا

-

ہسپتال سے ادویات چوری کرنے والے ملازمین نوکری سے فارغ
قصور
بابا بلھے شاہ اسپتال میں دوائیوں کی چوری کا مبینہ سکینڈل، 2 اہلکار نوکری سے فارغقصور میں بابا بلھے شاہ اسپتال میں دوائیوں کی مبینہ چوری کا بھانڈا پھوٹ گیا
انکوائری کمیٹی کی رپورٹ پر دو جونئیر ٹیکنیشنز کو نوکری سے نکال دیا گیا ہےذرائع کے مطابق شکیل احمد اور ندیم اسلم نامی اہلکار اسپتال میں دوائیوں کی خرد برد سمیت دیگر سنگین بے ضابطگیوں میں ملوث پائے گئے۔ انکوائری کے دوران الزامات ثابت ہونے پر سی ای او ہیلتھ نے دونوں کو ملازمت سے برطرف کر دیا
محکمہ صحت قصور نے اہلکاروں کے خلاف باضابطہ حکم نامہ جاری کر کے نوکری سے نکالنے کی کارروائی مکمل کر لی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی اندرونی نگرانی اور رپورٹنگ کے نتیجے میں ممکن ہوئی
مذید تحقیقات جاری ہیں اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مذید اہلکاروں کے گرد بھی گھیرا تنگ ہو سکتا ہے
-
نوٹیفیکیشن بعد میں چھٹیاں پہلے،لوگوں میں تشویش
نوٹیفکیشن بعد میں، چھٹیاں پہلے؟ قصور میں تعلیمی بدانتظامی پر سوالات اٹھ گئے
قصور میں محکمہ تعلیم کی کارکردگی ایک بار پھر تنقید کی زد میں آ گئی ہے۔ موسمِ سرما کی تعطیلات شروع ہوئے دو دن گزر جانے کے باوجود سی ای او ایجوکیشن قصور کی جانب سے نوٹیفکیشن کا اجرا تاخیر سے کیا گیا، جس پر والدین، اساتذہ اور شہری حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر تعطیلات کا فیصلہ پہلے سے موجود تھا تو نوٹیفکیشن بروقت کیوں جاری نہیں کیا گیا؟ تاخیر سے اطلاع دینا نہ صرف انتظامی نااہلی کو ظاہر کرتا ہے بلکہ طلبہ، والدین اور تعلیمی اداروں کے لیے بھی مشکلات کا باعث بنتا ہے۔
عوامی حلقوں نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا سی ای او ایجوکیشن اور دیگر ذمہ دار افسران محض فائلوں پر دستخط تک محدود ہو چکے ہیں؟ کیا بروقت فیصلے اور عوام کو اطلاع دینا اب ذمہ داری نہیں رہی، یا تعلیم جیسے سنجیدہ شعبے کو رسمی کارروائی سمجھ لیا گیا ہے؟
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ ایسے اہم فیصلوں کے نوٹیفکیشن وقت پر جاری کیے جائیں، تاخیر کے ذمہ داران کا تعین کیا جائے اور تعلیم جیسے حساس شعبے کو غیر سنجیدگی کا شکار ہونے سے بچایا جائے۔
عوام کا واضح پیغام ہے کہ تعلیم مذاق نہیں بلکہ ایک بڑی ذمہ داری ہے، جس میں غفلت کا خمیازہ براہِ راست طلبہ کے مستقبل کو بھگتنا پڑتا ہے
-

شوہر نے قتل کے بعد بیوی کی لاش نہر میں دبا دی
قصور
جھوٹا عشق، دو بچوں کی ماں قتل: فیکٹری مزدور نے دوستوں کی مدد سے پہلی بیوی کو نہر میں دفن کردیا
کھڈیاں خاص (محلہ اسلام پورہ) کی رہائشی، دو بچوں کی ماں کائنات دختر سلمہ بی بی کو اس کے ہی شوہر نے بے دردی سے قتل کر دیا۔ قاتل فیکٹری مزدور ذیشان ولد حسن میو، ساکن دادے والا کنواں (ڈھنگ شاہ) نے دوستوں کی مدد سے واردات انجام دی اور لاش خشک نہر میں دبا دی
تفصیلات کے مطابق کائنات، جن کے پہلے شوہر کا انتقال ہو چکا تھا، نے فیکٹری میں کام کرنے والے ذیشان سے خفیہ طور پر محبت کی شادی کر رکھی تھی۔ یہ شادی ذیشان نے اپنے گھر والوں سے چھپا کر کی، جس کا علم صرف فیکٹری کے چند ساتھیوں کو تھا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ذیشان نے چند روز قبل والدین کے دباؤ پر جگیاں کی ایک لڑکی سے دوسری شادی بھی کر لی۔
9/12/25 کو ذیشان نے کائنات کو فون کر کے بلایا، جس کے بعد کائنات لاپتہ ہو گئی اور اس کا موبائل فون بند رہا۔ والدہ سلمہ بی بی اور اہل خانہ کی مسلسل کوششوں کے بعد معاملہ پولیس تک پہنچا۔ شہری اشرف سانول کی پیروی پر ایس پی انویسٹیگیشن قصور ضیاء اللہ خان سے ملاقات کی گئی، جنہوں نے ایس ایچ او تھانہ کھڈیاں شیخ عامر اور اے ایس آئی لیاقت کو فوری اور سخت کارروائی کی ہدایات دیں۔
پولیس نے ذیشان کو اس کے نئے سسرال جگیاں سے گرفتار کر کے تفتیش شروع کی تو ملزم نے ابتدائی پوچھ گچھ میں خفیہ بیوی کائنات کے قتل کا اعتراف کر لیا۔ ملزم کی نشاندہی پر اے ایس آئی لیاقت نے رمضان خان چیئرمین کے بھٹے کے سامنے، دادے والا کنواں کی سمت مشرق واقع خشک نہر سے مقتولہ کی لاش برآمد کر لی، جسے قتل کے بعد دفنایا گیا تھا۔
پولیس نے لاش تحویل میں لے کر ضابطے کی کارروائی شروع کر دی ہے جبکہ ملزم اور اس کے ساتھیوں کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے۔
افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ کائنات اپنے دو معصوم بچوں کو یتیم چھوڑ کر جھوٹے عشق اور بے وفا رشتے کی بھینٹ چڑھ گئی -
پولیس کاروائی میں ملزم شراب کے ساتھ گرفتار
قصور
گنڈا سنگھ والا پولیس کی کارروائی، ساندہ پھاٹک سے شراب فروش گرفتارتفصیلات کے مطابق تھانہ گنڈا سنگھ والا پولیس نے ایس ایچ او آصف جاوید خان کی زیر نگرانی گشت کے دوران بڑی کارروائی کرتے ہوئے ساندہ پھاٹک کے قریب سے شراب فروش کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا
اے ایس آئی عبدالغنی ہمراہ پولیس ملازمان، سید محمد اور انصب سلیم سرکاری گاڑی کے ذریعے گشت پر موجود تھا کہ مخبر خاص نے اطلاع دی کہ ایک شخص شراب کی کینی سمیت ساندہ پھاٹک پر رکشے کے انتظار میں کھڑا ہے
جس پر پولیس نے فوری ریڈ کیا تو ملزم پولیس کو دیکھ کر فرار ہونے کی کوشش کرنے لگا تاہم پولیس پارٹی نے گھیراؤ کر کے موقع پر ہی قابو کر لیاگرفتار ملزم نے اپنا نام رفیق مسیح ولد حنیف مسیح سکنہ ساندہ پھاٹک بتایا
جس کے قبضے سے سفید پلاسٹک کی کینی برآمد ہوئی جس میں پچیس لیٹر دیسی شراب نکلی
ملزم عیسائی ہے تاہم ملزم شراب رکھنے کا کوئی اجازت نامہ پیش نہ کر سکابرآمد شدہ شراب میں سے نمونہ PFSA تجزیے کیلئے الگ کر کے باقی شراب کو سربمہر کر کے قبضہ پولیس میں لے لیا گیا
پولیس نے ملزم کے خلاف انسدادِ منشیات ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر کے مذید تفتیش شروع کر دی ہے
-

چکن کی قیمت 500 روپیہ فی کلو،ہوٹلوں پر قیمت 1800 روپیہ کلو
قصور
گوشت کی قیمتیں کم ہونے کے باوجود ہوٹل مالکان کی من مانیاں جاری،ضلعی انتظامیہ خاموش
تفصیلات کے مطابق قصور ضلع بھر میں مرغی کے گوشت کی قیمت میں نمایاں کمی کے باوجود ہوٹل مافیا کے من مانے ریٹس برقرار ہیں جس سے عوام پریشان ہے
اس وقت مرغی کے گوشت کی قیمت کم ہو کر 500 روپیہ فی کلو تک آ گئی ہے جبکہ پچھلے چند دنوں کے دوران یہ ریٹ 400 سے 500 روپیہ کے درمیان بھی رہا مگر اس کے باوجود ہوٹلوں اور فوڈ پوائنٹس پر کڑاھی گوشت وغیرہ بدستور 1200 سے 1800 روپے فی کلو کے حساب سے فروخت کیا جا رہا ہےاسی طرح برگر، شوارما، پیزا اور دیگر فاسٹ فوڈ اشیاء کے نرخوں میں بھی کوئی کمی نہیں کی گئی حالانکہ خام مال سستا ہو چکا ہے
شہریوں کا کہنا ہے کہ جب مرغی کے گوشت کی قیمت میں محض 10 روپیہ فی کلو اضافہ ہوتا ہے تو فوراً تمام اشیاء مہنگی کر دی جاتی ہیں لیکن جب قیمتیں کم ہوتی ہیں تو ریلیف عوام تک منتقل نہیں کیا جاتا
عوامی حلقوں نے اس صورتحال کو کھلی ناانصافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہوٹل مالکان منافع خوری میں مصروف ہیں جبکہ ضلعی انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے
شہریوں نے ڈپٹی کمشنر قصور اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹس سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری نوٹس لے کر سرکاری نرخ ناموں پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور عوام کو مہنگائی کے اس غیر منصفانہ بوجھ سے نجات دلائی جائے