قصور
چونیا کے علاقے بستی فتح والی میں آوارہ کتوں نے گائے کے بچھڑوں کو کاٹ کر مار دیا محکمہ صحت اور انتظامیہ کسی بڑے حادثے کے انتظار میں خاموش
تفصیلات کے مطابق چونیاں کے نواحی گاؤں بستی فتح والی میں آوارہ کتوں نے حویلی میں کھڑے گائے کے بچھڑوں کو کاٹ کاٹ کر مار دیا ہے یاد رہے کچھ عرصہ قبل تلونڈی میں بھی آوارہ کتوں نے درجن بھر بکریوں کو کاٹ کر مار ڈالا تھا لیکن محکمہ صحت ،تحصیل اور ضلعی انتظامیہ شاید کسی بڑے المیئے کے انتظار میں ہے
چونکہ کوٹ رادھا کشن میں دو دن پہلے کھیتوں سے واپس آتے ایک دس سالہ بچے کو بھی آوارہ کتوں نے کاٹ کر ہلاک کردیا تھا مگر اہل اختیار اور اقتدار کسی بڑے سانحے کے انتظار میں خاموش ہیں ضلع بھر میں کہیں بھی آوارا کتوں کو مارنے کا عمل شروع نہیں کیا گیا
Tag: قصوریات
-

آوارہ کتوں کی بدولت ایک اور
-

ایل پی جی کا خطرناک عمل جاری
قصور
الہ آباد میں ایل پی جی کی ری فلنگ جاری
گھریلوں سلنڈروں کیساتھ گاڑیوں کے سلنڈروں میں بھی گیس بھرنے کا عمل جاری انتظامیہ بے خبر
تفصیلات کے مطابق الہ آباد میں گیس سلنڈر بھرنے کا دھندہ عروج پر ہے ٹیوٹا ہائی اور گھریلوں سلنڈروں کی سرعام ریفلنگ جاری ہے
جو کہ کسی بھی وقت بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہے
لوگوں کا کہنا ہے کہ تحصیل انتظامیہ کسی بڑے حادثے کی منتظر ہے
چونیاں کے گردونواح ،تلونڈی ارزانی پور شامکوٹ نو اور الہ آباد میں یہ دھندہ زور پکڑ
رہا ہے جبکہ انتظامیہ رشوت لے کر خاموش تماشائی کا کردار ادا کرنے لگی ہے
شہریوں کا کمشنر لاہور سے نوٹس لینے کا مطالبہ -

انکل میرا بھائی کب آئیگا 3 سالہ بہن
قصور
انکل میرا بھائی کب آئیگا ،مغوی بچے کی 3 سالہ بہن کا سوال
تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتال قصور سے پرسوں اغواء ہونے والے بچوں کے لواحقین نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جس انداز سے سی سی ٹی وی فوٹیج میں عورت کی ہسپتال پر اعتماد انٹری ہوئی اور بعد میں اس کے ہوتے ہوئے سارا عملہ غائب ہو گیا اس سے ہسپتال انتظامیہ کا کردار مشکوک ہو رہا ہے بچے کے چچا حافظ عبداللہ حفیظ نائب ناظم شعبہ نشرو اشاعت مرکزی جمعیت اہلحدیث نے کہا کہ پولیس نے بروقت بہت اچھی کوشش کی ہے جس سے ہم پر امید ہیں مگر ہسپتال انتظامیہ کا رویہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور ترش ہے ان کا کہنا ہے کہ اگر دیکھا جائے تو سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق عورت پورے ہسپتال سے واقف ہے اور اس کا ہسپتال باقاعدہ آنا جانا یقینی ہے مذید تشویش ناک بات یہ ہے کہ جب وہ عورت آئی تو اس وقت وارڈ ڈیوٹی پر معمور فیمیل،لیڈی ڈاکٹر حتی کہ سیکیورٹی گارڈز بھی موجود نا تھے جبکہ اس کے آنے سے پہلے سارے ادھر ہی موجود تھے جس سے ہسپتال انتظامیہ کے کسی اہلکار کا اغواء کار عورت کیساتھ ملوث ہونا یقینی ہے
دوران گفتگو مغوی بچے کی 3 سالہ بہن سندس عبدالرحمان نے سوال کیا کہ انکل میرا بھائی کب آئے گا جس پر موجود ہر آنکھ اشکبار ہو گئی
جبکہ پولیس کے مطابق وہ ملزمہ کے انتہائی قریب پہنچ چکے ہیں ان شاءاللہ جلد بچے کو بازیاب کروایا لیا جائیگا -

قصور میں احتجاج جاری
قصور
ڈسٹرکٹ ہسپتال کے باہر احتجاج جاری بھاری تعداد میں لوگ جمع
تفصیلات کے مطابق کل ڈسٹرکٹ ہسپتال قصور سے ہسپتال انتظامیہ کی مبینہ غفلت کے باعث شیر خوار بچہ اغواء ہو گیا جس پر ورثاء اور شہری اس پر سراپا احتجاج ہیں اور ڈسٹرکٹ ہسپتال کے باہر احتجاج کر رہے ہیں
احتجاج میں بہت زیادہ شہریوں نے شرکت کی اور ڈی پی او قصور مطالبہ کیا ہے کہ فی الفور شیر خوار بچے کو بازیاب کروایا جائے اور عملہ ہسپتال کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے کیونکہ اس طرح دیدہ دلیری سے بچے کا اغواء ہسپتال انتظامیہ کی ملی بھگت کے بغیر ناممکن ہے نیز قصور پولیس بھی تمام تر وسائل بروئے کار لاتے ہوئے جلد سے جلد اغواء کار عورت کو گرفتار کرکے بچہ برآمد کرے بصورت دیگر احتجاج جاری رہے گا -
نان پھر نایاب حکومت بے بس
قصور
میدے کی قیمتوں میں بےتحاشا اضافہ نان بائیوں نے نان کی قیمت بڑھا دی ایک ھفتہ قبل بارہ روپے میں ملنے والا نان بیس روپے کا ھوگیا حالیہ آٹا بحران میں مل مالکان کی چاندی ھوگئی تفصیلات کے مطابق حکومت کی جانب سے روٹی اور نان کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے دعوے کاغذات کی نظر ھونا شروع ھوگئے ضلعی انتظامیہ میٹنگز کی حد تک تو تمام اشیاء خوردونوش کو کنٹرول کرنے کے دعوے کرتی نظر آتی ھے لیکن ذمینی حقائق انتہائی خوفناک صورتحال اختیار کرتے جارھے ہیں مہنگائی کا ایک طوفان ھے جو کہ متوسط طبقہ کو بہا لے جا رھے ھے ایک ھفتہ قبل سو گرام کا نان جو کہ بارہ روپے میں دستیاب تھا اب اسکی قیمت بیس روپے ھوگئی ھے اسی طرح روٹی جو کہ آٹھ روپے کی مل رھی تھی اب اسکی قیمت دس روپے کردی گئی ھے جب اس سلسلہ میں سروے کیا گیا تو حیرت انگیز انکشافات ھوئے کہ میدے کا سو کلو توڑہ جو کہ گزشتہ ہفتہ دو ھزار میں دستیاب تھا اب وھی توڑہ پچپن سو روپے میں مل۔رھا ھے جس کی وجہ سے نان کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ھوا ھے یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ھے کہ مل۔مالکان سوفیصد حکومت کی جانب سے دی جانے والی گندم جو کہ کنٹرول ریٹ پر مل رھی ھے اسکی پسائی کہ جارھی ھے ایک طرف تو مل۔مالکان حکومت سے سستے داموں گندم حاصل کررھی ھے تو دوسری طرف مہنگے داموں آٹا اور میدہ فروخت کررھے ہہں جس کی وجہ سے عام آدمی کے لئے دووقت کی روٹی کا حصول انتہائی مشکل ھوتا جارھا ھے ضلعی انتظامیہ کہ جانب سے بنائی جانے والی ٹاسک فورس اور پرائس کنٹرول کمیٹیں تواتر سے میٹنگز تو کرتی ہیں لیکن عملی اقدمات نا ھونے کے برابر ہیں جب اس سلسلہ میں ضلعی انتظامیہ سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ آٹا کے بحران پر قابو پالیا گیا ھے جلد ھی میدے کی قیمتیں بھی کنٹرول ھوجائیں گیں شہریوں نے وزیر اعلی پنجاب صوبائی وزیر خوراک سمیت اعلی حکام سے مطالبہ کیا ھے کہ عوام کا خون چوسنے والے فلور مل۔مالکان کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے تاکہ نان اور روٹی کی قیمتوں میں مصنوعی اضافہ کو کنٹرول کیا جاسکے -
محمکہ واپڈا اہلکاران غفلت کے
قصور
واپڈا ملازمین کی مبینہ غفلت جو کہ کسی بھی وقت حادثات کا سبب بن سکتا ہے
تفصیلات کے مطابق غلہ منڈی عثمان والا ضلع قصور میں واپڈا کے ملازمین ٹرانسفارمر کا کام کر رہے ہیں مگر کسی بھی ملازم نے کوئی بھی حفاظتی ہیلمیٹ،بیلٹ وغیرہ نہیں پہنی ہوئی جس کے باعث حادثہ رونما ہو سکتا ہے تو اس کی ذمہ داری محکمہ پر ڈال دی جاتی ہے
لوگوں کا سوال یہ ہے کہ کیا محکمہ اپنے ملازمین کو حفاظتی انتظامات کے بغیر کام کرنے کی اجازت دیتا ہے یا یہ ملازمین محکمہ کے حفاظتی قوانین کی دھجیاں اڑا رہے ہیںذمہ دار کون؟
-
قصور ہسپتال سے بچہ اغواء ورثاء کا احتجاج
قصور
ہسپتال انتظامیہ کی نااہلی کی بدولت کل لیبر روم سے اغواء ہونے والا بچہ بازیاب نا ہو سکا
ورثاء کی احتجاج کی کال
تفصیلات کے مطابق کل ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال قصور کے لیبر روم سے ہسپتال انتظامیہ کی مبینہ غفلت سے ماں باپ کے ہاں 15 سال بعد پیدا ہونے والا اکلوتا بیٹا اغواء ہو گیا
حافظ عبداللہ حفیظ نائب ناظم شعبہ نشر و اشاعت مرکزی جمعیت اہلحدیث کے بڑے بھائی عبدالرحمان کے ہاں شادی کے 15 سال بعد بیٹا پیدا ہوا
کل دوپہر 12 بجے کے قریب زچہ و بچہ لیبر روم میں تھے کہ ایک لیڈی ڈاکٹر نما عورت آئی اور ماں سے بچے کو چیک کروانے کے بہانے اغواء کرکے لے گئی جس کی پولیس نے سی سی ٹی وی کیمروں سے ہسپتال سے کوٹ رکندین ، دربار بابا بلہے شاہ،ریلوے روڈ سے بذریعہ رکشہ ٹولو والا بائی پاس تک کھوج لگائی مگر تاہم ابھی تک اغواء کار عورت کا سراغ نہیں مل سکا
اس پر پولیس نے آج صبح 9 بجے تک کا ٹائم دیا تھا جو کہ گزر گیا اب ورثاء کی طرف سے ہسپتال انتظامیہ کی نااہلی اور بچے کی بازیابی کے لئے تھوڑی دیر بعد احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا -

قصور میں اربوں کے گھپلے
قصور
تحصیل چونیاں کے تمام بڑے اور چھوٹے شہروں سمیت الہ آباد میں محکمہ مال کے پٹواریوں ،قانون گو اور تحصیل داروں نے اربوں روپے کی سرکاری زمین اور لوگوں کی ذاتی زمینوں کو بوگس انتقال کرتے ہوئے ہڑپ کر لیا ہے کئی ایکڑ سرکاری زمینوں پر دھکے سے کالونیاں بنا کر اربوں روپے اکٹھے کئے جا چکے ہیں افسران اور پٹواری سب اپنا اپنا حصہ لیکر نیب ، سپریم کورٹ کو بھی چکر دیتے ہوئے بوگس رپوٹوں کے زریعے حقائق مسخ کر رہے ہیں کوئی جرآت مند افسر بھی ان کے خلاف کاروائی کرنے کی جرات نہیں کر سکتا کیونکہ کروڑوں کا حصہ وصول کرنے کے بعد سب او کے کی رپورٹ بنا دی جاتی ہے اب قصور روڈ پر ایک بہت بڑا گھپلا ہو رہا ہے -

نیوز چینل کے لائسنس معطلی پرشہریوں کا
قصور
پیمرا کی طرف سے 24 نیوز ایچ ڈی کا لائسنس معطل کرنے پر شہری تشویش کا شکار،فیصلہ یک طرفہ ہے شہریوں کا ردعمل
تفصیلات کے مطابق کل کراچی میں ذوالجناح کے جلوس میں کاتب وحی سیدنا امیر معاویہ ،حضرت ابو سفیان اور یزید کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے شرکاء جلوس نے یک زبان ہو کر لعنت طعن کی جو کہ 24 نیوز ایچ ڈی نے نشر کی اس پر کل رات پیمرا نے 24 نیوز کا لائسنس یہ کہتے ہوئے معطل کر دیا کہ یہ فرقہ واریت کو ہوا دینا ہے اس پر آج قصور میں نمائندہ باغی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے،حسان،فیصل،ساجد،عمار،طلحہ،جمشید خان،حمزہ اور دیگر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پیمرا کی طرف سے 24 نیوز کا لائسنس منسوخ کرنا زیادتی ہے کیونکہ فرقہ واریت جلوس شرکاء نے کی ہے نا کہ 24 نیوز نے شہریوں کا کہنا تھا کہ جنہوں نے توہین اصحاب کی بجائے اس کے کاروائی کرنے کے گورنمنٹ میڈیا چینلز کے لائسنس منسوخ کرکے خود فرقہ واریت کو ہوا دے رہی ہے اور ایسے فیصلے انتہائی غلط ہیں لہذہ گورنمنٹ فرقہ واریت روکنا چاہتی ہے تو توہین اصحاب کرنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لائے نا کے چینلز کے لائسنس منسوخ کرے -

چھت گرنے سے 5 افراد جانبحق
قصور
کوٹرادھاکشن کے نواحی گاؤں بھوتن پورہ میں بارش کی وجہ سے گھر کی چھت گرنے سے ایک ہی خاندان کے 5افراد جانبحق
تفصیلات کے مطابق قصور کی تحصیل کوٹ رادہاکشن کے نواحی گاؤں بھوتن پورہ میں رات گئے مکان کی چھت گر گئی جس سے چھت تلے سوئے میاں بیوی اور ان کے تین بچے جانبحق ہو گئے اس واقعے سے علاقے میں سوگ کا سماں ہے
گھر کا کفیل انتہائی غریب اور محنت کش تھا مکان کی چھت بوسیدہ تھی جو کہ بارش کے باعث نیچے آ گری