قصور میں موسم کی تبدیلی شروع
تفصیلات کے مطابق آج صبح سے قصور اور گردونواح میں گہرے بادل چھائے ہوئے ہیں اور ساتھ میں تیز ترین آندھی بھی ہے جس کی بدولت یکدم موسم بہت ٹھنڈا اور خوش گوار ہو گیا ہے بزرگوں اور مریضوں نے جرسیاں پہن لیں امکان ہے کہ بارش ہو گی نیز دھان کی فصل کی کٹائی بھی جاری ہے بارش کی بدولت دھان کی کٹائی میں تاخیر ہو سکتی ہے
Tag: قصوریات
-

قصور میں تبدیلی شروع
-
سرعام بجلی چوری
قصور لیسکو پتوکی سب ڈویژن حبیب آباد کی نا اہلی
تفصیلات کے مطابق حبیب آباد ٹبی چک 20 میں سرعام کنڈے لگا کر لوگ بجلی چوری کر رہے ہیں جس کی کئی بار اطلاع لیسکو سب ڈویژن حبیب آباد کیو دی گئی مگر پھر بھی کوئی کاروائی نہیں
وزیراعظم کے بجلی چوری کے احکامات ہوا میں اڑا دیئے گئے
واپڈا ملازمین کی ملی بھگت سے بجلی چوری معمول بن گیا
عوام کا اعلیٰ حکام سے نوٹس لینے کی اپیل -
پرائس کنٹرول مجسٹریٹ کا ٹاءوٹ
قصور
پرائس کنٹرول مجسٹریٹ گھروں میں بیٹھ کر تنخوائیں وصول کرنے لگے
تفصیلات کے مطابق میونسپل کمیٹی الہ آباد کا کلرک خود ساختہ پرائس کنٹرول مجسٹریٹ بن کر منتھلیاں نا دینے والوں کو بھاری جرمانے کرنے لگا اے سی چونیاں اور ڈی سی قصور خاموش تماشائی الہ آباد کرپشن کا گڑھ بن چکا ہے کرپٹ اہلکاروں نے عوام کی ناک میں دم کر رکھا ہے عوام کے درینہ مسائل نکاسی آب صاف پانی صفائی اور کوڑے کرکٹ کے ڈھیروں کو ٹھکانے لگانے کی بجائے میونسپل کمیٹی کا کرپٹ عملہ سارا دن اپنے پرائیویٹ ٹاءوٹوں کے ہمراہ گلی محلوں میں منتھلیاں اکھٹی کرتے نظر آتے ہیں افضال نامی کلرک تقریباً چار پرائیویٹ آدمیوں کے ہمراہ سارا دن شہر بھر میں منتھلیاں نا دینے والے دکانداروں کو پرائس کنٹرول مجسٹریٹ درجہ اول کے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے اپنے دستخطوں سے جرمانے عائد کرتا ہے چیف آفیسر میونسپل کمیٹی نے اپنے کماؤ ٹاءوٹ افضال کلرک کو ایک ہی وقت میں بلڈنگ انسپکٹر، انفورسمنٹ انسپکٹر اور ریکوری آفیسر کے اختیارات دے رکھے ہیں مذکورہ کلرک سہارا دن شہر میں لاکھوں روپے جرمانے کرتا ہے لیکن رسیدیں چند ایک کو ہی دیتا ہے باقی تمام رقم مل جل کر بانٹ لی جاتی ہے تمام معاملات اے سی چونیاں کے نوٹس میں ہونے کے باوجود بھی ان کی مجرمانہ خاموشی پر مقامی شہری حیران اور پریشان ہیں مقامی شہریوں نے ڈی سی قصور اور کمشنر لاہور سے اور وزیر اعلی پنجاب سے نوٹس لیتے ہوئے کاروائی کا مطالبہ کیا ہے -

3 گھنٹوں میں پولیس نے لڑکی کو گھر والوں سے ملوا دیا
قصور پولیس کا لاپتہ افراد کا اپنوں سے ملوانے کا سلسلہ جاری
تفصیلات کے مطابق کل تھانہ سٹی پتوکی پولیس کو ہلہ چوک سے گھر کا راستہ بھٹکی لڑکی ملی جس کا ذہنی توازن درست نہیں تھا اور وہ اپنا نام و پتہ بھی نہیں بتا سکتی تھی
تھانہ سٹی پتوکی نے خدمت خلق کے جذبے کے تحت لواحقین کی تلاش شروع کر دی سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی اور مساجد میں اعلانات بھی کروائے گئے پولیس کی مسلسل 3 گھنٹوں کی کوشش کے بعد شمع بی بی دختر عبدالرزاق سکنہ مرالی ہٹھاڑ کی شناخت ہونے پر ورثاء کے حوالے کر دیا گیا
ورثاء نے پولیس کا شکریہ ادا کیا -

فری میڈیکل کمپلیکس قائم
قصور
چھانگا مانگا کے نواح بھاگوکی میں غریبوں کیلئے فری میڈیکل کمپلیکس
تفصیلات کے مطابق چھانگا مانگا کے نواحی گاؤں بھاگوکی میں نئے قائم شد گوہر میڈیکل کمپلیکس کے بانی و مالک ڈاکٹر راءو ذوالقرنین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہماری اولین ترجیح غریب لوگ ہیں ہمارے میڈیکل کمپلیکس کے دروازے غریبوں کیلئے 24 گھنٹے کھلے ہیں کسی بھی غریب کو کوئی بھی مرض ہوئی ہم اللہ کے فضل اور مدد سے فری علاج کرینگے باقی صاحب حیثیت افراد سے پیسے وصول کیئے جائینگے وہ بھی معقول تاکہ لوگوں کو صحت کی اچھی سہولیات مل سکیں -

ڈاکٹر کی گاڑی چوری
قصور
چونیاں میں گاڑی چوری کی واردات
تفصیلات کے مطابق قصور کی تحصیل چونیاں شہر میں تھانہ سٹی سے چند قدم کے فاصلے پر واقع عمر ہسپتال کے سامنے رات تقریباً گیارہ بجے ڈاکٹر نواب دین کی کار نمبری LEA-06-5433 کلر سلور نہ معلوم چور لے اڑے
سٹی پولیس اور ڈولفن فورس کا رات بھر گشت ہونے کے باوجود گاڑی چوری ہو جانا محکمہ پولیس کی کارکردگی پر ایک دفعہ پھر سوالیہ نشان ہے کیونکہ چونیاں شہر میں بچوں کے اغواء اور قتل کے بعد ڈولفن فورس کو تعینات کیا گیا ہے حالانکہ چونیاں کے علاوہ ضلع قصور کے کسی بھی شہر اور تحصیل میں ڈولفن فورس تعینات نہیں -

PTI کسی عذاب سے کم نہیں
قصور
پی ٹی آئی کی حکومت کسی عذاب سے کم نہیں
راہنما پی ایم ایل این تلونڈی سردار راحیل ڈوگر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت کسی عذاب سے کم نہیں لوگ مہنگائی سے فاقوں پر مجبور ہو گئے اور حکمرانوں کو ملک کی کوئی پرواہ نہیں کل تک دھرنے دینے والے آج دھرنوں کو حرام کہہ رہے ہیں تاریخ کے اندر اس قدر مہنگائی کبھی نا تھی جتنی موجود دور حکومت میں ہے لوگ تبدیلی کے جھوٹے نعرے کی حقیقت جان چکے ہیں اور اب ان سے تائب بھی ہو رہے ہیں اگلی حکومت ن لیگ کی ہی ہو گی -

واٹر سپلائی بند
قصور واٹر سپلائی کی موٹر ایک ماہ سے بند
تفصیلات کے مطابق قصور کے نواحی گاؤں مہالم کلاں میں واٹر سپلائی کے ٹھیکیدار نے واٹر سپلائی کا بل ادا نہیں کیا جس کی بدولت لیسکو اہلکار میٹر اتار کے لے گئے تقریبا ایک ماہ ہو گیا ہے لوگ واٹر سپلائی کے پانی سے محروم ہیں جبکہ یونین کونسل کے سیکریٹری اور ٹھیکیدار کے کان پر جوں تک نہیں رینگی
لوگوں نے ڈی سی قصور سے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ ٹھیکدار سے پیسے لے کر بل بجلی ادا کیا جائے تاکہ لوگوں کو واٹر سپلائی سے پانی میسر ہو سکے -

صحت کے شعبے میں قصور وار کون ؟؟ تحریر: غنی محمود قصوری
ملک پاکستان میں صحت کے شعبے میں بڑی لوٹ مار کا بازار گرم ہے جس سے اس شعبہ کی حالت ابتر ہے جس کی دو وجوہات ہیں
1 ایم بی بی ایس ڈاکٹرز کی کمی
2 پیرامیڈیکس کی ذاتی محدود پریکٹس کی ممانعت
کسی بھی شعبے میں گھر پڑھنے کیساتھ چھوٹا موٹا کاروبار کر کے آپ اپنا روزگار شروع کر سکتے ہیں اور اپنی تعلیم کے اخراجات نکال سکتے ہیں جبکہ ایک ایم بی بی ایس ڈاکٹر بننے کیلئے ایف ایس سی کرنے کے بعد کسی میڈیکل کالج میں داخلہ لینا لازم ہے اور پانچ سال تک کالج اٹینڈ کرنا بھی لازم ہے
جس کیلئے بڑا سخت میرٹ ہوتا ہے جو طالب علم میرٹ کی بنا پر سرکاری میڈیکل کالجز میں داخلہ نہیں لے پاتے وہ پھر پرائیویٹ کالجز کا رخ کرتے ہیں کیونکہ وہاں کم نمبروں والے کو بھی آسانی سے داخلہ مل جاتا ہے
پرائیویٹ کالجز کی پانچ سالہ فیس 50 سے 90 لاکھ ہے جو کہ کوئی غریب پوری زندگی بھر بھی نہیں کما سکتا.
یوں غریب طالبعلم بچے اپنے حق سے محروم رہ جاتے ہیں
ہمارے ملک میں ڈسپنسر ایک سالہ کورس کر کے ڈاکٹر کی معاونت کرتا ہے امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں بھی دور دراز علاقوں میں جہاں ڈاکٹرز میسر نہیں وہاں پیرامیڈیکس ڈاکٹرز کی جگہ کام کرتے جبکہ ہمارے ہاں ایک سالہ کورس ڈسپنسر کرنے والا اتائی ڈاکٹر کہلواتا ہے حالانکہ یہی اتائی ہمارے ڈی ایچ کیو،ٹی ایچ کیو،آر ایچ سی اور بی ایچ یو میں ایک ماہر ڈاکٹر کی طرح انجیکشن بھی لگاتے ہیں نسخہ بھی تجویز کرتے ہیں دوائی بھی دیتے ہیں مگر سرکاری ہسپتالوں کے بعد یہی کوالیفائڈ ڈسپنسر اپنے نجی کلینک کھولنے پر اتائی کہلواتے ہیں افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ملک میں پرائس کنٹرول کا کوئی نظام نہیں سرکاری ہسپتال کا ایم بی بی ایس ڈاکٹر اپنے نجی کلینک میں کم از کم فیس 500 روپیہ لے رہا ہے جبکہ سپیشلسٹ ڈاکٹرز کی فیس ہزاروں روپیہ ہے اور دوائی جو میڈیکل سٹور سے خریدنی ہے وہ الگ جبکہ مزدور کی دیہاڑی 700 روپیہ ہے یہی کوالیفائڈ ڈاکٹرز اپنے سرکاری ہسپتالوں میں کسی غریب کی بات سننے کے روادار نہیں ہوتے ایک غریب انسان بخار کی دوائی لینے سرکاری ہسپتال جائے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ پرچی بنوانے سے اپنی بھاری آنے پر معائنہ کروا کر دوائی حاصل کرنے تک کم از کم ٹائم 3 گھنٹے جبکہ مزدور کی مزدوری کا ٹائم صبح 7 بجے شروع ہو جاتا ہے اور ہمارے ان سرکاری ہسپتالوں کا ٹائم 8 بجے یعنی کہ اگر کوئی 60 سے 70 روپیہ کی دوائی سرکاری ہسپتال سے لینے جائے تو اسے اپنے 700 روپیہ سے ہاتھ دھونے پڑینگے ویسے تو گورنمنٹ کی طرف سے ہر یونین کونسل کی سطح پر ایک بی ایچ یو ہسپتال ہوتا ہے جس میں دفتری اوقات کے بعد بھی ایل ایچ ڈبلیو یعنی لیڈی ہیلتھ ورکر اپنے گھروں میں فرسٹ ایڈ میڈیسن کیساتھ موجود ہوتی ہیں مگر افسوس کہ ان کو بھی صرف پیراسیٹامول ،فولک ایسڈ اور کنڈومز کے علاوہ کچھ بھی نہیں ملتا جبکہ یہی پیراسیٹامول ہر گھر میں موجود ہوتی ہے
کچھ عرصہ قبل سٹیرائیڈ اور اینٹی بائیوٹک کو نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا مگر آج جلد آرام اور اپنے نجی کلینک کی رینکنگ بڑھانے کے علاوہ میڈیکل سٹورز سے کمیشن حاصل کرنے کے چکر میں ہمارے یہ پانچ سالہ تربیت یافتہ ڈاکٹرز ڈبل ٹرپل اینٹی بائیوٹکس میڈیسن تک دینے سے گریز نہیں کرتے اگر کوئی ٹرپل نا بھی دے تو ڈبل تو لازم ہے جیسے کہ انجیکشن میں سیفٹرائیکزون سوڈیم تو لازمی جز ہے جبکہ گولیوں میں ،کو اماکسی سلین،سیفراڈون اور سیفیکزائم وغیرہ بلا ضروت دی جاتی ہے
ایک جانب تو گورنمنت نے چوروں ڈاکوءوں کے خلاف کریک ڈاون کا اعلان کر رکھا ہے جبکہ دوسری جانب ان ایم بی بی ایس ڈاکٹرز کی بے جا لوٹ مار بداخلاقی اور ناجائز آمدن پر خاموش بھی ہے بلکہ پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کی آڑ میں ان کو مذید تحفظ حاصل ہو گیا ہے کیونکہ ڈسپنسر اور دیگر شارٹ ہیلتھ کورسز والے کوئی بھی ذاتی پریکٹس نہیں کر سکتے جس سے بہت سے کوائیک یعنی اتائی کاروبار چھوڑ چکے ہیں جس کے نتیجے میں لوگوں نے ذاتی طور پر ادویات کا استعمال شروع کر دیا ہے جو کہ سخت حیران کن بات ہے کم ازکم ڈسپنسر ایک سال ہسپتال میں دوران کورس ،ڈرپ ،انجیکشن اور پیشاب کی نالی لگانا سیکھ جانے کے علاوہ بہت سی ادویات بارے پڑھ کر ہسپتال میں عملی طور پر ڈاکٹرز کیساتھ تجربہ بھی حاصل کر چکا ہوتا ہے لہذہ گورنمنٹ کو ان پیرامیڈیکس کے بارے سوچنا ہوگا ورنہ غریب اپنی صحت کا دشمن تو پھر بنا ہی ہے. -

90 لیٹر شراب برآمد
قصور
چونیاں سے 90 لیٹر شراب برآمد
تفصیلات کے مطابق قصور کی تحصیل چونیاں کے ڈی ایس پی شمس الحق درانی کی خصوصی ہدایات پر ایس ایچ او تھانہ صدر چونیاں قاسم جاوید نے منشیات فروشوں کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے دو بدنام زمانہ شراب کشید و فروخت کرنے والے ملزمان کو گرفتار کرکے ملزمان کے قبضہ سے 90 لیٹر دیسی شراب برآمد کر لی
ملزمان کے خلاف تھانہ صدر چونیاں میں مقدمات درج کر کے کاروائی شروع کر دی گئی ہےڈی ایس پی چونیاں شمس الحق درانی نے ایس ایچ او تھانہ صدر چونیاں قاسم جاوید اور انکی ٹیم کو شاباش بھی دی.