Baaghi TV

Tag: قصوریات

  • "افواج پاکستان عوام کی محافظ یا چوکیدار” تحریر: غنی محمود قصوری

    "افواج پاکستان عوام کی محافظ یا چوکیدار” تحریر: غنی محمود قصوری

    ہماری ہاں فوج مخالف لوگوں کی طرف سے فوج پر ایک جملہ ،چوکیدار بہت کسا جاتا ہے جب کسی کو کوئی دلیل نا ملے تو فوری جملہ داغتا ہے کہ جی فوج تو چوکیدار ہے فوج کا کیا کام ملکی معاملات اور سیاست میں سب سے پہلے تو میں ان لوگوں کو بتاءونگا گا کہ چوکیدار کو جو تنخواہ دی جاتی ہے وی اپنی آمدن سے بلکل کم دی جاتی ہے جیسا کہ آجکل ہمارے معاشرے میں عمومی طور پر 15000 سے 30000 ہزار روپیہ چوکیدار کو دیا جاتا ہے جبکہ آپ کی آمدن اور بچت لاکھوں روپیہ ہوتی ہے مگر حیرت ہے فوج کو چوکیدار کہنے والوں پر کہ ایک طرف تو اسے چوکیدار کہہ رہے ہوتے ہیں مگر دوسری جانب اسی چوکیدار کی شکایت بھی کرتے ہیں کہ 80 فیصد ہماری فوج یعنی چوکیدار کھا رہا ہے اب بھلا کوئی ذی ہوش شحض خیسے مان سکتا ہے کہ کوئی ہو بھی چوکیدار اور آپ کی آمدن کا 80 فیصد بطور تنخواہ بھی لے رہا ہو یقینا یہ بہت کم عقلی والی بات ہے جوکہ ہماری تمام سیاسی پارٹیوں کی طرف سے بطور افواہ پھلائی گئی ہے آپ اس سال بجٹ کا ریکارڈ چیک کر لیں تو آنکھیں کھل جائینگی کہ فوج کتنے فیصد لے رہی ہے
    حالانکہ بجٹ میں ہر ادارے اور صوبے کو ملنے والی رقم کا حساب ہوتا ہے مگر پھر بھی لوگ بجٹ کی جمع تفریق نہیں کرتے بلکہ رٹی رٹائی باتیں ازبر کرتے چلے جاتے ہیں یقینا اس قسم کی باتیں کرنے والے لوگ حد درجہ جھوٹے ہیں جن کی اپنی بات میں بھی وزن نہیں جو 80 فیصد کا بہتان لگا کر چوکیدار کا لقب دے رہے ہیں اور ان کی بجٹ کی جمع تفریق سے ثابت ہوا کہ وہ جھوٹے ہیں اور جھوٹے لوگ کسی کو چوکیدار کہیں یاں کچھ اور ان کی بات مانی نہیں جا سکتی
    یقینا فوج بھی دوسرے اداروں کی طرح ایک ادارہ ہے اور اس کے اندر بھی انسان ہی ہیں اور انسان خطا کا پتلا ہے میں کوئی مقدس گائے نہیں مانتا فوج کو مگر دنیا جانتی ہے فوج اور سول اداروں کی سزاءوں کو جب کوئی سول ادارے کا اہلکار غلطی کرتے پکڑا جاتا ہے اسے معطل کر دیا جاتا ہے مگر فوج میں ایسا نہیں غلطی ثابت ہونے پر کورٹ مارشل کر دیا جاتا ہے پینشن جی پی فنڈ ختم ہونے کیساتھ پوری زندگی کورٹ مارشل شد فوجی کوئی بھی سرکاری نوکری نہیں کر سکتا اور جب تک کورٹ مارشل مکمل نا ہو جیل سے چھٹی نہیں ملتی جبکہ سول اداروں کے لوگ ضمانت اور قبل از ضمانت کروا لیتے ہیں
    اس کے علاوہ مذید کہتے ہیں کہ جی فوج کرتی کیا ہے مفت کی تنخواہ لیتی ہے تو ان سے میرے چند سوال ہیں کہ 1948 میں آزاد کشمیر کو ہندو کے چنگل سے اپنے غیور قبائلیوں کیساتھ مل کر کس نے آزاد کروایا تھا فوج نے یاں کسی سیاستدان نے ؟
    1965 کی پاک بھارت جنگ میں دشمن کو ناکو چنے کس نے چبوائے اور ملک کا دفاع کس نے کیا تھا فوج نے یاں کسی غیرت مند سیاستدان نے ؟
    1967 اور پھر 1973 کی عرب اسرائیل جنگ میں جب سارے عرب ملک عملی طور پر اسرائیل کے قبضے میں چلے گئے تھے اور پوری دنیا اسرائیل کو سپر پاور تسلیم کرنے کے قریب تھی تب اس وقت پاکستانی ائیر فورس نے تل ابیب کا خاک غرور میں ملایا پاک ائیر فورس کے جوانوں نے اپنی جانیں تو دے دیں مگر اسرائیل کا ایٹمی پاور پلانٹ تباہ کرکے تمام عرب ملکوں کو اسرائیل کے قبضے سے آزاد کروایا تو اس وقت کونسا غیرت مند سیاستدان پاکستان سے جنگی جہاز اڑا کے تل ابیب کو تباہ کرنے گیا تھا؟
    1971 میں انڈیا کیساتھ مل کر اقتدار کی خاطر پاکستان کے دو ٹکڑے کرنے کیلئے مسلح فورس،مکتی باہنی کس نے بنائی تھی اور باوجود اسلحہ کی کمی کی بدولت لڑائی کس نے کی تھی ہندوستانی فوج سے اور پھر دشمن کی قید کس نے کاٹی تھی کیا کوئی سیاستدان انڈین جیلوں میں قید رہا ؟
    1980 کی دہائی میں جب سپر پاوری کی طاقت کے نشے میں چور روس افغانیوں پر چڑھ دوڑا تو اس وقت افغانیوں کو کونسے سیاستدان نے ٹریننگ دی کے تم ہمارے مسلمان بھائی ہو اپنا دفاع کرو ؟
    1999 میں کارگل پر قبضہ کرکے انڈیا کی طرف سے کشمیر جانے والا راستہ پاک فوج نے بند کر دیا جس کے پیش نظر مقبوضہ وادی کشمیر میں ہندوستانی فوج بھوکوں مرنے کے قریب تھی جس کا اقرار خود سابق آرمی چیف ٹی وی پر کر چکا بھلا اس وقت یونائیٹڈ نیشن کے تلوے چاٹنے کوئی فوجی گیا تھا کہ سیاستدان ؟ دنیا جانتی ہے اس وقت کا حکمران یونائیٹڈ نیشن کے حکم کی پیروی نا کرتا تو آج کشمیر بھی آزاد ہوتا بلکہ پاک فوج کے ہزاروں سپاہی اور افسران شہید نا ہوتے بھلا ان قربانیوں میں کونسا سیاستدان جس نے کارگل جا کر گولیاں چلائیں؟
    2001 میں جب امریکہ نے پتھر ئکے دور میں پہنچانے کی دھمکی دی اس وقت افغانستان کی سرحد پر فوج کے علاوہ کونسے سیاستدان نے پہرہ دیا ؟
    2008 میں بمبئی حملے ہوئے انڈیا نے الزام پاکستان پر لگایا مگر وہ اس الزام کو ثابت نا کر سکا مگر ہمارا ہی ایک سیاستدان اٹھا اور شور شروع کر دیا کہ بمبئی حملے آئی ایس آئی اور ایک مذہبی جماعت نے کروائے جس کی پاداش میں پاکستان کو ایف اے ٹی ایف نے گرے لسٹ میں شامل کر دیا اور آج تک ہم اس کا خمیازہ ہمیں آج بھی بھگتنا پڑ رہا ہے لہذہ سوچئے پھر بولئے ،چوکیدار نہیں محافظ

  • نالیاں تالاب بن گئیں

    قصور
    شہروں اور گلی محلوں میں نالیاں تالاب بن گئیں
    تفصیلات کے مطابق قصور کے قصبے مصطفیٰ آباد للیانی وارڈ نمبر 7 سرہالی روڈ پر انتظامیہ کی نااہلی وجہ سے نالیاں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں جو کہ انتظامیہ کی نا اہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے
    نا ہی کوئی دیکھنے والا ہے اور نہ ہی کوئی سننے والا روہی نالہ سے گند و گوبر نکال کر سڑک اور مین راستے پر پھینکنا روز کا معمول ہے جس سے نمازی اور مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے
    اہل علاقہ کا اعلیٰ حکام سے نوٹس کا مطالبہ

  • بغیر ترپال لوڈر ٹرالیاں

    قصور
    بغیر ترپال کے فیروز پور روڈ پر اینٹوں سے لوڈ ٹرالیاں لوگوں کیلئے وبال جان بن گئیں
    تفصیلات کے مطابق قصور سے روزانہ درجنوں اینٹوں سے لوڈ ٹرالیاں اینٹیں لے کر لاہور فروخت کرنے جاتی ہیں جن میں سے ایک آدھ پر ہی ترپال ڈالا گیا ہوتا ہے باقی ٹرالیاں بغیر ترپال کے ہی گزرتی ہیں جن سے پیدل اور موٹرسائیکل سواروں پر اینٹوں سے گرنے والا والا برادہ نما گرد پڑتی ہے جو کہ قریب سے گزرنے والے پیدل اور موٹرسائیکل سواروں کیلئے سخت پریشانی کا سبب بنتی ہے جس سے لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے بعض اوقات بغیر ترپال کے ٹرالیوں سے سڑک پر اینٹیں بھی گر جاتی ہیں جو کہ موٹرسائیکل اور کار سواروں کے لئے کسی بھی وقت بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہیں
    لہذہ سٹی ٹریفک پولیس قصور ٹرالی مالکان کو ترپال ڈالنے کا پابند کرے تاکہ لوگوں کو مشکلات کا سامنا نا کرنا پڑے

  • رشوت لی اور دھمکیاں دیں

    قصور
    سب ڈویژن راجہ جنگ کا واپڈا ملازم افضل خاں میٹر انسپکٹر کی رشوت ستانی عروج پر
    تفصیلات کے مطابق کوٹلی رائے ابوبکر کے زمیندار زین العابدین کا کہنا ہے ہمارے زرعی ٹیوب ویل کے میٹرنمبر 4511751306103u پر افضل نے 38277 یونٹ بوگس ڈال دئے جس پر میں نے افضل خان کو ریڈنگ درست کرنے کا کہا تو افضل خان نے مجھ سے ایک لاکھ روپے رشوت کا مطالبہ کیا اور کہا کہ پیسے دو گے تو کام ہو گا ورنہ نہیں سو مجبوری کے تحت میں نے حامی بھر لی رشوت کے پیسے لینے افضل ہمارے کھیت آیا پیسے لینے کے بعد ہمارا بل ٹھیک نا کیا جس کی بابت میں نے اپنے پیسے واپس مانگے تو افضل غنڈا گردی پر اتر آیا مجھ کو سنگین دھمکیاں دیں اور کہا کہ میں نے تو اپنے علاقے کے بہت چوہدریوں کے پیسے کھائے ہیں جو میرا بال بھی ٹیڑھا نہیں کر سکے پھر تم کیا چیز ہو
    بل زیادہ ہونے سے ہم نے بل ادا نا کیا تو واپڈا ٹیم ہمارا میٹر بھی اتار کر لے گئ ہے اور افضل بھی سنگین نتائج کی دھمکیوں دے رہا ہے
    متاثرہ دیہاتی نے اعلی حکام سے اس راشی میٹر انسپکٹر کے خلاف سخت قانونی کاروائی کا مطالبہ کیا ہے

  • 3 افراد قتل 1 زخمی علاقے میں سوگ

    قصور
    گاءوں کھارا میں 3 افراد قتل 1 شدید زخمی
    تفصیلات کے مطابق قصور کے نواحی گاؤں کھارا میں 3 افراد قتل کر دیئے گئے جبکہ ایک شدید زخمی ہے بتایا جا رہا ہے کہ مقتولین حال ہی میں جیل سے رہا ہو کر آئے تھے اور کھارا گاؤں میں اپنے عزیزوں سے ملنے آئے تھے جن کا پیچھا کرتے ہوئے مخالفین نے انہیں کھارا بھلو روڈ پر ان کی گاڑی پر شدید فائرنگ کرتے ہوئے قتل کیا بتایا جا رہا ہے کہ ملزمان 1 موٹرسائیکل 125 اور 1 عدد گاڑی پر آئے اور مقتولین کی کار ایکس ایل آئی پر شدید فائرنگ شروع کر دی جس کے نتیجے میں 3 افراد موقع پر ہلاک جبکہ 1 شدید زخمی ہے
    پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی ہے

  • بھینس چور متحرک ہو گئے

    قصور
    تھانہ راجہ جھنگ کی حدود میں بھینس چوری ہونے کا سلسلہ نا رک سکا
    تفصیلات کے مطابق قصور کا تھانہ راجہ جھنگ بھینسوں کی چوری نا رکوا سکا غریب کسان جس کا اپنی جان اور اولاد کے بعد سب سے قیمتی اثاثہ بھینس ہوتا ہی ہوتا ہے آئے روز چوروں کے ہاتھوں اپنے اس قیمتی اثاثے سے محروم ہو رہے ہیں رواں ہفتے میں محمد صدیق ڈوگر سکنہ اوراڑہ روڈ کی دو قیمتی بھینسیں مجاہد رحمانی سکنہ اوراڑہ خورد کی ایک قیمتی بھینس اور آج رات صفی اللہ گجر ولد عارف گجر سکنہ اوراڑہ نو کی ایک قیمتی بھینس چور رات کی تاریکی میں چرا کر لے گئے حالانکہ ان دونوں دیہات سے چوکی اوراڑہ تھانہ راجہ جھنگ کا فاصلہ صرف ڈھائی کلومیٹر ہے
    ایک بھینس کی کم از کم قیمت ڈھائی لاکھ روپیہ ہے
    اہلیان دیہہ نے ڈی پی او قصور سے استدعا کی ہے کہ فوری نوٹس لے کر کاروائی کریں اور ہمیں ہماری بھینسیں واپس دلوائیں اور چوروں کو پکڑ کر عبرت کا نشان بنایا جائے

  • قصور ضلعی انتظامیہ انتہائی سست

    قصور
    چونیاں میں زیر تعمیر سڑک لوگوں کے لئے وبال جان بن گئی
    تفصیلات کے مطابق قصور کی تحصیل چونیاں کے علاقے جمبر میں ن لیگی دور حکومت میں شروع ہونے والا چونیاں تا جمبر روڈ کا تاریخ ساز منصوبہ فنڈز نہ ملنے کی وجہ سے تاخیر اور سست روی کا شکار ہے جس کی وجہ سے آئے روز ایکسیڈنٹ ہونا معمول بن گئے ہیں اور سڑک سے اٹھنے والی گردوغبار سے لوگ موذی بیماریوں میں مبتلا ہونے لگے ہیں کاروباری لوگ کام نا ہونے کی وجہ سے مزید پریشانی میں مبتلا ہو چکے ہیں لوگوں کا گزرنا دشوار ہو چکا ہے
    لوگوں نے ضلعی انتظامیہ اور محکمہ ہائی وے سے اس تعمیراتی کام کو جلد از جلد مکمل کرنے کی اپیل کی ہے

  • تحصیل آفس کی ہڑتال

    قصور
    تحصیل آفس میں ضلع بھر کے ریونیو افسران اور پٹواری اور قانون گو دفاتر کی تالہ بندی کرکے ہڑتال پر آگئے
    تفصیلات کے مطابق تحصیل میونسیپل ایڈمنسٹریٹر کی اڑھائی کروڑ روپے کی کرپشن میں پٹواریوں اور محکمہ مال کا ہاتھ بتایا جا رہا ہے
    جبکہ دوسری جانب مظاہرین نے مطالبات کی منظوری تک ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ ڈپٹی کمشنر قصور اظہر حیات اور ADCR نے لینڈ ریونیو ڈکلیئر کرکے ہمارے ساتھ زیادتی کی ہے اور قصور میونسپل کمیٹی کی فیسوں میں محکمہ مال کے پٹواریوں کی کرپشن کا جواز ہی نہیں بنتا
    متعلقہ کیس میں اینٹی کرپشن کے پاس مقدمہ بھی درج ہے اور کرپٹ ملزمان بھی گرفتار ہیں پھر ہمارا کیا واسطہ ہے

  • سرکاری اراضی پر قبضہ بوجہ پٹواری

    قصور
    کنگن پور اور الہ آباد میں محکمہ ہائی وے کی سرکاری اراضی پر بااثر افراد کا قبضہ
    ک
    تفصیلات کے مطابق الہ آباد میں تعینات ہونے والا پٹواری بہت بااثر ہے کہ مقامی ایم پی اے اور ایم این اے بھی اس کے اشاروں پر چلتے ہیں اچونکہ الہ آباد قیمت کے لحاظ سے ضلع قصور کا سب سے زیادہ قیمت والا علاقہ ہے تحصیلدار اسسٹنٹ کمشنر اور مقامی حکومتی سیاست دانوں کو ہر ماہ ایک کثیر رقم منتھلی کی صورت میں فراہم کی جاتی ہے عرصہ تقریباً تیس سال سے نذرانہ وصولی کی یہ روایت چلی آرہی ہے جس پارٹی کی بھی حکومت ہو پٹواری سے ماہانہ اپنا حصہ وصول کرنا اپنا قانونی حق سمجھا جاتا ہے الہ آباد میں تعینات رہنے والے تمام پٹواری کروڑ پتی ہو چکے ہیں ایک معمولی پٹواری صرف پٹوار خانے میں اپنے چار پرائیوٹ ملازم رکھتا ہے گاڑی کا ڈرائیور اور گھریلو ملازموں کی تعداد علیحدہ سے ہے کرپٹ سیاست دانوں سے ساز باز ہو کر کرپٹ پٹواریوں نے اربوں روپے کی سرکاری اراضی فروخت کر دی ہے محکمہ ہائی وے کی سرکاری اراضی پر کنگن پور میں قبضہ مافیہ نے عرصہ دراز سے قبضہ کر رکھا ہے چونیاں روڈ دیپالپور روڈ ڈھٹے شاہ روڈ اور شہر میں دیگر جگہوں پر سینکڑوں کنال سرکاری اراضی فروخت کی جا چکی ہے کرپشن کا بے تاج بادشاہ موجودہ پٹواری قبضہ مافیہ کو تحفظ دینے میں پیش پیش ہے وزیراعظم پاکستان اور سپریم کورٹ کے حکم پر شروع کی جانے والی مہم اور ناجائز تجاوزات کا خاتمہ اور سرکاری اراضی قبضہ مافیہ سے واگزار کروانے میں پٹواری طارق رکاوٹ بنا ہوا ہے اور قبضہ مافیہ سے بھاری رقم بٹور کر اعلیٰ افسران کو بوگس رپورٹیں بنا کر ارسال کر رہا ہے
    الہ آباد کے رہاشیوں نے وزیراعظم پاکستان اور چیف جسٹس سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ الہ آباد میں اربوں روپے کی سرکاری اراضی پر قبضہ مافیہ کے خلاف کاروائی کی جائے اور سرکاری اراضی واگزار کروائی جائے اور ملوث ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے

  • صحافی پر جھوٹا مقدمہ خارج کیا جائے

    قصور
    سنیئر صحافی مہر سلطان کے خلاف درج جھوٹھا مقدمہ خارج کیا جائے ممبران و عہدیداران پریس کلب الہ آباد
    تفصیلات کے مطابق مرکزی پریس کلب الہ آباد کا مذمتی اجلاس سرپرست اعلیٰ چودھری فیاض احمد دھون کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں سنیئر صحافی مہر سلطان محمود کے خلاف ڈی ای او سیکنڈری میاں مقصود کی طرف سے درج جھوٹھے مقدمہ کی شدید مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ مجرمانہ غفلت اور کرپشن بے نقاب ہونے پر ایسے افراد کی طرف سے صحافیوں کے خلاف مقدمات کا اندراج نئی بات نہیں ہے ہم صحافی حضرات ایسے گھٹیا ہتھکنڈے استعمال کرنے والے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں مہر سلطان محمود اس سے پہلی بھی محکمہ ایجوکیشن میں جعلی اسناد پر بھرتی ہونے 15 ٹیچر فارغ کروا چکا ہے جس کا محمکہ تعلیم کے افسران کو بہت دکھ ہے کیونکہ ان می رشوت بے نقاب ہو چکی ہے
    محکمہ تعلیم کو ایسے صحافی کو خراج تحسین پیش کرنا چاہئے تھا مگر صحافی کی ایمانداری کی بدولت محکمہ تعلیم نے الٹا پرچہ کرو دیا حالانکہ صحافی برادری محکمہ تعلیم اور بچوں کے روشن مستقبل کے لئے کام کر رہی ہے مگر افسران کے ایسے ہتھکنڈوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ بھی اس مجرمانہ فعل میں برابر کے شریک ہیں اور اس معاملے کو جھوٹھے مقدمات میں الجھا کر دبانا چاہتے ہیں مہر سلطان محمود نے اس سلسلہ میں سیکرٹری ایجوکیشن کوانکوائری کےلئے درخواست بھی دی رکھی ہے سرپرست اعلیٰ پریس کلب چودھری فیاض احمد دھون، مہر محمد اسماعیل جاوید، ملک اکرم، ملک سہیل احمد، چوہدری ظہیر بابر، شیخ عرفان، حاجی اصف، چوہدری محبوب احمد، اودیگر صحافیوں کی بڑی تعداد نے اعلی حکام سے فوری نوٹس لیتے ہوئے مہر سلطان محمود کے خلاف درج جھوٹے مقدمہ کو فوری خارج کرنے اور سی ای او ایجوکیشن ناہید واصف اور ڈی ای او سیکنڈری میاں مقصود کے خلاف انکوائری کا مطالبہ کیا ہے