قصور
ڈی ایچ کیو ہسپتال قصور میں چوہدری انٹرپرائزز کے نام پر قائم موٹر سائیکل، کار سٹینڈ کے ملازمین نے مریضوں کی عیادت کرنے والے پہلے سے پریشان عوام سے جبراً ناجائز پیسے بطور جگا وصول کرنا معمول بنا لیا
تفصیلات کے مطابق ڈی ایچ کیو ہسپتال میں چوہدری انٹرپرائزز کے بداخلاق عملہ نے موٹرسائیکل، موٹر کار اسٹینڈ کے چند بااثر افراد نے اپنے طور پر منظور شدہ قانون سے بالاتر موٹر سائیکل، کار سٹینڈ قائم کر رکھا ہے اوع وہاں پر جاہل قسم کے ملازمین نے مریضوں کی عیادت کرنے والی عوام ،جو مریضوں کی بیماری کیوجہ سے پہلے ہی پریشان ہوتے ہیں، ان سے ہر پھیرے پر جبراً زائد پیسے بطور جگا ٹیکس وصول کرنا وطیرہ بنا رکھا ہے استفسار پر غیر اخلاقی اور جانی مالی نقصان کی دھمکیاں دینا معمول بنایا ہوا ہے جسکی وجہ سے آئے دن عوام اور غنڈہ عناصر عملہ میں لڑائی جھگڑا طول پکڑتا جا رہا ہے ہسپتال کے اندر قریب ہی قائم پولیس چوکی ہونے کے باوجود انکی غنڈہ گردی میں کوئی کمی نہیں ہوئی جسکی وجہ سے عوام شدید ذہنی و مالی پریشانی میں مبتلا ہے مقامی سول سوسائٹی کے سربراہان اور ڈسٹرکٹ بار کے سینئر وکلاء اور متاثرین افراد نے صوبائی حکومت ،صوبائی وزیر صحت ، مقامی انتظامیہ سے ان افراد کے خلاف سخت کارروائی کی کا مطالبہ کیا ہے
Tag: قصور ہسپتال

پارکنگ سٹینڈ کے نام پر جگا ٹیکس
قصور ہسپتال یا سفارشی کا مددگار
قصور
ڈی ایچ کیو ہسپتال سفارشی لوگوں کیلئے ہی رہ گیا
تفصیلات کے مطابق قصور کا ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال پرچی بنوانے سے ٹیسٹ کروانے تک اور دوائی لینے سے ہسپتال میں داخلہ لینے تک صرف سفارشی لوگوں کیلئے ہی رہ گیا ہے غریب اور بغیر سفارش کے مریض پرچے بنوانے میں ہی 4 گھنٹے گنوا دیتے ہیں اس کے بعد جب ڈاکٹر کے پاس جانے کی باری آتی ہے تب بھی سفارشی ٹولہ سب سے آگے ہوتا ہے جس کی بدولت غریب اور مستحق لوگ دوائی لینے سے رہ جاتے ہیں خاص طور پر کتے کاٹے کی ویکسین پر معمور عملہ کہتا ہے کہ ویکسین ختم ہو گئی ہے مگر 500 روپیہ پر فوری کتے کاٹے کا انجیکشن لگا دیتے ہیں
لوگوں نے اس صورت حال پر وزیر صحت اور ڈی سی قصور سے نوٹس لینے کی اپیل کی ہے
قصور ہسپتال میں مرضی کے ریٹ
قصور کا ڈی ایچ کیو ہسپتال ملازمین کے قبضے میں
تفصیلات کے مطابق قصور ڈی ایچ کیو ہسپتال کے ایکسرے وارڈ میں بیٹھے سرکاری ملازمین نے محمد طفیل منڈی عثمان والا کے رہائشی سے منیر اور عاطف ملازمین ہسپتال نے MLC رپورٹ دینے کیلئے مبلغ 92 ہزار رقم وصول کی اور اسی طرح احسان علی جو کہ رحمان ٹاؤن کا رہائشی ہے نے بتایا کہ منیر ایکسرے انچارج اور عاطف نے مجھ سے MLC رپورٹ کیلئے 20 ہزار روپے مانگے جس کی رپورٹ میں نے میڈیا نمائندگان کو کی جب میڈیا کی ٹیم ایکسرے ڈیپارٹمنٹ میں پہنچہی تو منیر ایکسرے انچارج اور اس کے بیٹے نے میڈیا کا کیمرہ چھیننے کی کوشش کی ایکسرے ٹیکنیشن منیر احمد نے اپنے بیٹے عاطف اور رشتہ دار علی نامی نوجوان کو سرکاری ہسپتال میں پرائیویٹ طور پر افسران کی ملی بھگت سے رکھوا رکھا ہے جو کہ غیر قانونی طور پر ہسپتال میں سرکاری ملازم بن بیٹھے ہیں جن کو پوچھنے والا کوئی نہیں ہے ذرائع کے مطابق سرکاری ہسپتال میں ایکسرے فیس 60 روپے کے قریب ہے جب کہ سرکاری فیس کی مد میں ایکسرے فیس 250 روپے کے قریب وصول کی جاتی ہے مریضوں کو جعلی ایکسرے رپورٹ بنانے کی فیس 20 ہزار سے 1 لاکھ روپے تک وصول کی جاتی ہے جس سے ایکسرے ٹیکنیشن لاکھوں روپے کی دیہاڑیاں لگا کر اربوں کی جائیداد بنانے کے ساتھ ساتھ لگژری لائف سٹائل میں مصروف ہے اس ہسپتال میں آئے مریضوں کے لواحقین اور قصور کی سماجی تنظیموں کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ڈی سی قصور اور ای ڈی او ہیلتھ ایکسرے ٹیکنیشن منیر احمد کے خلاف کرپشن کرنے پر سخت سے سخت کاروائی کریں آمدن سے زیادہ اثاثہ جات رکھنے اور لاکھوں روپے روزانہ کی کرپشن کرنے کے جرم میں ایکسرے ٹیکنیشن کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے تاکہ لوگوں کو سرکاری ہسپتال سے ریلیف مل سکے

