قصور
محکمہ واپڈا کے بعد محکمہ سوئی گیس بھی لوگوں کو اللہ اللہ کا ورد کروانے لگا ساری رات سوئی گیس غائب لوگ پریشان ایل پی جی کی قیمتیں ساتویں آسمان پر
تفصیلات کے مطابق قصور میں خاص کر اندرون شہر ،کوٹ رکن دین،کوٹ بدر دین کوٹ مراد خان،موریگیٹ،شہباز خان روڈ ،کوٹ پیراں ،کوٹ اعظم خان و دیگر اندرون شہر محلوں میں دن کو تو سوئی گیس میسر ہوتی ہے مگر رات کو گیس بلکل بھیمیسر نہیں ہوتی رات 11 بجے کے بعد گیس بلکل چلی جاتی ہے اور پھر صبح 8 بجے آتی ہے مگر 9 بجے تک گیس کا پریشر انتہائی کم ہوتا ہے پھر رفتہ رفتہ پریشر بہتر ہو جاتا ہے گو کہ سارا دن گیس صارفین کو گیس ملتی تو ضرور ہے مگر پریشر کچھ کم ہی ہوتا ہے جس سے کھانا پکانے والی خاتون خانہ کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے بعض علاقوں میں تو پریشر انتہائی کم ہے جس سے گھریلوں صارفین کیساتھ کمرشل صارفین کو سوئی گیس کے نعم البدل ایل پی جی گیس کا استعمال کرنا پڑتا ہے جو کہ انتہائی مہنگی ہے لوگ پہلے ہی واپڈا سے تنگ تھے اب سخت سردی میں محکمہ سوئی گیس بھی لوگوں کو اذیت دے رہا ہے مہنگائی سے پریشان لوگ ناشتہ بنانے کیلئے ایل پی جی کا استعمال کرنے پر مجبور ہیں
Tag: قصور

محکمہ سوئی گیس نے لوگوں کو اللہ اللہ کے ورد پر لگا دیا

لیسکو قصور لوگوں کو نماز جمعہ سے محروم کرنے لگی
قصور
لوڈشیڈنگ میں لیسکو قصور سب ڈویژن راجہ جنگ سب سے آگے لوگوں کو ذلیل کرنا مشن بنا لیا نماز جمعہ ادا کرنا مشکل بنا دیا
تفصیلات کے مطابق ہر جمعرات کی شام بجلی غائب کر دی جاتی ہے اور جمعہ سے چند گھنٹے پہلے بھیجی جاتی ہے تاکہ لوگ جمعہ کی تیاری بھی نا کر سکیں یہ حالت ہے لیسکو سب ڈویژن راجہ جنگ کی پچھلی جمعرات والے دن بھی اوراڑہ نو و کلاں میں نماز جمعہ تک بجلی غائب تھی اور آج بھی کل شام 6 بجے سے بجلی بند ہے لوگوں نے بتایا کہ 24 گھنٹوں میں بمشکل 12 گھنٹے بجلی مل رہی ہے وہ بھی مہنیے میں 3 مرتبہ سارا دن غائب رہتی ہے
لوگوں نے نمائندہ باغی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم ہر جمعہ والے دن نماز جمعہ ادا کرنے سے لیٹ ہو جاتے ہیں شاید لیسکو قصور کی سب ڈویژن راجہ جنگ کو نماز جمعہ ادا پسند نہیں اسی لئے وہ کئی سال سے ہمارے ساتھ ایسا کر رہے ہیں
لحاظہ ایس ای قصور اور چیئرمین واپڈا ایس ڈی او سب ڈویژن راجہ جنگ سے پتہ کروائیں کہ انہیں لوگوں کے جمعہ کی ادائیگی سے کوئی مسئلہ تو نہیںقصور میں دن دیہاڑے ڈکیتیاں ، انتظامیہ خواب خرگوش میں مدہوش
طارق اقبال ،( نمائندہ باغی ٹی وی کوٹرادھاکشن)
کوٹرادھا کشن نئے ایس ایچ او کی تعیناتی بھی وارداتوں کے جاری سلسلے کو روک نا سکی.گزشتہ روز مین رائیونڈ اسپتال والی پلی پر واقع خان زرعی مرکز ( زرعی ادویات) پر شام 4 بجے کے قریب دو موٹر سائیکلوں پر سوار 4 عدد مسلح ﮈاکو دندناتے ہوۓ دکان میں داخل ہوۓ اور گن پوائنٹ پر سہیل نامی دکان مالک سے 4 لاکھ 90 ہزار نقدی چھین کر باآسانی فرار ہونے میں کامیاب ہو گۓ.دوران ﮈکیتی ملزمان دکان مالک کو جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دیتے رہے.پولیس نے معمول کی کاروائی شروع کر دی.پولیس تاحال ملزمان کا سراغ لگانے میں ناکام ہے.دن دیہاڑے ہونے والی ﮈکیتی کی ایسی واداتوں پر تاجر برادری اور شہری شدید پریشان ہیں.
کرسمس کے موقع پر ضلع بھر میں فول پروف سکیورٹی کو یقینی بنائیں گے۔ ڈی پی او قصور
قصور:- (طارق اقبال نمائندہ باغی ٹی وی کوٹرادھاکشن)
ڈی پی اوقصورزاہد نواز مروت نے کہا کہ ضلعی پولیس اقلیتوں کی عبادت گاہوں اور انکے جان و مال کی حفاظت کو ہرصورت یقینی بنائے گی،پولیس نے ضلع بھرکے 179چرچز کی سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے ہیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے آفس میں گرجا گھروں کے منتظمین کیساتھ میٹنگ کے دوران خطاب کرتے ہوئے کیا،انہوں نے کہا کر سمس ڈے امن و آشتی کادرس دیتا ہے اور ہم سب امن کے داعی ہیں۔پاکستان کے شہری ہونے کی حیثیت سے پولیس کا فرض ہے کہ بلاامتیاز رنگ ونسل اور مذہب کے تمام شہریوں کے جان و مال اور عزت کے تحفظ کو یقینی بنایا جائیگا، انہوں نے کہا ڈسٹرکٹ پولیس لائن قصور میں کرسچن کمیونٹی کے رضا کاروں کو ٹریننگ دی جائے گی جو پولیس اہلکاروں کیساتھ ملکر سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کو یقینی بنائیں گے، انہوں نے مزید کہا کہ کرسمس ڈے پر تمام گرجا گھروں میں روف ٹاپ ڈیوٹی بھی لگائی جائے گی،ہر شخص کومکمل چیکنگ کے بعد داخل ہونے دیاجائے گا، پارکنگ گرجا گھروں سے دور کی جائے گی اور مشتبہ افراد کی نقل و حرکت پر کڑی نگرانی کی جائے گی، اس کیساتھ ساتھ گرجا گھروں اور کرسچن کمیونٹی کی آبادی کے اردگرد سرچ آپریشن بھی کئے جائیں گے، میٹنگ کے اختتام پر کرسچن کمیونٹی کے رہنماؤں نے سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کو یقینی بنانے کیلئے پولیس کیساتھ مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی۔
صحافی برادری متحد ملک گیر احتجاج کی کال
قصور
پوری صحافی برادری سی ای او ایجوکیشن مس ناہید واصف کے خلاف متحد ہو گئی ایف آئی آر کاٹنے کا مطالبہ
تفصیلات کے مطابق 14 دسمبر کو سی ای او ایجوکیشن مس ناہید واصف نے قصور کے سینئر صحافی مہر سلطان محمود کو اپنے عملے کے ذریعے اپنے دفتر میں 3 گھنٹے تک یرغمال بنا کر تشدد کا نشانے بنایا تھا وجہ یہ تھی کہ مہر سلطان نے سی ای او ایجوکیشن مس ناہید واصف کے کروڑوں روپیہ کے گھپلے بے نقاب کئے تھے جس کی رنجس پر کام کے سلسلے میں سی ای او آفس گئے مہر سلطان محمود کو یرغمال بنایا گیا جس پر سینئر صحافی سعید احمد بھٹی اور کاشف کے منت سماجت کرنے پر سی ای او ایجوکیشن نے مہر سلطان کو رہا کیا اور آگے سے محکمہ تعلیم کے بارے لکھنے پر موت کی دھمکی دی جس کی درخواست مہر سلطان نے تھانہ سٹی اے ڈویژن قصور میں دی جس پر ابھی تک کوئی عمل درآمد نہیں ہوئی
سی ای او ایجوکیشن کی غنڈہ گردی کے خلاف قصور کی صحافی برادری نے احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ اسے فوری برطرف کرکے پرچہ کاٹا جائے
صحافیوں نے کہا اگر ایسا نا کیا گیا تو صحافی برادری ملک گیر احتجاج کرے گی
کل سے بجلی غائب لوگ پریشان
قصور
محکمہ واپڈا قصور لوگوں کی چیخیں نکلوانے میں مصروف 25 گھنٹے سے بجلی غائب لوگ پریشان
تفصیلات کے مطابق لیسکو قصور کی سب ڈویژن راجہ جنگ کے علاقوں راجہ جھنگ راءو خان والا ،میر محمد،ستوکی ،اوراڑہ کلاں و خورد میں کل صبح 9 بجے سے بجلی بند تھی جو کہ ابھی تک بحال نہیں ہو سکی متعلقہ لائن مین سے پوچھا گیا تو اس نے بتایا کہ فیڈر میں مسئلہ تھا جسے کل سے دور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کل رات گئے راجہ جھنگ، میر محمد اور ستوکی تک کی بجلی بحال کر دی گئی تھی اب جمعہ سے پہلے تک اوراڑہ کلاں و خورد کی بجلی بھی بحال کر دی جائے گی
واضع رہے کہ یہ دیہی علاقہ ہے اور یہاں کے لوگوں کا پیشہ زراعت اور جانور پالنا ہے بجلی کی بندش کی بدولت جانور پال لوگوں کو سخت کوفت اٹھانی پڑتی ہے جانوروں کیلئے چارہ بجلی کے ٹوکے پر تیار کیا جاتا ہے جوکہ بجلی نا ہونے پر ہاتھ سے تیار کرنا پڑتا ہے جس سے جانور پال حضرات کو سخت کوفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے
لوگوں کا کہنا ہے کہ پورے ضلع قصور میں سب سے زیادہ لوڈ شیڈنگ اسی علاقے میں ہوتی ہے لہذہ ارباب اختیار نوٹس لے کر ہماری مشکل حل کروائیںکوٹ رادھا کشن میں آگ بھڑک اٹھی ، ریسکیو ٹیموں نے 3 گھنٹے بعد قابو پا لیا
کوٹرادھا کشن :- ( جرار شاکر ، ڈسٹرکٹ رپورٹر باغی ٹی وی قصور)
کوٹرادھاکشن کے نواحی گاؤں پریم نگر میں اچانک آگ بھڑک اٹھی ۔
تفصیلات کے مطابق کوٹرادھاکشن سے 7 کلومیٹر واقع گاؤں پریم نگر میں ایک حویلی میں اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ آگ بھوسے کے ڈھیر کو لگی تھی جو کہ پھیل گئی اور اردگرد کے کمروں تک پہنچ گئی۔
ریسکیو 1122 کو اطلاع کر دی گئی تھی جس کے نتیجے میں ریسکیو 1122 کی 3 فائر بریگیڈ اور 1 ایمبولینس موقع پر پہنچ گئیں تاہم ریسکیو ٹیموں کے پہنچنے سے قبل لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت آگ بجھانے کی کوشش کی۔آگ لگنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا البتہ 2 کمرے گر گئے اور 1 عدد موٹر سائیکل جل کر راکھ ہو گئی ہے۔
آگ لگنے کی وجوہات تاحال نہیں معلوم ہو سکیں۔
ریسکیو آپریشن میں ریسکیو قصور ، ریسکیو کوٹرادھاکشن، ریسکیو بھوبتیاں لاہور کے فائر فائٹرز نے حصہ لیا۔
3 گھنٹے تک مسلسل آگ بجھانے کا عمل جاری رہا ۔ ریسکیو آپریشن کی سربراہی شبیر صاحب ، ظہیر صاحب کر رہے تھے۔لیسکو واپڈا قصور کا عظیم کارنامہ
قصور
لیسکو قصور سب ڈویژن راجہ جھنگ کا عظیم کارنامہ گرے ہوئے بجلی کے کھمبے کو بانس کے سہارے کھڑا کر دیا اور ٹوٹی ہوئی تاریں لوگوں کی چھتوں پر لپٹ کر رکھ دیں
تفصیلات کے مطابق سب ڈویژن راجہ جنگ کے علاقے اوراڑہ نو میں کچھ عرصہ قبل گرنے والے بجلی کے کھمبے کو محکمہ واپڈا کے عظیم تر انجنیئروں نے نیا لگانے کے بجائے بانس کے سہارے کھڑا کر دیا اور کھمبے سے ٹوٹ کر نیچے گرنے والی تاروں کو لپٹ کر لوگوں کی چھتوں پر رکھ دیا اور جن صارفین کے اس کھمبے کے ساتھ لنکشن تھے ان سے کہا کہ اپنی بجلی کی تاریں لمبی کرکے دوسرے کھمبے سے کنکشن کر لیں جس پر مجبوری کی حالت میں لوگوں نے عمل کرتے ہوئے اپنے کنکشن دوسرے کھمبے پر کروا لئے
لوگوں نے بتایا کہ کئی ماہ گزرنے کے باوجود بجلی کا کمبھا اسی طرح بانس کے سہارے کھڑا ہے جو کہ کسی بھی وقت گر کر کوئی جانی نقصان کر سکتا ہے لہذہ ایس ڈی او راجہ جھنگ اور آپریشن مینجر نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ لائن مین کے خلاف کاروائی کریں اور پرانے بوسیدہ گرے ہوئے کھمبے کی جگہ نیا کھمبا لگائیںقصور پولیس کی بڑی کاروائی
قصور
پولیس کی بڑی کاروائی منشیات فروش رنگے ہاتھوں گرفتار
تفصیلات کے مطابق تھانہ بی ڈویژن قصور کی چوکی بھسر پورہ کے چوکی انچارچ سید علی رضا گیلانی نے کاروائی کرتے ہوئے دو منشیات فروشوں فاروق اور عثمان کے قبضہ سے 1500 گرام چرس اور 100 لیٹر دیسی شراب برآمد کر لی
ملزمان کافی عرصے سے منشیات فروشی کا کام کر رہے تھے مگر ہر بار پولیس کو چکمہ دے کر نکل جاتے تھے ملزمان قصور کے علاوہ ملحقہ علاقوں میں بھی منشیات سپلائی کرتے تھے
اہلیان علاقہ نے قصور پولیس کے اس اقدام کی تعریف کی ہے
ورلڈ ریبیز ڈےاور پاکستان : علی چاند
دنیا بھر میں 28 ستمبر کو ورلڈ ریبیز ڈے منایا جاتا ہے ۔ اس دن کے منانے کا مقصد دنیا بھر سے ریبیز کی بیماری کو روکنا اور کنٹرول کرنا ہے ۔ ریبیز ایک جان لیوا بیماری ہے جو کسی جانور خاص طور پر کتے کے کاٹنے سے ہوتی ہے ۔ ریبیز لاٸسا واٸرس کی وجہ سے پھیلتی ہے جو انسان میں تب اثر انداز ہوتی ہے جب یہ واٸرس انسان کی ریڑھ کی ہڈی یا دماغ کی طرف بڑھتا ہے ۔ یہ واٸرس عصاب کے ذریعے دماغ تک پہنچتا ہے اور جب یہ واٸرس دماغ تک پہنچتا ہے تو اس مرض کی علامات ظاہر ہوتی ہیں ۔ یہ واٸرس شکل میں پستول کی گولی سے مشابہ ہوتا ہے ۔ یہ واٸرس پاگل کتے کے کاٹنے سے اس کی رطوبت کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے انسان میں ریبیز کی بیماری ہوتی ہے ۔
ریبیز کی بیماری کی دو اقسام ہوتی ہیں ۔ فیورس اور ڈمپ ۔ فیورس سے انسانی دماغ میں سوزش ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے مریض بے چینی اور ڈپریشن محسوس کرتا ہے ۔ ایسی حالت میں مریض انسان کو باقی لوگوں سے الگ کسی محفوظ مقام پر منتقل کر دینا چاہیے جبکہ ڈمپ میں انسان پٹھوں کی کمزوری اور فالج کی کیفیت میں مبتلا ہوجاتا ہے ۔ ایسی حالت میں انسان کی جلد موت واقع ہوجاتی ہے ۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس بیماری کا کورس تین ٹیکوں پر مشتمل ہوتا ہے ۔ اور یہ ٹیکے بیماری کے پہلے دن ، ساتویں اور اٹھاٸیسویں دن لگانے ہوتے ہیں ۔ اس کے بعد احتیاط کے طور پر ایک سال بعد ایک ٹیکہ اور پانچ سال بعد ایک اور ٹیکہ لگوا کر اس بیماری سے مستقل طور پر بچا جا سکتا ہے ۔ کتے کے کاٹنے کے فورا بعد مریض کے زخم کو اچھی طرح دھونا چاہیے اگر جراثیم کش لیکوڈ پاس ہو تو چاہیے کہ زخم کو اس سے دھویا جاٸے ۔ زخم پر ٹانکے ہرگز نہ لگواٸیں جاٸیں اور نہ ہی زخم کے اوپر پٹی کرنی چاہیے ۔
دنیا بھر میں اکثر ممالک میں یا تو ریبیز کا مکمل خاتمہ ہوچکا ہے یا پھر یہ بیماری زوال پذیر اور ختم ہونے کے قریب ہے ۔ لیکن پاکستان میں بد قسمتی سے ابھی بھی صورتحال بدتر سے بدتر ہوتی جارہی ہے ۔ اس کی بڑی وجہ مرض سے لاعلمی اور پھر علاج کے لیے گھریلو ٹوٹکے اور دیسی علاج ہیں ۔ اس کے علاوہ اہم وجہ پاکستان کے ہسپتالوں کی ابتر صورتحال اور ادویات کی کمی بھی ہے ۔ پاکستان میں ریبیز کی ویکسین کی کمی کی وجہ سے پانچ ہزار لوگ موت کا شکار ہورہے ہیں ۔ ایک حالیہ رپوٹ کے مطابق 9 ماہ میں صرف کراچی میں ریبیز کے تقریبا آٹھ ہزار مریض سامنے آٸیں ہیں ۔ محکمہ سندھ کی طرف سے شاٸع کردہ رپوٹ کے مطابق اس سال کے پہلے پانچ ماہ میں کتے کے کاٹے کے 69 ہزار کیس سامنے آٸے ہیں ۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت لوگوں کو اس بیماری کے بچاو کے حوالے سے حفاظتی انتظامات کے طریقوں سے آگاہ کرے ۔ ریبیز کے مریضوں کو بھر وقت ویکسین کی سہولت دی جاٸے ۔ ہسپتالوں میں ادویات کی کمی کو پورا کیا جاٸے ۔ کتوں کی نسل کشی کی جاٸے اور ایسے کتے جس سے ریبیز کی بیماری کا خطرہ ہو انہیں فوری طور پر مار دیا جاٸے ۔ لوگوں کو ریبیز کے حوالے سے مکمل آگاہی دی جاٸے اور ابتداٸی طبی امداد کے حوالے سے آگاہ کیا جاٸے ۔





