Baaghi TV

Tag: قصور

  • ڈی ایس پی کی نوشہرہ ورکاں پوسٹنگ ، مٹھائیاں تقسیم

    ڈی ایس پی کی نوشہرہ ورکاں پوسٹنگ ، مٹھائیاں تقسیم

    (غفار ریاض نمائندہ باغی ٹی وی قصور)

    چونیاں میں ڈی ایس پی خالد اسلم کی نوشہرہ ورکاں میں پوسٹنگ کر دی گئی ہے۔
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ڈی ایس پی خالد اسلم کو نوشہرہ ورکاں میں پوسٹنگ کے اعزاز میں ایک پر وقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔
    جس میں صحافیوں، وکلاء سرکل کے تمام ایس ایچ اوز نصر اللہ بھٹی، شہادت بھٹی، شمشیر کھوکھر، کامران شہزاد ، سلیم سب انسپکٹر، ڈی ایس پی آفس کے ملازمین، علی بھائی، وحید علی اور دیگر عہدیداروں نے ڈی ایس پی کو گلدستے پیش کئے اور مالائیں بھی پہنائی گئیں۔
    اس خوشی کے موقع پر مٹھائیاں تقسیم کر کے اچھی یادوں کے ساتھ رخصت کیا گیا ہے اور ان کے روشن مستقبل اور درخشاں کیرئیر کے لیے دعا بھی کی گئی۔ یاد رہے کہ ڈی ایس پی خالد اسلم اپنے بہترین رویے کی وجہ سے محکمے میں اور اہل علاقہ میں خاص مقام رکھتے ہیں۔

  • چھ ماہ سے سسکتی مامتا اور قصور پولیس – شاہ بانو

    چھ ماہ سے سسکتی مامتا اور قصور پولیس – شاہ بانو

    چھ ماہ سے سسکتی مامتا اور قصور پولیس
    تحریر شاہ بانو

    "بچے” یہ ایسا خوبصورت لفظ ہے کہ یہ نام لیتے ہی آنکھوں میں تارے سے جلملانے لگتے ہیں پھولوں کا تصور آتا ہے اور ان کی چھوٹی چھوٹی حرکتیں اور شرارتوں کے سین سے لبوں پہ مسکراہٹ آ جاتی ہے ۔دنیا کا سنجیدہ سے سنجیدہ اور جابر سے جابر بھی ان کی ننھی حرکتوں کو دیکھ کر کھل جاتا ہے ۔
    اور عورت تو شادی کے بعد جوں ہی ماں بنتی ہے اس کی ساری دنیا ان بچوں تک محدود ہو جاتی ہے ۔ اسے لگتا ہے وہ انھیں بچوں کو دیکھ کر جیتی ہے اور یہی بچے اس کے لیے خوشیاں کا باعث ہی تو دکھوں کا مداوا ۔ وہ کتنے بھی درد میں ڈوبی ہو اپنے بچوں پہ نظر پڑتے ہی اس کے شکوہ کرتے لب ٹھہر جاتے ہیں۔اور وہ خود کو دنیا کی خوش قسمت عورتوں میں شمار کرتی ہے ۔

    یہ ایک فطری سی بات ہے ہر ماں باپ شادی کے بعد اولاد کی خواہش کرتا ہے اور اس خواہش میں بیٹے کی خواہش زیادہ حاوی ہوتی ہے ۔
    بیٹا ایک ایسی نعمت ہے جس کی خواہش انبیا نے بھی کی اور قرآن پاک میں انبیا کی بیٹے کے لیے کی گئی دعائیں ملتی ہیں۔ اور ہمارے ہاں پہلی بار بیٹا ہو جائے تو خوشی سنبھالے نہیں سنبھلتی ۔بعض ماں باپ بیٹی کی بھی بہت خوشی مناتے ہیں لیکن بیٹے کی خواہش پھر بھی رہتی ہے
    میرا ذاتی تجربہ بھی یہی ہے اللہ رب العزت سے پہلی بار بیٹا مانگا لیکن بیٹی ہوئی تو پھر بھی خوش تھی لیکن بیٹے کی تڑپ پھر بھی تھی۔پھر ساڑھے چار سال بعد اللہ نے جب دوسری بھی بیٹی دے دی تو اللہ رب العزت کی طرف یہ رحمت بھی بہت اچھی لگی لیکن زچ ہے کہ
    بیٹے کی خواہش مزید بڑھ گئی تھی ۔ پھر شادی کے سات سال بعد اللہ نے بیٹے کی نعمت دی تو خوشی سے اپنی تکلیف بھول چکی تھی ۔اور جی چاہتا تھا وارڈ سے باہر بھاگ جاؤں اور ساری دنیا کو خوش خبری سناؤں کہ اللہ رب العزت نے بیٹا دیا ہے ۔
    ۔اور اگر بیٹے کے انتظار میں چودہ سال گزر جائیں تو سوچیں پھر ماں باپ کی تڑپ کہاں پہنچ جائے گی؟
    جی ہاں قصور کے رہائشی عبدالرحمن کے ہاں پہلی اولاد ایک بیٹی کے چودہ سال بعد اللہ رب العزت نے بیٹے کی نعمت سے نوازا تو اس ماں کی خوشی کا اندازہ لگائیے؟
    اس ماں نے آنکھوں میں کتنے سپنے سجا لیے ہوں گے ؟
    کیا کیا سوچا ہو گا؟
    کس طرح یہ خوشی منانی؟
    کیسے کیسے کپڑے پہناوں گی ؟
    کیسے شوز ہوں گے ؟ اس نے تو خیالوں میں کتنی بار سکول بھی بھیجا ہو گا۔
    دل خوشی سے قابو میں ہی نہ آتا ہوگا ۔
    کہ اچانک اس کے سپنے توڑ دئیے گئے اس کی خوشی لوٹ لی گئی اور اسے غم کے اندھیروں میں دھکیل دیا گیا ۔
    جی ہاں قارئین! 30 اگست 2019 کو ملنے والی یہ خوشی 31 اگست 2019 کو اس وقت غم میں تبدیل ہو گئی جب بچے کو اس کی خالہ نے اٹھایا ہوا تھا کہ ایک ظالم عورت اس کے پاس آئی اور اس سے پوچھا کیا بچے کو پولیو کے قطرے پلادئیے ؟
    بچے کی خالہ نے جواب دیا "نہیں ” ۔
    اس پہ اس عورت نے کہا چلو لگواتے ہیں اور ڈی ایچ کیو ہسپتال کی وارڈ نمبر 24 کے پاس لے گئی اور وہاں اسے ایک پرچہ تھمائی اور کہا کہ یہ دوائی لے کر آؤ میں اسے اتنے میں انجیکشن لگواتی ہوں۔
    بچے کی خالہ جب دوائی لے کر واپس آئی تو وہ عورت وہاں سے غائب تھی ۔
    بچے کی خالہ کے اوسان خطا ہوگئے اور اسے ڈھونڈنے لگی لیکن وہ عورت وہاں سے غائب ہو چکی تھی۔
    سوچیں اس ماں کی کیفیت کا اندازہ لگانا بھی محال ہے ۔
    اس کے اوپر جو غم کا پہاڑ ٹوٹا ہے کیسے جیتی ہوگی ٹوٹے خوابوں، کرچی دل ،ہر سانس غم میں ڈوبی وہ ماں۔
    ماں بچوں کے لیے دنیا کا سب سے زیادہ چاہنے والا رشتہ جو بچے کی ذرا سی تکلیف پہ تڑپ جاتی ہے اگر اس کا بچہ اللہ لے جائے تب بھی اس کی تکلیف ساری دنیا کے دکھوں سے بڑھ کر ہوتی ہے اور اگر خدانخواستہ گم ہوجائے یا اغواء تو پھر ایک ایک لمحہ سولی پہ گزرتا ہے۔
    ایک ویڈیو میں اسے تڑپتا ہوا سنا بھی جا سکتا ہے جب وہ روتے ہوئے کہتی ہے "جانے کس حال میں ہوگا میرا بچہ”۔تو کبھی وہ حکومت سے اپنے بچے کی بازیابی کے لیے فریاد کرتی نظر آتی ہے ۔
    بچہ اغواء کرنے والی عورت سی سی ٹی وی کیمرہ کی مدد سے پکڑی بھی جا چکی ہے لیکن وہ اصل حقیقت نہیں بتا رہی ۔
    وہ کبھی کہتی ہے کہ بچے کو نالے میں پھینک دیا تھا تو کبھی کہتی ہے بیچ دیا تھا ۔
    لیکن نالے میں پھینکے جانے والا بیان اس لیے بھی غلط ہے کہ سنا ہے نالہ ان دنوں خشک تھا دوسرا اس عورت کو یہ لوگ جانتے ہی نہیں تو جب جانتے نہیں پھر دشمنی کا بھی کوئی امکان نہیں، جب دشمنی نہیں تو بچے کو نالے میں پھینکنے کا ایک اجنبی عورت کا کوئی جواز نہیں بنتا ۔
    البتہ بچے کس بیچنے والی بات قابل یقین ہے ۔
    ایسا ہی لگتا ہے کہ کسی بے اولاد جوڑے نے یا عورت نے اس سے بچے کی ڈیمانڈ کی ہوگی ۔
    یا یو سکتا ہے اس عورت کا تعلق بچوں کو آگے سیل کرنے والے کسی گروہ سے ہو ۔
    بہرحال حقیقت جو بھی ہو پولیس جو بڑے بڑے بدمعاشوں اور مجرموں سے سب اگلوا سکتی ہے تو ایک عورت سے آخر سچ اگلوانے میں ناکام کیوں؟
    کیا اس عورت کے ہاتھ قانون کے ہاتھ سے لمبے ہیں؟
    یا پھر قصہ کچھ اور ہے ۔
    جو بھی ہے ایک غریب خاندان ہونا بھی شاید جرم ہے جو پاکستان کے تھانوں میں اس ماں باپ کے لہولہان دل کو کوئی سکون پہنچانے کی کوشش نہیں ،کسی مسیحائی کی کوئی امید نہیں۔
    ہمارا حکومت پاکستان سے بھی مطالبہ ہے کہ اس غریب ماں باپ کے جگر کے ٹکڑے کو فورا بازیاب کروایا جائے اور تڑپتی مامتا کے دل کا قرار لوٹایا جائے ۔
    اگر پولیس مجرم ملنے کے باوجود چھ ماہ سے بچے کو بازیاب نہیں کروا سکی تو تھانہ ایس ایچ کو معطل کیا جائے۔
    اور حقائق سامنے لائے جائیں۔
    آخر میں ہماری دعا ہے اللہ رب العزت ان ماں باپ کی مدد فرمائے اور ان کا بچہ ان کا سکون انھیں واپس لوٹا دے ۔آمین یا رب العالمین

  • قصور سابق ضلعی ناظم ملک عمران سلیم نول کی سابق وزیر خارجہ سردار آصف احمد علی سے ملاقات

    قصور سابق ضلعی ناظم ملک عمران سلیم نول کی سابق وزیر خارجہ سردار آصف احمد علی سے ملاقات

    قصور سابق ضلعی ناظم ملک عمران سلیم نول کی سابق وزیر خارجہ سردار آصف احمد علی سے ملاقات حلقہ بندی قومی اسمبلی بلدیاتی انتخابات پر مشاورت تحصیل چیرمین کے لیے متفقہ امیدوار سردار نادر فاروق احمد پر متفق اس موقع پر سابق وزیر خارجہ سردار آصف احمد علی نے بتایا کہ ہم آیندہ تمام دوستوں کے ساتھ ملکر بلدیاتی الیکشن میں پورے ضلع میں کلین سویپ اور عوام کی بھر پور خدمت کریں گے جیسا کہ ماضی میں کرتے رہیں ہیں

  • انتہائی قدیم چوک میں ٹریفک کا رش

    انتہائی قدیم چوک میں ٹریفک کا رش

    قصور
    انتہائی قدیم چوک نور مسجد میں چار اطراف راستہ ہونے کے باوجود کوئی ٹریفک اہلکار تعینات نہیں جس کے باعث آئے روز حادثات ہوتے رہتے ہیں
    تفصیلات کے مطابق قصور شہر کے انتہائی قدیم چوک نور مسجد چوک میں چار اطراف سے راستہ ہے شہباز خان روڈ، ختم نبوت چوک،بلدیہ چوک اور اڈہ کھیم کرن روڈ سے گزرنے والی ٹریفک اسی چوک سے آمنے سامنے سے گزرتی ہے جس کے باعث ہر وقت رش رہتا ہے اور اس رش کے باعث آئے روز حادثات ہوتے رہتے ہیں تاہم افسوس کی بات ہے کہ سٹی ٹریفک پولیس کی جانب سے اس چوک کی ٹریفک کو کنٹرول کرنے کیلئے کوئی ٹریفک اہلکار تعینات نہیں کیا گیا
    شہریوں نے ڈی پی او قصور اور ڈی سی قصور سے نوٹس لے کر ٹریفک اہلکار تعینات کرنے کی درخواست کی ہے

  • قصور میں قلم چھوڑ ہڑتال جاری

    قصور میں قلم چھوڑ ہڑتال جاری

    قصور
    اسسٹنٹ کمشنر ساہیوال کو مقامی جج کی طرف سے عدالت میں ہتھکڑی لگانے کے باعث قصور میں بھی ہڑتال جاری ڈسٹرکٹ کورٹس میں رونق مانند
    تفصیلات کے مطابق چند دن قبل اسسٹنٹ کمشنر ساہیوال کو مقامی جج کی طرف سے عدالت میں ہتھکڑی لگوائے جانے کے واقعہ کے خلاف قصور میں بھی انتظامی افسران کی قلم چھوڑ ہڑتال جاری ہے جس میں افسران کی ہڑتال اور بار ایسوسی ایشن کی بھی ہڑتال رہی ریکارڈ اراضی سنٹر قصور کی جانب سے بھی ہڑتال ہے جس کے باعث ڈسٹرکٹ کورٹس قصور میں آئے ہوئے سائلین کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ کم آمد و رفت کے باعث ڈسٹرکٹ کورٹس میں ویرانی چھائی ہوئی ہے

  • سورج نا نکلے چار دن ہو گئے

    سورج نا نکلے چار دن ہو گئے

    قصور میں سورج غروب ہوئے اور بادلوں کے راج کیساتھ آج چوتھا دن،سردی میں اضافہ،مذید چند دن ہلکے بادل رہنے کا امکان
    تفصیلات کے مطابق قصور اور گردونواح میں گزشتہ جمعہ والے دن ہونے والی بارش و ہلکی زالہ باری سے سردی میں کافی اضافہ ہو گیا ہے اور آج بادلوں کا راج بنے چار دن ہو گئے ہیں باخبر کسان ذرائع کے مطابق قصور میں اگلے چند دنوں تک ہلکے بادل رہینگے جس سے سردی کی شدت میں مذید اضافہ ہو گا

  • دس ماہ سے سڑک کی مرمت کا کام تاحال جاری

    دس ماہ سے سڑک کی مرمت کا کام تاحال جاری

    قصور
    نول سٹاپ پر سڑک کی مرمت کیلئے کئی دنوں سے کی گئی کھڈائی لوگوں کیلئے وبال جان
    لوگوں کا کہنا ہے جس رفتار سے کام ہو رہا ہے دس سالوں تک ہی گورنمنٹ اس کام کو نبٹا پائے گی
    تفصیلات کے مطابق قصور رائیونڈ روڈ پر واقع موضع نول میں کئی دن قبل سڑک کی مرمت کیلئے ایک سائیڈ کو اکھاڑ کر مٹی و پرانا پتھر نکالا گیا تھا جسے چند دنوں بعد دوبارہ پھر اسی مٹی و پتھر سے بھر دیا گیا تاہم کچھ گڑھے ابھی میں موجود ہیں جن میں پتھر نہیں ڈالا گیا جو بارش می برولت پانی سے بھر گئے ہیں جن کے باعث لوگوں کا گزرنا محال ہو چکا ہے لوگ بمشکل گزر پاتے ہیں لوگوں کا کہنا ہے کہ جس رفتار سے کام جاری ہے لگتا ہے کہ گورنمنٹ نے دس سالوں میں اس کام کو نبٹانے کا تہیہ کر رکھا ہے
    واضع رہے رواں برس فروری میں اس سڑک کی مرمت کیلئے فنڈ جاری ہوا تھا مگر اب تک سڑک پر مین اڈوں کو چھوڑ کر جو سڑک پر جو گڑھے پر کئے گئے تھے وہ دوبارہ گڑھے بن گئے ہیں اور گورنمنٹ کی طرف سے 10 ماہ سے آہستہ آہستہ کام کا سلسہ جاری ہے جس کے باعث موسم برسات میں یہ سڑک بارش کے پانی سے بھر جاتی ہے اور لوگوں کا گزرنا محال ہو جاتا ہے حتی لوگ اپنے پیاروں کے جنازے کو بھی کندھا دینے سے قاصر ہیں اور ٹرالیوں پر جنازے لے کر جانے پر مجبور ہیں
    لوگوں نے وزیراعلی،کمشنر لاہور ڈویژن سے نوٹس لے کر سڑک کی جلد سے جلد مرمت کا مطالبہ کیا ہے

  • ب فارم کیلئے دفتروں میں رش،موبائل وینیں چوہدریوں کے علاقوں میں

    ب فارم کیلئے دفتروں میں رش،موبائل وینیں چوہدریوں کے علاقوں میں

    قصور
    نادرا آفس میں ب فارم کے حصول کے لئے لمبی لائنیں، لوگوں کا کہنا ہے کہ گاؤں دیہات کی سطح پر موبائل وین بھیج کر لوگوں کو ب فارم بنوانے کی سہولت دی جائے تاکہ غریب مزدور بنا چھٹی کئے اپنی دیہاڑی لگائے اور گھروں میں موجود عورتیں ب فارم اپنے گاؤں میں ہی حاصل کر سکیں
    نادرا موبائل وینیں چوہدریوں کے کہنے پر ان کے من پسند علاقوں میں بیجھی جاتی ہیں
    تفصیلات کے مطابق گورنمنٹ کی جانب سے سرکاری سکولوں میں پڑھنے والے بچوں کیلئے ب فارم جمع کروانا لازمی قرار دیا گیا ہے جس کی صورت میں ان پڑھنے والے طالب علم بچے بچیوں کو وظیفہ ملے گا جس سے پڑھائی کے نظام میں بہت زیادہ بہتری آئے گی اس لئے نادرا آفس قصور میں لوگوں کی لمبی لمبی لائنیں قبل از ٹائم ہی لگ جاتی ہیں جس سے عام دنوں کی بدولت نادرا دفتر میں چار گنا رش بڑھ گیا ہے اس بابت لوگوں کا کہنا ہے کہ ہمیں اپنے گاؤں دیہات کی سطح پر موبائل وین بھیج کر ب فارم حاصل کرنے کی سہولت دی جائے تاکہ ہم دیہاڑی دار مرد اپنی دیہاڑی لگا سکیں اور گھر میں موجود عورتیں سارے کوائف کیساتھ نادرا موبائل وین سے بچوں کا ب فارم بنوا سکیں
    لوگوں کا کہنا ہے کہ نادرا موبائل وین چوہدریوں کے کہنے پر ہی علاقوں میں بھیجی جاتی ہیں جو کہ غلط ہے ایسا نہیں ہونا چاہیے بلکہ نمبر واضع دیہات میں میرٹ پر وین کو بھیجا جائے

  • پنجاب ایجوکیٹرز ایسوسی ایشن آف ویمن کا اجلاس

    پنجاب ایجوکیٹرز ایسوسی ایشن آف ویمن کا اجلاس

    قصور
    پنجاب ایجوکیٹرز ایسوسی ایشن کا اجلاس
    تفصیلات کے مطابق پنجاب ایجوکیٹرز ایسوسی ایشن ضلع قصور کے زیر اہتمام خواتین ایجوکیٹرز اساتذہ کا اہم اجلاس گورنمنٹ ایم سی پرائمری سکول دھوڑ کوٹ قصور میں صدر غلام مصطفٰی تبسم کی سربراہی میں منعقد ہوا اجلاس میں خواتین ایجوکیٹرز رہنماوں میں رمضانہ رحمت ، بشری شہزادی ،رابعہ عبدالجبار، عاصمہ خلیل، مبین انجم ، ثروت گیلانی، گورنمنٹ AEO اور SSE کو جلدازجلد ریگولر کرے اور عدالت کے پے اینڈ سروس پروٹیکشن کے فیصلے پر عمل درآمد کرے
    کیونکہ یہ اساتذہ کا حق ہے خواتین ایجوکیٹرز نے کہا کہ محکمہ تعلیم پنجاب میں ایجوکیٹرز نے تعیلمی انقلاب برپا کررہا ہے ایجوکیٹرز محکمہ تعیلم کا فخر ہیں لیکن گورنمنٹ کا اساتذہ کو پے پروٹیکشن اور سروس پروٹیکشن کو عدالتی فیصلے کے باوجود محروم رکھنا افسوس کی بات ہے ۔ نائب صدر پنجاب ایجوکیٹرز ایسوسی ایشن ضلع قصور کے نائب صدر محمد احمد رضا نےخواتین اساتذہ کو ان کے مسائل حل کروانے کی اور ہر طرح کی مدد کی یقین ربانی کروائی کہ ان کے مسائل اعلٰی احکام سے ترجمیی بنیادوں پر حل کروانے کی کوشش کی جائے گی

  • دارالاسلام ویلفیئر سوسائٹی الہ آباد کا اعلان

    دارالاسلام ویلفیئر سوسائٹی الہ آباد کا اعلان

    قصور
    الہ آباد میں آج جمعہ کی نماز کےفوری بعد دارالاسلام ویلفیئر سوسائٹی کے زیر اہتمام جامع مسجد قدس چوک الہ آباد میں فری بلڈ گروپ کیمپ کا انعقاد کیا جائے گا
    تفصیلات کے مطابق آج نماز جمعہ کی ادائیگی کے فوری بعد دارالاسلام ویلفیئر سوسائٹی الہ آباد کے زیر اہتمام مسجد قدس میں ایک فری بلڈ کیمپ کا انعقاد کیا جائے گا جس میں نوجوان کے بلڈ گروپ کی کراس میچنگ کی جائے گی اور ریکارڈ محفوظ کیا جائے گا
    دارالاسلام ویلفیئر سوسائٹی کے صدر قاری یسین عابد نائب صدر چوہدری ہشام اللہ اور انچارج بلڈ ڈونیشن حافظ بلال نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ دکھی انسانیت کی خدمت کیلئے زیادہ سے زیادہ بلڈ ڈونیٹ کریں تاکہ کسی کی جان بچائی جا سکے نیز جنہوں نے پہلے کراس میچنک کروا کر اپنا بلڈ گروپ معلوم نہیں کیا وہ آج ہم سے اپنی کراس میچنگ کروا کر اپنا بلڈ گروپ معلوم کرکے خون عطیہ کریں اور انسانیت کے کام آئیں واضع رہے کنگن پور اور گردونواح میں 43 سے زائد تھیلیسیمیا کے مریض بچے ہیں جنہیں دارالاسلام ویلفیئر سوسائٹی الہ آباد بھی بلڈ ڈونیٹ کرتی ہے اب تک الہ آباد میں اس سوسائٹی کی طرف سے سینکڑوں لوگوں کو بلڈ ڈونیٹ کیا جا چکا ہے مذید لوگوں کے فلاحی کام بھی یہی سوسائٹی کرتی ہے