Baaghi TV

Tag: قمر جاوید باجوہ

  • رواں برس انتخابات ہوتے نظر نہیں آرہے،شہزاد اکبر

    رواں برس انتخابات ہوتے نظر نہیں آرہے،شہزاد اکبر

    لندن: سابق مشیر احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہےکہ مجھے پہلے ہی معلوم ہو گیا تھا کہ ہماری حکومت کا تختہ الٹ دیا جائے گا-

    باغی ٹی وی : نجی اخبارجنگ میں شائع رپورٹ کے مطابق لندن میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے شہزاد اکبر نے کہا کہ نواز شریف اچھے آدمی ہیں، جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ ہمارے خلاف تھے اور وہ تباہی کے ذمہ دار ہیں، ملک کی موجودہ حالت کے ذمہ دار قمر جاوید باجوہ ہیں شہباز شریف کو وزارت عظمیٰ کا چسکا لگ گیا ہے-

    شہزاد اکبر نے کہا کہ مجھے پہلے ہی معلوم ہو گیا تھا کہ ہماری حکومت کا تختہ الٹ دیا جائے گا،کابینہ نے کاغذات دیکھنے کی زحمت ہی نہیں کی، فیصل واوڈا کو ٹافی دی اس نے کہا انکل دستخط کہاں کرنے ہیں مجھے رواں برس انتخابات ہوتے نظر نہیں آرہے، پی ٹی آئی حکومت میں میرے پاس ایگزیکٹو اختیار نہیں تھا۔

    بھارت نے پانی چھوڑ دیا،درجنوں دیہات زیرآب

    واضح رہےکہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں شہزاد اکبر عمران خان کے مشیر برائے احتساب تھے جب کہ انہیں ایسٹ ریکوری یونٹ کا سربراہ بھی بنایا گیا تھا تاہم حکومت کے آخری دنوں میں عمران خان نے شہزاد اکبر کو ذمہ داریوں سے ہٹادیا تھا۔

    تحریک انصاف کے دور حکومت میں معاون خصوصی مقرر ہونے سے قبل شہزاد اکبر قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملوں کے خلاف مختلف عدالتوں میں دائر کی جانے والی درخواستوں کی پیروی کرتے تھےانہوں نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں نیب میں بطور معاون بھی کام کیا تھا۔

    اسٹاک ہوم میں مقامی مسجد کےسامنے ہزاروں افرادکا قرآن پاک ہاتھوں میں اٹھاکر احتجاج

  • 90 روز میں الیکشن نہ ہوئے تو ہم سڑکوں پر ہوں گے،عمران خان

    90 روز میں الیکشن نہ ہوئے تو ہم سڑکوں پر ہوں گے،عمران خان

    لاہور: چیئرمین پی ٹی آئی اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ 90 روز کے اندر الیکشن نہ کروائے گئے تو ملک میں آئین نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہے گی جب کہ ہم سڑکوں پر ہوں گے۔

    باغی ٹی وی : سابق وزیر اعظم عمران خان نے لاہور زمان پارک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنرل ریٹائرڈ قمر جاوید باجوہ ہندوستان سے دوستی چاہتے تھےاس لیے معاملات خراب ہوئےجنرل باجوہ کےخلاف احتساب فوج کے اندر سے ہونا چاہیے-

    عمران خان نے پیمرا کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کر دی

    انہوں نے کہا کہ صدرعارف علوی ہمارے اوراسٹیبلیشمنٹ کےدرمیان کسی قسم کا کردار ادا نہیں کر رہے،شاہ محمود اور پرویز الٰہی کو دوسری جماعتوں سے رابطہ بحال کرنے کا ٹاسک دے دیا ہے، پارٹی کے کسی بھی رکن کے دیگر جماعتوں اور سیاسی شخصیات سے ملنے پر کوئی پابندی نہیں۔

    وفاق نےقاضی فائز عیسیٰ کیخلاف دائردرخواست واپس لینےکیلئےمتفرق درخواست دائرکردی

    عمران خان نے کہا کہ عمران خان کا کہنا تھا کہ میڈیا پر ہمارا مکمل بلیک آوٹ کیا گیا سوشل میڈیا کو بھی کنٹرول کرنے کی کوشش کی جارہی ہے نگراں وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی اور آئی جی پنجاب جرائم پیشہ افراد ہیں، میری غیر موجودگی میں میرے گھر پر حملہ کیا گیا ان کے خلاف عدالت میں کیس درج کروانے جا رہا ہوں نگران حکومت کو نیوٹرل کا کردار ادا کرنا چاہیے تھا جو وہ نہیں کر رہے۔

    چیف جسٹس سمیت تینوں ججوں کے خلاف ریفرنس زیر غور ہے،وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ

    عمران خان نے کہا کہ سپریم کورٹ نے پہلے سوموٹو کے ذریعے اسمبلی بحال کی تو اس وقت سو موٹو ٹھیک تھا، اب سپریم کورٹ نے الیکشن کے لیے سو موٹو لیا تو یہ لوگ سپریم کورٹ کے پیچھے پڑ گئے ہیں، کس قانون کے تحت توڑی گئی پنجاب اور کے پی اسمبلیاں بحال ہو سکتی ہیں۔

    مہنگائی میں مزید اضافے کا عندیہ

  • جنرل (ر ) باجوہ یا  فیض حمید سے متعلق کوئی بات نہیں کی،سابق چیف جسٹس ثاقب نثار

    جنرل (ر ) باجوہ یا فیض حمید سے متعلق کوئی بات نہیں کی،سابق چیف جسٹس ثاقب نثار

    سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی جانب سے جنرل (ر ) باجوہ یا جنرل فیض سے متعلق کسی بھی گفتگوکی تردید کر دی-

    باغی ٹی وی : سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے اس حوالے سے جاری بیان میں کہا کہ جنرل (ر ) باجوہ یا فیض سے متعلق گزشتہ روز کوئی بات نہیں کی،جو صاحب بیان مجھ سے منسوب کر رہے ہیں وہ باز رہیں،میں نے اتنا کہا تھا کہ میں بے خوف آدمی ہوں-

    عمران خان کو مکمل طور پر صادق اور امین قرار نہیں دیا تھا،سابق چیف جسٹس ثاقب نثار

    سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ صحافی نے بار بار پوچھا کہ کہا کہ کسی کے پریشر میں کیا،میں نے کہا میں کسی کا پریشر نہیں لیتا بلا خوف خطر فیصلے کرتا تھا،میں نے رکاوٹوں کوختم کرنے سے متعلق پاکستان میں احکامات دئیے تھے،اسلام آباد میں بڑے گھر والوں کے دفاتر کے پاس رکاوٹیں ختم کروائی تھیں-

    ثاقب نثار نے کہا کہ اس وقت جنرل فیض سربراہ تھے مجھ سے درخواست کرنےآئے تھےمیں نے واضح کہا تھا کہ پاکستان کے کسی حصے کو نوگو ایریا نہیں بننے دوں گا، اسلام آباد میں بھی راستہ کلیئر کروایا تھا،بڑے گھر والوں نے 10 یوم کی مہلت مانگی تھی، میں نے کسی کے دباؤ میں آکر فیصلے نہیں کیے،قانون کے آگے سب کو سرنگوں کیا، قانون کی عملداری کو یقینی بنایا-

    سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی عمران خان سے ملاقات

    واضح رہے کہ نجی خبررساں ادارے کے پروگرام میں دو صحافیوں نے ثاقب نثار کی تضاد گفتگو کے بارے بات کی تھی، اینکرپرسن عادل شاہزیب نے کہا کہ انہیں چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ میرا عمران خان سے کوئی رابطہ نہیں ہے لیکن سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل (ر) فیض حمید سے رابطے کی تصدیق کی۔

    بعد ازاں صحافی زاہد گشکوری سے بات کرتے ہوئے انہوں نے تصدیق کی کہ ان کی عمران خان سے بھی بات ہو چکی ہے، عمران خان نے اپنے خلاف عدالتی کیسز میں مدد کیلئے ان سے رابطہ کیا تھا۔

    دریں اثنا نجی ٹی وی کے سینئر صحافی سے گفتگو کرتے ہوئے جسٹس (ر) ثاقب نثار نے کہا تھا کہ جو شخص آج عدالتوں پر حملہ آور ہے وہ کبھی عدالتوں کا پسندیدہ رہا ہے، صرف ایک مقدمے کے علاوہ اسے ہمیشہ عدالتوں سے ریلیف ہی ملتا رہا ہے۔

    کوئٹہ میں دھماکا،6 افراد جاں بحق

  • جنرل قمر جاوید باجوہ کی 6 سالہ کارکردگی،پاکستان کا سنہرا باب

    جنرل قمر جاوید باجوہ کی 6 سالہ کارکردگی،پاکستان کا سنہرا باب

    جو قوم اپنے محافظوں کو بھلا دیتی ہے وہ خود بھی بھلا دی جاتی ہے۔کیونکہ ہم جس دنیا میں رہتے ہیں وہاں ممالک کی سرحدیں دیواروں کی حیثت رکھتی ہیں اور ان کی حفاظت سپاہی اور بندوقیں کرتی ہیں۔ بےپناہ چیلنجز، مشرق اور مغرب سے دشمن کی یلغار، ملک کے اندرہائیبرڈ وار کی للکار، مہنگائی کے مارے غریبوں کی پکار، گرتی معیشت، تاریخی بجٹ خسارہ، قدرتی آفتوں کی بھرمار۔ایسے میں دنیا کی ساتویں بڑی اور 9th most powerful فوج کے سپہ سالار اپنے دفاعی بجٹ میں سو ارب کمی کی پیش کش کر دے۔ یہ انتہائی حیرانی کی بات ہے کیونکہ اس فوج نے صرف سرحدوں کی حفاظت نہیں کرنی، بلکہ ہر اُس چیز سے لڑنا ہے جو ملک کی سالمیت کے لیے خطرہ ہو سکتی ہے۔
    چاہےگرتی معیشت ہو یا بگڑتی خارجہ پالیسی ۔
    شدید موسمی تغیرات ہوں یا اچانک قدرتی آفتیں۔
    چاہےتعلیم ، صحت ہو یا دہشت گردی
    پاک فوج نےہر میدان میں سول اداروں کے ساتھ کندے سے کندھا ملا کر اپنا کردار ادا کرنا ہے۔یہی نہیں بلکہ اس نےپوشیدہ امتحانات کو جھیلتے ہوئے مقدس مشن کی آبیاری بھی کرنی ہے، جو ایک کوہ گراہ ہی سرانجام دے سکتا ہے۔پاکستان کی فوج پر انیس سو ستر میں جی ڈی پی کا6.5% خرچ ہو رہا تھاا ور دوہزار اکیس ، بائیس میں جی ڈی پی کا2.54% جہاں پاکستان کی فوج کا بجٹ 8.8 billion doller ہے وہیں پاکستان کے ازلی دشمن بھارت اپنی فوج پر 76 billion doller خرچ کر رہا ہے۔sipri military data base کے مطابق جہاں بھارت ملٹری پر اخراجات کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہے تو وہیں پاکستان کا اخراجات کے حوالے سے چالیس ممالک کی لسٹ میں 23rd تیسواں نمبر ہے۔جہاں پاکستان کا دشمن اپنے فوجی پر سالانہ
    42000 $ خرچ کر رہا ہے وہیں پاکستان اپنے فوجی پر 12500 $ سالانہ خرچ کر کے اسی دشمن کےسامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنا ہوا ہے ۔

    ان حیران کن کامیابیوں کے پیچھے بلاشبہ فوجی قیادت کا اہم کردار ہے کیونکہ قیادت شاندار کارناموں کو اپنے سر کا تاج بنانےکا نام نہیں ہے۔بلکہ قیادت اپنی ٹیم کو ایک مقصد پر فوکس رکھنے اور اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے مسلسل ترغیب دینے کا نام ہے۔خاص طور پر ایسے حالات میں جب سازشوں کا جال ہر طرف بکھرا ہو ، اندرونی اور بیرونی دشمن ہر طرف سے داو پیچ کھیل رہا ہو۔ اور اس مقصد کے نتائج برائے راست ملکی سالمیت پر اثر انداز ہو رہے ہوں۔ وہ قیادت جو کامیابی کا سہرا اپنے سر سجانے کی بجائے پیچھے کھڑی دوسروں کو چمکنے کا موقع فراہم کر رہی ہو۔وہی حقیقی قیادت کہلانے کی حق دار ہوتی ہے اورقیادت کا یہ حق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے خوب ادا کیا۔ دفاعی بجٹ کو کم سے کم تک محدود رکھنے کے علاوہ، پاک فوج نے سال 2019 میں دفاعی بجٹ کی مختص رقم کو منجمد کرنے کا ایک بے مثال قدم بھی اٹھایا۔اس معمولی بجٹ میں پاک فوج نے نہ صرف پرانے روائیتی ہتھیاروں کو استعمال کے لیے برقرار رکھا بلکہ ناگزیرنئے روایتی ہتھیاروں کے نظام،سمولیٹرز،سائبر وارفیئر کی ص،لاحیتوں، میزائل اور جوہری ٹیکنالوجی میں جدیدترین پیش رفت کو بھی شامل کیا ۔دیگر مدمقابل افواج کے مقابلے میں کم ترین بجٹ ہونے کے باوجود پاک فوج نے اپنی معیاری صلاحیتوں پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا۔ اور یہ دنیا کی واحد فوج ہے جس نے دہشت گردی کو شکست دی۔

    کیا آپ کو پتا ہے کہ پاک فوج نے سال دوہزار بیس ، اکیس میں اٹھائیس ارب روپے ٹیکس کی مد میں حکومت کو دیا۔؟کیا آ پ کو پتا ہے کہ فوجی فاونڈیشن ایک کاروباری منصوبہ نہیں بلکہ ایک ویلفیئر ادارہ ہے جو اپنی انکم کا73%شہدا کی فیملی، جنگ کے نتیجے میں ہونے والے معزور اور زخمیوں اور ریٹائر فوجیوں پر خرچ کرتا ہے۔ اس میں کام کرنے والے
    17% لوگوں کا تعلق شہدا کی فیملیوں جبکہ83% سویلین سے ہے۔ فوجی فاونڈیشن نے سال دوہزار اکیس میں تقریبا ایک ارب روپے فلاحی کاموں پر خرچ کیئے۔ اگر یہ ادارہ خود فنڈ generate نہ کرے تو حکومت پر سالانہ دس ارب روپے کا مزید بوجھ بڑھ جائے۔کیا آپ کو پتا ہے کہ پاکستان میں سب سے زیادہ ٹیکس فوجی گروپ دیتا ہے جو سالانہ 150 ارب روپے بنتا ہے۔ اور گزشتہ پانچ سالوں میں ایک ٹریلین روپے حکومت کو ٹیکس دے چکا ہے۔کیا آپ کو پتا ہے کہ ملک بھر کے DHA’s
    میں صرف تیس سے پینتیس فیصد لوگ سابق فوجی ہیں باقی سب سویلین کام کرتے ہیں۔کیا آپ کو پتا ہے کہ آرمی ویلفیئر آرگنائزیشن سالانہ 156% ٹیکس دیتی ہے جو دفاعی بجٹ کا 26% بنتا ہے۔کیا آپ کو پتا ہے کہ پاک فوج نے جنرل باجوہ کی سربراہی میں حکومت کو GSP PLUS status برقرار رکھنے کے لیے ستائیس انٹرنیشنل کنوینشن کرنے میں مدد فراہم کی۔
    جنرل قمر جاوید باجوہ کی سربراہی میں فوج نے پاکستان کی قومی سلامتی کے نقطہ نظر کو ماحول، انسانی اور روایتی سلامتی کے ساتھ ہم آہنگی کے تعلقات کو استوار کرنے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر ترتیب دیا۔ قومی سلامتی کو ہی مدنظر رکھتے ہوئے پاک فوج نے Karkey Karadeniz Electrik Uterimتنازعات کا حل نکالا۔ سول اور فوجی قیادت پر مشتمل ایک کور کمیٹی نے ترکی، سوئٹزرلینڈ، لبنان، پاناما اور دبئی میں کرپشن کے شواہد کو بے نقاب کیا۔ یہ ثبوت کور کمیٹی کی جانب سے انٹرنیشنل سینٹر فار سیٹلمنٹ آف انویسٹمنٹ ڈسپیوٹس (ICSID) ٹریبونل کے سامنے پیش کیے گئے۔
    پاک فوج نے کارکے تنازعہ کو خوش اسلوبی سے حل کیا اور ICSID کی طرف سے عائد 1.2 billion doller جرمانہ بچایا۔ اگر تنازعہ طے نہ ہوتا اور پاکستان رقم ادا کر دیتا تو پاکستان کی جی ڈی پی تقریباً دو فیصد تک سکڑ جاتی اور پاکستان اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں میں کوتاہی کرتا۔

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی سربراہی میں Rekodiqمعاملہ فوج کی ان گنت کوششوں سے حل ہوا۔ اورپاکستان کو ریکوڈک کیس میں11 بلین ڈالر کے جرمانے سے بچایا گیا اور اس منصوبے کی تشکیل نو کی گئی جس کا مقصد بلوچستان میں اس جگہ سے سونے اور تانبے کے بڑے ذخائر کی کھدائی کرنا تھا۔ ریکوڈک معاہدہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی ذاتی کوششوں کا نتیجہ تھا کیونکہ انہوں نے تمام فریقین کو قومی اتفاق رائے کے لیے قائل کیا۔ اور تین سال کی انتھک محنت اور بات چیت کے مراحل سے گزر کر طے ہوا۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ریکوڈک ممکنہ طور پر دنیا کی سب سے بڑی سونے اور تانبے کی کان ہو گی۔ یہ پاکستان کو قرضوں سے نجات دلائے گا اور ترقی اور خوشحالی کے نئے دور کا آغاز کرے گا۔
    ریکوڈک وفاقی، صوبائی حکومتوں اور بلوچستان کے عوام کے لیے گیم چینجر ثابت ہوگا۔ ہر جنگ کا ایک ہیرو ہوتا ہے اور وہ ہیرو وہ ہوتا ہے جو چیلنجز کو قبول کرتا ہے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے چھ سالہ دور میں کئی چیلجز کو کھلے د ل سے قبول کیا۔اور بلاشبہ چاہے ایف اے ٹی ایف ہو یا ریکوڈک karkey disputesettalment ہو یا نیشل ایکشن پلان۔ ان محاذوں کے ہیرو جنرل قمر جاوید باجوہ ہی ہیں۔جنرل قمر جاوید باجوہ کی سربراہی میں جس طرح پاکستان کو FATF کی گرے لسٹ سے نکلانے کے لیے کام کیا گیا اس کا ذکر سنہرے حروف میں کیا جائے گا۔ دشمن کے بھرپور زور لگانے اور اپنا اثرورسوخ استعمال کرنے کے باوجود پاکستان کا ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکل جانا ایک بہت بڑا کارنامہ ہے۔اس کام کے لیے نہ صرف تیس سے زائد وزارتوں اور محکموں کے درمیاں کوآرڈینیشن بلکہ چودہ قوانین اور تیس سے زائد rules/regulations پاس کی گئی۔

    بات پاکستان کی معیشت کی ہو اور سی پیک کا ذکر نہ ہو یہ اچھنبے کی بات ہے۔ سی پیک نے پاکستان اور دنیا کی ابھرتی ہوئی طاقت چین کے تعلقات کو ناقابل تسخیر بنا دیا ہے۔ اوران مضبوط تعلقات کے لیے اہم کردار پاک فوج نے جنرل باجوہ کی قیادت میں ادا کیا ہے کیونکہ فوج کی جانب سے جس طرح CPECاور چینی حکام کو فراہم کردہ سیکیورٹی کو یقینی بنایا گیا تھا۔اس کے بغیر اس منصوبہ کا پایہ تکمیل تک پہنچا ممکن نہیں۔سی پیک منصوبہ پہلے دن سے ہی دشمن کی چھاتی پر مونگ دل رہا ہے اور وہ اسے سبوتاژ کرنے کے لیئے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔ سی پیک کے حوالے سے چین نے جنرل باجوہ کی خدمات کو کئی موقعوں پر سراہا۔وقت گواہ ہے کہ اگر اس پاک سرزمین نے لہو کا خراج مانگا تو وہاں افواج پاکستان کے جوانوں اور افسروں نے ہمیشہ سبقت لی۔

    چاہے امن ہو یا جنگ، ہنگامی حالات ہو یا آفت ،پاک فوج کے جانبازوں نے ملک کے وقار کو ہمیشہ بلند کیا۔پاک فوج قوم کے ماتھے کاجھومر ہے جو سیاچن گلیشیئرسے لے کر سندھ کے ریگزاروں تک، سوات آپریشن سے آپریشن ردالفساداورسمندروں تک ہر جگہ پاکستان کی بہادر افواج اپنے خون سے ہمت واستقلال کی داستان رقم کرتی ہے ،یہ نہ صرف سرحد پار دشمن کو منہ توڑ جواب دیتے ہیں بلکہ اس کے ایجنٹ دہشت گردوں کو کونوں کھدروں سے نکال کر جہنم واصل بھی کر تےہیں
    اس لیے تاریخ شاہد ہے کہ ہر مشکل وقت میں سیاسی قیادت اور عوام نے پاک فوج سے مدد لینے کو ہی اولین ترجیح قرار دیا ۔قوم کے بیٹے کبھی کراچی کی سڑکوں سے نکاسی آب کے لیے کوشاں نظر آتے ہیں تو کبھی پہاڑوں کی چوٹیوں پر مقیم ہم وطنوں کی داد رسی کے لیے پہنچتے ہیں ۔ چاہے مری میں پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالنا ہو یا سیلاب زدہ علاقوں سے۔
    لوگوں کو ریلیف مہیا کرنا ہو یا کرونا وائرس کے پھیلائو کو روکنے کے اقدامات ہوں ،اہم مواصلاتی شریانوں کو کھولنا ہو یا ٹڈی دَل کے فصلوں پر حملوں کا سدباب ہو پاک فوج نے انتہائی مربوط اور منظم انداز میں اپنا کردار نبھایا۔

    کرونا وائرس جب 2020ء میں پاکستان پہنچا تو وطن عزیز کے ڈاکٹرز، پیرامیڈیکل سٹاف کے ساتھ فوج نے ایک منظم ادارہ ہونے کا ثبوت دیا ، ضرورت مند ہم وطنوں کو ان کے دروازوں پر راشن فراہم کیا، چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی طرف سے ریلیف پیکجز دئیے گئے جس کی حقدار اقلیتیں بھی تھی۔آئسولیشن وارڈز کا قیام ہو یا لاک ڈاون پالیسی، ٹریک اینڈ تریس پالیسی ہو یا خوراک کی فراہمی کوئی بھی کام پاک فوج کے تعاون کے بغیر ممکن نہ تھا۔ابھی کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لئے اقدامات جاری تھے کہ ملک کے مختلف حصوں میں ٹڈی دَل کی آفت نمودار ہوئی جس سے ملک کی بہت سی فصلیں تباہ ہوئیں۔ قومی و صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز، ریسکیو اور دیگر اداروں کے ساتھ افواجِ پاکستان نے ملک کو اس آفت سے نکالنے میں ایک کلیدی کردار ادا کیا، اورتقریباً دس ہزار جوان و افسر تعینات کیئے گئے ۔ اور جنرل قمر جاوید باجوہ نے برائے راست اس آپریشن کا معائنہ کیا۔سیلاب آیا تو پاک فوج نے عوام کی مدد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔پاک فوج نے 83 نکاسی آب کے آلات، 20 کشتیوں اور دیگر ضروری مشینری اور سازوسامان کے ساتھ آپریشن کا آغاز کیا۔نہ صرف گنجان آباد علاقوں میں پھنسے41,482 افراد کو گاڑیوں اور کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات تک منتقل کیا بلکہ ضرورت مند لوگوں میں راشن کے 180120 پیکٹس بھی تقسیم کئے گئے،ملک بھر میں آرمی، نیوی اور فضائیہ کے ریلیف کیمپس قائم کیئے گئے جہاں پچاس ہزار سے زائد افراد کو ریلیف ملا۔ جبکہ 250 میڈیکل کیمپس میں آرمی ڈاکٹرز، نرسنگ اور پیرامیڈیکس سٹاف اب تک 83ہزار سے زائد مریضوں کو فری طبی امداد فراہم کرچکا ہے
    نہ صرف پاک فوج کی اعلی قیادت بلکہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پاکستان آرمی کی تمام فارمیشنز اور سینئر کمانڈرز موجود رہے اور امدادی کارروائیوں میں مصروفِ عمل رہے ، اور ہیلی کاپٹرز مسلسل متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائی کررہے تھے اور انہی کوششوں کے دوران پاک فوج کے لیفٹنٹ جنرل سرفراز سمیت سینئر فوجی افسران نے جام شہادت نوش فرمائی ۔

    پاکستان کو دنیا میں سب سے زیادہ آفات کے خطرے کی سطح کا سامنا ہے، جو 2020 کے انفارم رسک انڈیکس کے مطابق
    191 ممالک میں سے 18 ویں نمبر پر ہے،ماضی میں جتنے بھی لرزا دینے والے زلزلے اور سیلاب گزرے ان میں پاک فوج کے جوانوں کا کردار ناقابل فراموش رہا ، پاک فوج نے ہمیشہ منظم ادارہ ہونے کا ثبوت دیا ہے اور اندرونی یا بیرونی چیلنجز کے باوجود ہر صورتحال میں قوم کو مایوس نہیں ہونے دیا۔ یہی وہ ادارہ ہے جس نے نہ صرف حکومت کے ساتھ مل کر ہر آفت اور چیلنج سے نمٹنے کے لیے کام کیا بلکہ بطور ادارہ بھی لوگوں کو اس مشکل وقت سے نکالا، ابھی بھی فوجی قیادت ملک کو دیوالیہ ہونےسے بچانے کے لئے متحرک ہے، اور دوست ممالک میں اپنا اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے سیاسی قیادت کی مدد کر رہی ہےکسی بھی ملک کی کامیاب خارجہ پالیسی میں اس ملک کی فوجی طاقت اور معیشت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ جبکہ پاکستان کی فوج پاکستان کے لیے روح کی حیثیت رکھتی ہے۔ جو جسم سے نکل جائے تو پیچھے کچھ نہیں بچتا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں دفاعی تعلقات ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ چاہے چین ہو یا امریکہ، عرب ممالک ہوں یا یورپ۔ ہر ملک پاکستان سے خارجہ تعلقات استوار کرتے ہوئے ا سکی فوجی طاقت کو مدنظر رکھتا ہے، جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاک فوج کی اس طاقت کو بڑ ے اچھے طریقے سے ملک کے مفاد کے لیے استعمال کیا۔ اور سعودی عرب، چین، امریکہ، ترکی اور روس سے پاکستان کے لیے بے حد فواہد حاصل کیے۔ یہ جنرل باجوہ ہی تھے جنہوں نے چین اور سعودی عرب سے پاکستان کے قرضے ری شیڈول کروانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔پاکستان کے اندر کرکٹ ڈپلومیسی کی دوبارہ سے بنیاد رکھی ،بین الاقوامی تاثر کو تبدیل کرنے میں فوجی سفارت کاری بہت اہم تھی اور ملٹری ٹو ملٹری تعلقات نے پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی کی راہ ہموار کی۔ سری لنکا پہلا ملک تھا جس نے 2019
    کے آخر میں بین الاقوامی ٹیسٹ کرکٹ دوبارہ شروع کرنے کے لیے پاکستان کا دورہ کیااور آج پاکستان میں الحمد للہ انٹرنیشنل کرکٹ بحال ہو چکی ہے۔

    بھارت کی شدید ترین مخالفت کے باوجود کرتار پور کوریڈور کی کامیاب بنیاد رکھ کر ملک میں مذہبی سیاحت کو فروغ دیا۔ جس کے نتیجے میں سکھ برادری کے ساتھ بہتر تعلقات، پاکستان کو دوسرے مذاہب کے لیے محفوظ مقام کے طور پر پیش کرنے میں مدد ملی۔
    اور یہ سب کچھ اتنا آسان نہ تھا۔۔
    جنرل قمر جاوید باجوہ کی سرپرستی میں پاک فوج نے ملک میں محفوظ ماحول پیدا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے بے مثال قربانیاں دیں۔ اب تک پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اسی ہزار قربانیاں اور ایک سو پچاس بلین ڈالر کا نقصان اٹھا چکا ہے۔ اور ابھی بھی آپریشن رد الفساد کے دوران قربانیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ تاکہ دہشت گردوں کی باقیات اور چھپے ہوئے خطرات کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے۔آپریشن ردالفساد کے تحت فوج کے تعاون سےنیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد، سابقہ فاٹا کو مرکزی دھارے میں لانے اور انتہا پسندی پر قابو پانے میں اہم کردار ادا کرنا شامل ہے۔ کُل دو لاکھ بائیس ہزار آٹھ سو چھیتیسCombing operations کے دوران72,364ہتھیار برآمد ہوئے جبکہ 5.029 ملین گولہ بارود برآمد کیا گیا۔دوہزار ایک سے لے کر اب تک ان آپریشنز کے دوران فوج کے
    5460 اہلکار شہید جبکہ19070اہلکار زخمی ہو چکے ہیں۔، جبکہ دوہزار سترہ سے آپریشن رد الفساد کے دوران291
    اہلکار شہید اور647 اہلکار صرف بلوچستان میں زخمی ہو چکے ہیں جبکہ دوہزار نو سے اب تک 12914 دہشت گردون کو جہنم واصل کیا جا چکا ہے۔ قوم کے اعتماد اور مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت کے ذریعے ہی پاکستان نے دہشت گردی کی لعنت کو کامیابی سے شکست دی ہے۔ پاکستان کی داخلی سلامتی کو یقینی بناتے ہوئے۔غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے محفوظ ماحول پیدا کیا۔ بلاشبہ، ایک محفوظ ماحول سرمایہ کاروں کو اعتماد فراہم کرتا ہے اور سیاحت کی صنعت کو فروغ دیتا ہے۔ اور اسی مقصد کی تکمیل کے لیے پاکستان،پاک فوج کی کوششوں سے، 2,600 کلومیٹر طویل افغان سرحد پر باڑ لگانے کا کام تقریباً مکمل کر چکا ہے جس کا مقصد سرحد پار سے بے قابو نقل و حرکت کو روکنا ہے جس سے دہشت گردی اور اسمگلنگ دونوں کو ہوا ملتی ہے کیونکہ لوگوں کی حفاظت اولین ترجیح ہے۔ پاک فوج کے مغربی سرحد پر باڑ لگانے کا 94%
    کام مکمل ہو چکا ہے۔ ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا 5 جنوری 2022 کا بیان باڑ کے مقصد کی ترجمانی کرتا ہے۔ جس کے مطابق سیکیورٹی، بارڈر کراسنگ اور تجارت کو منظم کرنے کے لیے پاک افغان سرحد پر باڑ کی ضرورت ہے۔ اس کا مقصد لوگوں کو تقسیم کرنا نہیں بلکہ ان کی حفاظت کرنا ہے۔ یہی نہین بلکہ پاک فوج نے دوحہ معاہدے پر دستخط کرنے اور مغربی سرحد پر سیکورٹی بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے افغانستان میں امریکی انخلا کے بعد کے انتظام میں اہم کردار ادا کیا ۔اس کے علاوہ ایران کا دورہ کرنے والے زائرین کا تحفظ، لائن آف کنٹرول پر پوسٹوں کو محفوظ بنانا، کشمیر ایکشن پلان کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا، افغانستان سے انخلا کا عمل، اور بارڈر کراسنگ اور سمگلنگ میں کمی کے اہم کارنامے بھی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے دور میں سر انجام ہوئے۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے ملٹری ڈپلومیسی میں انتہائی اہم کردار ادا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد ممالک کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں نے ان ممالک کے ساتھ مجموعی تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے مزید قومی، اقتصادی اور سفارتی مقاصد کی راہ ہموار کی۔ کامیاب فوجی تربیت اور مشقوں کے نتیجے میں روس کے ساتھ تعلقات بھی بحال ہوئے۔ پاکستان نے اردن، نائجیریاں، سعودی عرب، چین، برطانیہ، بحرین، ترقی، ملائشیا، مراکش، سمیت متعد ممالک کے ساتھ ملٹری ڈپلومیسی کے تحت ایکسر سائزز میں حصہ لیا۔ جبکہ امریکہ، روس اور نیٹو کے ساتھ بھی بیشتر ایکسرسائزز میں حصہ لیا گیا۔پاکستان کو ایک پرامن اور کھیلوں سے محبت کرنے والی قوم کے طور پر متعارف کروانے کے لیے عالمی مقابلوں اور میگا ایونٹس کا انعقاد کروایا گیا جس میں ملک کا حقیقی چہرہ پیش کیا گیا۔

    جنرل قمر جاوید باجوہ نے نہ صرف فوج کی دفاعی ضروریات کو اولین ترجیح دی بلکہ دفاعی برآمدات پر بھی خصوصی توجہ دی۔ جہاں فوجی سفارت کاری نے پاکستان کے خارجہ تعلقات کو بحال کرنے میں اہم کردار ادا کیا وہیں اس نے قومی مقاصد کے حصول کے ساتھ ساتھ معاشی بہتری میں ریاستی اداروں کی تکمیل بھی کی ۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی اسلحے کی برآمدات میں تیزی سے اضافہ ظاہر ہوتا رہا ، جو کامیاب فوجی سفارت کاری کا نتیجہ ہے۔ ایم او ڈی پی MODP
    کے مطابق، پچھلے پانچ سالوں میں دفاعی برآمدات (تقریباً 60 ارب روپے) اور اندرون ملک فروخت (تقریباً 70 ارب روپے) میں بے مثال اضافہ ہوا۔ دوہزار انیس میں نائجیریا کو 184 ملین امریکی ڈالر میںJF-17 برآمد اور 33.33 ملین امریکی ڈالر مالیت کے عراق کو 12 ایکس مشاک کے معاہدے کو حتمی شکل دی گئی۔ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا نے بین الاقوامی مارکیٹ کی 1/3 one thirdقیمت پر مقامی طور پر تیار کردہ الخالد ٹینکوں کو تیار کرنے کا بیڑا اٹھایا۔برآمدات پیدا کرنے کے علاوہ،
    MoDP نے قومی خزانے میں سالانہ تقریباً 6 ارب روپے ٹیکس/ڈیوٹیز ادا کیں اور دفاعی پیداوار کے شعبے میں آٹھ ہزار ملازمتیں پیدا کیں۔ انتہائی سیاسی تقسیم رائے کی وجہ سے اگر ہم یہ کہیں کہ فاٹا کا خیبر پختون خواہ میں انضمام جنرل قمر جاوید باجوہ کی ذاتی کوششوں کے بغیر ممکن نہ تھا۔ تو غلط نہ ہو گا۔ اور اس کام پر نہ صرف فاٹا کے عمائدین بلکہ
    fata youth Jirga نے بھی جنرل قمر جاوید باجوہ کی خدمات کو خوب سراہا ۔ پاک فوج کی انتھک محنت اور سیکیورٹی کے بغیر یہ عمل مکمل ہونا ناممکنات میں سے تھے۔ پاک فوج نے نہ صرف یہاں اس عمل کو نافذ کرنے میں اہم کردار ادا کیا بلکہ گورننس، پولیس،قانون سازی، جوڈیشل کمپلیکسس،صحت اور تعلیم کے شعبہ میں بھی مرکزی کردار ادا کیا جس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ یہی نہیں بلکہ خیبر پختونخواہ کے newly merged Districts میں بارڈر فینسنگ، بارڈر ٹرمینلز،
    temperory displacemet persons میں اسی ارب کی تقسیم، 619 تعلیمی ادارے مکمل، پانچ کیڈٹ کالج مکمل اور269
    تعلیمی ادارے زیر تعمیر ہیں۔ 140صحت کے مراکز مکمل جبکہ ستر زیر تعمیر ہیں۔980 مکمل جبکہ کلو میٹر سڑکوں کی تعمیر360 کلومیٹر سڑکیں زیر تعمیر ہیں۔اربوں روپے کے سینکڑوں پراجیکٹس
    socio economic sectors
    developments works
    chief of army staff youth employment scheme
    re habilitation & construction
    کی صورت میں جاری ہیں اور بیشتر پایہ تکمیل تک پہچ چکے ہیں پاک فوج اس وقت بلوچستان میں امن وامان کی صورتحال کو بہتر کرنے کے ساتھ ساتھ معاشی اور معاشرتی خوشحالی پر بھی تاریخی کام کر رہی ہے۔ ا س مقصد کے لیے نہ صرف سینکڑوں سکول، ہسپتال فوج کی زیر نگرانی کام کر رہے ہیں جس میں چالیس ہزار بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں بلکہ گیارہ سو کلو میٹر لمباسڑکوں کا جال بچھانے میں بھی پاک فوج اہم کردار ادا کر رہی ہے۔جنرل قمر جاوید باجوہ کی سر پرستی میں پاک فوج نے
    badani
    chaman
    اور
    kech
    میں قائم کی ہیں۔ تاکہ وہاں پر معاشی سرگرمیاں پیدا کی جا سکیں۔لوگوں کی زندگیوں کو بہتر کیئے بغیر، انہیں روزگار فراہم کیئے بغیر کسی بھی علاقے میں امن ممکن نہیں اور جنرل قمر جاوید باجوہ نے اس سنہرے اصول کو اپنی پالیسی کا حصہ بناتے ہوئے جہاں انتشار پسندوں کا قلعہ قمع کیا وہیں معصوم لوگوں کو ان کے چنگل سے بچانے کے لیے معاشی سرگرمیاں بھی شروع کروائی۔ جس نے امن کے حصول میں اہم کردار ادا کیا۔پاک فوج کا یہ کمال ہے کہ ا س نے اپنے سے کئی گنا بڑے ملک بھارت کی فوج کو ہر لحاظ سے ٹکر دی ہے۔ اور دفاعی بجٹ کے پہاڑ جیسے فرق کو کبھی بھی اپنے عزم کے درمیاں حائل نہیں ہونے دیا۔ اور انتہائی ذہانت سے اپنے آپ کو ہر قسم کے چیلنچ کے لیے وقت سے پہلے تیار رکھا۔ اور بھارت کی تسلط پسندانہ سوچ کو اپنی حکمت عملی اور عزم سے ہمیشہ شکست دی۔پیشہ ور سنائپرز کی تربیت کے لیے آرمی سنائپر سکول کی منظوری دی گئی۔ حقیقت پسندانہ تربیت کو عملی جامہ پہنانے کے لیے آرمی سمیلیٹر رجیمsimulator regime
    کو فوج میں شامل کیا گیا VT-4 ٹینک کی شمولیت کی گئی جو ایک جدید ترین مشین ہے، جس کا موازنہ دنیا کے کسی بھی جدید ٹینک سے کیا جا سکتا ہےاسی طرح ملک کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے کے لیے
    HIMAD air defence system
    SH-15 Howitzer self propelled artillery system
    زمین اور سمندر پر اونچی پرواز کرنے والا
    CH-4 Male UAV
    J-10 C fighter aircraft
    اور
    Type 54 Frigates
    سمیت بیشتر جدید ترین ہتھیار شامل کیئے گئے۔فوج کی ٹرپل پلے سروسز (وائس، ویڈیو اور ڈیٹا) کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ایک محفوظ موبائل کمیونیکیشن سسٹم بنایا گیا ہے ۔ملکی خزانے پر بوجھ کم کرنے کے لیے خود انحصاری اور معاشی وسائل کے حصول کے لیے، پاک فوج دفاعی پیداوار کے مختلف شعبوں میں مقامی طور پر بھی کام کر رہی ہے۔
    جنرل قمر جاوید باجوہ نے وقت کی ضرورت کو سمجھتے ہوئے پاکستان کی معاشی شہہ رگ کراچی کے1.1 trillion
    کے transformation planکو آرمی کی مدد سے لانچ کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور کراچی میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر کرنے کے لیے خصوصی توجہ دی۔

    تعلیم کسی بھی قوم کے مستقبل کا تعین کرتی ہے، پاک فوج اس وقت ملک میں نہ صرف تعلیم کے فروغ کے لیے اہم کردار ادا کر رہی ہے بلکہ دور حاضر کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے جدید تعلیم کو بہترین طریقے سے متعارف کروا رہی ہے۔ اس وقت ملٹری تعلیمی اداروں سے759426طلبا ہائیر سکینڈری لیول جبکہ71411طلبا اعلی تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔ تعلیم کو ہر طبقے تک رسائی دینے کے لیے فوج اپنے زرائع سے سالانہ نہ صرف 831 million خرچ کر رہی ہے بلکہ دوہزار پانچ سے اب تک Army public school and education system تحت کے 81655 اساتذہ کو معیاری تعلیم دینے کے لیے ٹریننگ بھی دے چکی ہے۔ جبکہ وفاقی تعلیمی سیکٹر کی مدد کے ساتھ ساتھ فوج
    special education
    youth development
    technical & vocational trainingانٹر نیشنل معیار کے مطابق سمیت، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ہدایت پر
    Army public school for international Studies کا آغاز بھی کر چکی ہے۔جہاں تعلیم کے میدان میں فوج بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہے وہیں صحت کے شعبے میں بھی نمایاں خدمات سرانجام دی جا رہی ہیں، پاک فوج نے خاص طور پر دور دراز علاقوں (سندھ، کے پی کے، بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد جموں اینڈ کشمیر) میں مفت طبی کیمپوں کا قیام، قدرتی آفات کے دوران طبی امداد اور وفاقی اور صوبائی طبی انفراسٹرکچر میں قوم کی بے لوث خدمت کی ہے اور ان صوبوں میں میڈیکل کیمپوں کے زریعے ایک لاکھ چالیس ہزار سے زائد مریضوں کا اعلاج کیا جا چکا ہے۔

    افواج پاکستان نے بذریعہ عسکری سفارتکاری عالمی سیاست میں توازن قائم کیا،آرمی چیف

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے آرمی چیف کی تعیناتی پر دستخط کر دئیے

    بیرونی سازش ہو اور فوج خاموشی سے بیٹھی رہے، یہ گناہ کبیرہ ہے،آرمی چیف

    سینئرصحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے سابق وزیراعظم عمران خان کے حوالہ سے اہم انکشافات کئے ہیں

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے خلاف مذموم مہم پر آئی ایس پی آر کا اہم ردعمل سامنے آیا ہے

    جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے عہدے کے ساتھ انصاف کرتے ہوئے نہ صرف پاکستان کو بے شمار خطرات سے بچایا بلکہ دنیا کی ساتویں بڑی فوج کے سربراہ ہونے کا حق بھی خوب نبھایا۔ ان کی سربراہی میں پاک فوج نے لازوال کامیابیاں حاصل کی ، ایسے کام کیئے ایسے چیلجز سے نبٹاجو ان کی پیشہ وارانہ زندگی سے ہٹ کر تھے۔تاریخ گواہ ہے کہ جنرل باجوہ کے دور میں جس طرح پاکستان کے ہر گلی کوچے سے کشمیر کے ساتھ یکجہتی کی تحریک نے زور پکڑا اس کی مثال ماضی میں بہت کم ملتی ہے۔جنرل باجوہ نے ایک مقدس مشن کی آبیاری کرتے ہوئے افغانستان میں اپنے پتے اس خوبصورتی سے کھیلے کے دنیا کی سپر پاورکو پاکستان پر انحصار کے بغیر وہاں سے نکلنا محال ہو گیا اور دشمن پاکستان کے مفادات کو ضرب لگانے کی بجائے اپنے زخم چاٹتا رہ گیا۔جس طرح پاکستان کو عالمی تنہائی سے نکال کر پاکستان پر چھائے نحوست کے بادلوں کو مار بھگایا۔ جنرل باجوہ آپکے کارنامے پاک فوج میں مشعل راہ بن چکے ہیں۔ اور قوم کو آپ پر فخر ہے۔

    پاکستان زندہ باد
    پاک فوج
    پائندہ باد

     

  • آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی صدر مملکت، وزیراعظم سے الگ الگ ملاقات

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی صدر مملکت، وزیراعظم سے الگ الگ ملاقات

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی الوداعی ملاقاتیں جاری ہیں

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے صدر مملکت اور وزیراعظم سے الگ الگ الوداعی ملاقات کی ہے.صدر مملکت عارف علوی سے بھی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی الوداعی ملاقات ہوئی ہے ، صدر مملکت عارف علوی نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی بطور سپہ سالار خدمات کو سراہا اور انکے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا،

    بعد ازاں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ وزیراعظم ہاؤس پہنچے،وزیراعظم شہبازشریف سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے الوداعی ملاقات کی ہے وزیراعظم شہبازشریف نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے لیے نیک تمناوں کا اظہار کیا،وزیراعظم شہبازشریف کی جانب سے آرمی چیف کے اعزاز میں ظہرانے کا اہتمام کیا گیا،وزیر اعظم نے جنرل قمر جاوید باجوہ کی پاک آرمی، ملکی دفاع اور قومی مفادات کیلئے خدمات کو سراہا ،وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے تاریخ کے ایک مشکل مرحلے پر پاک آرمی کی قیادت کی،دفاع پاکستان کو ناقابل تسخیر بنانے میں جنرل قمر جاوید باجوہ نے کلیدی کردار ادا کیا ،وزیراعظم نے جیو اکنامکس کی اہمیت کے حوالے سے جنرل قمر جاوید باجوہ کے کردار کو سراہا ،آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سرکاری امور کی انجام دہی میں تعاون پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا ،آرمی چیف نے قومی امور کی انجام دہی میں بھرپور تعاون پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا.

    آرمی جنرل قمر جاوید باجوہ 29 نومبر کو ریٹائر ہورہے ہیں،انکی جگہ پاک فوج کی کمان جنرل عاصم منیر کریں گے، جنرل عاصم منیر کو آرمی چیف مقرر کر دیا گیا ہے،

    افواج پاکستان نے بذریعہ عسکری سفارتکاری عالمی سیاست میں توازن قائم کیا،آرمی چیف

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے آرمی چیف کی تعیناتی پر دستخط کر دئیے

    بیرونی سازش ہو اور فوج خاموشی سے بیٹھی رہے، یہ گناہ کبیرہ ہے،آرمی چیف

    سینئرصحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے سابق وزیراعظم عمران خان کے حوالہ سے اہم انکشافات کئے ہیں

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے خلاف مذموم مہم پر آئی ایس پی آر کا اہم ردعمل سامنے آیا ہے

  • آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اوربل گیٹس کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اوربل گیٹس کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ

    چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ اور بل ایند میلنڈا گیٹس فاونڈیشن کے شریک چیئرمین بل گیٹس کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا .

    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور بل گیٹس کے درمیان پاکستان میں صحت عامہ اور پاکستان سے پو لیو کے خاتمہ سے متعلق امور پر تبادل خیال کیا گیا.

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کا کہنا ہے کہ بل گیٹس نے پولیو مہم کے دوران پاک فوج کے تعاون کو سراہا ہے،آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے بل کیٹس اور ان کی فاونڈیشن کے اقدامات کی تعریف کی اور انہیں یقین دلایا کہ وہ پولیو فری پاکستان کیلئے اپنا تعاون جاری رکھیں گے.

  • آرمی چیف کا مدارس کے طلبہ سے ایسا سلوک وفاق المدارس شکریہ ادا کرنے پر مجبور ہوگیا

    آرمی چیف کا مدارس کے طلبہ سے ایسا سلوک وفاق المدارس شکریہ ادا کرنے پر مجبور ہوگیا

    اسلام آباد:پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ چیف آف آرمی اسٹاف کی طرف سے دینی مدارس کے طلبہ کی حوصلہ افزائ اور پذیرائ,ملک کے مختلف بورڈز میں میٹرک اور انٹرمیڈیٹ سطح پر پوزیشن حاصل کرنے والے وفاق المدارس کے 12 طلبہ و طالبات میں انعامات کی تقسیم,آرمی چیف کی جانب سے پوزیشن ہولڈر طلبہ و طالبات کے دینی مدارس اور وفاق المدارس کے ذمہ داران کو خراج تحسین,جنرل باجوہ دینی مدارس کے طلبہ کے ساتھ گھل مل گئے, مولانا محمد حنیف جالندھری کو بھی خصوصی شیلڈ دی گئ,رابطةالمدارس کا ایک طالبعلم بھی انعامات حاصل کرنے والوں میں شامل تھا,جنرل باجوہ کی طرف سے دینی مدارس کے طلبہ کو ملک و ملت کی بھرپور خدمت اور مثالی معاشرہ تشکیل دینے کے لیے کردار ادا کرنے کی ترغیب,مولانا محمد حنیف جالندھری نے آرمی چیف کا شکریہ ادا کیا تفصیلات کے مطابق دینی مدارس میں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم جاری رکھنے اور میٹرک و انٹرمیڈیٹ میں ملک کے مختلف سرکاری امتحانی بورڈز میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کے اعزاز میں جی ایچ کیو راولپنڈی میں تقریب منعقد ہوئ جس میں پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے وفاق المدارس کے 12 جبکہ رابطة المدارس کے ایک طالبعلم کی حوصلہ افزائ کرتے ہوئے ان میں انعامات اور شیلڈز تقسیم کیں-اس موقع پر وفاق المدارس کے ذمہ داران,متعلقہ مدارس کے منتظمین اور طلبہ و طالبات کے والدین بھی موجود تھے-آرمی چیف طے شدہ وقت سے دوگنا وقت تقریب میں موجود ریے-وہ طلبہ کے ساتھ گھل مل گئے اور بعض طلبہ سے فردا فردا مختلف سوالات بھی کیے-جنرل قمر جاوید باجوہ نے اس موقع پراتحاد تنظیمات مدارس,وفاق المدارس اور متعلقہ مدارس کے ذمہ داران کوخراج تحسین پیش کیا اور طلبہ و طالبات کو ملک و ملت کی خدمت کرنے اور مثالی معاشرے کے قیام کے لیے کردار ادا کرنے کی ترغیب دی-تقریب کے دوران مولانا محمد حنیف جالندھری کو بھی اعزازی شیلڈ دی گئ- مولانا جالندھری نے تقریب کے اختتام پر چیف آف آرمی اسٹاف کا شکریہ ادا کیا-یاد رہے کہ اس سال میٹرک کے نتائج کے مطابق ملتان بورڈ میں پانچ پوزیشنیں دینی مدارس کے طلبہ و طالبات نے حاصل کیں محمد اسد نعیم جامعہ اسلامیہ جدیدہ وہاڑی,محمد جواد دارالعلوم عیدگاہ کبیروالا خانیوال,حمزہ جامعہ حنفیہ بورے والا وہاڑی,عبدالرحمن اعجاز جامعہ خیر المدارس ملتان,حافظہ قراة العین مدرسہ اقراء الصدیقہ للبنات ملتان نے ملتان بورڈ میں بالترتیب پوزیشنیں حاصل کیں,جامعہ حنفیہ کنزالعلوم مظفر گڑھ کے محمد طلحہ نے ڈیرہ غازی خان بورڈ میں پہلی پوزیشن حاصل کی,مدرسہ ابوالقاسم صادق آباد رحیم یار خان کے محمد عمیر اور ابو ذر نے بہاولپور بورڈ میں دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کی,جامعہ اسلامیہ امدادیہ چنیوٹ کے محمد شاہ زیب نے فیصل آباد بورڈ میں تیسری پوزیشن حاصل کی,جامعہ عثمانیہ پشاور کے ادریس بختیار نے پشاور بورڈ میں پہلی پوزیشن حاصل کی,البدر اسلامک اسکول مدرسہ بیت العلم کراچی کی رابعہ اور طیبہ نے پہلی اور تیسری جبکہ اقراء روضة الاطفال کی عفراء نے کراچی بورڈ میں دوسری پوزیشن حاصل کی-