Baaghi TV

Tag: قندھار

  • افغانستان طالبان کےر وپوش سربراہ عید پر منظر عام پر آگئے

    قندھار: افغانستان میں بر سر اقتدار طالبان کےر وپوش سربراہ ہیبت اللہ اخوند زادہ عید پر ناصرف وہ عوام کے درمیان دکھائی دیے بلکہ قندھار میں نماز عید کی امامت بھی کی،تاہم، اس موقع پر بھی انہوں نے اپنا چہرہ دکھانے سے گریز کیا تھا اور عوام کی طرف پیٹھ کر کے ان سے خطاب کیا تھا۔

    باغی ٹی وی : خبر رساں ایجنسی ”اے ایف پی“ کے مطابق طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے عید الفطر کے موقع پر اس حوالے سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ایکس“ پر ایک بیان میں لکھا کہ ہیبت اللہ اخوند زادہ نے قندھار کی سب سے بڑی مسجد میں ہزاروں نمازیوں کی امامت کی اور نماز عید پڑھائی-

    اس سال افغانستان کی وزارت برائے مذہبی امور نے احکامات جاری کیے تھے کہ عید کے موقع پر ملک بھر میں مساجد کے آئمہ اخوند زادہ کا رمضان میں جاری کیا گیا ایک بیان عوام کو پڑھ کر سنائیں،اپنے اس بیان میں افغان طالبان کے سپریم لیڈر نے ملکی عوام پر اسلام میں شریعت کی پابندی کرنے پر زور دیا تھا اور کہا تھا کہ افغانستان کے عالمی برادری کی ساتھ اچھے تعلقات ہونا چاہئیں۔

    واضح رہے کہ سن 2016ء میں افغان طالبان کی قیادت سنبھالنے کے بعد سے اخوند زادہ محظ چند ایک مواقع پر ہی منظر عام پر آئے ہیں اور اب تک ان کی صرف ایک ہی تصویر دستیاب ہے عمومی طور پر میڈیا نمائندگان کو ان سے ملاقات کرنے کے حوالے سے پابندی کا سامنا رہا ہے، جبکہ ان کی تصویر لینے یا فون پر ویڈیو بنانے پر بھی پابندی ہے۔

  • افغانستان میں بینک  پر خودکش حملہ،3 افراد جاں بحق اور 12 زخمی

    افغانستان میں بینک پر خودکش حملہ،3 افراد جاں بحق اور 12 زخمی

    کابل: افغانستان کے شہر قندھار میں ایک بینک کے نزدیک ہونے والے خودکش بم دھماکے میں 3 افراد جاں بحق اور 12 زخمی ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : "روئٹرز” کے مطابق مقامی پولیس نے بتایا کہ جمعرات کو افغانستان کے قندھار شہر میں ایک بینک کے سامنے خودکش بم دھماکے میں کم از کم تین افراد ہلاک اور 12 دیگر زخمی ہو گئے۔

    قندھار پولیس ڈیپارٹمنٹ نے ایک بیان میں کہا کہ دھماکے میں زیادہ تر وہ شہری مارے گئے جو بینک کے سامنے نقدی نکالنے کے لیے جمع تھے-

    "ڈی ڈبلیو ” کے مطابق افغانستان کے صوبے قندھار کے انفارمیشن اینڈ کلچر ڈائریکٹر انعام اللہ سمنگانی نے خود کش بم دھماکے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ نیو کابل بینک کی برانچ کے باہر تنخواہ لینے کے لیے جمع ہونے والے افراد پر حملہ کیا گیا،یہ حملہ مقامی وقت کے مطابق صبح 8 بجے کے قریب نیو کابل بینک برانچ کے باہر ہوا۔

    آئرش وزیراعظم کا عہدے سے مستعفیٰ ہونے کا اعلان

    انعام اللہ سمنگانی کا مزید کہنا تھا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق اس حملے میں خودکش حملہ آور ہلاک 3 شہری جاں بحق ہوگئے جب کہ 12 افراد زخمی ہیں جن میں سے 5 کی حالت نازک ہونے کے سبب ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

    اے ایف پی کے ایک صحافی کے مطابق جو جائے وقوع پر موجود تھے کے مطابق طالبان حکام نے بینک کا محاصرہ کرکے صحافیوں کو بھی جائے وقوعہ پر جانے سے روک دیا ہے جب کہ اسپتال انتظامیہ نے میڈیا کو ہلاکتوں اور زخمیوں کی تفصیلات بتانے کی اجازت نہ ہونے پر معذرت کی ہے،تاحال کسی شدت پسند گروپ نے خود کش حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے تاہم، اسلامک اسٹیٹ گروپ نے ماضی میں افغانستان میں ایسے ہی حملوں کا دعویٰ کیا ہے اور یہ ملک کے لیے خطرہ ہے.جبکہ طالبان کے افغانستان میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ایسے حملوں میں زیادہ تر داعش خراسان ملوث رہی ہے۔

    توانائی کےمسائل کےحل کےلیے پائیدار اقدامات کی ضرورت ہے،اسحاق ڈار

    کل کی سماعت میں ثابت ہوا کہ سائفر حقیقت ہے اور موجود ہے،رؤف حسن

  • قندھار: اجتماعی قبر سے 12 افراد کی لاشیں برآمد

    قندھار: اجتماعی قبر سے 12 افراد کی لاشیں برآمد

    افغانستان کے جنوبی صوبہ قندھارمیں ایک اجتماعی قبردریافت ہوئی ہے اور اس میں سے 12 افراد کی باقیات برآمد ہوئی ہیں۔

    باغی ٹی وی : پاکستان کی سرحد سےمتصل قصبے اسپن بولدک میں چندروزقبل دیہاتیوں کو یہ قبر ملی تھی اس علاقے میں گذشتہ سال طالبان کے اقتدار پر قبضے سے قبل سابق افغان حکومت کی فورسز اورطالبان جنگجوؤں کے درمیان شدید لڑائی ہوئی تھی۔

    طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ یہ لوگ نو سال قبل اس وقت مارے گئے تھے جب امریکا کی حمایت یافتہ حکومت اقتدار میں تھی لیکن اس مقام کی آزادانہ تحقیقات نہیں کی گئیں۔

    انہوں نے کہا کہ ان افراد کو سابق ظالم کمانڈر جنرل رازق نے دیہات سے گرفتارکیا تھا وہ سب عام شہری تھے اور انھیں قتل کرکے اس اجتماعی قبر میں دفن کردیا گیا تھا وہ جنوبی صوبہ قندھار کے سابق پولیس چیف جنرل رازق کا حوالہ دے رہے تھے۔

    ترجمان نے کہا کہ ہم اس اجتماعی قبرکے معاملہ کا جائزہ لے رہے ہیں اس کے بعد ہم یہ فیصلہ کریں گے کہ کس طرح کی تحقیقات کی جانا چاہیے۔

    صوبہ قندھار کے گورنرکے ترجمان حاجی زید نے بتایا کہ باقیات کو قریب ہی دوبارہ دفن کردیا گیا ہے، ان کے علاوہ ایک اور شخص کی لاش بھی ملی ہے اور وہ ایک الگ بے نشان قبر دفن تھی۔

    افغانستان میں انسانی حقوق کے بارے میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمایندے رچرڈ بینیٹ نے ٹویٹ کیا کہ یہ ضروری ہے،ان باقیات کے ساتھ چھیڑچھاڑ نہ کی جائے اور فرانزک جانچ تک انھیں مزید نقصان نہ پہنچایا جائے۔

    طالبان حکام کی جانب سے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی جانے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دیہاتی لوگ ہڈیوں کے ڈھیر کے گرد جمع ہیں۔

    واضح رہے کہ جنرل عبدالرازق کو اکتوبر2018 میں افغانستان میں اس وقت کے اعلیٰ امریکی کمانڈرجنرل اسکاٹ ملر کے ساتھ ملاقات کے چند منٹ بعد ایک محافظ نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

    طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ انھوں نے رازق کو نشانہ بنایا تھا۔ وہ قندھار اور ہمسایہ صوبوں میں طالبان کے ایک بے رحم حریف ہونے کی شہرت رکھتے تھے۔رازق کے بھائی تدین خان نے طالبان کے الزامات کو مسترد کردیا ہے۔

    ماضی میں قندھار پولیس کے سربراہ کے طور پررازق کی جگہ لینے والے تدین خان نے ٹیلی فون پر ایک مختصر تبصرے میں فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ یہ ہمارے خاندان کو بدنام کرنے کی ایک کوشش ہے-