Baaghi TV

Tag: قوال

  • امجد صابری کی بیٹی کی لاہور میں شادی انجام پا گئی

    امجد صابری کی بیٹی کی لاہور میں شادی انجام پا گئی

    معروف قوال مرحوم امجد صابری کی بڑی صاحبزادی حورین امجد صابری رشتہ ازدواج میں منسلک ہوگئیں۔حورین امجد صابری کے نکاح کی تقریب 23 دسمبر کو لاہور میں ان کے گھر میں منعقد ہوئی تھی ۔شادی ممیں رشتہ داروں، دوست احباب کے علاوہ شوبز انڈسٹری سے میزبان و اداکارہ مایا خان نے شرکت کی۔ امجد صابری اپنے بچو سے بہت محبت کرتے تھے ، انکی بیٹی تاہم اب رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئی ہے. یاد رہے کہ امجد صابری قوالی کی دنیا میں‌اعلی مقام رکھتے تھے انہوں نے فن قوالی اپنے والد سے 9سال کی عمر میں سیکھنا شروع کیا اور 1988ء میں 12سال کی عمر میں پہلی بار سٹیج پر پرفارمنس دی۔انہوں نے بہت سے ممالک میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔امجد صابری نے دنیا بھر میں‌پاکستان

    کی بھرپور انداز میں نمائندگی کی، ان کا قتل قوالی کی دنیا کا وہ خلاء ہے جو کبھی پُر نہیں ہو سکتا. امجد صابری کا فن اور شخصیت کئی لوگوں کے مشعل راہ تھی اور ہے. امجد صابری کو 22 جون 2016ء کو دو مسلح موٹر سائیکل سواروں نے لیاقت آباد ٹاؤن کراچی میں میں اُن کی کار پر فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا امجد موقع پر ہی جان بحق ہو گئے تھے۔امجدصابری، کراچی شہر کے لیاقت آباد کے علاقہ میں واقع اپنی رہائش سے نکل کر نجی ٹیلی وژن کے اسٹوڈیو جا رہے تھے.

  • راحت فتح علی  خان خود کوکیا کہلوانا پسند کرتے ہیں؟

    راحت فتح علی خان خود کوکیا کہلوانا پسند کرتے ہیں؟

    دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کرنے والے راحت فتح علی خان نے حال ہی میں ایک انٹرویود یا ہے اس میں انہوں نے کہا کہ گلوکار کی بجائے اگر قوال کہا جائے تو انہیں زیادہ اچھا لگے گاکیونکہ بنیادی تو پر وہ ہیں ہی قوال ۔انہوں نے اس موقع پر نصرت فتح علیخان کی بھی بے حد تعریف کی انہوں نے کہا کہ نصرت فتح علی خان نے پوری دنیا کو قوالی کی نئی جہتوں سے متعارف کروایا ۔ان کے انتقال کے بعد ساری ذمہ داری میں نے اپنے کاندھوں پر لی اور میں نہ صرف اپنے ملک کا بلکہ خاندان کا نام پوری دنیا میں روشن کرنے کی کوشش کررہا ہوں شاید یہی وجہ ہے کہ مجھے موسیقی میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری جاری کی

    جا رہی ہے ۔راحت کا کہنا ہے کہ انہیں قوال کہا جائے تو زیادہ اچھا محسوس کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ راحت فتح علیخان نے نصرت فتح علیخان کے بعد اس کام کو بخوبی سنبھالا ہے ان کی خوبصورت آواز کا جادو پاکستان میں ہی نہیں بلکہ بالی وڈ پر بھی چھایا ہوا ہے انگریز ان کی دھنوں پر ناچتے ہیں۔ جن کو دنیا پسند کرتی ہے وہ شخصیات راحت فتح علیخان کو سراہتی ہیں جن میں بالی وڈ اداکار سلمان خان کا نام قابل زکر ہے انکی کوشش ہوتی ہے کہ راحت فتح علی خان کا کم از کم ایک گیت ضرور اپنی فلم میں شامل کریں۔

  • امجد صابری کی آج چھٹی برسی منائی جا رہی ہے

    امجد صابری کی آج چھٹی برسی منائی جا رہی ہے

    نامور قوال امجد صابری کی آج چھٹی برسی منائی جا رہی ہے۔پوری دنیا میں اپنے فن کا جادو جگانے والے اس قوال نے قوال گھرانے میں ہی جنم لیا اور قوالی کی تربیت غلام فرید صابری اور اپنے ہی بڑے بھائی سے حاصل کی ۔آٹھ برس کی عمر سے انہوں نے فن کا مظاہرہ کرنا شروع کر دیا تھا۔امجد صابری نے قوالی کونئی جہتوں سے متعارف کروایا دنیا بھر میں جا کر پاکستان کا نام روشن کیا ۔ان کا کلام بھر دو جھولی میری یا محمد اور جس نے مدینے جانا تیاری کر لوآج تک لوگوں کو یاد ہے ۔ان کی خدمات کے عوض انہیں پرائیڈ آف پرفارمنس سے بھی نوازا گیا ۔امجد صابری کراچی میں دہشتگردی کا نشانہ بنے ۔یاد رہے کہ امجد صابری22جون 2016 کو نجی چینل کی ٹرانسمیشن کے لئے گھر سے نکلے کہ راستے میںان کی گاڑی پر نامعلوم

    موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کر کے انہیں موت کے گھاٹ اتار دیا تھا ان کے ساتھ ان کے تین دوست بھی تھے وہ بھی فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہوئے اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے تھے۔ان کے انتقال پر ہر طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے گہرے رنج کا اظہار کیا ۔امجد صابری کا انتقال عین رمضان المبارک میںہوا تھا ۔ امجد صابری کے قتل کے فوراً بعد ہی تحریک طالبان پاکستان نے انہیں قتل کرنے کی ذمہ داری لیتے ہوئے بیان جاری کیا تھا کہ ’امجد صابری کو مبینہ توہینِ رسالت کی پاداش میں قتل کیا گیا ہے۔مگر بعد ازاں پولیس کی تفتیش اور اس حوالے سے ہونے والے گرفتاریوں سے واضح ہوا کہ اس بیان میں صداقت نہیں تھی۔

  • غلام فرید صابری کومداحوں سے بچھڑے 28 برس بیت گئے

    غلام فرید صابری کومداحوں سے بچھڑے 28 برس بیت گئے

    لاہور:عظیم قوال استاد غلام فرید صابری کومداحوں سے بچھڑے 28 برس بیت گئے-

    باغی ٹی وی : مرحوم غلام فرید صابری 1930 میں بھارتی صوبے مشرقی پنجاب میں پیدا ہوئے، قوالی کی باقاعدہ تربیت اپنے والد عنایت صابری سے حاصل کی اور 1946ء ميں پہلی دفعہ مبارک شاہ کے عرس پر ہزاروں لوگوں کے سامنے قوالی پڑھی جسے سننے والوں نے بے حد سراہا اور دیکھتے ہی دیکھتے اس عظیم فنکار نے دنیا کو اپنا گرویدہ بنا لیا۔ سن 70 اور 80 کی دہائی ان کے عروج کا سنہری دور تھا۔

    معروف قوال غلام فرید صابری کو مداحوں سے بچھڑے 26 برس بیت گئے

    قیام پاکستان کے بعد لاکھوں مسلمانوں کی طرح غلام فرید صابری کا خاندان بھی ہجرت کرکے کراچی میں آباد ہوگیا تھا ان کا پہلا البم 1958 میں ریلیز ہوا جس کی قوالی میرا کوئی نہیں تیرے سوا نے مقبولیت کے جھنڈے گاڑھ دئیے-

    انہوں نے “بھر دو جھولی میری یا محمدﷺ” جیسی قوالی گا کر دنیا بھر میں اپنے فن کا لوہا منویا 1975ء میں گائی گئی قوالی تاج دار حرم نے ان کو شہرت کی بلندیوں تک پہنچا دیا بعد ازاں غلام فرید صابری اور ان کے بھائی مقبول صابری جوڑی کی صورت میں قوالیاں پیش کرنے لگے، دس برس تک ان کا کوئی ہم پلہ نہ تھا غلام فرید صابری جب محفل سماع سجاتے تو سننے والون پر سحر طاری ہوجاتا ان کی قوالیاں پاکستانی اور بھارتی فلموں کا حصہ بھی بنیں۔

    گلوکار شوکت علی کو مداحوں سے بچھڑے ایک برس ہو گیا

    اس کے علاوہ معروف نعت بلغ العلی بکمالہ بھی صابری برادران نے ہی سب سے پہلے پڑھی تھی اردو کے علاوہ پنجابی سرائیکی اور سندھی زبان میں بھی انہوں نے قوالیاں گائیں غلام فرید صابری اور مقبول صابری نے فلموں کے لیے بھی قوالیاں ریکارڈ کروائیں نجن میں ، بن بادل برسات ،عشق حبیب، چاند سورج، الزام اور سچائی شامل ہیں انہیں 1978 میں حکومت پاکستان کی طرف سے صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی سمیت متعدد عالمی ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔

    غلام فرید صابری 5 اپریل 1994 کوحرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے خالق حقیقی سے جاملے لیکن ان کا فن شائقین موسیقی کے دلوں میں آج بھی زندہ ہے۔

    معروف موسیقار نثار بزمی کی 15 ویں برسی