Baaghi TV

Tag: قوالی

  • موسیقی کے فن کا معمولی سا طالب علم ہوں راحت فتح علیخان

    موسیقی کے فن کا معمولی سا طالب علم ہوں راحت فتح علیخان

    راحت فتح علی خان ایسے قوال / گلوکار ہیں کہ جن کی پرستار وہ شخصیات ہیں جن کی دنیا دیوانی ہے. بالی وڈ کے تینوں خانز شاہ رخ خان، عامر خان اور سلمان خان راحت فتح علیخان کے فن کے دیوانے ہیں اور سلمان خان کی تو کوشش ہوتی ہےکہ اپنی فلم میں راحت فتح علی خان سے ایک گانا ضرور گوائیں. سلمان خان راحت فتح علی خان کو بے انتہا پسند کرتے ہیں اسی طرح سے راحت نے متعدد مرتبہ بالی وڈ کی فلموں کے لیے گایا اور ہر گانے نے ریکارڈ بنایا. راحت نے حال ہی میں ایک انٹرویو دیا ہے اس میں انہوں نے کہا کہ نصرت فتح علیخان نے پوری دنیا میں قوالی کو نئی جہتوں سے متعارف کروایا، ان کا

    قوالی گانے کا جو انداز تھا وہ مجھ جیسا موسیقی کا ادنی سا طلب علم بھی نہیں اپنا سکتا. انہوں نے مزید کہا کہ قوالی ہمارے خاندان کی روایت ہے لہذا نصرت فتح علیخان کے انتقال کے بعد مجھے اس روایت کو آگے لیکر چلنا پڑا اور میں پوری کوشش کررہا ہوں کہ اس روایت کا امین بنا رہوں. ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ لوگ تعریف کرتے ہیں تو اچھا لگتا ہے ، کچھ لوگ تو مجھے موسیقی کے استاد کا درجہ دیتے ہیں لیکن میں خود کو موسیقی کے فن کا بہت ہی معمولی طالب علم سمجھتا ہوں. یاد رہے کہ راحت فتح علیخان نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ مجھے گلوکار کی بجائے قوال کہا جائے تو زیادہ اچھا لگتا ہے.

  • امجد صابری کی آج چھٹی برسی منائی جا رہی ہے

    امجد صابری کی آج چھٹی برسی منائی جا رہی ہے

    نامور قوال امجد صابری کی آج چھٹی برسی منائی جا رہی ہے۔پوری دنیا میں اپنے فن کا جادو جگانے والے اس قوال نے قوال گھرانے میں ہی جنم لیا اور قوالی کی تربیت غلام فرید صابری اور اپنے ہی بڑے بھائی سے حاصل کی ۔آٹھ برس کی عمر سے انہوں نے فن کا مظاہرہ کرنا شروع کر دیا تھا۔امجد صابری نے قوالی کونئی جہتوں سے متعارف کروایا دنیا بھر میں جا کر پاکستان کا نام روشن کیا ۔ان کا کلام بھر دو جھولی میری یا محمد اور جس نے مدینے جانا تیاری کر لوآج تک لوگوں کو یاد ہے ۔ان کی خدمات کے عوض انہیں پرائیڈ آف پرفارمنس سے بھی نوازا گیا ۔امجد صابری کراچی میں دہشتگردی کا نشانہ بنے ۔یاد رہے کہ امجد صابری22جون 2016 کو نجی چینل کی ٹرانسمیشن کے لئے گھر سے نکلے کہ راستے میںان کی گاڑی پر نامعلوم

    موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کر کے انہیں موت کے گھاٹ اتار دیا تھا ان کے ساتھ ان کے تین دوست بھی تھے وہ بھی فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہوئے اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے تھے۔ان کے انتقال پر ہر طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے گہرے رنج کا اظہار کیا ۔امجد صابری کا انتقال عین رمضان المبارک میںہوا تھا ۔ امجد صابری کے قتل کے فوراً بعد ہی تحریک طالبان پاکستان نے انہیں قتل کرنے کی ذمہ داری لیتے ہوئے بیان جاری کیا تھا کہ ’امجد صابری کو مبینہ توہینِ رسالت کی پاداش میں قتل کیا گیا ہے۔مگر بعد ازاں پولیس کی تفتیش اور اس حوالے سے ہونے والے گرفتاریوں سے واضح ہوا کہ اس بیان میں صداقت نہیں تھی۔