Baaghi TV

Tag: قومی

  • کئی قومی اور بین الاقوامی پروازوں کے رخ تبدیل،متعدد تاخیر کا شکار

    کئی قومی اور بین الاقوامی پروازوں کے رخ تبدیل،متعدد تاخیر کا شکار

    کراچی : موسم کی خرابی اور تیز ہواؤں کے سبب پی آئی اے سمیت دیگر ایئرلائنز نے متعدد پروازوں کے رخ تبدیل کردیے۔

    باغی ٹی وی : : ترجمان سول ایوی ایشن کے مطابق ملک بھر میں خراب موسم کے باعث بیشتر پروازیں متاثر ہوئی ہیں ملک بھر میں خراب موسم کے باعث دبئی سے اسلام آباد آنے والی پروازوں کا رخ ملتان کی جانب موڑا گیا۔

    پیپلزپارٹی میں سیاسی شخصیات کی شمولیت کا سلسلہ جاری،مزید 14 شخصیات پارٹی میں شامل

    ترجمان کے مطابق ٹورونٹو سے لاہور آنے والی فلائٹ قومی ائر لائن کی پرواز کو اسلام آباد اور ریاض سے پشاور آنے والی پرواز پی کا رخ اسلام آباد موڑا گیا تاہم واپس پشاور اتار لی گئی کراچی سے لاہور جانے والی نجی ایئر لائن کی پرواز کا رخ اسلام آباد کی جانب موڑا گیا۔

    ابوظہبی سے اسلام آباد آنے والی پرواز پی کے 262 کا اور ابوظہبی سے اسلام آباد آنے والی نجی ایئر لائن کی پرواز 324 کا جبکہ جدہ سے لاہور آنے والی پی آئی اے کی پرواز 760 دبئی سے لاہور آنے والی نجی ایئر لائن کی پرواز 243 کو ملتان بھیجا گیا۔ شارجہ سے لاہور آنے والی پرواز کا رخ فیصل آباد جبکہ کراچی سے لاہور جانے والی نجی ایئر لائن کی پرواز کا رخ اسلام آباد کی جانب موڑا گیا۔

    بگ باس 16 کی میزبانی کیلئے سلمان خان کو ایک ہزار کروڑ انڈین روپے معاوضہ …

    ترجمان کے مطابق لاہور سے مدینہ جانے والی پرواز پی کے 747 تین گھنٹے 20 منٹ تاخیر کا شکار ہوئی جبکہ لاہور سے ابوظہبی جانے والی نجی ایئر لائن کی پرواز 244 تین گھنٹے 5 منٹ تاخیر کا شکار ہوئی کراچی سے لاہور جانے والی قومی ایئر لائن کی پرواز 406 پینتیس منٹ تاخیر کا شکار ہوئی –

    لاہور سے جدہ جانے والی نجی ایئر لائن کی پرواز 821 آپریشنل وجوہات کی بنا پر منسوخ کر دی گئی اور لاہور سے کراچی جانے والی نجی ایئر لائن کی پرواز 9 پی 847 دو گھنٹے 25 منٹ تاخیر کا شکار ہوئی۔

    خیبر پختونخوا شدید طوفان اور بارش سے تباہی،پاک فوج کی امدادی ٹیمیں پہنچ گئیں

  • قومی یکجہتی کے ذریعے مشکل وقت کا مقابلہ کریںگے،شہباز شریف

    قومی یکجہتی کے ذریعے مشکل وقت کا مقابلہ کریںگے،شہباز شریف

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ حالیہ بارشوں اور سیلاب سے پورا ملک متاثر ہوا ہے اور اس افتاد سے نمٹنے کے لیے ہمیں بھائی چارے اور مواخات کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ بات خوش آئند ہے کہ مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگ اس آفت سے نمٹنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں.

    پی ٹی آئی حکومت جاتے جاتے ہمارے لیے گڑھے کھود کر گئی،وزیراعظم

    وزیر اعظم نے مزید کہا کہ ہم قومی یکجہتی کے ذریعے اس مشکل وقت کا مقابلہ کریںگے ۔ پوری قوم اپنے مصیبت زدہ بہن بھائیوں کی مدد کے لیے بڑھ چڑھ کر حصہ ڈالے۔. وزیر اعظم نے ان خیالات کا اظہار اسلام آباد میں مختلف وفود سے ملاقات میں کیا.

    پاک فوج مشکل گھڑی میں مشکلات پرقابو پانے میں سیلاب متاثرین کی مدد کرے گی،آرمی چیف

     

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے چئیرمین نادرا محمد طارق ملک نے ملاقات کی چئیرمین نادرا نے وزیر اعظم کو فلڈ ریلیف فنڈ کے لیے 10 کروںڑ روپے عطیہ کا جیک پیش لیا۔

    چئیرمین قاضی محمد منصور دلاور کی سربراہی میں پاکستان فارماسوٹیکل مینو فیکچررز ایسوسی ایشن کے وفد نے وزیر اعظم سے ملاقات کی، اور وزیر اعظم فلڈ ریلیف فنڈ کے لیے 2 کروڑ روپے عطیہ کا چیک پیش کیا۔پاکستان فارماسوٹیکل مینو فیکچررز ایسوسی ایشن نے سیلاب متاثرین کے لیے 5 کروڑ روپے کی ادویات بھی عطیہ کیں۔

    وزیر اعظم نے NDMA حکام کو ہدایت کی کہ وہ مختلف متاثرہ علاقوں میں ادویات کی ضرورت کا تعین کرنے کے بعدپاکستان فارماسوٹیکل مینو فیکچررز ایسوسی ایشن کے ساتھ مل کر ان کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔پاکستان فارماسوٹیکل مینو فیکچررز ایسوسی ایشن نے ضرورت پڑنے پر مزید ادویات عطیہ کرنے کا بھی عہد کیا۔

    گلوبل CEO وسیم احمد کی سربراہی میں اسلامک ریلیف کے وفد کی بھی وزیر اعظم سے ملاقات۔ وفد میں اسلامک ریلیف کے کنٹری ڈائریکٹر آصف علی شیرازی اور کنٹری ایڈووکیسی سپیشلسٹ رضا قاضی بھی موجود تھے۔

    اسلامک ریلیف نے وزیر اعظم کو بلوچستان، سندھ اور خیبرپختونخواہ میں سیلاب زدگان کے ریلیف کے لیے اقدامات پر بریفنگ دی۔ انہوں نے وزیر اعظم کو 3 کروڑ پاؤنڈ عطیہ جمع کرنے کے ہدف کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔

  • قومی اسکواڈ کا نیشنل ہائی پرفارمنس سینٹر لاہور میں انڈور ٹریننگ سیشن

    قومی اسکواڈ کا نیشنل ہائی پرفارمنس سینٹر لاہور میں انڈور ٹریننگ سیشن

    تربیتی کیمپ کے پہلے روز قومی کرکٹرز انڈور سیشنز تک محدود رہے جب کہ بارش کے سبب قذافی اسٹیڈیم کے بجائے نیشنل ہائی پرفارمنس سینٹر میں ٹریننگ کرنا پڑی۔

    لاہور میں بارش کی وجہ سے قومی اسکواڈ کے تربیتی کیمپ کا پہلا روز متاثر ہوا،صبح کے وقت شروع ہونے والی رم جھم میں مسلسل اضافہ ہوتا گیا جس کی وجہ سے قذافی اسٹیڈیم میں پانی جمع ہوگیا، کرکٹرز کو نیشنل ہائی پرفارمنس سینٹر کے انڈور ہال میں ٹریننگ کرنا پڑی۔

    موسم کی خرابی کے باعث نائب کپتان شاداب خان کی میڈیا ٹاک بھی منسوخ کردی گئی، انڈور ہال میں نیٹ سیشنز میں کھلاڑیوں نے ہیڈ کوچ ثقلین مشتاق کی زیرنگرانی بیٹنگ اور بولنگ کی مشقوں کا سلسلہ جاری رکھا۔

    محمد یوسف نے بیٹرز کو مفید مشورے دیے، ان کی توجہ خاص طور پر مڈل آرڈر اور پاور ہٹرز پر مرکوز رہی، کوچ نے تکنیکی خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے چند اسٹروکس خود کھیل کر بھی دکھائے، فخرزمان، عبداللہ شفیق اور خوشدل شاہ کو اسسٹنٹ کوچ شاہد اسلم نے تھرو بولنگ سے الگ مشق بھی کرائی۔

    شان ٹیٹ نے پیسرز کی رہنمائی کرتے ہوئے لائن و لینتھ بہتر بنانے پر کام کیا، چند کھلاڑیوں نے فیلڈنگ سیشنز میں ڈائیو لگاکر گیندوں پر قابو پانے کی مشقیں کیں۔

    دورہ نیدر لینڈز کیلیے منتخب قومی ٹیم اور شاہینز کے درمیان پہلا پریکٹس میچ اتوارکو ایل سی سی اے گراؤنڈ شیڈول تھا،مگر اب پیر کو انعقاد ہو گا، اتوار کو کرکٹرز 2 سے 5 بجے تک قذافی اسٹیڈیم میں ٹریننگ کریں گے۔

    اسٹاف گزشتہ روز کی بارش کے سبب گیلے گراؤنڈ کو پریکٹس کے قابل بنانے کیلیے سرگرم ہے، بارش کی مداخلت ہوسکتی ہے،پیشگوئی کے مطابق دوپہر کے بعد بادلوں کی آنکھ مچولی میں رم جھم ہوسکتی ہے۔

  • پاکستان کی پہلی قومی سلامتی پالیسی کے اہم نکات سامنے آ گئے

    پاکستان کی پہلی قومی سلامتی پالیسی کے اہم نکات سامنے آ گئے

    اسلام آباد:پاکستان کی پہلی جامع قومی سلامتی پالیسی کے اہم نکات سامنے آ گئے ، اس حوالے سے اس قومی پالیسی کی دستایزات پرمشتمل سو سے زائد صفحات کا آدھا حصہ پبلک کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق 100سے زائد صفحات پر مشتمل پالیسی کا آدھا حصہ پبلک کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، وزیر اعظم عمران خان جمعہ کو 50 صفحات پر مشتمل غیر خفیہ پالیسی کے نکات کا اجراء کرینگے، پالیسی اکانومی، ملٹری اور ہیومن سکیورٹی تین بنیادی نکات پر مشتمل ہے۔

    ذرائع کے مطابق اکانومی سکیورٹی کو قومی سلامتی پالیسی میں مرکزی حیثیت دی گئی، پاکستان میں قومی سلامتی سے متعلق پہلی بار جامع پالیسی تیار کی گئی، سلامتی پالیسی پر سالانہ بنیادوں پر نظرثانی کی جائے گی، نئی حکومت کو پالیسی پر ردوبدل کا اختیار حاصل ہو گا، نیشنل سیکیورٹی کمیٹی پالیسی کی وارث ہو گی۔

    ذرائع کے مطابق ہر مہینے حکومت نیشنل سکیورٹی کمیٹی کو عملدرآمد رپورٹ پیش کرنے کی پابند ہو گی، پالیسی میں دو سے زائد ایکشن وضع کئے گئے، پالیسی ایکشن کا حصہ کلاسیفائیڈ تصور ہو گا، خطے میں امن، رابطہ کاری اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارت پالیسی کا بینادی نقطہ ہو گا۔

    ذرائع کے مطابق ہائبرڈ وار فیئر بھی قومی سلامتی کمیٹی کا حصہ ہو گا، ملکی وسائل کو بڑھانے کی حکمت عملی دی گئی ہے، کشمیر کو پاکستان کی سلامتی پالیسی میں اہم قرار دیا گیا، مسئلہ کشمیر کا حل پالیسی کی ترجیحات میں شامل ہے، پالیسی پر سیاسی فریقین کو اعتماد میں لینے کے لئے نیشنل سیکیورٹی ڈویژن آمادہ ہو گیا، بڑھتی آبادی کو ہیومن سکیورٹی کا بڑا چیلنج قرار دیا گیا۔ شہروں کی جانب ہجرت، صحت، پانی اور ماحولیات بھی پالیسی کا حصہ ہے۔

    ذرائع کے مطابق فوڈ اور صنفی امتیاز ہیومن سیکیورٹی کے اہم عنصر ہے ایران پر پابندیاں ختم ہونے کے بعد حکومت کو معاملات آگے بڑھانے کا اختیار کی بھی تجویز ہے، گڈ گورننس، سیاسی استحکام ،فیڈریشن کی مضبوطی پالیسی کا حصہ ہے۔

  • صوبہ ہزارہ تحریک کے وفد کی چئیرمین سینٹ سے ملاقات ،بڑا مطالبہ کر دیا

    صوبہ ہزارہ تحریک کے وفد کی چئیرمین سینٹ سے ملاقات ،بڑا مطالبہ کر دیا

    صوبہ ہزارہ تحریک کے وفد کی چئیرمین سینٹ صادق سنجرانی سے ملاقات اور صوبہ ہزارہ کے بل کو جلد پاس کروانے کا مطالبہ

    چیئرمین سینیٹ آف پاکستان صادق سنجرانی نے کہا ہے کہ وہ صوبہ ہزارہ کے حوالے سے وزیر اعظم پاکستان سے بات کریں گے۔اور یہ خوشی کی بات ہے کہ صوبہ کا مطالبہ سڑکوں کی بجائے پارلیمنٹ میں آ گیا ہے۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے چئیرمین صوبہ ہزارہ تحریک کے چئیرمین سردار محمد یوسف اور سینیٹر طلحہ محمود کی قیادت میں تحریک کے ایک وفد سے ملاقات کرتے ہوئے کیا۔ جس میں سابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی مرتضی جاوید عباسی، سینیٹر طلحہ محمود، پروفیسر سجاد قمر، سابق ایم پی اے میاں ضیاء الرحمن، سابق ایم پی اے عبدالستار، سید ریاض علی شاہ،سید گل بادشاہ،پرنس فضل حق،مولنا عبدالمجید ہزاروی، انجنیئر افتخار احمد، قاری محبوب الرحمن، سید رفیع اللہ شیرازی شیرازی،ملک سجاد اعوان، سید تبارک شاہ،سردار اویس،حسنین شاہ،سردار زاہد منان،محمد صادق سمیت دیگر شامل تھے۔
    چئیرمین سینٹ صادق سنجرانی نے وفد کو خوش آمدید کہا اور کہا کہ وہ ہر ممکن تعاون کریں گے۔انھوں نے کہا کہ یہ امر خوشی کا باعث ہے کہ صوبہ ہزارہ کا مطالبہ سڑکوں کی بجائے پارلیمنٹ میں آگیا ہے۔یہ پاکستان کی جمہوریت اور پارلیمنٹ پر اعتماد کی علامت ہے۔اور آپ نے اپنے نمائندوں پر مزید ذمہ داری ڈال دی ہے۔انھوں نے کہا کہ جیسا کہ مرتضی جاوید عباسی نے بتایا ہے کہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن اور حکومت کے اراکین کی طرف سے آئینی بل جمع ہو گیا ہے۔اور شہباز شریف اور پیپلز پارٹی بھی اس سے متفق ہے۔انھوں نے کہا کہ وہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان سے اس پر بات کریں گے۔وزیر اعظم کھلے دل کے آدمی ہیں وہ بات سنیں گے۔اور پھر میں صوبہ ہزارہ تحریک کے وفد کی بھی ملاقات کرواوں گا۔تا کہ آپ کے سامنے بات ہو۔

    انھوں نے کہا کہ سینیٹر طلحہ محمود صاحب نے کافی دفعہ مجھے سے بات کی اور یہ بل سینٹ میں بھی لے آئیں۔میں ایڈوائزری کمیٹی میں سردار یوسف،طلحہ محمود اور مرتضی صاحب کو بھی بلا لوں گا۔انھوں نے کہا کہ یہ پاکستان کے استحکام کی علامت ہے اور پاکستان کا ہر خطہ وسائل سے مالا مال ہے۔ہمیں اپنے وسائل اپنے بھائیوں سے بھی شئیر کرنے ہیں۔انھوں نے کہا کہ ترکی میں 82 اور ایران میں 32 صوبے ہیں۔ایک بڑے صوبے کا وزیر اعلی پانچ سالوں میں پورے صوبے کا دورہ بھی نہیں کر سکتا۔اس سے قبل چئیرمین صوبہ ہزارہ تحریک سردار محمد یوسف نے چئیرمین سینٹ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ صوبہ ہزارہ کی تحریک ہر حوالے سے ایک آئینی اور قانونی جدوجہد ہے۔ہمارے پرامن مظاہرین پر گولیاں چلائی گئیں اور سات لوگوں شہید ہوئے ۔ہم اپنا حق مانگتے ہیں۔یہ واحد خطہ ہے جہاں صوبے کے مطالبے پر سب کا اتفاق ہے۔انھوں نے کہا کہ چئیرمین سینٹ نے ایوان بالا کو بہت اچھے طریقے سے چلایا ہے اور ہم امید رکھتے ہیں کہ وہ ہزارہ کے لوگوں کا مطالبہ منوانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔

    سینٹر طلحہ محمود نے کہا کہ یہ چئیرمین سینٹ کی شفقت ہے کہ انھوں نے ہمیں وقت دیا اور ہماری بات سنی۔صوبہ ہزارہ کا مطالبہ عوام کا مطالبہ ہے۔اور کسی علاقائی ،لسانی یا نسلی نہیں بلکہ انتظامی بنیادوں پر ہے ۔صوبہ ہزارہ کے قیام سے معاشی خوش حالی آئے گی ۔ یہ خطہ شاہراہ ریشم اور سی پیک کا گیٹ وے ہے۔ہمارا صوبہ ٹور ازم کا ایک بہترین مرکز بن سکتا ہے۔داسو ڈیم،دیامر بھاشا ڈیم اور سکھی کناری ڈیم ہزارہ میں بن رہے ہیں۔اس سے پاکستان میں معاشی خوشحالی آئے گی اور ہمیں آئی ایم ایف سے نجات ملے گی۔

    ممبر قومی اسمبلی مرتضی جاوید عباسی نے کہا کہ طے ہوا تھا کہ قومی اسمبلی میں صوبہ ہزارہ کا بل اتفاق رائے سے جمع ہو گا۔لیکن حکومت اور اپوزیشن کے ارکان نے الگ الگ جمع کرایا۔اس موقع پر ایوان میں اتفاق رائے سے یہ بل کمیٹی کو بھیجا گیا۔اس پر دونوں اطراف سے ذمہ دارا لوگوں کے دستخط ہیں۔لیکن اس پر کافی تاخیر ہو گئی ہے۔میں چئیرمین صاحب سے توقع رکھتا ہوں کہ وہ اس مسئلے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔اور اس اہم قومی مسئلے پر ہم ہر جگہ اور ہر وقت مل بیٹھنے کے لیے تیار ہیں۔اس موقع پر کوہستان کے وفد نے مطالبہ کیا کہ کوہستان کے تین اضلاع پر مشتمل الگ ڈویژن بنایا جائے۔اور یہ کہ وہ ہر حال میں صوبہ ہزارہ کے ساتھ ہیں

    @MumtaazAwan

    یہ ہے لاہور، ایک ہفتے میں 51 فحاشی کے اڈوں پر چھاپہ،273 ملزمان گرفتار

    طالبعلم کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا قاری گرفتار،قبرستان میں گورکن کی بچے سے زیادتی

    راہ چلتی طالبات کو ہراساں اور آوازیں کسنے والا اوباش گرفتار

    طالبات کو کالج کے باہر چھیڑنے والا گرفتار،گھر کی چھت پر لڑکی کے سامنے برہنہ ہونیوالا بھی نہ بچ سکا

    پولیس کا قحبہ خانے پر چھاپہ،14 مرد، سات خواتین گرفتار

    خاتون کے ساتھ زیادتی ،عدالت کا چھ ماہ تک گاؤں کی خواتین کے کپڑے مفت دھونے کا حکم

    موٹرسائیکل پر گھر چھوڑنے کے بہانے ملزم کی خاتون سے زیادتی

    88 قبحہ خانوں پر چھاپوں کے دوران 417 ملزمان گرفتار

    لاہور میں خاتون کو رکشہ پر ہراساں کرنے کا ایک اور واقعہ

    13 سالہ بچے کے ساتھ بدفعلی کرنے والے دو ملزمان گرفتار

    سوشل میڈیا کے ذریعے لاہور میں لڑکیاں سپلائی کرنے والے ملزمان گرفتار

    دوسری شادی کیوں کی؟ پہلی بیوی نے خود کشی کر لی

    منشیات فروش خاتون پولیس کے ساتھ کیسے چھپن چھپاؤ کر رہی؟

  • مرکز قومی زبان اوکاڑہ کی جانب سے یوم نفاذ اردو منایا گیا۔

    مرکز قومی زبان اوکاڑہ کی جانب سے یوم نفاذ اردو منایا گیا۔

    صدر گوگیرہ(نامہ نگار) یہاں ایک مقامی سکول سسٹم میں مذاکرہ بسلسلہ یوم نفاذ اردو منعقد ہوا۔ مذاکرے کا اہتمام مرکز قومی زبان ضلع اوکاڑہ نے کیا۔ صدارت پروفیسر اللہ دتہ آزاد نے کی جبکہ مہمان خصوصی جماعت اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن ڈاکٹر لیاقت علی کوثر تھے۔ عمران جاذب ایڈووکیٹ ،پٹی جنرل سیکریٹری وسطی پنجاب مرکز قومی زبان، جناب افتخار حسین فاخر صدر مرکز قومی زبان ضلع اوکاڑہ اور دیگر نے اردو زبان کی اہمیت اور نفاذ پر زور دیا اور آٹھ ستمبر کے فیصلے جواد ایس خواجہ کے مطابق ملک میں حکومت وقت سے مطالبہ کیا کہ اردو کو نافذ کیا جائے ۔