Baaghi TV

Tag: قومی زبان

  • ارباب اختیار اور نفاذ اردو کی پذیرائی، عملی اقدام کی ضرورت ہے ۔۔۔ فاطمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

    ارباب اختیار اور نفاذ اردو کی پذیرائی، عملی اقدام کی ضرورت ہے ۔۔۔ فاطمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

    گزشتہ روز سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن محترم کنور دلشاد صاحب نے بلدیاتی انتخابات اور اصلاحات کے موضوع پر خوبصورت سیمنار کا انعقاد ایک پنج تارہ ریستوران میں کیا۔ تقریب کے مہمان خصوصی جناب گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور تھے۔ تقریب میں ہر شعبہ زندگی کی نمائندگی تھیں۔اج ایک عرصے کے بعد ڈاکٹر مجاہد منصوری سے ملاقات ہوئی۔ ڈاکٹر مجاھد منصوری ہمارے نفاذ اردو کے بالکل ابتدائی رہنماؤں میں سے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب ہمیشہ نفاذ اردو کی کوششوں کے حوالے سے ہماری حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ انہوں نےہمیں کہا کہ دور جدید کی بہت سی اصطلاحات کا ترجمہ کرنے کی ضرورت ہے۔ہم نے انہیں بتایا کہ ہماری تحریک کے مخلص ساتھی پروفیسر جمیل بھٹی ‘ شاہد ستار شبلی اور پروفیسر اشتیاق احمد اس پر اپنے محدود وسائل کے باوجود سائنس’ معاشیات’ ادب اور کمپیوٹر کی اصطلاحات کا ترجمہ کر رہے ہیں۔ تقریب میں تحریک انصاف کی ترجمان سیماں انوار’ قیوم نظامی’ سلمان عابد’ عظمی ‘ امریکہ میں مقیم سائنسدان اور ماہر تعلیم ڈاکٹر خان ‘ تحریک انصاف کے سپورٹس کے چئیر مین میاں جاوید’ وائس چیئرمین انعام الحق سلیم’ خلیل خان نورزئی’ کاشف سجن’ عبداللہ اعوان’ سے ملاقات ہوئی۔ ہم نے اپنے خطاب میں گورنر صاحب کی توجہ عدالت عظمیٰ کےنفاذ اردو فیصلے پر عملدرآمد پر کروائی۔ ہم نے کہا کہ آپ کی حکومت تبدیلی کے نام پر وجود میں آئی ہے’ آپ ایک عرصہ تک بیرون ملک مقیم رہے ہیں آپ بتائیے کہ دنیا کے کتنے ممالک میں یہ فراڈ ہورہا ہے کہ اراکین اسمبلی جلسے جلوس تو اپنی زبان میں کریں جب رکن اسمبلی بن جائیں تو اس اسمبلی کی کار روائی اپنے آقاؤں کی زبان میں کریں۔کیادنیا کے کسی ملک میں کسی غلامی کی زبان میں کار روائی کا سوچا بھی جاسکتا ہے؟ ہمیں بہت خوشی ہے کہ گورنر پنجاب نے نہ صرف ہمارے خیالات کی تائید و توصیف کی بلکہ انہوں نے اپنی انگریزی میں لکھی ہوئی تقریر کو ایک طرف رکھ دیا۔ کچھ اردو اور پنجابی میں خطاب کیا۔ اپ نےکہا کہ ” اردو دے نال اپنی مادری زبان پنجابی وچ گال کرن دا سواد ای کچھ اور اے” گورنر صاحب نے ساری تقریر فی البدیہہ اور کھلے ڈھلے انداز اور خیالات کی روانی جوش و جذبے کے ساتھ کی۔ یہ فرق ہوتا ہے غلامی کی زبان میں اور اپنی زبان میں بات کرنے کا۔ غلامی کی زبان میں انسان صرف محدود الفاظ کے ساتھ بےتاثرچہرے سے کٹھ پتلی کی مانند بات کرتا ہے۔ حاضرین نے گورنر کے اردو خطاب کو بے حد سراہا۔کنور دلشاد بیورو کریٹ ہیں۔ پہلے وہ اپنا پیغام ہمیشہ انگریزی میں لکھتے تھے ۔لیکن یہ بات انتہائی لائق تحسین ہے کہ اس تقریب کا دعوت نامہ انہوں نے اردو میں بھیجا۔انہوں نے ہمیں مذید بتایا کہ ایک پروگرام ہورہا ہے جس میں تمام مقررین انگریزی میں خطاب کریں گے "میں نے ان سے پیشگی ہی معذرت کرلی ہے کہ میں تقریب میں اردو ہی میں خطاب کرونگا” ہم بھی محترم کنور دلشاد صاحب کو ان کے اس احساس خودی سے بھرپور اقدام پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ اور ہم تہہ دل سے ان کا شکریہ بھی ادا کرتے ہیں کہ ان کی بدولت ہمیں گورنر کو اپنانفاذ اردو مشن پیغام دینے کا موقع ملا۔

  • کیا انگریزی ایک بین الاقوامی زبان ہے؟؟؟فاطمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

    کیا انگریزی ایک بین الاقوامی زبان ہے؟؟؟فاطمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

    عموماً سننے میں آتا ہے کہ انگریزی ایک بین الاقوامی زبان ہے۔ اس لیے اس کو سیکھنے کا التزام بڑے تزک و احتشام سے کیا جاتا ہے۔ اور اس کو سیکھنے کے بعد اس پر اترایا بھی جاتا ہے۔ آئیے جائزہ لیا جائے کہ کیا انگر یزی واقعی ایک
    بین الاقوامی زبا ن ہے؟
    پاکستان کی غلام اشرفیہ انگریزی
    کی بین الاقوامیت کا پراپیگنڈہ کر کے اسکے تسلط کاجواز پیدا کرتی ھےجبکہ حقیقت یہ ھےکہ انگلش صرف امریکہ برطانیہ آسٹریلیااورنیوزی لینڈ کی زبان ہے۔ کینیڈا کے آدھے حصےمیں ںولی جاتی ھے یورپ میں برطانیہ کےعلاوہ کہیں نہیں بولی جاتی. حتی کہ یورپی یونین کی کرنسی، جھنڈا اور پارلیمنٹ ایک مگر کیا اس کی زبان بھی ایک ھو یہ آج تک کسی نےنہیں سوچا!
    انگلش کی محدودیت کا اس سےبڑا ثبوت اور کیا ھو گا؟ا دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا انگریزی کی بین الاقوامیت صرف پاکستان تک ہی محدود ہے دنیا کہ کسی اور ملک نے بھی اس کی بین الاقوامیت کا پرچار اپنے اوپر بھی ایسے ہی مسلط کیا ہے جیسے یہ پاکستان میں ” تھوپی” گئی ہے؟
    سوچیے گا ضرور ………!

  • نفاذ اردو فیصلے کےنفاذ میں تفریق ۔۔۔ فاطمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

    نفاذ اردو فیصلے کےنفاذ میں تفریق ۔۔۔ فاطمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

    ابھی گزشتہ روز ہی وزیراعلی پنجاب نے آئین اور عدالت عظمیٰ کے فیصلے کی روشنی میں پنجاب بھر کے تعلیمی اداروں میں اردو ذریعہ تعلیم کاحکم یہ کہہ کر دیا کہ انگریزی ذریعہ تعلیم کی وجہ سے طلباء ترجموں میں الجھےرہتے ہیں۔اس لئے علم کے ابلاغ کے لئے پرائمری سطح پر تعلیم اردو میں دی جائے گی۔انگریزی لازمی مضمون کی حیثیت سے پڑھایا جائے گا۔ وزیراعلی پنجاب کے اس فیصلے سے ملک بھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئ۔ جب سے یہ حکومت بر سر اقتدار ائی تھی ۔یہ اس کا اب تک کیا گیا سب سے مقبول فیصلہ تھا لوگوں نے اس خبر کو زیادہ سے زیادہ شئر کیا۔اس پر تبصرے کئے اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ اردو ذریعہ تعلیم کرنے کا یہ فیصلہ صرف پرائمری تعلیم تک ہی محدود نہیں ہونا چاہئے بلکہ اس کا دائرہ کار بڑھا کر ثانوی سطح اور اعلی تعلیم تک بھی لے جایا جائے ۔ابھی لوگ اس فیصلے کو خوش امدید ہی کہہ ہی رہے تھے اس سلسلے میں اج کا روزنامہ جنگ کا اداریہ نے بھی موجودہ حکومت کے اردو ذریعہ تعلیم کرنے پر شاندار اداریہ تحریر کیا’ کہ انگریزی میڈیم اور اشرافیہ کے مفاد کے ” محافظ” وزیرتعلیم پنجاب جناب مراد راس نے آج ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں یہ اعلان کیا کہ
    "اردو میڈیم کا اطلاق صرف سرکاری اداروں پر ہوگا۔”
    سوال یہ ہے کہ کیا وزیرتعلیم صرف سرکاری تعلیمی اداروں ہی کے وزیر تعلیم ہیں؟ کہ ان کی پالیسی کی ذد میں صرف سرکاری ادارے ائیں گے؟ نجی انگریزی میڈیم ادارے اس حکم سے مستثنی ہونگے؟
    دوسرا سوال یہ ہے کہ نفاذ اردو فیصلہ دستور کا تقاضا اور سپریم کورٹ کا حکم ہے۔ کیا ائین پاکستان کا نفاذ ریاست کے کسی خاص گروہ پر ہوگا؟ اور باقی ” منتخب گروہ” کو ائین سے اسثثنی حاصل ہوگا؟
    کیا ائین پاکستان تمام شہریوں کو تعلیم اور صحت کے مساوی حقوق نہیں دیتا؟
    تیسری بات یہ ہے کہ تحریک انصاف کا سب سے بڑا نعرہ "یکساں نصاب تعلیم ‘ یکساں نظام تعلیم” تھا۔ کیا وزیرتعلیم مراد راس کا مذکورہ اقدام خود تحریک انصاف کی پالیسی سے انحراف نہیں ہے؟
    سب سے بڑی بات نفاز اُردو کا حکم اس ملک کی سب سے اعلی عدالت دے چکی ہے اب اس حکم کی خلاف ورزی کرنا توہین عدالت ہے۔ اس فیصلے کو دینے والے محسن اردو سابق ایچی سونین چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے سب سے پہلے نفاذ اردو فیصلے کو اپنی ذات پر لاگو کیا اس نے لاہور میں ایک سکول قائم کرکے اپنی ال اولاد کو مہنگے انگریزی میڈیم’ سکول سے اٹھا کر اپنے قائم کردہ سکول میں داخل کیا جہاں تعلیم سماجی مساوات کا عملی مظاہرہ ہے
    جہاں غریب اور امیر کا بچہ ایک ہی ادارے میں تعلیم حاصل کررہا ہے۔۔
    وزیرتعلیم ماشاءاللہ بے حد تعلیم یافتہ اور بیرون ممالک کے ڈگری یافتہ ہے ان سے سوال ہے کہ وہ دنیا بھر کے تعلیمی اداروں کا جائزہ لے کر بتائیں کہ اور کتنے ممالک میں پرائمری تعلیم غیرملکی زبان میں دئیے جانے کا تماشا ہورہا ہے؟ نیز اس بات کا بھی جائزہ لیں کے کیا کسی ملک میں سر کاری اور نجی اور تعلیمی اداروں کے ذریعہ تعلیم میں بھی فرق ہے؟ اگر اس کا جواب نفی میں ہے تو پھر پاکستان کے بائس کڑوڑ عوام کو اپ تعلیم کے نام پر احمق کیوں بنا رہے ہیں؟
    اپ اس ملک کے عوام پر رحم کریں!
    جن .1 فی صد انگریز اشرافیہ نے اج اپ کو ہنگامی پریس کانفرنس کے لئے مجبور کیا ہے ان کو بالکل ائین پاکستان اور عدالت عظمیٰ کے فیصلے کی روشنی میں بالکل ” کورا اور سچا ” جواب دیں کہ ” میں نفاذ اردو فیصلے کے لئے عدالت عظمیٰ کے حکم کا پابند ہوں ‘ تمہارے مفادات کا نہیں۔ تم نے اپنے انگریزی میڈیم ادارے کھولنے ہے تو ان ممالک میں کھولو جہاں کی زبان انگریزی ہے ۔یہ پاکستان ہے یہاں کی زبان اردو ہے لہذا دنیا کے اصولوں کے مطابق یہاں کی عدالت ‘ سرکار ‘ تعلیم کی زبان صرف اور صرف اردو ہوگی’ اگر اپ نے اپنے سکول قائم کھنے ہیں تو اس اصول پر اپ کو بھی عمل کرنا ہوگا”
    پاکستان میں بہتر سال سے انگریزی جونک کی طرح چمٹی ہوئی ہے
    سرکار ی زبان انگریزی
    عدالت کی زبان انگریزی
    تعلیمی زبان انگریزی
    عسکری اور مقابلے کے امتحان کی زبان انگریزی
    تمام ملازمتوں کے حصول کے لئے انٹرویو کی زبان انگریزی
    اتنی انگریزی مسلط ہونے کے باوجود پاکستان نے علم سائنس ‘ اور ٹیکنالوجی میں کتنی ترقی کی ہے؟ اور جن ممالک نے پاکستان کے ساتھ یا بعد میں جنم لیا وہ اپنی زبان میں تعلیم کے بل بوطے پر کہاں جا پہنچے؟ چین اور کوریا اس میں سر فہرست ہیں۔
    اعلی انگریزی میڈیم ادارے کا پیدا کردہ ایک سائنس دان یا انگریزی کا نوبل پرائز کا حامل ایک ادیب ہی بتادیں۔
    ڈاکٹر عبدا لقدیر’ ڈاکٹر عبد السلام ‘ ڈاکٹر قمر الزماں سب اردو میڈیم ٹاٹ سکول کی پیداوار ہیں۔ اور اگر ان کا زریعہ تعلیم بھی میٹرک کی سطح تک انگریزی ہوتا تو یہ بھی کسی ادارے میں زیادہ سے ” بابو ” کی نو کری کر رہے ہوتے ۔پاکستان کبھی بھی ایک جوہری طاقت نہ بنتا۔ ان کی بنیاد اردو زریعہ تعلیم تھی۔
    انگریزی کو بنیادی زریعہ تعلیم بنانے والوں نے اس ملک کو گونگی ‘بہری ‘ رٹاباز ‘ ٹیوشن مافیا’ ںوٹی مافیا’ اقدار و اخلاق سے عاری ‘ دونمبر ‘ نمود و نمائش ‘ بدعنوانی اور جعلسازی سے بھرپور قوم بنایا ہے ۔
    وزیراعظم صاحب! اپ سے درخواست ہے کہ اپ وزیر تعلیم پنجاب کی اج نفاذ اردو فیصلے سے انحراف کی پریس کانفرنس کی جواب طلبی کریں۔ کیونکہ پاکستانی عوام اپ سے اپ کی اردو کی محبت سے واقف ہے اپ نے اپنی خود نوشت میں خود انگریزی غلامی بیزاری کا اظہار واشگاف الفاظ میں کیا ہے۔
    آپ کا فرمان ہے’
    ” پاکستانیوں سے انگریزی میں بات کرنا بائیس کڑوڑ عوام کی توہین ہے”
    اور ہم اس میں اضافہ کرتے ہیں کہ
    پاکستان میں انگریزی کا ناجائز جبر برقرار رکھنے کی بات کرنا دراصل:
    توہین فرمان قائد اعظم ہے
    توہین آئین ہے
    توہین عدالت ہے
    توہین عوام
    توہین وقار پاکستان ہے!
    وزیراعظم صاحب! لوگوں کی نفاز اُردو کے لئے اپ سے بہت زیادہ امید یں وابستہ ہیں ۔براہ کرم ! انہیں مایوس نہ کیجئے!
    براہ کرم! انگریزی کےناجائز تسلط اور غلامی کے خاتمے کے لئے اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کیجئے!

  • نفاذِ اردو کے لیے ہمارا سفر ۔۔۔ فاطمہ قمر

    نفاذِ اردو کے لیے ہمارا سفر ۔۔۔ فاطمہ قمر

    ہم ہر اس پاکستانی کو خوش آمدید کہتے ہیں اور اس کے ساتھ چلنے کو تیار ہیں جنہوں نے ہمیں دیکھ کر یا ہماری دعوت پر نفاذ اردو کا جھنڈا اٹھایا ہے۔ ہم نے نفاذ اردو کی آواز عملی طور پر ایسے اجتماعات میں بلند کی جہاں انگریزی کی غلامی کے خلاف بات کرنا ” کفر ” سمجھا جاتا تھا۔ جب ہم پاکستان میں نفاذ اردو کی بات کرتے تھے لوگ ہمیں ہونق ہو کر دیکھتے تھے۔ ہمارا مذاق اڑاتے تھے’ ہم نے نفاذ اردو کا پیغام پاکستان کے سب سے بڑے انگریزی غلامی کے علمبردار ایچی سن کالج سمیت پاکستان کی ہر مقتدر شخصیت کو دیا۔ ہم نے آرمی چیف کو خط لکھا کہ وہ آئین کی پاسداری کرتے ہوئے براہ کرم اپنے عہدے کا حلف اردو میں لیں ۔الحمدللہ! آرمی چیف نے ہماری بات کی لاج رکھی اور پاکستان کے پہلے آرمی چیف بنے جنہوں نے اُردو میں حلف لیا!
    ہم نے موجودہ وزیر خارجہ کو اقوام متحدہ میں اردو میں خطاب کرنے کے لیے قائل کیا۔
    الحمداللہ! انہوں نے ہماری درخواست پر اقوام متحدہ میں پہلی مرتبہ اردو میں بات میں کر کے اقوام عالم میں پاکستان کا وقار بلند کیا!
    ہم نے لاہور ‘ اسلام آباد میں نفاذ اردو کی ملک گیر کامیاب کانفرنسیں منعقد کی ہیں!
    ہم نے سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کو آئین کی شق 251 جو پاکستان کی زبانوں کے حوالے سے ہے اس پر عملدرآمد کی طرف توجہ دلائی۔ اس سلسلے میں ان کو عملی طور پر ان کے مقدمے کے ترجمے بھی اردو میں کر کے دیے جس سے متاثر ہوکر چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے ایک اسلام آباد کے وکیل کوکب اقبال کا پرانا مقدمہ جو 2003 میں مٹی کی گرد میں دبا ہوا تھا جس کی سماعت جسٹس ناصر الملک کررہے تھے۔ انہوں نے عدالت عظمیٰ کو بطور خاص درخواست دے کر اس کی سماعت شروع کی۔۔۔اور اپنی سبکدوشی کے آخری لمحوں میں نفاذ اردو کا تاریخ ساز فیصلہ کرکے اپنا نام تاریخ میں رقم کر گئے۔ اور آج بھی وہ اس مقدمے کے نفاذ سے الگ نہیں ہیں ۔ گاہے بگاہے اس مقدمے کے حوالے سے ہماری رہنمائی کرتے رہتے ہیں۔ لمز یونیورسٹی جیسے انگریزی میڈیم ادارے سے وابستہ ہوکر وہاں طلباء اور اساتذہ میں نفاذاردو کا شعور بیدار کر رہے ہیں۔
    پورا پاکستان نفاذ اردو کے حوالے سے ہماری کوششوں سے واقف ہے۔ ہم نفاذ اردو کی جنگ عدالتوں’ سڑکوں’ ذرائع ابلاغ’ بازاروں’ ریستوران’ تعلیمی اداروں’ دفتروں غرض ہر جگہ لڑ رہے ہیں۔۔
    ہماری کانفرنس میں پاکستان کی ہر مقتدر شخصیت ‘ تمام شعبہ زندگی’تمام سیاسی جماعتوں، سول و عسکری قیادت آتی رہی ہے ۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان’ جنرل حمید گل مرحوم، جنرل راحت لطیف’ بریگیڈیئر حامد سعید’ جنرل غلام مصطفی ‘ اوریا مقبول جان’ عرفان صدیقی’ سابق سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد خان’ مجیب الرحمٰن شامی’ ڈاکٹر اجمل نیازی’ ڈاکٹر خواجہ ذکریا’ پروفیسر فتح ملک’ اعجاز چوہدری ‘ محمود الرشید’ سعدیہ سہیل’ بشری رحمن’ سابق وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق ‘ڈاکٹر فاطمہ حسن’ سابق وزیر اطلاعات پرویز رشید’ ڈاکٹر جاوید منظر’ سابق وزیر تعلیم رانا مشہود’ سابق وزیر بلوچستان صالح بلوچ’ قیوم نظامی’ ابصار عبدالعلی ‘ ڈاکٹر افتخار بخاری’ جسٹس ناصرہ اقبال’ سمیعہ راحیل قاضی اور ایک لمبی فہرست ہے جو ہماری کوششوں سے واقف ہیں۔ ہم اپنی تحریک کے قائد عزیز ظفر آزاد کی قیادت میں دن رات نفاذ اردو کے لئے سر گرم ہیں۔ ان شاءاللہ اردو کو پاکستان کا نظام زندگی بنا کر ہی دم لیں گے!
    ہم نے تہیہ کیا ہے کہ اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک اردو کو پاکستان کی عدالتی ‘ سرکاری اور تعلیمی زبان نہ بنادیں!
    ان شاءاللہ! اللہ کے فضل سے پاکستان میں نفاذاردو کی منزل بہت قریب ہے!
    فاطمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

  • اردو ہے جس کا نام ۔۔۔ فاطمہ قمر

    اردو ہے جس کا نام ۔۔۔ فاطمہ قمر

    گزشتہ روز ہم اور پروفیسر سلیم ہاشمی یو ایم ٹی کے ماہانہ ادبی ناشتے میں بطور مہمان خصوصی مدعو تھے ۔ لیکن پروفیسر سلیم ہاشمی بوجہ علالت کے اتنی شاندار تقریب میں شرکت نہ کر سکے ۔لیکن انہوں نے مجھے بطور خاص ہدایت کی ان کی نمائندگی درویش صفت تحریک ‘ قومی سوچ کے حامل’ ماہر اقتصادیات ‘ ماہر تعلیم سابق اکاؤنٹنٹ جنرل پنجاب اور پاکستان قومی زبان تحریک کے مرکزی رہنما جناب جمیل بھٹی صاحب کریں۔ جمیل بھٹی صاحب ایک سابق بیوروکریٹ ہونے کے ساتھ ساتھ مالیات سے متعلق بہت سی انگریزی کتب کے ترجمے بھی کر رہے ہیں ۔ آپ جامعہ پنجاب کے شعبہ انگریزی کے سابق سربراہ مرحوم اسمعیل بھٹی کے انتہائی لائق فرزند ہیں ۔ آپ نے حاضرین کو اپنی ملازمت کے دوران کےبہت سے اجلاس کا حال سنایا کہ بیوروکریسی میں تمام اجلاسوں اردو میں ہوتے ہیں لیکن ان کی کاروائی انگریزی میں لکھی جاتی ہے۔ انگریزی ذریعہ تعلیم کے ساتھ تعلیم مہنگی ہونے کے ساتھ ساتھ نوجوان نسل کو اپنی تہذیب سے بیگانہ کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ میری انگریزی شاعری کی دو کتب چھپ چکی ہیں ۔لیکن اس کے باوجود میں اردو اور پنجابی میں اپنے خیالات کھل ڈھل کر بیان کرسکتا ہوں”
    ہم نے اپنے خطاب میں مرزا الیاس اختر کا بہت شکریہ ادا کیا۔ جنہوں نے ہم سے اس تقریب کو منعقد کرنے کا ایک پرانا وعدہ اہداء کیا۔اگر چہ یہ وعدہ ادھورا ہے۔ کیونکہ ان کا ہم سے وعدہ تھا کہ وہ نفاذ اردو کے حوالے سے ایک بڑی کانفرنس منعقد کریں گے۔ انہوں نے پھر ہم سے وعدہ کیا ہے کہ وہ جلد ہی اس منصوبے کو عملی جامہ پہنائیں گے۔
    ہم نے اپنے خطاب میں حکومت سے مطالبہ کیا کہ بس! پاکستان میں اتنی اردو نافذ کردیں!
    جتنی برطانیہ میں برطانوی انگریزی
    ایران میں فارسی
    چینی میں چینی
    فرانس میں فرانسیسی
    جرمن میں جرمنی!
    اور انگریزی کو اتنی اختیاری حیثیت دے دیں جو ان ممالک نے دے رکھی ہے۔۔
    ہم نے حاضرین سے درخواست کی کہ نفاذ اردو فیصلے پر عملدرآمد کروانا ہر پاکستانی کی ذمہ داری ہے جہاں بھی نفاذ اردو فیصلے کی توہین ہورہی ہے۔ہر پاکستانی اس توہین کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرے”
    یہ بہت خوش آئند بات تھی کہ تقریب میں دو انگریزی میڈیم اداروں کے سر براہان اور نوجوان بھی شریک تھے۔ انہوں نے ہماری باتیں بہت غور اور دلچسپی سے سنیں۔ انگریزی میڈیم ادارے نے ہمیں اپنے ادارے میں نفاذاردو کا لیکچر دینے کی دعوت دی۔
    الحمداللہ! نفاذ اردو کے حوالے سے نوجوانوں میں بہت شعور پیدا ہورہا ہے جو ایک روشن صبح کی امید ہے۔ معروف ادیبہ اور شاعرہ تسنیم کوثر نے ہمارا یہ کہہ کر حوصلہ بڑھایا۔ ” فاطمہ قمر کی تقریب ہو اور میں نہ جاؤں”
    اصل میں یہ تسنیم کوثر کی خود اردو سے محبت کا ثبوت ہے۔
    میجر ریٹائرڈ خالد نصر ہمیشہ وقت کی پابندی کرتے ہیں۔ اور بہت جذبے اور شوق کے ساتھ وقت پر تشریف لائے۔۔آپ ادبی لحاظ سے بہت سر گرم ہیں۔
    گورنمنٹ کالج ٹاؤن شپ کی سابق پرنسپل محترمہ ساجدہ پروین اور فوزیہ محمود فروا نے ہماری دعوت پر بطور خاص پروگرام میں شرکت کی۔ اور ایک صاحب سیدھا اسلام آباد سے تقریب میں شرکت کرنے پہنچے۔
    بہت سے لوگوں کے انباکس میں پیغامات آئے کہ انہوں نے پیغام دیر سے دیکھا جب تقریب ختم ہوچکی تھی۔۔
    اتنی پروقار تقریب کا انعقاد کرنے پر ہم مرزا الیاس اختر اور یو ایم ٹی انتظامیہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
    پروفیسر سلیم ہاشمی کو تقریب میں شرکت نہ کرنے کا بہت افسوس رہا ۔اپ کے الفاظ ہیں ” کہ یو ایم ٹی کے فورم سے نفاذاردو کی بات کرنا میرا خواب رہا ہے”
    ان شاءاللہ! اللہ کی ذات سے یقین کامل ہے کہ وہ پروفیسر سلیم ہاشمی اور ہم سب کا نفاز اردو کا خواب شرمندہ تعبیر کرے گا! ان شاءاللہ
    ان تمام معزز مہمانوں کا شکریہ جنہوں نے ہماری دعوت پر اس تقریب میں شرکت کی۔

    فاطمہ قمر
    پاکستان قومی زبان تحریک