Baaghi TV

Tag: قومی سلامتی

  • سابق را چیف اجیت دوول تیسری بار بھارتی قومی سلامتی کا مشیر مقرر

    سابق را چیف اجیت دوول تیسری بار بھارتی قومی سلامتی کا مشیر مقرر

    مودی نے تیسری بار وزیراعظم بننے کے بعد سابق را چیف اجیت دوول کو تیسری بار قومی سلامتی کا مشیر مقرر کر دیا ہے

    اجیت دوول مودی سرکار میں پہلے بھی قومی سلامتی کے مشیر رہ چکے ہیں،اب وہ مودی سرکار کی تیسری حکومت میں بھی قومی سلامتی کے مشیر کے طور پر کام کریں گے،مودی نے اجیت دوول کی بطور قومی سلامتی مشیر تقرری کی منظوری دے دی ہے اور ان کی تقرری 10 جون سے کی گئی ،پی کے مشرا کو بھارتی وزیراعطم مودی کا پرنسپل سیکرٹری تعینات کیا گیا ہے،اجیت دوول کا عہدہ کیبنٹ وزیر کے برابر ہوگا۔

    بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے سابق سربراہ اجیت دوول کو پہلی مرتبہ 2014 میں قومی سلامتی کا مشیر بنایا گیا تھا اور وہ مودی کی گزشتہ دو حکومتوں میں یہ ذمہ داریاں انجام دے چکے ہیں،اب وہ تیسری بار بھی مشیر قومی سلامتی ہوں گے، مودی اجیت دوول پر اعتماد کرتے ہیں اسی لئے انہیں تیسری بار اہم عہدہ دیا ہے.بھارتی وزیراعظم کا سب سے قابل اعتماد افسر قومی سلامتی کا مشیر ہی ہوتا ہے۔ اسٹریٹجک معاملوں کے ساتھ ہی داخلی سیکورٹی کے معاملوں میں بھی وہ وزیراعظم کی مدد کرتا ہے۔ کب کیا فیصلہ لینا صحیح ہوگا، اس کا بھی وزیراعظم کو وہ مشورہ دیتا ہے۔

    ڈاکٹرپی کے مشرا کو پردھان سکریٹری اور اجیت کوقومی سلامتی کے مشیر کے طورپر پھر تقرری ہونے سے یہ دونوں بھارتی وزیراعظم کے ساتھ سب سے زیادہ وقت کام کرنے والے پرنسپل سکریٹری بن گئے ہیں۔ 1968 بیچ کے آئی پی ایس افسراجیت دہشت گردانہ مخالف معاملوں اور نیوکلیئرموضوعات کے ایکسپرٹ ہیں،جبکہ ڈاکٹرپی کے مشرا 1972 بیچ کے ریٹائرڈ افسر ہیں، جو ہندوستانی حکومت کے زرعی سکریٹری کے عہدے سے ریٹائرہونے کے بعد گزشتہ دو حکومتوں سے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ ہیں۔ 2014 میں مودی کے وزیراعظم بننے سے پہلے سے ہی دونوں مودی کے ساتھ تھے.

    گجرات کا "قصائی” مودی دہلی میں مسلمانوں پر حملے کا ذمہ دار ،بھارت کے اندر سے آوازیں اٹھنے لگیں

    دہلی میں پولیس بھی ہندوانتہا پسندوں کی ساتھی، زخمی تڑپتے رہے، پولیس نے ایمبولینس نہ آنے دی

    دہلی جل رہا تھا ،کیجریوال سو رہا تھا، مودی سن لے،ظلم و تشدد ہمیں نہیں ہٹا سکتا، شاہین باغ سے خواتین کا اعلان

    دہلی میں ظلم کی انتہا، درندوں نے 19 سالہ نوجوان کے سر میں ڈرل مشین سے سوراخ کر دیا

    دہلی تشدد ، خاموشی پرطلبا نے کیا کیجریوال کے گھر کا گھیراؤ، پولیس تشدد ،طلبا گرفتار

    دہلی میں ایک ماہ کیلئے دفعہ 144 نافذ،مسلمانوں‌ کو گھروں سے نہ نکلنے کی ہدایت

    مسلمانوں کے قتل عام پر خاموش،گھر کا گھیراؤ ہونے پرکیجریوال نے کی فوج طلب،مودی نے کیا انکار

    دہلی میں منصوبے کے ساتھ حملے کئے گئے، سونیا گاندھی کا انکشاف، کہا امت شاہ دے استعفیٰ

  • قومی سلامتی کمیٹی  اجلاس،ایرانی جارحیت کا جواب دینےپرمسلح افواج کو خراج تحسین

    قومی سلامتی کمیٹی اجلاس،ایرانی جارحیت کا جواب دینےپرمسلح افواج کو خراج تحسین

    ایران کیساتھ کشیدہ صورتحال پر وزیراعظم انوار الحق کی زیرصدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا،

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سمیت عسکری و سول قیادت قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں شریک ہوئی،قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد ،سربراہ پاک فضائیہ ،پاک بحریہ،نگرن وزیرخارجہ جلیل عباس جیلانی،نگران وزیرخزانہ ڈاکٹرشمشاد اختر،سیکرٹری داخلہ،سیکرٹری خارجہ ،انٹیلی جینس اداروں کے اعلیٰ حکام شریک ہیں،

    نگران وزیر خارجہ نے سفارتی محاذ اور اعلی عسکری حکام کی پاک ایران سرحدی صورتحال پر مفصل بریفنگ دی،وزیرخارجہ جلیل عباس جیلانی نے ایرانی وزیرخارجہ کے ساتھ ہونے والی گفتگو سے قومی سلامتی کمیٹی کو آگاہ کیا۔دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کی گفتگو میں تمام تنازعات کو سفارتی طور پرآگے بڑھانے پر بات چیت ہوئی،اجلاس میں دہشت گردی کی لعنت کے خاتمے کیلئے انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں جاری رکھنے پر اتفاق ہوا ، قومی سلامتی کمیٹی نے سفارتی رابطوں اور کشیدگی میں کمی کی کوششوں پر اطمینان کااظہار کیا،اجلاس میں ایران کو دیئے گئے جواب پر بھی مکمل بریف کیا گیا،اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان کی سلامتی کو مقدم رکھا جائے گا، قومی سلامتی کمیٹی نے دفاع وطن کے لئے مسلح افواج کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا،

    قومی سلامتی کمیٹی نے پاکستان کی سالمیت اورخودمختاری کا ہر قیمت پر تحفظ کرنے کا اعادہ کیا، اجلاس میں نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ ہمارا جواب موثر اور اہداف کے حصول پر مبنی تھا، پاکستان ایک پرامن ملک ہے، تمام ہمسائیوں سے امن کیساتھ رہنا چاہتے ہیں،

    نگران وزیراعظم انوارالحق پاکستان نہیں تھے تاہم انہوں نے ایرانی حملے کے بعد دورہ مختصر کیا اور پاکستان پہنچے،قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کے بعد وفاقی کابینہ کا اجلاس بھی ہو گا، قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کا اعلامیہ بھی جاری کیا جائے گا

    پاکستان کا جوابی وار، ایران میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا،

     پاکستانی خود مختاری کی خلاف ورزی تعلقات، اعتماد اور تجارتی روابط کو نقصان پہنچاتی ہے

    شہباز شریف نے ملکی فضائی حدود میں ایرانی دراندازی کی مذمت کی

    وجہ سمجھ نہیں آتی جو ایران کی طرف سے ہوا

     انڈین وزیر خارجہ کے دورہ ایران سے شکوک وشبہات میں اضافہ ہورہا ہے ۔

    پاکستان نے بدلہ لے لیا،بڑی کاروائی،میزائلوں کی بارش،دشمنوں پر کاری ضرب

    ایران کے پاس اب آپشن ہے کہ یا تو خاموش ہو جائے یا پھر جنگ کے طویل سفر کے لئے تیار ہو جائے

    پاکستان کی خود مختاری اور سالمیت پر یہ حملہ ایران کی طرف سے جارحیت کا کھلا ثبوت

    پاکستان نے ایران سے اپنے سفیر کو بلانے اور ایرانی سفیر کو واپس بھیجنے کا اعلان کیا 

    نئی عالمی سازش،ایران کا پاکستان پر حملہ،جوابی وار تیار،تحریک انصاف کا گھناؤنا کھیل

    پاکستان میں ہمارا ہدف دہشت گرد تھے ، پاکستانی شہری نہیں

    واضح رہے کہ ایران نے بلوچستان پر میزائل حملہ کیا جس کے بعد پاکستان نے فوری مذمت کی،اسکے بعد پاکستان نے ایران سے اپنے سفیر کو بلانے اور ایرانی سفیر کو واپس بھیجنے کا اعلان کیا ہ,پاکستان نے ایران سے اپنا سفیر واپس بلا لیا ، ایرانی سفیر کو واپس بھیجا،پاکستانی حکام کے ایران کے تمام دورے ملتوی کر دیئے گئے،یہ ردعمل ایران کی جانب سے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر دیا گیا ہے۔پاکستانی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ غیر قانونی ایرانی قدم کے جواب کا حق رکھتے ہیں ساری زمہ داری ایران کی ہو گی،بعد ازاں پاکستان نے ایران کو منہ توڑ جواب دیا،ایران میں دہشت گرد وں کے کیمپوں‌کو نشانہ بنایا،پاکستانی فضائیہ نے ایران کے اندر علیحدگی پسندوں کے کیمپوں پر فضائی حملہ کیا۔پاکستان کے جوابی حملوں میں کسی سویلین یا ایرانی اہداف کو نشانہ نہیں بنایا گیا ہے پاکستان کو بلوچ دہشت گردوں کے ٹھکانے عرصہ دراز سے معلوم ہیں اور پاکستان نے کئی مرتبہ ایران کو بتایا ہے۔

  • آڈیو لیکس، قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس طلب

    آڈیو لیکس، قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس طلب

    آڈیو لیکس کا معاملہ، وزیراعظم نے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس طلب کرلیا

    قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بدھ کو وزیراعظم ہاوس میں طلب کر لیا گیا ہے اجلاس میں سیکیورٹی معاملات اور سیلاب سمیت دیگر معاملات پر غور ہوگا ، قومی سلامی کمیٹی اجلاس میں عسکری اور سول قیادت شریک ہو گی، اجلاس میں آئی ایس آئی اور آئی بی کے سربراہان بھی شرکت کریں گے ،میڈیا رپورٹس کے مطابق اجلاس میں آئی بی اور آئی ایس آئی کے سربراہان خفیہ ریکارڈنگز کے متعلق قومی سلامتی کمیٹی کو بریف کریں گے اجلاس میں وزیر دفاع خواجہ آصف،، وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ، وزیر خارجہ بلاول زرداری اور وزیر خزانہ بھی شریک ہوں گے

    قبل ازیں وزیر اعظم ہاؤس سے اہم ڈیٹا ہیک، تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطح پر تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں وزارت داخلہ نے تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دے دی جے آئی ٹی میں حساس اداروں کا نمائندہ شامل ہو گا، میڈیا رپورٹس کے مطابق تحقیقاتی ٹیم تحقیقات کرے گی کیسے آئی ٹی ڈیٹا ہیک کیا گیا،جے آئی ٹی کو وزیراعظم ہاؤس کے عملے کو شامل تفتیش کرنے کا اختیارہوگا،وزیر اعظم ہاؤس میں ڈیوائسز لگائی گئیں یا موبائل سے ریکارڈنگ کی گئی ،تحقیقات ہوں گی،تحقیقاتی ٹیم جائزہ لے گی کہ کون کون سے افسران وزیراعظم ہاوس میں موجود تھے،وزیراعظم سیکریٹریٹ میں 6 ماہ سے مامور اسپیشل برانچ کے اہلکاروں سے بھی تحقیقات ہوں گی،وزیر اعظم ہاؤس اور پی ایم آفس پر مامور سیکیورٹی اہلکاروں کی نقل و حرکت محدود کر دی گئی وزیر اعظم ہاؤس میں موبائل لے جانے کی اجازت نہیں تھی،

    گزشتہ روز وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا تھا کہ ہو سکتا ہے یہ باتیں پارلیمنٹ لاجز یا اسپیکرچیمبر میں کی ہوں اور وہاں سے لیک ہوئی ہوں، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ فون ہیک ہونا کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے،‏ہو سکتا ہے کسی کا فون ہیک ہوا ہو اور باتیں ریکارڈ کی ہوں،آڈیو لیکس میں کوئی سیریس باتیں نہیں تھیں اس لیے احتیاط نہیں برتی گئی، آڈیو لیکس پر وزیر اعظم نے نوٹس لیا ہے، آڈیو لیکس پر تحقیقات کاآغاز کیا جائے گا،ہ وزیر اعظم ہاؤس کی سیکیورٹی میں سے کوئی شخص ہو سکتا ہے،تحقیقات ہونے دیں ،اسکے بعد کارروائی کریں گے

    وزیراعظم شہباز شریف کی مبینہ آڈیو ٹیپ سامنے آگئی

    کوئی سیاست کے لیے اتنا کیسے گر سکتا ہے؟ پی ٹی آئی رہنماؤں کی آڈیو لیک پر ردعمل

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

  • افواج پاکستان کی قربانیوں کی بدولت ملک بھر میں ریاستی عملداری کو یقینی بنایا گیا

    افواج پاکستان کی قربانیوں کی بدولت ملک بھر میں ریاستی عملداری کو یقینی بنایا گیا

    قومی سلامتی کمیٹی کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے

    وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت بدھ کو وزیراعظم ہاؤس میں قومی سلامتی سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں قومی، پارلیمانی و سیاسی قیادت، ارکان قومی اسمبلی وسینٹ اور عسکری قیادت نے شرکت کی

    جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ سیاسی وعسکری قیادت کا قومی سلامتی پر اہم اجلاس ہوا وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس کی صدارت کی،اجلاس میں عسکری اور سیاسی قیادت نے شرکت کی،قومی سلامتی کے ذمہ دار اداروں کی جانب سے ملکی سلامتی کی مجموعی صورتحال پر بریفنگ دی ملک کی داخلی اور خارجہ سطح پر لاحق خطرات اور ان کے تدارک کیلئے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا ٹی ٹی پی کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے بارے میں بھی تفصیلات سے آگاہ کیا گیا، اجلاس کو تمام پس منظر سے آگاہ کیا گیا ،

    قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ افواج پاکستان کی بے مثال قربانیوں کی بدولت ملک بھر میں ریاستی عملداری اور معمول کی زندگی کی واپسی کو یقینی بنایا گیا ہے افغان حکومت کی سہولت کاری سے ٹی ٹی پی کےساتھ بات چیت کا عمل جاری ہے، سول اور فوجی نمائندوں پر مشتمل کمیٹی نمائندگی کرتے ہوئے آئین پاکستان کے دائرے میں بات چیت کررہی ہے۔حتمی فیصلہ آئین کی روشنی میں پارلیمنٹ کی منظوری سے ہوگا، پاکستان افغانستان میں امن اور استحکام کے لئے اپنا تعمیری کردار جاری رکھے گا،امید ہے افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا،

    اجلاس میں قرار دیاگیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کاوشوں اور قربانیوں کو دنیا نے تسلیم کیا۔ قوم اورافواج پاکستان کی بے مثال قربانیوں کی بدولت ملک بھر میں ریاستی عملداری ، امن کی بحالی اور معمول کی زندگی کی واپسی کو یقینی بنایاگیا ہے۔ آج پاکستان کے کسی حصے میں بھی منظم دہشت گردی کا کوئی ڈھانچہ باقی نہیں رہا

    کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز

    پولیس پہنچی تو میاں محمود الرشید گرفتاری کے ڈر سے سٹور میں چھپ گئے

    لانگ مارچ میں فیاض الحسن چوہان کتنے بندے لے کر نکلے،ویڈیو وائرل

  • قومی سلامتی کمیٹی کا ان کیمرا اجلاس طلب

    قومی سلامتی کمیٹی کا ان کیمرا اجلاس طلب

    قومی سلامتی کمیٹی کا ان کیمرا اجلاس طلب کر لیا گیا

    اجلاس 21 جون کو قومی اسمبلی ہال میں ہوگا قومی اسمبلی کا ایوان نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کیلئے مختص کرنے کی تحریک منظور کر لی گئی تحریک وزیر پارلیمانی امور مرتضی ٰجاوید عباسی نے پیش کی ،اجلاس میں عسکری قیادت قومی سلامتی سے متعلق امور پر سیاسی قیادت کو بریفنگ دے گی مولانا فضل الرحمان سمیت اہم شخصیات کو بھی مدعو کیا گیا ہے ایف اے ٹی ایف افغانستان کی صورتحال پر عسکری قیادت بریفنگ دے گی

    اجلاس کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں، اجلاس میں مولانا فضل الرحمان بڑے عرصے بعد شریک ہوں گے،

    قبل ازیں آج قومی اسمبلی اجلاس میں بجٹ پر بحث کی گئی، بجٹ کے علاوہ قومی اسمبلی میں سابق سپیکر قومی اسمبلی ، ن لیگ کے رہنما ایاز صادق تحریک انصاف کے چیئرمین، سابق وزیراعظم عمران خان پر خوب گرجےہیں، ایاز صادق کا کہنا تھا کہ صدر نے احتساب ایکٹ بغیر دستخط واپس بھیج دیا ہے،صدر عارف علوی کے اس اقدام کو اچھی نظر سے دیکھا نہیں جاسکتا، الیکشن ترامیمی بل بھی صدر نے بغیر دستخط واپس بھیج دیا، الیکشن کمیشن اور تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے الیکشن بل تیار کیا گیا موجودہ چیف الیکشن کمشنر بھی عمران خان نے لگایا تھا، عمران خان نے اپنے ذاتی مفاد کیلئے آئین کو داؤ پر لگایا،عمران خان اداروں کو دباؤ میں لانا چاہتے ہیں عمران خان کی مرضی سے ملک نہیں چل سکتا،صدر مملکت کسی ایک پارٹی کے صدر نہیں ہیں، صدر مملکت کو ایک پارٹی سے ڈکٹیشن نہیں لینی چاہیے اپنی کرسی کی خاطر عمران خان نے پارلیمان کی دھجیاں بکھیریں،صدر نے پہلی مرتبہ بھی الیکشن بل واپس بھیجا، دوبارہ پھر ایسا کیا، یہ ہماری کنپٹی پر پستول رکھ کر الیکشن نہیں چھین سکتے،کل قومی اسمبلی سیکریٹریٹ یہ ایکٹ نوٹیفائی کردے گا،صدر عارف علوی کا طریقہ کار درست نہیں، یہ آئین پاکستان سے اس طرح کھیلنے کی کوشش نہ کریں، اسپیکر عمران خان کی پاکستان ٹوٹنے ،فوج کے حوالے سے بات پر کارروائی کیلئے خط لکھیں،جس پر اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ ایاز صادق صاحب اب آئینی طریقہ یہی ہے جو آپ بتا رہے ہیں،

    لانگ مارچ، عمران خان سمیت تحریک انصاف کے رہنماؤں پر مقدمہ درج

    کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز

    پولیس پہنچی تو میاں محمود الرشید گرفتاری کے ڈر سے سٹور میں چھپ گئے

    لانگ مارچ میں فیاض الحسن چوہان کتنے بندے لے کر نکلے،ویڈیو وائرل

  • اداروں کیخلاف وال چاکنگ کرنے والا ملزم گرفتار

    اداروں کیخلاف وال چاکنگ کرنے والا ملزم گرفتار

    اداروں کیخلاف وال چاکنگ کرنے والا ملزم گرفتار

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق قومی سلامتی اداروں کے خلاف وال چاکنگ پر پولیس نے کاروائی کی ہے اور ملزم کو گرفتار کر لیا ہے

    واقعہ راولپنڈی کا ہے، پولیس نے قومی سلامتی اداروں کے خلاف دیوار پر تحریر لکھنے پر ملزم کے خلاف مقدمہ درج کے ملزم کو حوالات منتقل کر دیا ہے، پولیس کے مطابق تھانہ روات پولیس نے کاروائی کی ہے، پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ تھانے کی حدود میں قومی سلامتی اداروں کے خلاف جملے درج کئے گئے ہیں جس پر پولیس نے ایکشن لیاہے اور ملزم کو گرفتار کیا ہے،

    پولیس حکام کے مطابق روات پولیس نے دیوار پر اشتعال انگیز الفاظ کی تحریر سامنے آنے پرمقدمہ درج کیا اور ملزم سلیمان خالد کو ٹریس کرکے گرفتارکرلیا ،ملزم کو سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے پہچانا گیا ہے، ملزم کومیرٹ پر تفتیش کرتے ہوئے ٹھوس شواہدکے ساتھ چالان عدالت کیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ قومی سلامتی اداروں کے خلاف سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر بھی مہم چلانے والوں کو گرفتار کیا گیا ہے، اہم شخصیات اور اداروں کے‌خلاف سوشل میڈیاپر ٹرینڈ چلانے والوں کی فہرستیں تیار ہو گئی ہیں سوشل میڈیا پر اداروں کے خلاف سرگرم عمل صارفین کو نہ صرف گرفتار کیا جائے گا بلکہ دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات درج کئے جائیں گے ، اس ضمن میں پنجاب کے تمام شہروں میں اداروں پر تنقید کرنے والوں کی لسٹیں فراہم کر دی گئی ہیں، قانون نافذ کرنے والے ادارے متحرک ہو چکے ہیں،دوسری جانب اداروں پر تنقید کرنے والے تحریک انصاف کے کئی سوشل میڈیا کارکنان روپوش ہو چکے ہیں لاہور کے اندر کئی کارکنان نے ٹویٹر کا استعمال چھوڑ دیا ہے اور گرفتاری کے ڈر سے گھروں سے روپوش ہیں،پولیس مسلسل چھاپے مار رہی ہے تا ہم گرفتاریاں کئی افراد کی روپوشی کی وجہ سے نہیں ہو سکیں

    بھارت ، سال کے ابتدائی چار ماہ میں کی 808 کسانوں نے خودکشی

    سال 2020 کا پہلا چائلڈ پورنوگرافی کیس رجسٹرڈ،ملزم لڑکی کی آواز میں لڑکیوں سے کرتا تھا بات

    فیس بک، ٹویٹر پاکستان کو جواب کیوں نہیں دیتے؟ ڈائریکٹر سائبر کرائم نے بریفنگ میں کیا انکشاف

    ٹویٹر پر جعلی اکاؤنٹ، قائمہ کمیٹی اجلاس میں اراکین برہم،بھارت نے کتنے سائبر حملے کئے؟

    ہمارا سوشل میڈیا کا کوئی کارکن یا زمہ دار گرفتار نہیں،ترجمان تحریک لبیک پاکستان

    اداروں پر تنقید کرنیوالے گرفتاری کے خوف سے روپوش ہو گئے

    سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ کو ہراساں کرنے پر عدالت کا بڑا حکم

  • غیر ملکی سازش سے متعلق کوئی ثبوت نہیں ملا ، قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں بریفنگ

    غیر ملکی سازش سے متعلق کوئی ثبوت نہیں ملا ، قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں بریفنگ

    غیر ملکی سازش سے متعلق کوئی ثبوت نہیں ملا ، قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں بریفنگ
    وزیراعظم شہبازشریف کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا

    ایجنسیوں نے قومی سلامتی کمیٹی کو بریفنگ دی اور کہا کہ غیر ملکی سازش سے متعلق کوئی ثبوت نہیں ملا ،جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اجلاس میں واشنگٹن سے پاکستانی سفارتخانے کے مراسلے کا جائزہ لیا گیا،سابق پاکستانی سفیر نے قومی سلامتی کمیٹی کو مراسلے سے متعلق بریفنگ دی،تمام سیکیورٹی ایجنسیز نے خط کا دوبارہ جائزہ لینے کے بعد متفقہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ کوئی بیرونی سازش نہیں ہوئی،اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں گزشتہ قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کے منٹس کی توثیق کی گئی، سیکیورٹی ایجنسیوں کی معلومات کے مطابق کوئی بیرونی سازش نہیں ہوئی،

    امریکا میں پاکستان کے سابق سفیر اسد مجید نے قومی سلامتی کمیٹی کو بریفنگ دی اور بتایا کہ واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے کو ٹیلی گرام موصول ہوا کمیٹی نے اس ٹیلی گرام پر تبادلہ خیال کیا ،اجلاس میں وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ، وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب اور وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے شرکت کی وزیرمملکت برائے خارجہ حنا ربانی کھر اور سابق سفیر اسد مجید خان نے شرکت کی اجلاس میں جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی ، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ، ایئر چیف اور نیول چیف نے بھی شرکت کی

    قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس آج ہوا قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس وزیراعظم ہاؤس میں ہوا، شہباز شریف کے وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد پہلی بار قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا،

    قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کے بعد وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ قومی سلامی کمیٹی اجلاس کا ایک جامع اعلامیہ جاری کیا گیا ہے وہ ہر چیز کو کور کرتا ہے اور وہ اعلامیہ یہ بتاتا ہے کہ یہ سازش کا جو ڈرامہ رچانے کی کوشش کی جارہی ہے اور لوگوں کو کنفیوز کیا جارہا ہے کوئی ایسی چیز نہیں تھی

    تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے 27 مارچ کو اسلام آباد میں جلسے کے دوران ایک خط لہرا کر دکھاتے ہوئے دعویٰ کیا گیا تھا کہ ان کی حکومت کو گرانے کی سازش ایک بہت ہی طاقتور ملک کی جانب سے کی گئی

    بعد ازاں اس معاملے پر دفتر خارجہ نے اسلام آباد میں تعینات امریکی ناظم الامور سے احتجاج کرتے ہوئے ڈی مارش بھی جاری کیا تھا عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے کامیاب ہونے کے بعد منتخب ہونے والے وزیراعظم شہباز شریف نے پہلی ہی تقریر میں قومی اسمبلی میں مبینہ دھمکی آمیز خط کی تحقیقات کے لیے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلانے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ اگر بیرونی مداخلت ثابت ہو گئی تو وزارت عظمیٰ چھوڑ دوں گا

    وزیراعظم کو دھمکی آمیز خط کس نے بھیجا؟ بحث جاری

    دھمکی آمیز خط کونسی شخصیت کو دکھانا چاہتے ہیں؟ حکومت کا بڑا اعلان

    وزیراعظم کو دھمکی آمیز خط کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا

    دھمکی آمیز خط ،وزیراعظم نے سینئر صحافیوں کو دکھانے کا اعلان کر دیا

    دھمکی آمیز خط کے بارے تہلکہ خیز انکشافات سامنے آ گئے

    قوم سے خطاب مؤخر،خط کس نے لکھا ؟کتنی سخت زبان،کیا پیغام،عمران خان نے سب بتا دیا

    پیکنگ ہو گئی ،عمران خان کابینہ کے وزرا بیرون ملک بھاگنے کو تیار

  • پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کا ان کیمرا اجلاس طلب،وزیراعظم کا قوم سے خطاب بھی متوقع

    پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کا ان کیمرا اجلاس طلب،وزیراعظم کا قوم سے خطاب بھی متوقع

    پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کا ان کیمرا اجلاس طلب،وزیراعظم کا قوم سے خطاب بھی متوقع
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم عمران خان آج رات قوم سے خطاب کریں گے،

    دوسری جانب پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کا ان کیمرا اجلاس آج شام 6 بجے طلب کر لیا گیا ہے ،اجلاس میں وزیراعظم عمران خان کو دھمکی آمیز خط کے حوالہ سے بات چیت کی جائے گی،پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کا اجلاس سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے طلب کر لیا،قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی صدارت میں آج شام 6 بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہو گا،قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس میں خفیہ مراسلے پر بریفنگ دی جائے گی کمیٹی اجلاس میں کمیٹی ممبران کے علاوہ تمام پارلیمانی جماعتوں کے رہنماؤں کو شرکت کے لیے مدعو کیا گیا ہے۔
    متحدہ اپوزیشن نے اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے طلب کیے گئے پارلیمانی سیکیورٹی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے خط پارلیمنٹ میں سب کے سامنے لانے کا مطالبہ کر دیا، اپوزیشن نے مطالبہ کیا کہ دھمکی والا خط پارلیمنٹ میں لائیں اور وہاں اُس پر بحث کروائی جائے،

    پیپلز پارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کو ابھی تک قومی سلامتی پارلیمانی کمیٹی میں شرکت کی دعوت نہیں ملی،ن لیگی رہنما خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ خط جلسوں میں لہرایا جانے کے بجائے پارلیمنٹ میں پیش کیاجاتا، خط پر پارلیمنٹ میں بحث کرائی جاتی 40پنکچر والی اسٹریٹجی یہاں استعمال نہ کی جائے، یہ ڈرامہ عدم اعتماد کی تحریک کے دوران کیوں شروع ہوا؟خط جب موصول ہوا اسوقت ریلیزکیوں نہ ہوا، شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ خط سے قومی سلامتی کمیٹی کا کوئی تعلق نہیں،اسپیکر پر ہمارا کوئی اعتماد نہیں

    دوسری جانب قائد حزب اختلا ف شہبازشریف کی زیرصدارت متحدہ اپوزیشن کا اجلاس جاری ہے اجلاس میں بلاول بھٹو، مولانا فضل الرحمان،خالد مگسی، عامر خان اور دیگر بھی شریک ہیں خورشید شاہ ،خواجہ آصف ،خواجہ سعد رفیق اور دیگر بھی اجلاس کا حصہ ہیں اسپیکر کی جانب سے ان کیمرہ اجلاس پر بھی مشاورت جار ی ہے ،ن لیگ کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ عمران صاحب آپ کا اقتدار دیمک زدہ لاٹھیوں سے شروع ہوا، ساڑھے تین سال آپ لوگوں کے ضمیر کی آواز چوری کرکے امیر سلطنت کہلائے، کاش آپ عوام کی بنیادی ضروریات آٹا، چینی ،گیس ، کھاد اور دوائی کےبارے میں سوچتے، ذرا سوچئے گا یہ منصب تھا کس کے لیے اور آپ نے استعمال کس کے لیے کیا؟ جھوٹ ، انتشار، فساد،بدتمیزی ،بدتہذیبی اور تاریخی کرپشن آپکی شناخت رہے گی،

    آصف زرداری اور بلاول بھٹوکی شہباز شریف کی رہائش گاہ آمد ہوئی آصف زرداری اور بلاول بھٹوکی مولانا فضل الرحمان اور اختر مینگل سے بھی ملاقات ہوئی،ملاقات میں خالد مقبول صدیقی، شاہ زین بگٹی، خالد مگسی اور اسلم بھوتانی بھی موجود تھے یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف، شاہد خاقان عباس اورشیری رحمان بھی ملاقات کاحصہ تھے

    فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ 8مارچ کو عدم اعتماد کی تحریک جمع کرائی ،ہوم ورک مکمل ہے،جی ڈی اے کے ساتھ رابطہ ہے پیش رفت جلد سامنے آئے گی ڈبل سینچری کرنے جارہے ہیں پشاورسے جو بھی چپلی کباب آئے وہ نہیں کھانا

    وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گل کا کہنا ہے کہ ن لیگ اور پی ٹی آئی میں فرق ہے،وزیراعظم کا اپوزیشن سے رابطہ اور انتخاب کی طرف آنے کی کوئی بات علم میں نہیں،ترپ کے پتے سے متعلق عمران خان ہی بتائیں گے،میں نہیں بتاسکتا،ہماری حکمت عملی واضح ہے، عمران خان اکیلے ہی سب کا مقابلہ کریں گے خط کابینہ اراکین کو دکھا دیا گیا، قومی سلامتی کمیٹی میں بھی رکھیں گے خط کی حقیقت قوم کے سامنے ہے، ہم نے کسی ملک کا نام نہیں لیا اور نہ لیں گے عمران خان ہار نہیں مانیں گے لڑکر مقابلہ کریں گے خالد مقبول صدیقی اور خالد مگسی کو لیٹر نہیں دکھایا گیا وہ گزشتہ روز اجلاس میں نہیں تھے ہم اداروں کے خلاف بولنے والے نہیں ن لیگ والوں کو جب اداروں سے فائدہ نہیں ملتاتووہ ان کے خلاف بولتے ہیں مشکل وقت آیا تو وزیراعلیٰ سمیت سب کے خلاف بیانات سامنے آگئے

    مہنگائی مکاؤ مارچ مہنگائی کے کپتان سے نجات کا مارچ ہے،مریم اورنگزیب

    اتحادیوں کو منانے کا مشن،حکومت متحرک، اہم ملاقاتیں طے

    عمران خان کو کہہ دیا وقت سے پہلے الیکشن کرواؤ،شیخ رشید

    10 لاکھ لوگوں کو اسلام آباد لانے کا خرچہ کون اٹھا رہا ہے ؟سینیٹر پلوشہ خان

    ہنڈیا آدھی تو تقسیم ہوچکی،ابھی بہت سے ادا کار تبدیل ہونے ہیں،چودھری پرویز الہی

    ہم سلیکٹڈ کے سامنے نہیں جھکیں گے ،بلاول

    مہنگائی مکاؤ مارچ،مریم نواز نے نکلنے سے پہلے کیا کیا؟ تصاویر سامنے آ گئیں

    سرپرائیز آنا شروع، بزدار کیخلاف بھی تحریک عدم اعتماد جمع

    عدم اعتماد، وفاق، پنجاب کے بعد اگلی باری خیبر پختونخوا کی

    پرویز الہیٰ کو ایک بار پھر وزارت اعلیٰ کی پیشکش ہو گئی

    پرویز الہیٰ کے بنی گالہ پہنچتے ہی چودھری شجاعت کا بڑا اعلان

    بریکنگ،بزدار فارغ، پرویز الہیٰ وزیراعلیٰ پنجاب، حکومت نے اعلان کر دیا

    جب "باپ” ساتھ چھوڑ جائے گا تو پھر بچوں کی کیا جرات کہ وہ ساتھ رہیں

    خاندان میں اختلافات، چودھری شجاعت نے بڑا سرپرائز دے دیا

    عاصم نذیر بھی ن لیگ میں شامل ہو گئے؟ سرپرائز ہی سرپرائز

    حتمی فیصلہ 3 اپریل کو ہوگا،بجٹ کے بعد الیکشن ہونے چاہیں،شیخ رشید

    وزیراعظم کو دھمکی آمیز خط کس نے بھیجا؟ بحث جاری

    دھمکی آمیز خط کونسی شخصیت کو دکھانا چاہتے ہیں؟ حکومت کا بڑا اعلان

    وزیراعظم کو دھمکی آمیز خط کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا

    دھمکی آمیز خط ،وزیراعظم نے سینئر صحافیوں کو دکھانے کا اعلان کر دیا

    دھمکی آمیز خط کے بارے تہلکہ خیز انکشافات سامنے آ گئے

    قوم سے خطاب مؤخر،خط کس نے لکھا ؟کتنی سخت زبان،کیا پیغام،عمران خان نے سب بتا دیا

    پیکنگ ہو گئی ،عمران خان کابینہ کے وزرا بیرون ملک بھاگنے کو تیار

    عمران خان کو اپنے بھی چھوڑ گئے، پارلیمنٹ لاجز میں ہلچل،فائلیں جلائی جانے لگیں

  • پہلی قومی سلامتی پالیسی   ۔۔۔   دوست کون، دشمن کون ؟ تحریر: فیصل رانا

    پہلی قومی سلامتی پالیسی ۔۔۔ دوست کون، دشمن کون ؟ تحریر: فیصل رانا

    سیاسی ہلڑبازی اور معاشی افراتفری کی ہنگامی خیزیوں پر تو ہم روز بات کرتے ہیں ، آج پاکستان کی پہلی قومی سلامتی پالیسی کے متعلق بات کریں گے جس کا اجرا کردیا گیا ہے۔ 100 صفحات پر مشتمل اس پالیسی ڈاکومنٹ کے آدھے حصے کو پبلک کیا گیا ہے جبکہ باقی آدھے حصے کو مخفی رکھا گیا ہےکیونکہ قومی سلامتی کے تمام امور کو عوام کے سامنے نہیں رکھا جاسکتا اور نہ ہی یہ عام معلومات کیلئے ہوتی ہے۔ یہ قومی سلامتی پالیسی ڈاکومنٹ سول اور ملٹر ی اتفاق رائے کے بعد مرتب کیا گیا ہے۔ کل چھ حصوں پر مشتمل اس دستاویز کو مرتب کرنے کیلئے 600 سے زائد ماہرین سے آراء لی گئیں اور مشاورت کی گئی ہے حتی کہ اس کی جامعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے یونیورسٹز کے طلبا سے بھی اس پر آرا ء لی گئی ہیں۔

    یہ پالیسی معاشی، عسکری اورانسانی سکیورٹی کے 3 بنیادی نکات پرمشتمل ہےجبکہ معاشی سلامتی کو قومی سلامتی پالیسی میں مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔ قومی سلامتی پالیسی پر سالانہ بنیادوں پر نظرثانی کی جائے گی اور نئی حکومت کو پالیسی پر ردوبدل کا اختیار حاصل ہو گا کیونکہ سالانہ نظرثانی کا مقصد ہی یہ ہے کہ آنے والے وقت کے تقاضوں کے مطابق پالیسی کو پرکھا اور ماحول کے مطابق ڈھالا جاسکے۔ اس پالیسی کا محور پاکستان کی سلامتی اور استحکام کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرتے ہوئے دنیا میں پاکستان کے مقام کو نمایاں کرنا ہے اور اس کے لئے جیو-اسٹریٹیجک اور جیو-پولیٹیکل امور کلیدی جز ہیں اور اس میں معاشی سلامتی اور تحفظ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔

    قو می سلامتی کے چھ بنیادی حصے ہیں۔ 1۔ قومی ہم آہنگی، 2۔معاشی مستقبل کاتحفظ، 3۔دفاع اور جغرافیائی سالمیت، 4۔داخلی سلامتی، 5۔ بدلتی دنیا میں خارجہ پالیسی ، 6۔ اور انسانی سلامتی

    اب ان حصوں پر بھی فردا فردا بات کرلیتے ہیں کہ ان کی الگ الگ اہمیت کیا ہے اور ان کو کیوں انفرادی طور پر زور دیکر بیان کیا گیا ہے ۔

    قومی ہم آہنگی : اس حصے کا پہلا جز ہے کہ اسلامی جمہوریہ اور آئین کے مطابق ہمارے کرداراور وسیع ثقافت کےتحفظ کویقینی بنانے کا تعین کیا گیا ہے یعنی ہمارے ملک میں اسلامی تشخص کے مطابق فردی آزادیوں کا پاس رکھا جائے گا لیکن مادر پدر آزاد معاشرت ہماری قومی سلامتی کے منافی ہے۔

    اس حصے کا دوسرا جز ہے کہ سماجی اور اقتصادی عدم مساوات کا خاتمہ کیا جائے گا یعنی ملک میں امیر اور غریب میں بڑھتی ہوئی تفریق چاہے وہ معاشی لحاظ سے ہے کہ جہاں امیر تو امیر تر ہوتا جارہا ہے اور غریب مزید غریب ہورہا ہے تو اس کی وجہ سے بھی معاشرے میں ایک تقسیم پیدا ہوتی ہے جسے ختم کرنا اب قومی سلامتی کے اہم پہلو کی حیثیت اختیار کرگیا ہے۔ مضبوط وفاق کے قیام کیلئے اتحاد اور اتفاق رائے پیدا کرتے ہوئے جمہوریت کی مضبوطی اور سیاسی استحکام کے ذریعے ان اہداف کا حصول ممکن ہوسکتا ہے۔
    قومی ہم آہنگی کا تیسرا جز بہت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس میں زور دیا گیا ہے کہ حکومت اور ادارہ جاتی استعداد یا صلاحیت کو بڑھانا اب ہماری قومی سلامتی ذمہ داری بن چکی ہے۔ اقتدار کی نچلی سطح تک منتقلی ، ای گورننس کے ذریعے لوگوں تک سہولیات کی فراہمی اور رسائی کو آسان بناتے ہوئے عوامی خدمت کو مؤثر بنایا جائے گا۔ اب اسکا مطلب یہ ہے کہ جمہوریت صرف انتخابات کے ذریعے ایک حکومت سے دوسری حکومت کے قیام کا نام نہیں ہے بلکہ اس میں عوام کو کچھ ڈلیور کرنا بھی ہوتا ہے اور اگر ایسا نہیں کیا جائے گا تو اس سے عدم مساوات اور بدانتظامی پھیلے گی ، لوگوں کا اپنی ریاست پرسے یقین کمزور ہوگا اور ہم ان حالات کا سامنا ایک طویل عرصے سے کررہے ہیں لیکن اب اگر مقتدرہ میں یہ سوچ پیدا ہوئی ہے تو یقینا نیک شگون ہے۔

    قومی سلامتی پالیسی کے مرکزی نکتے پر اب بات کریں تو وہ ہےمعاشی مستقبل کا تحفظ اور یہ نکتہ زیادہ توجہ طلب ہے کیونکہ یہی وہ مدعا جس پر موجودہ قومی سلامتی پالیسی کا دارومدار ہے۔معاشی مستقبل کا تحفظ کیسے ممکن ہے۔ معاشی تحفظ اور خودمختاری کا حصول پائیدار ، مجموعی اورجامع مالی ترقی کےذریعے یقینی بنانا ہے۔ یعنی اگر ہم مسلسل گروتھ کو یقینی بنائیں اور تمام طبقات کی مشترکہ ترقی اور مالی بہتری کریں تو ہماری قومی سلامتی کا تحفظ یقینی ہوگا۔ پالیسی کے اس حصے کو مزید ذیلی حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے ۔

    1۔بیرونی عدم توازن:( یعنی روپوں میں کمانے اور ڈالر میں خرچ کرنے کے درمیان عدم توازن ہے جس کے سبب قرضے لینے پڑتے ہیں، اسکو ختم کرنے کیلئے ڈالر کمانے کے ذرائع بڑھانے ہوں گے اور یہ ایکسپورٹ اور ترسیلات زر کے ذریعے ممکن ہے۔ چنانچہ ان پہلوؤں پر سب سےزیادہ توجہ دینا ہوگی۔

    2۔ عمودی عدم مساوات: ( یعنی دولت کی غیر منصفانہ تقسیم اور اشرافیہ کے قبضہ کو ختم کرنا ہوگا جس میں ایک طبقہ پالیسی اور معیشت پر قابض ہے اوردوسرے کا استحصال کررہا ہے۔ مافیاز کاراج ، چینی، تیل، پیٹرول ، کھاد وغیرہ وغیرہ جس سے معاشرے میں عدم مساوات ہے ۔ اب یہ سلسلہ ختم کرنا ہوگا ورنہ یہ قومی سلامتی کیلئے ایک خطرے کے طور پر موجود رہے گا۔

    3۔افقی عدم مساوات: اس کا مطلب ہے کہ پاکستان میں علاقائی سطح پر ترقی یافتہ اور پسماندہ کے لحاظ سے جو تقسیم ہے اس کو ختم کیا جائے، بلوچستان، سابقہ فاٹا ، گلگت بلتستان، سندھ اور جنوبی پنجاب کے بہت سے علاقے ہیں جن کو مواقع ، وسائل فراہم کیے جائیں اور انہیں ترقی دی جائے تاکہ لوگوں کو بڑے شہروں کی طرف ہجرت نہ کرنی پڑے یوں معاشی اورمعاشرتی ترقی کا حصول یکساں طور پر ممکن ہوسکے گا۔

    4۔گروتھ اینڈ ڈویلپمنٹ: (عام طور پر اردو میں ہم ان دونو ں کو ایک ہی لفظ کے طور پر لیتے ہیں لیکن گروتھ کا مطلب بڑھوتری یا نشوونما ہے اور ڈویلپمنٹ کا مطلب ترقی ہے۔ جب ہماری انڈسٹری اور سروسز سیکٹر میں نشوونما ہوگی تو اسکا ایک مجموعی مثبت اثر آئے گا، ٹیکس جمع ہوگا اور زیادہ پیسہ ہوگا تاکہ ترقیاتی کاموں میں لگے اور اس طرح ہم ترقی کر سکیں گے لیکن اس کیلئے ضروری ہے کہ ہماری گروتھ مستحکم ہو ، کم از کم 6 فیصد کے حساب سے ہم ہر سال اپنی معیشت میں اضافہ کریں تو 20 لاکھ نوجوان جو ہر سال جاب کے مارکیٹ میں آتے ہیں انہیں کھپایا جا سکے گا ، اس لئے یہ ایک مسلسل عمل ہے جسے یقینی بنانا ہوگا۔

    تجارت ، سرمایہ کاری اور رابطہ کاری: ہم نے اگر ڈالر کمانے ہیں تو اس کیلئے ہماری انڈسٹر ی کا مضبوط ہونا ضروری ہے ، ٹیکسٹائل ہو یا کوئی اور شعبہ اس کی استعداد ِ کار بڑھانا ہوگی تبھی ہم درآمد ات بڑھا سکیں گے اور صرف یہی نہیں مزید نئی مارکیٹس ڈھونڈنا ہوں گی اور دوسروں کو اپنے ملک میں پیسہ لگانے کیلئے آمادہ کرنا ہوگا ، ایز آف ڈوئنگ بزنس کے ذریعے ، پھر پاکستان کی جغرافیائی اہمیت کو استعمال اور بروئے کا ر لاتے ہوئے علاقائی رابطہ کاری کو فروغ دیکر ہم قوم سلامتی کیلئے معاشی تحفظ کو حاصل کرسکتے ہیں۔
    5۔مالیاتی مینجمنٹ: ہم ہمیشہ ایک ہی مسئلے کا شکار رہتے ہیں کہ گروتھ بڑھانے کیلئے ڈالر خرچ کریں توہمارا مالیاتی خسارہ بڑھنے لگ جاتا ہے ، اب یہ قومی سلامتی کیلئے خطرہ بن رہا ہے کیونکہ اسکی وجہ سے ہمیں قرضے لینے پڑتے ہیں اور پھر قرض داروں جیساکہ آئی ایم ایف وغیرہ کی شرائط ماننا پڑتی ہیں، اس کی مینجمنٹ بہتر کرنا ناگزیر ہے اگر ہم قومی سلامتی اور معاشی تحفظ چاہتے ہیں۔

    6۔توانائی کا تحفظ: پہلی بار پاکستان میں حکومتی سطح پر انرجی سیکیورٹی پر زور دیا گیا ہے کیونکہ موجودہ توانائی کے حصول کا نظام ہماری قومی سلامتی کیلئے خطرہ بن چکا ہے۔ بجلی ، گیس اور پیٹرول تینوں توانائی کے حصول کے ذرائع ہیں ۔ بجلی اور گیس میں گردشی قرضہ ہمارے لئے قومی سلامتی خطرہ بن چکا ہے اور پیٹرول چونکہ باہر سے لینا ہماری مجبوری ہے تو اس کے لئے ڈالر خرچ ہوتے ہیں، چنانچہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اب اپنے گھریلو ذرائع یعنی ہائیڈرو الیکٹرک انرجی اور ونڈملز وغیرہ سے توانائی کا حصول کیا جائے گا ۔ جو ڈیم زیر تعمیر ہیں ان سے ہم 2030تک اپنی 60 فیصد ضروریات پوری کرنے کے قابل ہوجائیں گے۔ اس کیلئے توانائی کے حصول کے مقامی ذرائع، اسٹوریج کپیسٹی کو بڑھانا ہوگا تاکہ آئے روز کی عالمی قیمتوں کے اضافےسے زرمبادلہ پر دباؤ کم آئے، اس کے علاوہ ہمیں توانائی ذرائع کیلئے مقامی سطح پر مزید وسائل کی تلاش پر بھی کام کرنا ہوگا جوکہ معاشی مستقبل کے تحفظ کیلئے ناگزیر ہے۔

    7:تعلیم، تکنیک اور جدت: سستی معیاری تعلیم کا حصول اور اس کو عالمی تقاضوں سے ہم آہنگ رکھتے ہوئے ٹیکنالوجی اور جدت یا ایجادات کی اہلیت سے لیس کرنا ہوگا، موجودہ حالات میں اگر ہم اسی طرح چلتے رہے تو آئندہ 30 سال میں ہمارے تعلیم یافتہ لوگ عالمی جاب مارکیٹ کے تقاضوں کے مطابق کارآمد نہیں رہیں گے اور فرسودہ ہونے کی وجہ سے ورک فورس سے باہر نکل جائیں گے، اس لئے اپنے بچوں کو تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ جدید علم سے روشناس کرانا ہوگا بصورت دیگر ہم اس ریس سے نکل جائیں گے۔ اب گوگل ، فیس بک، وٹس ایپ سے بات آگے نکل چکی ہے ، ربوٹکس اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس ہیومن ریسورس کی تعریف بدل چکے ہیں، اب مشین پیزا تیار اور ڈرونز ڈلیور کرتے ہیں تو اس لحاظ سے ہمیں اپنی تیاری کرنی ہوگی ۔ مجھے خوشی ہے کہ بالاخر ہم اس بارے میں سوچنا شروع کررہے ہیں، اس لئے آج کے دور کے اعتبار سے معاشی تحفظ قومی سلامتی کا لازمی جز ہے ۔

    گلوبل ہیومن ریسورس(عالمی افرادی قوت): معاشی مستقبل کے تحفظ کے حصول کیلئے قومی سلامتی تناظر میں یہ اہم بات ہے جو اس ڈٖاکومنٹ میں سامنے رکھی گئی ہے، دنیا بھر میں لیبر یا ورک فورس کا 30 فیصد جنوبی ایشاء سے مہیا کیا جاتا ہے، اس لئے اب وقت کی ضرورت ہے کہ آپکی ورک فورس یا لیبر جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہو، اسکلڈ یا سیمی اسکلڈ لیبر کی ہی اب گلوبل مارکیٹ میں جگہ ہے ، ووکیشنل ٹریننگ سے بات اب آگے نکل چکی ہے ، اس لئے آپ کو جدید تعلیم و تربیت سے لیس کر کے ہنر مند افراد کو بیرون ملک بھیجنا ہوگا ۔ لوگوں کا باہر جانا اور وہاں سے زرمبادلہ کماکرملک میں بھیجنا معاشی تحفظ کیلئے چونکہ ضروری ہے اس لئے اس شعبے پر توجہ دینی ہوگی۔ جب پوری دنیا انفراسٹرکچر کی بہتری کی دوڑ میں لگی ہوئی ہے تو ایسا نہیں ہوسکتا کہ آپ ایک ان-پڑھ کو کرین آپریٹر کے طور پر بھیج دیں، 70 کی دہائی والی اپروچ اب نہیں چلے گی، اپنی ورک فورس کے ذریعے بہترین افرادی قوت ہمیں عالمی منڈیوں کیلئے تیار کرنا ہوگی۔

    معاشی اور معاشرتی پہلوؤں سے قومی سلامتی کے جن امور کو پالیسی فریم ورک کا حصہ بنایا گیا ہے ابھی میں نے صرف ان پر بات کی ہے ، مضمون کے دوسرے حصے میں سیکیورٹی اور دیگر پالیسی ایشوز پر بات کریں گے۔

    پہلی قومی سلامتی پالیسی ۔۔۔ دوست کون، دشمن کون ؟

    تحریر: فیصل رانا

  • قومی سلامتی پالیسی، ہر قیمت پر مادر وطن کا دفاع ناگزیر اولین فریضہ قرار

    قومی سلامتی پالیسی، ہر قیمت پر مادر وطن کا دفاع ناگزیر اولین فریضہ قرار

    قومی سلامتی پالیسی، ہر قیمت پر مادر وطن کا دفاع ناگزیر اولین فریضہ قرار
    وزیراعظم عمران خان نے پہلی قومی سلامتی پالیسی کےعوامی ورژن کا اجراء کر دیا ، اس حوالے سے جمعہ کو وزیراعظم آفس میں ایک تقریب ہوئی ، تقریب میں وفاقی وزراء ، قومی سلامتی کے مشیر ، ارکان پارلیمنٹ ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی ، تمام سروسز چیفس ، سینئر سول و فوجی حکام ، ماہرین ، تھنک ٹینکس ، میڈیا اور سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی ۔

    پاکستان کی پہلی قومی سلامتی پالیسی میں ہر قیمت پر مادر وطن کا دفاع ناگزیر اولین فریضہ قراردیا گیا ہے ،پالیسی کے مطابق ہمسائے میں جارحانہ اور خطرناک نظریئے کا پرچار، پرتشدد تنازعہ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے دشمن کی جانب سے کسی بھی وقت بطور پالیسی آپشن طاقت کے استعمال کے ممکنات موجود ہیں جنگ مسلط کی گئی تو مادر وطن کے دفاع کیلئے قومی طاقت کے تمام عناصر کیساتھ بھرپور جواب دیا جائے گا پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں کا ہر قیمت اور ہر صورت میں تحفظ کیا جائے گا ہر جارحیت کا جواب دینے کیلئے خود انحصاری پر مبنی جدید دفاعی ٹیکنالوجی پر توجہ مرکوز کی جائیگی ،مسلح افواج کو مزید مضبوط بنانے کے لیے روایتی استعداد کار کو تقویت دی جائے گی دفاعی پیدوار، مواصلاتی نیٹ ورک کی مرکزیت، جنگی میدان کی آگہی، الیکٹرانک وارفیئر صلاحیت کو تقویت دینگے ملکی دفاع کے لیے اسلحہ کی دوڑ میں پڑے بغیر کم سے کم جوہری صلاحیت کو حد درجہ برقرار رکھا جائے گا پاکستان کی جوہری صلاحیت علاقائی امن و استحکام کے لیے کلیدی اہمیت کی حامل ہے داخلی سلامتی کیلئے نیم فوجی دستوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تربیت، جدت، ضرورت پر توجہ مرکوز ہو گی فضاء، بحری، ساحلی سلامتی یقینی بنانے کے لیے ایوی ایشن سیکیورٹی پروٹوکول بہتر، بحری نگرانی بہتر کی جائے گی دیرپا، مضبوط فضائی نگرانی، اثاثوں کا نیٹورک، مواصلاتی نظام، کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام کو وسعت دی جائے گی بحری، تجارتی سلامتی اور انسداد بحری قزاقی، جرائم کے خاتمے کیلئے بحری قوت کو مزید مضبوط بنایا جائے گا سرحدی مسائل خصوصاً لائن آف کنٹرول، ورکنگ باؤنڈری پر توجہ مرکوز کی جائے گی دہشتگردی کے مکمل خاتمے کیلئے مغربی سرحد پر باڑ کی تنصیب، قبائلی اضلاع کی ترقی پر توجہ مرکوز رہے گی غلط اور جعلی اطلاعات اور اثر انداز ہونے کے لیے بیرونی آپریشنز کا ہر سطح پر مقابلہ کیا جائے گا

    قومی سلامتی پالیسی کے اجراء کی تقریب ،آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملٹری سیکیورٹی قومی سلامتی کا صرف ایک پہلو ہے،قومی سلامتی کے تمام پہلووں پر مشتمل جامع پالیسی کی تشکیل زبردست اقدام ہے یہ دستاویز قومی سلامتی کا تحفظ یقینی بنانے میں مددگار ہو گی،

    وزیراعظم عمران خان نے قومی سلامتی پالیسی کی دستاویز پر دستخط کر دیئے ،اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ معید یوسف اور نیشنل سیکیورٹی ڈویژن کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، پالیسی میں نیشنل سیکیورٹی کو صحیح معنوں میں واضح کیا گیا ہے ،دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں سویت یونین کی مثال ہمارے سامنے ہے ایک تگڑی فوج ہونے کے باوجود ایک نہ رہ سکا،اگرمعیشت کمزور ہوتو اس سے ملک کی سیکیورٹی بھی متاثرہوگی، ملک کو محفوظ بنانے پر مسلح افواج کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ھمارے پاس ڈسپلن اور تربیت یافتہ فوج ہے ماضی میں ہم نے ملک کو معاشی طور پر مستحکم نہیں کیا، کوشش ہے کہ ریاست اور عوام ایک راستے پر چلیں، ریاست اپنے کمزور طبقے کی ذمہ داری لیتی ہے مجبور ی میں آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑتا ہے،آئی ایم ایف کی شرائط ماننا پڑتی تھی آئی ایم ایف کی شرائط مانیں تو سیکیورٹی متاثر ہوتی ہے،بڑی محنت سے نیشنل سیکیورٹی پالیسی کومرتب کیا گیا ہے،

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ تعلیمی نظام بھی قوم بناتی ہے،سندھ کے سوا تمام صوبو ں کو ہیلتھ انشورنس دی ہے،پاکستان کو قانون کی حکمرانی کا چیلنج درپیش ہے،رسول اکرمﷺ ریاست مدینہ میں قانون کی پاسداری لے کر آئے قانون کی بالادستی نہ ہو تو معاشرے میں غربت ہوتی ہے قانون کی حکمرانی کے بغیر کوئی ملک ترقی نہیں کر سکتا،ملک کے شمالی علاقے سوئٹزر لینڈ سے زیادہ خوبصورت ہیں،

    مشیر قومی سلامتی معید یوسف کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تمام پالیسز اعلیٰ معیار کی ہیں،نیشنل سیکیورٹی پالیسی مکمل کرنے میں لمبا عرصہ لگا،ہر شعبے کی اپنی سیکیورٹی پالیسیز ہیں تعلیم کا قومی سلامتی سے براہ راست تعلق ہے،ہم نے پوری دنیا کی پالیسیاں دیکھی ہیں

    خیال رہے کہ گزشتہ دنوں وفاقی کابینہ نے ملک کی پہلی قومی سلامتی پالیسی کی منظوری دی ہے جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے پالیسی پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہ لینے پر سینیٹ میں احتجاج کیا تھا۔

    خان صاحب آپکے لیے ایک آفر ہے استعفی دو اور گھر جاؤ،جنید سلیم

    آپ کیلئے پٹرول کی قیمتیں روکنا تو کوئی مسئلہ ہی نہیں تھا تو اب کیا ہوا؟ فہد مصطفیٰ

    مت بھولو کہ عمران خان مافیا کے خلاف 24 سال جہاد کرنے کے بعد نہ صرف وزیرِاعظم بنا بلکہ کرپشن کی چٹانوں سے ٹکرایا، عون عباس

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج

    ‏تنخواہ اور پینشن ایک روپیہ نہیں بڑھائی ، پٹرول 25 روپے مہنگا کرکے بتا دیا سلیکٹڈ کے دل میں اس قوم کے لئے کتنا درد بھرا ہوا ہے، جاوید ہاشمی

    25 روپے اضافے جیسے عوام دشمن اقدام کا دفاع کوئی منتخب وزیر نھیں کرسکتا یہ فریضہ باہر سے لائے گئے پراسرارمشیر ھی کر سکتے ، سلمان غنی

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ مسترد، بڑا مطالبہ سامنے آ گیا

    میرے پاکستانیو….رات کے اندھیرے میں پٹرول بم گرا دیا گیا،ریٹ‌ ڈالر کے قریب پہنچ گیا

    اگر ٹیکس لیتے تو پٹرول کی قیمت 180 ہونی تھی،وزارت خزانہ

    رات سونے سے پہلے یہ کام کر لیں، خاتون رکن کا قومی سلامتی کمیٹی میں بریفنگ بارے تہلکہ خیز انکشاف