Baaghi TV

Tag: قومی سلامتی پالیسی

  • ۔وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو کا ملک کی پہلی قومی سلامتی پالیسی کے اجرا کا خیر مقدم

    ۔وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو کا ملک کی پہلی قومی سلامتی پالیسی کے اجرا کا خیر مقدم

    کوئٹہ:۔وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو کا ملک کی پہلی قومی سلامتی پالیسی کے اجرا کا خیر مقدم ،اطلاعات کے مطابق وزیراعلیٰ‌ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے پہلی قومی سلامتی پالیسی بنانے والوں کوخراج تحسین پیش کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ وقت کی ضرورت تھی

    وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو نے اس موقع پر کہا کہ قومی سلامتی پالیسی سیاسی و عسکری قیادت کے ملکی دفاع کے عزم کی عکاس ہے ۔وزیراعلئ بلوچستان نے کہا کہ قومی سلامتی پالیسی ملکی سلامتی اور مضبوط معیشت کی بنیاد ثابت ہو گی۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی پالیسی سے ملک کا دفاع اور معاشی مستقبل مزید مضبوط و محفوظ ہو گا ،قومی سلامتی پالیسی میں دفاع معیشت قومی تشخص سمیت ہر شعبہ کا احاطہ کیا گیا ہے

    وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو نے کہاکہ ایک جوہری صلاحیت کی حامل ریاست کو معاشی طور پر بھی مضبوط بنانے میں قومی سلامتی پالیسی اہم پیش رفت ہے،ملک کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کے لیۓ پاک افواج کا کردار ہمیشہ سے قابل فخر رہا ہے۔

    وزیراعلٰی نے کہا ہے کہ قومی سلامتی پالیسی کی چھتری تلے اب ہم بحثیت ایک قوم اپنے ملک کو ہر شعبہ میں ترقی یافتہ بنائیں گے۔اپنی کمزوریوں پر قابو پا کر پاکستانی قوم جلد ایک عظیم قوم کے طور پر ابھرے کی

  • قومی سلامتی کے تمام پہلوؤں پرپالیسی ایک زبردست اقدام ہے:آرمی چیف

    قومی سلامتی کے تمام پہلوؤں پرپالیسی ایک زبردست اقدام ہے:آرمی چیف

    اسلام آباد:قومی سلامتی کے تمام پہلوؤں پرپالیسی ایک زبردست اقدام ہے،اطلاعات کے مطابق پاک فوج کے سربراہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے قومی سلامتی پالیسی کے اجرا کے موقع پرغیر رسمی گفتگو میں کہا ہے کہ قومی سلامتی کے تمام پہلوؤں پرپالیسی ایک زبردست اقدام ہے۔

    اسلام آباد میں قومی سلامتی پالیسی کے اجرا کی تقریب ہوئی جس میں وزیراعظم عمران خان، وفاقی کابینہ کے ارکان، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اور مسلح افواج کے سربراہان شریک ہوئے۔

    پاکستان کی پہلی قومی سلامتی پالیسی جاری کر دی گئیاس موقع پر غیر رسمی گفتگو میں آرمی چیف کا کہنا تھاکہ قومی سلامتی کے تمام پہلوؤں پرپالیسی ایک زبردست اقدام ہے۔

    آرمی چیف کا کہنا تھاکہ ملٹری سکیورٹی قومی سلامتی کا ایک پہلو ہے اور یہ دستاویز قومی سلامتی کو یقینی بنانے میں مددگار ہوگی۔خیال رہے کہ گزشتہ دنوں ملک کی پہلی قومی سلامتی پالیسی کی منظوری دی گئی تھی۔

  • حکومت نے عالمی صورتحال دیکھتے ہوئے قومی سلامتی پالیسی تشکیل دی: ترجمان پاک فوج

    حکومت نے عالمی صورتحال دیکھتے ہوئے قومی سلامتی پالیسی تشکیل دی: ترجمان پاک فوج

    اسلام آباد:حکومت نے عالمی صورتحال دیکھتے ہوئے قومی سلامتی پالیسی تشکیل دی:اطلاعات کے مطابق پاکستان کی پہلی قومی سلامتی پالیسی کی تشکیل اور منظور پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ترجمان پاک فوج میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ حکومت نے عالمی صورتحال دیکھتے ہوئے کر قومی سلامتی پالیسی تشکیل دی۔

    نیشنل سکیورٹی پالیسی کی منظوری کے بعد پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل بابر افتخار کی طرف سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری کردہ بیان کے مطابق قومی سلامتی پالیسی کااجراءاہم سنگ میل ہے۔ پاکستان کی قومی سلامتی مضبوط بنانےمیں پالیسی انتہائی اہم ہے۔

     

     

    ترجمان پاک فوج کے مطابق جامع فریم ورک، قومی سلامتی کے پہلوؤں پر باہمی روابط کو تسلیم کرتی ہے۔ قومی سلامتی پالیسی ابھرتے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے ناگزیر ہے۔ حکومت نےعالمی صورتحال دیکھتےہوئے پالیسی تشکیل دی۔ افواج پاکستان قومی سلامتی پالیسی کے وژن کے مطابق کرداراداکریں گی۔

    اس سے قبل وفاقی کابینہ نے ایک تاریخی اقدام کے طور پر شہریوں پر مرکوز ملک کی پہلی جامع قومی سلامتی پالیسی کی منظوری دے دی ہے جس کی بنیاد اقتصادی سلامتی پر مبنی ہے۔

     

     

     

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری کے ہمراہ مشترکہ میڈیا بریفنگ میں کابینہ اجلاس کے فیصلوں کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے مشیر برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف نے کہا کہ گزشتہ روز قومی سلامتی کمیٹی کی جانب سے قومی سلامتی پالیسی (این ایس پی) کی توثیق کے بعد کابینہ نے اس کی منظوری دے دی ہے۔ میں اس کامیاب کوشش پر پوری قوم کو مبارکباد پیش کرنا چاہتا ہوں کیونکہ اگر کسی ملک کا قومی سلامتی کا وژن غیر واضح ہے تو اس کے تحت پالیسی بنانا بہت مشکل ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ اس پالیسی میں قومی سلامتی کے مجموعی پہلوؤں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے اور وزیر اعظم کی قیادت میں یہ ضابطہ بندی کی گئی ہے کہ اقتصادی سلامتی پالیسی کا بنیادی مرکز ہوگی۔ مضبوط معیشت دفاعی اور انسانی سلامتی پر مزید اخراجات کو یقینی بنا سکے گی۔ بیرونی اقدامات کے حوالے سے پالیسی کا مقصد ’’امن‘‘ہے۔

    نیشنل سکیورٹی پالیسی کے تحت قومی ہم آہنگی کے لئے ملک نے اپنے ثقافتی اور نسلی تنوع کے سب سے اہم پہلو کی نشاندہی کی ہے، اس حوالے سے قومی اتحاد قائم کیا جانا چاہئے۔ ہم ایک اسلامی ریاست ہیں اور اسلامی ملک کا نظریہ رکھتے ہیں لہذا قومی ہم آہنگی کے پالیسی پہلوؤں کو ملک کے تنوع پر مرکوز ہونا چاہئے، تنوع کے تمام پہلوؤں کو پالیسی کے دیگر عناصر کے ساتھ ساتھ لیا جائے گا۔

    مشیر قومی سلامتی کا کہنا تھا کہ نیشنل سکیورٹی پالیسی کے انسانی تحفظ کے پہلوؤں کی بنیادی توجہ آبادی ہے جو تحفظ صحت، آب و ہوا اور پانی، خوراک کی حفاظت اور صنف کے متعلق ہے۔ جہاں تک اقتصادی سلامتی کا تعلق ہے، اس پالیسی نے اس پر مناسب بحث کی ہے۔ پاکستان کی دوسری اہم تشویش معیاری انسانی وسائل کی تیاری ہے جو کہ مقامی سطح پر معیشت پر حتمی اثرات مرتب کرے گی، مزید برآں اقتصادی تحفظ کے باب میں بھی بات چیت کی گئی، پالیسی کے دیگر عناصر خودمختاری، علاقائی سالمیت پر روشنی ڈالتے ہیں جو دفاع اور فوجی سلامتی سے متعلق ہے۔

    انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی پالیسی کی تشکیل کا عمل 2014 میں دوبارہ شروع ہوا جو 7 سال میں مکمل ہوا کیونکہ اس میں بہت سی حساسیتیں اور پیچیدگیاں تھیں جبکہ اس عمل میں بڑے پیمانے پر گفت و شنید کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ تمام وفاقی وزارتوں اور صوبوں کے چار راؤنڈ کئے گئے ہیں جہاں انہوں نے گزشتہ سالوں میں ان پٹ دیا ہے۔ سول ملٹری قیادت اور اداروں نے مل کر کام کیا اور تمام سٹیک ہولڈرز کے اتفاق رائے کے بعد دستاویز کی منظوری دی گئی۔

    ڈاکٹر معید یوسف نے نجی شعبے، تعلیمی اداروں اور ماہرین کی عدم شرکت کے حوالے سے تنقید کے بارے میں کہا کہ 2014 سے تعلیمی اداروں، یونیورسٹیوں کے طلباء اور نجی شعبے سے تعلق رکھنے والے 600 سے زائد پاکستانی ماہرین نے پالیسی بنانے کے لئے اپنا کلیدی ان پٹ فراہم کیا۔ یہ ایک بھرپور مشاورتی عمل تھا جہاں اس دستاویز کے ایک ایک لفظ پر وسیع بحث کی گئی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وزیر اعظم نے ہدایت کی ہے کہ قومی سلامتی ڈویژن (این ایس ڈی) پالیسی کے نفاذ اور اس حوالے سے درپیش درپیش مسائل کے بارے میں این ایس سی کو ماہانہ بنیادوں پر آگاہ کرے گا۔

    انہوں نے مزید بتایا کہ یہ اجتماعی طور پر ایک خفیہ دستاویز ہوگی لیکن اگلے ہفتے یا دس دنوں میں وزیر اعظم کی جانب سے مکمل عوامی ورژن جاری کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پالیسی میں قومی سلامتی اور قومی معیشت کے باب شامل ہیں، اس حوالے سےجتنا زیادہ بحث کی جائے گی اتنا ہی بہتر ہوگا۔

    انہوں نے پوری قوم کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں میں اپنے تمام ساتھیوں، سول اور مسلح افواج کی قیادت کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہوں گا جنہوں نے اہم کردار ادا کیا۔

    ڈاکٹر معید نےمختلف سوالات کے جواب میں کہا کہ قومی سلامتی پالیسی ایک چھتری ہے جس میں معاشی، انسانی، داخلی، فوجی اور دیگر سیکورٹی خدشات جیسے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ پیر کو وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی (این ایس سی) کا اجلاس ہوا جس میں ملک کی پہلی قومی سلامتی پالیسی کی منظوری دی گئی۔

    اجلاس کے دوران پاکستان کی پہلی قومی سلامتی پالیسی 2022-2026 کو قومی سلامتی کے مشیر نے منظوری کے لیے پیش کیا۔ اجلاس میں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی، وزیر دفاع پرویز خٹک، وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری، وزیر داخلہ شیخ رشید احمد، وزیر خزانہ شوکت ترین، وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، تمام سروسز چیفس، قومی سلامتی کے مشیر اور دیگر اعلیٰ سول اور فوجی حکام نے شرکت کی۔