Baaghi TV

Tag: قومی سکواڈ

  • دورۂ آسٹریلیا کے لیے پاکستان کی اٹھارہ رکنی ٹیسٹ ٹیم کا اعلان

    دورۂ آسٹریلیا کے لیے پاکستان کی اٹھارہ رکنی ٹیسٹ ٹیم کا اعلان

    شان مسعود کی قیادت میں دورۂ آسٹریلیا کے لیے پاکستان کی اٹھارہ رکنی ٹیسٹ ٹیم کا اعلان کردیا گیا ہے۔ اس دورہ میں پاکستان کرکٹ ٹیم 14 دسمبر سے 7 جنوری کے درمیان تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کھیلے گی۔

    پاکستانی ٹیم کا اعلان چیف سلیکٹر وہاب ریاض نے کیا۔ یہ چیف سلیکٹر بننے کے بعد وہاب ریاض کا پہلا اسائنمٹ ہے۔ وہ گزشتہ ہفتے چیف سلیکٹر بنائے گئے تھے۔بائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرنے والے 34 سالہ شان مسعود پہلی بار پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کی قیادت کریں گے۔انہیں ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ25-2023 کے لیے قیادت کی ذمہ داری بابراعظم کی جگہ سونپی گئی ہے جو گزشتہ ہفتے ٹیسٹ کپتانی سے دستبردار ہوگئے تھے۔

    بائیں ہاتھ کے اوپننگ بیٹر صائم ایوب اور فاسٹ بولر خرم شہزاد پہلی مرتبہ پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم میں شامل کیے گئے ہیں۔ 22 سالہ صائم ایوب نےاس سیزن کی قائداعظم ٹرافی کے چار میچوں میں تین سنچریوں کی مدد سے553 رنز بنائے جس میں فیصل آباد کے خلاف فائنل میں میچ وننگ ڈبل سنچری قابل ذکر تھی۔انہوں نے اپنی شاندار فارم کو جاری رکھتے ہوئے پاکستان کپ ایکروزہ ٹورنامنٹ میں بھی سب سے زیادہ 397 رنز بنائے اور وہ ٹورنامنٹ کے بہترین بیٹر قرار پائے۔

    فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے دائیں ہاتھ کے 23 سالہ فاسٹ بولر خرم شہزاد نے اس سال قائداعظم ٹرافی میں 20.31 کی اوسط سے سب سے زیادہ 36 وکٹیں حاصل کی ہیں۔انہوں نے پاکستان کپ ایکروزہ ٹورنامنٹ میں بھی عمدہ بولنگ کرتے ہوئے 13 وکٹیں حاصل کیں۔

    پیس آل راؤنڈر فہیم اشرف جو آخری مرتبہ ٹیسٹ میچ انگلینڈ کے دورۂ پاکستان میں کھیلے تھے ٹیم میں واپس آئے ہیں اسی طرح محمد وسیم جونیئر اور میرحمزہ کی بھی ٹیسٹ ٹیم میں واپسی ہوئی ہے۔یہ دونوں نیوزی لینڈ کے خلاف ہوم سیریز میں ٹیم کا حصہ تھے جو دسمبر، جنوری میں کھیلی گئی تھی۔

    پاکستان کی اٹھارہ رکنی ٹیم ان کھلاڑیوں پر مشتمل ہے۔شان مسعود ( کپتان ) عامرجمال، عبداللہ شفیق، ابرار احمد، بابراعظم، فہیم اشرف، حسن علی، امام الحق، خرم شہزاد، میرحمزہ، محمد رضوان، محمد وسیم جونیئر، نعمان علی، صائم ایوب، سلمان علی آغا، سرفراز احمد، سعود شکیل اور شاہین شاہ آفریدی۔

    چیف سلیکٹر وہاب ریاض کا ٹیم کے سلیکشن پر کہنا ہے کہ ٹیم آسٹریلیا کی چیلنجنگ کنڈیشنز کو مد نظر رکھتے ہوئے منتخب کی گئی ہے۔ وہاں کی پچز کو ذہن میں رکھتے ہوئے تیز بولرز زیادہ ٹیم میں رکھے گئے ہیں تاکہ تین ٹیسٹ میچوں میں کامبی نیشن تیار کرنے میں آسانی رہے۔انہوں نے کہا کہ صائم ایوب کو ڈومیسٹک کرکٹ میں شاندار پرفارمنس پر ٹیم میں شامل کیا گیا ہے انہوں نے قائداعظم ٹرافی اور پاکستان کپ دونوں میں متاثرکن کارکردگی دکھائی ہے۔ان کی شمولیت سے ٹیم کی بیٹنگ مزید مضبوط ہوگی جو پہلے ہی مضبوط ہے۔ پاکستان نے آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا آغاز اس سال سری لنکا میں جیت سے کیا ہے اور امید ہے کہ ٹیم آسٹریلیا میں بھی اس مومینٹم کو برقرار رکھے گی۔ ہم نے کوشش کی ہے کہ سلیکشن میں وہ تمام ضروری وسائل شامل کیے جائیں جن سے آسٹریلیا میں کامیابی حاصل کرنے میں مدد مل سکے۔

    پاکستان کا اسکواڈ 22 نومبر کو ٹریننگ کیمپ کے لیے راولپنڈی میں جمع ہوگا یہ کیمپ 23 سے 28نومبر تک پنڈی اسٹیڈیم میں جاری رہے گا۔ ٹیم 30 نومبر کو لاہور سے روانہ ہوگی۔پاکستان کرکٹ بورڈ نے ٹریننگ کیمپ کے لیے چند اضافی کھلاڑیوں کو بھی مدعو کیا ہے ان میں ارشد اقبال، کاشف علی، شاداب خان، شاہنواز دھانی، محمد نواز، عثمان قادر اور اسامہ میر شامل ہیں۔

    ٹیسٹ سیریز کا شیڈول:

    پہلا ٹیسٹ ۔ 14 سے18 دسمبر، پرتھ

    دوسرا ٹیسٹ ۔ 26 سے 30 دسمبر، میلبرن

    تیسرا ٹیسٹ ۔ 3 سے7 جنوری، سڈنی

    آسٹریلیا کے جیت پر پاکستانی کر کٹرز کی رائے

    کمنز پٹ نے انڈین کراؤڈ کو واقعی خاموش کر دیا

    بھارتی بیٹر ویرات کوہلی پلئیر آف دی ٹورنامنٹ قرار

    سابق کر کٹر شعیب اختر نے جو کہا وہی ہوا

    بھارت کے ارمانوں پر پانی پھیر نے کے بعد کھلاڑی رو پڑے

  • سابق قومی کرکٹرزکی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کیلئے قومی اسکواڈ کی سلیکشن پر کڑی تنقید

    سابق قومی کرکٹرزکی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کیلئے قومی اسکواڈ کی سلیکشن پر کڑی تنقید

    پاکستان کے سابق کرکٹرز نے ورلڈ کپ ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ کے اعلان کے بعد چیف سلیکٹر محمد وسیم سمیت ہیڈ کوچ ثقلین مشتاق اور بیٹنگ کوچ محمد یوسف پر کڑی تنقید کی –

    باغی ٹی وی : نجی خبررساں ادارے کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے عاقب جاویدنے کہا کہ ایشیا کپ والی ہی ٹیم منتخب ہوئی ہے، مجھے نہیں لگتا یہ ٹیم ورلڈ کپ میں بہت اچھا کر سکے،پاکستان کی بولنگ اچھی ہے لیکن بیٹنگ میں مشکلات کا سامنا رہے گا-

    آئی سی سی ٹی ٹو20ورلڈکپ کیلئےقومی اسکواڈکااعلان

    عاقب جاوید کا کہنا تھا کہ اوپننگ میں بابر اور رضوان ہی ہوں گے، وہ جگہ تو خالی نہیں ہوگی، بابر اور رضوان اپنی جگہ پر رہیں گے، تیسرے نمبر پر شان کو کھلایا جائےگا اور مڈل آرڈر ہی ہماری اصل پرابلم ہے مجھے نہیں پتا حیدر علی کو کس بنیاد پر ٹیم میں شامل کیاگیا، اسی طرح حارث کی سلیکشن سمجھ میں نہیں آتی، اس نے کہاں پرفارم کیا؟-

    انہوں نے کہا کہ شان مسعود نے پرفارم کیا، خوشی ہے کہ انہیں اسکواڈ میں جگہ ملی، شان مسعود نے اپنی بیٹنگ بہتر کی ہے، آپ کو شعیب ملک اور سرفراز احمد سے ضد ہےتو کوئی نیا ٹیلنٹ لائیں۔

    پاکستان کے سابق آل راؤنڈر شاہد آفریدی کا کہنا ہے کہ شعیب ملک کو انگلینڈ کی ہوم سیریز کے خلاف ٹیم میں رکھنا چاہیے تھا۔

    قومی اسکواڈ کے انتخاب کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد آفریدی نے کہا کہ مجھے بہت خوشی ہے کہ ٹیم میں شان مسعود کی واپسی ہوئی لیکن شعیب ملک کو 3 سے 4 میچز دینے چاہیے تھےہماری ٹیم کو اس ایریا میں ایک اچھے بیٹر کی ضرورت ہے اور وہ تجربہ کار ہے، مسلسل اسی نمبر پر کھیلتا رہا ہے-

    انگلش کپتان کا پاکستان کیخلاف سیریز مس کرنے کا امکان

    شاہد آفریدی نے کہا کہ وہ لڑکا ٹیم میں ہونے کا مستحق تھا، اس نے دنیا میں ہر جگہ کرکٹ کھیلی ہے اور وہ ہر ٹیم میں پرفارم کرتا ہے، دنیا کی ہر فرنچائز کا انتخاب شعیب ملک ہوتا ہے، وہ سب سے زیادہ فٹ کھلاڑی ہےشعیب کے ہونے سے بابر اعظم کو گراؤنڈ میں بہت سپورٹ ملتی چاہے وہ کھیلتا یا نہیں۔

    پاکستان کے سابق فاسٹ بولر شعیب اختر نے ورلڈ کپ ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ کے اعلان کے بعد اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ ایوریج لوگوں کو ایوریج بندے ہی پسند آتے ہیں، ایوریج لوگوں سے غیر معمولی فیصلوں کی توقع نہیں کی جا سکتی-

    انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ ماشاء اللہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے کیا ٹیم سلیکٹ کی ہے، پاکستان کا مسئلہ مڈل آرڈر تھا لیکن انہوں نے کہا ہم تسلسل کےساتھ ایسا فیصلہ کریں گے کہ جوآپ کو پسند آئے یعنی ہم اتنا برا فیصلہ کریں گے کہ مڈل آرڈر کوتبدیل ہی نہیں کریں گے میں کہہ کہہ تھک چکا ہوں کہ فخر کو کچھ عرصہ اوپننگ کراؤ، آسٹریلوی پچز پر بال اوپر آتی ہے، فخر کو سوٹ کریں گی یہ کنڈیشنز لیکن نہیں بابر نے اوپننگ سے نہیں ہٹنا-

    چیف سلیکٹر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے شعیب اختر نے کہا کہ جب وہ ہی ایوریج ہوگا تو فیصلے بھی ایسے ہی ہوں گے، مجھے ویسے بھی اس سے کسی قسم کی امید نہیں،ثقلین آخری دفعہ 2002 میں کرکٹ کھیلا تھا پتہ نہیں اسے ٹی ٹوئنٹی کا آئیڈیا ہے یا نہیں، وہ میرا دوست ہے اسے یہ باتیں اچھی نہیں لگیں گی لیکن ثقلین یہ آپ کے بس کی بات نہیں-

    پاکستان کے ساتھ سیریز سے ورلڈ کپ کی تیاری کا اچھا موقع ملے گا، جوز بٹلر

    بیٹنگ کوچ محمد یوسف سے متعلق شعیب اختر کا کہنا تھا کہ اس جیسا بندہ ہو اور ٹیم کی بیٹنگ پرفارم نہ کرے، یہ میری سمجھ سے باہر ہے، اس کے بعد آپ سب کا اور میرا پسندیدہ افتخار جو کہ مصباح پارٹ ٹو ہے، میں ذاتی نہیں ہو رہا لیکن یہ آپ سب کے دل کی آواز ہی ہےمجھے ڈر ہے کہ کہیں اس بیٹنگ لائن اپ کے ساتھ پاکستان پہلے راؤنڈ سے ہی باہر نہ ہو جائے-

    دوسری جانب وکٹ کیپر کامران اکمل نے اپنے یوٹیوب چینل پر ویڈیو پیغام میں کہا کہ یہ ٹیم چیف سلیکٹر، کوچ اور کپتان کی پسند سے بنائی گئی ہے، کل کو اگر کھلاڑی پرفارم نہیں کرتے تو یہ سب اپنے اوپر دباؤ لینے کے بجائے کرکٹرز پر بوجھ ڈالیں گے کہ انہوں نے پرفارم نہیں کیا جبکہ ٹیم تو آپ نے ہی سلیکٹ کی تھی اس ٹیم کو دیکھ کر ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے آنکھوں پر پٹی باندھ کر ٹیم کا اعلان کیا گیا، یہ اسکواڈ ایک بار پھر دوستی یاری کے لیے بنایا گیا ہے۔

    کامران اکمل نے کہا کہ چیف سلیکٹر صاحب کو کھلاڑیوں کی پرفارمنس نظر نہیں آرہی؟ جو ٹیم میں ہونے کا مستحق ہے اسے ضرور ہونا چاہیےشرجیل خان کواسکواڈ کا حصہ بنانا چاہیے تھا، اس کےعلاوہ شعیب ملک تجربےوالا کھلاڑی ہےاسے شامل کرنا چاہیے تھا، انٹرنیشنل ٹیمیں کھلاڑیوں کے سیکھنے کے لیے نہیں بنائی جاتیں، پرفارمنس کےلیےبنتی ہیں، یہ ایونٹ روز روز نہیں ہوتے، اللہ کرے ہماری ٹیم اچھی پرفارم کرے لیکن اس سے زیادہ اچھی ٹیم کا انتخاب ہو سکتا تھا۔

    ٹی 20 ورلڈ کپ: آسٹریلیا، انگلینڈ، ویسٹ انڈیز و دیگر ٹیموں کے سکواڈز کا اعلان

    وکٹ کیپر بیٹر نے کہا کہ مجھے لگتا ہے ہمارے لوگوں کی یادداشت بہت کمزور ہے، ایشیا کپ میں مڈل آرڈر پر کافی تنقید ہوئی سب نے بہت بات کی لیکن اب نیا ایونٹ شروع ہونے والا ہے تو سب بھول جائیں گے اور اگلی خوشی کا انتظار کرتے رہیں گے۔

  • ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز کے لیے 16 رکنی قومی اسکواڈ کا اعلان

    ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز کے لیے 16 رکنی قومی اسکواڈ کا اعلان

    ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز کے لیے 16 رکنی قومی اسکواڈ کا اعلان کر دیا گیا،

    اسکواڈ میں تین اوپنرز، تین مڈل آرڈر بیٹرز، دو وکٹ کیپرز، تین اسپنرز اور پانچ فاسٹ باؤلرز شامل ہیں ،اسکواڈ میں کپتان بابراعظم ، نائب کپتان شاداب خان اور محمد رضوان شامل ہیں عبداللہ شفیق، فخر زمان، حارث رؤف، حسن علی، افتخار احمد اور امام الحق بھی اسکواڈ کا حصہ ہیں، خوشدل شاہ، محمد حارث ، محمد نواز،محمد وسیم جونیئر، شاہین شاہ آفریدی، شاہنواز دہانی اور زاہد محمودبھی اسکواڈ میں شامل ہیں

    سیریز میں شامل تینوں ون ڈے انٹرنیشنل میچز آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈ کپ سپر لیگ کا حصہ ہیں یہ میچز آٹھ، دس اور بارہ جون کو پنڈی کرکٹ اسٹیڈیم راولپنڈی میں کھیلے جائیں گے سیریز کے تربیتی کیمپ کے لیے قومی اسکواڈ یکم جون کو راولپنڈی میں رپورٹ کرے گا

  • آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے لیے قومی اسکواڈ کا اعلان

    آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے لیے قومی اسکواڈ کا اعلان

    آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے لیے قومی اسکواڈ کا اعلان

    تین ٹیسٹ میچز کی سیریز کے لیے 16 کھلاڑیوں اور پانچ ریزرو کھلاڑیوں کے ناموں کا اعلان کردیا گیا ،اعلان کردہ اسکواڈ میں تین تبدیلیاں کی گئی ہیں حارث رؤف اور شان مسعود کی ٹیسٹ اسکواڈ میں واپسی ہوئی ہے،ان دونوں کھلاڑیوں کو بلال آصف اور عابد علی کی جگہ اسکواڈ میں شامل کیا گیا یاسر شاہ کو ریزرو کھلاڑیوں میں شامل کیا گیا ہے

    اعلان کردہ سولہ رکنی قومی ٹیسٹ اسکواڈ کے کپتان بابراعظم اور نائب کپتان محمد رضوان ہیں دیگر کھلاڑیوں میں عبداللہ شفیق، اظہر علی، فہیم اشرف، فواد عالم اور حارث رؤف شامل ہیں حسن علی، امام الحق، محمد نواز، نعمان علی اور ساجد خان بھی اسکواڈ کا حصہ ہیں،سعود شکیل، شاہین شاہ آفریدی، شان مسعود اور زاہد محمود بھی اسکواڈ میں شامل ہیں ریزرو کھلاڑیوں میں کامران غلام، محمد عباس، نسیم شاہ، سرفراز احمد اور یاسر شاہ شامل ہیں

    دوسری جانب پی سی بی نے ثقلین مشتاق کو بھی مزید 12 ماہ کے لیے قومی کرکٹ ٹیم کا ہیڈ کوچ مقرر کردیا ،شان ٹیٹ 12 ماہ کے لیے قومی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ باؤلنگ کوچ مقرر،محمد یوسف آسٹریلیا سیریز کے لیے بیٹنگ کوچ ہوں گے اسپورٹ اسٹاف کے دیگر ارکان میں منیجر منصور رانا اور فیلڈنگ کوچ عبدالمجید شامل ہیں،سیریز کے لیے شاہد اسلم اسسٹنٹ ٹو ہیڈ کوچ، کلف ڈیکن فزیو تھراپسٹ اور ڈریکس سائمن اسٹرنتھ اینڈ کنڈیشنگ کوچ ہیں عماد احمد حمید میڈیا اینڈ ڈیجیٹل منیجر، کرنل (ر) عثمان انوری سیکیورٹی منیجر، طلحہ اعجاز (اینالسٹ) اور ملنگ علی مساجر ہوں گے

    پاکستان کرکٹ کے چیف سلیکٹر محمد وسیم کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے لیے قومی ٹیسٹ اسکواڈ میں زیادہ تبدیلیاں کرنے کی بجائے ایک تسلسل برقرار رکھا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سے نہ صرف کھلاڑیوں میں اعتماد بڑھے گا بلکہ یہ ان کی سال 2021 میں عمدہ کارکردگی کا صلہ بھی سمجھا جائے گا۔

    محمد وسیم نے کہا کہ یہ ڈومیسٹک کرکٹ کے دستیاب بہترین، باصلاحیت اور سب سے ان فارم کھلاڑی ہیں۔ انہیں یقین ہے کہ منتخب کردہ تمام کھلاڑی آسٹریلیا کے خلاف سیریز میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے۔