وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملک کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد کی قربانیوں کے باعث 2018 میں دہشتگردی میں نمایاں کمی آئی، تاہم کچھ عوامل کی وجہ سے اس ناسور نے دوبارہ سر اٹھایا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے قومی ورکشاپ میں خیبرپختونخوا کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اے پی ایس سانحے کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ گُڈ اور بیڈ طالبان میں تمیز ختم ہو، جس کے نتیجے میں افواج، پولیس اور عوام سمیت ایک لاکھ پاکستانی شہید ہوئے تاہم 2018 کے بعد دہشتگردی نے دوبارہ سر اٹھایا، جس کی وجہ سوات سے دہشتگردوں کی رہائی اور افغانستان سے بعض افراد کو پاکستان میں بسایا جانا تھی،ملک میں ہر روز کہیں نہ کہیں دہشتگردی کے واقعات ہوتے ہیں، اور افسوس کے ساتھ کہا کہ سوشل میڈیا پر شہدا کے خلاف باتیں اور پاکستان کے دشمنوں کے ساتھ تعاون جاری ہے۔
وزیراعظم نے بتایا کہ این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کے حصے میں اضافے کے لیے پنجاب نے قربانی دی اور دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے چاروں صو بو ں نے خیبرپختونخوا کو 800 روپے فراہم کیےپاکستان کی ترقی اسی وقت ممکن ہوگی جب چاروں صوبے ترقی کی دوڑ میں برابر شریک ہوں، بلوچستان کو بھی شمسی توانائی اور سڑکوں کی مد میں معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔
شہباز شریف نےکہا کہ پاکستان بننے کے وقت خیبرپختونخوا کے عوام نے قائد اعظم کا ساتھ دیا، 1971 کی جنگ کے دوران بھارت کے ساتھ افغانستان کی ٹرانزٹ تجارت کو رضاکارانہ طور پر بند کیا، اور این ایف سی ایوارڈ میں اپنے حق کا مکمل فائدہ نہ اٹھا سکا،مئی کی پاک-انڈیا جنگ کے بعد سبز پاسپورٹ کو عزت ملی، اور ملک معاشی ترقی کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے، انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان جلد اقوام عالم میں اپنی حقیقی پہچان اور مقام حاصل کرے گا۔
