Baaghi TV

Tag: قوم سے خطاب

  • اگست 2023 کو ہماری مدت پوری ہورہی. وزیراعظم کا قوم سے خطاب

    اگست 2023 کو ہماری مدت پوری ہورہی. وزیراعظم کا قوم سے خطاب

    قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اپریل 2022 کو ملک کی اہم ترین ذمہ داری سنبھالی تھی جو اب اگست 2023 کو پوری ہورہی ہے اور ہم اگست میں معاملات نگراں حکومت کوسونپ دیں گے، 15 ماہ میں 4 سال کی بربادی کا ملبہ صاف کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے پاکستان کے مفادات کی راہ میں بچھائی گئی بارودی سرنگیں صاف کی ہیں، سازشوں کے باوجود ملک کو بحرانوں سے نکالا، 15ماہ میں ایک ناامیدی سے امیدی کی طرف سفر تھا، سب ختم ہوجانے سے کچھ حاصل ہونے کا سفر تھا، 15ماہ کا سفرعوام کو کچھ ریلیف فراہم کرنے کا سفر تھا۔

    وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ موجودہ اتحادی حکومت محدود ترین مدت کی حکومت تھی اور مختلف سازشوں کے باوجود ملک کو بحرانوں سے نکالا ہے، سابق حکومت نے آئی ایم ایف شرائط توڑی تھیں اور ملک کو دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچا دیا تھا لیکن ہم نے سابق حکومت کی ناپاک خواہشات کو مٹی میں ملا دیا ہے، میں دوست ممالک کا خلوص دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں، دوست ممالک نے مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا،آرمی چیف جنرل عاصم منیر، وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری اور وزیرخزانہ اسحاق ڈار کا مشکورہوں۔

    شہباز شریف نے کہا کہ ہم قرض مانگ مانگ کر اپنی ساکھ مجروح کرچکے ہیں، ہمیں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا ہے، ہم نے معاشی پروگرام ترتیب دے دیا ہے، بیرون ممالک سے سرمایہ کاری کی راہیں ہموار ہورہی ہیں، ہم اجتماعی دانش سے منصوبے کو کامیابی سے ہمکنار کرائیں گے۔ قوم سے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف نے مزید کہا کہ پاکستان کی عالمی ریٹنگ بھی بہتر ہوئی ہے، پاکستانی روپے کی قدر میں بتدریج بہتری آرہی ہے، زراعت کے لیے کسانوں کے لیے پیکج لارہے ہیں، 80 ارب روپے کی لاگت سے نوجوانوں کے لیے پروگرام کا آغاز کیا ہے، بلاسود قرض اور لیپ ٹاپ تقسیم کیے جارہے ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    کبری خان اور میں شادی نہیں کررہے گوہر رشید
    فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
    علی امین گنڈاپور کے گھر کی بجلی واجبات کی عدم ادائیگی پر کاٹ دی گئی
    ڈالر کے مقابلہ میں روپے کی قدر میں مزید بہتری
    شہر یار آفریدی کی ہمشیرہ انتقال کر گئیں
    انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ ہم کشکول توڑ دیں، ہمیں محتاجی کی زنجیریں توڑنا ہوں گی، محنت سے ہی محتاجی کی زنجیریں کاٹی جاسکتی ہیں، دعا کرتے ہیں کہ 9 مئی جیسا یوم سیاہ پھر نہ ہو۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ نوازشریف ملک کو ترقی کی راہ پر لائے تھے، پھر ملک کو ترقی کی راہ پر لائیں گے، پہلے کی طرح مہنگائی کم کریں گے اور امن وامان بحال کریں گے، آئیں نفرتیں مٹائیں اور ایک ہوجائیں۔

    دوسری جانب وزیراعظم شہبازشریف کے قوم سے خطاب پر ترجمان تحریک انصاف نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کا خطاب کارکردگی پر پردہ پوشی کی مایوس کن کوشش ہے، 15 ماہ کے بعد قوم جان چکی کہ شہباز شریف شعبدہ باز ہے، انہوں نے ترقی کرتی معیشت کو 0.3 فیصد پر پہنچادیا۔

    ترجمان کا کہنا تھا کہ حکومت نے ملک کو دہشت گردی اور بدامنی کے سپرد کیا، موجودہ حکومت میں ساڑھے 8 لاکھ افراد ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے، 15 ماہ میں آئین پامال اورنیب سمیت قومی اداروں کوتباہ کیا گیا۔ پی ٹی آئی ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان کو آئی ایم ایف ڈیل پی ٹی آئی کی حمایت سے میسر ہوسکی، سیاست اور ریاست کوعوام کی منشاء کے تابع کیا جائے۔

  • ‘لوگوں کو سڑکوں پر نکلنے کی کال دیکر انقلاب خود بنی گالہ میں چھپ کر بیٹھا ہے’:مریم اورنگزیب

    ‘لوگوں کو سڑکوں پر نکلنے کی کال دیکر انقلاب خود بنی گالہ میں چھپ کر بیٹھا ہے’:مریم اورنگزیب

    اسلام آباد:سابق وزیراعظم عمران خان کی قوم سے گفتگو کوحکومتی ارکان نے بہت اہم لیا ہے اورفوری ردعل دینا شروع کردیا ہے ، اسی سلسلے میں وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ لوگوں کو سڑکوں پر نکلنے کی کال دیکر انقلاب خود بنی گالہ میں چھپ کر بیٹھا ہے۔

    پاکستان کے موجودی سیاسی معاشی اور معاشراتی حالات پر پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کے ویڈیو لنک خطاب پر ردعمل دیتے ہوئے مریم اورنگزیب نے کہا کہ منافق اور چور میں بنی گالہ سے نکلنے کی ہمت نہیں، 25 مئی کو خونی مارچ کا اعلان کر کے خود ہیلی کاپٹر میں معلق رہے، ہیلی کاپٹر میں معلق انقلاب اب بنی گالہ میں دو جھنڈے لگا کر سکرین پہ بیٹھا ہے۔

    وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی تباہی مسلط کرنے والے انقلاب کی باہر نکلنے کی ہمت نہیں ہے، آپ جانتے ہیں یہ سب آپ نے کیا، اسی لئے آپ کا انقلاب ٹی وی سکرین سے باہر نہیں آ رہا، مہنگائی 3 سے 16 فیصد کرنے والے انقلاب ٹی وی سکرین اور ہوا میں معلق ہیلی کاپٹر میں ہی آ سکتے ہیں، 43 ہزار ارب کا تاریخی قرضہ لینے والا انقلاب سکرین پہ ہی آ سکتا ہے، کشمیر فروشی کرنے والے ٹی وی سکرین اور معلق ہیلی کاپٹر پر ہی انقلاب لاسکتے ہیں۔

  • قوم سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان کا بڑا اعلان

    قوم سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان کا بڑا اعلان

    قوم سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان کا بڑا اعلان
    وزیراعظم عمران خان نے قوم سے اہم خطاب میں کہا ہے کہ آج میں نے آپ سے بہت اہم بات کرنی ہے،

    وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ آج پاکستان فیصلہ کن موڑ پر ہے،اپنی قوم کو بتانا چاہتاہوں کہ میں سیاست میں کیوں آیا ،ہمارے سامنے 2 راستے ہیں،آج بھی مجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں ،اللہ نے مجھے سب کچھ دے دیا ہے، زیادہ تر لوگوں کو سیاست میں آنے سے پہلے کوئی نہیں جانتا تھا ہم وہ پہلی نسل تھے جو آزاد پاکستان میں پیدا ہوئے،خود داری آزاد قوم کی نشانی ہوتی ہے،پاکستان نے عظیم ملک بننا تھا، پاکستان نے اسلامی فلاحی ریاست بننا تھا،ریاست مدینہ مسلمانوں کیلئے رول ماڈل ہے، طاقتور اور غریب کیلئے الگ الگ قانون ہو تو وہ قوم تباہ ہوجاتی ہےریاست مدینہ میں قانون کی حکمرانی تھی جہاں انصاف نہ ہو وہ قومیں تباہ ہو جاتی ہیں،پیسے اور خوف کی غلامی شرک ہے،لوگ مجھے پوچھتے تھے آپ کو سیاست میں آنے کی ضرورت کیا تھی جب میں چھوٹا تھا تو پوری دنیا میں پاکستان کی مثالیں دی جاتی تھیں،

    وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ کلمہ ہمیں کسی کے سامنے جھکنا نہیں سکھاتا،سب سے بڑا شرک پیسے کی پوجا کرنا ہے،وسطی ایشیا سے لوگ پاکستان کی یونیورسٹیوں میں آتے تھے،ہمیں بھی اپنے پیغمبر کے راستے پر چلنا چاہیے، وہ عظمت کا راستہ ہے25سالہ سیاست میں ایک چیز کہی ہےکسی کے سامنے نہیں جھکوں گا، ہم چیونٹیوں کی طرح رینگ رہے ہیں اپنی قوم کو کسی کی غلامی نہیں کرنے دوں گا یہ بات میں 25 سال سے بول رہا ہوں میں نے ہمیشہ ایسی خارجہ پالیسی کی بات کی۔ جو آزاد ہو اور پاکستان کے لئے اچھی ہو۔انصاف اور انسانیت اسلامی ریاست کی بنیاد ہے ۔ میرے سیاست میں آنے کے تین مقاصد تھے ۔ انصاف ، انسانیات اور خودداری ۔ لا الہ الااللہ انسان کو ہر قسم کی غلامی سے آزاد کرتا ہے 14سال تک سیاست میں میرا مذاق اڑایا گیا،

    وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ وسطی ایشیا سے لوگ پاکستان کی یونیورسٹیوں میں آتے تھے،ہمیں بھی اپنے پیغمبر کے راستے پر چلنا چاہیے، وہ عظمت کا راستہ ہے،25سالہ سیاست میں ایک چیز کہی ہےکسی کے سامنے نہیں جھکوں گا، ہم کسی کے خلاف نہیں لیکن مفاد پر سمجھوتہ نہیں کریں گے، ہم تمام ممالک سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں،9،11میں کوئی پاکستانی ملوث نہیں تھا،اس وقت بھی دوسروں کی جنگ میں شرکت کی مخالفت کی تھی،جب مشرف ہمیں امریکا کی جنگ میں لے کر گئے میں تب بھی اسی کمرے میں بیٹھا تھا،ہمیں کہا گیا کہ امریکا کی حمایت نہ کی تو کہیں وہ ہمیں ہی نہ مار دے، میں نے ہر جگہ پر کہا ہمارا اس جنگ سے کچھ لینا دینا نہیں تھا،کیا پرائی جنگ میں پاکستانیوں کو قربان کرنا چاہیئے، امریکہ کی جنگ میں شرکت سے سب سے زیادہ نقصان قبائلیوں کو ہوا،دہشتگردی کیخلاف جنگ میں ہم نے 80 ہزار جانوں کی قربانی دی،قبائلی علاقے کو میں بہت اچھی طرح جانتا ہوں،اس جنگ میں قبائلی علاقے میں کتنے ہی لوگ مارے گئے،ہمارے نبیؐ کا راستہ آسان نہیں تھا، اس لیے اسکولوں میں سیرت نبویؐ کی تعلیم دلوانا چاہتا ہوں،سیاست میں آنے کا مقصد ملک کو اسلامی فلاحی ریاست بنانا ہے

    وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم کسی کے خلاف نہیں لیکن مفاد پر سمجھوتہ نہیں کریں گے،باجوڑ میں ڈرون حملے میں مدرسے کے 80بچے مارے گئے،بار بار ہم سے ہی ڈو مور کا مطالبہ کیا گیا، ڈرون حملوں کیلئے دھرنے دیئے، وزیرستان مارچ کیا ہر فورم پر ڈرون حملوں کیخلاف آواز اٹھائی،کس قانون میں لکھا ہوا ہے کہ جس کیلئے جنگ لڑیں وہ ہی آپ پر حملہ کرے،آزاد خارجہ پالیسی کا مطلب کسی سے دشمنی نہیں ہوتا، اقبال کا شاہین مشکل وقت کا سامنا کر کے آگے بڑھتا ہے، وہ مقابلہ کرتا ہے اور عظمت کے راستے پر چلتا ہے۔حکومت میں آتے ہی کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اپنے لوگوں کیلئے ہوگی کہا تھا ہم ایسی کوئی خارجہ پالیسی نہیں بنائیں گے جس سے ہمارے لوگوں کو نقصان ہو،بھارت نے کشمیر کا اسٹیٹس بدل کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی میری فارن پالیسی کسی کے خلاف نہیں مگر آزاد ہے ۔ بھارت کے خلاف ہر فورم پر تب بھارت کی جب انھوں نے کشمیر والا مسئلہ بگاڑا ۔ اس سے پہلے ہر طرح بھارت سے تعلقات استوار کرنے کی کوشش کی

    وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ یہ جو عدم اعتماد ہو رہا تھا یہ پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت ہو رہا تھا۔ 7 مارچ کو ہمیں کسی ملک سے ایک پیغام آیا،ہے تو یہ پیغام وزیراعظم کیلئے لیکن پوری قوم کے خلاف ہے، اس پیغام میں عدم اعتماد آنے سے پہلے ہی اس کا ذکر تھا کہا گیا عمران خان چلا گیا تو پاکستان کو معاف کردیا جائے گا،کہا گیا اگر عمران خان وزیراعظم رہتا ہے توہمارے آپ کے ساتھ تعلقات خراب ہوجائیں گے،قوم سے سوال ہے کہ کیا یہ ہماری حیثیت ہے؟ یہ ایک آفیشل ڈاکومنٹ ہے، ہمارے سفیر کو کہا گیا کوئی وجہ بھی نہیں بتائی گئی،ہمارے سفیر کو کہا گیا کہ جب تک عمران خان ہے تعلقات اچھے نہیں ہوسکتے،روس جانے کا فیصلہ میرا اکیلا فیصلہ نہیں تھا ۔۔ اس فیصلے میں ہماری عسکری قیادت کی مشاورت بھی شامل تھی ہمیں کہا جارہا ہے کہ آپ روس کیو ں گئے، ایسے کہا جارہا ہے جیسے ہم ان کے نوکر ہیں، یہ کہنا چاہتے ہیں کہ عمران خان کی جگہ جو آئیں گے انہیں ان سے کوئی مسئلہ نہیں ہے،پاکستان کے جانے پر اعتراض یوں اٹھایا گیا جیسے ہم ان کے نوکر ہیں،مجرم ڈکلیئر ہونے والا جھوٹ بول کر بھاگا ہوا ہے،ایسی خارجہ پالیسی نہیں چاہتا کہ کسی اور کی بہتری کے لیے پاکستان کا نقصان کروں!میڈیا کے کچھ لوگ بیرونی قوت کی دھمکی کو کور کرنے کی کوشش کررہے ہیں ان کو ملک کو لوٹنے والے ٹھیک لگتے ہیں لیکن عمران خان انہیں پسند نہیں ہے، ان کو تمام پاکستانی لیڈروں کا پتہ ہے کہ کس کے کتنے پیسے باہر پڑے ہیں، انہیں ہم سب سیاستدانوں کے بارے میں سب معلوم ہوتا ہے،ہمارے تین لوگ ان کو پسند آ گئے ہیں،ان تینوں نے اپنے دور حکومت میں ڈرون حملوں کی مذمت تک نہیں کی،کہا گیا عدم اعتماد کامیاب ہوتی ہے تو پاکستان کو معاف کردیں گے 400ڈرون حملوں کی کسی نے ایک بار بھی مذمت نہیں کی، اس لیے ان کو یہ لوگ پسند ہیں،

    وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ نوازشریف نیپال میں اپنی ہی فوج سے بچنے کیلئے نریندر مودی سے مل رہے تھے،وکی لیکس نے بتایا کہ فضل الرحمان نے امریکی سفیر کو کہا مجھے موقع دیں، کیسے ممکن ہے کوئی میرے آرمی چیف کو دہشتگرد کہے اور میں چپ کر کے بیٹھا رہوں یہ ایک آفیشل دستاویز ہے، ہمارے سفیر کو کہا گیا ،ہم ایک آزاد خارجہ پالیسی چاہتے ہیں،شہباز شریف نے کہا عمران خان نے ایبسلوٹلی ناٹ کہہ کر بڑی غلطی کی، ہم جنگ یا کسی تنازعہ میں آپ کے ساتھ نہیں ہاں امن میں آپ کے ساتھ ہیں، جب آپ کو خود شرم نہ ہو تو دنیا نے اپ کی کیا عزت کرنی ہے، ماضی میں بیرون ملک پاکستانیوں سے پوچھیں انہیں کتنی ذلت کا سامنا کرنا پڑامیری سب سے بڑی ذمہ داری میرے 22 کروڑ لوگ ہیں، شہباز شریف کا اقتدار میں آنے کا مقصد ہی کچھ اور ہے،ہمارے ملک میں بمباری ہورہی تھی آ پ اور آپ کے بھائی صاحب چپ رہے ،کابینہ اورقومی سلامتی کمیٹی کے سامنے اس مراسلے کے منٹس کو رکھا ،اتوار کو ملک کے مستقبل کا فیصلہ ہوگا ،اتوار کو عدم اعتماد پر ووٹنگ ہونی ہے،ہمارے انصاف کے نظام میں یہ طاقتور کو قانون کے نیچے لانے کی صلاحیت نہیں مجھے لوگوں نے کہا استعفی دے دیں، میں آخری گیند تک مقابلہ کرتا ہوں، میں نے ہار زندگی میں نہیں مانی، ووٹ کا جو بھی ریزلٹ ہو مزید طاقتور ہو کر سامنے آؤں گا،چاہتاہوں کہ پوری قوم دیکھے کون اپنے ضمیر کا سودا کرتا ہے اگر آپ کا ضمیر جاگا تھا تو آپ کو استعفیٰ دینا چاہیے تھا، چوری کے پیسے سے لوگوں کو خریدا جارہا ہے کچھ بھی نظریاتی نہیں ہورہا ہے، یہ صرف اور صرف ضمیر کا سودا ہورہا ہے،اگر ڈاکومنٹ پر شک تھا تو آج قومی سلامتی کی کمیٹی میں آ کر کیوں نہیں دیکھا ؟ مجھے ابھی بھی اپنے لوگوں سے امید ہے،ان سے کہتا ہوں لوگوں نے کبھی آپ کو بھولنا نہیں،آپ پر ہمیشہ کیلئے مہر لگ جائیگی کوئی آپ کو معاف نہیں کریگا یہ لوگ موجودہ دور کے میر صادق اور میر جعفر ہیں،یہ آپ وہ کرنے جا رہے ہیں جس پر آنے والی نسلیں بھی معاف نہیں کریں گی،کوئی خوش فہمی میں نہ رہے کہ عمران خان چپ کر کے بیٹھ جائیگا،میں وہ آدمی نہیں جسے پرچی پر پارٹی کی چیئرمین شپ ملی ہو،

    وزیراعظم عمران خان نے جوش خطابت میں امریکہ کا نام لے لیا اور کہا کہ امریکہ سے ہمیں جو لیٹر آیا، بعد ازاں جب احساس ہوا ملک کا نام نہیں لینا تھا تو پھر کہا کہ ہمیں امریکہ سے جو لیٹر آیا، امریکہ سے نہیں کسی اور باہر کے ملک سے،
    ہے تو یہ وزیراعظم کے خلاف لیکن یہ ملک کے خلاف ہے،

    وزیراعظم عمران خان مشکل میں پھنس گئے، یہ کام نہ کیا تو پارٹی چھوڑ دیں گے، اراکین کا اعلان

    سیالکوٹ، توہین مذہب کے الزام پر شہری کا قتل،وزیراعظم کا نوٹس،گرفتاریاں شروع

    توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم و توہین مذہب کا مقدمہ، 16 اکتوبر سے قبل فیصلہ سنائیں گے، عدالت

    توہین رسالت کیس میں نوجوان نے قادیانی گستاخ رسول کو جج کے سامنے گولی ماردی

    وزیراعظم عمران خان کے خلاف توہین رسالت مقدمہ کے اندراج کے لئے درخواست دائر

    توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم و توہین مذہب کا مقدمہ،دفاعی شہادت پیش کرنے کے لئے مزید مہلت کی استدعا مسترد

    توہین رسالت کی مجرمہ خاتون کو سزائے موت سنا دی گئی

    مدرسے کی طالبات نے خاتون معلمہ کو گلی میں مبینہ طور پر ذبح کر دیا

    خواب دیکھا،استانی نے توہین مذہب کی، اسلئے ذبح کر دیا، ملزمہ طالبات کا بیان

    اسلام آباد میں ماں نے تین بچوں کو چھری سے ذبح کر دیا

    شوہر کی شرمناک حرکت پکڑے جانے پر بیگم نے کیا گھناؤنا کام

  • کابینہ کا ہنگامی اجلاس، وزیراعظم نے دل کی بات بتا ہی دی

    کابینہ کا ہنگامی اجلاس، وزیراعظم نے دل کی بات بتا ہی دی

    کابینہ کا ہنگامی اجلاس، وزیراعظم نے دل کی بات بتا ہی دی
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا

    وزیراعظم نے دھمکی آمیز خط کابینہ ارکان کو دکھا دیا، وزیراعظم کابینہ ارکان کو بریفنگ دے رہے ہیں، وزیراعظم نے خط ملنے سے متعلق ارکان کو آگاہ کیا، وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ میرے خلاف عالمی سازش کی گئی ہے،خط میں کہا گیا کہ تحریک عدم اعتماد ناکام ہوئی تو پاکستان کو نقصان ہو گا،میں نے ہر مشکل حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے، بھاری رقم بھی میری حکومت گرانے کے لیے دی گئی ہے، خط پر قومی سلامتی کے اداروں کے سربراہان کو بھی اعتماد میں لیا،

    قبل ازیں وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ ممکن ہے وزیراعظم شام کو قوم سے خطاب کریں شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کا شام کو قوم سے خطاب کر نے کا امکان ہے سیاست شروع ہوگئی ہے ،وزیراعظم سنیئر صحافیوں سے ملاقات کررہے ہیں،وزیر اعظم عمران خان آخری بال تک کھیلیں گے انتظار کریں سب کچھ سامنے آجائے گا وزیراعظم عمرا ن خان ڈ ٹ کرکھڑے ہیں،تحریک عدم اعتماد پر 3اپریل کو ووٹنگ ہے کابینہ اجلاس ہنگامی طور پر بلایاگیا پہلے ہی کہاتھا 72گھنٹے کی سیاست ہے فوادچودھری نے 10صحافیوں کو بلالیا،میموگیٹ سے ڈان لیکس تک ملک کو نقصان پہنچایاگیا،

    سینٹر فیصل جاوید خان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان آج شام قوم سے خطاب کریں گے،وزیراعظم عمران خان اپنی قوم کے لیے ڈٹ کر کھڑے ہیں، فتح پاکستان ،قوم اور کپتان کی ہے، فرخ حبیب کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اقتدار میں ذاتی جائیدادیں اورکرپشن کرنے نہیں آئے،پاکستان کی خود مختاری پر سمجھوتا کروانے کےلیے بیرونی سازش ہورہی ہیں،شہباز گل کا کہنا تھا کہ پاکستان پہلی بار دیکھے گا ایک ایماندار لیڈر کیسے لڑتا ہے۔ جیت ہو یا ہار ہو خان آخری گیند تک لڑے گا۔ خان نہ تو خریدو فروخت کرے گا نہ حوصلہ ہارے گا۔ آپ سے کیا گیا کوئی بھی وعدہ توڑا نہیں جائے گا۔ آپ کا کپتان یہ لڑائی بھی ڈٹ کر لڑے گا۔

    وزیراعظم کا قوم سے خطاب شام 7 سے 8 بجے کے درمیان ہوگا،وزیراعظم موجودہ صورتحال پر قوم کے سامنے اپنا مؤقف رکھیں گے وزیراعظم قوم سے خطاب میں بڑا اعلان کریں گے،

    دوسری جانب وزیراعظم نے خالد مگسی اور خالد مقبول صدیقی کو بھی اجلاس میں بلالیا وزیر اعظم عمران خان خالد مگسی اور خالد مقبول صدیقی کو خط سے متعلق اعتماد میں لیں گے ،وزیراعظم عمران خان نے کابینہ کے اجلاس میں ایم کیو ایم کے خالد مقبول صدیقی اور بلوچستان سے خالد مگسی کو بھی خصوصی طور پر مدعو کیا تھا لیکن دونوں کی اجلاس میں موجودگی ممکن نہ ہوسکی خالد مقبول صدیقی نے مصروفیت کے باعث اجلاس میں آنے سے انکار کردیا جب کہ خالد مگسی سے کوئی رابطہ نہیں ہوسکا

    14سینئرصحافیوں کو وزیراعظم ہاؤس مدعو کیا گیا تھا ،صحافی بھی وزیراعظم ہاؤس پہنچ گئے تھے، سینر صحافیوں کو ڈیرھ گھنٹہ وزیراعظم ہاوس کے ویٹنگ روم میں بٹھانے کےبعد ان سے معذرت کر لی گئی ہے ،وزیراعظم بھی ان سے نہیں ملیں گے اور نہ وہ خط شیئر کریں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے قانونی ماہرین کی رائے کے بعد سینئر صحافیوں کے ساتھ خط شیئرکرنے کے فیصلے سے یوٹرن لیا ہے

    وزیراعظم اپنے حلف کے تحت اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ایسا کوئی بھی خط/مراسلہ نہ تو صحافیوں نہ اتحادیوں کو دکھا سکتے ہیں۔

    زرداری بڑی بیماری،چیری بلاسم سے جوتا زیادہ چمکتا ہے، ڈیزل سستا ہوگیا ،وزیراعظم کا جلسے سے خطاب

    سرپرائیز آنا شروع، بزدار کیخلاف بھی تحریک عدم اعتماد جمع

    عدم اعتماد، وفاق، پنجاب کے بعد اگلی باری خیبر پختونخوا کی

    پرویز الہیٰ کو ایک بار پھر وزارت اعلیٰ کی پیشکش ہو گئی

    پرویز الہیٰ کے بنی گالہ پہنچتے ہی چودھری شجاعت کا بڑا اعلان

    بریکنگ،بزدار فارغ، پرویز الہیٰ وزیراعلیٰ پنجاب، حکومت نے اعلان کر دیا

    جب "باپ” ساتھ چھوڑ جائے گا تو پھر بچوں کی کیا جرات کہ وہ ساتھ رہیں

    خاندان میں اختلافات، چودھری شجاعت نے بڑا سرپرائز دے دیا

    عاصم نذیر بھی ن لیگ میں شامل ہو گئے؟ سرپرائز ہی سرپرائز

    حتمی فیصلہ 3 اپریل کو ہوگا،بجٹ کے بعد الیکشن ہونے چاہیں،شیخ رشید

    وزیراعظم کو دھمکی آمیز خط کس نے بھیجا؟ بحث جاری

    دھمکی آمیز خط کونسی شخصیت کو دکھانا چاہتے ہیں؟ حکومت کا بڑا اعلان

    وزیراعظم کو دھمکی آمیز خط کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا

    دھمکی آمیز خط ،وزیراعظم نے سینئر صحافیوں کو دکھانے کا اعلان کر دیا

  • قرضوں‌ سے جان چھڑانے کیلئے عوام ساتھ دے، ایمنسٹی سکیم سے فائدہ اٹھا کر اثاثے ڈکلیئر کریں، عمران خان

    قرضوں‌ سے جان چھڑانے کیلئے عوام ساتھ دے، ایمنسٹی سکیم سے فائدہ اٹھا کر اثاثے ڈکلیئر کریں، عمران خان

    اسلام آباد:وزیراعظم کا قوم سے خطاب :ٹیکس کی چوری ختم کرنے کے لیے آپ کی ضرورت ہے .وزیراعظم نے قوم سے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ مجھے معلوم ہے کہ قوم نے شوکت خانم ہسپتال کے لیے بڑھ چڑھ کر تعاون کیا اور پیسے دیئے.اب مسئلہ ملک میں ٹیکس چوری کا ہے پاکسان کا قرضہ 30 ہزار ارب تک پہنچ چکا ہے ان حالات میں میں قوم سے تعاون کی درخواست کرتا ہوں کہ وہ میرا ساتھ دیں. وزیر اعظم نے کہا کہ وہ لوگ جو ٹیکس چھپا رہے ہیں اور اپنے اثاثے ظاہر نہیں کررہے ان کے لیے میرا یہ پیغام ہے کہ ایف بی آر کے پاس تمام ڈیٹا موجود ہے .پھر اپنے اثاثے کیوں چھپائے جا رہے ہیں.

    وزیر اعطم عمران خان نے قوم سے اپنے خطاب میں کہا کہ حکومت ایک اسکیم لے کر آئی ہے اس سے فائدہ اٹھائیں.لہٰذا ایسے تمام لوگ 30 جون تک اپنے اثاثے ظاہر کرکے اس اسکیم سے فائدہ اٹھائیں.وزیر اعظم نے قوم سے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ کرپشن کرنے والوں کو نہیں چھوڑیں گے .وزیراعطم نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ عوام کو کوئی مشکل پیش آئے اس لیے حکومت نئی اسکیم سے بھر پور فائدہ اٹھانے کا موقع دے رہی ہے.حکومت اورعوام ساتھ نہیں ہوں گےتوقرضوں کی دلدل سےنہیں نکل سکتے .ہماری قوم مشکل وقت میں ساتھ دینےوالی ہے.معاشی بحران سےبھی ہم آرام سےنکل سکتےہیں.وزیر اعظم نے کہا کہ پچھلےسال کاٹیکس قرضوں پرسودکی ادائیگی میں چلاگیا .ہم اپنےلوگوں کوغربت سےنکال سکتےہیں،وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ زلزلےکےدوران بھی اپنی قوم کوایکشن میں دیکھا اس لیے وہ توقع رکھتے ہیں کہ ان مشکل حالات سے نکل آئیں گے

    وزیر اعظم نے قوم سے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم نےآئندہ سال ساڑھے 5 ہزارارب روپیہ اکٹھاکرناہے. وزیر اعظم نے مزید کہا کہ قوم فیصلہ کرلےتوہم ہرسال 8 ہزارارب سےزائدپیسہ اکٹھاکرسکتےہیں