Baaghi TV

Tag: قیام پاکستان

  • کرتار پورراہداری نے دو خاندانوں کو ایک بار پھر75 برس بعد ملوا دیا

    کرتار پورراہداری نے دو خاندانوں کو ایک بار پھر75 برس بعد ملوا دیا

    کرتار پورراہداری نے قیام پاکستان کے وقت بچھڑنے والے دو خاندانوں کو ایک بار پھر75 برس بعد ملوا دیا،سیالکوٹ کے مشتاق احمد اپنے پھوپھی زاد بہن اور بھائی سے ملے تو جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے۔

    باغی ٹی وی: سیالکوٹ کے مشتاق احمد تقسیم ہند کے بعد والد کے ساتھ 1947 میں ہجرت کرکے پاکستان آگئے جب کہ ان کی بہن بھارت میں ہی رہ گئی تھیں تاہم اب جا کر پاکستانی بھائی نے کرتار پور راہداری میں اپنی ہندوستانی بہن سے ملاقات کی ہے۔

    مذہبی تہوارکی تقریبات میں شرکت کیلئےبھارتی سکھ یاتری ننکانہ صاحب پہنچ گئے

    دونوں خاندانوں کے درمیان پہلے سوشل میڈیا پر رابطے ہوئے اس کے بعد مشتاق احمد کی پھوپھی زاد بہن گرمیت کور اور کزن سردار پرتاب سنگھ کے ساتھ ملاقات ہوگئی جو بھارتی پنجاب کے رہائشی ہیں کرتار پور کے ذریعے دونوں خاندان سات عشرے بعد ملے تو آنکھوں سے آنسو چھلک آئے اور جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے۔

    گرمیت کور اور کزن سردار پرتاب سنگھ کا کہنا تھا کہ سالوں بعد بچھڑے خاندان سے ملے تو دل باغ و بہار ہوگیا۔ ہم پاکستانی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انھوں نے کرتار پور راہداری کے ذریعے ہمارے ملنے کی راہ ہموار کی کرتار پور راہداری سکھ یاتریوں کو جہاں مذہبی مقامات کی دید کرواتی ہے وہیں یہ بچھڑے خاندانوں کو ملانے کا ذریعہ بھی بن رہی ہے۔

    4 مراکشی بہنوں کا حج قرعہ اندازی میں نام نکل آیا

    واضح رہے کہ اس سے قبل بھی تقسیم ہند کے موقع پر خاندان سے جدا ہونے اور بھارت میں ہی رہ جانے والا بھائی پاکستان میں موجود اپنی بہن سے ملنے کے لیے گوردوارہ دربار صاحب پہنچ گئے تھےتقسیم ہند کے موقع پر امرجیت سنگھ جو بھارت میں ہی رہ گئے تھے اور اپنے مسلمان والدین، جو ان کے حقیقی والدین تھے، کے ساتھ پاکستان نہیں آسکے تھے، وہ 75 سال بعد بہن سے ملنے پاکستان آگئے تھے۔

    جبکہ 28 جنوری 2022 میں بھی بٹوارے کے وقت اپنے بھائی اور خاندان کے دیگر افراد سے بچھڑنے والے سکہ خان کو پاکستان ہائی کمیشن نے ویزا جاری کیا تھاسنہ1947 میں علیحدگی اختیار کرنے والے دونوں بھائی سکہ خان اور محمد صدیق گزشتہ سال 74 سال بعد کرتارپور صاحب راہداری پر دوبارہ ملے تھے۔

    برطانیہ :مزید دو اراکین پارلیمنٹ رکنیت سے مستعفی

    اس کے علاوہ گزشتہ سال ہی کرتارپور امن کی راہداری نے 1971 سے بچھڑی نند اور بھاوج اور ان کے خاندانوں کو 51 سال بعد ملوایا تھا 1971 میں ظفروال کی باوی دیوی کا خاندان بچھڑ گیا تھا جبکہ باوی دیوی کا بھائی گور داس پور میں جا بسا تھا۔ راہداری کے ذریعے دونوں خاندان کرتار پور پہنچے جہاں دونوں خاندان مل کر آبدیدہ ہو گئے۔

  • ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد اور اپنے آپ کو قومی مقصد سے آراستہ کرنا ہو گا،وزیراعظم شہباز شریف

    ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد اور اپنے آپ کو قومی مقصد سے آراستہ کرنا ہو گا،وزیراعظم شہباز شریف

    لاہور: ملک بھر میں ’یوم پاکستان‘ بھرپور ملی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جارہا ہے یوم پاکستان کے موقع پر علی الصبح تمام صوبائی دارالحکومت میں 21 جبکہ وفاقی دارالحکومت میں 31 توپوں کی سلامی دی گئی ، ایوان صدر اسلام آباد میں مسلح افواج کی پریڈ کی پُروقار تقریب منعقد ہوگی۔

    باغی ٹی وی: دن کا آغاز نماز فجر کے بعد خصوصی دعاؤں سے کیا گیا جس میں پاکستان اور مسلم امہ کی سالمیت خوشحالی اور ترقی کےلئے دعا کی گی علی الصبح تمام صوبائی دارالحکومت میں 21 جبکہ وفاقی دارالحکومت میں 31 توپوں کی سلامی سے ہوا، توپوں کی سلامی کے بعد جوانوں نے نعرہ تکبیر، اللہ اکبر اور پاکستان زندہ باد کے پرجوش نعرے بھی لگائے۔

    یومِ پاکستان آج ملی جوش و جذبے سے منایا جائے گا

    پاک فضائیہ کے شاہینوں نے پاکستانی قوم کو سلام پیش کیا، ترجمان پاک فضائیہ نے کہا کہ قراردادِ پاکستان پیش کیے جانے کے 83 سال مکمل ہونے پر ملک ’یوم پاکستان‘ بھرپور ملی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جارہا ہے۔

    مزار اقبال پر 23 مارچ یوم پاکستان کے حوالے سے پاک فضائیہ کی تقریب منعقد کی گئی، ایئروائس مارشل سیدعمران ماجدعلی تقریب کے مہمان خصوصی بنے پاک فضائیہ کے چاک وچوبند دستے نے ستلج رینجرزکی جگہ پر مزاراقبال پرحفاظتی ذمہ داریاں سنبھالیں ایئر کموڈور تنویر احمد بیس کمانڈر پی اے ایف بیس لاہور بھی اس موقع پر موجود تھے۔

    پاک فضائیہ کے ترجمان نے کہا کہ 23 مارچ 1940 کو تاریخی قرارداد لاہور کے تحت برصغیر کے مسلمانوں نے اپنے لیے علیحدہ وطن حاصل کرنے کا عزم کیا۔ یوم تجدیدِ عہد وفا کی مناسبت سے پاک فضائیہ کے شاہینوں کا پوری پاکستانی قوم کے جذبہ حب الوطنی کو سلام پیش کرتے ہیں پاک فضائیہ کا ہر جوان پاکستان کے دفاع،سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہمہ وقت تیار ہے، پاک فضائیہ کا ہر جوان ملک کی سالمیت کی خاطر کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کرے گا۔

    لاہور میں واہگہ بارڈر پر پرچم اتارنے کی خصوصی تقریب منعقد کی جائے گی جبکہ ملک بھر میں مذہبی اور سیاسی جماعتوں کے زیراہتمام یوم پاکستان کی مناسبت سے تقریبات منعقد کی جائیں گی پاک فوج کی پریڈ شکر پڑیاں کے بجائے ایوان صدر میں منعقد ہو گی اور روایتی پریڈ محدود پیمانے پر کروانے کا فیصلہ کفایت شعاری پالیسی کے تحت کیا گیا۔

    23 مارچ؛ یوم پاکستان منایا جائے گا

    واضح رہے کہ 23 مارچ 1940 ء کو لاہور میں منظور ہونے والی قرارداد بعد ازاں آزادی کا پیش خیمہ ثابت ہوئی1938 میں سندھ مسلم لیگ کے اجلاس میں مسلمانوں کیلئے الگ ریاست کا تصور پیش کیا گیا، اس نظریے کو شرکاء کی اکثریت نے منظور کرلیا بعد ازاں اے کے فضل الحق نے اس پر عمل درآمد کی تجویز پیش کردی۔

    قرارداد پاکستان جس کی بنیاد پر مسلم لیگ نے برصغیر میں مسلمانوں کے جدا گانہ وطن کے حصول کے لیے تحریک شروع کی تھی اور سات برس کے بعد اپنا مطالبہ منظور کرانے میں کامیاب رہی۔ وہ مطالبہ جو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نام سے دنیا کے نقشے پر ابھرا۔

    23 مارچ 1940 کو لاہور کے منٹو پارک میں پیش کی گئی قرارداد میں کہا گیا تھا کہ جب تک مسلمانوں کو آزاد ریاست نہیں ملتی وہ ہندوستان کے کسی بھی قانون کو ماننے کے پابند نہیں ہوں گے 23 مارچ 1956ء کو پاکستان کا پہلا آئین اپنایا گیا اور یوں مملکت پاکستان پہلا اسلامی جمہوریہ اسلامی جمہوریہ پاکستان بنا-

    رمضان کا چاند نظر آنے کے بعد سیاسی و سماجی شخصیات کی قوم کو …

    یوپ پاکستان کے موقع پر جاری کئے گئے پیغام میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کا قیام 20 ویں صدی کا ایک معجزہ ہے، 23 مارچ ہماری قومی تاریخ کا عہد ساز دن ہے جو ہمیں ماضی کی یاد دلاتا ہے آج کا دن موجودہ حالات پر غور و فکر کی دعوت اور خوشحال مستقبل کی تعمیر کی تحریک دیتا ہے، 23 مارچ 1940 کو برصغیر کے مسلمانوں نے علیحدہ وطن کے قیام کی قرارداد منظور کی تھی۔

    وزیرِ اعظم نے کہا کہ ہمارے پچھلے 75 سالوں کے سفر نے ہمیں جنگوں سے نبرد آزما ہوتے دیکھا، قدرتی آفات سمیت بہت سے بحرانوں سے لڑتے دیکھا ہے، کئی مواقع ایسے آئے جب ہم نے مشکلات پر قابو پالیا اور کئی سنگ میل حاصل کئے پاکستان نے انسانیت کو درپیش مسائل کے حل اور عالمی امن کے لیے ذمے دار قوم کا کردار ادا کیا، یوم پاکستان پر اپنے بانیوں کی قربانیوں کی خراج تحسین پیش کرتے ہیں، ہمیں ان چیلنجز کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے جو ہمارے سامنے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ آج ہمیں سیاسی و معاشی عدم استحکام کا سامنا ہے، پاکستان سیاسی و آئینی جدوجہد کے نتیجے میں معرض وجود میں آیا تھا، پاکستان کا مستقبل آئین پر اس کی روح کے مطابق عمل کرنے میں مضمر ہے پاکستان کا مقدر عظیم کامیابیاں اور بلندیاں حاصل کرنا ہے، ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد اور اپنے آپ کو قومی مقصد سے آراستہ کرنا ہو گا۔

    سابق دبنگ سی پی او لاہور عمر شیخ وفات پاگئے

  • قیام پاکستان کے 75 سال مکمل ہونے کی خوشی میں خصوصی "لوگو” جاری

    قیام پاکستان کے 75 سال مکمل ہونے کی خوشی میں خصوصی "لوگو” جاری

    پاکستان کے قیام کو 75 برس مکمل ہونے کی ڈائمنڈ جوبلی کی خوشی پر خصوصی ‘لوگو’ جاری کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی : وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ قیام پاکستان کے 75 سال مکمل ہونےکی ڈائمنڈ جوبلی کی خوشیوں اورمبارک موقع پر "عزم عالی شان، شاد رہےپاکستان” کے عنوان سے خصوصی ‘لوگو’ جاری کردیا ہے یہ پاکستان سے محبت اور اس عزم کی تجدید ہے کہ ہمارے بہادر اور عظیم بزرگوں اور شہداء نے جس عزم سے پاکستان بنایا تھا-

    ملک میں بجلی کا شارٹ فال 8 ہزار 911 میگا واٹ تک پہنچ گیا،بجلی کا دورانیہ 18 گھنٹوں سے تجاوز کر گیا


    انہوں نے کہا کہ اسی عزم کے ساتھ معاشی طور پر اسے مظبوط اور خودانحصار، فلاحی مملکت اور دفاعی لحاظ سے ناقابل تسخیر بنائیں گے تاکہ قیام پاکستان کے حقیقی مقاصد حاصل ہوں اور عوام کی زندگیوں میں وہ آسانیاں آئیں جن کا خواب برصغیر کے مسلمانوں نے دیکھا تھا۔

    کتنے فیصد پاکستانیوں کےگھر کا کوئی شخص بیرون ملک ملازمت کرتا ہے؟ گیلپ سروے

    وفاقی وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ معاشی خود انحصاری کے وژن سے پاکستان کے نوجوان حقیقی معنوں میں قوم کے معمار بنیں گے، قومی ترقی کے ثمرات پائیں گے، تعلیم، روزگار، کاروبار اور زندگی کے تمام شعبوں میں ہراول دستہ بنیں گے۔


    مریم ورنگزیب نے کہا کہ ہم اپنے نوجوانوں کو فیصلہ ساز بنائیں گے۔ قیام پاکستان کی طرح ایک اسلامی فلاحی، ترقی یافتہ اور معاشی طور پر خودمختار پاکستان کا خواب بھی سچ ہو کر رہے گا۔ ان شاءاللہ۔https://twitter.com/Marriyum_A/status/1542004288427380737?s=20&t=Zy1sXtCFhBfOvj0hPFFqYg

    کروٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ آج سے بجلی بنانا شروع کرے گا

  • قیام پاکستان کے وقت 1947 کی زمین کے تنازعہ کا فیصلہ لاہورہائیکورٹ نے سنا دیا

    قیام پاکستان کے وقت 1947 کی زمین کے تنازعہ کا فیصلہ لاہورہائیکورٹ نے سنا دیا

    لاہور ہائیکورٹ نے قیام پاکستان کے وقت 1947 کی زمین کے تنازعہ کا فیصلہ سنا دیا

    لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس چودھری محمد اقبال نے درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کیا، تحریری فیصلے میں قیام پاکستان کے وقت مسلمانوں کی قربانیوں کا ذکر بھی کیا گیا،فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست کے مطابق بزرگوں نے 7 جولائی 1947 کو انیر سنگھ سے زرعی زمین خریدی،پاکستان اور بھارت بننے کے بعد انر سنگھ بھارت منتقل ہوگیا موضح رائے لاہور میں واقعہ زمین کا ڈپٹی کمشنر نے 1952 نوٹیفکیشن جاری کردیا درخواست گزار کے مطابق انہوں نے 362 کنال اراضی کے انتقال کو چیلنج کیا انر سنگھ کو زمین کی فروحت اور معاہدے کے لیے بھارت خطوط بھیجے گئے، ریونیو ریکارڈ کے مطابق 1947 سے لیکر 1950 تک متعلقہ زمین ناموں پر نہیں ہے، درخواست گزار کے بڑوں یا زمین خریدنے کا کوئی ذکر نہیں پایا گیا ،درخواست گزار اپنا موقف ثابت کرنے میں ناکام رہا لاہور ہائیکورٹ نے درخواست گزار کو 10 لاکھ روپے جرمانہ کردیا

    لڑکیوں سے بڑھتے ہوئے زیادتی کے واقعات کی پنجاب اسمبلی میں بھی گونج

    لاہور میں خواتین سے زیادتی کے بڑھتے واقعات،ملزمہ کیا کرتی؟ تہلکہ خیز انکشاف

    نو سالہ بچی سے زیادتی کی کوشش کرنیوالا سگا پھوپھا گرفتار

    خواتین کو دست درازی سے بچانے کیلئے سی سی پی او لاہور میدان میں آ گئے

    خواتین کی تصاویر اور ویڈیوز بنانے والے اوباش ملزمان گرفتار

    یہ ہے پنجاب،ایک روز میں ایک شہر میں جنسی زیادتی کے چھ کیسزسامنے آ گئے

  • بنیاد پاکستان میں قرارداد پاکستان کا کردار  تحریر: غنی محمود قصوری

    بنیاد پاکستان میں قرارداد پاکستان کا کردار تحریر: غنی محمود قصوری

    ہر سال 23 مارچ کو سرکاری چھٹی ہوتی ہے سرکاری طور پر فوج کی جانب سے پریڈ کی جاتی ہے اور اس دن ہم یوم پاکستان مناتے ہیں مگر اس سال عالمی وبائی مرض کرونا کے باعث پریڈ منسوخ کر دی گئی ہے یہ سارا کچھ کیوں ہے اس کیلئے ہمیں ماضی میں جانا ہو گا
    یوں تو دو قومی نظرئیے اور قیام پاکستان کی بنیاد اسی دن ہی پڑ گئی تھی جب محمد بن قاسم نے سندھ پر راجہ داہر کے ظلم کے خلاف حملہ کیا تھا اور پھر اس کے بعد ہر آنے والے مسلمان جرنیل نے ہندو کی ٹھکائی کرکے دو قومی نظرئیے کو تقویت دی
    قیام پاکستان کا منصوبہ 14 اگست 1947 کو پایہ تکمیل کو پہنچا مگر اس پہلے ہمیں دیکھنا ہو گا کہ ہمارے بزرگوں نے اسے کامیاب بنانے کیلئے کیا حکمت عملی اپنائی اور کون کونسی قربانیاں دیں
    انگریز و ہندو سے تنگ مسلمان نے مسلم لیگ اور اپنے مسلمان قائدین کے زیر سایہ ایک الگ اسلامی ملک کیلئے کوششیں شروع کیں جس کا خواب ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے دیکھا تھا
    علامہ علیہ رحمہ نے 1937 کو قائد اعظم محمد علی جناح کے نام لکھے گئے اپنے خط میں انہیں مخاطب کرکے لکھا کہ اگر ہندوستان کے مسلمانوں کا مقصد سیاسی جد وجہد سے محض آزادی اور اقتصادی بہبود ہے اور حفاظت اسلام اس جدوجہد کا مقصد نہیں تو مسلمان اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے
    اس پیغام کو جناب محمد علی جناح نے نہایت سنجیدگی سے سمجھا اور قیام پاکستان کے لئے کوششیں انتہائی تیز کر دیں اور ان کوششوں اور قربانیوں کے نتیجے میں 22 دسمبر 1939 کو یوم نجات منایا اور اپنے ساتھیوں کا حوصلہ بڑھایا کہ منزل بہت قریب ہے کیونکہ قائد اعظم جان چکے تھے کہ ہندو کے ساتھ گزرا ممکن نہیں اور ہندو کیساتھ رہتے ہوئے مسلمان اپنا اسلامی تشخص برقرار نہیں رکھ سکیں گے اس لئے قیام پاکستان کیلئے تمام تر کوششیں تیز کر دی گئیں
    مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس 21،22،اور 23 مارچ 1940 کو طے تھا جسے رکوانے کیلئے انگریز انتظامیہ نے دفعہ 144 کا نفاذ کر رکھا تھا تاکہ مسلمان اس جلسے کو نا کر سکیں اور جذبہ آزادی سے دستبردار ہو جائیں جو کہ مسلمانوں کے لئے ناممکن تھا سو 19 مارچ کو جزبہ آزادی سے سرشار مسلمانوں نے کرفیو کو توڑا جس پر پولیس نے گولی چلائی جس کے نتیجے میں 82 مسلمان شہید اور درجنوں زخمی ہوئے جلسے کی تاریخ بھی نزدیک تھی اور لاہور کی فضاء بھی انتہائی سوگوار تھی مگر مسلمانوں کے حوصلے انتہائی بلند تھے اور وہ ہر حال میں اس جلسے کو کامیاب بنانے کیلئے پر عزم تھے 21 مارچ کو قائد اعظم محمد علی جناح فرنٹئیر میل کے ذریعے لاہور ریلوے اسٹیشن پہنچے جہاں لاکھوں لوگوں نے ان کا پرتپاک استقبال کیا قائد اعطم ریلوے اسٹیشن سے سیدھا زخمیوں کی عیادت کرنے ہسپتال پہنچے اور ان کی عیادت کرنے کیساتھ ان کے جذبے کی بھی داد دی جس پر کارکنان مسلم لیگ و مسلمانان ہند کے حوصلے مزید بلند ہو گئے اور آخر کار 23 مارچ 1940 کو منٹو پارک لاہور میں طے شدہ وقت پر کارکنان مسلم لیگ و مسلمانان ہند جلسہ گاہ میں پہنچے اور قائد اعظم کے پہنچنے پر کانفرنس کا باقاعدہ آغاز کیا گیا جلسہ گاہ میں تل دھرنے کو جگہ نا تھی قائد اعظم نے تقریباً 100 منٹ تقریر کی چونکہ اس جلسے کا مقصد دو قومی نظرئیے کو اجاگر کرنا تھا اس لئے مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے اور قرار داد پاکستان پیش کرتے ہوئے انہوں نے فرمایا کہ مسلمان اور ہندو دو الگ الگ قومیں ہیں جن کے مذہب الگ ہیں جن کی غمی خوشی،رسم و رواج اور رہن سہن الگ ہے لہذہ یہ دو قومیں ہیں اور ہم اپنے رہنے کے لئے الگ ملک پاکستان بنائینگے جہاں تمام مذاہبِ کے لوگ مکمل آزادی کیساتھ زندگی بسر کر سکیں گے قائد اعظم کے علاوہ اس جلسے میں مولوی فضل الحق بنگالی،چویدری خلیق الزماں،مولانا ظفر علی خان،سردار اورنگزیب،اور عبداللہ ہارون نے بھی تقریر کرتے ہوئے دو قومی نظرئیے اور قیام پاکستان کی اہمیت کو اجاگر کیا
    اس جلسے میں تقریباً سوا لاکھ مسلمانوں، جن میں سے بیشتر خواتین تھیں ،نے شرکت کی اس سے قبل ہندوستان میں مسلمانوں کا اتنا بڑا اجتماع کبھی نا ہوا تھا مسلمانوں نے قائد اعظم زندہ باد،سینے پہ گولی کھائیں گے پاکستان بنائینگے اور بن کے رہے گا پاکستان کے نعرے لگائے اور اپنے قائد حضرت محمد علی جناح کی قیادت میں انگریز و ہندو کے سامنے سینہ سپر ہو گے اور اپنی جان و مال کی قربانیاں دے کر 14 اگست 1947 کو پاکستان بنانے میں کامیاب ہو گئے
    آج ہمیں بھی پاکستان کی بقاء و سلامتی کیلئے علامہ محمد اقبال،قائد اعظم محمد علی جناح اور ان کے کارکنان جیسا عزم چاہئیے تاکہ دو قومی نظرئیے اور پاکستان کے قیام کا مقصد دنیا پر واضح ہو سکے اور اقبال کا خواب شرمندہ تعبیر ہو

  • یوم پاکستان اور کرونا وائرس،  قیام پاکستان کے وقت کے جذبوں کی ضرورت ہے!!! تحریر: محمد عبداللہ

    یوم پاکستان اور کرونا وائرس، قیام پاکستان کے وقت کے جذبوں کی ضرورت ہے!!! تحریر: محمد عبداللہ

    آج تئیس مارچ ہے وہ دن جو تحریک پاکستان کا سب سے خاص دن ہے. یوں تو برصغیر کے مسلمانوں کو انگریزوں کی غلامی اور ہندو کی چالبازی سے نکالنے لیے کوششیں اور کاوشیں بڑی دیر سے جاری تھیں، جنگ آزادی آٹھارہ سو ستاون سے علی گڑھ تحریک تک ،اور تحریک خلافت سے مسلم لیگ کے قیام تک برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کی اس بیچ منجھدار میں ڈولتی ناؤ کو سنبھالا دینے اور پرسکون ساحل کی سمت لانے کے لیے سینکڑوں قائدین نے اپنی خدمات سرانجام دیں.

    مسلم لیگ کے قیام کے بعد کچھ سمتیں متعین ہونا شروع ہوئیں پھر قائد و اقبال کی زیرک قیادت نے مسلمانوں کے تحفظ کا بیڑہ اٹھایا اور بالآخر تئیس مارچ انیس سو چالیس کو اسلام کے لاکھوں پروانے لاہور میں منٹو پارک میں جمع ہوئے جس کو آج گریٹر اقبال پارک کے نام سے جانا جاتا ہے ان لاکھوں فرزندان توحید نے محمد علی جناح کی قیادت میں پختہ عہد کیا کہ ہمیں کوئی وزارتیں اور پیکجز نہیں چاہیں بس لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی بنیاد پر ایک آزاد وطن چاہیے جہاں اسلام آزاد ہو اسلام پر کاربند ہونا آزاد ہو.

    اس دن شیر بنگال کی طرف سے پیش کی جانے والی قرارداد نے برصغیر کے مسلمانوں کو ان کی منزل دکھا دی اور پھر سات سال کے مختصر عرصے میں قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں برصغیر کے مسلمانوں نے اپنی اس منزل کو پاکستان کی صورت پالیا. یہ منزل کوئی پھولوں کی سیج نہیں تھی بلکہ آگ و خون کے دریا تھے جن کو عبور کرنا پڑا تھا ، قربانیوں کی داستان اسماعیل و ابراہیم تھی.
    پچاس لاکھ مسلمانوں نے فقط لاالہ الا اللہ کی آزاد سرزمین پر ایک سجدے کی خاطر اپنا سب کچھ چھوڑ دیا تھا اور چل نکلے تھے مگر ہجرتوں کے یہ سفر بھی آسان نہ تھے. سولہ لاکھ مسلمانوں کو اس وطن عزیز کے لیے قربان ہونا پڑا تھا ، پاکباز ماؤں اور بیٹیوں کی عصمتیں تار تار ہوئیں تھیں اور پھر لٹے پٹے قافلے پاکستان کی سرحد پر پہنچتے تو سبز ہلالی کے سائے تلے سجدہ ریز ہوجاتے.
    آج کا دن کوئی معمولی دن نہیں ہے بلکہ اس دن کو یوم پاکستان کہا جاتا ہے یہ دن ہے ان یادوں کا، ان عہد و پیمان کا، ان قربانیوں اور ان کاوشوں کا دن ہے کہ جو اسلام کی ایک آزاد اور مضبوط ریاست کے قیام کا باعث بنیں. لیکن آج صورتحال بہت ہی نازک ہے، دنیا بھر میں پھیلنے والی وباء کرونا وائرس سے وطن عزیز پاکستان بھی محفوظ نہیں رہ پایا فقط چند دنوں کے اندر نقشہ بدل چکا ہے اس دن کے تحت ہونے والی سبھی تقریبات حتیٰ کہ افواج پاکستان کی پریڈ تک منسوخ ہوچکی ہے اور ریاست کے سربراہان مجبور ہوکر ملک بھر میں کرفیو اور لاک ڈاؤن لگانے کی سوچ بچار کر رہے ہیں.

    وزیراعظم پاکستان عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان جیسا ملک جہاں پچیس فیصد لوگ یومیہ اجرت پر مزدوری کرتے ہوں وہ مکمل لاک ڈاؤن کا متحمل نہیں ہوسکتا مگر ہم اٹلی اور ایران بھی نہیں بننا چاہتے کہ کرونا کی وجہ سے لاشیں ہر طرف بکھری پڑی ہوں اور کوئی اٹھانے والا بھی نہ اس لیے پاکستان کہ ہر شہری کو قوم کا کردار ادا کرنا پڑے گا ان جذبوں کا زندہ کرنا پڑے گا کہ جو قیام پاکستان کے وقت تھے. اس وقت گھر سے نکلنے کا حکم تھا تو آج گھروں میں رہنے کا حکم ہے. اس وقت اس حکم پر عمل کیا تھا اور سر دھڑ کی بازی لگائی تھی تو پاکستان ملا تھا آج اگر گھر میں رہنے کے حکم پر عمل کرتے ہیں تو پاکستان کو بچا پائیں گے.
    اپنے گھر میں رہیے، ریاست کو مجبور مت کیجیئے کہ ان کو ملک مکمل طور پر بند کرنا پڑ جائے کہ صورتحال انتہائی حد تک خطرناک ہوتی جا رہی ہے اور یہ مکمل طور پر عوام الناس اور انتظامیہ کی لاپرواہی کے نتائج ہیں آج یوم پاکستان کا پیغام یہی ہے کہ ایک قوم بنیے نہ کہ ایک ہجوم.

    محمد عبداللہ کے مزید بلاگز پڑھیں۔

    محمد عبداللہ