Baaghi TV

Tag: قید

  • افغان طالبان کی قید میں 5 برطانوی شہری رہا

    افغان طالبان کی قید میں 5 برطانوی شہری رہا

    افغان طالبان کی قید میں موجود 5 برطانوی شہریوں کو رہا کردیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : "دی گارجئین کے مطابق” بی بی سی کے سابق کیمرہ مین اور افغانستان کے ماہر پیٹر جووینال سمیت گزشتہ دسمبر سے طالبان کے زیر حراست پانچ برطانوی شہریوں کو برطانوی دفتر خارجہ (FCDO) نے بیک روم ڈپلومیسی کے بعد پیر کو رہا کر دیا ہے-

    جووینال کو طالبان نے چھ ماہ قبل کابل میں اس وقت گرفتار کیا تھا جب وہ کان کنی کی کچھ سرمایہ کاری پر بات کرنے اور ملک میں اپنے بہت سے دیرینہ دوستوں سے بات کرنے کے لیے افغانستان گیا تھا-

    اس کی شادی ایک افغان سے ہوئی ہے جس سے اس کے تین بچے ہیں اور بی بی سی کے رپورٹر جان سمپسن کے الفاظ میں، وہ دنیا کے بہترین ٹیلی ویژن کیمرہ مینوں میں سے ایک تھے۔ دونوں افراد نے تقریباً دو دہائیاں قبل ایک ساتھ کام کیا تھا۔ ان کی عمر 66 سال ہے اور انہیں ہائی بلڈ پریشر ہے۔ اس نے قید میں بیرونی دنیا تک بہت کم رسائی حاصل کی تھی، اسے ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی نے نہیں دیکھا تھا اور اس پر کوئی الزام نہیں لگایا گیا تھا۔

    ایف سی ڈی او نے کہا کہ وہ رہائی پانے والے دیگر افراد کے نام جاری نہیں کرے گا، لیکن اس بات کی تصدیق کی کہ کوئی اور برطانوی ابھی تک حراست میں نہیں ہے۔

    سکریٹری خارجہ لز ٹرس نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ خوشی ہے کہ برطانیہ افغانستان میں قید اپنے 5 شہریوں کو رہا کرانے میں کامیاب رہا یہ افراد جلد اپنے خاندانوں سے ملیں گے، میں ان افراد کی رہائی کے لیے برطانوی سفارتکاروں کی جانب سے کیے جانے والے کام پر ان کی شکرگزار ہوں-

    برطانیہ کے فارن، کامن ویلتھ اینڈ ڈویلپمنٹ آفس کے ایک ترجمان نے کہا ‘ ہم افغانستان کی موجودہ انتظامیہ کی جانب سے 5 برطانوی شہریوں کی رہائی کا خیرمقدم کرتے ہیں ان برطانوی شہریوں کا افغانستان میں ہماری حکومت سے کوئی تعلق نہیں تھا بلکہ وہ حکومتی سفری ہدایت کے برخلاف افغانستان گئے تھے، جو ایک غلطی تھی’۔

    ترجمان کے مطابق ان شہریوں کے خاندانوں کی جانب سے ہم افغان ثقافت، روایات یا قوانین کی کسی بھی قسم کی خلاف ورزی پر معذرت کرتے ہیں اور مستقبل میں اچھے رویے کی یقین دہانی کراتے ہیں۔

    یہ واضح نہیں کہ ان افراد کو کب طالبان نے قید کیا تھا اور انہیں کہاں رکھا گیا تھا۔

    برطانوی شخص جس نے 20 سال بعد پہلی بار پانی پیا

  • نائیجیریا:  توہین مذہب کے الزام ایک شخص کو 24 سال قید کی سزا

    نائیجیریا: توہین مذہب کے الزام ایک شخص کو 24 سال قید کی سزا

    ابوجہ: نائیجیریا کی عدالت نے توہین مذہب کے الزام ایک شخص کو 24 سال قید کی سزا سنائی ہے۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے” دی گارجئین” کے مطابق نائیجیریا میں ہیومنسٹ ایسوسی ایشن نامی تنظیم کے سربراہ مبارک بالا کو سوشل میڈیا پر اسلام مخالف اور توہین آمیز پوسٹیں کرنے کے الزام میں مقامی عدالت نے 24 سال قید کی سزا سنائی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق صدر مبارک بالا کو 28 اپریل 2020 کو شمالی کدونا ریاست میں ان کے گھر سے گرفتاری کے دو سال بعد منگل کی سہ پہر کو سزا سنائی گئی۔

    مکۃ المکرمہ:بھکارن کےپاس1لاکھ17ہزار ریال اورسونےکےزیورات:سعودی جان کرحیران

    مبارک بالا کو توہین آمیز پوسٹیں کرنے پر 2020 کو گرفتار کیا گیا تھا اور اُس نے دوران تفتیش اپنے خلاف 18 الزامات کا اعتراف بھی کیا تھا۔ شواہد اور اعترافی بیان کی روشنی میں عدالت نے 24 سال قید کی سزا سنائی۔

    اپریل 2020 میں فیس بک پر اسلام کے خلاف تنقیدی تبصرے پوسٹ کرنے کے بعد اسے جان سے مارنے کی دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا اور اس پر توہین مذہب کا مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا گیا۔

    توہین اسلام کا مرتکب شخص کانو میں ایک مذہبی اسکالر کا بیٹا بالا، ایک ملحد ہے پہلے مسلمان تھا تاہم بعد میں مذہب کو ترک کردیا تھا جو ایک سخت گیر قدامت پسند علاقے میں ایک واضح مذہبی نقاد تھا اور اپنی تنظیم بھی بنائی تھی۔ ہیومنسٹ ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ مبارک بالا سے اعترافی بیان تشدد کے ذریعے حاصل کیا گیا ہے۔

    بازاروں میں فروخت ہونیوالی چاکلیٹ میں منشیات کی ملاوٹ کا انکشاف

    بالا کو ایک سال تک بغیر کسی الزام کے حراست میں رکھا گیا، اس دوران اس کے ٹھکانے کا پتہ نہیں چل سکا اور اسے کئی مہینوں تک اپنے وکیل یا خاندان سے رابطہ نہیں کرنے دیا گیا دارالحکومت ابوجا کی ایک اعلیٰ عدالت نے ان کی ضمانت پر رہائی کا حکم دیا لیکن نائیجیریا کے حکام نے کانو اور کدونا میں اس فیصلے کو نظر انداز کر دیا –

    سزا کے خلاف نائیجیریا کی انسانی حقوق کی تنظیموں نے احتجاج بھی کیا بالا کی حراست اور سلوک کی ہیومنسٹ یوکے اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے مذمت کی ہے۔

    بالا کے ایک ساتھی اور ہیومنسٹ ایسوسی ایشن آف نائیجیریا کے بانی لیو ایگوے نے اس کیس کی پیروی کرتے ہوئے کہا کہ یہ نائیجیریا میں انسانیت اور انسانی حقوق کے لیے بہت افسوسناک دن ہے اس کا مضمرات ہیومنسٹ موومنٹ کے لیے اچھا نہیں ہے، کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسانیت پسند، مضمرات کے لحاظ سے، مجرم ہوں گے۔

    انتہاپسند اینکرپروڈکٹ کا اردومیں نام دیکھ کرآگ بگولہ،مینیجرکا منہ توڑ جواب ،…

    بالا کی سزا کے بعد، اگوے نے دعویٰ کیا کہ مذہبی اسٹیبلشمنٹ کے ارکان نے غالباً بالا کو جرم تسلیم کرنے کی دھمکی دی تھی۔ "اس پر دباؤ تھا کہ وہ اعتراف کرے کہ وہ قصوروار ہے اور بصورت دیگر وہ جیل میں مر سکتا ہے۔ کانو میں حکام نے اس پر یہ بات مسلط کی کہ اس کے خاندان کے محفوظ رہنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ اگر اس نے اعتراف کیا کہ وہ قصوروار ہے، اس لیے قانونی مشورے کے خلاف بھی اس نے راضی ہونے اور نتائج کا سامنا کرنے کا فیصلہ کیا۔

    القاعدہ سربراہ ایمن الظواہری کی نئی ویڈیوجاری،اللہ اکبرکا نعرہ لگانے والی بھارتی…

  • سوشل میڈیا پرجھوٹی خبریں‌پھیلانے پر5 سال قید 14 کروڑ روپے جرمانہ:فیصلے ہوگئے

    سوشل میڈیا پرجھوٹی خبریں‌پھیلانے پر5 سال قید 14 کروڑ روپے جرمانہ:فیصلے ہوگئے

    ریاض :سوشل میڈیا پرجھوٹی خبریں‌پھیلانے پر5 سال قید 14 کروڑ روپے جرمانہ:فیصلے ہوگئے،اطلاعات کے مطابق سعودی عرب کی پبلک پراسیکیوشن نے وارننگ دی ہے کہ افواہیں اور سوشل میڈیا پر جھوٹی خبریں پھیلانے والوں کو سخت سزائیں دی جائیں گی۔

    عرب نیوز کے مطابق پبلک پراسیکیوشن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی نے امن و امان کی صورتحال کے بارے میں افواہ پھیلائی تو اسے سخت سزا کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ اس کے علاوہ ان لوگوں کو بھی سخت سزاؤں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے جو سوشل میڈیا پر دشمن ملکوں کی جانب سے گھڑی گئی جھوٹی خبروں کو پھیلاتے ہیں۔

    اتھارٹی نے بتایا کہ حال ہی میں ریاض میں میوزک کنسرٹ کے حوالے سے جھوٹی خبریں پھیلائی گئیں جن کا تعلق بیرون ملک سے ہے۔ جن سعودی شہریوں نے ان افواہوں کو پھیلانے میں حصہ لیا ہے انہیں نوٹسز جاری کردیے گئے ہیں۔

    پبلک پراسیکیوشن کے مطابق اس طرح کے جرائم کی سعودی عرب میں سزا پانچ سال سے زائد قید اور 30 لاکھ ریال جو کہ پاکستانی 14کروڑ8 لاکھ روپے تک جرمانہ ہوسکتا ہے۔

    یہ سزائیں پاکستان میں نہیں بلکہ سعودی عرب میٰں نافذ ہیں ، پاکستان میں تو سوشل میڈیا تو آزا ہے ہی مگرالیکٹرانک اورپرنٹ میڈیا پراب جھوٹی اورفیک خبروں کا ذریعہ بن گئے ہیں‌، خصوصا حکومت کے خلاف اپوزیش اور دیگر ذرائع سے فائدہ اٹھانے کے بعد ایسی ایسی خبریں وائرل ہورہی ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں

    دوسری بات یہ ہےکہ پاکستان میں سوشل میڈیا قوانین کوایسے غلط اورمنفی پراپیگنڈے کو کنٹرول کرنےکےلیے نافذ کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں لیکن اس سلسلے میں رکاوٹ بھی وہی ذرائع بن رہے ہیں جو فیک نیوز اورمن گھڑت خبروں اورتبصروں کا سہارا لیتے ہیں‌

  • مقبوضہ کشمیر:بھارتی فوج نےیاسین ملک کے بھانجوں کو گرفتار کرلیا:مشعال ملک

    مقبوضہ کشمیر:بھارتی فوج نےیاسین ملک کے بھانجوں کو گرفتار کرلیا:مشعال ملک

    اسلام آباد:مقبوضہ کشمیر:بھارتی فوج نےیاسین ملک کے بھانجوں کو گرفتار کرلیا:مشعال ملک،اطلاعات کے مطابق حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں یاسین ملک کے بھانجوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

    اپنے ایک بیان میں مشعال ملک نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں یاسین ملک کے بھانجوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے، بھارتی فوج یاسین ملک کی فیملی کو مختلف طریقوں سے ہراساں کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ بوڑھی ماں اور بہن کو بھی تنگ کیا جارہا ہے جب کہ عالمی دنیا کشمیر میں بھارتی مظالم پر خاموش تماشائی ہے۔

    مشعال ملک نے کہا کہ یاسین ملک کو جیل میں ڈرانے اور دھمکانے کے لیے انکی فیملی کو ہراساں کیا جارہا ہے۔انکا کہنا تھا کہ اشفاق اور شعیب کا جرم اتنا ہے کہ وہ یاسین ملک کے بھانجے ہیں۔

    یاسین ملک کی اہلیہ نے کہا کہ اشفاق کی عمر 23 سال ہے جب کہ شعیب کی عمر 27 سال ہے۔مشعال ملک نے کہا کہ یاسین ملک کو گرفتار ہوئے تین سال ہونے کو ہیں۔

    ادھرغیر قانونی طور پربھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (پی اے جی ڈی) نے کہا ہے کہ حیدر پورہ جعلی مقابلے کے بارے میں بھارتی پولیس کی پریس بریفنگ پرانی کہانی کا اعادہ ہے۔

    کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق پی اے جی ڈی کے ترجمان نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ عوام میں یہ گہرا تاثر پایاجاتا ہے کہ اس واقعے میں شہید ہونے والے شہریوں کو بھارتی فورسز نے انسانی ڈھال کے طورپر استعمال کیاور پولیس کا تازہ بیان ایک من گھڑت کہانی اور پردہ پوشی کی کوشش لگتا ہے۔انہوں نے کہاکہ اس سے عوام اور شہداءکے اہلخانہ کے جائز خدشات دورنہیں ہونگے۔

    انہوں نے کہا کہ ہمیںپختہ یقین ہے کہ قابل اعتماد عدالتی تحقیقات سے کم کسی چیز سے شکوک دور نہیں ہونگے ۔انہوں نے کہاکہ انتظامیہ کو مزید تاخیر کئے بغیر مقررہ وقت کے اندر اندر عدالتی تحقیقات کا حکم دینا چاہیے۔واضح رہے بھارتی پولیس نے حیدر پورہ جعلی مقابلے میں ملوث بھارتی فورسز کے اہلکاروں کو بری الذمہ قراردیاتھا۔

  • ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان کی فتح پر جشن منانے والا بھارتی طالب علم دوستوں سمیت 2 ماہ سے قید

    ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان کی فتح پر جشن منانے والا بھارتی طالب علم دوستوں سمیت 2 ماہ سے قید

    ٹی ٹوئنٹی میں پاکستانی فتح پر خوشی منانے والا بھارتی طالب علم 2 ماہ سے قید ہے جبکہ وکیلوں نے بھی کیس لینے سے انکار کر دیا ہے-

    باغی ٹی وی : ہر گزرتا دن پہلے سے زیادہ تکلیف دہ ہے، 2 مہینے ہوگئے میرا دل اپنے لختِ جگر کو دیکھنے کیلئے تڑپ رہا ہے”، یہ الفاظ اس ماں کے ہیں جس کے بیٹے کو محض کرکٹ میں پاکستانی جیت پر خوش ہونے کی وجہ سے قید میں ڈال دیا گیا۔

    پاکستان کی جیت کا جشن: کشمیری طلبا کیخلاف ایف آئی آر درج

    برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق حفظیہ بیگم مقبوضہ کشمیر میں رہتی ہیں ان کا بیٹا شوکت احمد غنائی بھارتی شہر آگرہ کے ایک کالج میں طالب علم تھا جسے ٹی ٹوئنٹی میں پاکستانی فتح کی تصاویر شیئر کرنے پر قید کرلیا گیا۔

    بھارتی شکست پرمقبوضہ کشمیرسمیت بھارت میں خوشیاں ،آتشبازی:بھارت غصہ کرگیا،مسلم…

    تاج محل سے قریب آگرہ کی سخت سیکورٹی جیل میں شوکت 2 ماہ سے قید ہیں اور وکیلوں نے بھی انتہائی تعصب کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کا کیس لینے سے انکار کردیا ہے۔

    شوکت کی بہن بانو نے بی بی سی کو بتایا کہ 24 اکتوبر کو جب بھارت اور پاکستان کا ٹی ٹوئنٹی میچ تھا, تب شوکت اور ان کے دوستوں نے پاکستان کی جیت پر ایک دوسرے کو میسجز شیئر کئے اور انہی میسجز نے ان سب کو جیل پہنچا دیا۔

    پاکستان کی کامیابی پر خوشیاں منانے والے کشمیریوں کے قتل کے نعروں پر محبوبہ مفتی کی مذمت

    شوکت، عنایت اور ارشد آگرہ کے ایک کالج میں میچ دیکھ رہے تھے جب پاکستان کی بھارت کیخلاف فتح ہوئی تو ان دوستوں نے واٹس ایپ پر اپنی خوشی کا ایک دوسرے سے اظہار کیا شیئر کی گئیں تصاویر میں بابر اعظم کی بھی تصویر تھی طلباء پر یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے کالج میں پاکستان حمایت میں نعرے بازی کی جبکہ کالج کے حکام کا کہنا ہے کہ ایسا بالکل نہیں ہوا۔

    اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر منیر اکرم نے ایک بار پھر کشمیر کا مقدمہ پیش کر دیا

    بی بی سی کے مطابق بھارت کی Young Lawyers’ Association کے ممبر نتن ورما سے جب پوچھا گیا کہ کیا یہ وکیل کا کام نہیں کہ وہ کسی بھی ملزم سے قطع نظر غیر جانبدار ہوکر اس کا کیس لڑے جس پر نتن کا کہنا تھا کہ طالب علموں نے بھارت میں رہ کر پاکستان کو سراہا ہے، ہمیں تکلیف ہوئی ہے اس لیے ہم سب نے مل کر فیصلہ کیا ہے کہ ہم ان کا کیس نہیں لڑیں گے۔

    یوم شہدا جموں،وزیراعظم آزاد کشمیر،مشعال ملک کا اہم پیغام

    نمائندے نے مزید پوچھا کہ ملک کے آئین میں تو آزادی اظہار رائے کا قانون موجود ہے، اسپورٹس میں کوئی شہری دوسرے ملک کو سپورٹ کیوں نہیں کرسکتا؟ وکیل کا جواب میں کہنا تھا کہ قانون موجود ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اپنے ملک میں دوسرے ملک کو سراہا جائے۔

    دنیا والو :بھارتی حکومت کشمیری مسلمانوں کے ووٹوں کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہی ہے :…

    واضح رہے کہ ٹوئنٹی ورلڈکپ میں پاکستان کے ہاتھوں بھارتی شکست پر مقبوضہ کشمیرسمیت بھارت بھر میں جشن منائے گئے تھے جس پر بھارتی حکومت کی جانب سے پاکستان سے محبت کرنے والوں پرتشدد کیا گیا تھا اور انڈیا کےمختلف تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طلبہ پر انتہا پسند ہندوؤں نے حملے شروع کئے تھے ہیں-

    کشمیر میں ہم نہیں لڑ سکتے، بھارتی فوج نے امت شاہ کے سامنے ہاتھ کھڑے کر دیئے

    پاکستان نے بھارت کو ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں 10 وکٹوں سے شکست دیکر تاریخ رقم کی تھی ایسے میں پاکستان میں نوجوان سڑکوں پر نکل آئے اور ساتھ ہی مقبوضہ کشمیر میں بھی شہریوں نے جشن منایا مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں نے ایسے وقت میں پاکستان کی فتح کا جشن منایا جب مقبوضہ وادی کو بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کی موجودگی میں فوجی چھاؤنی بنا دیا گیا۔

    چین کشمیری مجاہدین کی مدد کرنے لگا؟ بھارتی فوج میں کھلبلی مچ گئی

    پاکستان کی تاریخی فتح پر وادی بھر میں شہری چوک چوراہوں پر نکل آئے اور پاکستانی پرچم لہرائے کشمیریوں نے وادی بھر میں آتشبازی کی اور ساتھ ہی فضا ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعروں سے گونج اٹھی کشمیریوں نے ‘جیوے جیوے پاکستان‘، ’تیری جان میری جان پاکستان پاکستان‘ کے نعرے لگائے-

    محبوبہ مفتی کو ایک بار پھر نظر بند کر دیا گیا

    گورنمنٹ میڈیکل کالج، شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ میڈیکل سائنسز کے طلبا نے بھارت کے خلاف پاکستان کی جیت کا جشن منایا تھا آئی جی پولیس مقبوضہ کشمیر کا کہنا ہے کہ کشمیری طلبہ کیخلاف یو اے پی اے ایکٹ کےتحت ایف آئی آر درج کی گئی بھارتی پنجاب کے ضلع سنگور کے ایک انجینئرنگ کالج میں پاکستان کے ہاتھوں بھارت کی تاریخی شکست کے بعد بھارت میں انتہا پسند ہندو غصّے میں آئے اور انہوں نے معصوم کشمیری طلبا کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا جبکہ پولیس نے اس واقعے کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کیا۔

    سید علی گیلانی اس دنیا سے جانے کے بعد بھی بھارت کا اصل چہرہ بےنقاب کر گئے