Baaghi TV

Tag: قیدی

  • عیدالفطر اور یومِ پاکستان کے موقع پر قیدیوں کی سزاؤں میں خصوصی کمی کی منظوری

    عیدالفطر اور یومِ پاکستان کے موقع پر قیدیوں کی سزاؤں میں خصوصی کمی کی منظوری

    ایوانِ صدر کے میڈیا ونگ کے مطابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے اہم قانون سازی، تقرری، سول اعزازات اور سزاؤں میں خصوصی کمی کی منظوری دی ہے۔

    منظور کیے گئے قوانین میں پاکستان سٹیزن شپ (ترمیمی) بل 2026، اخباری ملازمین کے سروس کنڈیشنز (ترمیمی) بل 2026، زکوٰۃ و عشر (ترمیمی) بل 2026، نیشنل آرکائیوز (ترمیمی) بل 2026، پاکستان نیمز اینڈ ایمبلمز (ترمیمی) بل 2026، ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کارپوریشن (ترمیمی) بل 2026، نیا پاکستان ہاؤسنگ اینڈ ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (ترمیمی) بل 2026، پیمرا (ترمیمی) بل 2026 اور دانش یونیورسٹی اسلام آباد بل 2026 شامل ہیں۔

    جدہ: قدیم ترین مسجد میں جدید نوعیت کا تقریباً 800 سال پرانا آبی نظام دریافت

    صدر مملکت نے اعزاز اسلم ڈار کو بلوچستان کے کوٹے پر فیڈرل پبلک سروس کمیشن (ایف پی ایس سی) کا رکن مقرر کرنے کی بھی منظوری دی ہے، ا س کے علاوہ صدر نے نمایاں خدمات کے اعتراف میں پروفیسر سرور محمد خواجہ، راشد ملک اور زین العابدین احسن کو ستارہ امتیاز عطا کرنے کی منظوری دی، صدر مملکت نے عیدالفطر اور یومِ پاکستان 2026 کے موقع پر قیدیوں کی سزاؤں میں خصوصی کمی کی بھی منظوری دی ہے۔

    امریکا کا ایران کے خلاف مزید فوجی تعیناتی پر غور

  • پنجاب: عیدالاضحیٰ پر قیدیوں کوسزا میں 90 دن کی  معافی کا اعلان

    پنجاب: عیدالاضحیٰ پر قیدیوں کوسزا میں 90 دن کی معافی کا اعلان

    لاہور : عیدالاضحیٰ پر پنجاب میں قیدیوں کی سزا میں خصوصی معافی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔

    محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق صوبوں کی جیلوں میں قیدیوں کو 90 دن کی خصوصی معافی دی گئی ہے، سزا میں معافی پاکستان پریزن رولز 1978 کے رول 216 کے مطابق دی گئی، جیل رولز کے مطابق سزا معافی کا حکم مخصوص قیدیوں پر لاگو ہوتا ہے جب کہ سزا معافی کے حکم نامے سے 450 قیدی مستفید ہوں گے۔

    نوٹیفکیشن کے تحت پنجاب کی جیلوں سے 270 قیدی رہا ہو کر اہل خانہ کے ساتھ عید منائیں گے تاہم دہشتگردی، فرقہ واریت، جاسو سی، بغاوت، ریاست مخالف سرگرمی پرسزا یافتہ ، قتل، زنا، منشیات فروشی، ڈکیتی اور اغوا کے مجرمان سزا یافتہ قیدی معافی سے مستفید نہیں ہوں گے، اس کے علاوہ مالی غبن، قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے سزا یافتہ قیدی اور ایک سال کے دوران جیل قوانین کی خلاف ورزی پرسزایافتہ قیدی بھی معافی سے مستفید نہیں ہوں گے۔

    بھارت سندھ طاس معاہدے کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے، وزیراعظم

    پاک بھارت جنگ میں ہونیوالے نقصانات کا جائزہ لینے کیلئے اعلیٰ سطح کمیشن تشکیل

    190 ملین پاؤنڈز ریفرنس کیس: نیب کو سات دن میں نوٹیفائی کرنے کی ہدایت

  • اڈیالہ جیل میں 2 قیدی انتقال کرگئے

    اڈیالہ جیل میں 2 قیدی انتقال کرگئے

    راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں 2 قیدی انتقال کرگئے۔

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق اڈیالہ جیل راولپنڈی کا حوالاتی قیدی دل کی تکلیف کے باعث دم توڑ گیا، قیدی امین روات کا رہائشی اور چیک ڈس آنر کے مقدمے میں جیل میں بند تھا،قیدی کو راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی منتقل کیا جا رہا تھا کہ راستے میں ہی دم توڑ گیا، حوالاتی کی لاش اسپتال منتقل کردی گئی۔

    اڈیالہ جیل کا دوسرا قیدی الیاس نذربھی انتقال کرگیا جیل ذرائع کے مطابق الیاس نذر کو صحت کی خرابی کے باعث پمزاسپتال منتقل کیا جارہا تھا تاہم اسپتال جاتے وہ بھی راستے میں دم توڑ گیا، قیدی الیاس نذر منشیات کے مقدمہ میں گرفتار تھا۔

    توجہ دی جائے تو سرکاری سکولوں کے بچے پوری دنیا فتح کرسکتے ہیں،مریم نواز

    وزیراعظم پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے صدر کا دوطرفہ تعاون پر تبادلہ خیال

    پالیسی ریٹ 22 سے کم ہو کر 12 فیصد پر آنا معاشی بہتری کی علامت ہے،نواز شریف

  • جاپان،بزرگ افراد تنہائی کا شکار،خواتین جیل جانے کو ترجیح دینے لگیں

    جاپان،بزرگ افراد تنہائی کا شکار،خواتین جیل جانے کو ترجیح دینے لگیں

    جاپان کے سب سے بڑے خواتین کے جیل میں بزرگ خواتین کی بڑی تعداد موجود ہے۔ ان کے چہرے پر پھیکی مسکراہٹ نظر آتی ہے۔ وہ آہستہ آہستہ جیل کی راہداریوں میں چلتی ہیں، کچھ خواتین واکر کا استعمال کرتی ہیں۔ یہاں کے ملازمین ان کی نہانے، کھانے، چلنے اور دوا لینے میں مدد کرتے ہیں۔لیکن یہ کوئی بزرگوں کا کیئر ہوم نہیں ہے، یہ جاپان کی سب سے بڑی خواتین کی جیل ہے۔ جیل میں موجود خواتین کی تعداد جاپان کی بڑھتی ہوئی عمر رسیدہ آبادی کی عکاسی کرتی ہے، اور اس میں تنہائی کے مسائل بہت زیادہ ہیں، جسے گارڈز کے مطابق بعض بزرگ خواتین اتنی شدت سے محسوس کرتی ہیں کہ وہ جیل میں رہنا پسند کرتی ہیں۔

    توشیگی خواتین کی جیل کے ایک افسر تاکا یوشی شیرا ناگا نے سی این این کو بتایا، "کچھ قیدی خواتین یہ کہتی ہیں کہ وہ یہاں ہمیشہ کے لیے رہنا چاہتی ہیں اور اگر وہ چاہیں تو 20,000 یا 30,000 ین (130 سے 190 ڈالر) ماہانہ دینے کے لیے تیار ہیں۔” یہ بیان ستمبر میں سامنے آیا،سی این این نے توشیگی جیل کی گلابی دیواروں اور پرسکون راہداریوں میں آکیو سے ملاقات کی، جو 81 سال کی ایک قیدی ہیں۔ آکیو کھانے کی چوری کے جرم میں قید ہیں اور وہ جیل کی زندگی کو زیادہ محفوظ اور مستحکم سمجھتی ہیں۔آکیو کے مطابق، "اس جیل میں بہت اچھے لوگ ہیں، شاید یہ زندگی میرے لیے سب سے زیادہ بہتر ہے۔”

    یہاں کی خواتین جیل میں رہ کر کارخانوں میں کام کرتی ہیں، لیکن یہ کچھ کے لیے ایک مناسب ماحول ہے جہاں انہیں باقاعدہ کھانا، مفت صحت کی دیکھ بھال اور بزرگوں کی دیکھ بھال ملتی ہے، وہ ساتھ ہی ساتھ ان لوگوں کا ساتھ بھی پاتی ہیں جنہوں نے بیرون جیل میں ان سے تعلق توڑا ہوا ہے۔

    یوریکو، جو 51 سال کی ایک قیدی ہیں، نے بتایا کہ انہوں نے پچھلے 25 سالوں میں پانچ بار منشیات کے الزام میں جیل کا سامنا کیا۔ ان کے مطابق جیل میں آنے والی خواتین کی عمریں بڑھتی جا رہی ہیں، اور بعض لوگ پیسوں کی کمی کے باعث دوبارہ جیل میں آنا چاہتے ہیں۔بزرگ خواتین اکثر اپنے خاندان سے علیحدگی اور غربت کا شکار ہوتی ہیں، جیسا کہ آکیو نے اپنے بارے میں بتایا۔ وہ کہتی ہیں کہ اگر ان کی مالی حالت بہتر ہوتی، تو وہ کبھی بھی چوری نہ کرتیں۔ آکیو کا بیٹا جو ان کے ساتھ رہتا تھا، ان سے کہتا تھا، "میں چاہتا ہوں کہ تم چلی جاؤ۔”

    2022 میں جاپان میں 65 سال یا اس سے زیادہ عمر کے قیدیوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا۔ یہ تبدیلی جیلوں کی نوعیت کو بھی بدل رہی ہے۔ جیل میں اب ان بزرگ قیدیوں کی دیکھ بھال اور ضروریات کے لیے خصوصی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔مقامی حکومتیں اور وزارت انصاف اب ان بزرگ قیدیوں کی رہنمائی اور مدد کے لیے مختلف پروگرامز شروع کر رہی ہیں تاکہ ان کو جیل سے باہر بہتر زندگی گزارنے کے لیے سپورٹ فراہم کی جا سکے۔اس کے باوجود جاپان میں بڑھتی ہوئی عمر رسیدہ آبادی اور کم ہوتی پیدائشوں کی وجہ سے مسائل بڑھتے جا رہے ہیں۔ حکومت اس بات پر غور کر رہی ہے کہ بزرگوں کے لیے مزید سپورٹ فراہم کی جائے تاکہ وہ دوبارہ جرائم کا ارتکاب نہ کریں۔ایسی صورتحال میں، توشیگی جیل میں قیدیوں کے درمیان ایک دوسرا خاندان اور معاونت کا ماحول نظر آتا ہے، جہاں ایک دوسرے کی مدد اور دیکھ بھال کی جاتی ہے۔

    ٹرمپ چین اور بھارت کے دورے کے خواہشمند

    سات دن میں جوڈیشل کمیشن نہ بنا تو چوتھی میٹنگ کا فائدہ نہیں، بیرسٹر گوہر

  • خاتون جیل افسر کا قیدی کے ساتھ جنسی تعلق،ویڈیو لیک

    خاتون جیل افسر کا قیدی کے ساتھ جنسی تعلق،ویڈیو لیک

    برطانیہ کی ایک نجی جیل میں ایک خاتون جیل افسر کو مبینہ طور پر ایک قیدی کے ساتھ جسمانی تعلق قائم کرتے ہوئے کیمرے میں پکڑے جانے کے بعد گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ ویلنگبورو کے نجی جیل "فائیو ویلز” میں پیش آیا، جہاں جیل افسر اور ایک ٹیٹو والے قیدی کے درمیان غیر مناسب تعلقات قائم ہونے کی ویڈیو ریکارڈ کی گئی۔مذکورہ خاتون جیل افسر اور قیدی کے جنسی تعلقات کی ویڈیو ایک کیمرے میں ریکارڈ ہو گئی، جس میں دونوں کو جسمانی تعلقات قائم کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ یہ ویڈیو جیل میں دیگر قیدیوں اور باہر موجود افراد تک پہنچ چکی ہے، جس کے بعد جیل انتظامیہ نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے خاتون افسر کو معطل کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی قیدی کو بھی جیل کے دوسرے حصے میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

    اس واقعے کو ڈیلی سٹار کی رپورٹ کے مطابق 2024 میں برطانیہ کے جیل نظام میں اس نوعیت کا دوسرا سکینڈل قرار دیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل بھی ایک شادی شدہ جیل گارڈ کو ایک قیدی کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرتے ہوئے ویڈیو میں پکڑا گیا تھا، جس نے برطانوی جیل انتظامیہ کو مزید تحقیقات کی ضرورت کا احساس دلایا۔

    اس تازہ واقعے نے جیل کے نظام میں اخلاقی قدروں اور نگرانی کے نظام پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ اس واقعہ کے بعد جیل کے حکام نے اعلان کیا ہے کہ ایسے سکینڈلز کی روک تھام کے لیے سخت نگرانی اور جانچ پڑتال کی جائے گی تاکہ اس قسم کے غیر قانونی اور غیر اخلاقی رویوں کی سرکوبی کی جا سکے۔دوسری جانب، جیل افسر کے خلاف تحقیقات جاری ہیں اور اس کے ممکنہ قانونی اقدامات کے حوالے سے مزید تفصیلات منظر عام پر آنے کا امکان ہے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ خاتون افسر کو کسی قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا یا نہیں، لیکن یہ واقعہ جیل کے نظم و ضبط اور اخلاقی دائرے پر ایک بڑا سوالیہ نشان بن چکا ہے۔

    یہ واقعہ جیل کے اندر اخلاقی اور پیشہ ورانہ طرز عمل کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتا ہے۔ جیلوں میں قیدیوں کے ساتھ غیر قانونی تعلقات جیل کے عملے کی جانب سے ان کے اختیارات کا غلط استعمال کرنے کی نشاندہی کرتے ہیں، جو نہ صرف جیل کے نظم و ضبط کو متاثر کرتا ہے بلکہ قیدیوں کے ساتھ برتاؤ کے اصولوں کی بھی خلاف ورزی ہے۔اس سکینڈل کے بعد، جیل کے حکام نے اپنی پالیسیاں مزید سخت کرنے اور ایسے معاملات کی روک تھام کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

    مسلمان کی جائیداد میں غیر مسلم کا حصہ،عدالت نے فیصلہ سنا دیا

    بلاول بھٹو ، سیاست کے اسٹیج پر نیا انداز، رنبیر کپور سے موازنہ، آئندہ کے ’ہینڈسم وزیرِاعظم‘ قرار

  • جو بائیڈن نے 37 قیدیوں کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کر دی

    جو بائیڈن نے 37 قیدیوں کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کر دی

    واشنگٹن: امریکی صدر جو بائیڈن نے 37 وفاقی قیدیوں کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    یہ فیصلہ صدر بائیڈن کی انتظامیہ کی جانب سے وفاقی سطح پر پھانسیوں پر عائد پابندی کے تناظر میں لیا گیا ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق، صدر جو بائیڈن نے اس تبدیلی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام میری انتظامیہ کے زیرِ نگرانی وفاقی سطح پر پھانسیوں پر عائد پابندی کے اصولوں کے مطابق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "یہ قدم انصاف اور انسانی حقوق کے اصولوں کے مطابق اٹھایا گیا ہے اور اس کا مقصد وفاقی عدلیہ کے نظام کو مزید انسان دوست بنانا ہے۔”

    اگرچہ بائیڈن کی انتظامیہ نے 37 قیدیوں کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا ہے، لیکن دہشت گردی اور اجتماعی قتل جیسے سنگین جرائم میں ملوث مجرموں کے لئے سزائے موت کا حکم برقرار رکھا گیا ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے واضح کیا کہ "جو افراد بڑے پیمانے پر قتل یا دہشت گردی میں ملوث ہیں، ان کے لئے سزائے موت کی سزا برقرار رکھی جائے گی۔”امریکی میڈیا کے مطابق، کچھ معروف مجرموں کی سزائے موت اس فیصلے کے باوجود برقرار رہیں گی۔ ان میں سے ایک اہم نام 2013 کے بوسٹن میراتھون بم دھماکے کے مجرم جوہر سرنیف کا ہے، جسے سزائے موت سنائی گئی تھی۔ جوہر سرنیف نے بوسٹن میراتھون کے دوران بم دھماکے کر کے 3 افراد کو قتل اور 260 سے زائد افراد کو زخمی کیا تھا۔اسی طرح، 2015 میں ساؤتھ کیرولائنا کے ایک چرچ میں حملے کے مجرم ڈائیلان روف کی سزائے موت بھی برقرار رکھی گئی ہے۔ روف نے چرچ میں داخل ہو کر 9 سیاہ فام افراد کو قتل کیا تھا۔اس کے علاوہ، پٹسبرگ میں یہودی عبادت گاہ پر حملے کے مجرم رابرٹ بوورز کی سزائے موت بھی بدستور برقرار ہے۔ بوورز نے 2018 میں پٹسبرگ کی ایک عبادت گاہ میں فائرنگ کر کے 11 افراد کو قتل کیا تھا۔

    ٹھل کے صحافی نبی بخش کنرانی بخشاپور سے مبینہ اغوا، کاربرآمد

    اٹلی،پی ٹی آئی سول نافرمانی کیخلاف پاکستانیوں کا احتجاج

  • جیل میں قیدیوں سے ملاقات کے اصول و ضوابط جاری

    جیل میں قیدیوں سے ملاقات کے اصول و ضوابط جاری

    وزیراعلی پنجاب کی ہدایت پر محکمہ داخلہ کے جیل ریفارمز کا سلسلہ جاری ہے

    محکمہ داخلہ نے جیل میں قیدیوں سے ملاقات کے اصول و ضوابط جاری کر دیے،قیدیوں کی عزیز و اقارب اور لیگل کونسل سے ملاقات جیل قواعد کے مطابق ہو گی،جیل اسیران سے ملاقات کا شیڈول مین گیٹ اور انتظار گاہ میں آویزاں ہوگا،آئی جی جیل، ڈی آئی جی ریجن، متعلقہ جیل اور محکمہ داخلہ کا ٹال فری نمبر 1124 واضح درج ہو تاکہ دشواری کی صورت میں ملاقاتی رابطہ کرسکے،مین گیٹ پر ملاقاتیوں کی جامع تلاشی بذریعہ میٹل ڈیٹیکٹر اور واک تھرو گیٹ ہوگی،خواتین ملاقاتیوں کی تلاشی کیلئے لیڈی سٹاف مامور ہوگا،جن اسیران کی ملاقات بوجہ جیل جرائم یا حسبِ ضابطہ بند ہو انکی فہرست انتظار گاہ کے دروازے پر آویزاں ہوگی ،انتظار گاہ میں استقبالیہ ڈیسک ہوگا جہاں اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ بطور انچارج ملاقات راہنمائی کیلئے موجود ہوگا

    اسیران سے ملاقات کیلئے پہلے آئیں پہلے پائیں کے اصول کو مدنظر رکھا جائے گا،صرف ملاقات کے دن پر اور اصل شناختی کارڈ کے حامل افراد ہی جیل اسیران سے ملاقات کر سکیں گے،ہر ملاقاتی کی مکمل تفصیل پریزن مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم یا رجسٹر میں درج کی جائے گی،ملاقات کے حوالے سے شکایات کا اندراج متعلقہ رجسٹر میں کیا جائیگا اور جیل سپرنٹنڈنٹ شکایت کا ازالہ کریں گے،نوعمر قیدیوں کی ملاقات صرف خونی رشتہ اور خواتین قیدیوں کی ملاقات خونی رشتہ اور شوہر سے کروائی جائے گی،سکیورٹی کے پیش نظر سزائے موت اسیران، خطرناک اسیران، پنشمنٹ بلاک میں بند اسیران کی ملاقات علیحدہ دنوں میں ہوگی،نوعمر، خواتین اور مخالف گروپ کے اسیران کی ملاقات بھی علیحدہ دنوں میں کروائی جائے گی،سپرنٹنڈنٹ جیل، ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ یا ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ ایگزیکٹو دن میں کم از کم ایک بار ملاقات شیڈ کا دورہ کریں گے تاکہ تمام امور حسب ضابطہ طے پائیں،متعلقہ بارک انچارج ملاقات کرنے والے اسیران کا اندراج بارک میں رکھے گئے موومنٹ رجسٹر میں لازمی کریں گے ،ملاقاتیوں اور اسیران کو اپنی باری پر گروپ نمبر کے اعتبار سے ملاقات شیڈ میں داخل کیا جائے گا،مقررہ وقت پورا ہونے پر گھنٹی بجائی جائے گی اور ملاقاتی و اسیران بعد از تلاشی اپنے الگ راستوں سے شیڈ سے باہر آئیں گے ،انچارج ملاقات یقینی بنائیں گے کہ دوران ملاقات کوئی ممنوعہ شے جیل کے اندر نہ جانے پائے،جس جیل میں مین گیٹ اور انتظار گاہ میں زیادہ فاصلہ ہو وہاں بزرگ اور معذور ملاقاتیوں کیلئے مناسب کنوینس کا بندوست کیا جائے،ملاقاتی اسیران کو جیل قواعد کے مطابق جو سامان دے سکتے ہیں اسکی فہرست انتظار گاہ کے مرکزی دروازے پر آویزاں ہوگی،قیدیوں کو دیے جانے والے سامان کی مکمل تلاشی کے بعد اسکا وزن، تعداد و مقدار درج کی جائیگی ،سامان تحریر کرنے والے وارڈر کا نام سلپ پر لکھا جائے گا تاکہ زمہ داری کا تعین ہوسکے ،انچارج اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ اور ہیڈ وارڈر جمع شدہ سامان کو بعد از سکیننگ متعلقہ قیدی کے حوالے کریں گے،سامان حوالے کرتے ہوئے وزن، مقدار اور تعداد بارے سلپ سے تصدیق ہوگی اور قیدی کا نشان انگوٹھا لگایا جائے گا،ملاقات شیڈ اور اور ویٹنگ شیڈ میں صفائی ستھرائی، واش روم، پانی، پنکھے اور بنچز کا مناسب انتظام یقینی بنایا جائے ،سیکرٹری داخلہ پنجاب نے قیدیوں سے ملاقات بارے قواعد و ضوابط پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت کی ہے

    برہنہ ویڈیو لیک کا سلسلہ نہ تھم سکا، ایک اور ٹک ٹاکر کی ویڈیو لیک

    17 ملین سے زائد لائکس والی ٹک ٹاکر سومل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

  • سزا یافتہ قیدیوں کو انکے متعلقہ ضلع کی جیل میں رکھنے کا  فیصلہ

    سزا یافتہ قیدیوں کو انکے متعلقہ ضلع کی جیل میں رکھنے کا فیصلہ

    وزیراعلی پنجاب کی ہدایت پر جیل ریفارمز کے حوالے سے مثالی پیشرفت سامنے آئی ہے

    سزا یافتہ قیدیوں کو انکے متعلقہ ضلع کی جیل میں رکھنے کا اصولی فیصلہ کر لیا گیا،محکمہ داخلہ پنجاب نے سزا یافتہ قیدیوں کو اپنے ضلع کی جیل میں رکھنے کی پالیسی بنا لی،ماضی میں 5 سال سے زائد قید کی سزا پانے والے اسیران کو اپنے اضلاع کی بجائے سینٹرل جیلوں میں رکھا جاتا تھا،گھر سے دور قید کاٹنے والے اسیران کے والدین اور اہل خانہ شدید مشکلات کا شکار تھے،دور دراز جیلوں میں قیدی سے ملاقات کیلئے اہل خانہ کو مالی و دیگر مشکلات کا سامنا رہتا تھا،سابقہ پالیسی کے پیش نظر سینٹرل جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدیوں کو رکھا جا رہا تھا

    حکومت پنجاب کے حالیہ اقدامات سے ڈسٹرکٹ جیلوں کی سکیورٹی کو بھی بہتر بنایا گیا ہے،ڈسٹرکٹ جیلوں میں قیدیوں کو رکھنے کی گنجائش بھی موجود ہے،سزائے موت کے قیدیوں کو پہلے ہی متعلقہ اضلاع کی جیلوں میں رکھا جا رہا ہے ،تمام ڈسٹرکٹ جیلوں میں انڈسٹری لگائی جا چکی ہے اور قید بامشقت دی جاسکتی ہے

    محکمہ داخلہ نے قیدیوں کو انکے ضلع کی جیل میں بھیجنے کا طریقہ کار طے کرنے کیلئے کمیٹی تشکیل دیدی،کمیٹی ایک ہفتے میں اپنی سفارشات اور لائحہ عمل طے کریگی،ڈپٹی سیکرٹری (پریزن) ہوم، ڈی آئی جی پریزن سرگودھا ریجن، ڈی آئی جی پریزن ڈی جی خان ریجن، اے آئی جی جوڈیشل انسپکٹریٹ آف پریزن، سپرنٹنڈنٹ سینٹرل جیل فیصل آباد اور سیکشن آفیسر ہوم ڈیپارٹمنٹ کمیٹی میں شامل ہیں،

    بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    بشریٰ کا بیان غیر ذمہ دارانہ، بے بنیاد ہے ،جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ

    بشریٰ کا بیان، جنرل باجوہ کو خود سامنے آکر تردید کرنی چاہیے۔خواجہ آصف

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    بشریٰ کے پاس پارٹی عہدہ نہیں، بیرسٹر سیف،بیان قابل مذمت ہے،اسحاق ڈار

    بشری بی بی کا شریعت ختم کرنے کا الزام، دوست اسلامی ملک پر خودکش حملہ ہے،عظمیٰ بخاری

  • امریکی سفارتخانے کے وفد کا اڈیالہ جیل کا دورہ،تین قیدیوں سے ملاقات

    امریکی سفارتخانے کے وفد کا اڈیالہ جیل کا دورہ،تین قیدیوں سے ملاقات

    اڈیالہ جیل میں امریکی وفد پہنچ گیا، اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں قائم امریکی سفارت خانہ کے تین رکنی وفد نے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کا دورہ کیا ہے، امریکی سفارتخانے کے وفد کو اڈیالہ جیل میں قید تین اسیر ملزمان تک قونصلر رسائی فراہم کی گئی،امریکی سفارتخانے کے وفد میں عرفان جان، مائیک مرفی اور راحیل جاوید شامل تھے۔ امریکی وفد نے فارن ایکٹ کے تحت گرفتار امریکی شہریوں سے ملاقات کی،امریکی وفد سے قیدیوں کی ملاقات ایڈیشنل سپریٹنڈنٹ کے دفتر میں کروائی گئی۔ یہ ملاقات تقریباً ایک گھنٹہ جاری رہی، امریکی سفارتخانے کے وفد نے اڈیالہ جیل میں قید امریکی شہریوں عابد ملک، صدیقہ سعید اور ایلکس پلیڈو سے بات چیت کی،ملاقات کے بعد، امریکی سفارتخانے کا وفد اڈیالہ جیل سے واپس روانہ ہو گیا،اس دورے کا مقصد قونصلر خدمات فراہم کرنا اور گرفتار شہریوں کی خیریت معلوم کرنا تھا۔

    بشریٰ بی بی کو زہر دے کر عمران خان کو جھکانے کی کوشش کی جارہی ہے،زرتاج گل

    کھانے میں زہر،کوئی ثبوت ہے؟ صحافی کے سوال پر بشریٰ بی بی "لال” ہو گئیں

    توشہ خانہ کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطل 

    زلفی بخاری میری بیٹیوں کو کالز کرتا ہے، خاور مانیکا عدالت میں پھٹ پڑے

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    عمران خان کا سوشل میڈیا اڈیالہ جیل سے ہی آپریٹ ہو رہا ،شرجیل میمن کا دعویٰ

    واضح رہے کہ رواں برس ماہ اپریل میں امریکی سفارتخانے کے وفد نے اڈیالہ جیل کا دورہ کیا تھا ،اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں انتہائی بے دردی کے ساتھ نور مقدم کو قتل کرنے والے سفاک قاتل سے امریکی سفارتخانے کے عملے نے جیل میں ملاقات کی تھی،،امریکی سفارتی خانہ کے وفد کو مجرم ظاہر جعفر تک قونصلر رسائی دی گئی تھی،امریکی سفارت خانہ کے 3رکنی وفد کی مجرم ظاہر جعفر سے ڈپٹی سپریٹنڈنٹ روم میں ملاقات کروائی گئی،امریکی سفارت خانہ کے وفد میں مائیکل مرفی ،اسامہ حنیف اور نوید غازی شامل تھے،

  • سری لنکا میں کئی سال سے قید 56 پاکستانی وطن واپس پہنچ گئے

    سری لنکا میں کئی سال سے قید 56 پاکستانی وطن واپس پہنچ گئے

    سری لنکا میں کئی سال سے قید 56 پاکستانی وطن واپس پہنچ گئے

    برسوں بعدوطن واپس آنے پر قیدیوں کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو آگئے۔ محسن نقوی اور عبدالعلیم خان کو دعائیں دیں.وطن واپس آنے والی بزرگ خاتون کا کہنا تھا کہ بیٹا آپکا شکریہ کہ ہم پاکستان واپس آ گئے ہیں۔آپ کی بہت مہربانی۔ یہ احسان زندگی بھر نہیں بھول سکتے۔ وطن واپس آنے والے شخص نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ محسن نقوی اور عبدالعلیم خان کی بدولت آج وطن واپس آئے ہیں۔جن حالات میں قید تھے ۔ شکر ہے ہم واپس وطن آئے۔محسن نقوی اور عبدالعلیم کے شکرگزار ہیں کہ وہ ہمیں اپنے گھر واپس لائے۔

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی اور وفاقی وزیر نجکاری عبدالعلیم خان کی کاوشیں بار آور ،5 خواتین اور51 مرد قیدیوں کو سری لنکا سے چارٹرڈ طیارے کے ذریعے وطن واپس لایا گیا،وزیر داخلہ محسن نقوی نے پاکستانی قیدیوں کی وطن واپسی یقینی بنانے کیلئے ذاتی دلچسپی لی اور سری لنکن ہائی کمشنر کے ساتھ اس ایشو کو اٹھایا،وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے سری لنکا سے پاکستانی قیدیوں کی وطن واپسی کے تمام اخراجات برداشت کئے،وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ قیدیوں کی وطن واپسی کے لیے تعاون پر سری لنکن حکومت اور ہائی کمشنر کے کردار کو سراہتے ہیں۔ قیدیوں کی واپسی کے اخراجات برداشت کرنے پر وفاقی وزیر عبدالعلیم خان کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں۔