Baaghi TV

Tag: قیدی

  • سندھ کی جیلوں سے آوازیں آنے لگیں

    سندھ کی جیلوں سے آوازیں آنے لگیں

    کراچی :بلاول بھٹو اسلام آباد کے متلاشی:پیچھے سے سندھ کی جیلوں سے آوازیں آنے لگیں،طلاعات کے مطابق سندھ کی جیلوں میں درجنوں افراد جرمانے اور ضمانت کی رقم ادا نہ کرنے کی وجہ سے قید ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

    نجی سماجی تنظیم کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق سندھ کی جیلوں میں درجنوں ایسے افراد قید ہیں جو جرمانے اور ضمانت کی رقم نہ کرسکنے کی وجہ سے قید ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق سندھ کی جیلوں میں جرمانے اور ضمانت کی رقم ادا نہ کرنے کی وجہ سے کم از کم 75 ملزمان ہیں۔

    سینٹرل جیل کراچی میں 16 ، ڈسٹرکٹ جیل ملیر میں 39، نوشہرو فیروز ڈسٹرکٹ جیل میں 4 اور شکار پور جیل میں 15 یاسے قیدی موجود ہیں جن کی درخواست ضمانت منظور ہوچکی ہیں لیکن وہ ضمانت کی رقم ادا نہ کرسکنے کی وجہ سے تاحال قید ہیں۔

    سندھ کی جیلوں میں آزادی کے منتظر ان ملزمان کی اکثریت منشیات اور گٹکا ماوا ایکٹ سمیت دیگر چھوٹے جرائم میں بند ہیں۔سماجی تنظیم کے جسٹس ہیلپ لائن کے سربراہ ندیم شیخ کا کہنا ہے کہ ان قیدیوں کی ضمانت پر رہائی کے لیے 26 لاکھ 90 ہزار روپے کا بندوبست کرلیا گیا ہے۔

    ندیم شیخ کا کہنا تھا کہ پہلے مرحلے میں سندھ کی جیلوں سے قیدیوں کو رہائی دلوائی جائے گی، دوسرے مرحلے میں دیگر صوبوں کے قیدیوں کی رہائی کے لیے کوششیں کی جائیں گی۔

  • وزیراعظم  کی شادی کے خلاف دائر حکم امتناعی کی درخواست پر فیصلہ آ گیا

    وزیراعظم کی شادی کے خلاف دائر حکم امتناعی کی درخواست پر فیصلہ آ گیا

    وفاقی شرعی عدالت نے اسلامی قوانین اور آئینی دفعات سے متعلق 10 سوالات کی بنیاد پر عمران خان کی شادی کے خلاف دائر کی گئی حکم امتناعی کی درخواست کو خارج کر دیا ہے

    مقامی انگریزی اخبار ڈان نیوزکی رپورٹ کے مطابق وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس محمد نور مسکانزئی کی زیر صدارت تین رکنی بینچ نے درخواست پر سماعت کی ، بینچ میں جسٹس ڈاکٹر سید محمد انور اور جسٹس خادم حسین شامل تھے ۔عدالت نے درخواست کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے کہا کہ درخواست وفاقی شرعی عدالت کے رولز 1981 کے تحت دائر نہیں کی گئی ۔

    وفاقی شرعی عدالت نے حکمنامے میں پٹنشر کی جانب سے پوچھے گئے 10 سوالات کا ذکر بھی کیا ، کیا قرآن پاک بیوی کو یہ اختیار دیتاہے کہ وہ شوہر سے نکاح ختم کر لے ، کیا مسلمان بیوی جو کہ بچوں کی ماں ہے وہ دوسری شادی کیلئے اپنے شوہر سے خلع حاصل کر سکتی ہے ، کیا قرآن پاک خاتون کو پیچھے چھوڑے گئے بچوں کی ماں تسلیم کرتا ہے ، کیا خلع کے بعد نکاح آئینی دفعات کے مطابق ہے ؟

    وفاقی شرعی عدالت نے پٹنشر کے سوالات کو بالکل غیر متعلقہ قرار دیا ہے ۔عدالت نے نوٹ کیا کہ درخواست گزار نے موقف کی تائید کیلئے سورہ طہٰ کی صرف ایک آیت کا حوالہ دیا ، اس آیت کا خلع کی بنیاد پر نکاح کے ٹوٹنے سے کوئی تعلق نہیں ہے

    سوالنامے کے بارے میں بنچ کی رائے تھی کہ یہ مروجہ طریقہ کار کے خلاف ہیں اور بصورت دیگر اکثر سوالات غیر متعلقہ تھے اور ان کاوفاقی شرعیٰ عدالت کے معاملات سے کوئی تعلق نہیں تھا۔کچھ سوالات غیر متعلقہ تھے ، جبکہ نکاح سے متعلق دو سوالات مبہم اور ناقابل فہم تھے انہیں بالکل بھی فریم نہیں کیا جانا چاہیے تھا

    طلبا کے ساتھ زیادتی کرنے، ویڈیو بنا کر بلیک میل کرنے والے سابق پولیس اہلکار کو عدالت نے سنائی سزا

    لاہور میں 2 بچیوں کے اغوا کی کوشش ناکام،ملزم گرفتار

    پولیس ناکے پر 100روپے کے تنازعے پر دو پولیس اہلکار آپس میں لڑ پڑے

    خاتون کی غیر اخلاقی ویڈیو وائرل کرنیوالا ملزم لاڑکانہ سے گرفتار

    ذہنی معذور قیدیوں کی سزائے موت کیخلاف اپیل پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

    جیل حکام خواتین قیدیوں کی عزتیں تارتارکرتے ہیں، پیدا ہونے والے بچوں کوقتل کردیا جاتا ہے،لاہورجیل سے خاتون قیدی کی ویڈیووائرل

    جیلوں میں قید خواتین کو ریلیف فراہم کرنے کے حوالے سے سفارشات پر مبنی رپورٹ وزیراعظم کو پیش

    لاک ڈاؤن ہے تو کیا ہوا،شادی نہیں رک سکتی، دولہا دلہن نے ماسک پہن کے کر لی شادی

    کوئی بھوکا نہ سوئے، مودی کے احمد آباد گجرات کے مندروں میں مسلمانوں نے کیا راشن تقسیم

    محبت کا ڈرامہ رچا کر لڑکی کی غیر اخلاقی تصاویر بنا کر بلیک میل کرنیوالا گرفتار

    جعلی قیدی بن کر جیل میں 3 سال گزارنے والا قیدی عدالت میں پیش

    شیخ رشید قیدیوں پر مہربان ہو گئے

    حکومتی اداروں کی نااہلی کی وجہ سے سینکڑوں خواتین جیلوں میں جبرا قید کاٹنے پر مجبور

  • بھارتی جیلوں میں نظربند کشمیری سیاسی رہنمائوں کی زندگیوں کو شدید خطرہ:تازہ واقعہ میں کشمیری جانبحق

    بھارتی جیلوں میں نظربند کشمیری سیاسی رہنمائوں کی زندگیوں کو شدید خطرہ:تازہ واقعہ میں کشمیری جانبحق

    نئی دلی :بھارتی جیلوں میں نظربند کشمیری سیاسی رہنمائوں کی زندگیوں کو شدید خطرہ:تازہ واقعہ میں کشمیری جانبحق
    ،اطلاعات کے مطابق بھارتی دارلحکومت نئی دلی میں مہلک کورونا وبا تیزی سے پھیل رہی ہے جس کی وجہ سے تہاڑ جیل سمیت نئی دلی کی دیگر جیلوں میں غیر قانونی طورپر نظربند کشمیری سیاسی رہنمائوں کی زندگیوں کو شدید خطرہ لاحق ہے ۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے علاوہ چار سو کے قریب بھارتی اراکین پارلیمنٹ اور دلی پولیس کے تین سو اہلکار مہلک کورونا وائرس میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ جیل حکام کے اعدادو شمار کے مطابق نئی دلی کی تہاڑ جیل میں 29جبکہ منڈولی جیل کے 17قیدی بھی کورونا وائر س میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ نئی دلی کی تینوں جیلوں میں موجود قیدیوں کی مجموعی تعداد سات جنوری تک 18ہزار528تھی جن میں سے سب سے زیادہ 12ہزار 669قیدی تہاڑ ،4ہزار18منڈولی اور ایک ہزار841روہنی جیل میں قید ہیں۔

    واضح رہے کہ نئی دلی کی جیلوں میں قیدیوں کورونا وائرس کے تیزی سے مبتلا ہونے کی وجہ سے کشمیری سیاسی نظربندوں کی زندگیوں کو شدید خطرہ لاحق ہے۔اس وقت کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین مسرت عالم بٹ کے علاوہ کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما شبیر احمد شاہ، محمد یاسین ملک، نعیم احمد خان، الطاف احمد شاہ، ایاز محمداکبر، پیر سیف اللہ، راجہ معراج الدین کلوال، فاروق احمد ڈار، شاہد الاسلام، دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی، ناہیدہ نسرین، انسانی حقوق کے کارکن خرم پرویز، انجینئر رشید اور کشمیری تاجر ظہور احمد وتالی تہاڑ، جودھ پور، آگرہ، ہریانہ اور بھارت کی دیگر جیلوں میں غیر قانونی طورپر نظربند ہیں اوران کے مہلک وائر س میں مبتلا ہونے کا شدیدخطرہ ہے ۔

    ادھر ایک تازہ واقعہ میں غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کپواڑہ جیل میں ایک نوجوان قیدی مردہ حالت میں پایاگیا ہے ۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق 19سالہ خورشید احمد وانی ڈسٹرکٹ جیل کپواڑہ میں مردہ حالت میں پایاگیا ہے ۔بھارتی جیل حکام پر اکثر جیلوں میں قیدیوں کی موت کا الزام عائد کیاجاتا ہے ۔

  • حکومتی اداروں کی نااہلی کی وجہ سے سینکڑوں خواتین جیلوں میں جبرا قید کاٹنے پر مجبور

    حکومتی اداروں کی نااہلی کی وجہ سے سینکڑوں خواتین جیلوں میں جبرا قید کاٹنے پر مجبور

    حکومتی اداروں کی نااہلی کی وجہ سے سینکڑوں خواتین جیلوں میں جبرا قید کاٹنے پر مجبور

    غریب خواتین قیدیوں کو 26سال بعد بھی سرکاری خرچ پر مفت وکیل فراہم نہ کرنےکا اقدام لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا

    مقامی وکیل ندیم سرور نے درخواست دائر کی .درخواست میں وفاقی ،پنجاب حکومت ، وزارت انسانی حقوق اور محکمہ داخلہ سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے درخواستگزار نے عدالت میں دائر درخواست میں کہا ہے کہ غریب خواتین قیدیوں کو مفت وکیل فراہم کرنے کےلیے 1996 میں ایکٹ منظور ہوا ، ایکٹ کے زریعے غریب طبقے سے تعلق رکھنے والی خواتین کو مفت وکیل اور مالی امداد فراہم کرنا تھی ،

    درخواستگزار نے عدالت میں دائر درخواست میں کہا ہے کہ پنجاب کی جیلوں میں 633 خواتین قیدی موجود ہیں جس میں فقط 13خواتین قیدیوں کی معاونت کی گئی ، پنجاب کی جیلوں620جبکہ ملک بھر کی جیلوں میں سینکڑوں خواتین قیدی موجود ہیں، ایکٹ کے تحت حکومت پر غریب خواتین قیدیوں کو فری لیگل ایڈ فراہم کرنا لازم قرار دیا گیا ، 1996 ایکٹ کے زریعے لیگل ایڈ کے لیے باقاعدہ فنڈز بھی منظور ہوئے مگر خرچ نہیں کیے گیے ،حکومتی اداروں کی نااہلی کی وجہ سے سینکڑوں خواتین جیلوں میں جبرا قید کاٹنے پر مجبور ہیں ،عدالت سے استدعا کی گئی کہ عدالت متعلقہ محکمہ کو خواتین قیدیوں کو فری لیگل ایڈ فراہم کرنے کا حکم دے ،

    قبل ازیں وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدارکی زیرصدارت جیل نظام میں اصلاحات کے لئے اجلاس ہوا، اجلاس میں پریزن پیکیج کے خدوخال کا جائزہ لیا گیا، صوبائی وزراء قانون راجہ بشارت،فیاض الحسن چوہان،ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ،پرنسپل سیکرٹری وزیراعلی، انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات، سپیشل مانیٹرنگ یونٹ کے سربراہ اور اعلی حکام نے اجلاس میں شرکت کی

    وزیر اعلی عثمان بزدار کی خصوصی ہدایت پر جیلوں کے لئے 1037عملے کی بھرتی کا آغاز ہو گیا،وزیراعلیٰ نے 4930وارڈن کی بھرتی کی اصولی منظوری دے دی وزیراعلیٰ نے جیلوں میں ڈاکٹرز اورپیرا میڈیکل سٹاف کی خالی آسامیاں پر کرنے کی ہدایت کر دی،وزیر اعلی عثمان بزدار نے محکمہ جیل خانہ جات میں 44 ماہر نفسیات کی بھرتی مکمل ہونے پر اظہار اطمینان کیا ،وزیر اعلی نے پریزن پیکیج کو جلد از جلد حتمی شکل دینے کی ہدایت کی، جیل ملازمین کے سروس سٹرکچر کو بہتر بنانے کا اصولی فیصلہ کیا،وزیراعلیٰ نے پنجاب پروبیشن اینڈ پیرول ایکٹ میں قابل عمل ترامیم کرنے کی ہدایت کی،وزیراعلیٰ نے حکم دیا کہ قیدیوں کو معیاری کھانا فراہم کرنے کیلئے درکار بجٹ کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ قیدیوں پر تشدد اورغیر انسانی سلوک کے خاتمے کیلئے قابل عمل سفارشات مرتب کی جا ئیں۔

    طلبا کے ساتھ زیادتی کرنے، ویڈیو بنا کر بلیک میل کرنے والے سابق پولیس اہلکار کو عدالت نے سنائی سزا

    لاہور میں 2 بچیوں کے اغوا کی کوشش ناکام،ملزم گرفتار

    پولیس ناکے پر 100روپے کے تنازعے پر دو پولیس اہلکار آپس میں لڑ پڑے

    خاتون کی غیر اخلاقی ویڈیو وائرل کرنیوالا ملزم لاڑکانہ سے گرفتار

    ذہنی معذور قیدیوں کی سزائے موت کیخلاف اپیل پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

    جیل حکام خواتین قیدیوں کی عزتیں تارتارکرتے ہیں، پیدا ہونے والے بچوں کوقتل کردیا جاتا ہے،لاہورجیل سے خاتون قیدی کی ویڈیووائرل

    جیلوں میں قید خواتین کو ریلیف فراہم کرنے کے حوالے سے سفارشات پر مبنی رپورٹ وزیراعظم کو پیش

    لاک ڈاؤن ہے تو کیا ہوا،شادی نہیں رک سکتی، دولہا دلہن نے ماسک پہن کے کر لی شادی

    کوئی بھوکا نہ سوئے، مودی کے احمد آباد گجرات کے مندروں میں مسلمانوں نے کیا راشن تقسیم

    محبت کا ڈرامہ رچا کر لڑکی کی غیر اخلاقی تصاویر بنا کر بلیک میل کرنیوالا گرفتار

    جعلی قیدی بن کر جیل میں 3 سال گزارنے والا قیدی عدالت میں پیش

    شیخ رشید قیدیوں پر مہربان ہو گئے

  • پاکستان اور بھارت کے مابین ایٹمی تنصیبات کی فہرستوں کا تبادلہ

    پاکستان اور بھارت کے مابین ایٹمی تنصیبات کی فہرستوں کا تبادلہ

    پاکستان اور بھارت کے درمیان نئے سال آغاز پر ایٹمی تنصیبات کی فہرستوں کا تبادلہ ہوا ہے

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ایٹمی تنصیبات کی فہرستیں 31 دسمبر 1988 کے معاہدہ کے تحت سال میں 2 بار کیا جاتا ہے، معاہدہ کی توثیق 26 جنوری 1991 کو کی گئی تھی، ایٹمی تنصیبات اور سہولیات کی فہرست اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن کے حوالے کی گئی بھارتی وزارت خارجہ نے بھی ایٹمی تنصیبات اور سہولیات کی فہرست پاکستان ہائی کمیشن کے حوالے کی، بھارت نے یہ فہرست آج مقامی وقت کے مطابق ساڑھے بجے پاکستانی ہائی کمیشن کے حوالے کی، دونوں ممالک یکم جنوری 1992 سے مسلسل ایٹمی تنصیبات اور فہرستوں کا تبادلہ کر رہے ہیں

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن کو 628 بھارتی قیدیوں کی فہرست حوالے کردی گئی، پاکستان کی جیلوں میں 51 بھارتی اور 577 مچھیرے قید ہیں، پاکستان اور بھارت سال میں دو بار قیدیوں کی فہرست کا تبادلہ کرتے ہیں،قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ ہر سال یکم جنوری اور یکم جولائی کو کیا جاتا ہے بھارتی حکومت نے بھی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کو 355 قیدیوں کی فہرست حوالے کی 282پاکستانی شہری اور 73 مچھیرے بھارتی جیلوں میں قید ہیں،

    ایٹمی اثاثوں کو محفوظ بنانے بارے پاکستان محفوظ‌ ترین ریاست، درجہ بندی میں‌بھارت پیچھے رہ گیا

    بدنامہ زمانہ کلب نے مسلمانوں کے لئے "حلال سیکس” متعارف کروا دیا

    لاک ڈاؤن میں سوشل میڈیا پر لڑکیوں کا "ریپ” کرنے کی منصوبہ بندی

    لندن پلٹ جوان نے کئے گھریلو ملازمہ سے جسمانی تعلقات قائم، ملازمہ میں ہوئی کرونا کی تشخیص

    کرونا کے مریض صحتیاب ہونے کے بعد کب تک کریں جسمانی تعلقات قائم کرنے سے پرہیز؟

    کرونا کا خوف،60 سالہ مریض کو 4 گھنٹے میں 3 ہسپتالوں میں کیا گیا ریفر،پھر ہوئی ایمبولینس میں موت

    کرونا کے بہانے بھارت میں مسلمان نشانہ،بیان دینے پر مودی نے ہندو تنظیم کے سربراہ کو جیل بھجوا دیا

    مودی کے گجرات میں کرونا کے بہانے مسلمانوں کی زندگی اجیرن بنا دی گئی

    پاکستان اور بھارت کے مابین بیک ڈور ڈپلومیسی کس ملک کی وجہ سے ممکن ہوئی ؟ سیز فائر کس ملک نے کروایا، نام سامنے آ گیا

    بھارت پاکستان پر کب حملہ کر یگا؟ مودی جلد چین کے پیر پکڑ لے گا،جنرل ر نعیم خالد لودھی کے مبشر لقمان کے ہمراہ اہم انکشافات

  • بھارتی جیلیں مسلمان قیدیوں سے بھرگئیں :مسلمان قیدیوں کی تعداد انکی کی آبادی کے تناسب سے زیادہ

    بھارتی جیلیں مسلمان قیدیوں سے بھرگئیں :مسلمان قیدیوں کی تعداد انکی کی آبادی کے تناسب سے زیادہ

    نئی دلی: بھارتی جیلیں مسلمان قیدیوں سے بھرگئیں :جیلوں میں مسلمان قیدیوں کی تعداد انکی کی آبادی کے تناسب سے زیادہ ،اطلاعات کے مطابق بھارتی نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو کی ا یک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک کی تقریبا تمام ریاستوں کی جیلوں میں مسلمان قیدیوں کی تعداد ان کی آبادی کے تناسب سے زیادہ ہے۔یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ یہ وہ تعداد ہے جوریکارڈ میں موجود ہیں ، خفیہ ایجنسیوں کی قید میں مسلمان قیدیوں کی تفصیلات چھپائی جاتی ہے اور یہ تعداد بھی ہزاروں میں ہے

    کشمیر میڈیاسروس کے مطابق غیر سرکاری بھارتی تنظیم ”مشاورت“ کے صدر نوید حامد کا کہنا ہے کہ جیلوں میں مسلمانوں قیدیوں کی زیادہ ہونے کی سب سے بڑی وجہ پولیس کا جانبدارانہ رویہ ہے جو ایک خاص ذہن کے ساتھ مسلمانوں کے خلاف تعصب برت رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب تک محکمہ پولیس سے تعصب کو ختم نہیں کیا جاتا اس وقت تک صورتحال تبدیل نہیں ہوسکتی۔بغیر کسی جرم کے 14 برس تک جیل میں سزا بھگتنے والے محمدعامر نے بتایا کہ جیلوں میں مسلمانوں کے علاوہ پسماندہ طبقات کی خاصی تعداد موجود ہے ۔

    کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق ایڈووکیٹ سرور مندر نے بتایا کہ گزشتہ 7 برس سے ایسے قوانین کو نافذ کیا گیا ہے جن کے تحت محض مسلمانوں کو ہی گرفتار کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے ان کی تعداد جیلوں میں بڑھتی جا رہی ہے۔مجلس اتحادالمسلمین دہلی کے صدر کا کہنا کہ پہلے کانگریس نے ٹاڈا اور پوٹا جیسے قانون لگاکر مسلمانوں کو جیلوں میں ڈالا تھا جبکہ اب موجودہ ظالم حکومت کی طرف سے” یو اے پی اے اور این ایس اے “کے تحت مسلمانوں کو جیلوں میں ڈالا جارہا ہے۔

    خبر رساں ادارے ساوتھ ایشین وائر کی ایک خبر میں کہا گیا ہے کہ آسام میں مسلمان 2011 کی مردم شماری کے مطابق آبادی کا34 فیصد ہیں جبکہ جیلوں میں مسلمانوں کی تعداد 47.5 فیصد ہے، گجرات میں مسلمانوں کی آبادی 10 فیصد ہے اور 2017 سے وہ تقریبا 27 فیصد انڈر ٹرائل ہیں،کرناٹک میں مسلمان آبادی کا 13 فیصد ہیں جبکہ جیلوں میں 2018 سے اب تک 22 فیصد ہیں،کیرالہ میں مسلمانوں کی آبادی 26.5 فیصد ہے جیلوں میں مسلمانوں کا تناسب 30 فیصد ہے ،

    تازہ ترین رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ مہاراشٹر میں مسلمان آبادی 11.5 فیصد ہیں اور انڈر ٹرائل میں ان کا فیصد 2012 میں 36.5 فیصد تک پہنچ گیا تھا۔ راجستھان میں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب 9 فیصد ہے جبکہ انڈر ٹرائل میں 23 فیصدی مسلمان انڈر ٹرائل میں نمائندگی کرتے ہیں۔ تمل ناڈو میں مسلمانوں کی آبادی 6 فیصد ہے جبکہ جیلوں میں مسلمان 11 فیصد ہیں۔ اترپردیش میں مسلمانوں کی تعداد 19 فیصد ہے جبکہ 29 فیصد جیلوں میں انڈر ٹرائل ہے۔ مغربی بنگال میں مسلمانوں کی آبادی 27 فیصد ہے لیکن جیلوں میں مسلمانوں کی بات کریں تو وہاں یہ تعداد 36 فیصد ہے۔ بہارمیں آبادی کے حساب سے 15 فیصد مسلمان ہیں جبکہ جیلوں میں 17 فیصد مسلمان ہیں۔

  • ڈیڑھ ماہ بعد اسیران سے ملاقات کی اجازت

    ڈیڑھ ماہ بعد اسیران سے ملاقات کی اجازت

    قصور
    ڈیڑھ ماہ بعد ڈسٹرکٹ جیل قصور میں لواحقین کو اسیران سے ملاقات کی اجازت مل گئی

    تفصیلات کے مطابق پنجاب حکومت نے لواحقین کو اسیران کی ملاقات کی اجازت دے دی جس کے بعد سپرنٹنڈنٹ غلام۔سرور سمرا نے ڈسرکٹ جیل قصور میں ڈیڑھ ماہ بعد لواحقین کو اسیران سے ملاقات کرنے کی اجازت دے ہے
    تاہم سپرنٹنڈنٹ جیل کا کہنا ہے کہ اسیران سے ملاقات کے لئے شیڈول کے مطابق آنے کی اجازت ہو گئی اور عملہ جیل کو کہا کہ
    زبانی وائرلس احکامات پر فوری اسیران کی ملاقات کروائی جائے اور حکومتی جاری کردہ ایس او پیز پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے

  • بلوچستان کی جیلیں کرونا وائرس کا گڑھ بن گئیں ، تحریر شفیق الرحمان

    بلوچستان کی جیلیں کرونا وائرس کا گڑھ بن گئیں ، تحریر شفیق الرحمان

    کورونا وائرس اور قیدی ، تحریر شفیق الرحمان

    کورونا وائرس کے بڑھتے خطرات کے سبب دنیا بھر کی انسانی حقوق کی تنظیمیں حکومتوں کو اس خطرے کا ادراک کروانے کے لیے بھرپور زور ڈال رہی ہیں کہ جیل کے معمولات اس نوعیت کے ہوتے ہیں کہ جہاں ممکن ہی نہیں ہے کہ کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنا ممکن ہو تبھی ہم دیکھتے ہیں کہ امریکہ برطانیہ یورپ چین اور ایران سمیت اکثر ممالک میں جیل میں وائرس پھیلنے کی اطلاعات کنفرم ہوچکی ہیں اور حکومتیں مجبور ہوئیں کہ اس غیر معمولی صورتحال سے نمٹنے کے لیے غیرمعمولی اقدامات اٹھائے جائیں۔ بڑی تعداد میں قیدیوں کی رہائی کے اعلانات سامنے آ ئے ہیں اس سارے منظرنامے کا اثر اگر ہم پاکستان میں دیکھیں تو بلوچستان صوبے کے علاؤہ باقی صوبوں میں کچھ سنجیدگی تو دکھائی دیتی ہے لیکن بلوچستان کا معاملہ حیران کن حد تک خطرناک دکھائی دیتا ہے۔ بہ ظاہر اسکا سبب ایک محکمے کے کرپٹ افسران ہیں جو کرپشن کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ، اس موقع پر بھی اس آگ سے کھیل رہے ہیں جو خود انہیں بھی جلا سکتی ہے۔ دنیا بھر میں غور و فکر ہورہی ہے قانونی پیچیدگیوں کو دور کرنے کی تاکہ قیدیوں کو حتی الامکان ریلیف مل سکے لیکن بلوچستان میں جیل محکمے کی جانب سے پچھلے چند ماہ میں لاتعداد ایسے اقدامات اٹھائے گئے ہیں جنکا مقصد اس ریلیف کو بھی ختم کرنا ہے جو پہلے سے حاصل تھے اسکی مثال بالکل ایسے ہی ہے جیسے کبھی کبھار حکومت ایک روپے پٹرول کی قیمت بڑھا کر بعد میں پچیس پیسے کم کرنے کا ڈھنڈورا پیٹتی ہے۔ بلوچستان میں قیدیوں کو امتحانات پاس کرنے پر معافیاں دی جاتی ہیں لیکن حال ہی میں آئی جی جیل خانہ جات کے نئے حکمنامے کے مطابق براہوی ادیب کا امتحان ختم کردیا گیا ، جو قیدی امتحانات دے چکے تھے انکی معافی منسوخ ہوگئی ۔ جبکہ اسکے علاوہ قیدیوں کے امتحانات کے رزلٹ کارڈ سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود آئی جی آفس میں پڑے ہیں اور آئی جی صرف انہی کے رزلٹ کارڈ پر سائن کررہا ہے معافی کے لیے جو رشوت دیں یا پھر جن کے پاس وزراء کی سفارش ہو۔ اس مسئلے کے سبب کویٹہ جیل میں قیدیوں نے احتجاج کیا جسکو میڈیا میں غلط تاثر دے کر انکے خلاف ظالمانہ آ پریشن کیا گیا ، انکا ضرورت کا سارا لوٹ لیا گیا ۔ کئی دہائیوں سے جیل میں یہ روٹین رہی تھی کہ قیدی اپنے خرچے پر اپنا کھانا تیار کرتے تھے جسکی وجہ جیل کی مضر صحت اور ناقص غذا تھی جو کسی طور بھی کھانے کے قابل نہ تھی۔ آپریشن میں قیدیوں کی کھانا پکانے کی سہولت ختم کردی گئی اور انہیں پابند کیا گیا کہ وہ وہی مضر صحت جیل کا ہی کھانا کھائیں۔ جبکہ جیل کے بااثر اور امیر قیدی پانچ سو اور ہزار روپے کے عوض گوشت وغیرہ منگوالیتے ہیں یہ رقم بطور لانے کی فیس ہوتی ہے علاؤہ گوشت کی قیمت کے۔ کیا اس طریقہ کار پر ایک عام آدمی جیل میں کھانے پینے کا خرچ اٹھا سکتا ہے؟ کرونا وائرس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ان افراد کے اس وائرس میں مبتلا ہونے کے چانسز زیادہ ہوتے ہیں جو جسمانی طور ہر کمزور ہوں۔ اب جیل انتظامیہ قیدیوں کی خوراک کے معاملے میں ایسی غیر انسانی پابندی لگا کر کیا قیدیوں کو جسمانی طور پر کمزور اور بیمار بنانا چاہتی ہے تاکہ وائرس پھیل سکے ؟
    یہ بھی وضاحت کرتے چلیں کہ جیل محکمے کے پاس قیدیوں کی سزا میں ردوبدل کرنے کے چور راستے بہت سے ہیں ، جن قیدیوں کو جرمانہ بھی ادا کرنا ہوتا ہے انکو جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں جو سزا کاٹنی ہوتی ہے وہ بھی کٹوانے کے بعد قیدیوں کو بتاتے ہیں کہ اب آپکی سزا پوری ہوچکی ہے اب آپ جرمانہ جمع کرواؤ ۔ وہ جو جرمانہ جمع کرواتا ہے وہ جیل محکمہ کے کرپٹ افسران کی جیب میں جاتا ہے اور کاغذات میں ظاہر کیا جاتا ہے کہ قیدی نے جرمانہ جمع نہ کیا بلکہ مزید قید کاٹی۔ اس مد میں کئی دہائیوں سے حکومت پاکستان کو اربوں روپوں کا نقصان پہنچایا جاچکا ہے۔کورونا وائرس کے حوالے سے بھی جیل محکمہ نے نہ صرف غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا بلکہ بعض معاملات میں تو یوں دکھائی دیتا ہے کہ انکی بھرپور کوشش ہے کہ جیل میں وائرس پھیل جائے ۔
    بلوچستان کی جیلوں میں قیدیوں کی تعداد جیلوں کی capacity سے زیادہ نہیں ہے لیکن محکمہ کامجرمانہ کردار ہے کہ بیرکوں میں مصنوعی overcrowding کی گئی ہے۔
    سینٹرل جیل مچھ میں بھی اسوقت چار بارکیں جو قدرے صاف ستھری تھیں وہاں سے قیدیوں کو نکال کر پہلے سے فل دوسری بارکوں میں ٹھونس دیا گیا حالانکہ یہ بارکیں ٹوٹی پھوٹی ہیں جگہ تنگ ہے باتھ روم ٹوٹے اور گندے ہیں ۔ ان اقدامات سے بہ ظاہر یہی لگتا ہے کہ جیل حکام نے کورونا وائرس کو قطعاً سنجیدگی سے نہیں لیا۔ تاحال کوئی بھی اہلکار ماسک نہیں لگاتا ۔

    باوجود بارکیں خالی ہونے کے، قیدیوں کو چند بارکوں میں ٹھونس کر رکھنے کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ جیل حکام قیدیوں کی زندگی اتنی مشکل بنانا چاہتے ہیں کہ وہ پھر چھوٹی چھوٹی سہولت کے لیے منہ مانگی رشوت دینے کو تیار ہوجائیں۔

    امتحانات کی معافیاں جو کئی دہائیوں سے لگ رہی تھی اسے روکنے اور اسکے علاوہ بھی ممکنہ حکومتی اقدامات کے سبب ملنے والے ریلیف کو عملی طور پر ختم کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جیل حکام کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ جیل میں قیدیوں کی تعداد زیادہ سے زیادہ ہو، کیونکہ جتنے زیادہ قیدی ہونگے اتنا ہی انہیں فنڈ زیادہ ملے گا اور خوردبرد کے مواقع بھی زیادہ ہوں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ متعلقہ ادارے نیب ، اور اعلی عدلیہ مذکورہ بالا معاملات کا نوٹس لے اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کروائے تاکہ جیلیں جنکا بنیادی مقصد قیدیوں کی اصلاح ہے عملی طور پر اصلاحی مراکز بن بھی سکیں ۔ ورنہ موجودہ حالات میں تو ایک قیدی یا تو ذہنی مریض بنے گا یا وہ منشیات کی لت میں مبتلا ہو جائے گا یا خدانخواستہ کوئی مجرم بن کر نکلے گا کیونکہ عمر قید کی سزا میں اسکا وقت ایسا گزرا ہوگا جس میں ایک ایک دن ذلت آمیز رویوں سے سامنا ہوا ہوگا ۔
    دوسری طرف سنٹرل جیل ژوب
    سے کچھ قیدیوں کو دور سنٹرل جیل مچھ بھیج دیا گیا جسمیں پشین۔ خانوزئی ۔ مسلم باغ ۔ قلعہ سیف اللہ ۔ لورالائی ۔سنجاوی ۔دوکی ۔ بارکھان ۔کولوں ۔رکنی اور ژوب کے قیدی شامل تھے قیدیوں کے اپنوں نے بتایا کہ سیکورٹی کی بنیاد پر ان قیدیوں کو 800 سو کلو میٹر دور سنٹرل جیل مچھ منتقل کیا گیا لیکن ایک آفیسر نے نام نا ظاہر کرنے پر بتایا کہ دراصل آئی جی جیلخانہ جات سپرنٹنڈنٹ سنٹرل جیل ژوب سے ماہانہ 50000 روپے مانگ رہا تھا جبکہ سپرنٹنڈنٹ نے کہا کہ قیدی کم ہے اتنی رقم میں نہیں دے سکتا
    اسلئے قیدیوں کو مچھ شفٹ کیا گیا جبکہ اس وقت سنٹرل جیل ژوب کی تعداد 25/30 ہے اور جگہ 300 سو قیدیوں کی ہے
    کورونا یا دیگر بیماری کیوجہ سے جاگیردار ۔امیر ۔ منسٹر کیلئے میڈیا بات کرسکتی ہے لیکن غریب کیلئے نہیں یہود نصاریٰ میں بھی یہی تھا کہ کسی شہزادے کیلئے سزا میں ترمیم کرتے اور غریب کو سزا دیتے تو آج وہ یہودی اور ہم مسلمان کیسے ؟