Baaghi TV

Tag: قیصر پیا

  • قیصر پیا کی بیٹی ان کی کونسی عادت پر انہیں شرمندہ کردیتی ہے؟

    قیصر پیا کی بیٹی ان کی کونسی عادت پر انہیں شرمندہ کردیتی ہے؟

    سٹیج کے معروف اداکار قیصر پیا نے اپنے حالیہ انٹرویو میں بتایا ہے کہ ان کی چار سالہ بیٹی ان کو سگریٹ نہیں‌پینے دیتی، انہوں نے کہا کہ اگر میں کبھی سگریٹ پی لوں تو وہ مجھے کہہ دیتی ہے سب کے سامنے پاپا آپ سے بدبو آرہی ہے تو میں شرمندہ ہو جاتا ہوں. میری بیٹی نے جب سے میرے سگریٹ کی بدبو محسوس کرنا شروع کی ہے میں کسی ایسے بندے کو گاڑی میں نہیں بیٹھنے دیتا جو سگریٹ پیتا ہے. میری بیٹی فورا سمجھ لیتی ہے اور مجھ سے کہتی ہے کہ گاڑی سے بدبو آرہی ہے . انہوں نے کہا کہ میری بیوی نے میرے مشکل حالات میں‌میرا ساتھ دیا وہ لاہور شہر تب تک منتقل نہیں‌ہوئی جب تک کہ میرے ماں باپ بہن بھائی نہیں‌آئے. قیصر پیا نے کہا کہ شادی کے بعد میرے حالات

    بہت زیادہ خراب ہو گئے تھے میرے پاس کلٹس تھی جو کہ لیز پر تھی تین اقساط نہ دے سکا تو بینک والے گاڑی لے گئے میں پیدل ہو گا ، ایک بار ایک جگہ سے عابد چارلی اور نینا خان مہران گاڑی میں جا رہے تھے اور میں پیدل جا رہا تھا ان کو نہیں‌پتہ تھا کہ میرے پاس اب گاڑی نہیں ہے انہوں نے مجھے اپنی گاڑی میں بٹھایا اور میری منزل پر پہنچایا میں‌اب بھی جب ان راستوں سے گزرتا ہوں تو عابد چارلی اور اپنے وہ حالات یاد آتے ہیں جب میں‌پیدل ہو گیا تھا میرے پاس گاڑی نہیں تھی.

  • مجھے ماہرہ کی پنجابی ایسی ہی لگی جیسی ان کو میری اردو لگتی ہو گی قیصر پیا

    مجھے ماہرہ کی پنجابی ایسی ہی لگی جیسی ان کو میری اردو لگتی ہو گی قیصر پیا

    دا لیجنڈ آف مولا جٹ جب سے ریلیز ہوئی ہے کامیابیاں سمیٹ رہی ہے اس میں تمام اداکاروں کی جہاں اداکاری کو بہت زیادہ سراہا جا رہا ہے وہیں ماہرہ خان نے جو پنجابی بولی ہے وہ بنی ہوئی ہے موضوع بحث . حال ہی میں معروف کامیڈین قیصر پیا نے ایک انٹرویو دیا ہے اس میں ان سے سوال ہوا کہ آپ کو دا لیجنڈ آف مولا جٹ میں ماہرہ خان کی پنجابی کیسی لگی تو انہوں نے کہا کہ مجھے ماہرہ خان کی پنجابی ایسی ہی لگی جیسی ان کو میری اردو لگتی ہو گی . انہوں نے کہا کہ بڑی مہربانی ماہرہ خان کی کہ انہوں نے پنجابی زبان سیکھی اور بولی ورنہ تو ہمارے ہاں بہت سارے ایسے آرٹسٹ ہیں جو پنجابی بولنے میں شرمندگی محسوس کرتے ہیں . وہ پنجابی زبان سے باقاعدہ نفرت کرتے ہیں. حالانکہ یہ زبان بہت

    میٹھی اور محبت والی زبان ہے میرے حساب سے اس زبان کو سکولوں میں‌پڑھایا جانا چاہیے. انہوں نے کہا کہ میری اہلیہ بچوں کے ساتھ گھر میں انگلش اور اردو بولتی ہے لیکن میں اپنے بچوں کے ساتھ پنجابی زبان بولتا ہوں ، اردو ہماری مادری زبان ہے یہ انٹرنیشنل لینگوئج ہے تاہم پنجابی محبت کی زبان ہے اسے بولنے میں کسی کو بھی شرمندگی محسوس نہیں‌کرنی چاہیے. انہوں نے مزید کہا کہ ہر فنکار کو اسکی زندگی میں سراہا جانا چاہیے.

  • انڈین پنجابی فلموں کا پاکستان میں ریلیز ہونا خوش آئند ہے افتخاد ٹھاکر

    انڈین پنجابی فلموں کا پاکستان میں ریلیز ہونا خوش آئند ہے افتخاد ٹھاکر

    معروف کامیڈین افتخار ٹھاکر جنہوں نے انڈین پنجابی فلم ماں دا لاڈلا میں کام کیا ہے یہ فلم گزشتہ دنوں ریلیز ہوئی. فلم کو پاکستان میں خاصا پسند کیا گیا. اس ھوالے سے افتخار ٹھاکر کہتے ہیں کہ ہمارے فنکاروں‌کو بھارت میں بہت پسند کیا جاتا ہے اورمیرا انڈینز کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ کافی اچھا رہا ہے. بہت اچھی بات ہے کہ انڈین فلمز پاکستان میں ریلیز ہو رہی ہیں میں امید کرتا ہوں کہ گورنمنٹ کے لیول پر دونوں طرف سے کچھ ایسا ضرور ہو گا کہ ہماری فلمیں بھی بھارت میں ریلیز کی جائیں گی. افتخار ٹھاکر نے کہا کہ فنکاروں کی کوئی سرحد نہیں ہوتی ہے جہاں

    جس کو اچھا کام ملے کرنا چاہیے. انڈٰین پنجابی فلم ماں دا لاڈلہ کے بعد ا سہیل احمد کی پہلی انڈین پنجابی فلم پاکستان میں ریلیز ہونے جا رہی ہے جو کہ بہت ہی خوش آئند ہے . ہم سب کو ایک دوسرے کے کام کو سپورٹ کرنا چاہیے ہم ایک دوسرے کو سپورٹ کریں گے تو کام میں‌ ہہتری اور آسانیاں آئیں گی. ایک سوال کے جواب میں‌ افتخار ٹھاکر نے کہا کہ ایسا نہیں‌ ہے کہ انڈین فلمیں ہی میری ترجیحات میں ہیں جب جب پاکستانی اچھی فلمیں آفر ہوں گی میں ضرور کروں گا. افتخار ٹھاکر نے کہا کہ میری خوش نصیبی ہے کہ میرے مداح مجھے ہر روپ میں پسند کرتے ہیں.