قصور
رمضان میں پھلوں و سبزیوں کی قیمتیں بدستور بلند، شہریوں اور دکانداروں کا احتجاج
ماہِ رمضان کے آغاز کے ساتھ ہی قصور میں پھلوں اور سبزیوں کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے
اگرچہ شہریوں کا کہنا ہے کہ نرخ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں کسی حد تک بہتر ہیں، تاہم عوام کو مکمل ریلیف تاحال نہیں مل سکا
مارکیٹ سروے کے مطابق سرکاری نرخ نامے کے برعکس دکاندار کیلا 250 تا 350 روپے فی درجن، انگور 1200 روپے فی کلو، اسٹرابری 750 تا 900 روپے فی کلو جبکہ سیب 350 تا 600 روپے فی کلو فروخت کر رہے ہیں
دکانداروں اور ریڑھی بانوں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ فورسز کو چاہیے کہ وہ بڑے ڈیلرز کے خلاف کارروائی کریں جو مبینہ طور پر بلیک مارکیٹنگ میں ملوث ہیں
ان کا کہنا تھا کہ قانون کی عملداری اسی وقت نظر آئے گی جب بڑے مگرمچھوں کو بھی پکڑا جائے
چھوٹے تاجروں نے شکوہ کیا کہ میڈیا پر قیمتیں آنے کے بعد حکومتی کارروائیوں کا زیادہ تر دباؤ نچلی سطح کے دکانداروں پر ڈالا جاتا ہے جبکہ بڑے سپلائرز کے خلاف مؤثر قدم نہیں اٹھایا جاتا
دوسری جانب شہریوں نے ضلعی انتظامیہ سے فوری نوٹس لینے اور سرکاری نرخ نامے پر سختی سے عملدرآمد کرانے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ رمضان المبارک میں عوام کو حقیقی ریلیف مل سکے
Tag: قیمتوں میں اضافہ
-

پھلوں کی قیمتوں میں اضافے پر عوام و دکانداروں کا احتجاج
-

خشک میوہ جات کی قیمتوں میں بے تحاشہ اقافہ،سرکاری نرخ نامہ جاری کیا جائے،مطالبہ
قصور
خشک میوہ جات کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ،سرکاری نرخ نامہ آج دن تک جاری نا ہو سکا،دکانداروں کی من مانیاں،صوبائی و ضلعی انتظامیہ سے نوٹس کی اپیلتفصیلات کے مطابق قصور شہر میں خشک میوہ جات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہو چکا ہے
جس کے باعث خشک میوہ جات عوام کی پہنچ سے مکمل طور پر باہر ہوگئے ہیں
موسمِ سرما کے آغاز کے ساتھ ہی دکانداروں نے من مانے ریٹ مقرر کر لیے ہیں جس کے باعث متوسط اور غریب طبقہ خشک میوہ جات کھانے سے محروم ہوچکا ہے
شہر بھر کی دکانوں پر انجیر 2800 سے 3500 روپے فی کلو، گری بادام 2500 سے 4500 روپے فی کلو، پستہ 3500 سے 4500 روپے فی کلو جبکہ کاجو 4000 سے 5000 روپے فی کلو میں فروخت ہورہے ہیں
صد افسوس کہ گورنمنٹ نے آج دن تک خشک میوہ جات کا سرکاری نرخ نامہ جاری نہیں کیا جس کی وجہ سے دکانداروں نے اپنی مرضی کے نرخ مقرر کر رکھے ہیں اور کسی جگہ بھی سرکاری نرخ نامہ آویزاں نہیں کیا گیا ہےعوام کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی خاموشی نے ناجائز منافع خوروں کے حوصلے مزید بلند کردیے ہیں
خشک میوہ جات عام شہریوں کے لیے قوت بخش غذا کے بجائے اب ایک خواب بن گئے ہیں
شہریوں نے صوبائی و ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر سرکاری نرخ نامے جاری کئے جائیں اور دیگر اشیاء کی طرح چیکنگ کے نظام کو سخت کیا جائے اور منافع خوروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے -
چینی نایاب،قیمتوں میں اضافہ،پیرا فورس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان
قصور
چینی نایاب،شہری پریشان،پیرا فورس کی کارکردگی پر سوالیہ نشانتفصیلات کے مطابق قصور میں چینی نایاب ہو چکی ہے جس کی فی 50 کلو تھیلا قیمت 10500 روپیہ ہو چکی ہے
غریب دکاندار مہنگی چینی خرید کر بیچنے پر مجبور جبکہ ہیں بڑے مگرمچھ قانون کی گرفت سے دور ہیں
مارکیٹ ذرائع کے مطابق مقامی سطح پر چینی کی قلت نے عوام کو شدید مشکلات میں مبتلا کر دیا ہے
خوردہ فروشوں کا کہنا ہے کہ وہ خود مہنگی قیمت پر چینی خرید کر معمولی منافع پر بیچنے پر مجبور ہیں
مگر انتظامیہ کی کارروائیاں صرف چھوٹے دکانداروں تک محدود ہیں
عوامی حلقوں نے سوال اٹھایا ہے کہ آخر مہنگی چینی کی فروخت روکنے میں پیرا فورس کی کارکردگی کہاں ہے؟
بڑی ذخیرہ اندوز مافیا کے خلاف مؤثر کارروائی نہ ہونے سے عوامی غصہ بڑھتا جا رہا ہے
ذرائع کے مطابق اگر حکومت نے فوری اقدامات نہ کئے تو آنے والے دنوں میں چینی کی قیمت مذید بڑھنے کا خدشہ ہے -

ٹرمپ کےپےدرپےبیانات،ایگزیکٹوآرڈرز، امریکا میں مہنگائی کی لہر
امریکامیں گزشتہ ماہ کے دوران کھانے پینے کی اشیا، گھریلو استعمال کی چیزوں، ایندھن اور پرانی گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
تفصیلات کے مطابق امریکاکے لیبر ڈیپارٹمنٹ نے جاری ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ کنزیومر پرائس انڈیکس میں گزشتہ برس کے مقابلے میں تین فی صد اضافہ ہوا ہے جب کہ پچھلے مہینے کے مقابلے میں یہ 2.9 فی صد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مہنگائی بڑھنے سے جہاں خاندانوں کی مشکلات بڑھی ہیں وہیں چھوٹے کاروباروں پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔کنزیو پرائس انڈیکس گھریلو استعمال کی عمومی اشیا اور کھانے پینے کی چیزوں کی قیمتوں میں رد و بدل کو ظاہر کرتا ہے۔ اس سے اجناس اور دیگر اشیا کی قیمتوں میں تبدیلی کا پتا چلتا ہے۔کنزیومر پرائس انڈیکس کی ستمبر 2023 میں شرح 2.4 فی صد تھی جوساڑھے تین سال کے دوران کم ترین شرح ریکارڈ ہوئی تھی۔امریکا میں ضروری اشیا کی قیمتوں میں دسمبر 2024 کے مقابلے میں جنوری 2025 میں 0.5 فی صد اضافہ ہوا ہے۔ قیمتوں میں حالیہ اضافہ اگست 2023 کے بعد سب سے بڑا اضافہ ہے۔
اسی طرح گروسری یعنی گھریلو استعمال کی اشیا کی قیمتیں جب گزشتہ ماہ بڑھیں تو اس سے انڈوں کی قیمت میں بھی 15.2 فی صد اضافہ ہو گیا۔ یہ انڈوں کی قیمت میں جون 2015 کے بعد سب سے بڑا اضافہ تھا۔پرندوں میں برڈ فلو پھیلنے کے خدشات کے سبب انڈوں کے بیوپاری مرغیاں تلف کر رہے ہیں جس کے سبب انڈوں کی فراہمی بھی متاثر ہوئی ہے۔امریکا میں انڈوں کی قیمت گزشتہ برس کے مقابلے میں 53 فی صد بڑھ چکی ہیں جب کہ انڈوں کی کمی کے سبب ملک بھر میں مارکیٹوں میں صارفین کو ان کی محدود خریداری کی اجازت دی جا رہی ہے۔ اسی طرح ہوٹلوں میں انڈوں سے بنے پکوان اضافی قیمت میں فروخت ہو رہے ہیں۔
لیبر ڈپارٹمنٹ کے حالیہ اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ فیڈرل ریزرو نے سالانہ دو فی صد افراطِ زر کا ہدف مقرر کیا تھا۔ لیکن امریکا میں لگ بھگ چھ ماہ سے افراطِ زر کی شرح اس سے بلند رہی ہے۔ اس سے قبل ڈیڑھ سال تک اس میں کمی آ رہی تھی۔مبصرین کے مطابق مہنگائی میں اضافے کے سبب ممکنہ طور پر امریکہ کا فیڈرل ریزرو فی الحال شرح سود میں مزید کمی نہیں کرے گا۔یو ایس فیڈرل ریزرو سسٹم بینکنگ کا مرکزی نظام ہے جو امریکا کے مالیاتی امور کو دیکھتا ہے۔امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ برس صدارتی الیکشن کی مہم کے دوران عندیہ دیا تھا کہ وہ اشیا کی قیمتوں میں کمی لائیں گے۔
البتہ بعض اقتصادی ماہرین خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ موجودہ حکومت کے عائد کردہ ٹیرف یعنی مختلف ممالک سے درآمد ہونے والی اشیا پر ڈیوٹی بڑھانے سے عارضی طور پر قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔مہنگائی بڑھنے کے سبب اس کے اثرات دوسرے سیکٹرز پر بھی پڑ رہے ہیں۔امریکا میں کاروں کی انشورنس مسلسل بڑھ رہی ہے۔ گزشتہ دو ماہ میں اس میں دو فی صد اضافہ ہوچکا ہے۔ ملک میں گاڑیوں کے لیے ایندھن کی قیمتوں میں بھی 1.8 فی صد اضافہ ہوا ہے۔نیویارک اسٹاک ایکسچیج کے ڈاؤ فیوچر یعنی 30 انڈیکس میں 400 پوائنٹس کی کمی آ چکی ہے جب کہ دیگر مارکیٹوں میں بھی مندی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
امریکا میں انڈوں کی قیمت ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی۔ امریکا میں انڈوں کی قیمت 4.95 ڈالر فی درجن کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ برڈ فلو کے باعث یہ قیمت مزید بڑھ سکتی ہے۔ تازہ ترین کنزیومر پرائس انڈیکس کے مطابق، جنوری میں امریکی شہروں میں درجن گریڈ اے انڈوں کی اوسط قیمت 4.95 ڈالر تک پہنچ گئی۔ جو دو سال قبل 4.82 ڈالر کے سابقہ ریکارڈ کو بھی پیچھے چھوڑ چکی ہے۔
کراچی: تیزرفتار ڈمپر نے ایک اور موٹرسائیکل سوار کچل دیا
واٹس ایپ گروپ چیٹس کیلئے دلچسپ فیچر متعارف
شہاب علی شاہ چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا تعینات
ترک صدر کا آصف زرداری اور شہباز شریف کو شاندار تحفہ
پاک نیوزی لینڈ فائنل، ٹکٹوں کی مانگ بڑھ گئی
-

عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی اضافی قیمتوں کا بوجھ صارفین پر نہ ڈالنے کی درخواست
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ فورا واپس لیا جائے: لاہور چیمبر
لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر میاں طارق مصباح، سینئر نائب صدر ناصر حمید خان اور نائب صدر طاہر منظور چودھری نے حکومت پر زور دیا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ فورا واپس لیں، گذشتہ کچھ عرصہ کے دوران لگاتار اضافوں نے کاروباری شعبے کے لیے مسائل پیدا اور پیداواری لاگت میں اضافہ کیا ہے۔ ایک بیان میں لاہور چیمبر کے عہدیدارو ں نے کہا کہ اگرچہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کچھ بڑھی ہیں لیکن ان کا بوجھ صارفین پر ڈالنے کے بجائے حکومت اپنے اخراجات اور پٹرولیم مصنوعات پر ڈیوٹیاں و ٹیکسز کم کرتی تو بہتر ہوتا۔انہوں نے کہا کہ فیول صنعت و تجارت کے لیے بہت اہم ہے، اگر اس پر ڈیوٹیوں اور ٹیکسز کا بوجھ لاد دیا جائے گا تو صرف کاروباری شعبے ہی نہیں بلکہ معیشت کے لیے بھی مسائل میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے زرعی شعبہ بھی بری طرح متاثر ہوگا اور اس کی پیداواری لاگت بھی مزید بڑھ جائے گی، اس کے علاوہ بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا خطرہ بھی منڈلا رہا ہے کیونکہ بجلی کا بہت بڑا حصہ تھرمل ذرائع سے پیدا ہوتاہے۔ انہوں نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے مجموعی اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت حالیہ اضافہ فی الفور واپس لینے کا حکم صادر کرے ۔