عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے،قیمتیں گزشتہ سیشن میں دیکھی گئی تقریباً 4 ماہ کی کم ترین سطح کے قریب پہنچ گئیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق تیل کی قیمتوں میں کمی کی بڑی وجہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل بردار جہازوں کی آمدورفت میں بہتری اور مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں نسبتاً کمی ہے، جس سے عالمی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات کم ہوئے ہیں، برینٹ خام تیل کے فیوچر معاہدوں کی قیمت 37 سینٹ یا 0.5 فیصد کمی کے بعد 76.71 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 36 سینٹ یعنی 0.5 فیصد کمی کے ساتھ 72.85 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔
اس ہفتے تیل کی قیمتوں پر دباؤ اس وقت بڑھا جب واشنگٹن نے ابتدائی امن مذاکرات کے بعد تہران کو 60 روزہ پابندیوں میں نرمی دیدی، جس کے تحت ایران کو تیل فروخت کرنے کی اجازت مل گئی دوسری جانب لبنان میں کشیدگی میں کمی نے بھی منڈی کو سہارا دیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں حالات مزید بہتر رہے اور آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل معمول پر آتی رہی تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔ تاہم کسی بھی نئی جغرافیائی کشیدگی کی صورت میں قیمتوں میں دوبارہ اضافہ بھی ممکن ہے۔




