Baaghi TV

Tag: ق لیگ

  • اس وقت سب کو ایک ہونے کی ضرورت ہے،چودھری شجاعت

    اس وقت سب کو ایک ہونے کی ضرورت ہے،چودھری شجاعت

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعظم، ق لیگ کے سربراہ چوھدری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ ملکی معیشت کو ٹھیک کرنا سب سے ضروری ہے،

    چودھری شجاعت حسین کا کہنا تھا کہ اس وقت سب کو ایک ہونے کی ضرورت ہے،معیشت کو اس وقت سنگین چیلنجز کا سامنا ہے،سیاست دانوں کو حالات کو سمجھنا چاہیے اور ایک پیج پر آنا چاہیے عمران خان لانگ مارچ کرنے جارہے تھے تو کہا پہلا ایجنڈا معیشت رکھیں،تمام سیاست دانوں کو آئین کی بالادستی کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے،جو لوگ معیشت کا مذاق اڑاتے ہیں ان کو سوچنا چاہیے کہ اس کے ذمہ دار سیاست دان ہوں گے معیشت کے نقصان سے غریب آدمی متاثر ہوگا آصف زرداری سے رابطہ ہوتا رہتا ہے ان کو بھی ملک کی فکر ہے، مارچ میں عمران سے رابطہ کرکے کہا پہلا ایجنڈا معیشت رکھیں ساتھ چلوں گا تمام جماعتوں کا کہوں گا ملکی معیشت کو ٹھیک کرنے کیلئے ایک ہو جائیں

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    عمران خان کی تعزیت کیلئے صحافی صدف نعیم کے گھر آمد 

    کامونکی،لانگ مارچ کی کوریج کرنیوالے صحافیوں پر پولیس کا تشدد

    پی ٹی آئی نے جلسے کی اجازت کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا

    دوسری جانب چوہدری شجاعت حسین کی نوازشریف سے ملاقات جلد متوقع ہے وفاقی وزیر اور ق لیگ کے رہنما چوہدری سالک حسین نے مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف سے ملاقات کی تھی،ق لیگ کے رہنما اور وفاقی وزیر سالک حسین نے اپنے والد شجاعت حسین کا سلام اور اہم پیغام نواز شریف کو پہنچایا۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ چوہدری شجاعت حسین کا نواز شریف سے ملاقات کے لئے جلد لندن جانے کا امکان ہے

    سالک حسین سے ملاقات کے دوران نواز شریف کا کہنا تھا کہ چوہدری شجاعت حسین ایک زیرک سیاست دان ہیں اور انہوں نے ہمیشہ پاکستان کی بہتری کی بات کی ہے، ان سے میرا ہمیشہ دل کا رشتہ رہا ہے، ہمیں مل کر پاکستان کی معاشی مشکلات کو ختم کرنا ہے

    واضح رہے کہ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع ہونے کے بعد سے چودھری خاندان تقسیم ہو چکا ہے، پرویز الہیٰ عمران خان کی حمایت کر رہے ہیں، جبکہ چودھری شجاعت حسین پی ڈی ایم کے ساتھ کھڑے ہیں، پنجاب میں پرویز الہیٰ وزیراعلیٰ ہیں تو وفاق میں چودھری شجاعت کے بیٹے سالک حسین وفاقی وزیر ہیں، دونوں دھڑوں میں اتحاد کی کوششیں ہوئیں لیکن کامیابی نہیں ہو سکی، حالیہ دنوں میں مونس الہی اور سالک حسین کے ایک دوسرے کے خلاف بیانات بھی سامنے آئے ہیںَ

  • پنجاب اسمبلی کی تحلیل پر پی ٹی آئی اور ق لیگ کی قیادت میں مشاورت

    پنجاب اسمبلی کی تحلیل پر پی ٹی آئی اور ق لیگ کی قیادت میں مشاورت

    پنجاب اسمبلی کی تحلیل سمیت دیگر سیاسی معاملات پر مشاورت کے لیے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور مسلم لیگ ق کی قیادت کا ایک اور رابطہ ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی : ذرائع کے مطابق لاہور میں پی ٹی آئی کے سینیئر نائب صدر فواد چوہدری نے وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہٰی سے ملاقات کی جس میں اسمبلی کی تحلیل اور دیگر سیاسی معاملات پر مشاورت کی گئی ملاقات میں رہنما ق لیگ مونس الہٰی بھی شریک ہوئے۔

    پاکستان میں تعینات برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر کو نئی ذمہ داریاں مل گئیں

    وزیراعلیٰ پنجاب سے ملاقات کے بعد فواد چوہدری زمان پارک پہنچے جہاں انہوں نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان سے ملاقات کی۔

    ذرائع کے مطابق فواد چوہدری نے پرویزالہٰی اور مونس الہٰی سے ملاقات کے بارے میں عمران خان کو آگاہ کیا۔

    دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب نے فوج کی اعلیٰ قیادت کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کے منفی بیانات کو بھی غلط قرار دیا اور کہا کہ عمران خان کو کسی کو میر جعفر اور میر صادق نہیں کہنا چاہیے تھا، جب کوئی آدمی آپ کو مشکل وقت میں سپورٹ کرے اس کے بارے میں ایسا نہیں کہنا چاہیے۔

    پرویز الٰہی نے انکشاف کیا کہ عثمان بزدار کو بطور وزیراعلیٰ مقرر کرنے کے حوالے سے جنرل فیض اور جہانگیر ترین نے بتایا، عثمان بزدارکی وجہ سے ہمارے 4 سال ضائع ہوگئے، جنرل فیض پنجاب کی ایڈمنسٹریشن سے متعلق میری کچھ باتیں مان لیتے تو ہمارے 4سال ضائع نہ ہوتے۔

    ایچ آئی وی ایڈز کے مریضوں کو ہر جگہ امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے

    علاوہ ازیں وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی نے بھی عمران خان کا جنرل باجوہ پر ڈبل گیم کھیلنے کا الزام مسترد کردیاایک انٹرویو میں پرویز الٰہی نے کہا کہ جنرل باجوہ نے عمران خان کا ساتھ دینےکا کہا، ن لیگ کی طرف جاتے جاتے اللہ نے راستہ تبدیل کیا اور راستہ دکھانے کیلئے باجوہ صاحب کو بھیج دیاچوہدری شجاعت حسین کو جنرل باجوہ کا کوئی فون نہیں آیا-

    پرویز الٰہی نے بتایا کہ عمران خان کی یہ بات درست نہیں کہ جنرل باجوہ ہمیں عمران کے ساتھ جانے اور دوسرے گروپ کو ن لیگ کی طرف جانے کا کہہ رہے تھے جنرل باجوہ کو انہوں نے خود فون کیا تھا، ادارے نے کہا کہ عمران خان کا ساتھ دینےکا راستہ آپ کیلئے بہتر راستہ ہے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی نے کہا کہ الیکشن چار ماہ سے پہلے تو ہو ہی نہیں سکتے، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو کام کیلئے وقت چاہیے، اگلے سال اکتوبر کے بعد بھی الیکشن میں تاخیر ہو سکتی ہے۔

    موٹر وے پر گاڑی چھیننے کی کوشش کی انوکھی واردات

    واضح رہے کہ جنرل باجوہ سے متعلق پی ٹی آئی قیادت کے منفی بیانات پر عمران خان کے اتحادی اور ق لیگ کے رہنما مونس الہٰی نے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا تھا کہ جنرل باجوہ نے پی ٹی آئی کو نہ صرف سپورٹ کیا بلکہ تحریک عدم اعتماد کے وقت بھی انھیں کہا کہ وہ عمران خان کے ساتھ جائیں۔

    ہفتے کو عمران خان نے نجی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ ساڑھے 3 سال حکومت میں رہا، مجھے علم ہے یہ کیسے آپریٹ کرتے ہیں، ہوسکتا ہے کہ مونس الٰہی کو کہا گیا ہو کہ پی ٹی آئی کی طرف جاؤ ، ق لیگ میں دوسرے کو بھی کہا گیا ہوگا کہ ن لیگ میں چلے جاؤ ، ہمارے اپنے لوگوں کو کسی کو کچھ پیغام اور کسی کو کچھ پیغام جارہا تھا، جتنی ڈبل گیم جنرل باجوہ نے کھیلی، کبھی کسی کو کچھ کہیں کچھ،عجیب رویہ تھا، آخر میں ہوا کیا، فائدہ تو نہیں ہوا بے نقاب تو ہوگئے۔

    سابق وزیراعظم نے مزید کہا تھا کہ جب ڈائری اٹھا کر پی ایم ہاؤس سے نکلا تو اللہ نے وہ عزت دی جس کا تصور نہیں کیا تھا، جنرل باجوہ کو ایکسٹینشن دے کر بہت بڑی غلطی کی تھی، تب بھی سوچتا تھا کہ فوج میں کسی کو توسیع نہیں ملنی چاہیے مگر حالات ایسے بنادیے گئے تھے، توسیع کیلئے جس طرح ن لیگ و دیگر نے ووٹ ڈالے اس کے بعد مجھے لگا کہ انہوں نے ن لیگ سے بھی بات چیت شروع کردی ہے، میرے خیال میں انہوں نے ن لیگ کو بھی کوئی یقین دہانی کرائی ہوگی، جنرل فیض کو ہٹایا گیا تب کلیئر ہوگیا کہ انہوں نے فیصلہ کرلیا تھا مجھے ہٹانے کا۔

    مہلت ختم ہونے کے بعد نوٹ بے قدر و قیمت ہوجائیں گے. اسٹیٹ بینک

  • آپ درخواست واپس لیتے ہیں یا جرمانہ کروں؟ عدالت کا وکیل سے استفسار

    آپ درخواست واپس لیتے ہیں یا جرمانہ کروں؟ عدالت کا وکیل سے استفسار

    ق لیگ کے نئے سربراہ کے انتخابی شیڈول پر الیکشن کمیشن کے حکم امتناعی کیس کی سماعت ہوئی

    لاہور ہائی کورٹ نے درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے واپس لینے کی بنا پر مسترد کر دی ،لاہور ہائی کورٹ نے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ درخواست واپس لیتے ہیں یا جرمانہ کروں، اسطرح کی بے بنیاد اور جھوٹی درخواستیں دائر کرنے کی اجازت نہیں دیں گے،الیکشن کمیشن کو فیصلہ کرنے کے لیے وقت کا پابند نہیں بنایا جا سکتا کل کو ہم پر بھی فیصلہ کرنے کی پابندی عائد کر دی جائے گی،

    وکیل نے کہا کہ وزیراعلیٰ کےانتخاب پر پارٹی سربراہ شجاعت حسین نے خط ڈپٹی ا سپیکر کو لکھا شجاعت حسین کا خط غیرقانونی ہدایات ہرمبنی تھا، عدالت الیکشن کمیشن کا انتخابی عمل روکنے کا اقدام کالعدم قرار دے،

    مسلم لیگ ق پنجاب کے جنرل سیکریٹری کامل علی آغا نے لاہور ہائی کورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے موقع پر پارٹی سربراہ شجاعت حسین نے غیر قانونی ہدایت پر مبنی خط ڈپٹی اسپیکر کو لکھا اس خط کے رد عمل پر پارٹی کارکنوں نے شجاعت حسین کے گھر کے باہر بھرپور احتجاج کیا پارٹی کی مرکزی ورکنگ کمیٹی نے اجلاس میں شجاعت حسین کی ہدایات کو غیر جمہوری قرار دے کر انہیں عہدے سے ہٹا دیا اور پارٹی کے نئے سربراہ کے انتخاب کے لیے 10 اگست کا انتخابی شیڈول جاری کردیا لیکن الیکشن کمیشن نے چوہدری شجاعت کی درخواست پر حکم امتناعی جاری کردیا درخواست میں استدعا کی گئی کہ الیکشن کمیشن کا انتخابی عمل روکنے کا اقدام کالعدم قرار دیا جائے

    فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 30 روزمیں کرنے کا حکم اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

    فارن فنڈنگ کیس، فیصلہ 30 روز میں کرنے کے فیصلے کیخلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

  • انٹراپارٹی الیکشن کیس؛چوہدری شجاعت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    انٹراپارٹی الیکشن کیس؛چوہدری شجاعت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت کو پارٹی صدارت سے ہٹانے کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

    چیف الیکشن کمشنرسکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں 5 رکنی کمیشن نے چوہدری شجاعت حسین کو پارٹی صدارت سے ہٹانے کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔چوہدری شجاعت کے وکیل نے دلائل دیے کہ پارٹی کی صدارت صرف استعفے یا موت کی صورت میں چھوڑی جا سکتی ہے، پارٹی صدارت سے متعلق کیس الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔

    وکیل عمر اسلم نے کہا کہ صرف سینٹرل ورکنگ کمیٹی کو عہدیدار کے خلاف تادیبی کارروائی کا حق حاصل ہے، سینٹرل ورکنگ کمیٹی تشکیل ہی نہیں دی گئی،دوسرے گروپ نے ق لیگ پنجاب کے دفتر پر قبضہ کرلیا ہے۔

    الیکشن کمیشن کے استفسار پر پرویز الہٰی کے وکیل نے بتایا کہ پارٹی آئین کے مطابق سینٹرل ورکنگ کمیٹی 200 ارکان پر مشتمل ہوتی ہے، پارٹی عہدیدار کو ہٹانے یا الیکشن کے فیصلے کے خلاف پارٹی کونسل سے رجوع کرنا چاہیئے تھا۔

    کامل علی آغا کے وکیل نے دلائل دیے کہ کسی سیاسی جماعت کے انتخابات کے حوالے سے الیکشن کمیشن کا دائرہ اختیار نہیں ہے، درخواست گزار کو ایسے فورم پر جانا چاہیئے جہاں شواہد ریکارڈ کیے جا سکیں۔

    بعدازاں الیکشن کمیشن نے دلائل مکمل ہونے پرشجاعت حسین کو پارٹی صدارت سے ہٹانے اور انٹرا پارٹی انتخابات کروانے کے کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا۔2روز قبل 16 اگست کو وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی نے مسلم لیگ(ق)انٹراپارٹی انتخابات میں الیکشن کمیشن کا دائرہ اختیار ہی چیلنج کیا تھا۔

  • منی لانڈرنگ کیس، مونس الہیٰ کی درخواست ضمانت پر فیصلہ آ گیا

    منی لانڈرنگ کیس، مونس الہیٰ کی درخواست ضمانت پر فیصلہ آ گیا

    لاہور ہائیکورٹ میں ایف آئی اے منی لانڈرنگ کیس کی سماعت 15 اگست تک ملتوی کر دی گئی

    ق لیگی رہنما مونس الہٰی کے شریک ملزم کی عبوری ضمانت بھی 15 اگست تک منظور کر لی گئی عدالت نے ایف آئی اے کو ملزم کو 15 اگست تک گرفتار کرنے سے روک دیا لاہور ہائیکورٹ نے 2 لاکھ روپے ضمانتی مچلکے جمع کروانے کی ہدایت کردی

    مونس الہیٰ نے لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست ضمانت میں عدالت سے استدعا کی تھی کہ ایف آئی اے نے بے بنیاد مقدمہ درج کیا ہے، ضمانت دی جائے،

    شادی شدہ کامیاب مرد سے پیسے کی خاطر جسمانی تعلق رکھنا عورت کی تذلیل ہے۔ فرح سعدیہ

    ‏خواتین کو جب اعتکاف کی مبارکباد دینے جائیں تو صرف مٹھائی لے کر جائیں. شفاعت علی

    عظمیٰ تشدد کیس میں تاحال کوئی گرفتاری نہیں، کہیں انہیں فرار تو نہیں کروا دیا ؟ حسان نیازی

    میں نے کوئی ڈیل نہیں کی اور نا ہی دبئی گئی، لاہور ہی ہوں تو انصاف لے کر رہوں گی، عظمیٰ خان

    وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے مونس الہیٰ کے خلاف منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج کر رکھا ہے ایف آئی اے نے 15 جون کو مسلم لیگ (ق) کے رہنما مونس الہٰی کے خلاف منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج کیا تھا ایف آئی اے کی ایف آئی آر میں مونس الہٰی کے خللاف دفعہ 34، 109، 420، 468 اور 471 کے ساتھ ساتھ منی لانڈرنگ ایکٹ کی سیکشن 4 شامل کی گئی ہیں مقدمے میں مونس الہیٰ پر کرپشن کے الزامات عائد کیے گئے تھے ایف آئی آر میں کہا گیا تھا کہ انکوائری نے ثابت کیا کہ مونس الہٰی، نواز بھٹی، مظہر عباس، شہریار، جاوید، وجیہہ اور محمد خان بھٹی منی لانڈرنگ میں ملوث رہے ہیں

  • چوہدری شجاعت حسین کو پارٹی سےنکالنےکی بات کرنااپنی ذہنی حالت بتانےکےمترادف ہے:سالک حسین

    چوہدری شجاعت حسین کو پارٹی سےنکالنےکی بات کرنااپنی ذہنی حالت بتانےکےمترادف ہے:سالک حسین

    مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت حسین کو پارٹی سے ہی نکالنے کی باتوں پر ان کے بیٹے چوہدری سالک حسین میدان میں آگئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ چوہدری شجاعت حسین کو پارٹی سے نہیں نکالنا چاہیے تھا وہ ایک منجھے ہوئے سیاستدان ہیں

    اپنی ٹوئٹ میں چوہدری سالک حسین نے کہا کہ چوہدری شجاعت حسین کو پارٹی سے نکالنے کی بات کر نا اپنی ذہنی حالت بتانے کے مترادف ہے۔

    مسلم لیگ ق کاچوہدری شجاعت حسین کو پارٹی صدارت سے ہٹانےکا فیصلہ

     

    https://twitter.com/ChSalikHussain/status/1553279726353092608

    چوہدری سالک حسین نے مزید کہا کہ چوہدری شجاعت حسین نے ملکی مفاد پر ذاتی مفاد کو ترجیح دے کر منافقانہ روش اپنانے اور فرد واحد کو نوازنے کی بجائے سیاسی شعور کے مطابق ملک و قوم کو بے راہ روی اور انتشار سے بچانے کا فیصلہ کیا۔

    رکن قومی اسمبلی کا مزید کہنا تھا کہ چوہدری شجاعت کی ذہنی صحت غلامانہ ذہنیت سے بہتر ہے۔

    چوہدری شجاعت نے PTI اور PMLQ کوماموں بنادیا جواد احمد

    چوہدری پرویز الہیٰ اور حمزہ شہباز کے درمیان وزارت اعلیٰ کے انتخاب کے موقع پر ڈپٹی اسپیکر نے مسلم (ق) کے صدر چوہدری شجاعت حسین کے خط کی بنیاد پر 10 ووٹ نہ گننے کی رولنگ دی اور اسی بنیاد پر حمزہ شہباز کی جیت کا اعلان کیا تھا۔

    بعد ازاں سپریم کورٹ نے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کو غیر آئینی قرار دے دیا جس کے بعد چوہدری پرویز الہیٰ نے وزیر اعلیٰ کا حلف لے لیا۔

    لاہور: آصف علی زرداری کی چوہدری شجاعت حسین سے ملاقات

    دوسری جانب چوہدری شجاعت کو ان کی بیماری کی بنیاد پر پارٹی صدارت سے ہٹانے کی باتیں گردش کرنے لگیں جس کی تائید پارٹی کے سینیٹر کامل علی آغا نے بھی کی۔

  • مسلم لیگ ق کاچوہدری شجاعت حسین کو پارٹی صدارت سے ہٹانےکا فیصلہ:طارق بشیرچیمہ کی بھی چھٹی

    مسلم لیگ ق کاچوہدری شجاعت حسین کو پارٹی صدارت سے ہٹانےکا فیصلہ:طارق بشیرچیمہ کی بھی چھٹی

    پاکستان مسلم لیگ کے مرکزی سینٹرل ورکنگ کمیٹی کا ہنگامی اجلا س پاکستان مسلم لیگ کی سینٹرل ورکنگ کمیٹی کے 40ممبران کی درخواست پر مسلم لیگ ہاؤس پنجاب لاہور میں سینئر رہنما و ممبرسینٹرل ورکنگ کمیٹی سینیٹر کامل علی آغا کی زیر صدارت منعقد ہوا

    اجلاس میں سینٹرل ورکنگ کمیٹی کے ممبران کی متفقہ منظوری کے بعد مرکزی صدر پاکستان مسلم لیگ چوہدری شجاعت حسین اور مرکزی سیکرٹری جنرل طارق بشیر چیمہ کی فی الفور ان کے عہدوں سے فارغ کردیا گیا اور پاکستان مسلم لیگ کے آئین کے آرٹیکل 118/119کے تحت مرکزی صدر اور مرکزی سیکرٹری جنرل کی خالی نشستوں پر10یوم کے اندر انتخابات کروانے کیلئے کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا پاکستان مسلم لیگ کے مرکزی الیکشن کمیشن کے چیئرمین سینئر ایڈووکیٹ جہانگیر اے جھوجھا ہونگے جبکہ دیگر ممبران میں امتیاز رانجھا،خدیجہ عمر فاروقی،اشتیاق گوہر ایڈووکیٹ، چوہدری عبدالرزاق کمبوہ ایڈووکیٹ مقررکیے گئے ہیں۔

    دونوں عہدوں پر 10دن تک انتخابات تک مرکزی صدر اور سیکرٹری جنرل کے اختیارات مرکزی چیئرمین الیکشن کمیشن پاکستان مسلم لیگ جہانگیر اے جھوجھا ایڈوکیٹ کے سپر د کردیئے گئے۔ مرکزی سینٹرل ورکنگ کمیٹی کی طرف سے سپیکر پنجاب اسمبلی کی خالی نشست پر ہونے والے انتخابات کیلئے تحریک انصاف کے امیدوار سبطین خان کی حمایت کا اعلان بھی کردیا گیا اور پاکستان مسلم لیگ کے تمام اراکین اسمبلی کو انہیں ووٹ دینے کی ہدایات بھی جاری کردی گئیں۔اجلاس میں متفقہ طور پر منظور ہونے والی قراردادیں درج ذیل ہیں۔

    قرارداد نمبر1(تنویر اعظم چیمہ ایڈووکیٹ مرکزی ممبر سینٹرل ورکنگ کمیٹی پاکستان مسلم لیگ)

    سنٹرل ورکنگ کمیٹی پاکستان مسلم لیگ کا آج کا یہ اجلاس صدر پاکستان مسلم لیگ جناب چوہدری شجاعت حسین صاحب کی گزشتہ لمبے عرصے سے خرابی صحت کی وجہ سے فیصلوں کی استعداد ختم ہونے پر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے۔آج کا یہ اجلاس صدر محترم کی طرف سے اپنے بھائی اور صوبائی صدر پاکستان مسلم لیگ پنجاب جناب چوہدری پرویز الہٰی صاحب کی نامزدگی بطور وزیراعلیٰ پنجاب حمایت اور تائید کرنے کے بعد چوہدری طارق بشیر چیمہ سیکرٹری جنرل پاکستان مسلم لیگ اور ا پنے بیٹے چوہدری سالک حسین کی سازش کا شکا ر ہوکر ایک خط کے ذریعے اپنی پارٹی کے ممبران صوبائی اسمبلی کو مخالف امیدوار کے حق میں ووٹ ڈالنے کی ہدایت جاری کردی۔جس کا اختیار آئین پاکستان کے تحت ان کو حاصل نہ تھا۔جس کی وجہ سے پارٹی کی بہت بدنامی ہوئی اور پارٹی کو نقصان پہنچا ہے۔

    یہ کہ اس فیصلہ سے چوہدری شجاعت حسین کی مسلسل بیماری کی وجہ سے ذہنی حالت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ اس ذہنی کیفیت میں پارٹی کی صدارت کرنے کی صلاحیت کھوچکے ہیں۔اس لیے پارٹی کو مکمل تباہی سے بچانے کے لئے ضروری ہوگیا ہے کہ انہیں پاکستان مسلم لیگ کی صدارت سے فی الفور الگ کردیا جائے اور سیکرٹری جنرل چوہدری طارق بشیر چیمہ کو بھی پارٹی مفادات کے خلاف مسلسل اقدامات اٹھانے پر سیکرٹری جنرل کے عہدے سے الگ کردیا جائے۔

    یہ کہ آج کے بعد دونوں اصحاب صدر پاکستان مسلم لیگ چوہدری شجاعت حسین اور سیکرٹری جنرل پاکستان مسلم لیگ چوہدری طارق بشیر چیمہ کو ان کے عہدوں سے فارغ کیا جاتا ہے اورآج کے بعد وہ اپنے اختیارات بطور صدر اور سیکرٹری جنرل استعمال نہ کریں۔ سینٹرل ورکنگ کمیٹی سے گذارش کرتا ہے کہ ان کی جگہ فوری الیکشن کروانے کیلئے ایک قرارداد کے ذریعے پارٹی آئین کے آرٹیکل 118/119کے تحت الیکشن کمیشن کا قیام عمل میں لایا جائے

    قرارداد نمبر 2(میاں محمد منیر مرکزی ممبر سینٹرل ورکنگ کمیٹی پاکستان مسلم لیگ)

    آج کا سینٹر ل ورکنگ کیمٹی پاکستان مسلم لیگ کا یہ اجلاس مرکزی صدر پاکستان مسلم لیگ اور سیکرٹری جنرل کی نشستیں خالی ہونے پر بقیہ مدت کے لئے الیکشن کا اعلان کرتا ہے اور اس سلسلہ میں الیکشن کروانے کیلئے زیر آرٹیکل 118/119آئین پاکستان مسلم لیگ مندرجہ ذیل پانچ سینئر اراکین پاکستان مسلم لیگ پر مشتعمل الیکشن کمیشن کا تقرر عمل میں لایا جاتا ہے۔جہانگیر اے جھوجھہ ایڈووکیٹ چیئرمین الیکشن کمیشن پاکستان مسلم لیگ ممبران میں امتیاز رانجھا،خدیجہ عمر فاروقی،اشتیاق احمد گوہر ایڈووکیٹ،چوہدری عبدالرزاق کمبوہ ایڈووکیٹ،

    قرارداد نمبر 3(خدیجہ عمر فاروقی ایم پی اے،مرکزی ممبر سینٹرل ورکنگ کمیٹی پاکستان مسلم لیگ)

    سینٹر ل ورکنگ کیمٹی پاکستان مسلم لیگ کا آج کا یہ اجلاس فیصلہ کرتا ہے کہ آج سے الیکشن کی تکمیل تک جہانگیر اے جھوجھہ سینئر ایڈووکیٹ چیئرمین الیکشن کمیشن پاکستان مسلم لیگ آئین پاکستان مسلم لیگ کے تحت الیکشن کی تکمیل تک صدر اور سیکرٹری جنرل کے تمام تنظیمی اور انتظامی اختیارات استعمال کریں اور وہ تمام انتظامی اور تنظیمی اختیارات استعمال کرتے ہوئے دس(10)دن کے نوٹس پر الیکشن کیلئے جنرل کونسل کا خصوصی اجلاس طلب فرما کر جنرل کونسل سے سنٹرل ورکنگ کمیٹی کے فیصلوں کی منظوری لے کر اسی اجلاس میں الیکشن کا انعقاد یقینی بنائیں۔

    قرارداد نمبر 4(وقاص حسن موکل مرکزی ممبر سینٹرل ورکنگ کمیٹی پاکستان مسلم لیگ)

    سینٹرل ورکنگ کمیٹی پاکستان مسلم لیگ کا آج کا یہ اجلاس فیصلہ کرتا ہے کہ صوبائی اسمبلی پنجاب میں سپیکرپنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہٰی کے بطور وزیراعلیٰ پنجاب منتخب ہونے کے بعد سپیکر کی نشست خالی ہونے پاکستان تحریک انصاف کے نامزد امیدوار محمد سبطین خان کی حمایت کا اعلان کرتا ہے اور تمام ممبران صوبائی اسمبلی پاکستان مسلم لیگ کو ہدایت کرتا ہے کہ وہ سپیکر کے لیے الیکشن میں جناب محمد سبطین خان کے حق میں ووٹ ڈالیں۔

    قرار داد نمبر5جاوید اقبال گورائیہ مرکزی ممبر سینٹرل ورکنگ کمیٹی پاکستان مسلم لیگ)

    پاکستان مسلم لیگ کی سینٹرل ورکنگ کمیٹی کا آج کا یہ اجلاس چوہدری پرویز الہٰی صدر پاکستان مسلم لیگ پنجاب اور وزیراعلیٰ پنجاب کو ان کی پارٹی اور ملک کیلئے قابل ذکر خدما ت ادا کرنے پربھر پور خراج تحسین پیش کرتا ہے اور خواہش کا اظہار کرتا ہے کہ آئندہ بھی وہ پہلے سے بڑھ کر فلاحی اور رفاہی منصوبے بنا کر عوامی خدمت کے لیے ریکارڈ قائم کرینگے اور پارٹی کی عوام میں مزید عزت کا باعث بنیں گے

    واضح رہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے دوران چوہدری شجاعت حسین کی جانب سے حکومتی اتحاد کی حمایت اور ڈپٹی اسپیکر کو لکھے گئے خط کے معاملے پر ق لیگ کے سربراہان میں اختلافات کھل کر سامنے آئے تھے۔

    چوہدری پرویز الٰہی اور مونس الٰہی پاکستان تحریک انصاف کے حامی ہیں جبکہ چوہدری شجاعت حسین اور ان کے بیٹے سالک حسین مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی سمیت پی ڈی ایم اتحاد کے ساتھ کھڑے ہیں۔

    سینیٹر کامل آغا کا کہنا تھا کہ پارٹی کی سینٹرل ورکنگ کمیٹی نے 10 روز میں انٹرا پارٹی الیکشن کی بھی تجویز دی ہے اور اجلاس میں 5 رکنی پارٹی الیکشن کمیشن کا تقرر کیا گیا ہے۔ انٹرا پارٹی الیکشن کیلئے سینئر ایڈووکیٹ جہانگیر اے جوجہ کو چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ 10 روز میں پارٹی جنرل کونسل اجلاس بلایا جائے گا۔ اجلاس میں اسپیکر پنجاب اسمبلی کیلیے سبطین خان کے نام کی منظوری دی گئی اور ق لیگ ممبران پنجاب اسمبلی کو ہدایت دی کہ وہ سبطین خان کو ووٹ دیں۔

  • ایک مشن پورا ہوا،دوسرے کیلئے  تن من دھن کی بازی لگائیں گے ،مونس الہی

    ایک مشن پورا ہوا،دوسرے کیلئے تن من دھن کی بازی لگائیں گے ،مونس الہی

    ق لیگی رہنما مونس الہٰی اور وزیراعلی پنجاب پرویز الہی کے بیٹے مونس الہی کا کہنا ہے کہ اب عمران خان کو بطور وزیراعظم واپس کرسی پر لے کر آئیں گے-

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر مونس الٰہی نے اپنے ٹوئٹر اکاونٹ پر اسٹیٹس دیتے ہوئے پرویز الہی کی حلف برداری کے ساتھ سابق وزیراعظم عمران خان کی تصویر بھی شئیر کی، جہاں وہ 2018 میں وزیراعظم کا حلق لے رہے ہیں۔


    مونس الہی نے اس تصویر کے ساتھ لکھا کہ اب عمران خان کو بطور وزیراعظم واپس کرسی پر لے کر آئیں گے۔

    ق لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ اللہ کے فضل سے ایک مشن پورا ہو گیا، اب دوسرے مشن کے لیے تن من دھن کی بازی لگائیں گے۔

    واضح رہے مونس الہی، عمران خان کے بڑے اتحادی کے طور پر سامنے آئے ہیں، اور وہ ق لیگی رہنما کے طور پر عمران خان کے ہر مشکل وقت میں ساتھ کھڑے نظر آئے ہیں۔

    یاد رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے تین رکنی بینچ نے ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی دوست محمد مزاری کی جانب سے وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے موقع پر دی جانے والی رولنگ کالعدم قرار دے دی ہے اور حکم دیا کہ گورنر آج ساڑھے گیارہ بجے پرویز الٰہی سے وزارت اعلیٰ کا حلف لیں ،گورنر اگر پرویز الٰہی سے حلف نہ لیں تو صدر مملکت وزیراعلیٰ پنجاب سے حلف لیں گے، فیصلے کی کاپی فوری طور پر گورنر پنجاب، ڈپٹی اسپیکر اور چیف سیکرٹری کو بھیجی جائےسپریم کورٹ نے حمزہ شہباز کی جانب سے بطور وزیر اعلیٰ تقرریاں بھی کالعدم قرار دے دی ہیں۔

    بعد ازاں گورنر پنجاب نے حلف لینے سے انکار کر دیا تاہم صدر مملکت عارف علوی نے پرویز الہی سے عہدے کا حلف لیا-

  • ق لیگ اور پی ٹی آئی بتائیں ان کے مینڈیٹ کیسے چوری ہوئے؟ قمر زمان کائرہ

    ق لیگ اور پی ٹی آئی بتائیں ان کے مینڈیٹ کیسے چوری ہوئے؟ قمر زمان کائرہ

    لاہور: پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا کہ سیاسی معاملات عدالتوں میں جانے سے لامتناہی کیسز کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔

    باغی ٹی وی : پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ق لیگ کے ارکان نے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر ووٹ کاسٹ کیا ہے،کہا گیا عمران خان اور پی ٹی آئی کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا،کہا گیا ہے 20،کروڑ40کروڑ پیسہ چلا ہے-

    قمر زمان کائرہ نے کہا کہ عدالت نے ٹرسٹی وزیراعلیٰ کہا کہ جس کی آئین میں گنجائش نہیں ہے،چودھری شجاعت نے اپنی جماعت کو عمران خان سے اتحاد کرنے سے منع کردیا،پرویز الہٰی نے پچھلے الیکشن میں انتہائی غیر قانونی اور غیر آئینی کام کیا-

    انہوں نے کہا کہ تکنیکی بنیاد پر ق لیگ کے ووٹ مسترد ہوئے اور پرویز الہٰی کو شکست ہوئی،بہر حال عدالتی فیصلے کا احترام کرتے ہیں،ق لیگ اور پی ٹی آئی بتائیں ان کے مینڈیٹ کیسے چوری ہوئے،مینڈیٹ پارلیمانی پارٹی کا نہیں پارٹی سربراہ کا ہوتا ہے،ق لیگ کے ارکان نے پارٹی پالیسی سے ہٹ کر ووٹ ڈالا-

    انہوں نے کہا کہ حکمران اتحاد نے فل کورٹ ریفرنس سننے کا مطالبہ کیا ہے پارلیمان اور سیاستدانوں کا باقی اداروں سے کم احترام نہیں ہے پرویز الہٰی تھے جنہوں نے ہم سے اتحاد کر کے وزیر اعلیٰ کا امیدوار بننے پر آمادگی ظاہر کی اور ہم سے ڈیل کرنے کے بعد صبح تحریک انصاف کے ساتھ شامل ہو گئے۔

    انہوں نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ق لیگ آپ کے ساتھ اتحاد کرے تو اچھا اور ہمارے ساتھ کرے تو غلط۔ مسلم لیگ ق مرکز میں پہلے ہی اتحادی ہے اور تمام جماعتوں نے اپنی اپنی جماعتوں کے ساتھ رہ کر ووٹ دیا۔

    پیپلز پارٹی رہنما نے کہا کہ تکنیکی بنیاد پر ق لیگ کے ووٹ مسترد ہوئے اور پرویز الہٰی کو شکست ہوئی۔ عمران خان کو کچھ تو شرم و احساس کرنا چاہیے۔ پارلیمان ماں ہے اور سیاست سے چیزیں جنم لیتی ہیں۔ سیاسی معاملات عدالتوں میں جانے سے لامتناہی کیسز کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔

  • پنجاب اسمبلی کے اجلاس سے قبل پی ٹی آئی اورق لیگ کا اہم اجلاس طلب

    پنجاب اسمبلی کے اجلاس سے قبل پی ٹی آئی اورق لیگ کا اہم اجلاس طلب

    پنجاب اسمبلی کے اجلاس سے قبل مشاورت کے لیے پی ٹی آئی اور ق لیگ کا اہم اجلاس طلب کر لیا گیا۔

    باغی ٹی وی : پنجاب اسمبلی کا اہم اجلاس آج سہ پہر 3 بجے ہو گا اسمبلی کے اجلاس سے قبل پی ٹی آئی اور ق لیگ کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس طلب کر لیا گیا اجلاس میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب سے متعلق مشاورت کی جائے گی۔

    پنجاب اسمبلی کی 20 نشستوں پر ضمنی انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف 15 نشستوں پر کامیاب ہوئی ہے۔ مسلم لیگ ن چار جب کہ ایک نشست پر آزاد امیدوار کامیاب ہوا ہے جس کے بعد پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ق کے اتحاد نے پنجاب میں اپنا وزیراعلیٰ بنانے کے لیے مطلوب اراکین کی تعداد حاصل کر لی ہے۔

    واضح رہے کہ قبل ازیں سابق وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا تھا کہ 60،70 سالوں سے بند کمروں کے اندر پاکستان کے فیصلے ہوتے تھے، عمران خا ن نے کل تحریک انصاف کی کورکمیٹی کا اجلاس بلایا ہے، پیر کی سہ پہر تین بجے کور کمیٹی کے اجلاس کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے۔

    اسد عمر نے کہا تھا کہ ابھی تک جو نتائج آچکے ہیں اس میں بھاری اکثریت پی ٹی آئی کو ملی ہے، 22 جولائی کو بس ایک رسمی کارروائی رہ گئی ہے، مریم نواز کے پاس شکست تسلیم کرنے کے علاوہ کچھ نہیں تھا، مریم نواز کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہیں، شہباز شریف صرف اسلام آباد کے وزیراعظم رہ گئے ہیں وزیراعلیٰ پنجاب کیلئے پرویز الہٰی امیدوار ہیں اور رہیں گے، اس نظام میں نقصان ہی نقصان ہے، پاکستان کو سیاسی ہیجان سے نکال کر نئے الیکشن کی طرف جانا چاہئے۔