Baaghi TV

Tag: ق لیگ

  • ‏خان صاحب نے سب کے ساتھ ہاتھ کیا ہے،کس کو کچھ دیا نہیں،پرویز الٰہی

    ‏خان صاحب نے سب کے ساتھ ہاتھ کیا ہے،کس کو کچھ دیا نہیں،پرویز الٰہی

    لاہور: وزیراعظم عمران خان کے خلاف قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرائی گئی تحریک عدم اعتماد کے بعد سیاسی جوڑ توڑ کا سلسلہ جاری ہے اور اسی تناظر میں پاکستان مسلم لیگ (ق) کے رہنما اور پنجاب اسمبلی کے سپیکر چودھری پرویز الٰہی نے کہا ہے کہ اتحادیوں کا 100فیصد جھکاؤ اپوزیشن کی طرف ہے۔

    پنجاب اسمبلی کے سپیکر نے نجی ٹی وی سے اتحادیوں کے جھکاؤ سے متعلق بڑا انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان 100 فیصد مشکل میں ہیں، اتحادیوں کا 100فیصد جھکاؤ اپوزیشن کی طرف ہے، جھکاؤ کو ریورس کرنا عمران خان کی ذمہ داری ہے۔ خان صاحب نے سب کے ساتھ ہاتھ کیا ہے، کسی کو کچھ دیا نہیں، وزیراعلیٰ بنا تو تمام مسائل حل کر دوں گا۔اتحادیوں سے کیے گئے تمام وعدے پورے کریں گے، بڑے سرپرائز آنے والے ہیں، آصف زرداری کا دعویٰ درست، اپوزیشن کے پاس 172 سے زیادہ ووٹ ہیں۔

    ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت کو کچے اور پکے کا پتہ نہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے وفاقی وزیر برائے آبی وسائل مونس الٰہی سے کہا تھا پاکستان تحریک انصاف میں اپنی پارٹی میں ضم کر لو، یہ والی آفر بی اے پی پارٹی کو بھی کی گئی، یہ ناسمجھی والی سوچ ہے، مہنگائی، ساڑھے تین سال کی پرفارمنس کی وجہ سے حالات ان کے خراب ہوئے، چھوٹے ہسپتالوں میں مک مکا ہو رہا ہے، صحت کارڈ کا آڈٹ تو کرائیں پہلے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ حکومت میں عقل و دانش کا 100 فیصد فقدان نظر آرہا ہے، حکومت کے علاوہ تمام جماعتوں نے ہمیں پیشکش کی، حکومت کے گھبراہٹ کے فیصلے سامنے آ رہے ہیں، بس ایک ہی شخص گھبرایا ہوا پھر رہا ہے،پہلے حکومت اور پھر اپوزیشن جلسوں کے اعلان منسوخ کرے۔

    چودھری پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ تنہا نہیں سب اکٹھے فیصلے کرینگے، ہمارا فیصلہ ایم کیو ایم کی وجہ سے رکا ہوا ہے، ایم کیو ایم کے پیپلز پارٹی کے ساتھ مسائل ہیں، کل کی ملاقات میں آصف زرداری نے ایم کیو ایم کے 70 فیصد معاملات حل کردیئے ہیں، آصف زرداری اپوزیشن کے ضامن بنے ہوئے ہیں، لیگی صدر شہباز شریف کے ساتھ ملاقات جلد ہوگی۔

    انہوں نے کہا کہ اپوزیشن خان کوہٹانے کے لیے متحد ہے، یہ جو بھاگ دوڑ کر رہے ہیں یہ حکومت کے لیے پریشانی کی نشانی ہے، حکومت کو اپنے لوگوں سے خطرہ ہے، جہانگیر ترین گروپ عثمان بزدار کو ہٹا کر دم لے گا، ان کے ایڈوائزر تباہی پھیر رہے ہیں، شیخ رشید نے دل میں کیا گلا رکھا ہے پتا نہیں،وزیر داخلہ کے پاس تجربہ ہے ان کو خان صاحب کوسمجھانا چاہیے، جن کے پاس ایک ووٹ ان کے پاس وزیراعظم جا رہے ہیں، وفد بھیجنے کا وقت گزر گیا، ن لیگ سے سیاسی اور نظریاتی اختلاف ہے۔

    مسلم لیگ ق کے مصدقہ ذرائع کا کہنا ہے کہ جو بھی ہمیں وزارت اعلیٰ پنجاب کی پیشکش کرے گا ہم اس کا ساتھ دینگے۔ ذرائع نے بتایا کہ ق لیگ کی ن لیگ سے بھی بات چیت جاری ہے ن لیگ سے سیاسی اور نظریاتی اختلاف ہے تاہم خواہش ہے کہ معاملات طے ہوں۔ذرائع نے مزید بتایا کہ حکومت کے ساتھ معاملات طے ہوتے ہیں تو یہ بھی اچھی بات ہے لیکن اسمبلیوں کی مدت پوری ہونی چاہیے۔

    ق لیگ کا کہنا ہے کہ صرف وزارت اعلیٰ پنجاب ہی نہیں ہمارا موقف موجودہ اسمبلیوں کی مدت پوری کرنا بھی ہے اور معاملات طے کرنے کیلیے اسے ہمارے اس موقف کی حمایت کرنا ہوگیذرائع کا کہنا ہے کہ ق لیگ چاہتی ہے کہ جس سے جو بھی کمٹمنٹ کی جائے اس پر فوری عمل ہونا چاہیے اور اسمبلیوں کو اپنی مدت پوری کرنی چاہیے۔

    واضح رہے کہ ق لیگ کے ذرائع کے حوالے سے یہ خبر اس وقت آئی ہے جب ن لیگ کی جانب سے حمزہ شہباز کو اگلا وزیراعلیٰ پنجاب بنائے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

    حمزہ شہباز کے ترجمان عمران گورایا نے صحافی سے گفتگو کے دوران بتایا تھا کہ اگلے وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز ہونگے۔اسی حوالے سے حمزہ شہباز نے ترین گروپ کے رہنماؤں سے بھی ملاقات کی تھی جس میں عثمان بزدار کو ہٹانے پر اتفاق کیا گیا تھا۔

  • پرویزالہیٰ کو وزیراعلیٰ بنانے کی مخالفت کون کر رہا؟ سب پتہ چل گیا

    پرویزالہیٰ کو وزیراعلیٰ بنانے کی مخالفت کون کر رہا؟ سب پتہ چل گیا

    پرویزالہیٰ کو وزیراعلیٰ بنانے کی مخالفت کون کر رہا؟ سب پتہ چل گیا
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد کا سیاسی موسم گرم ہے

    ملاقاتوں کے سلسلے جاری ہیں، کون حکومت کا ساتھ دے گا کون اپوزیشن کا ، کچھ واضح نہیں پھر بھی سب کچھ واضح نظر آنا شروع ہو گیا ہے، اتحادیوں کے فیصلے انکے رویئے سب نظر آ رہے ہیں اپوزیشن کی بھی ملاقاتیں حکمرانوں کو کچھ پیغام دے رہی ہیں اور وزیراعظم کرسی بچانے کے لئے ڈی چوک پر جلسہ کرنے کا اعلان کر چکے ہیں

    سیاسی ملاقاتوں کا سلسلے کی کڑی سامنے آئی ہے، چودھری شجاعت اور پرویز الہٰی سے پی ٹی آئی رہنما یار محمد رند کی ملاقات ہوئی ہے ملاقات میں چودھری سالک،چودھری حسین الہٰی اور صوبائی وزیر عمار یاسر بھی شریک تھے ملاقات میں بلوچستان کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا

    قبل ازیں وفاقی وزیر برییگیڈئیر ریٹائرڈ اعجاز شاہ چوہدری برادران کی رہائش گاہ پرپہنچ گئے ،چوہدری پرویزالہی اورمونس الہی سے اعجاز شاہ کی ملاقات ہوئی، ملاقات میں سیاسی صورتحال اوراتحاد کے امورپر بات چیت کی گئی،چودھری پرویز الہیٰ کا کہنا تھا کہ سیاسی صورتحال پر مسلسل مشاورت سے گزر رہے ہیں،

    دوسری جانب مسلم لیگ ق اور تحریک انصاف کے درمیان دوریاں بڑھنے لگیں مسلم لیگ ق اور تحریک انصاف کے درمیان دوریاں بڑھنے کی وجہ سامنے آگئی مسلم لیگ ق کے مشاورتی اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آئی ہے،ق لیگ کا کہنا ہے کہ عمران خان سے دوریاں ان کے رویہ کی وجہ سے بڑھیں،عمران خان نے اقتدار میں آنے کے بعد کوئی رابطہ ہی نہیں رکھا، عمران خان اگر اقتدار سے گئے تو اپنے رویہ کی وجہ سے جائیں گے، عمران خان کا جلسے کرنا اور ایسے الفاظ استعمال کرنا مناسب بات نہیں،کون سی حکومت کو پاور شو کی ضرورت ہوتی ہے،آصف زرداری نے کہا پرویز الہی ٰکو وزیر اعلیٰ بنانا چاہتے ہیں،آصف زرداری نے واضح کہا کہ مجھے کچھ نہیں چاہیے، پرویز الہٰی کو وزیر اعلیٰ بنا دیں،پی ٹی آئی اور ن لیگ کے اندر کے لوگ پرویز الہٰی کو وزیر اعلی ٰبنانے کی مخالفت کر رہے ہیں،

    دوسری جانب حکومت نے اتحادیوں سے رابطوں کا ایک اور دورشروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے حکومتی شخصیات (ق) لیگ، ایم کیوایم اور بلوچستان عوامی پارٹی سے دوبارہ رابطے کریں گے وزیراعظم کی پرویز الٰہی سے ملاقات کا امکان ہے اور حکومتی شخصیات کی جانب سے دونوں کی ملاقات کرائے جانے کا امکان ہے جس کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ آج حکومتی شخصیات دوبارہ مسلم لیگ (ق) سے رابطہ کریں گی۔

    قبل ازیں وفاقی وزیر،ق لیگ کے رہنما مونس الہٰی کا تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کے بیٹے علی ترین سے ٹیلی فون پر رابطہ ہوا ہے، عون چوہدری نے علی ترین اورمونس الہٰی کی ٹیلی فون پر بات چیت کرائی جس میں وفاقی وزیر نے علی ترین سے ان کے والد جہانگیر ترین کی خیریت دریافت کی جب کہ دونوں کے درمیان ملکی سیاسی معاملات پر بھی گفتگو کی گئی

    واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع ہو چکی ہے اور اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ کئی پی ٹی آئی اراکین بھی ہمیں ووٹ دیں گے، وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع ہونے کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے بھی ڈی چوک پر میدان لگانے کا فیصلہ کیا ہے،پی ڈی ایم کی جماعتیں بھی ڈی چوک پر جلسہ کریں گی اور جلسہ عدم اعتماد والے روز ہو گا اس ضمن میں مشاورت جاری ہے ،تحریک انصاف نے بھی ڈی چوک پر جلسہ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے

    حکومت اپنے اتحادیوں کو اپوزیشن کیمپ کی طرف نہ دھکیلے،پرویز الہیٰ

    حفیظ شیخ میری سابق کابینہ کا حصہ تھے، میں یہ کام نہیں کرنا چاہتا، یوسف رضا گیلانی کا دبنگ اعلان

    لندن سے بانی متحدہ کو لاسکتا ہوں اور نہ ہی نوازشریف کو،شیخ رشید کی بے بسی

    بھٹو کو پھانسی ہوئی تو کچھ نہیں ہوا،یہ لوگ بھٹو سے بڑے لیڈر نہیں، شیخ رشید

    مقبوضہ کشمیر میں کسی دہشتگرد کے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، شیخ رشید

    بلاول جس دن پیدا ہوا عدم اعتماد پر ہی چل رہے ہیں، شیخ رشید

    عمران خان کا خطرناک ہونے کا پیغام کس کیلئے تھا؟ شیخ رشید نے بتا دیا

    فیصل واوڈا کی نااہلی،شیخ رشید کا اعلان،اپوزیشن کو بھی چیلنج دے دیا

    پشاور دھماکہ،وزیراعظم کو بریفنگ، ملزمان کی شناخت ہو چکی، شیخ رشید

    شیخ رشید یاد کرو وہ وقت…مونس الہیٰ نے کھری کھری سنا دیں

    پارٹی سے بیوفائی کرنیوالوں کو غدارلکھ کر پوسٹرز لگائیں گے،شہباز گل

    عمران خان لوگوں کی بجائے اپنے ایم این ایز کو اکٹھا کریں،خواجہ سعد رفیق کا چیلنج

    تحریک عدم اعتماد،اسلام آباد کا سیاسی موسم گرم،ملاقاتیں جاری

    زرداری اور بلاول لوگوں کوخریدنے سے باز رہیں گے تو بہترہوگا ،قریشی

    تحریک انصاف کا ڈی چوک پر جلسہ، تاریخ کا اعلان ہو گیا

    تحریک انصاف حکومت کے خلاف کوئی بیرونی سازش نہیں ہورہی،مریم اورنگزیب

  • عدم اعتماد:ق لیگ کاآج اہم اجلاس

    عدم اعتماد:ق لیگ کاآج اہم اجلاس

    لاہور: بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال میں ق لیگ کس کشتی میں سوار ہوگی، حتمی فیصلے کیلئے آج پھر اہم بیٹھک شیڈول ہے، مشاورتی اجلاس میں تحریک عدم اعتماد اور دیگر معاملات پر بات چیت ہوگی۔

    تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے فتح کے دعوے جاری ہیں، قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اور ق لیگ کے رہنما اور سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی کے درمیان آج اہم ملاقات ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ عدم اعتماد کی تحریک میں عالمی قوتیں ملوث ہیں لیکن پاکستان تحریک انصاف کے ایم این اے و اتحادی عمران خان کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے ہیں۔

    دوسری جانب وزیراعظم عمران خان کی جانب سے عوامی رابطہ مہم عروج پر ہے، وزیر اعظم آج حافظ آباد پہنچیں گے جہاں عوامی جلسے سے خطاب کریں گے۔ جلسے کے دوران وزیراعظم ترقیاتی پیکج کا بھی اعلان کریں گے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے 7 ارکان قومی اسمبلی کی مسلم لیگ (ق) کی قیادت سے خفیہ ملاقاتوں کا انکشاف ہوا ہے۔ان حکومتی ارکان قومی اسمبلی نے گزشتہ 3 روز میں (ق) لیگ کے صدر چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الٰہی سے ملاقات کی ہے۔

    ملاقات کے دوران حکومتی ایم این ایز نے (ق) لیگ کے ساتھ کھڑا ہونے کی یقین دہانی کرائی۔

  • ق لیگ کی حیثیت کیا ہے:جووزارت اعلیٰ مانگ رہی ہے:ن لیگی ارکان اسمبلی بھی ڈٹ گئے

    ق لیگ کی حیثیت کیا ہے:جووزارت اعلیٰ مانگ رہی ہے:ن لیگی ارکان اسمبلی بھی ڈٹ گئے

    لاہور: ق لیگ کی حیثیت کیا ہے:جووزارت اعلیٰ مانگ رہی ہے:ن لیگی ارکان اسمبلی بھی ڈٹ گئے ،اطلاعات کے مطابق ق لیگ کو اپوزیشن کی جانب سے وزارت اعلیٰ کی پیشکش پر ن لیگ ارکان اسمبلی نے تحفظات کا اظہار کردیا۔

    ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی عابد رضا سمیت 7 ارکان اسمبلی نے ق لیگ کو وزارت اعلیٰ کی پیشکش پر تحفظات کا اظہار کیا۔ن لیگی ارکان کا کہنا ہے کہ ق لیگ کو کس حیثیت سے وزارت اعلیٰ کی پیشکش کی گئی ہے۔

    لیگی ارکان کا کہنا ہے کہ ن لیگ کا حصہ ہیں، ق لیگ کو کیسے وزارت اعلیٰ کی پیشکش کی گئی، پنجاب میں ن لیگ بڑی جماعت ہے اور ق لیگ چھوٹی جماعت ہے۔ن لیگ کے ارکان کا کہنا ہے کہ عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب ہمارا ہونا چاہیے۔

    واضح رہے کہ ق لیگ کو اپوزیشن کی جانب سے عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد وزارت اعلیٰ کی پیشکش کی گئی تھی۔

    یاد رہے مسلم لیگ ق کے اراکین قومی اسمبلی کا اجلاس کل اسلام آباد میں طلب کرلیا گیا ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس چوہدری شجاعت حسین کی رہائشگاہ پر3 بجے ہوگا۔اجلاس کی صدارت چوہدری پرویز الہٰی کریں گے ، جس میں اراکین قومی اسمبلی اورچوہدری شجاعت بھی شریک ہوں گے۔

    اجلاس میں موجودہ سیاسی صورتحال اورتحریک عدم اعتمادپرغورہوگا اور مسلم لیگ ق وزیراعظم کی تحریک عدم اعتمادسےمتعلق فیصلہ کرےگی۔رہے پارلیمانی پارٹی نے فیصلے کے تمام اختیارات چوہدری پرویزالہٰی کو دے رکھے ہیں۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے قومی اسمبلی میں متحدہ اپوزیشن کی طرف سے جمع کروائی گئی تحریک عدم اعتماد سے قبل پاکستان مسلم لیگ ق کے رہنما، وفاقی وزیر مونس الٰہی اور وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید آمنے سامنے آ گئے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک بیان میں مونس الٰہی نے شیخ رشید کو دو ٹوک جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں ان کی عزت کرتا ہوں لیکن یہ بھول رہے ہیں اسی جماعت کے لیڈران کے بزرگوں سے آپ اپنی زمانہ طالب علمی میں پیسے لیا کرتے تھے۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل وزیرداخلہ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کی طرح نہیں کہ 5 سیٹوں پر صوبے کی وزارت اعلیٰ کے لیے بلیک میل کریں۔

    کوئٹہ میں پریس کانفرنس کے دوران صحافی کے سوال پر شیخ رشید نے کہا کہ وہ پنجاب کی سیاست کی بات کررہے ہیں، عمران خان کے ساتھ سائے کی طرح کھڑا ہوں۔

    وزیر داخلہ نے کہا کہ ارکان کی خرید و فروخت شروع کردی گئی ہے، کبھی نہیں سوچا تھا کہ ممبر کا اتنا ریٹ لگے گا، یہ کتنے ہی پیسے لگائیں عمران خان پانچ سال پورے کریں گے۔

    اپوزیشن کو صلح کی پیشکش کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ ہمیں صلح صفائی کی طرف جانا چاہیے، مل بیٹھ کر مذاکرات سے کوئی حل نکالنا چاہیے، الیکشن میں ایک سال رہ گیا ہے، یہ نہ ہو آپ 10 سال لائن میں لگے رہیں۔

    خیال رہے کہ وزیر داخلہ کی طرف سے پانچ سیٹوں کا بیان پاکستان مسلم لیگ ق کی طرف اشارہ تھا، ق لیگ کے پنجاب میں 10 اراکین اسمبلی ہیں جبکہ قومی اسمبلی میں پانچ ایم این ایز ہیں۔

  • شیخ رشید یاد کرو وہ وقت…مونس الہیٰ نے کھری کھری سنا دیں

    شیخ رشید یاد کرو وہ وقت…مونس الہیٰ نے کھری کھری سنا دیں

    شیخ رشید یاد کرو وہ وقت…مونس الہیٰ نے کھری کھری سنا دیں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر مونس الہیٰ نے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کو کھری کھری سنا دیں

    ق لیگ کے رہنما، وفاقی وزیر مونس الہیٰ نے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ اور وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں شیخ صاحب کی عزت کرتا ہوں لیکن یہ کچھ بھول رہے ہیں،شیخ رشید اپنی سٹوڈنٹ لائف میں ہمارے بزرگوں سے پیسے لیا کرتے تھے،

    مونس الہیٰ نے شیخ رشید کی میڈیا ٹاک کی ویڈیو بھی شیئر کی جس میں شیخ رشید نے ق لیگ پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں ان لوگوں کی طرح نہیں پانچ پانچ ووٹیں ہیں اور صوبے کی چیف منسٹری کے لئے بلیک میل کر رہے ہیں

    کوئٹہ میں میڈیا ٹاک کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے ق لیگ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 5 ووٹوں کی پارٹیاں ہیں اور صوبے کی وزارت اعلیٰ کے لیے بلیک میل کر رہی ہیں ،شیخ رشید نے مریم نواز کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ مریم نواز میری بیٹیوں کی طرح ہے۔،بلاول کے خلاف مجھ سے کوئی سوال نہ کریں، میں خفا ہو کر چلا جاؤں گا، انصار الاسلام والے الیکشن والے دن آکر بتائیں، لگ پتہ جائے گا،

    دوسری جانب وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع ہونے کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے بھی ڈی چوک پر میدان لگانے کا فیصلہ کیا ہے،پی ڈی ایم کی جماعتیں بھی ڈی چوک پر جلسہ کریں گی اور جلسہ عدم اعتماد والے روز ہو گا اس ضمن میں مشاورت جاری ہے ،تحریک انصاف نے بھی ڈی چوک پر جلسہ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے

    دوسری جانب صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) پنجاب رانا ثناء اللّٰہ خاں نے وزیر داخلہ شیخ رشید کے بیان کو گھبراہٹ قرار دے دیا اور کہا کہ پنڈی کا شیطان ”بغل میں چھری، منہ میں رام رام“ کردار ہے پارلیمنٹ پر حملے کے بعد پارلیمنٹ لاجز پر حملہ اور ایم این ایز کو اغوا کرانے کے بعد صلح کا بیان گھبراہٹ ہے "باس” کو سب سے پہلے دغا کی چھری چپڑاسی نے مارنی ہے "کچل دوں گا” کی دھمکیاں دینے والے غنڈہ گرد کو مولانا فضل الرحمان نے جو ٹریلر دکھایا، تو اس کے منہ سے صلح صفائی کے لفظ نکلنا شروع ہوگئے گندگی اور کچرے کی بدبو بتاتی ہے کہ یہ گند ہے، اس کی صفائی ہی علاج ہوتا ہے،”مار دو، مر جائو، جلاؤ، گھیراؤ” کے اعلانات کرنے والے غنڈہ گرد کی اصلیت سب کو پتہ ہے تحریک عدم اعتماد آنے کے بعد باس اور چپڑاسی ہر روز ایک نئی بونگی مارتے ہیں، قوم کو جلد بونگوں سے نجات ملنے والی ہے چپڑاسی ٹھیک کہتا ہے، اس کا باس جیل میں پانچ سال پورے کرے گا، ان شاءاللہ

    وزیراعظم نے کہا تھا کہ تین ماہ…..شیخ رشید بھی مان گئے

    طورخم ،چمن بارڈر پرسکون،پاکستانیوں کو واپس لائینگے،اشرف غنی کے دل میں فتور تھا،شیخ رشید

    بھارت کو افغانستان میں منہ کی کھانی پڑی،شیخ رشید نے کیا بڑا اعلان

    بلاول کیخلاف بات نہیں سن سکتا،مولانا کو اب یہ کام کرنا چاہئے، شیخ رشید

    وہی ہوا جس کا انتظار تھا، وزیراعظم ہاؤس سے بڑا استعفیٰ آ گیا

    شہزاد اکبر کو بھاگنے نہ دیا جائے،اگلا استعفیٰ کس کا آئے گا؟ مبشر لقمان کا انکشاف

    چودھری شجاعت حسین نے وزیراعظم کومشیروں سے خبردار کر دیا

    حکومت اپنے اتحادیوں کو اپوزیشن کیمپ کی طرف نہ دھکیلے،پرویز الہیٰ

    حفیظ شیخ میری سابق کابینہ کا حصہ تھے، میں یہ کام نہیں کرنا چاہتا، یوسف رضا گیلانی کا دبنگ اعلان

    لندن سے بانی متحدہ کو لاسکتا ہوں اور نہ ہی نوازشریف کو،شیخ رشید کی بے بسی

    بھٹو کو پھانسی ہوئی تو کچھ نہیں ہوا،یہ لوگ بھٹو سے بڑے لیڈر نہیں، شیخ رشید

    مقبوضہ کشمیر میں کسی دہشتگرد کے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، شیخ رشید

    بلاول جس دن پیدا ہوا عدم اعتماد پر ہی چل رہے ہیں، شیخ رشید

    عمران خان کا خطرناک ہونے کا پیغام کس کیلئے تھا؟ شیخ رشید نے بتا دیا

    فیصل واوڈا کی نااہلی،شیخ رشید کا اعلان،اپوزیشن کو بھی چیلنج دے دیا

    پشاور دھماکہ،وزیراعظم کو بریفنگ، ملزمان کی شناخت ہو چکی، شیخ رشید

  • ‏فضل الرحمان،چودھری برادران اور شہبازشریف معاہدے کے  ضامن بنیں،  ایم کیو ایم کی شرط

    ‏فضل الرحمان،چودھری برادران اور شہبازشریف معاہدے کے ضامن بنیں، ایم کیو ایم کی شرط

    متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ساتھ دینے کیلئے متحدہ اپوزیشن کے سامنے مطالبات رکھ دیے۔

    ذرائع کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ نے شہری سندھ سے متعلق اہم مطالبات کیے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ شہری سندھ کیلئے نوکریوں میں 40فیصد کوٹہ، بااختیار بلدیاتی نظام اور صوبائی مالیاتی کمیشن بنایا جائے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کا مؤقف ہے کہ معاہدہ تحریری ہو، مطالبات پر متحدہ اپوزیشن ضامن بنے۔

    ذرائع کے مطابق متحدہ نے شرط عائد کی ہے کہ مولانا فضل الرحمان، چوہدری برادران اور شہباز شریف معاہدے کے ضامن بنیں۔

    ساڑھے تین سال بعد اب حکومت پر بھروسہ نہیں ہے، ایم کیو ایم
    دوسری جانب جیو نیوز کے پروگرام آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے سینیئر رہنما وسیم اختر کا کہنا تھا کہ ساڑھے تین سال بعد اب حکومت پر بھروسہ نہیں ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اگر مسلم لیگ ن اور مولانا فضل الرحمان ضمانت دیں تو آصف زرداری کے وعدے پر اعتبار کرکے اپوزیشن کے ساتھ جاسکتے ہیں۔

    خیال رہے کہ گزشتہ روز متحدہ قومی موومنٹ کے وفد نے اسلام آباد میں اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات کی تھی۔

  • کیا حکومت نے ہمیں بچہ سمجھا ہوا ہے؟  ق لیگی رہنما برس پڑے

    کیا حکومت نے ہمیں بچہ سمجھا ہوا ہے؟ ق لیگی رہنما برس پڑے

    کیا حکومت نے ہمیں بچہ سمجھا ہوا ہے؟ ق لیگی رہنما برس پڑے

    ترین گروپ کے اہم رکن سے اعلی ٰحکومتی سیاسی شخصیت کا رابطہ ہوا ہے
    حکومتی رکن نے ترین گروپ کے رکن سے کہا ہے کہ پنجاب میں تبدیلی پر غور ہو رہا ہے،ترین گروپ ساتھ دے،‏ ترین گروپ نے باہمی مشاورت سے فیصلہ کر کے حکومت سے رابطہ کرنے کا عندیہ دے دیا،‏پنجاب میں تبدیلی وفاق میں تحریک اعتماد کی کامیابی اور ناکامی کے صورت میں ہوگی

    دوسری جانب ق لیگ کے رہنما طارق بشیر چیمہ کا کہنا ہے کہ وزرا نے بتایا وزیراعظم عثمان بزدار کو بدلنے پر راضی ہوگئے ہیں ہم نے وزرا سے سوال کیا کہ ایسا کب ہوگا جس پر وزرا نے بتایا کہ پہلے وفاق کی عدم اعتماد گزرجائے ،طارق بشیر چیمہ کا کہنا تھا کہ میں نے کہا کہ کیسے یقین کرلیں عدم اعتماد کے بعد حکومت کمٹمنٹ پورا کرتی ہے کیا حکومت نے ہمیں بچہ سمجھا ہے اپوزیشن سے ہمیں وزیراعلیٰ کی پیشکش ہے حکومت سے لالی پاپ ہے وزیراعظم چیزیں سیریس لیں انہوں نے انڈر16 ٹیم میدان میں اتاری ہے ہمیں 48 گھنٹوں میں فیصلہ کرنا ہے پارٹی میں حتمی فیصلے کیلئے دباؤبڑھ رہا ہے

    قبل ازیں ترین گروپ کے عون چوہدری کی رہائشگاہ پر اجلاس کے بعد سعید اکبر نوانی اور دیگر رہنماوں نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی میں ہیں لیکن پارٹی میں کچھ اختلافات کی بنیاد پر ہم نے ترین گروپ جوائن کیا کیونکہ جہانگیر ترین کے ساتھ زیادتی ہو رہی تھی، ہمارا موقف بعد میں درست ثابت ہوا، موجودہ حالات میں وزیراعظم کو جلد ادراک ہو گا، وزیراعظم کے گرد مشیر پارٹی حکومت کا بھلا نہیں کررہی۔

    عون چوہدری کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے گرد بیٹھا کوئی نا کوئی اپنا غصہ نکالنے کی کوشش کر رہا ہے ہمیں ایسے حالات سے دبایا نہیں جا سکتا ہمارے اصولی موقف کو سن کر یا ہماری بات مان لی جائے یا ہمیں منا لیا جائے انتقام یا پولیس دکھانے سے معاملات سلجھتے نہیں ہیں ہم کسی سے بھی سیاسی مذاکرات کرنے کے لیے تیار ہیں ہمارے کاروبار بند ہوئے تو اسمبلی بھی بند ہو جائے گی

    وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار سے رکن قومی اسمبلی خرم شہزاد اور رکن پنجاب اسمبلی کرنل (ر) غضنفر عباس شاہ کی ملاقات ہوئی ہے،ملاقات میں عمومی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، ارکان اسمبلی نے وزیراعلیٰ عثمان بزدار پر اعتماد کا اظہار کیا، وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ ہم سب ایک ہیں اور ایک رہیں گے۔ذاتی مفادات کی خاطر سیاست کرنا ملک سے دشمنی کے مترادف ہے۔ تحریک عدم اعتماد کے ذریعے اپوزیشن نے اپنے لئے گڑھا کھود لیا ہے۔ تحریک عدم اعتماد اپوزیشن کا کبھی نہ پورا ہونے والا خواب ثابت ہوگا۔ اپوزیشن کی منفی سیاست تحریک عدم اعتماد کے ساتھ ہی اپنے انجام کو پہنچے گی۔ عوام وزیراعظم عمران خان سے محبت کرتے ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے اپنی ٹیم کی بدولت ملک کو بحرانوں سے نکال کر درست سمت پر گامزن کیا ہے۔

    دوسری جانب وفاقی وزیر مراد سعید کا کہنا ہے کہ ‏تحریک عدم اعتماد کے ایک دن پہلے بڑا جلسہ کریں گے ‏عمرا ن خان اقتدار میں آئے تو سب سے پہلے قوم کی خودمختاری کی بات کی عمران خان عوام کے لیے ساری دنیا سے لڑ رہےہیں،عمرا ن خا ن دنیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کربات کرتے ہیں عمران خان نے یو ین میں مسلمانوں کی مشکلات پر بات کی ،فضل الرحمان نے کہا عمران خان نے مغرب سے متعلق کیسے ایسی بات کی،

    واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع ہو چکی ہے عدم اعتماد اپوزیشن جماعتوں نے ملکر جمع کروائی ہے،گزشتہ روز اسمبلی سیکرٹریٹ میں عدم اعتماد جمع کروانے کے بعد اپوزیشن قائدین مولانا فضل الرحمان، شہبا زشریف، آصف زرداری نے مشترکہ پریس کانفرنس کی بعد ازاں پیپلز پارٹی کے لانگ مارچ میں ڈی چوک میں اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی

    عمران خان کا پیغام پہنچایا گیا تو علیم خان نے کیا دیا جواب؟

    آجکی میٹنگ جہانگیر ترین کے گھر کیوں رکھی؟ علیم خان کا بڑا اعلان

    بزدار کی کرسی بچانے کی بھی کوششیں جاری،وزراء متحرک

    تحریک عدم اعتماد 48 گھنٹے سے پہلے آجائے گی،مولانا فضل الرحمان

    علیم خان کی لندن روانگی طے،نواز شریف سے ہو گی ملاقات ؟ِ

    اپوزیشن تیار،وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک جمع

    عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد کے تمام معاملات طے ہوچکے

    جمہوریت بہترین انتقام ہے ،سلیکٹڈ کا وقت ختم ،بلاول

    اسلام آباد کا سیاسی موسم گرم،شہباز شریف کی سراج الحق سے ملاقات

    بزدار کیخلاف عدم اعتماد،پرویز الہیٰ سے ملنے اہم شخصیات پہنچ گئیں

    بزدار بھی کرسی بچانے کیلئے متحرک، بڑا فیصلہ کر لیا

    ایمپائراسی طرح نیوٹرل رہا تو بڑے بےآبرو ہوکر جانا ہوگا،اہم شخصیت کا دعویٰ

    صبربھائی، ابھی کچھ دن ہیں،مریم نوازنےعمران خان کو ٹویٹر پرٹیگ کر کےایسا کیوں کہا؟

    ایم کیو ایم وفد کی آصف زرداری سے ملاقات طے

    عدم اعتماد جمع ہونیکے بعد اسلام آباد کا سیاسی موسم گرم،اہم ملاقاتیں جاری

    23 سے 30 مارچ اہم ہفتہ ،پنجاب کی سیاست پر بات نہیں کر سکتا، شیخ رشید

    وفاق سے قبل پنجاب میں تبدیلی ؟ بزداربھی کرسی بچانے میں مصروف

    حکومتی اتحادی جماعت کا وفد آصف زرداری سے ملنے پہنچ گیا

    اپوزیشن کے احتجاج کے باوجود وزیراعظم عمران خان پر اعتماد کی قرارداد منظور

    آنکھیں کھول کے دیکھو!تمھاری جماعت کے بخیے ادھڑ رہے ہیں،مریم نواز

    تحریک انصاف کا ٍڈی چوک پر پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے جلسے کا اعلان

    ترین گروپ کی جانب سے وزیراعلیٰ کا امیدوار کون؟

  • عدم اعتماد:ن لیگ کا38 اورسینئرلیگی رہنما 16حکومتی ارکان کی حمایت کا دعویٰ:سچاکون؟دعووں میں تضادکیوں؟

    عدم اعتماد:ن لیگ کا38 اورسینئرلیگی رہنما 16حکومتی ارکان کی حمایت کا دعویٰ:سچاکون؟دعووں میں تضادکیوں؟

    لاہور:عدم اعتماد:ن لیگ کا 38 حکومتی ارکان اورسینئرلیگی رہنما 16 حکومتی ارکان کی حمایت کا دعویٰ:سچاکون؟متحدہ اپوزیشن کی طرف سے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کے معاملے پر مسلم لیگ ن نے 38 حکومتی ارکان اسمبلی کی حمایت ملنے کا دعویٰ کر دیا۔لیکن دوسری طرف لیگی رہنما کے متضاد دعوے نے ن لیگ کے اندرتضاد کی تصدیق کردی ہے

    ذرائع کے مطابق 38 حکومتی ارکان اسمبلی کی حمایت ملنے کی فہرست سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف کو ارسال کر دی گئی۔ ن لیگ نے 10 ارکان کو آئندہ الیکشن میں پارٹی ٹکٹ دینے کی یقین دہانی کروا دی ہے۔

    مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما نے دعویٰ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ حکومت کے 16 ارکان قومی اسمبلی ہمارے ساتھ ہیں۔

    سینئر لیگی رہنما نے دعویٰ کیا کہ مسلم لیگ ن نے ہم خیال حکومتی ارکان کو 3 مراحل میں تقسیم کر دیا ، پہلے مرحلے میں وہ ارکان ہیں جو حکومتی پالیسوں سے دلبرداشتہ ہیں۔ دوسرے مرحلے میں حکومت کا ساتھ چھوڑنے کی سوچ رکھنے والے ارکان شامل ہیں۔ تیسرے فیز میں دیکھو اور انتظار کرو کی سوچ رکھنے والے ارکان ہیں۔

    دوسری طرف اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد کا مسودہ تیار کرلیا۔ تحریک پر 80 سے زائد اپوزیشن اراکین کے دستخط ہیں۔ساتھ ہی اس وقت یہ بھی اطلاعات ہیں کہ اگر اپوزیشن کے پاس تعداد پوری ہوتی تو وہ دعوے کے مطابق ہی دستخط کا ثبوت پیش کردیتے ، اس لیے ابھی قبل ازوقت کہنا یا دعویٰ کرنا ایک سیاسی چال ہی لگتی ہے

    ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی، ن لیگ، جے یو آئی ف، اے این پی، بی این پی مینگل اور دیگر کے دستخط ہیں۔ ملک اقتصادی زبوں حالی کا شکار ہے۔ ملک کو معاشی بحرانوں سے نکالنے کا کوئی روڈ میپ نہیں۔ مجوزہ مسودے کے مطابق ملک میں سیاسی عدم استحکام اور غیر یقینی صورتحال ہے، خارجہ پالیسی مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے۔

    مجوزہ مسودے میں کہا گیا کہ قائد ایوان اس ایوان کی اکثریت کا اعتماد کھو چکے ہیں، مذکورہ بالا صورتحال کے تناظر میں قائد ایوان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی جاتی ہے۔ اپوزیشن نے اسمبلی اجلاس بلانے کی ریکوزیشن بھی تیار کر رکھی ہے۔ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے چیمبر کو الرٹ کر دیا گیا۔ تحریک عدم اعتماد اور ریکوزیشن کسی بھی وقت جمع کروائی جا سکتی ہے۔

    دوسری طرف اکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ عمران خان کے پاس 5 دن کی ڈیڈ لائن ہے خود مستعفی ہوجائیں، اگرغیرت ہے تو وزیراعظم اسمبلی توڑکرہمارا مقابلہ کریں۔اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو کی یہ مودبانہ درخواست ہی بتا رہی ہے کہ متحدہ اپوزیشن کے پاس مطلوبہ تعداد پوری نہیں ہے

    پیپلز پارٹی کا لانگ مارچ اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہے، بلاول بھٹو کی قیادت میں مارچ بہاولپور پہنچ چکا ہے۔ چنی گوٹھ میں انہوں نے جیالوں سے خطاب کیا۔

  • عمران خان بالکل بھی گھبرائےہوئےنہیں:اللہ خیر   کریں گے:صحافی کاسوال:چوہدری پرویزالٰہی کاخوبصورت جواب

    عمران خان بالکل بھی گھبرائےہوئےنہیں:اللہ خیر کریں گے:صحافی کاسوال:چوہدری پرویزالٰہی کاخوبصورت جواب

    لاہور:وزیراعظم عمران خان بالکل بھی گھبرائےہوئےنہیں:اللہ خیرکریں گے:صحافی کےسوال پرچوہدری پرویزالٰہی کاجواب ،اطلاعات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ق کے رہنما اور سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی نے کہا ہے کہ عمران خان بالکل بھی گھبرائے ہوئے نہیں ہیں۔صحافی کے سوال کے جواب میں معروف جملہ اللہ خیرکریں‌گے ادا کرکے چوہدری پرویز الٰہی نے سب قیاس ارائیاں ختم کردیں

    صحافی کی طرف سے سوال پوچھا گیا کہ کیا آپ کا بھی وزیراعظم عمران خان کو گھبرانا نہیں ہے کا پیغام ہے؟ جس پر پرویز الہی نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ عمران خان بالکل بھی گھبرائے ہوئے نہیں ہیں۔ ہانڈی میں سامان چلا گیا، دھواں اٹھنے کے بعد پہلا ابالا آتا ہے۔ پہلا ابالا آ جائے پھر آپ کو بتائیں گے۔

    کیا تحریک عدم اعتماد میں سے کچھ نکلے گا؟ کے سوال پر جواب دیتے ہوئے سپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ اتنی بڑی ہانڈی چڑھی ہے کچھ تو نکلے گا، اگلے 48 گھنٹوں سے متعلق مولانا فضل الرحمن ہی بتا سکتے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ عمران خان سے ملاقات کے دوران تحریک عدم اعتماد پر کوئی بات نہیں ہوئی، وزیراعظم نے مہنگائی کی روک تھام کے لیے بہت اچھے اقدامات کیے ہیں، پٹرول کی قیمت میں کمی سے بہت فائدہ ہو گا، بجلی کی قیمتیں بھی نیچے آئی ہیں۔

  • تحریک عدم اعتماد پر ق لیگ مفت ووٹ نہیں دے گی،بڑی آفر کرنا پڑے گی ،بلاول بھٹو

    تحریک عدم اعتماد پر ق لیگ مفت ووٹ نہیں دے گی،بڑی آفر کرنا پڑے گی ،بلاول بھٹو

    چیئر مین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ وزیراعظم کو ہٹانے کا جمہوری طریقہ عدم اعتماد کی تحریک ہے تحریک عدم اعتماد پر ق لیگ مفت ووٹ نہیں دے گی،بڑی آفر کرنا پڑے گی۔

    باغی ٹی وی : چیئر مین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کو ہٹانے کا جمہوری طریقہ عدم اعتماد کی تحریک ہے پیپلزپارٹی وزیراعظم کو عہدے سے ہٹانے کے لیے جمہوری طریقہ ہی اپنائے گی یہ خوش آئند ہے کہ اپوزیشن کی تمام جماعتیں عدم اعتماد پر متفق ہیں ہم بڑے عرسے سے تحریک عدم اعتماد سے متعلق کام کررہے ہیں ۔عدم اعتماد سے عمران خان کو وزیراعظم کے عہدے سے ہٹائیں گے ۔

    اسلام آباد پہنچ کرحساب لیں گے:بلاول بھٹو کا گھوٹکی میں خطاب

    بلاول زرداری نے کہا کہ یوسف رضا گیلانی کے انتخاب کے وقت ہم نے حکومت کو ٹریلر دکھا یا تھا وزیراعظم کواس بار بھی ایسے ہی شکست دیں گےجیسے یوسف رضا گیلانی کو سینیٹربنا کردی تھی امید ہے عدم اعتماد سے عمران خان کو ایک بار پھر پارلیمان میں شکست دیں گے-

    انہوں نے حکومتی اتحادیوں سے رابطے کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کون کون ہم سے رابطہ کر رہا ہے وقت آنے پر سب کارڈ سامنے لائیں گےتحریک عدم اعتماد پر ق لیگ مفت ووٹ نہیں دے گی،بڑی آفر کرنا پڑے گی۔

    ان کا کہنا ہے کہ عمران خان کو رخصت کرنے کے بعد آنے والا سیٹ اپ مختصر مدت کا ہوگا جس کا مقصد شفاف انتخابات ہوگا ہر گزرتا ایک ایک دن عمران خان کے لیے مشکل ہوتا جارہاہے ۔

    تھر کول پلانٹ میں دھماکہ،5 افراد زخمی

    قبل ازیں بلاول بھٹو زرداری نے کہا تھا کہ سلیکٹڈ اور کٹھ پتلی نظام کو ختم کرنا ہوگا۔ملک پر کٹھ پتلی حکومت مسلط، الٹی گنتی شروع ہوچکی، جیالوں کا لشکر اسلام آباد پہنچ کر ان سے حساب لے گا گھوٹکی میں عوامی لانگ مارچ سے خطاب میں پی پی چیئرمین نے کہا کہ ہم پنجاب میں داخل ہورہے ہیں، اب تو دما دم مست قلندر ہوگا، وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد لانے کا وقت آگیا۔

    عدم اعتماد ق لیگ، ایم کیو ایم سمیت دیگر اتحادیوں کے بغیر بھی ہوجائے گی، شاہد خاقان عباسی

    انہوں نے کہا تھا کہ پوری دنیا کو نظر آئے گا، کون عوام کے ساتھ اور کون سلیکٹڈ چور کے ساتھ کھڑا ہے، جمہوری اور انسانی حقوق پر ڈاکہ مارنے والے کو جانا ہوگا، جس نے جیب، پیٹ اور ووٹ پر ڈاکا مارا، اسے برداشت نہیں کرسکتے یہ تبدیلی نہیں تباہی ہے یہ نیا پاکستان نہیں مہنگا پاکستان ہے، کٹھ پتلی اور سلیکٹڈ نے ہر آدمی کی زندگی مشکل بنادی۔

    اُن کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی ایم ایف بجٹ کے بعد انہوں نے عزم کرلیا تھا، سلیکٹڈ کو اس صوبے سے ایک ووٹ نہیں ملنا چاہیے، عمران خان کو گھوٹکی میں اپنی پہلی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

    ٹیلی کام محصولات 2021ء میں بڑھ کر644 ارب روپے ہوگئے ہیں،پی ٹی اے