Baaghi TV

Tag: لاؤڈ اسپیکر

  • گلی محلوں میں لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے اشیا فروخت کرنے والوں کے خلاف بڑا حکم

    گلی محلوں میں لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے اشیا فروخت کرنے والوں کے خلاف بڑا حکم

    راولپنڈی کی عدالت نے گلی محلوں میں سبزی، پھل اور دیگر اشیا فروخت کرنے کے لیے لاؤڈ ا سپیکر کے استعمال پر پابندی عائد کردی اور خلاف ورزی کی صورت میں مقدمات درج کرنے کا حکم جاری کردیا ہے۔

    راولپنڈی کی مقدمی عدالت میں لاؤڈ اسپیکر پر سبزیاں اور پھل بیچنے والوں کیخلاف دائر مقدمے کی سماعت ہوئی ،ایڈیشنل سیشن جج مقصود قریشی نے سماعت کی،عدالت نے سینئر وکیل انوار ڈار کی جانب سے دائر درخواست کو منظور کیا جبکہ ایڈیشنل سیشن جج نے خود اس کا نوٹس بھی لیا تھا۔

    ایڈیشنل سیشن جج مقصود قریشی نے گلی محلوں میں لاؤڈ اسپیکر پر اشیاء فروخت والوں خلاف مقدمات حکم جاری کیا اس کے علاوہ عدالت نے سینئر وکیل انوار ڈار کی درخواست منظور کر لی۔

    درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیاکہ صبح سویرے سے رات گئے تک ہاکرز لاؤڈ اسپیکر پر اپنی اشیا فروخت کرتے ہیں، جس سے رہائشی علاقوں میں شور اور نیند میں خلل پیدا ہوتا ہے حکومت پہلے ہی لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر پابندی لگا چکی ہے، تاہم خلاف ورزی جاری ہے۔

    عدالت نے لاؤڈ اسپیکر پر گلی محلوں اشیاء فروخت پر پابندی لگا دی،ایڈیشنل سیشن جج نے کہاکہ شہری علاقوں میں گلی محلوں میں لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے دکانداری کی اجازت نہیں دی جائے گی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں گے۔

  • بھارت : اذان دینے پرمساجد کوجرمانہ ادا کرنے کا حکم

    بھارت : اذان دینے پرمساجد کوجرمانہ ادا کرنے کا حکم

    بھارتی ریاست اتراکھنڈ میں لاؤڈ اسپیکر پر اذان دینے پر 7 مساجد کو پانچ پانچ ہزار روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی: بھارتی خبررساں ادارے”انڈیا ٹو ڈے” کے مطابق ریاست اتراکھنڈ کے علاقے ہریدوار میں ہائیکورٹ نے لاؤڈ اسپیکر پر بلند آواز میں اذان دینے پر جامع مسجد ہریدوار، عباد اللہ ہتلہ (ککر والی) مسجد، بلال مسجد، صابری جامع مسجد اور دیگر 3 مساجد پر پر جرمانہ عائد کردیا۔

    فیفا ورلڈ کپ ٹرافی جیتنے پر خراج تحسین،کسان نے مکئی کے کھیت میں میسی کی تصویر بنا دی

    مساجد کی انتظامیہ کو پانچ ہزار فی مسجد جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ایس ڈی ایم پورن سنگھ رانا کی جانب سے کی گئی مساجد کی انتظامیہ نے سماعت کا بائیکاٹ کیا تھا۔

    ایس ڈی ایم رانا نے کہا کہ اتراکھنڈ ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق لاؤڈ اسپیکر کے لیے آواز کی سطح کی حد مقرر کی گئی ہے چند شکایات پر کاروائی کی گئی ہے-

    دوسری جانب مسلم عالم محمد عارف نے کہا کہ ایک میٹنگ میں سب نے آواز کو کم رکھنے کو تسلیم کیا تھااس میں کوئی ہرج نہیں ہے لیکن شور شرابہ اذان سے نہیں بلکہ شادی بیاہ، گانے بجانےگاڑیوں کے ہارن وغیرہ سےہوتا ہے شادیوں میں ڈی جے صبح 1 بجے تک موسیقی بجاتے ہیں پولیس اس قانون کا اطلاق صرف مساجد پر کرتی ہے دیگر کو چھوڑ دیتی ہیں۔ ہم چالان بھر دیں گے اور لاؤڈ اسپیکر کی آواز کم کرنے کا انا کا مسئلہ نہیں بنائیں گے۔

    واضح رہے کہ اتر اکھنڈ میں اذان کے لیے لاؤڈ اسپیکر کی آواز کی سطح کم سے کم مقرر کی گئی ہے جس پر مقامی بی جے پی رہنماؤں نے ان سات مساجد کے خلاف شکایت درج کرائی تھی۔

    مودی کی جماعت کے رہنماؤں نے الزام عائد کیا تھا ان مساجد نے لاؤڈاسپیکر پر آواز کی مقرر کردہ حد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اونچی آواز میں اذان دی جس سے بزرگ اور بیمار شہریوں کے آرام میں خلل پڑا۔

    میانمار فوج کی مقامی گاؤں میں منعقدہ تقریب میں فائرنگ،7 افراد ہلاک متعدد زخمی

  • مہاراشٹر،کرناٹک:مساجدمیں لاؤڈ اسپیکر کی آوازکی حدمقرر، آوازناپنےوالی مشینیں نصب ہونے لگیں

    مہاراشٹر،کرناٹک:مساجدمیں لاؤڈ اسپیکر کی آوازکی حدمقرر، آوازناپنےوالی مشینیں نصب ہونے لگیں

    ممبئی: مہاراشٹر میں ریاستی وزیر داخلہ تمام مساجد کو مقررہ آواز کی سطح پر عمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے نوٹس جاری ر دیئے-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا خبر رساں ادارے "آواز دی وائس” کے مطابق مہاراشٹر میں اذان لاؤڈ اسپیکر تنازعہ پر شیوسینا کے رکن پارلیمنٹ سنجے راوت نے کہا کہ ریاستی وزیر داخلہ نے تمام مساجد کو نوٹس جاری کیا ہے اور انہیں مقررہ آواز کی سطح پر عمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    راوت نے جمعرات کو کہا کہ مہاراشٹر کے ریاستی وزیر داخلہ نے ایک نوٹس جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اذان دیتے وقت ڈیسیبل کی سطح کیا ہونی چاہیے۔

    مودی سے مدارس پر چھاپے مارنے کا مطالبہ ، ہندوؤں سے مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے…

    مہاراشٹر نونرمان سینا (ایم این ایس) کی طرف سے مساجد پر نصب لاؤڈ اسپیکر کو لے کر شروع کیا گیا تنازعہ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے راج ٹھاکرے نے مہاراشٹر حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام مساجد سے لاؤڈ اسپیکر ہٹا دیے جائیں یہی نہیں، اس نے مساجد کے قریب ہنومان چالیسہ بجانے کی بھی وارننگ دی ہے۔

    راج ٹھاکرے کے اس بیان کے بعد اب ایم این ایس کے کارکن مختلف جگہوں پر لاؤڈ اسپیکر لگا کر ہنومان چالیسہ پڑھتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ممبئی پولیس نے امن کی خلاف ورزی کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کچھ کارکنوں کو حراست میں لے لیا ہے اور ان پر 5-5 ہزار کا جرمانہ عائد کیا ہے۔

    اس تنازع کے بعد حکمراں شیو سینا اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی بھی راج ٹھاکرے کو نشانہ بنا رہی ہیں۔

    سنجے راوت نے پیر کو یہ بھی کہا تھا کہ یہ واضح ہے کہ شیواجی پارک میں لاؤڈ اسپیکر پر کی گئی تقریر کا اسکرپٹ بی جے پی نے لکھا اور اس کی سرپرستی کی تھی پہلے انہیں اتر پردیش میں اتارو، گوا کی مساجد سے لاؤڈ اسپیکر ہٹاؤ جہاں بی جے پی 10 سال سے اقتدار میں ہے وہاں یہ سیاست کیوں نہیں ہو رہی؟ مہاراشٹر میں ہی یہ مسئلہ کیوں اٹھایا جا رہا ہے؟

    بھارت میں مساجد کے باہر اذان کے وقت ’رام بھجن اور شیو بھجن‘ کا اعلان

    دوسری جانب بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق راج ٹھاکرے کے مساجد میں لاؤڈ اسپیکر کے بیان کے بعد مہاراشٹر میں سیاست تیز ہوگئی تھی یہ آگ اب کرناٹک تک پہنچ گئی کرناٹک میں ہندو تنظیموں نے مسجد سے لاؤڈ اسپیکر ہٹانے کا مطالبہ کیاہے۔ حکومت نے بھی اس کی تائید کی ہےاور کہا ہےکہ قانون کے مطابق کام کیا جائے گا۔ کرناٹک حکومت نے مساجد کو نوٹس جاری کیا جس کے بعد مساجد میں آواز کی پیمائش کرنے والی مشینیں لگانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔

    کرناٹک میں مساجد کو پولیس کی طرف سے نوٹس موصول ہونا شروع ہو گئے ہیں کہ وہ اپنے لاؤڈ سپیکر پرمٹ ڈیسیبل کے اندر استعمال کر رہے ہیں۔ صرف بنگلورو میں تقریباً 250 مساجد کو ایسے نوٹس موصول ہوئے ہیں جن کی آواز بلند پائی گئی۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق مساجد انتظامیہ نے مساجد میں ایسے آلات نصب کرنا شروع کردیئے ہیں جو آواز کو اجازت نامہ کی سطح تک برقرار رکھتے ہیں۔ کرناٹک کے ڈائرکٹر جنرل آف پولیس پروین سود نے تمام کمشنر آف پولیس، انسپکٹر جنرل آف پولیس اور سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کو ہدایت دی ہے کہ وہ مذہبی اداروں، پبوں، نائٹ کلبوں اور دیگر اداروں اور تقریبات میں شور کی آلودگی کے اصولوں کی خلاف ورزی کی تحقیقات کریں۔

    منگل کے روز کچھ تنظیموں نے مختلف پولیس حکام کو میمورنڈم جمع کر کے مساجد کے لاؤڈ سپیکر کے غلط استعمال کی تحقیقات کرنے کی درخواست کی ان کا الزام ہے کہ اسپتالوں، اہم سرکاری دفاتر، اسکولوں اور کالجوں جیسے خاموش زون میں بھی ایسا نہیں ہورہا ہے۔

    تنظیموں نے الزام لگایا کہ مساجد میں لاؤڈ سپیکر صبح کی نیند میں خلل ڈالتے ہیں جس سے طلباء، مریضوں، بزرگوں اور رات کو کام کرنے والوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے شکایت کے بعد پولیس نے صرف مساجد میں ہی نہیں ہر جگہ لاؤڈ سپیکر چلانے پر پابندی لگا دی ہے۔

    نائیجیریا: توہین مذہب کے الزام ایک شخص کو 24 سال قید کی سزا

  • بھارتی گلوکارہ کا اذان کیلئے لاؤڈ اسپیکر پر پابندی کا مطالبہ

    بھارتی گلوکارہ کا اذان کیلئے لاؤڈ اسپیکر پر پابندی کا مطالبہ

    ممبئی: بھارتی گلوکارہ انورادھا نے رمضان المبارک کے مہینے میں بھارت میں لاؤڈ اسپیکر کے استعمال خاص طور پر اذان کے لیے لاؤڈ اسپیکر پر پابندی کا مطالبہ کردیا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق گلوکارہ انورادھا نے حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران لاؤڈ اسپیکر پر اذان دئیے جانے کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دنیا بھر میں سفر کرتے ہوئے نوٹس کیا ہے کہ لاؤڈ اسپیکر پر پابندی ہے اور وہ بھارت میں بھی ایسا ہی چاہتی ہیں۔

    گلوکارہ کا کہنا تھا کہ میں کسی مذہب کے خلاف نہیں ہوں لیکن یہاں پر زبردستی اس کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے یہ لوگ لاؤڈ اسپیکر پر اذان دیتے ہیں دوسری کمیونٹیز سوال کرتی ہیں کہ اگر وہ لاؤڈ اسپیکر استعمال کرسکتے ہیں تو دوسرے ایسا کیوں نہیں کرسکتے؟ انہوں نے کہا کہ بہت سے مشرق وسطی کے ممالک نے لاؤڈ اسپیکر پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

    بھارت میں مساجد کے باہر اذان کے وقت ’رام بھجن اور شیو بھجن‘ کا اعلان

    گلوکارہ نے مزید کہا کہ اگر لاؤڈ اسپیکر پر اذان دینے پر پابندی نہیں لگائی گئی تو لوگ لاؤڈ اسپیکر پر ہنومان چالیسا بجانا شروع کردیں گے اس سے بدامنی پیدا ہوگی جو کہ اچھی بات نہیں ہے۔

    واضح رہے کہ گلوکارہ انورادھا واحد شوبز شخصیت نہیں ہیں جنہوں نے انتہا پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلم مخالف بیان دیتے ہوئے لاؤڈ اسپیکر پر اذان دینے پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے بلکہ اس سے قبل گلوکار سونو نگم اور جاوید اختر بھی لاؤڈ اسپیکر پر اذان دینے پر پابندی کا مطالبہ کرچکے ہیں۔

    سونو نگم کے 2017 میں لاؤڈ اسپیکر پر اذان دینے پر پابندی کے بیان نے بھارت میں بہت ہنگامہ مچایا تھا۔ سونو نگم کے اذان پر پابندی کے مطالبے سے نہ صرف بھارت میں رہنے والے بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کو ٹھیس پہنچی تھی۔

    مودی سے مدارس پر چھاپے مارنے کا مطالبہ ، ہندوؤں سے مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے…

    سونو نگم نے اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا تھا کہ اگرچہ وہ مسلمان نہیں لیکن پھر بھی انہیں اذان کی آواز سے صبح جاگنا پڑتا ہے، بھارت میں یہ جبری مذہب پرستی کب ختم ہوگی ابتدائے اسلام کے زمانے میں بجلی نہیں تھی تو ایڈیسن کی ایجاد کے بعد وہ یہ شور شرابا کیوں برداشت کریں لاؤڈ اسپیکر سے فجر کی اذان کو بھارتی گلوکار نے ’’غنڈہ گردی‘‘ تک قرار دے دیا تھا-