Baaghi TV

Tag: لائٹس

  • مراکش میں زلزلے سے قبل آسمان پر چمکنے والی پراسرار نیلی روشنی کیا تھی؟

    مراکش میں زلزلے سے قبل آسمان پر چمکنے والی پراسرار نیلی روشنی کیا تھی؟

    مراکش میں زلزلے کی قیامت سے قبل آسمان پر چمکنے والی پراسرار نیلی روشنی نظر آئی-

    باغی ٹی وی: ہفتہ کی صبح مراکش میں آنے والے زلزلے کے نتیجے میں عرب دنیا ابھی تک صدمے میں ہے جس میں اب تک 2 ہزار سے زیادہ افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں زلزلے کے ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں، ان ویڈیوز میں زلزلے سے قبل اور اس کے بعد کے خوفناک مناظر کو دیکھا جا سکتا ہے۔

    ان ریکارڈ شدہ فوٹیج میں نیلی روشنی کی پراسرار چمک دکھائی گئی ہے یہ منظر کسی ایک کیمرے میں ریکارڈ نہیں ہوا بلکہ کئی مقامات پر سی سی ٹی فوٹیج میں اس کی عکس بندی کی گئی ہے یہ چمک اغادیر کے زلزلے سے عین پہلے افق پر نمودار ہوئی اس روشنی کے بارے میں کسی نے کوئی ٹھوس معلومات نہیں دیں یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ایسے مناظر آفات کے وقوع پذیر ہونے سے پہلے دیکھے جا سکتے ہیں؟۔

    مراکش :تباہ کن زلزلے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 1037 ہو گئی

    https://twitter.com/iamAkramPRO/status/1700644303842759128?s=20
    یہ روشنی عجیب نہیں ہے کیونکہ اس کی ظاہری شکل ترکیہ میں گذشتہ فروری میں آنے والے تباہ کن زلزلے سے پہلے دوسرے نگرانی کرنے والے کیمروں نےریکارڈ کی تھی ترکیہ میں آنے والے زلزلے سے 45,000 سے زیادہ لوگ جاں بحق ہو گئے تھے زلزلے کی روشنی کچھ بھی نہیں بلکہ ایک روشن ماحولیاتی رجحان ہے جو آسمان میں ٹیکٹونک دباؤ، زلزلہ کی سرگرمی، یا آتش فشاں پھٹنے کے علاقوں میں ظاہر ہوتا ہے تاہم یہ تبصرہ بہت سی دوسری آراء کی طرح ایک رائے ہے۔

    زلزلے کی روشنی (یا EQL) ہزاروں سالوں سے دکھائی دے رہی ہے اور اس کا پتہ 89 قبل مسیح تک لگایا جا سکتا ہے تاہم ہر دور میں سائنسدانوں کو اس بات کا کوئی اندازہ نہیں ہو سکا کہ یہ کس طرح کی روشنی ہے سائنس فکشن میں بھی س طرح کے مناظر کو عجیب اور غیر مانوس سمجھا جاتا ہے۔

    دنیا بھر کے سمندروں کو لاحق غیرمعمولی خطرات پرماہرین کا کھلا خط

    یہ ایک روشن ماحول کا رجحان ہے جو یا تو زلزلہ کی سرگرمی یا آسمانی واقعہ کا باعث بنتا ہے زلزلے کی لائٹس ہر وقت ظاہر نہیں ہوتی ہیں، لیکن یہ صرف زلزلے کے وقت اور مرکز کے قریب ہی نظر آتی ہیں، جو کہ ٹیکٹونک دباؤ کی سب سے زیادہ مقدار والا علاقہ ہے۔

    ناسا کے ایمز ریسرچ سینٹر سے وابستہ فلکی طبیعیات دان فریڈمین فرینڈ کی 65 سیسمک لائٹس کے پیٹرن کے تفصیلی تجزیے کے بعد کی گئی تحقیق کے مطابق،یہ روشنیاں اس وقت بنتی ہیں جب ان کے نیچے مخصوص قسم کی چٹان (جیسے بیسالٹ اور گیبرو) میں برقی چارجز متحرک ہوتے ہیں۔

    متحدہ عرب امارات میں پاکستانی کی 8 کروڑروپےسےزائد کی لاٹری نکل آئی

    ایک اور تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ زلزلے کے مراکز کے قریب شدید ٹیکٹونک دباؤ کی وجہ سے اس جگہ کو پیزو الیکٹرک اثر کہا جاتا ہے اس صورت میں کوارٹج بیئرنگ چٹانیں کمپریس ہونے پر مضبوط برقی میدان پیدا کرنے کے لیے مشہور ہیں تاہم اس نظریہ کو بڑے پیمانے پر قبول نہیں کیا گیا ہے۔

    زلزلے کی لائٹس پہلی بار 1965 میں جاپان میں آنے والے زلزلے کے دوران کیمرے میں قید ہوئی تھیں اس کے بعد یہ دیگر مقامات پر بھی دیکھی گئیں۔سنہ 2008ء میں چین، 2009 میں اٹلی اور حال ہی میں 2017 میں میکسیکو میں دیکھی گئی تھیں-

    کینیڈا میں خالصتان کےقیام کیلئےریفرنڈم کا نیا مرحلہ آج سےشروع

  • آسٹریلیا بھی توانائی بحران کا شکار:غیرضروری لائٹیں بندرکھنےکی اپیل

    آسٹریلیا بھی توانائی بحران کا شکار:غیرضروری لائٹیں بندرکھنےکی اپیل

    سڈنی:آسٹریلیا بھی توانائی بحران کا شکار:غیرضروری لائٹیں بندرکھنےکی اپیل،اطلاعات کےمطابق آسٹریلیا کے وزیر توانائی نے نیو ساؤتھ ویلز کے گھرانوں پر زور دیا ہے کہ اس وقت مُلک میں توانائی کا بحران بڑھتا جارہا ہے اورایسی صورت میں اپنے گھروں ، مارکیٹوں اوردیگرمقامات پرغیرضروری لائٹس کوبند رکھیں

    امریکہ بھی توانائی کے بحرانوں کی زد میں ، پٹرول کے بعد گیس کی قیمتیں آسمان کوچھونےلگیں

    ایک ایسا مُلک جس میں ملک کا سب سے بڑا شہر سڈنی بھی شامل ہے – ہروقت روشنیوں سے چمک دمک رہا ہوتا ہے لیکن اب اس کی گنجائش نہیں ہے کرس بوون کا کہنا ہے کہ لوگوں کو ہر شام دو گھنٹے تک بجلی کا استعمال نہیں کرنا چاہیے اگر ان کے پاس "کوئی انتخاب” ہو۔تاہم، انہوں نے مزید کہا کہ وہ "پراعتماد” ہیں کہ بلیک آؤٹ سے بچا جا سکتا ہے۔

    توانائی کی بچت،صوبوں کا بازار رات ساڑھے 8 بجے بند کرنے پراتفاق

    وزیرتوانائی کا کہنا تھا کہ یہ قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے آسٹریلیا کی مرکزی ہول سیل بجلی کی مارکیٹ کو معطل کرنے کے بعد آیا ہے۔مسٹر بوون نے نیو ساؤتھ ویلز میں رہنے والے لوگوں سے کہا کہ وہ زیادہ سے زیادہ بجلی کا تحفظ کریں۔

    انہوں نے کینبرا میں ایک ٹیلی ویژن میڈیا کانفرنس کے دوران کہا، "اگر آپ کے پاس کچھ چیزوں کو چلانے کا انتخاب ہے، تو انہیں 6 سے 8 شام میں نہ چلائیں۔”

    آسٹریلیا دنیا کے کوئلے اور مائع قدرتی گیس کے سب سے بڑے برآمد کنندگان میں سے ایک ہے لیکن گزشتہ ماہ سے بجلی کے بحران سے نبرد آزما ہے۔ ملک کی تین چوتھائی بجلی اب بھی کوئلے سے پیدا کی جاتی ہے۔ اس پر طویل عرصے سے یہ الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ وہ قابل تجدید ذرائع میں سرمایہ کاری کرکے اپنے اخراج کو کم کرنے کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کر رہا۔

    وفاقی وزیر توانائی کا3 اوقات میں گیس کی فراہمی کے بیان سے یوٹرن

    حالیہ ہفتوں میں، آسٹریلیا نے کوئلے کی سپلائی میں رکاوٹ، کوئلے سے چلنے والے کئی پاور پلانٹس میں بندش اور توانائی کی عالمی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کو محسوس کیا ہے۔