Baaghi TV

Tag: لالک جان

  • نوجوانوں کو لیپ ٹاپ دے رہا ہوں کلاشنکوف نہیں،  وزیراعظم شہباز شریف

    نوجوانوں کو لیپ ٹاپ دے رہا ہوں کلاشنکوف نہیں، وزیراعظم شہباز شریف

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف نے نوجوان لیپ ٹاپ تقسیم کا افتتاح کر دیا

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ نوجوانوں کو لیپ ٹاپ دے رہا ہوں کلاشنکوف نہیں،وسائل ہوں تو قوم کے بیٹے بیٹیوں کو 1 لاکھ نہیں 1 کروڑ لیپ ٹاپ تقسیم کروں، اپنے ہر دور میں میرٹ کی بنیاد پر تعلیمی وظائف دیے،نوجوانوں پر سرمایہ کاری سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں، زرعی قرضوں پر اربوں روپے مختص کیے گئے،ایک لاکھ لیپ ٹاپ غریب اور مستحق لوگو کو جب تعلیمی میدان میں ملیں گے تو پاکستان کی ترقی کا کوئی راستہ نہیں روک سکے گا،خواہش ہے پورے پاکستان میں ہر طالبعلم کو لیپ ٹاپ دوں ،نوجوان قوم کا مستقبل اور خوشحالی کی ضمانت ہیں نوجوانوں پر سرمایہ کاری سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں

    لیپ ٹاپ کی تقسیم کی تقریب میں نوجوان کا وزیراعظم کوخوشگوار سرپرائز
    وزیراعظم شہباز شریف کو لیپ ٹاپ کی تقسیم کی تقریب میں نوجوان نے خوش گوار سرپرائز دے دیا ،لیپ ٹاپ تقسیم کی تقریب میں نوجوان محسن نے تقریر کی اور بتایا کہ وہ تندور پرروٹیاں لگاتا تھا۔ محسن کی ذاتی جدوجہد، حصول تعلیم اور زندگی میں کامیابی کے سفر پر کیس سٹڈی پیش کی گئی۔ محسن نے وزیر اعلی شہباز شریف کے دئیے تعلیمی وظیفے پر تعلیم حاصل کی اور آج وہ میو کالج لاہور میں لیکچرر ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اپنی نشست سے اٹھ کر خاص طور پر نوجوان محسن کے پاس گئے اور اسے اپنے سینے سے لگا لیا ،وزیراعظم شہباز شریف نے نوجوان سے کہا کہ مجھے آپ جیسے نوجوانوں پر فخر ہے، اسی جذبے سے آگے بڑھتے رہیں، آپ کو مزید ترقی کرتے دیکھنا چاہتا ہوں۔وزیراعظم شہباز شریف جب محسن سے مل رہے تھے تو تمام شرکاء نے کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں۔ اس موقع پر مناظر بھی نظر آئے اور کئی شرکاء کی خوشی سے آنکھیں نم ہو گئیں۔

    لیپ ٹاپ کی تقسیم کی تقریب میں نوجوان کا وزیراعظم کوخوشگوار سرپرائز
    لیپ ٹاپ کی تقسیم کی تقریب میں نوجوان کا وزیراعظم کوخوشگوار سرپرائز

    محسن علی نے پاکستان کے نوجوانوں کو کامیابی کا راز سمجھایا ہے۔ مریم اورنگزیب
    ن لیگی رہنما، وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے ٹویٹ کی اور لکھا کہ یہ قابل رشک اور قابل فخر محمد محسن علی کی کامیابی کی کہانی ہی نہیں بلکہ تعلیم کے ذریعے نوجوانوں کی زندگی اور معاشرے میں تبدیلی لانے کے ولولہ انگیز وژن اور سوچ کی کامیابی کی ایک بہترین مثال بھی ہے۔ پانچ گولڈ میڈل جیتنے والے حافظ آباد کے گاﺅں میاں رحیما کے اس قابل اور محنتی محسن علی نے پاکستان کے نوجوانوں کو کامیابی کا راز سمجھایا ہے۔ وزیراعلی پنجاب کے طورپر شہبازشریف نے محسن علی جیسے سینکڑوں ذہین لیکن غریب نوجوان بچوں اور بچیوں کی سرپرستی کی، تعلیمی وظائف ، بیرون ملک اعلی تعلیم حاصل کرنے کے مواقع دے کر ان کی حوصلہ افزائی اور سرپرستی کی جو آج قائدمحمد نوازشریف اور شہبازشریف کے یوتھ پروگرام کی کامیابی کے درخشاں ستارے بن چکے ہیں۔ اس وژن کی کامیابی کی گواہی دے رہے ہیں۔ آج محسن علی اُسی میوکالج لاہور میں لیکچرار ہے جس کے قریب واقع تندور میں وہ روٹیاں لگا کراپنے خاندان کے لئے رزق حلال کما رہا تھا۔ وزیراعظم شہبازشریف نے آج محسن علی کو کروڑوں پاکستانیوں کے سامنے سینے سے لگا کر شاباش دی۔ ایک شاباش نوازشریف اور شہبازشریف کو بھی ملنی چاہیے جن کے وژن نے محسن علی اور اس جیسے سینکٹروں غریبوں کو کامیابی کی اس منزل تک پہنچنے اور اپنے خواب سچ کردکھانے میں عملی مدد کی۔ یہ ہوتا ہے وژن، یہ ہوتی ہے عوام کی منتخب قیادت #چُھولوآسمان_نوجوان

    مصیبت میں گھرے لاکھوں خاندانوں کو 70ارب روپے شفاف طریقے سے تقسیم کیے،وزیرِ اعظم
    دوسری جانب وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بینظیر انکم اسپورٹ پروگرام کے تحت سماجی تحفظ اکاؤنٹ کے اجراء کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے سال ایک تباہ کن سیلاب آیا تو ہم ہر جگہ پینچے چاروں طرف تباہی نظر آرہی تھی جن مشکل حالات میں ہم نے حکومت کی باگ ڈور سنبھالی لیکن اس وقت اگر کسی پروگرام نے مصیبت میں گھرے لاکھوں خاندانوں کو 70ارب روپے شفاف طریقے سے تقسیم کیے تو وہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ہے.یہ بات نامکمل ہوگی اگر میں یہ نہ کہوں کہ آج بھی سیلاب کی تباہ کاریاں اور انکے اثرات ہر جگہ نظر آتے ہیں اللہ تعالیٰ کرے گا کہ ہم ضرور اس قابل ہونگے کہ اپنے سیلاب زدگان کو مزید امداد ہم پہنچا سکیں.

    وزیراعظم کا حوالدار لالک جان شہید نشان حیدر کو چوبیسویں یوم شہادت پر خراج عقیدت
    دوسری جانب وزیراعظم شہبازشریف نے حوالدار لالک جان شہید نشان حیدر کو چوبیسویں یوم شہادت پر خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ لالک جان شہید نے کارگل کی جنگ میں اپنی بے مثال جرات وبہادری سے دشمن کا مقابلہ کیا ،ناردرن لائٹ انفینٹری کے اس جانباز مجاہد نے انتہائی مشکل حالات میں مادروطن کا دفاع کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا ،قوم اپنے شہداءاور ان کی عظیم قربانیوں کو سلام پیش کرتی ہے ،شہداءاور غازی ہمارے سر کا تاج اور ملک وقوم کی سلامتی کا فولادی حصار ہیں ،اللہ تعالی شہداءکے درجات بلند فرمائے اور اُن کے اہل خانہ کو صبرجمیل دے۔ آمین

    مفتی عزیز الرحمان کا اعتراف جرم، کہا بہت شرمندہ ہوں

    مفتی عزیزالرحمان ویڈیو سیکنڈل کی حمایت کرنیوالا مفتی اسماعیل بھی گرفتار

    مفتی عزیز الرحمان کو دگنی سزا ملنی چاہئے، پاکستان کے معروف عالم دین کا مطالبہ

    مفتی عزیزالرحمان ویڈیو سیکنڈل، پولیس نے مانگا مفتی کا مزید”جسمانی” ریمانڈ

    مدرسہ ویڈیو سیکنڈل ،مفتی عزیز الرحمان کی عدالت پیشی، عدالت کا بڑا حکم

    مدرسہ ویڈیو سیکنڈل،مفتی عزیز الرحمان کے بیٹوں کی درخواست ضمانت پر ہوئی سماعت

  • کارگل معرکے میں دُشمن پردھاک بٹھانے والے ہیرو* حوالدار لالک جان شہید(نشان حیدر)

    کارگل معرکے میں دُشمن پردھاک بٹھانے والے ہیرو* حوالدار لالک جان شہید(نشان حیدر)

    1965کی جنگ ہو یا کارگل کا محاذ، قوم کے بہادر سپوتوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر پاک دھرتی کو ہمیشہ شاد و آباد رکھا ہے۔ ایسی ہی ایک مثال حوالدار لالک جان کی ہے جنہوں نے کارگل جنگ میں دُشمن کو ایسی کاری ضرب لگائی جسے وہ صدیوں تک یاد رکھے گا۔

     

    کشمیر کی وادی غزر جسے وادی شہداء بھی کہا جاتا ہے، آج بھی لالک جان کے قصیدوں سے گونج رہی ہے جہاں انہوں نے اپنے خُون سے، وطن سے وَفا کی لازوال داستان رقم کی جس کی بہادری کا اعتراف دُشمن نے بھی کیا۔یہاں کے ہر گاؤں اور قصبہ میں شہدا کے مزار کے اوپر سبز ہلالی پرچم نظر آرتاہے۔

    دُنیا کے بُلند ترین محاذِ جنگ کارگل میں دُشمن پر دھاک بٹھانے اور اُس کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملانے والے بہادر سپوت حوالدار لالک جان گلگت بلتستان کے ضلع غذر کی تحصیل یاسین میں 01اپریل 1967 کو ایک غریب کسان نیت جان کے گھرپیدا ہوئے۔ لالک جان نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں ہندورسے حاصل کی اور مڈل تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد 1984میں پاک فوج میں شمولیت اختیار کی۔ ناردرن لائیٹ انفنٹری رجمنٹ ٹریننگ سنٹر بنجی میں ابتدائی ٹریننگ حاصل کرنے کے بعد آپ نے1985میں 12این ایل آئی میں رپورٹ کیا۔ پیشہ ورانہ صلاحیتو ں کی بناء پر آپ یونٹ کی بیشتر ٹیموں کا حصہ رہے۔ آپ کی ڈرل، فوجی ٹرن، جسمانی چستی ہمیشہ مثالی رہی۔ آپ نے یونٹ کی کمانڈو ٹیم کو پہلی پوزیشن دلوانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔آپ کی ویپن کی مہارت کا یہ ثبوت ہے کہ آپ بطور ویپن ٹریننگ انسٹرکٹر ناردرن لائیٹ انفنٹری رجمنٹ سنٹر بنجی میں تعینات رہے۔

     

     

    معرکہ کارگل کے دوران لالک جان اپنے گھر چھٹیاں گزارنے آئے ہوئے تھے، جب ان کو کارگل لڑائی کی خبر ملی تو چھٹی ختم ہونے میں چھ دن باقی تھے۔ لالک جان نے اپنے والد محترم سے محاذجنگ کی طرف روانہ ہونے کی اجازت مانگی اور کہا کہ میری چھٹیاں ختم ہونے میں چھ روز باقی ہیں اور یہ دن میں گھر گزارنے کے بجائے محاذجنگ پر گزارناچاہوں گا اور ماں سے کہا کہ میرے لیے دعا کرنا کہ میں ملک کا دفاع کرتے ہوئے شہید ہوجاؤں۔ لالک جان کی یہ آرزو پوری ہوئی اور ان کے والد نیت جان نے اللہ کا شکر ادا کیا اور کہا کہ میرے بیٹے نے اپنی جان سے بھی عزیز ملک پاکستان کے گلشن کو سیراب کرنے کے لیے اپنے خون کا نذرانہ پیش کیا۔

    حوالدار لالک جان ناردن لائٹ انفنٹری کے ایک بے باک نڈراور بہادر فرزند کی مانند ابھر کے سامنے آئے۔ آپ نے اپنے وطن عزیز کی خاطر ایسے دلیرانہ اقدام کیے جس کی مثال تاریخ میں شاذونادر ہی ملتی ہے۔ بحیثیت ایک جونیئر لیڈر آپ نے اپنے جرأت مندانہ اقدام کی بدولت دشمن کو بھاری جانی نقصان پہنچایا اور ان کے متعددحملے پسپا کئے۔ اپنے فرائض کی انجام دہی میں انھوں نے تن من دھن کی بازی لگادی۔مٹھی بھر ساتھیوں کے ہمراہ لالک جان نے ناصرف اپنی پوسٹ کا کامیابی سے دفاع کیا بلکہ دشمن کے متعدد حملوں کو ناکام بنا کر اُسے بھاری جانی نقصان بھی پہنچایا۔

    12جون 1999ء کولالک جان نے اچانک ایسا زبردست حملہ کیا کہ دُشمن اپنی لاشیں چھوڑ کر پسپا ہونے پر مجبور ہو گیا۔قادر پوسٹ کے زبردست دِفاع کا اعتراف دُشمن نے ان الفاظ میں کیا”کسی بھی سپاہی نے اپنی پوسٹ نہ چھوڑی۔یہ دِفاعی جنگ بہادری کی اعلیٰ مثال ہے جو آخری سپاہی اور آخری گولی تک لڑی گئی“۔

    مئی1999میں جب یہ معلوم ہوا کہ دشمن ایک بڑے زمینی حملے کی تیاری کررہا ہے تو حوالدار لالک جان جو کسی اگلے مورچے پر نہیں بلکہ کمپنی ہیڈکواٹر میں اپنے فرائض سر انجام دے رہاتھے۔ اس موقع پر لالک جان نے اگلے مورچے پر لڑائی لڑنے کے لیے اپنی خدمات رضاکارانہ طور پر پیش کیں۔ یہ جانتے ہوئے کہ اگلے مورچے دشمن کے حملوں کی زد میں ہیں، حوالدار لالک نے اپنے سینئر افسروں سے اگلے مورچوں پر جانے کے لئے اصرار کیا اورایک انتہائی مشکل پہاڑی چوکی پر دشمن سے نبردآزما ہونے کے لیے کمر باندھ لی۔ جون کے آخری ہفتے کی ایک رات دشمن کی ایک بٹالین کی نفری نے حوالدار لالک جان کی چوکی پر بھر پور حملہ کیا۔ حملے کے دوران حوالدار لالک جان اپنی جان سے بے پروا ہوکر مختلف پوزیشنوں سے فائر کرتے رہے اور ہر مورچے میں جاکر جوانوں کے حوصلے بڑھاتے رہے۔ رات بھر دشمن کا حملہ جاری رہا اور لالک جان نے دشمن کے تمام ارادوں کو ناکام بنادیا اور صبح تک دشمن سپاہ لاشوں کے انبار چھوڑ کے پسپا ہوگئی تھی۔

    دوسری رات مزید کمک حاصل کرنے کے بعد دشمن نے ایک بار پھر مختلف اطراف سے حملہ شروع کردیا لیکن لالک جان نے اس رات بھی بے باکی اور جرأت کا مظاہر کرتے ہوئے دشمن کو بھاری نقصان پہنچایا۔ 7 جولائی کو دشمن نے لالک جان کی پوسٹ پر توپ خانے کا بھر پور فائرکیا، پورا دن گولیوں کی بارش ہوتی رہی اور رات کو دشمن نے ایک بار پھر لالک جان کی پوسٹ پر تین اطراف سے حملہ کردیا اور حملے کے دوران دشمن کے فائر سے لالک جان شدید زخمی ہوئے لیکن کمپنی کمانڈر کے اصرارکے باوجود اپنی پوسٹ پر زخمی حالت میں بھی ڈٹے رہے اور دشمن کا مقابلہ جاری رکھا۔آپ کے جذبے کا عکاس یہ حمہ آج بھی تاریخ کے سنہرے ورقوں میں تحریر ہے کہ جب آپ کے زخموں کی شدت کو دیکھتے ہوئے کیپٹن احمد نے واپس جانے کا حکم دیا تو آپ نے جواب میں کہا کہ”میں ہسپتال میں بستر پر موت کو گلے لگانے سے ہتر میدان جنگ میں دُشمن سے لڑتے ہوئے اپنے خالقِ حقیقی سے ملنا پسند کرتا ہوں“۔

    آخر کار اس سپوت نے دشمن کے اس حملے کو بھی ناکام بنادیا لیکن اس کے ساتھ زخموں کے تاب نہ لاتے ہوئے حوالدار لالک جان 7جولائی 1999 کواپنی پوسٹ پر ہی شہید ہوگئے۔

    کارگل جنگ میں جب دشمن اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے حملہ آور ہوا تو منفی30درجہ حرات، یخ بستہ ہوائیں اور جان لیوا زخموں کے باوجود کمال جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مرد ِ مُجاہد نے کئی گھنٹوں تک لائیٹ مشین گن سے دُشمن کو بھاری نقصان پہنچایا لیکن مورچہ چھوڑنے پر تیار نہ ہوئے اور دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کی طرح ڈٹے رہے اور ملک کا دفاع کیا جس کی مثال بہت کم ملتی ہے۔

    ان کی بے باکی، حوصلہ مندی اور جذبہ شہادت پر ملک کا سب سے بڑا فوجی اعزاز نشان حیدر عطا کیاگیا۔